ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آجائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔
It was narrated that Ibrahim said: "They used to think that whoever drank something and became intoxicated from it, it was not befitting for him to go back and drink more of the same.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5747
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا : ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا : وہ مکروہ ہے۔
It was narrated that Abu Al-Miskin said: "I asked Ibrahim: We take the dregs of Khamr or Tila (thickened grape juice) and clean them, then we soak it with raisins for three days, then we strain it and leave it until it matures, then we drink it. He said: That is Makruh.
حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5749
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔
Ibn Al-Mubarak said: "I have never found any sound report, giving a concession on intoxicants, except the report narrated from Ibrahim.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5751
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔
Ubaidullah bin Saeed said: "I heard Abu Usamah say: I never saw any man more assiduous in seeking knowledge than Abdullah bin Al-Mubarak, not in Ash-Sham, Egypt, Yemen or the Hijaz.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5752
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لکڑی کا ایک پیالا تھا، جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس میں رسول اللہ ﷺ کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے : پانی، شہد، دودھ اور نبیذ۔
It was narrated that Anas said: Umm Sulaim had a wooden cup and she said: "I gave the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) all kinds of things to drink in it: Water, honey, milk and Nabidh.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5753
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب (رض) سے نبیذ کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : پانی پیو، شہد پیو، ستو اور دودھ پیو جس سے تم پلے بڑھے ہو۔ میں نے پھر پوچھا تو کہا : کیا تم شراب چاہتے ہو ؟ ، کیا تم شراب چاہتے ہو ؟۔
It was narrated from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza that his father said: "I asked Ubayy bin Kab about Nabidh, and he said: Drink water, drink honey, drink Sawiq (barley gruel) and drink milk that you have been nourished with since childhood. I repeated the question and he said: Is it wine you want? Is it wine you want?
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5754
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے کئی مشروبات ایجاد کرلی ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں۔ لیکن میرا مشروب کوئی بیس سال (یا کہا : چالیس سال) سے سوائے پانی اور ستو کے کچھ نہیں اور نبیذ کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that Ibn Masud said: "The people have invented new drinks and I do not know what they are. I have not drunk anything for 20 years (or he said: 40 years) except water and Sawiq (barley gruel), and he did not mention Nabidh.
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5755
عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کرلیے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے۔
It was narrated that Abidah said: "The people have invented drinks and I do not know what they are. I have not drunk anything for 20 years except water, milk and honey.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5756
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ طلحہ (رض) نے کوفہ والوں سے کہا : نبیذ میں فتنہ ہے اس میں چھوٹا بڑا ہوجاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہوجاتا ہے، وہ (ابن شبرمہ) کہتے ہیں : اور جب کسی شادی کا ولیمہ ہوتا تو طلحہ اور زبیر (رض) دودھ اور شہد پلاتے۔ طلحہ (رض) سے کہا گیا : آپ نبیذ کیوں نہیں پلاتے ؟ وہ بولے : مجھے ناپسند ہے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کو نشہ آئے۔
It was narrated that Ibn Shubrumah said: "Talhah said to the people of Al-Kufah concerning Nabidh: It is a test whereby a young man may benefit but an old man may be harmed. If there was a wedding among them, Talhah and Zubaid would offer milk and honey to drink. It was said to Talhah: Why dont you offer Nabidh? He said: I would not like a Muslim to become intoxicated because of me.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5757