Ayahs 4:12–14(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (النساء : 135)
اور ” اولی بھما “۔ جائز ہے، یہ فراء وغیرہ سے مروی ہے۔ اور امرأۃ کے لیے مراۃ بھی کہا جاتا ہے یہ اس کی اصل ہے اخ کی اصل اخو ہے اس پر دلیل اخوان ہے، اخ سے واؤ کو حذف کیا گیا اور بغیر قیاس کے اس میں یہ تبدیلی کی گئی، فراء نے کہا : اخت کے ہمزہ کو ضمہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے واؤ کو حذف کیا گیا ہے اور بنت کے پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یاء حذف کی گئی ہے اور یہ حذف اور تعلیل غیر قیاسی ہے۔
مسئلہ نمبر : (30) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث “۔ یہ تشریک مذکر اور مؤنث کے درمیان برابری کا تقاضا کرتی ہے اگرچہ زیادہ بھی ہوں، جب وہ ماں کی وجہ سے حصہ پائیں گے تو مؤنث پر مذکر کو ترجیح نہ ہوگی، اس پر علماء کا اجماع ہے اور فرائض میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مذکر اور مؤنث برابر ہوں مگر ماں کی طرف سے بھائیوں کی میں یہ برابر ہوتے ہیں، جب کہ کوئی عورت فوت ہوجائے اور اپنا خاوند، ماں اور ماں کی طرف سے بھائی چھوڑ جائے تو خاوند کو نصف حصہ ملے گا، ماں کو 3؍1 حـصہ ملے گا اور 6؍1 حصہ ماں کی طرف سے بھائی کو ملے گا، اور اگر دو بھائی اور دو بہنیں چھوڑے تو مسئلہ پھر بھی اسی طرح ہوگا خاوند کے لیے 2؍1 ماں کے لیے 6؍1 اور بھائیوں اور بہنوں کے لیے 3؍1 حصہ ہوگا۔ اس طرح فریضہ مکمل ہوگیا، اسی پر عام صحابہ کا مسلک ہے، کیونکہ انہوں نے ماں کو بھائی اور بہن کی وجہ سے ثلث سے سدس کی طرف محجوب کردیا ہے، لیکن حضرت ابن عباس ؓ نے عول کا اعتبار نہیں کیا، اگر ماں کے لیے 3؍1 ہوں تو مسئلہ میں عول ہوگا وہ عول کا نظریہ نہیں رکھتے، عول کی وضاحت دوسرے مقام پر آئے گی یہ اس کا مقام نہیں ہے، اگر عورت اپنے خاوند، ماں کی طرف سے بہت سے بھائی اور سگا ایک بھائی چھوڑ کر جائے تو خاوند کے لیے 2؍1 حصہ ہوگا ماں کی طرف سے بھائیوں کو 3؍1 حصہ ملے گا اور باقی بھائیوں کے لیے ہوگا، اسی طرح جس کے لیے مقررہ حصہ ہوگا وہ اسے دیا جائے گا اور باقی اگر بچے گا تو عصبہ کے لیے ہوگا، اگر عورت چھ متفرق بھائی چھوڑ جائے تو یہ مسئلہ حماریہ ہے اسے مشترکۃ بھی کہا جاتا ہے، ایک قوم نے کہا : ماں کی طرف سے بھائیوں کے لیے 3؍1 ہے اور خاوند کے لیے 2؍1 ہے اور ماں کے لی 6؍1 ہے، سگے بھائی اور بہن اور باپ کی طرف سے بھائی اور بہن محروم ہوجائیں گے، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ حضرت ابو موسیٰ ؓ ، شعبی، شریک اور یحی بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے یہی مروی ہے اور یہی قول امام احمد بن حنبل (رح) کا ہے اور ابن المنذر ؓ نے اس کو اختیار کیا ہے، کیونکہ خاوند، ماں اور ماں کی طرف سے بھائی اصحاب فرائض ہیں اور عصبہ کے لیے کچھ نہیں بچا ہے، ایک قوم نے کہا : ماں ایک ہے اور ان کا باپ گدھا تھا اور انہوں نے ان کے درمیان ثلث میں اشتراک کی ہے اسی وجہ سے اسے مشترکہ اور حماریہ مسئلہ کہتے ہیں، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت ابن مسعود، مسروق اور شریح رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے یہی مروی ہے، امام مالک، امام شافعی، اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے، یہ مسئلہ درست نہیں رہتا اگر میت مرد ہو، یہ علم الفرائض کے مسائل تھے جن کو یہ ِآیت متضمن تھی واللہ الموفق۔
زمانہ جاہلیت میں وراثت مرد ہونے اور قوت والا ہونے کی حیثیت سے جاری ہوتی تھی اور لوگ صرف مردوں کو وارث بناتے تھے عورتوں کو وارث نہیں بناتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” للرجال نصیب، وللنسآء نصیب “۔ کے ارشاد کے ساتھ اس باطل نظریہ کو ختم کردیا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ ورثاء زمانہ جاہلیت میں اسی طرح تھے اور اسلام کے آغاز میں حلیف ہونے کے اعتبار سے وارث ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم “۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی، حلیف ہونے کے بعد ہجرت کی وجہ سے ورثہ ملتا تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا مالک من ولا یتھم من شیء حتی یھاجروا “۔ (الانفال : 72) اس کی تفصیل آئندہ آئے گی وہاں ذوی الارحام اور ان کی میراث کے متعلق قول آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور سورة النور میں ملاعنۃ کے لڑکے ولد الزنا (حرامی) اور مکاتب کی میراث کا ذکر توفیق الہی سے ہوگا، جمہور علماء فرماتے ہیں : وہ قیدی جس کی زندگی معلوم ہوا اس کی میراث ثابت ہے، کیونکہ وہ بھی ان مسلمانوں میں داخل ہے جن پر احکام اسلام جاری ہوتے ہیں اور سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ جو دشمن کے ہاتھ میں قیدی ہے وہ وارث نہیں ہے۔ اور مرتد کی میراث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔
مسئلہ نمبر : (31) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” غیر مضآر “۔ اس کو نصب حال کی بنا پر ہے اور اس کا عامل یوصی ہے ای یوصی بھا غیر مضار، یعنی ورثاء پر ضرر (نقصان) کو داخل کرنے والا نہ ہو یعنی اسے اپنے اوپر ایسے فرض کی وصیت کرنا مناسب نہیں جو اس پر نہیں ہے تاکہ ورثاء کو ضرر نہ ہو اور نہ قرض کا اقرار کرے۔ الاضرار کا تعلق وصیت اور دین سے (قرض) دے اگر وہ 3؍1 سے زائد کی وصیت کرے گا تو اسے لوٹایا جائے گا مگر یہ کہ ورثاء اسے جائز قرار دیں، کیونکہ زیادہ وصیت سے روکنا ورثاء کے حقوق کی وجہ سے ہے نہ کہ حق اللہ کی وجہ سے ہے، اگر وہ وارث کے لیے وصیت کرے گا تو وہ میراث کی طرف لوٹے گا، علماء کا اجماع ہے کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، رہا اضرار کو قرض کی طرف لوٹانا تو وہ یہ ہے کہ وہ ایسی حالت میں قرض کا اقرار کرے جس میں اس کے لیے اقرار جائز نہیں ہے جیسا کہ اگر وہ مرض میں وراث کے لیے یا مہربان دوست کے لیے قرض کا اقرار کرے تو یہ ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔
حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے غیر مضار وصیۃ من اللہ پڑھا ہے یعنی مضار کو وصیت کی طرف مضاف کرکے پڑھا ہے، نحاس نے کہا : بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ یہ غلطی ہے، کیونکہ اسم فاعل مصدر کی طرف مضاف نہیں ہوتا اور حذف پر قرات بہتر ہے اور معنی یہ ہے غیر مضار ذی وصیۃ یعنی وہ وصیت کی وجہ سے اپنے ورثاء کو ان کی میراث میں نقصان دینے والا نہ ہو، علماء کا اجماع ہے کہ حالت مرض میں غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار جائز ہے جبکہ صحت کی حالت میں اس پر قرض نہ ہو۔
مسئلہ نمبر : (32) اگر صحت کی حالت میں قرض اس پر دلیل سے ثابت ہو اور وہ اجنبی کے لیے قرض کا اقرار کرے تو ایک جماعت کا خیال ہے کہ صحت کے دین سے ادائیگی کا آغاز کیا جائے گا، یہ نخعی اور کو فیوں کا قول ہے، فرماتے ہیں : حالت صحت میں قرض دینے والا جب اپنا قرض وصول کرلے گا تو مرض میں جن لوگوں کے لیے اس نے قرض کا اقرار کیا ہے پھر وہ حصہ لیں گے ایک طائفہ نے کہا کہ حالت صحت میں قرض دینے والے اور حالت مرض میں جن کے لیے اس میت نے اقرار کیا ہے دونوں برابر ہوں گے جب کہ وہ اقرار غیر وارث کے لیے ہو، یہ امام شافعی، ابو ثور اور ابو عبید رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے، ابو عبید نے ذکر کیا ہے کہ یہ اہل مدینہ کا قول اور انہوں نے حسن سے یہ روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (33) سورة بقرہ میں وصیت میں اضرار کے بارے میں وعید اور اس کی وجوہ گزر چکی ہیں ابو داؤد نے شہر بن حوشب (اس پر طعن کیا گیا ہے) کی حدیث سے روایت کیا ہے شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا عمل ساٹھ سال کرتا رہتا ہے پھر ان پر موت آتی ہے تو وہ وصیت میں نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے آگ ثابت ہوجاتی ہے (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الوصایا، باب ماجاء فی کراھیۃ الاضرار فی الوصیۃ حدیث نمبر 2483، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) فرمایا : حضرت ابوہریرہ ؓ نے مجھ پر یہ آیت ” من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین، غیرمضآر “۔ سے لے کر ” ذالک الفوز العظیم “۔ تک پڑھی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وصیت میں اضرار، کبیرہ گناہوں میں سے ہے یہ انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے ورایت کیا ہے مگر امام مالک (رح) اور ابن القاسم (رح) کا مشہور مذہب یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کا فعل 3؍1 حصہ میں نقصان دینے والا شمار نہ ہوگا، کیونکہ تہائی میں تصرف کرنا اس کا حق ہے جیسے چاہے تصرف کرے، اور المذہب میں یہ قول ہے کہ نقصان کی صورت میں اسے لوٹایا جائے گا، وباللہ التوفیق۔
مسئلہ نمبر : (34) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وصیۃ “ اس کو حال کی حیثیت سے نصب دی گئی ہے، یہ مصدر ہے اس کا عامل (آیت) یوصیکم “ ہے۔ اس میں مضار کا عمل کرنا بھی صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ وصیت کے ساتھ ضرر واقع ہو یا اس کے سبب واقع ہو اس پر ضرر کا واقع مجازا ہے، یہ ابن عطیہ کا قول ہے۔ حسن بن ابی الحسن نے (آیت) ” غیر مضار وصیۃ “ کو اضافت کے ساتھ پڑھا ہے جیسے تو کہتا ہے : شجاع حرب وبضۃ المسجرد، یہ طرفہ بن العبد کے شعر میں استعمال ہوا ہے اور معنی کی صحت کی وجہ سے لفظ میں مجاز ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے پھر فرمایا (آیت) ” واللہ علیم حلیم “۔ یعنی اہل میراث کو جاننے والا ہے اور تم میں جاہل لوگوں کو جاننے والا ہے اور بعض متقدمین نے واللہ علیم حکیم “۔ پڑھا ہے یعنی میراث اور وصیت کی تقسیم کو پختہ کرنے والا ہے۔
مسئلہ نمبر : (35) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” تلک حدود اللہ “۔ تلک، ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جن کو اس نے تمہارے لیے بیان کیا ہے تاکہ تم ان کو پہچان لو اور ان کے مطابق عمل کرو، (آیت) ” ومن یطع اللہ ورسوالہ “ جو میراث کی تقسیم میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور اس کا اقرار کرے گا اور ان کے مطابق عمل کرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ حکم فرمایا : (آیت) ” یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر “ تجری، جنت کی نعت کی بنا پر منصوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یعص اللہ ورسولہ “۔ یعنی جو میراث کی تقسیم نہیں کرتا اور ان پر عمل نہیں کرتا (آیت) ” ویتعد حدودہ “۔ اور اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت کرتا ہے۔ (آیت) ” یدخلہ نارا خالدا فیھا “۔ اگر نافرمانی سے مراد کفر ہے تو آگ میں ہمیشہ رہنا اپنے مفہوم پر صحیح ہوگا، اگر اس سے مراد گناہ کبیرہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے اوامر سے تجاوز ہو تو ہمیشہ رہنا ایک مدت تک کے لیے ہوگا، جیسے تو کہتا ہے : خلد اللہ ملکہ (اللہ تعالیٰ اس کا مالک ہمیشہ رکھے) زہیر نے کہا :
ولا خالدا الا الجبال الرواسیا “۔
(یعنی گاڑھے ہوئے پہاڑوں کے علاوہ کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں) یہ مفہوم بہت سے مقام پر گزر چکا ہے۔ نافع اور ابن عامر نے ندخلہ اور دونوں جگہ نون کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت فرمائی ہے اور باقی علماء نے دونوں جگہ یا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک کا ذکر پہلے ہوچکا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اسے داخل کرے گا۔
Ayahs 4:15–16آیت نمبر 15۔
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں عورتوں سے حسن سلوک کرنے اور انہیں مہر دینے کا ذکر فرمایا تو پھر مردوں کے ساتھ ان کی میراث کا بھی ذکر فرمایا اور وہ اگر غلط کاری کریں تو ان پر سختی کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ عورت کو یہ وہم نہ ہو کہ اس کے لیے پاکدامنی کا ترک بھی جائز ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والتی “۔ یہ التی کی جمع ہے یہ مؤنث کے لیے مبہم اسم ہے اور یہ معرفہ ہے نکرہ بنانے کے لیے اس سے الف، لام کو دور کرنا جائز نہیں ہے اور یہ صلہ کے ساتھ مکمل ہوتا ہے، اس میں تین لغات ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اس کی جمع اللات یعنی یا کے حذف اور کسرہ کے باقی رکھنے کے ساتھ بھی بنائی جاتی ہے، اور اللائی ہمزہ اور یا کے اثبات کے ساتھ بھی جمع آتی ہے اور الاء ہمزہ کے کسرہ اور یا کے حذف کے ساتھ بھی آتی ہے الا ہمزہ کے حذف کے ساتھ بھی جمع آتی ہے اگر تو جمع کی جمع بنائے تو اللاتی کی جمع اللواتی اور الاء کی جمع اللوائی بنائے گا، عربوں سے سے اللوات یعنی تا کے حذف اور کسرہ کے اثبات کے ساتھ بھی مروی ہے، یہ ابن الشجری کا قول ہے، جوہری نے کہا : ابوعیبدہ نے یہ شعر کہا ہے :
من اللواتی والتی واللات زعمن ان قد کبرت لدات :
اللواء تا کے اسقاط کے ساتھ ہے۔ التی کی تصغیر اللتیا فتحہ اور تشدید کے ساتھ ہے، راجز نے کہا :
بعد اللتیا واللتیا والتی :
بعض شعراء نے التی پر حرف ندا داخل کیا ہے جب کہ حروف ندا اس اسم پر داخل نہیں ہوتے جس پر الف لام ہو سوائے ہمارے قول : یا اللہ کے۔ گویا التی کو اس اسم جلالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اس حیثیت سے کہ الف، لام اس سے جدا نہیں ہوتے اسی وجہ سے شاعر نے کہا :
من اجلک یالتی تیمت قلبی وانت بخیلۃ بالود عنی :
کہا جاتا ہے : یہ اللتیا اور اللتی یہ دونوں داھیۃ (مصیبت) کے اسماء میں سے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یاتین الفاحشۃ “ یہاں فاحشۃ سے مراد زنا ہے اور (آیت) ” الفاحشۃ “ برے فعل کو کہتے ہیں، یہ مصدر ہے جیسے عاقبۃ اور عافیۃ مصدر ہیں، حضرت ابن مسعود ؓ نے باجارہ کے ساتھ بالفاحشۃ پڑھا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من نسآئکم “۔ اسلام کے معنی میں اضافت ہے اور مومن عورتوں کی حالت کا بیان ہے جیسے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واستشھدوا شھیدین من رجالکم “۔ (بقرہ : 282) کیونکہ کافرہ کبھی نسب کی وجہ سے مسلمانوں کی عورتوں سے ہوتی ہے اس کو یہ حکم لاحق نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم “۔ یعنی مسلمانوں میں سے ان پر چار گواہ بناؤ۔ اللہ تعالیٰ نے زنا پر خصوصی طور پر چار گواہ مقرر فرمائے، مدعی پر تغلیظ اور بندوں کی پردہ پوشی کے لیے اور زنا پر چار گواہوں کی تعدیل کا حکم تورات، انجیل اور قرآن میں ثابت ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعۃ شھدآء فاجلدوھم ثمنین جلدۃ “۔ (النور : 4) (آیت) ” فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم “۔ ابو داؤد نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہود اپنے ایک مرد اور عورت کو لے آئے، جنہوں نے زنا کیا تھا تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس اپنے دو عالم آدمی لے آؤ، تو وہ صوریا کے دو بیٹے لے آئے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا : تم تو رات میں ان دونوں کا معاملہ کیسے پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم تورات میں دیکھتے ہیں کہ جب چار آدمی گواہی دیں کہ انہوں نے اس کا آلہ تناسل، عورت کی شرمگاہ میں اس طرح دیکھا جس طرح سرمہ دانی میں سرمچو ہوتا ہے تو ان دونوں کو رجم کیا جائے گا فرمایا : تم لوگوں کو کون سی چیز ان کے رجم کرنے سے مانع تھی ؟ انہوں نے کہا : ہماری سلطانی چلی گئی، پس ہم قتل کو ناپسند کرتے ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے گواہوں کو بلایا وہ آئے اور گواہی دی کہ انہوں نے اس کا ذکر اس کی فرج میں سرمہ دانی میں سرمچو کی طرح دیکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا (1) (سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی رجم الیھودین، حدیث نمبر 3862، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ایک قوم نے کہا : زنا میں چار گواہ ہیں تاکہ زنا کرنے والوں میں سے ہر ایک پر دو دود گواہ گواہی دیں جس طرح دوسرے حقوق میں گواہ گواہی دیتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جو ان میں سے ہر ایک سے لیا جائے گا، یہ قول ضعیف ہے، کیونکہ قسم، اموال میں داخل ہوتی ہے او اللوث، قسامت میں داخل ہے اور ان میں سے یہاں کسی ایک کا دخل نہیں۔
مسئلہ نمبر : (6) گواہوں کے لیے مذکر ہونا ضروری ہے، کیونکہ ارشاد ہے (آیت) ” منکم اس میں امت کا کوئی اختلاف نہیں اور گواہ عادل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیوع اور رجعت میں عدالت شرط قرار دی ہے۔ یہ بڑا معاملہ ہے اور یہ اس کے لیے اولی ہے اور یہ دلیل کے ساتھ مقید پر مطلق کو حمل کرنے سے ہے جیسا کہ اصول فقہ میں مذکور ہے۔ گواہ ذمی نہ ہوں گے اگرچہ حکم، ذمیۃ پر بھی لگایا ہو، سورة مائدہ میں اس کا ذکر آئے گا۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) نے (آیت) ” اربعۃ منکم “۔ کے قول سے اس مسئلہ میں دلیل پکڑی ہے کہ قذف میں جب ایک گواہ خاوند ہو تو لعان نہ ہوگا اس کا بیان انشاء اللہ سورة نور میں آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت “۔ یہ زنا کرنے والوں کی پہلی سزا ہے اور یہ ابتداء اسلام میں تھا، یہ حضرت عبادہ بن صامت، حسن اور مجاہد کا قول ہے حتی کہ بعد والی اذیت کے ساتھ یہ سزا منسوخ ہوگئی پھر وہ اذیت سورة نور کی آیت کے ساتھ اور ثیبہ میں رجم کے ساتھ منسوخ ہوگئی، ایک فرقہ نے کہا : اذیت پہلی سزا تھی پھر امساک کے ساتھ وہ منسوخ ہوگئی لیکن تلاوت مؤخر ومقدم کی گئی، یہ ابن فورک کا قول ہے اور یہ گھروں میں امساک اور حبس ابتداء اسلام میں تھا جب کہ ایسا جرم کرنے والے کم تھے، جب زیادہ ہوگئے اور ان کی قوت کا خدشہ ہوا تو ان کے لیے قید بنائی گئی، یہ ابن عربی کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر : (8) علماء کا اختلاف ہے کہ کیا یہ قید حد تھی یا حد کی وعید دی تھی ؟ دو قول ہیں (1) حد کی دھمکی دی گئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ حد ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن کا قول ہے۔ ابن زید نے یہ زائد کہا ہے کہ انہوں نکاح کرنے سے منع کیا جائے گا حتی کہ وہ مر جائیں یہ ان کے لیے بطور سزا ہے جب انہوں نے نکاح کو بغیر وجہ کے طلب کیا، یہ دلیل ہے کہ وہ حد تھی بلکہ اس سے بھی سخت تھی مگر یہ حکم ایک حد تک محدود تھا اور وہ دوسری آیت میں اذیت ہے، دونوں تاویلوں کے اختلاف پر کہ کون سی آیت پہلے ہے۔ دونوں سزائیں ایک حد تک محدود تھیں اور وہ غایت حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث میں موجود ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے حاصل کرو۔ مجھ سے حاصل کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستہ بنایا ہے کنوارے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ کی سزا سو کوڑے اور رجم ہے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے (آیت) ” ثم اتموا الصیام الی الیل “۔ (بقرہ : 187) جب رات آئے گی تو اس کی غایت کی انتہا کی وجہ سے روزے کا حکم اٹھ جائے گا نہ کہ اس کے منسوخ ہونے کی وجہ سے حکم اٹھ جائے گا، یہ متاخرین محققین اصولین کا قول ہے۔ نسخ دو متعارض قولوں میں ہوتا ہے جن کو کسی اعتبار سے جمع کرنا ممکن نہ ہو اور قید تعزیر کوڑے اور رجم کو جمع کرنا ممکن ہے، بعض علماء نے فرمایا : اذیت اور تعزیر، کوڑوں کے ساتھ باقی ہے، کیونکہ یہ متعارض نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں ایک شخص پر لاگوں کیے جائیں گے، رہا قید کرنا تو یہ اجماع کے ساتھ منسوخ ہے اور متقدمین کا ایسی صورت میں نسخ کا اطلاق مجازا ہے۔
آیت : نمبر : 12۔
اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذن “ یہ الذی کا تثنیہ ہے اور قیاس یہ تھا کہ الذیان کہا جاتا جیسے رحیان، مصطفیان، ثجیان “۔ سیبویہ نے کہا : یا کو حذف کیا گیا ہے تاکہ اسماء متمکنہ اور اسماء مبہمات میں فرق ہوجائے، ابو علی نے کہا : یا کو تخفیفا حذف کیا گیا ہے۔ کیونکہ الذان میں التباس کا امن ہے کیونکہ نون حذف نہیں ہوتی، اسماء ممتمکنہ میں تثنیہ کا نون اضافت کے ساتھ حذف ہوتا ہے جیسے رحیاک، مصطفیا القوم۔ اگر یا حذف ہو تو تثنیہ کے ساتھ مفرد مشتبہ ہوجائے گا، ابن کثیر نے اللذان کو نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یہ قریش کی لغت ہے اور اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ تشدید، زا کے الف کا بدل ہے اس کی وضاحت سورة القصص میں ” فذنک برھانن “ کے تحت آئے گی، اس میں دوسری لغت ہے اللذا یعنی نون کے حذف کے ساتھ ہے، یہ کو فیوں کا قول ہے، بصریوں نے کہا نون کو حذف کیا گیا ہے، کیونکہ صلہ کی وجہ سے اسم طویل ہوجاتا ہے، اسی طرح ھذان الذان ابتدا کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے، سیبویہ نے کہا : اس کا معنی ہے فیما یتلی علیکم الذان یاتیانھا۔ ھا ضمیر سے مراد فاحشۃ ہے، فاذوھما میں فا داخل کیا گیا ہے، کیونکہ کلام میں امر کا معنی ہے، کیونکہ جب الذی فعل کے ساتھ ملایا گیا تو اس میں شرط کا معنی پایا گیا، کیونکہ اس پر کوئی معین شیء واقعی نہیں ہوئی جب شرط اور ابہام میں پایا گیا تو شرط کے قائم مقام ہوا پس فاداخل ہوئی۔ ماقبل مضمر اس پر عمل نہیں کرتا جس طرح اس کا ماقبل شرط میں عمل نہیں کرتا جب ان سے پہلے فعل کا اضمار اچھا نہیں تاکہ دونوں کو نصب دے تو ابتدا کی وجہ سے رفع دیا گیا، یہ سیبویہ کا اختیار ہے، فعل کے اضمار کی تقدیر پر نصب جائز ہے، یہ مختار ہے جب کلام میں امر، نہی کا معنی ہو جیسے تیرا قول ہے الذی عندک فاکرمھما “۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذوھما “۔ قتادہ اور سدی نے کہا : اس کا مطلب توبیخ اور عار دلانا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ بغیر عار دلائے جفا اور سب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ زبان سے تنبیہ اور جوتوں سے مارنا ہے۔ نحاس نے کہا : ایک قوم نے کہا : یہ منسوخ ہے۔ میں کہتا ہوں : ابن ابی نجیح نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ روایت کیا ہے فرمایا : (آیت) ” والتی یاتین الفاحشۃ، والذن یاتینھا “۔ یہ ابتدا میں حکم تھے پھر سورة النور کی آیت نے ان دونوں کی منسوخ کردیا۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اولی ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے یہ ان کو توبیخ کے ساتھ ادب سکھانا واجب ہے، انہیں کہا جائے گا : تو نے فجور کیا، تم نے فسق کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ نے امر کی مخالفت کی۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” التی اور الذن “۔ کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے مجاہد وغیرہ نے کہا : سورة النساء کی پہلی آیت عام ہے شادی شدہ عورتیں ہوں یا غیرشادی شدہ ہوں اور دوسری آیت مردوں کے متعلق خاص ہے۔ تثنیہ کے لفظ نے مردوں کی دونوں قسموں کو بیان کیا جو شادی شدہ ہیں اور جو غیر شادی شدہ ہیں عورتوں کی سزا قید کرنا ہے اور مردوں کی سزا اذیت ہے۔ لفظ اس قول کا متقضی ہے اور کلام کی نص زانیوں کی تمام اقسام کو شامل ہے اور پہلی آیت میں (آیت) ” من نسآء کم “ اور دوسری آیت میں ” منکم “ کا ارشاد لفظ کی جہت سے اسی قول کی تائید کرتا ہے۔ نحاس نے اس قول کو پسند کیا ہے اور انہوں نے یہ قول حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، سدی اور قتادہ وغیرہ نے کہا : المحصنات کا لفظ جو پہلی آیت میں ہے اس میں مردوں میں سے جو شادی شدہ ہیں وہ بھی ان کے ساتھ داخل ہیں، دوسری آیت میں مرد اور عورت جو کنوارے ہیں وہ داخل ہیں، ابن عطیہ (رح) نے کہا : اس قول کا معنی مکمل ہے مگر آیت کا لفظ اس سے پوری مناسبت نہیں رکھتا۔ طبری نے اس کو ترجیح دی ہے اور نحاس نے اس کا انکار کیا ہے اور فرمایا : مذکر پرمؤنث کو غلبہ دینا بعید ہے، کیونکہ کوئی چیز مجاز کی طرف نہیں نکالی جاتی جب کہ حقیقت میں اس کا معنی صحیح ہو، بعض علماء نے فرمایا : زانیہ کو روکنا ہے جبکہ زانی کو روکنا نہیں ہے، روکنے میں عورت خصوصی طور پر ذکر کی گئی ہے پھر اذیت میں دونوں جمع کیے گئے ہیں، قتادہ نے کہا : عورت کو قید کیا جائے گا اور دونوں کو اکٹھی اذیت دی جائے گی، یہ اس لیے ہے، کیونکہ مرد محنت و مزدوری کا محتاج ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) حضرت عبادہ ؓ کی اس حدیث کے متقضی کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے جس میں زانیوں کے احکام کا بیان ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، حضرت علی ؓ نے اس کے مقتضی کے مطابق عمل کیا ان سے اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے اور انہوں نے شراحہ ہمدانیہ کو سو کوڑے لگائے تھے اور اس کے بعد اسے رجم کیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں نے کتاب اللہ کے حکم سے اسے کوڑے لگائے ہیں اور سنت رسول کی وجہ سے اسے رجم کیا ہے۔ یہ قول حسن بصری، حسن بن صالح بن حی اور اسحاق کا ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے کہا شادی شدہ زانیہ پر بغیر کوڑوں کے رجم ہوگا یہ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے اور یہ قول زہری، نخعی، مالک، ثوری، اوزاعی، شافعی، اصحاب رائے۔ امام احمد، ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم کا ہے۔ ان علماء نے نبی مکرم ﷺ کے فعل سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ ﷺ نے ماعز اور غامدیہ کو رجم کیا تھا اور دونوں کو کوڑے نہیں لگائے تھے اور نبی مکرم ﷺ نے حضرت انیس سے کہا ہے تھا : تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ بھی اپنے جرم کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو ۔ دونوں نے کوڑے مارنے کا ذکر نہیں فرمایا : اگر یہ مشروع ہوتے تو آپ ﷺ خاموش نہ رہتے، ان کا کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ اس لیے خاموش رہے۔ کیونکہ وہ کتاب اللہ سے ثابت تھے شہرت اور قرآن میں تنصیص کی وجہ سے خاموش رہنا ممتنع نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ “۔ (نور : 2) یہ تمام زانیوں کو عام ہے واللہ اعلم۔ حضرت علی ؓ کا یہ فعل خلفاء راشدین سے ماخوذ تھا اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا۔ اسے کہا گیا : تو نے منسوخ پر عمل کیا اور ناسخ کو چھوڑ دیا، یہ تو واضح ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) کنوارے آدمی کو کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطن کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ جمہور علماء کا قول ہے کہ کوڑوں کے ساتھ اسے جلا وطن بھی کیا جائے گا، یہ خلفاء راشدین حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا قول ہے اور حضرت ابن عمر کا بھی یہی قول ہے۔ عطاء طاؤوس، سفیان، امام مالک، ابن ابی لیلی، امام شافعی، امام احمد، اسحاق اور ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔ اور حماد بن ابی سلیمان، امام ابوحنیفہ اور امام محمد بن حسن نے جلاوطنی کے ترک کا قول کیا ہے۔ جمہور کی حجت حضرت عبادہ کی حدیث ہے اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رحمۃ اللہ علیہم کی حدیث ہے اور العسیف (نوکر) والی حدیث ہے، جس میں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ رہی بکریاں اور لونڈی تو وہ تجھے واپس کی جائے گی۔ آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال جلاوطن کیا۔ اس حدیث کو ائمہ حدیث نے نقل کیا ہے اور جو علماء جلاوطن کرنے کا نظریہ نہیں رکھتے وہ لونڈی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے حجت پکڑتے ہیں، اس میں کوڑوں کا ذکر ہے جلاوطنی کا ذکر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : حضرت عمر ؓ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو شراب کی حد میں خیبر کی طرف جلاوطن کیا تو وہ ہرقل سے جاملا اور نصرانی ہوگیا، حضرت عمر ؓ نے کہا : اس کے بعد کسی مسلمان کو جلاوطن نہیں کروں گا۔ یہ علماء فرماتے ہیں : اگر جلاوطن کرنا اللہ تعالیٰ کی حد ہوتی تو اس کے بعد حضرت عمر ؓ اسے ترک نہ کرتے، پھر کتاب میں جو نص ہے وہ کوڑے ہیں اور نص پر زیادتی نسخ ہے، پس اس سے ایک قطعی حکم کا خبر واحد کے ساتھ نسخ لازم آتا ہے۔ جمہور علماء اس کا یہ جواب دیتے ہیں حضرت ابوہریرہ کی حدیث لونڈیوں کے متعلق ہے نہ کہ آزاد لوگوں کے متعلق ہے، حضرت عبداللہ بن عمر سے صحت کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے لونڈی کو زنا کی وجہ سے مارا اور اسے جلاوطن بھی کیا۔ اور رہی حضرت عمر ؓ کی حدیث اور ان کا قول کہ میں اس کے بعد کسی مسلمان کو جلاوطن نہیں کروں گا، یہ شراب کے بارے میں ہے۔ واللہ اعلم۔ کیونکہ نافع نے حضرت ابن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے مارا اور جلاوطن کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے مارا اور جلاوطن کیا، حضرت عمر ؓ نے مارا اور جلاوطن کیا (1) (جامع ترمذی، کتاب الحدود عن رسول اللہ باب ما جاء فی النفی، حدیث نمبر 1358، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ ترمذی نے اپنی جامع میں نقل کی ہے اور نسائی نے اپنی سنن میں ابو کریب محمد بن علاہمدانی عن عبداللہ بن ادریس عن عبید اللہ بن عمر عن نافع کے سلسلہ سے روایت کی ہے، دارقطنی نے کہا : عبداللہ بن ادریس اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں ابو کریب کے علاوہ کسی ثقہ راوی نے اسے مسند روایت نہیں کیا۔ اور نبی مکرم ﷺ سے صحت کے ساتھ جلاوطنی مروی ہے پس اس کے ہوتے ہوئے کلام کی گنجائش نہیں اور جس نے سنت کی مخالفت کی، سنت ہی اس سے مخاصمت کرے گی۔ وباللہ التوفیق۔
رہا ان کا یہ قول کہ نص پر زیادتی نسخ ہے، یہ مسلم نہیں ہے، بلکہ اصل کے ساتھ دوسرے حکم کی زیادتی ہے۔ پھر وہ خبر واحد صحیح کے ساتھ پانی پر نبیذ کے وضو کرنے کی زیادتی کرتا ہے اور قربی میں فقر کی شرط لگاتا ہے، اس کے علاوہ بہت سی چیزیں ہیں جو قرآن میں منصوص نہیں ہیں خبر واحد کے ساتھ ان کو تسلیم کرتے ہیں، یہ مفہوم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) جلاوطنی کے قائل علماء کا مذکر آزاد کو جلاوطن کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ غلام اور لونڈی کو جلاوطن میں کرنے اختلاف ہے، جو علماء غلام اور لونڈی کو جلاوطن کرنے کی رائے رکھتے ہیں ان میں حضرت ابن عمر بھی ہے حضرت ابن عمر نے اپنی لونڈی کو زنا کی وجہ سے کوڑے لگائے اور فدک کی طرف جلاوطن کیا، امام شافعی (رح)، ابو ثور، ثوری، طبری اور داؤد رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ امام شافعی (رح) کا قول غلام کی جلاوطنی کے بارے میں مختلف یہ ہے۔ کبھی تو انہوں نے کہا : میں غلام کو جلاوطن کرنے میں اللہ سے استخارہ کروں گا، اور کبھی فرمایا : نصف سال جلاوطن کروں گا، کبھی فرمایا : ایک سال دوسرے شہر کی طرف بھیج دوں گا، یہی طبری کا قول ہے۔ لونڈی کی جلاوطنی کے بارے میں بھی دو قول ہیں، امام مالک (رح) نے فرمایا : مرد کو جلاوطن کیا جائے گا عورت اور غلام کو جلاوطن نہیں کیا جائے گا اور جس کو جس شہر کی طرف جلاوطن کیا جائے اس میں اسے قید کردیا جائے گا، مصر سے حجاز، شغب، اسوان اور اس جیسے شہروں کی طرف جلاوطن کیا جائے گا مدینہ سے خیبر اور فدک کی طرف جلاوطن کیا جائے گا، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اسی طرح کیا تھا حضرت علی ؓ نے کوفہ سے بصرہ کی طرف جلاوطن کیا تھا، امام شافعی (رح) نے فرمایا : اس کی کم از کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے، ابن عربی (رح) نے کہا : جلاوطنی کی اصل یہ ہے کہ بنی اسماعیل نے اجماع کیا تھا کہ جو حرم میں کوئی گناہ کرے گا اسے حرم سے جلاوطن کردیا جائے گا پس یہ سنت ہوگی وہ اس کی پیروی کرتے تھے، اسی وجہ سے سنت بن گئی کہ جب کوئی جرم کرے گا اسے اس کے شہر سے جلاوطن کردیا جائے گا زمانہ جاہلیت میں یہ جاری رہا حتی کہ اسلام آگیا، پس اسلام نے زنا میں اس کو خصوصی طور پر برقرار رکھا، اور جو علماء غلام کو جلا وطن کرنا اس کے مالک کو سزا دینا ہے، کیونکہ جلاوطنی کی مدت میں اس کے منافع سے اسے روکنا ہے، یہ شرع کا تصرف مناسب نہیں پس غیر مجرم کو سزا انہیں دی جاتی، اسی وجہ سے جمعہ، حج اور جہاد اس سے سر درد کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا، کیونکہ وہ حق اللہ ہے۔ اسی طرح جلاوطنی ہے۔
عورت جب جلاوطن کی جائے گی تو اکثر اس کا فاحشہ سبب ہوتا ہے اور یہ جلاوطنی اس کی شرمگاہ کے کھولنے اور اس کی حالت کو ضائع کرنے کا سبب ہے کیونکہ اصل میں اس کو گھر سے نکلنے سے منع کرنا ہے اور اس کی نماز بھی گھر میں افضل ہے نبی مکرم ﷺ نے فرمایا عورتوں کو خروج کے لباس سے علیحدہ کرو وہ گھر کو لازم پکڑیں، پس اس سے تغریب کی حدیث کے عموم کی تخصیص حاصل ہوگی، اس مصلحت کی وجہ سے جس کی شہادت اعتبار کے ساتھ دی گئی ہے۔ اصولیین اور اہل نظر کے نزدیک اس میں اختلاف ہے، ایک طائفہ نے شافی قول کیا ہے کہ کوڑوں اور رجم کو شیخ پر جمع کیا جائے گا، جو ان کو کوڑے لگائے جائیں گے، انہوں نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی حدیث میں لفظ الشیخ سے دلیل پکڑی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے : الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجھا البتہ۔ اس حدیث کو نسائی نے نقل کیا ہے، اس طائفہ کا یہ قول فاسد ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں الثیب کا ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان تابا “ یعنی اگر وہ زنا سے توبہ کریں (آیت) ” واصلحا “ یعنی اس کے بعد عمل کی اصطلاح کریں (آیت) ” فاعرضوا عنھما “۔ یعنی ان کی اذیت اور تعییر چھوڑ دو ، یہ حدود کے نزول سے پہلے کا حکم تھا۔
جب حدود نازل ہوئیں تو اس آیت کو منسوخ کردیا۔ اعراض سے مراد ہجرت نہیں ہے، لیکن ہجرت برائی کو چھڑانے والی ہے، اعراض کرانے والی ہے اس میں سابقہ معصیت کے سبب ان کے لیے حقارت ہے اور دوسری آیت میں جہالت کے مطابق احتقار ہے۔ (آیت) ” واللہ تواب “۔ یعنی اپنے بندوں کے گناہوں سے رجوع کرنے والا ہے۔
Ayahs 4:17–18آیت نمبر 17 تا 18۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ہر اس شخص کو جس نے کوئی گناہ کیا، بعض علماء نے فرمایا : یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن سے جہالت کی بنا پر گناہ ہوا اور توبہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے دوسری جگہ میں گناہ کیا اور امت کا اتفاق ہے کہ مومنین پر توبہ کرنا فرض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتوبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون “۔ (نور : 31) رجوع کرو اللہ کی طرف سب کے سب اے ایمان والو !
اور ایک گناہ سے توبہ کرنا صحیح ہے جب کہ کسی دوسرے گناہ پر قائم بھی ہو جو اس پہلے گناہ کی نوع سے نہ ہو، معتزلہ کا قول اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں : وہ توبہ کرنے والا شمار نہ ہوگا جو کسی بھی گناہ پر قائم ہو، دو معصیتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ (پہلا) مذہب اہل سنت وجماعت کا ہے، جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے اگر چاہے تو اس کی توبہ قبول فرما لے چاہے تو قبول نہ فرمائے، عقل کے طریق سے بھی اللہ تعالیٰ پر توبہ کا قبول کرنا واجب نہیں، جیسا کہ مخالف کا قول ہے، کیونکہ واجب کی شرط میں سے ہے کہ وہ موجب علیہ سے اعلیمرتبہ ہو، جب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ مخلوق کا خالق اور مالک ہے اور ان کو مکلف بنانے والا ہے۔ پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بلند ہے لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود خبر دی ہے اور وہ اپنے وعدہ میں سچا ہے، کہ وہ اپنے گناہگار بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ فرمایا وہ (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ وویعفوا عن السیات “۔ (شوری : 25) وہ ہے جو توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی اور درگزر کرتا ہے ان کی غلطیوں سے)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم یعلموا ان اللہ ھویقبل التوبۃ عن عبادہ “۔ (توبہ : 104)
ترجمہ ؛ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہی توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” وانی لغفار لمن تاب “۔ (طہ : 82)
ترجمہ : اور میں بلاشبہ بہت بخشنے والا ہوں اسے جو توبہ کرتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے کئی چیزوں کے متعلق خبر دی ہے کہ اس نے وہ چیزیں اپنے اوپر واجب کی ہیں، یہ ان چیزوں کے وجوب کا مقتضی ہے اور عقیدہ یہ ہے کہ عقلا اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، رہی نقلی دلیل تو اس کا ظاہر توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنا ہے۔ ابو المعالی وغیرہ نے کہا : یہ ظواہر ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں، توبہ کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ پر قطعی واجب نہیں۔ ابن عطیہ (رح) نے کہا : ابو المعانی وغیرہ کی اس معنی میں مخالفت کی گئی ہے، جب ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک شخص نے خالص توبہ کی جس میں توبہ کی مکمل شرائط موجود تھیں تو ابو المعالی نے کہا : اس کی توبہ کی قبولیت کا ظن غالب ہوتا ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے۔ ابن عطیہ (رح) نے کہا : میرا والد اسی قول کی طرف میلان رکھتا تھا اور اس کو راجح قرار دیتا تھا اور میں بھی یہی کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اس کی رحمت سے یہ بعید ہے کہ اس توبہ کرنے والے کے بارے میں یہ معنی ختم کردے جو اس کے اس ارشاد میں ہے (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ وویعفوا عن السیات “۔ (شوری : 25) اور ارشاد ہے (آیت) ” وانی لغفار “۔ (طہ : 82)
جب یہ ثابت ہوگیا تو تو جان لے کہ علی اللہ “ کے کلمات میں حذف ہے یہ اپنے ظاہر پر نہیں ہے، اس کا مطلب ہے علی فضل اللہ ورحمتہ بعبادہ “۔ یہ اس طرح ہے جیسے حضرت معاذ کو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ہے : اتدری ما حق العباد علی اللہ ؟ کیا تجھے معلوم ہے اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے ؟ حضرت معاذ ؓ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ان یدخلھم الجنۃ کہ انہیں جنت میں داخل کرے، ان تمام آیات اور احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فضل اور اس کی رحمت پر سچا ودعدہ ہے اور اس کا قول سچا ہے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” کتب علی نفسہ الرحمۃ “۔ (الانعام : 12) (واجب کرلیا ہے اس نے اپنے آپ رحمت فرمانا)
یعنی اس نے رحمت کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہاں علی بمعنی عند ہے اور تقدیر عبارت عنداللہ ہے یعنی یہ اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدہ میں خلاف نہیں ہے وہ توبہ قبول فرماتا ہے جب وہ ایسی شرائط کے ساتھ ہو جو اسے درست کرنے والی ہیں، توبہ کی شرائط چار ہیں۔ دل سے شرمندہ ہونا فی الحال معصیت کو ترک کرنا، دوبارہ وہ برائی نہ کرنے کا عزم کرنا اور یہ اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے دوسرے کی وجہ سے ہو، جب ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ وہ گی تو توبہ صحیح نہ ہوگی، بعض علماء نے فرمایا : اس کی شرائط میں سے یہ بھی ہے گناہ کا اعتراف کرنا، کثرت سے استفار کرنا، سورة آل عمران میں توبہ کے بہت سے معانی اور اس کے احکام گزر چکے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق تو بہ حد کو ساقط نہی کرتی۔ اسی وجہ سے ہمارے علماء نے فرمایا : چور مرد، چور عورت اور تہمت لگانے والا جب یہ توبہ کریں جب کہ ان کے خلاف گواہی قائم ہوچکی ہو تو ان پر حدود قائم کی جائیں گی،
بعض علماء نے فرمایا : یہاں علی بمعنی من ہے یعنی ” انما التوبۃ من اللہ للذین۔۔۔۔۔ الخ یہ ابوبکر بن عبدوس کا قول ہے واللہ اعلم۔ توبۃ النصوح کے بارے میں کلام اور وہ اشیاء جن کی وجہ سے توبہ کی جاتی ہے ان پر گفتگو انشاء اللہ سورة التحریم میں آئے گی۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” للذین یعملون السوء بجھالۃ “۔ اس آیت میں اور سورة انعام میں (آیت) ” انہ من عمل منکم سوء بجھالۃ “ میں سوء کا لفظ کفر اور گناہوں کو شامل ہے، جس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور وہجاہل تھا حتی کہ وہ اپنے اس گناہ سے علیحدہ ہوجائے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : نبی مکرم ﷺ کے صحابہ کا اجماع ہے کہ ہر معصیت جہالت کی وجہ سے ہوتی ہے خواہ وہ عمدا ہو یا بےسمجھی کی وجہ سے ہو۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ، ضحاک مجاہد اور سدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا قول ہے۔
ضحاک ؓ اور مجاہد ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں جہالت سے مراد عمد (جان بوجھ کر) ہے، عکرمہ نے کہا : دنیا کے تمام امور جہالت ہیں ان کی مراد وہ دنیا کے اعمال ہیں جو اللہ کی اطاعت سے خارج ہیں۔ یہ قول اس ارشاد کے ساتھ جاری ہے (آیت) ” انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو “۔ (محمد : 36) (دنیوی زندگی کھیل اور تماشا ہے) زجاج نے کہا : بجھالۃ کا مطلب ہے وہ فانی لذت کو باقی لذت پر ترجیح دیتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا : بجھالۃ کا مطلب ہے وہ عقوبت کی عقوبت کی حقیقت کو نہیں جانتے، یہ ابن فورک نے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ : نے کہا : ان کا یہ قول ضعیف قرار دیا گیا ہے اور رد کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم یتوبون من قریب “۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے مرض اور موت سے پہلے (توبہ کرتے ہیں) ضحاک ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا : ہر وہ کام جو موت سے پہلے ہے وہ قریب ہے۔ ابو مجلز، ضحاک، عکرمہ اور ابن زید وغیرہ نے کہا : ملائکہ اور نزع کو دیکھنے سے پہلے اور انسان کے مغلوب ہونے سے پہلے وہ توبہ کرتے ہیں، محمود الوراق نے کتنا عمدہ کہا تھا :
قدم لنفسک توبۃ مرجوۃ قبل الممات وقبل حبس الالسن :
بادربھا غلق النفوس فانھا ذخر غنم للمنیب المحسن :
موت سے پہلے اور زبان پر قفل لگنے سے پہلے اپنے لیے توبہ آگے بھیجو جس کی امید کی جاسکتی ہو اور توبہ کرنے میں جلدی کرو فرصت کے ضیاع سے پہلے، کیونکہ محسن، منیب شخص کے لیے ذخیرہ اور غنیمت ہے۔
ہمارے علماء نے فرمایا : انسان سے اس وقت بھی توبہ صحیح ہے، کیونکہ امید باقی ہے اس سے شرمندگی، فعل کے ترک پر عزم صحیح ہے، ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک اس کی روح اس کے حلقوم تک نہیں پہنچ جاتی “ (1) ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے، حدیث کا یہ معنی ہر وی نے بیان کیا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے بغیر اصرار کے قریب زمانہ میں گناہ سے توبہ کرتے ہیں، صحت میں جلدی توبہ کرنے والا افضل ہے اور زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس سے عمل صالح کی امید ہے اور بعد سے مراد موت ہے جیسا کہ شاعر نے کہا :
این مکان البعد الا مکانیا :
صالح مری نے حسن سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے گناہ کی وجہ سے عار دلائی جس سے وہ توبہ کرچکا ہے تو اللہ اسے اس گناہ میں مبتلا کرے گا، حسن نے کہا : ابلیس جب زمین پر اترا تو اس نے کہا : مجھے تیری عزت کی قسم میں ابن آدم سے جدا نہیں ہوں گا جب تک کہ روح اس کے جسم میں باقی ہوگی، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم میں ابن آدم کو توبہ سے محروم نہیں کروں گا جب تک کہ اس کی روح گلے تک نہیں پہنچ جائے گی۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولیست التوبۃ “ ‘۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تائبین کے حکم میں داخل ہونے سے نفی کی ہے جن پر موت کا وقت قریب آجائے اور وہ مایوسی کے عالم میں پہنچ جائیں جیسا کہ فرعون تھا جب وہ پانی میں غرق ہونے لگا تو اس نے ایمان لانے کا اظہار کیا تو اس اظہار ایمان نے اسے کچھ فائدہ نہ دیا، کیونکہ اس وقت میں توبہ نفع نہیں دیتی، کیونکہ وہ تکلیف کے زوال کی حالت ہے، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن زید ؓ اور جمہور مفسرین کا قول ہے رہے کفار تو وہ اپنے کفر پر مرتے ہیں، پس آخرت میں ان کے لیے توبہ نہیں ہے۔ اس کی طرف اس ارشاد میں اشارہ ہے۔ (آیت) ” اولئک اعتدنالھم عذابا الیما “۔ اس عذاب میں ہمیشہ رہنا ہے، اگر اس ارشاد سے اشارہ تمام لوگوں کے طرف ہو تو نافرمانوں کی جہت سے وہ عذاب دائمی نہ ہوگا۔ یہ اس بنا پر ہے کہ وہ گناہ کفر سے کم ہوں یعنی توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو کفر سے کم درجہ کے گناہ کرتے ہیں، پھر موت کے وقت توبہ کرتے ہیں اور انہ ان کے لیے توبہ ہے جو کافر ہو کر مرتے ہیں پھر قیامت کے دن توبہ کریں گے، بعض علماء نے فرمایا : یہاں سیئات سے مراد کفر ہے تو معنی یہ ہوگا جو حالت کفر میں مرتے ہیں، ابو العالیہ نے کہا : پہلی آیت مومنین کے بارے میں نازل ہوئی۔ (آیت ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ الخ اور دوسری آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی (آیت) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “۔ یعنی ان لوگوں کے لیے توبہ کی قبولیت نہیں ہے جو اپنے فعل پر اصرار کرتے ہیں (آیت) ” حتی اذا حضر احدھم الموت “۔ یعنی جب نزع کی حالت میں ہوجاتا ہے۔ اور حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کو دیکھ لیتا ہے۔ (آیت) ” قال انی تبت الئن “۔ اس کے لیے توبہ نہیں ہے پھر کفار کی توبہ کا ذکر کیا فرمایا : (ا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنالھم عذابا الیما “۔ یعنی کفار کے لیے درد ناک دائمی عذاب ہے یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔