کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نُبَاتَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ: أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ.
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ١ ؎۔
It was narrated that Suwiad bin Ghafalah said: "Umar bin Al-Khattab wrote to some of his workers saying: Give to the Muslims thickened grape juice when two thirds of it have gone and one-third is left.
حسن صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5715
Notes · وضاحت
١ ؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٤٦١) (حسن، صحیح الإسناد )