4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مومنو ! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا۔ ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں سے بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔

آیت نمبر : 19۔ اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔ اس کا تعلق پہلے مذکور بیویوں کے ذکر سے ہے، اس سے مقصود ان سے ظلم اور تکلیف کو دور کرنا ہے اور خطاب اولیاء کو ہے ان، یحل کی وجہ سے محل رفع میں ہے، یعنی تمہارے لیے عورتوں کا وارث بننا صحیح نہیں ہے، کرھا مصدر ہے حال واقع ہو رہا ہے۔ اس آیت کے نزول کے سبب میں روایات اور مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے زیادہ حقدار ہوتے اگر کوئی چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا، اگر وہ چاہتے تو کسی دوسرے سے اس کا نکاح کردیتے، اگر چاہتے تو اس کا نکاح نہ کرتے وہ اس عورت کے اس کے گھروالوں کی نسبت زیادہ حقدار ہوتے، تو یہ آیت نازل ہوئی، ابو داؤد نے بھی اس کی ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ زہری اور ابو مجلز نے کہا : عربوں کی عادت سے تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس شخص کا دوسری بیوی سے جو بیٹا ہوتا وہ یا مرنے والے کا عصبۃ اس شخص کی بیوی پر اپنا کپڑا ڈالتا تو وہ اس عورت کا اس کی اپنی ذات اور اس کے اولیاء سے زیادہ حق دار بن جاتا۔ اگر وہ چاہتا تو بغیر مہر کے اس سے نکاح کرلیتا اور وہی مہر جو میت نے اس عورت کو دیا ہوتا (اس پر اکتفا کرتا) اگر وہ چاہتا تو کسی دوسرے سے اس کا نکاح کردیتا اور اس کا مہر خود لے لیتا اور اس عورت کو کچھ نہ دیتا، اگر وہ چاہتا تو اس کو روک لیتا حتی کہ وہ فدیہ دے وہمال جو اس کو میت کی طرف سے ملا ہے یا وہ عورت مر جائے اور اوہ اس کا وارث ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (1) (اسباب النزول للواحدی، صفحہ 140) پس معنی یہ ہوگا کہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم ان عورتوں کے وارث ہو ان کے خاوندوں کی طرف سے پھر تم ان کے خاوند بن جاؤ۔ بعض علماء نے فرمایا : وارث اگر جلدی کرتا اور اس عورت پر کپڑا ڈال دیتا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہوتا اگر عورت جلدی کرتی اور اپنے میکے چلی جاتی تو وہ عورت اپنے نفس کی خود حقدار ہوتی، یہ سدی کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ایک شخص کے عقد میں بوڑھی عورت ہوتی جب کہ اس کا نفس جوان عورت کی خواہش کرتا تو وہ بوڑھی عورت کے فراق کو اس کے مال کی وجہ سے ناپسند کرتا پس وہ اسے روکے رکھتا اور اس کے قریب بھی نہ جاتا حتی کہ وہ اسے اپنا مال فدیہ دے یا وہ مرجائے اور اس کے مال کا وہ وارث بن جائے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، خاوند کو حکم دیا گیا کہ وہ اگر بیوی کی صحبت کو پسند کر نہیں کرتا تو اسے طلاق دے دے اور اس کو ناپسند کرتے ہوئے روکے نہ رکھے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آیت) ” لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔ اس آیت سے مقصود زمانہ جاہلیت کی رسم کا قلع قمع کرنا ہے یعنی عورتوں کو مال کی طرح نہ بنایا جائے تاکہ مال کی طرح ان میں بھی میراث جاری ہو۔ ” کرھا “۔ (کاف کے ضمہ کے ساتھ) حمزہ اور کسائی کی قرات ہے اور فتحہ کے ساتھ باقی قراء کی قرات ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں قتبی نے کہا : الکرہ کاف کے فتحہ کے ساتھ اکراہ کے معنی میں ہے اور کاف کے ضمہ کے ساتھ مشقت کے معنی میں ہے۔ کہا جاتا ہے : لتفعل ذالک طوعا او کرھا “۔ یعنی تجھے یہ کرنا چاہیے خوشی سے یا مجبوری سے، یہ خطاب اولیاء کے لیے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ خطاب عورتوں کے خاوندوں کے لیے ہے جب وہ انہیں روکے رکھیں اور ان سے برتاؤ بھی اچھا نہ کریں اور یہ ان کی میراث کے لالچ کی خاطر ہو یا وہ اپنے بعض مہر فدیہ دے دیں، یہ قول اصح ہے اور ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہنے اس کو اختیار کیا ہے انہوں نے کہا : اس کی دلیل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” الا ان یاتین بفاحشۃ “۔ جب وہ برائی کا ارتکاب کرے تو والی کے لیے اس کو روکنا جائز نہیں تاکہ اس کا مال لے جائے اس پر امت کا اجماع ہے اور یہ خاوند کے لیے ہے اس کا بیان بعد والے مسئلہ میں آئے گا۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تعضلوھن “۔ عضل کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے اور وہ ہے روکنا (آیت) ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “۔ الفاحشۃ کے معنی میں لوگوں کا اختلاف ہے، حسن نے کہا : اس سے مراد زنا ہے، جب کنواری زنا کرے تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال جلاوطن کی جائے گی اور اپنے خاوند کو وہ رقم لوٹا دے گی جو بطور مہر لے چکی ہوگی، ابو قلابہ نے کہا : : جب کسی مرد کی بیوی زنا کرے تو کوئی حرج نہیں کہ خاوند اسے تکلیف پہنچائے اور اس پر سختی کرے تاکہ وہ اس سے لیا ہوا مال واپس کر دے، سدی نے کہا : جب عورتیں ایسے فعل کا ارتکاب کریں تو ان کے مہر واپس لے لو۔ ابن سیرین اور ابو قلابہ نے کہا : خاوند کے لیے بیوی سے فدیہ لینا جائز نہیں مگر یہ کہ اس کے پیٹ پر کسی غیر مرد کو پائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، ضحاک ؓ اور قتادہ ؓ نے کہا : فاحشۃ مبینہ سے مراد اس آیت میں بغض اور نافرمانی ہے، ان علماء نے فرمایا : جب عورت نافرمانی ہو تو مرد کے لیے اس کا مال لینا جائز اور حلال ہے۔ یہ امام مالک (رح) کا مذہب ہے، ابن عطیہ (رح) نے کہا : میں اس آیت میں فاحشۃ کے متعلق خاوند کے لیے کوئی نص نہیں پاتا، ایک قوم نے کہا : اس سے مراد بد زبانی کرنا اور قول اور فعل سے برا سلوک کرنا ہے۔ یہ نشوز کا معنی ہے۔ بعض اہل علم بطور خلع نافرمان عورت سے مال لینا جائز قرار دیتے ہیں مگر وہ یہ خیال رکھے کہ جو اس نے دیا ہے اس سے تجاوز نہ کرے، اس قول پر عمل کرے۔ (آیت) ” لتذھبوا ببعض ما اتیتموھن “۔ امام مالک (رح) اور اہل علم کی ایک جماعت نے کہا : خاوند کے لیے جائز ہے کہ نافرمان بیوی سے سب کچھ لے لے جس کی وہ مالک ہے۔ ابن عطیہ (رح) نے کہا : زنا خاوند پر نافرمانی اور اذیت سے زیادہ برداشت کرنا مشکل ہے یہ تمام فاحشۃ کے حکم میں ہے مال کا لینا یہ حلال کردیتا ہے۔ ابو عمررحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ابن سیرین اور ابو قلابہ نے کہا : میرے نزدیک یہ کچھ نہیں ہے، کیونکہ فاحشۃ کبھی بد زبانی اور اذیت سے ہوتی ہے، اسی وجہ سے بدزبان کو فاحش اور متفحش کہتے ہیں اس بنا پر اگر وہ اس بیوی کو فاحشۃ پر مطلع ہو تو اس کے لیے لعان کرنا ہوگا اور اگر چاہے تو اسے طلاق دے دے، اور رہا اسے تکلیف دینا حتی کہ وہ اسے اپنے مال کا فدیہ دے تو یہ خاوند کے لیے جائز نہیں، میں کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جس نے کہا ہو کہ اسے تکلیف دینا اور اس کے ساتھ برا سلوک کرنا خاوند کے لیے جائز ہے حتی کہ وہ اس سے خلع کرلے جب وہ اسے زنا کرتے ہوئے پائے سوائے ابو قلابہ کے۔ واللہ اعلم۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فان خفتم الا یقیما حدود اللہ “۔ (بقرہ : 229) یعنی حسن معاشرت اور خاوند کے حق کا قیام اور بیوی کے حق کے قیام میں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں۔ تو (آیت) ” فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ “۔ (بقرہ : 229) پس کوئی حرج نہیں ان پر کہ عورت کو کچھ فدیہ دے کر جان چھڑائے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریا “۔ پھر اگر وہ بخش دین تمہیں کچھ اس سے خوش دلی سے تو کھاؤ اسے لذت حاصل کرتے ہوئے خوشگوار سمجھتے ہوئے۔ یہ آیات اس باب میں اصل ہیں، عطا خراسانی نے کہا : جب کسی مرد کی بیوی برائی کا ارتکاب کرے تو وہ اس سے وہ مال لے لے جو اس نے اسے دیا تھا اور اسے باہر نکال دے، پھر یہ حکم حدود کے ساتھ منسوخ ہوگیا۔ چوتھا قول : (آیت ” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ “۔ مگر یہ کہ وہ بدکاری کریں تو وہ گھروں میں روکی جائیں گی، یہ نسخ سے پہلے تھا، یہ عطا کے قول کے معنی میں ہے اور یہ ضعیف ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) جب ہم اس قول کو اختیار کریں کہ عضل میں خطاب اولیاء کو ہے تو اس کا فقہ یہ ہے کہ جب ولی میں یہ صحیح ثابت ہو کہ وہ عضل کرنے والا ہے تو قاضی عورت اور مرد کے بارے میں غور کرے گا مگر باپ اپنی بیٹیوں کے بارے میں ایسا کرے تو اس کے لیے یہ حکم نہیں۔ اگر اس عضل میں اصلاح ہو تو پھر اسے نہیں چھیڑا جائے گا، یہ ایک قول ہے۔ اور یہ ایک اور بہت سے نکاح کا پیغام دینے کے اعتبار سے ہے، روکنا صحیح ہو تو اس میں امام مالک (رح) کے مذہب میں دو قول ہیں، وہ تمام اولیاء کی طرح ہے۔ قاضی اس کی بیٹیوں میں سے جس کا نکاح چاہے گا کر دے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ مسئلہ نمبر : (4) یہ بھی جائز ہے، کہ (آیت) ” تعضلوھن “۔ نہی کی بنا پر مجزوم ہو اور واؤ عاطفہ ہو جملہ کلام پہلے جملہ سے جدا ہو، اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” ان ترثوا “۔ پر عطف کی بنا پر منصوب ہو اور واؤ مشترکہ ہو، فعل کا فعل پر عطف ہو، حضرت ابن مسعود ؓ نے ولا ان تعضلوھن “۔ پڑھا ہے۔ یہ قرات نصب کے احتمال کو قوت دیتی ہے، اور روکنا ان احکام میں سے ہے جو نص کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مبینۃ “۔ یا کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ نافع اور ابو عمرو کی قرات ہے، باقی قراء نے یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے با کے کسرہ اور یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اس صورت میں ابان الشی سے مشتق ہوگا۔ کہا جاتا ہے۔ ابان الامر بنفسہ، ابنتہ وبین وبینت “۔ یہ تمام قرات فصیح لغات ہیں۔ مسئلہ نمبر : (6) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وعاشروھن بالمعروف “۔ یعنی ان سے اچھا سلوک کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ حکم فرمایا ہے۔ یہ خطاب تمام لوگوں کو ہے ہر ایک کے لیے حسن معاشرت ضروری ہے خواہ وہ خاوند ہو یا ولی ہو لیکن اغلب طور پر اس امر سے مراد خاوند ہوتے ہیں، یہ اس ارشاد کی مثل ہے۔ (آیت) ” فامساک بمعروف “۔ (بقرہ : 229) یہ ان کو پورا مہر اور خرچ دینا ہے۔ اس کی غلطی کے بغیر اس کے سامنے منہ نہ بسورے، اچھے انداز میں اس سے گفتگو کرے، نہ بدخلقی سے، نہ سخت کلام کرے اور نہ اپنا میلان دوسری بیوی کی طرف ظاہر کرنے والاہو، ، العشرۃ کا معنی مخالطت اور ممازجۃ ہے اسی سے طرفہ کا قول ہے : فلئن شطت نواھا مرۃ لعلی عھد حبیب معتمر : شاعر نے حبیب کو جمع کے معنی میں استعمال کیا ہے جیسے خلیط اور غریق استعمال ہوتے ہیں، عاشرہ معاشرۃ، تعاشرالقوم واعتشروا “۔ اللہ تبارک وتعالٰ نے عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا ہے جب ان سے عقد نکاح کریں بہتر انداز میں آپس میں تعلق باقی رہے۔ اس سے انسان کا نفس پر سکون ہوتا ہے اور زندگی خوشگوار رہتی ہے، یہ خاوند پر واجب ہے قضا اس پر لازم نہ ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : مرد عورت کے لیے اسی طرح اپنے آپ کو مزین رکھے جس طرح عورت مرد کے لیے اپنے آپ کو مزین رکھتی ہے، یحییٰ بن عبدالرحمن الحنظلی نے کہا : میں محمد بن حنیفہ (رح) کے پاس آیا، وہ میرے پاس آئے تو انہوں نے ایک سرخ چادر اوڑھی ہوئی تھی اور انکی داڑھی سے خوشبو کے قطرے گر رہ تھے، میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ محمد بن حنیفہ (رح) نے کہا : یہ چادر مجھ پر میری بیوی نے ڈالی ہے اور اس نے مجھے خوشبو لگائی ہے وہ ہم سے ایسی ہی خواہش کرتی ہیں جیسی ہم ان سے رکھتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں اپنی بیوی کی خاطر اپنے آپ کو مزین کرنا پسند کرتا ہوں جس طرح میں پسند کرتا ہوں کہ بیوی میرے لیے مزین ہو۔ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ اس میں داخل ہے۔ ابن عطیہ (رح) نے کہا : آیت کے مفہوم کی طرف نبی مکرم ﷺ کا ارشاد رہنمائی کرتا ہے۔ فاستمع بھا وفیھا عوج (1) (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب المرارۃ مع النساء حدیث نمبر 4786، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یعنی تو اس سے بدسلوکی نہ کر جب کہ اس میں ٹیڑھا پن موجود بھی ہو عورت سے مخالفت شروع ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ناچاقی واقع ہوتی ہے اور یہ خلع کا سبب ہے۔ مسئلہ نمبر : (7) ہمارے علماء نے : (آیت) ” وعاشروھن بالمعروف “۔ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ عورت کے لیے ایک خادمۃ کافی نہ ہو تو خاوند پر اس کی کفالت کی مقدار خدمت کرنا ضروری ہے جیسے بادشاہ اور خلیفہ کی بیٹی اگر کسی کی بیوی ہو تو انہیں ایک خادمہ کفایت نہیں کرتی، یہ معاشرۃ بالمعروف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) نے فرمایا : خاوند پر ایک خادمۃ لازم ہے یہ اس کی ذات کی خدمت کے لیے کافی ہے دنیا میں ایک عورت کے لیے ایک خادمہ کافی ہوتی ہے یہ اس جنگجو کی طرح ہے جس کے بہت سے گھوڑے ہوں تو اسے ایک گھوڑے کا حصہ ملتا ہے، کیونکہ قتال ایک گھوڑے پر ہی ممکن ہے، ہمارے علماء نے فرمایا : یہ غلط ہے، کیونکہ بادشاہوں کی بیٹیوں کی بہت سے خادمائیں ہوتی ہیں انہیں ایک خادمہ کفایت نہیں کرتی، کیونکہ وہ کپڑے دھونے، آرام وغیرہ کے خیال کرنے اور دوسرے کاموں کے لیے ایک خادمہ کافی نہیں ہوتی ہے۔ واضح ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کرھتموھن “۔ بدصورت یا بدخلق ہونے کی وجہ سے اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو جب کہ وہ فاحشۃ اور نافرمان نہیں ہے۔ یہ سارے احتمال ہوسکتے ہیں، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس عورت سے نیک صالح اولاد عطا فرما دے ان کو رفع عسی کی وجہ سے ہے ان اور فعل مصدر ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ مفہوم صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی مومن، مومنۃ کو جدا نہ کرے اگر اس سے ایک خلق کو ناپسند کرے گا تو اس کی دوسری عادت سے خوش ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ عورت سے کلی طور پر بغض نہ رکھے جو اسے اس کے فراق پر برانگیختہ کردے۔ یعنی اس کے لیے یہ مناسب نہیں بلکہ اس کی برائی کو اس کی اچھائی کی وجہ سے معاف کر دے اور اس کی ناپسندیدہ بات کو اس کی پسندیدہ باتوں کی وجہ سے برداشت کرے۔ مکحول نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتا ہے پس اسے خیر دی جاتی ہے پس وہ اپنے رب پر شکوہ کرتا ہے پھر تھوڑے عرصہ بعد وہ دیکھتا ہے کہ اسے خیر دی گئی ہوتی ہے، ابن عربی (رح) نے ذکر کیا فرمایا : مجھے ابو القاسم بن حبیب (رح) نے خبر دی، انہوں ابوالقاسم السیوری سے روایت کیا انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن ؓ سے روایت کیا فرمایا : الشیخ ابو محمد بن ابی زید علم اور دین میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے۔ اس کی بیوی بڑی بدسلوکی کرتی تھی، اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی تھی اور اپنی زبان کے ساتھ اسے اذیت دیتی تھی، شیخ صاحب کو بیوی کے معاملہ میں کہا گیا اور اس پر اتنا صبر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں ایک ایسا شخص ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بدن کی صحت اپنی معرفت اور غلاموں کی نعمتیں کی ہیں شاید میرے گناہوں کی سزا اس کی صورت میں دی گئی ہو مجھے اندیشہ ہے کہ میں اس کو جدا کروں تو مجھ پر اس سے سخت سزا اور عقوبت نازل ہو۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اس میں طلاق کی کراہت کی دلیل ہے اگرچہ مباح ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مباح چیزوں میں سے کسی چیز کو ناپسند نہیں فرماتا سوائے طلاق اور کھانے کے، اللہ تعالیٰ معدہ کو ناپسند فرماتا ہے جب وہ بھر جاتا ہے۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لو گے ؟

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم دیا ہوا مال کیو نکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہیں ؟

آیت نمبر : 20 تا 21۔ ان آیات میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) گزشتہ آیات میں اس جدائی کا حکم گزر چکا جس کا سبب عورت ہے اس صورت میں خاوند کے لیے اپنا مہر واپس لینا جائز تھا اب اس جدائی کا ذکر ہو رہا ہے جس کا سبب خاوند ہے، یہاں فرمایا کہ جب مرد، عورت کو بغیر بدخلقی اور سوء معاشرت کے اسے طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس سے مال طلب نہ کرے۔ مسئلہ نمبر : (2) علماء کا اختلاف ہے کہ جب میاں، بیوی آپس میں جدائی کا ارادہ کرتے ہوں اور دونوں کی طرف سے نافرمانی اور سوء معاشرت کا مظاہرہ ہو، تو امام مالک (رح) نے فرمایا : خاوند کے لیے اس سے مال لینا جائز ہے جب جدائی کا سبب عورت بھی ہو، مرد کے سبب ہونے کا اعتبار نہ ہوگا۔ ایک جماعت علماء کا قول ہے کہ اس کے لیے مال لینا جائز نہیں مگر یہ کہ عورت ہی خود نافرمانی کرتی ہو اور جدائی چاہتی ہو۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتیتم احدھن قنطارا “۔ اس آیت میں مہر زیادہ رکھنے کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مثال نہیں دیتا مگر مباح چیز کے ساتھ، حضرت عمر ؓ نے خطاب فرمایا اور کہا : خبردار عورتوں کے مہر میں غلو نہ کرو اگر مہر کی زیادتی دنیا میں باعث عزت ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث تقوی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ تم سب سے زیادہ اس کے مستحق ہوتے آپ ﷺ نے کبھی اپنی کسی بیوی اور کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا (1) (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب الصداق، حدیث نمبر 1801، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، مسند امام احمد حدیث نمبر 340) ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہا : اے عمر اللہ تعالیٰ ہمیں عطا فرماتا ہے اور تو ہمیں محروم کرتا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا : (آیت) ” واتیتم احدھن قنطارا فلاتاخذوا منہ شیائ “۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اس عورت نے ٹھیک کہا : عمر نے غلطی کی۔ ایک روایت میں ہے حضرت عمر ؓ نے سر جھکا دیا پھر فرمایا : اے عمر ! تجھ سے تمام لوگ زیادہ فقیہ ہیں، ایک روایت ہے : عورت نے ٹھیک کہا، مرد نے غلطی کی اور انکار کو ترک فرما دیا، اس حدیث کو ابو حاتم البستی (رح) نے اپنی مسند میں ابو العجفاء سلمی سے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت عمر ؓ نے خطبہ دیا آگے بارہ اوقیہ تک روایت ذکر کی، عورت کے کھڑے ہونے کا ذکر نہیں کیا، ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ابو العجفاء سے روایت کیا ہے اور بارہ اوقیہ کے بعد یہ ذکر کیا ہے کہ مرد کو عورت کا مہر بوجھل کرتا ہے حتی کہ اس کے دل میں اس عورت کے لیے عداوت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے : ” قد کلفت الیک علق القربۃ او عرق القرہ۔ “ مجھے تیری طرف سے مشکیزہ کے پانی کی تکلیف دی گئی ہے، میں پیدائشی عربی تھا میں علق القربۃ او عرق القربۃ “ کے متعلق نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے۔ جوہری نے کہا : علق القربۃ، عرق القربۃ میں ایک لغت ہے، دوسرے علماء نے کہا : علق القربۃ سے مراد مشکیزہ کی وہ رسی ہے جس کے ساتھ مشکیزہ کو لٹکایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے : کلفت الیک حتی عصام القربۃ “۔ مجھے تیری مشقت میں ڈالا گیا ہے حتی کہ مشکیزہ کی رسی بھی میرے ذمہ ہے اور اس کا پانی بھی میری ذمہ داری ہے۔ کہتا ہے : حشمت الیک حتی سافرت واحتجت الی عرق القربۃ۔ اس جملہ میں عرق القربۃ سے مراد مشکیزہ کا پانی ہے اور یہی لفظ پانی کے بہاؤ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : لوگ پانی سفر میں ساتھ لے جاتے تھے اور اسے اونٹ پر لٹکا دیتے تھے اور اسے بانٹتے تھے تو سواری پر وہ شاق ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ العرق اور العلق دونوں کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ اصمعی نے کہا : عرق القربۃ ایسا کلمہ ہے جس کا معنی شدت ہے اور فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اس کی اصل کیا ہے۔ اصمعی نے کہا : میں نے ابن ابی طرفہ سے سنا، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سے یہ زیادہ فصیح ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے اپنے شیوخ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ” لقیت من فلان عرقۃ القربۃ “۔ یعنی میں نے فلاں سے تکلیف پائی اور اس نے ابن الاحمر کا یہ شعر پڑھا : لیست بمشتمۃ تعد وعفوھا عرق السقاء علی القعود اللاغب : ابو عبیدہ نے کہا : شاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ ایک کلمہ سنتا ہے جو اسے غضب ناک کرتا ہے وہ گالی بھی نہیں ہے کہ ایسے کہنے والے کا مؤاخذہ کیا جائے، حالانکہ مجھے اس حد تک پہنچایا گیا ہے جیسا کہ عرق القربۃ “۔ شاعر نے عرق السقا کہا، کیونکہ شعری وزن درست نہیں رہتا تھا، پھر کہا علق القعود والاغب “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سفروں میں لوگ پیٹھ پر مشکیزہ لٹکاتے تھے، یہ معلی اور فراء کے حکایت کردہ معنی کے مشابہ ہے۔ اس نے کہا : لوگ جنگلوں میں سفر کرتے تھے اور پانی ساتھ لے جاتے تھے اور اسے اونٹ پر لٹکا دیتے تھے اور اسے تقسیم کرتے تھے، یہ سواری پر مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہوتا تھا فراء نے یہ علق کی تفسیر کی ہے، ایک قوم نے کہا : یہ آیت زیادہ مہر رکھنے کے جواز کو مہیا نہیں کرتی کیونکہ قنطار کے ساتھ تمثیل یہ مبالغہ کی جہت سے ہے گویا یوں فرمایا : ” واتیتم ھذا القدر العظیم الذی لایؤتیہ احد “۔ یعنی تم اتنی مقدار میں دو کہ کسی نے اتنی مقدار میں نہ دیا ہو یہ نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی طرح ہے : من بنی للہ مسجدا ولو کمفحص قطاۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ “۔ (جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی اگرچہ وہ کو نج کے گھونسلے کی طرح ہو تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لیے گھر بنا دے گا) اور یہ معلوم شدہ بات ہے کہ کو نج کے گھونسلے کی مقدار مسجد نہیں ہوتی اور نبی مکرم ﷺ نے ابو حدرد کو فرمایا تھا جب کہ وہ مہر کے سلسلہ میں مدد طلب کرتے ہوئے آپ کے پاس آئے تھے آپ ﷺ نے اس سے مہر کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ دو سو، رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا : گویا تم سونا چاندی پتھریلی زمین یا پہاڑ سے کاٹتے ہو، بعض لوگوں نے مہر زیادہ رکھنے سے منع فرمایا : یہ لازم نہیں ہے اور نبی مکرم ﷺ کا اس نکاح کرنے والے پر انکار مہر زیادہ رکھنے کی وجہ سے نہ تھا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ اس حالت میں فقیر تھا اور مدد طلب کرنے اور سوال کرنے کا محتاج تھا اور یہ بالاتفاق مکروہ ہے، حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم بنت علی ؓ کو جو حضرت فاطمہ ؓ کے بطن سے تھیں، چالیس ہزار درہم مہر دیا تھا، ابو داؤد نے عقبۃ بن عامر سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ایک شخص سے کہا : کیا تو خوش ہے کہ میں تیرا نکاح فلاں عورت سے کر دوں ؟ اس شخص نے کہا : ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے عورت سے کہا : کیا تجھے پسند ہے کہ میں فلاں سے تیرا نکاح کردوں ؟ اس عورت نے کہا : ہاں تو آپ ﷺ نے اس کا نکاح کردیا۔ شخص نے اس عورت سے حقوق زوجیت ادا کیے اور اس کے لیے مہر مقرر نہ کیا، اور نہ اسے کچھ دیا (1) (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح باب فیمن تزوج ولم یسم صداقا۔۔۔ حدیث نمبر 1808، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ حدیبیہ میں موجود لوگوں میں سے تھا اس کو خیبر سے حصہ ملا تھا جب وہ شخص فوت ہونے لگا تو اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میرا نکاح کیا تھا اور میں نے اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ میں نے اسے کوئی اور چیز دی تھی، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے بطور مہر خیبر کا حصہ دیا، اس عورت نے وہ حصہ لے لیا اور اسے ایک لاکھ میں فروخت کیا، علماء کا اجماع ہے کہ مہر کی زیادتی کی کوئی حد نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتیتم احدھن قنطارا “۔ اور کم از کم مہر کی مقدار میں علماء کا اختلاف ہے، اس کی وضاحت انشاء اللہ (آیت) ” ان تبتغوا باموالکم “۔ کے تحت آئے گی، سورة آل عمران میں ” قنطارا “۔ کی تحدید کا قول گزر چکا ہے۔ ابن محیصن نے (آیت) ” واتیتم احدھن “۔ کے الف وصل کے ساتھ پڑھا ہے یہ ایک لغت ہے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے : تسمع من تحت العجاج لھا ازملا : اور ایک اور کا قول ہے :۔ ان لم اقاتل فالبسونی برقعا “۔ مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلا تاخذوا منہ شیئا “۔ بکر بن عبداللہ المزنی نے کہا : خلع کرنے والی عورت سے خاوند کچھ واپس نہ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلا تاخذوا “۔ اور اس کو سورة بقرہ کی آیت کے لیے ناسخ بنایا ہے، ابن زید وغیرہ نے کہا : یہ سورة بقرہ کی آیت (آیت) ” ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتموھن شیئا “۔ (بقرہ : 229) سے منسوخ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیات محکمہ ہیں ان میں کوئی ناسخ ہے اور نہ کوئی منسوخ ہے، بلکہ ایک دوسرے پر مبنی ہیں، طبری نے کہا : یہ آیت محکمۃ ہے بکرکے قول کا کوئی معنی نہیں۔ اگر عورت خود دینے کا ارادہ کرے تو نبی مکرم ﷺ نے ثابت کے لیے جائز قرار دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے وہ لے لے جو اس نے اسے دیا تھا۔ (آیت) ” بھتانا “۔ مصدر ہے حال واقع ہو رہا ہے، ” اثما “ اس کا عطف ” بھتانا “۔ پر ہے۔ ” مبینا، اثما کی نعت ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکیف تاخذونہ “۔ خلوت اختیار کرنے کے بعد مال لینے سے منع کی علت ہے، بعض علماء نے فرمایا : الافضاء کا مطلب ہے مرد کا ایک لحاف میں عورت کے ساتھ ہونا خواہ اس نے حقوق زوجیت ادا کیے ہوں یا نہ کیے ہوں، یہ ہر وی نے حکایت کیا ہے، اور کلبی کا بھی یہی قول ہے، فراء نے کہا : الافضاء کا معنی مرد اور عورت کا خلوت اختیار کرنا اور جماع کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد (رح) اور سدی (رح) وغیرہ نے کہا : اس آیت میں افضاء سے مراد جماع ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کریم ہے وہ کنایہ فرماتا ہے۔ اور لغت میں الافضاء کی اصل مخالطت ہے ملی جلی چیز کو فضا کہا جاتا ہے، شاعر نے کہا :۔ فقلت لھا یا عمتی لک ناقتی وتمر فضا فی عیبتی وزبیب : کہا جاتا ہے : القوم فوضی فضا “۔ یعنی لوگ ملے جلے ہیں، ان کا کوئی امیر نہیں ہے۔ افضی کا معنی خلوت اختیار کی ہے اگرچہ جماع نہ کیا ہو تو، کیا خلوت کی وجہ سے مہر ثابت ہوجائے گا یہ نہیں ؟ ہمارے علماء کے اس کے متعلق مختلف چار اقوال ہیں، (1) مہر صرف خلوت سے ثابت ہوجاتا ہے۔ (2) وطی سے مہر ثابت ہوتا ہے۔ (3) جس گھر میں عورت بھیجی گئی ہے اس میں خلوت سے ثابت ہوتا ہے۔ (4) مرد اور عورت کے گھروں کے درمیان جدائی سے ثابت ہوتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ مطلقا خلوت سے ثابت ہوجاتا ہے، امام ابوحنیفہ (رح) اور اس کے اصحاب کا یہی قول ہے۔ یہ فرماتے ہیں : جب خلوت صحیحہ ہوجائے تو پورا مہر اور عدت واجب ہوجاتی ہے، خواہ مرد نے عورت سے دخول کیا ہو یا دخول نہ کیا ہو۔ کیونکہ دارقطنی نے ثوبان سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے عورت کا دوپٹہ کھولا اور اس کی طرف دیکھا تو مرہ واجب ہے۔ (1) (سنن دارقطنی، 3824) حضرت عمر ؓ نے کہا جب دروازہ بند کیا، پردہ لٹکا دیا اور شرمگاہ کو دیکھا تو مہر واجب ہوگیا۔ (2) امام مالک (رح) نے فرمایا : جب وہ عورت کے ساتھ ایک طویل عرصہ ٹھہرا رہا مثلا ایک سال وغیرہ، اور وہ دونوں متفق ہوں کہ جماع نہیں ہوا اور عورت پورا مہر طلب کرے تو اس کے لیے یہ ہوگا۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : اس عورت پر عدت نہ ہوگی اور اسے نصف مہر ملے گا، سورة بقرہ میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (6) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔ اس کے متعلق تین اقوال ہیں، بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت کے ذریعے حاصل کیا ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے ساتھ ان کی فروج کو حلال کیا ہے “۔ یہ عکرمہ اور ربیع کا قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ارشاد مراد ہے۔ (آیت) ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “۔ (بقرہ : 229) یہ حسن، ابن سیرین، قتادہ ضحاک اور سدی رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نکاح کا عقد ہے، مرد کہتا ہے : میں نے نکاح کیا اور میں نکاح کی عقد کا مالک ہوا، یہ مجاہد (رح) اور ابن زید (رح) کا قول ہے، ایک قوم نے کہا ہے کہ میثاق غلیظ سے مراد بچہ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرنا مگر (جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخو شی کی بات تھی اور بہت برا دستور تھا۔

آیت نمبر : 22۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآؤکم من النسآء “۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لایحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “۔ (اے ایمان والو ! نہیں حلال تمہارے لیے کہ وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی) کے نزول کے بعد اپنے باپ کی بیوی سے اس کی رضا سے نکاح کرلیتے تھے تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تنکحوا “۔ الخ پس یہ تمام احوال میں حرام ہوگیا، کیونکہ نکاح کا اطلاق جماع اور نکاھ کرنے پر ہوتا ہے۔ اگر باپ کسی عورت سے نکاح کرے یا اس سے وطی کرے بغیر نکاح کے بیٹے پر وہ عورت حرام ہوجائے گی، اس کا مزید بیان آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مانکح “۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد عورتیں ہیں، بعض نے فرمایا : عقد ہے یعنی جو تمہارے آباء نے نکاح فاسد کیا جو اللہ تعالیٰ کے دین کے مخالف تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کی وجہ کو پختہ کیا اور اس کی شرائط کو واضح کردیا ہے۔ یہ طبری کا مختار قول ہے۔ من (آیت) ” تنکحوا “ کے متعلق ہے اور ما نکح “ مصدر ہے فرمایا : اگر اس کا معنی یہ ہو کہ ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا تو پھر ما کی جگہ من کا ہونا واجب تھا، اس بناء پر نہی اس پر واقع ہوئی کہ وہ اپنے باپ دادا کے فاسد نکاح کی طرح نکاح نہ کریں، پہلا قول اصح ہے، اور ما بمعنی الذی اور من ہوگا اس پر دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس آیت کو اس معنی پر محمول کیا اور بیٹوں کے لیے اپنے باپ دادا کی بیویوں سے نکاح کرنے سے استدلال کیا ہے، عرب میں ایسے قبائل تھے جن کی عادت تھی کہ باپ مر جاتا تو بیٹا اس کی بیوی (سوتلی ماں) سے نکاح کرلیتا، یہی طریقہ انصار میں بھی تھا اور قریش میں یہ طریقہ باہم رضا مندی پر مباح تھا، کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عمرو بن امیہ نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا پھر اس سے مسافر یا ابو معیط کو اس نے جنم دیا اور پہلے امیہ سے اس کے بیٹے ابو العیص وغیرہ تھے، بنو امیہ، مسافر اور ابو معیط کے بھائی تھے اور ان کے چچے بھی تھے اسی سے ہے کہ صفوان بن امیۃ بن خلف نے اپنے باپ کے بعد اپنی سوتلی ماں فاختۃ بنت اسود بن مطلب بن اسد سے نکاح کیا تھا، امیہ قتل ہوا تھا جب کہ وہ اس کے عقد میں تھی، اس میں سے یہ ہے منظور بن زبان نے ملیکہ بنت خارجہ سے نکاح کیا تھا اور یہ پہلے اس کے باپ زبان بن سیار کے عقد میں تھی، حصن بن ابی قیس نے اپنی باپ کی بیوی کبیشتہ بنت معن سے نکاح کیا تھا اسود بن خلف نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا، اشعث بن سوار نے کہا : ابو قیس فوت ہوا اور یہ انصار کے نیک افراد میں سے تھا، اس کے بیٹے قیس نے اپنے باپ کی بیوی کو نکاح کا پیغام بھیجا، اس عورت نے کہا : میں تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں لیکن رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوتی ہوں اور آپ سے مشورہ طلب کرتی ہوں وہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور صورت حال عرض کی پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی، عربوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی بیٹیوں سے نکاح کیا تھا وہ حاجب بن زرارہ تھا وہ مجوسی ہوگیا تھا اس نے یہ فعل شنیع کیا تھا اس کا ذکر نضر بن شمیل نے اپنی ” کتاب المثالب “ میں کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرمایا اس سے جس طریقہ پر ان کے آباء نکاح کرتے تھے۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الا ما قدسلف “۔ یعنی جو گزر چکا اور جو ہوچکا یعنی جو تمہارے باپ دادا اور قرابتداروں سے جو ہوچکا وہ معاف ہے۔ یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو کچھ پہلے ہوچکا تم اس سے اجتناب کرو اور اسے چھوڑ دو ، بعض علماء نے فرمایا : الا بمعنی بعد ہے یعنی بعد ما سلف، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” لایذوقون فیھا الموت الا الموتۃ الاولی “۔ (الدخان : 56) اس آیت میں الا بمعنی بعد ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب لا ما سلف یعنی وہ نہیں جو ہوچکا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطائ “۔ یعنی ولا خطا، بعض علماء نے فرمایا : آیت میں تقدیم وتاخیر ہیی۔ اس کا معنی ہے (آیت) ” ولا تنکحوا ما نکح ابآؤکم من النسآء الا ما قدسلف، انہ کان فاحشۃ ومقتا وساء سبیلا “۔ اور بعض علماء نے فرمایا : اس آیت میں اضمار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآؤکم من النسآء “۔ یعنی نہ نکاح کرو جن سے نکاح کرچکے تمہارے باپ داد) اگر تم ایسا کرو گے تو تم سے مواخذہ ہوگا اور تمہیں سزا دی جائے گی مگر جو ہوچکا وہ معاف ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انہ کان فاحشۃ ومقتا وساء سبیلا “۔ اس عمل کی مذمت فرمائی اس میں مبالغہ فرمایا، یہ دلیل ہے کہ اس نے جو فعل کیا وہ انتہائی قبیح اور برا ہے ابو العباس نے کہا : میں نے ابن عربی (رح) سے نکاح المقت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کا ہ : وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کی بیوی (سوتلی ماں) سے نکاح کرے جب باپ اسے طلاق دے یا باپ مرجائے، ایسے شخص کو الضیزن “۔ کہا جاتا ہے۔ ابن عرفۃ نے کہا : عربوں میں جب کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرتا اور پھر اس عورت سے بچہ پیدا ہوتا تو اس بچے کو مقتی کہا جاتا تھا، المقت کی اصل البغض ہے، یہ مقت یمقت مقتا فھو ممقوت ومقیت سے مشتق ہے، اور باپ کی بیوی سے بچہ پیدا کرنے والے کو مقیت کہتے تھے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو مقتا فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ مقت والا ہے، ایسا نکاح کرنے والے کو وہ بچہ لاحق ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت سے مراد نہی ہے اس بات سے کہ آدمی ایسی عورت سے وطی کرے جس سے اس کا باپ یا دادا وطی کرچکا ہو مگر جو زمانہ جاہلیت میں ان کے آباء جن عورتوں سے زنا کرچکے وہ معاف ہے، جب کہ وہ مناکحت کے اعتبار سے صحبت نہ تھی، کیونکہ تمہارے لیے ان سے نکاح جائز ہے اور تم عقد نکاح کے ذریعے وطی کرسکتے ہو جن سے تمہارے آباء نے زنا کے اعتبار سے وطی کی ہے۔ یہ ابن زید (رح) کا قول ہے۔ اس صورت میں استثامتصل ہوگی۔ اور اس میں اصل ہوگی کہ زنا حرام نہیں کرتا جیسا کہ آگے بیان آئے گا۔