Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 288 of 289

5730Sunan An Nasaiضعیف

کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ طُفَيْلٍ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنْ لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا : طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

It was narrated that Abdul-Malik bin Tufail Al-Jazari said: "Umar bin Abdul-Aziz رحمۃ اللہ علیہ wrote to us (saying): Do not drink At-Tila (thickened grape juice) until two-third of it are gone and one-third remains, and every intoxicant is unlawful.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5727
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٦٠٣ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں، لیکن اس معنی کی پچھلی اگلی روایات صحیح ہیں )
5731Sunan An Nasaiصحیح

کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

مکحول کہتے ہیں : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

It was narrated that Makhul said: "Every intoxicant is unlawful.

صحيح الإسناد مقطوع غير أن المتن صحيح موصولاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5728
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٩٤٦٠) (صحیح الإسناد )
5732Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ ؟، فَقَالَ: اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا، قَالَ: إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ، قَالَ: أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ.

ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا : جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا : میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں، انہوں نے کہا : آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔

It was narrated that Abu Thabit Ath-Thalabi said: "I was with Ibn Abbas when a man came to him and asked him about juice. He said: Drink that which is fresh. He said: I cooked a drink on the fire and I am not sure about it. He said: Did you drink it before you cooked it? He said: No. He said: Fire does not make permissible something that is forbidden." (Sahih Mawquf)

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5729
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٥٣٦٩) (صحیح الإسناد )
5733Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَاللَّهِ، مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ، قَالَ: ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ: لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ.

عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم ! آگ کسی (حرام) چیز کو حلال نہیں کرتی، اور نہ ہی کسی (حلال) چیز کو حرام کرتی ہے پھر آپ نے اپنے اس قول آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ١ ؎ کہ آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہوجاتا ہے ٢ ؎۔

Ata said: "I heard Ibn Abbas say: By Allah, fire does not make anything permissible or forbidden." He said: "Then he explained what he meant by it does not make permissible as referring to what they said about At-Tila (thickened grape juice), and he explained what he said about it does not make forbidden as referring to performing Wudu after eating something that has been touched by fire.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5730
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ قول یہ ہے آگ سے طلاء حلال ہوجاتا ہے یعنی : طلاء کا دد تہائی جب جل جائے اور ایک ثلث باقی رہ جائے تو یہ آخری تہائی حلال ہے۔ ٢ ؎: یہ تردید اس طرح ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ آگ سے پکنے سے پہلے کوئی چیز حلال تھی اور پکنے کے بعد وہ حرام ہوگئی، تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ بھی کسی چیز کو حلال اور حرام کرتی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس تشریح سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ الوضوء مما مست النار کا جملہ حدیث نمبر ٥٧٣٣ کا تتمہ ہے، نہ کہ کوئی مستقل باب کا عنوان، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے (سندھی اور حاشیہ نظامیہ میں اس پر انتباہ موجود ہے، نیز : اگر اس جملے کو ایک مستقل باب مانتے ہیں تو اس میں مذکور آثار (نمبر ٥٧٣٤ تا ٥٧٣٧ ) کا اس باب سے کوئی تعلق بھی نظر نہیں آتا) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٥٩٣٢) (صحیح الإسناد )
5734Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شیرہ (رس) پیو، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آجائے۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Drink juice so long as it does not have any foam.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5731
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٨٧٤٤) (صحیح الٕاسناد )
5735Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَائِذٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْعَصِيرِ، قَالَ: اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ.

ہشام بن عائذ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے شیرے (رس) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے پیو، جب تک کہ ابل کر بدل جائے۔

It was narrated that Hisham bin Aidh Al-Asadi said: "I asked Ibrahim about juice and he said: Drink it, unless it bubbles, so long as it doesnt change.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5732
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٨٤٢٤) (صحیح الإسناد )
5736Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَصِيرِ، قَالَ: اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ.

عطا سے شیرے (رس) کے بارے میں کہتے ہیں : پیو، جب تک اس میں جھاگ نہ آجائے۔

It was narrated from Ata that : He said, concerning juice: "Drink it unless it is bubbling.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5733
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٩٠٥٥) (صحیح الإسناد )
5737Sunan An Nasaiصحیح

کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: اشْرَبْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا أَنْ يَغْلِيَ.

شعبی کہتے ہیں کہ اسے (رس) تین دن تک پیو سوائے اس کے کہ اس میں جھاگ آجائے۔

It was narrated that Ash-Shabi said: "Drink it for three days unless it bubbles.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5734
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٨٨٥٨) (صحیح الإسناد )
5738Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ كَرْمٍ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَمَاذَا نَصْنَعُ ؟ قَالَ: تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا، قُلْتُ: فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا ؟ قَالَ: تُنْقِعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَتُنْقِعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، قُلْتُ: أَفَلَا نُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ ؟ قَالَ: لَا تَجْعَلُوهُ فِي الْقُلَلِ وَاجْعَلُوهُ فِي الشِّنَانِ، فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا.

عبداللہ دیلمی کے والد فیروز (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم انگور والے لوگ ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرما دی ہے، اب ہم کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : اسے سکھا کر منقیٰ بنا لو ۔ میں نے کہا : تب ہم منقیٰ کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : اسے صبح کے وقت بھگوؤ دو اور شام کو پیو، اور شام کو بھگوؤ صبح کو پیو ۔ میں نے کہا : دیر تک نہ رہنے دیں یہاں تک کہ اس میں تیزی آجائے ؟ آپ نے فرمایا : اسے گھڑوں میں مت رکھو بلکہ چمڑے کی مشک میں رکھو اس لیے کہ اگر اس میں زیادہ دیر تک رہا تو وہ (مشروب) سرکہ بن جائے گا ۔

It was narrated from Abdullah Ad-Dailami that his father Fairuz said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, we have grapevines and Allah, the Mighty and Sublime, has revealed that Khamr (wine) is forbidden, so what should we do? He said: Make raisins. I said: What should we do with the raisins? He said: Soak them in the morning and drink them in the evening, and soak them in the evening and drink them in the morning. I said: Can we leave it until it gets stronger? He said: Do not put it in clay vessels, rather put it in skins, for if it stays there for a long time, it will turn into vinegar.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5735
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں (بشمول باب ٥٧ ) جو احادیث و آثار مذکور ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کچھ مشروبات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کسی مرحلہ میں ان میں نشہ نہیں ہوتا اور کسی مرحلہ میں ہوجاتا ہے، تو جب مرحلہ میں نشہ نہیں ہوتا اس کا پینا حلال ہے، اور جب نشہ پیدا ہوجائے تو خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں کم مقدار میں پینے سے خواہ نشہ آئے یا نہ آئے اس کا پینا حرام ہے۔ الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الٔلشربة ١٠(٣٧١٠) ، (تحفة الٔاشراف : ١١٠٦٢) ، مسند احمد (٤/٢٣٢) (صحیح الإسناد )
5739Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرِ بْنِ النَّحَّاسِ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا فَمَاذَا نَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ: زَبِّبُوهَا، قُلْنَا: فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ ؟ قَالَ: انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقِلَالِ فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا.

فیروز دیلمی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے انگور کے باغات ہیں ہم ان کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ان کا منقیٰ اور کشمش بنا لو ، ہم نے عرض کیا : پھر منقے اور کشمش کا کیا کریں، آپ نے فرمایا : صبح کو بھگاؤ اور شام کو پی لو، اور شام کو بھگاؤ صبح کو پی لو، اور اسے مشکیزوں میں بھگاؤ، گھڑوں میں نہ بھگانا، اس لیے کہ اگر اس میں وہ (مشروب) دیر تک رہ گیا تو سرکہ بن جائے گا ۔

It was narrated from Ibn Al-Dailami that his father said: "We said: O Messenger of Allah, we have grapevines; what should we do with them? He said: Make raisins. We said: What should we do with the raisins? He said: Soak them in the morning and drink them in the evening, and soak them in the evening and drink them in the morning. I said: Can we leave it until it gets stronger? He said: Do not put it in clay vessels, rather put it in skins, for if it stays there for a long time, it will turn into vinegar.

حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5736
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن، صحیح الإسناد )
5740Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ، فَإِنْ بَقِيَ فِي الْإِنَاءِ شَيْءٌ لَمْ يَشْرَبُوهُ أُهَرِيقَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ١ ؎، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh would be made for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he would drink it in the morning, and on the following morning. Then on the evening before the third day, if there was anything left in the vessel, they would not drink it and it would be thrown away.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5737
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہم نبیذ تیار کرتے جسے آپ ایک دن اور رات تک پیتے، تو یہ حدیث ابن عباس (رض) کی اس حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس سے زیادہ مدت تک پینے کی نفی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٤) ، سنن ابی داود/الأشربة ١٠ (٣٧١٣) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٣٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٦٢) ، مسند احمد (١/٢٣٢، ٢٤٠، ٢٨٧) (صحیح )
5741Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے۔

It was narrated from Ibn Abbas that: Raisins would be soaked for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he would drink it that day, the following day, and the day after that.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5738
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح لغیرہ )
5742Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ، وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ، أَهْرَاقَهُ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد کے (تیسرے) دن پیتے، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے (کسی کو) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh of raisins would be made for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at night, and he would put it in a water skin and drink it during the next day, the day after, and the day after that. At the end of the third day, he would give it to others to drink, or drink it himself, and if anything was left the following morning, he would pour it away.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5739
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٧٤٠ (صحیح )
5743Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً، وَكَانَ يَغْسِلُ الْأَسْقِيَةَ وَلَا يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلَا شَيْئًا، قَالَ نَافِعٌ: فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں : ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔

It was narrated from Ibn Umar that: Nabidh of raisins would be made for him in a water skin in the morning, and he would drink it that night, and it would be made for him in the evening, and he would drink it in the morning. He would wash out the water skins and not leave any pieces or anything in them. Nafi said: "We used to drink it like honey.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5740
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٩٣٨) (صحیح الإسناد )
5744Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَسَّامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّبِيذِ ؟ قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُيُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَيُنْبَذُ لَهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ.

بسام کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے نبیذ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : علی بن حسین کے لیے رات کو نبیذ تیار کی جاتی تو وہ صبح کو پیتے، اور صبح کو تیار کی جاتی تو رات کو پیتے۔

It was narrated that Bassam said: "I asked Abu Jafar about Nabidh and he said: Ali bin Husain, may Allah be pleased with him, would have Nabidh made for him at night, and he would drink it in the morning, and he would have Nabidh made in the morning and he would drink it at night.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5741
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩١٣٥) (صحیح الإسناد )
5745Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ ؟، قَالَ: انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً.

عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے سنا : ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو۔

Abdullah said: "I heard Sufyan being asked about Nabidh. He said: Make Nabidh at night and drink it in the morning.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5742
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٧٣) (صحیح الإسناد )
5746Sunan An Nasaiضعیف

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَرْسَلَتْ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، فَحَدَّثَهَا، عَنْ النَّضْرِ ابْنِهِ: أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ فِي جَرٍّ يُنْبَذُ غَدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً.

ابوعثمان (جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں) سے روایت ہے کہ ام الفضل نے انس بن مالک (رض) سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے۔

It was narrated from Abu Uthman, who was not Al-Hindi, that: Umm Al-Fadl sent word to Anas bin Malik (RA) , asking him about Nabidh made in an earthenware jar. He told her about his son An-Nadr, who used to make Nabidh in an earthenware jar in the morning and drink it in the evening.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5743
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو عثمان “ لین الحدیث ہیں )
5747Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ.

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آجائے۔

It was narrated from Saeed bin Al-Musayyib that: He disliked putting the dregs of Nabidh into (new) Nabidh lest it become strong because of the dregs.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5744
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٢٤) (صحیح الإسناد )
5748Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ.

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا : نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said concerning Nabidh: "The dregs are what intoxicates.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٠٢) (صحیح الإسناد )
5749Sunan An Nasaiصحیح

حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا، وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہوجاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Khamr is so called because it is left until the good parts are gone and the dregs remain." And he disliked everything that was made by using dregs (by adding new materials to the dregs).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5746
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٢٣) (صحیح الإسناد )