Ayah 4:135آیت نمبر : 135۔
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” کونوا قومین “۔ مبالغہ کا صیغہ ذکر فرمایا یعنی تمہاری طرف سے عدل کا قیام بار بار ہو اور وہ تمہاری شہادت میں عدل ہے خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو، اور انسان کا اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب ہے اپنے اوپر حقوق کا اقرار کرنا ہے پھر والدین کا ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ نیکی کرنا واجب ہے اور ان کی قدر بہت عظیم ہے پھر قریبی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا : کیونکہ وہ مودت اور تعصب کی جگہ ہیں، اجنبی شخص تو زیادہ اس بات کا لائق ہے کی اس پر انصاف کو قائم کیا جائے اور اس کے خلاف سچی گواہی دی جائے، اسی سورت میں مخلوق کے حقوق جو اموال میں ہیں ان کی حفاظت پر کلام آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (2) اس آیت کے احکام کی صحت میں اہل علم کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور بچے کی شہادت والدین کے خلاف نافذ ہے اور والدین سے حسن سلوک اس سے مانع نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف گواہی دینا اور انہیں باطل سے بچانا ان سے حسن سلوک کرنے سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : 6) اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ کا یہی معنی ہے، اگر بیٹا والدین کے لیے گواہی دے یا والدین بیٹے کے لیے گواہی دے تو یہ صورت ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اس میں قدیم وجدید علماء میں اختلاف ہے، ابن شہاب زہری نے کہا : سلف صالحین والدین اور بھائی کی شہادت کو جائز قرار دیتے تھے اور بطور دلیل یہ آیت پیش کرتے تھے ؛ (آیت) ” کونوا قومین بالقسط شھدآء للہ “۔ سلف صالحین میں سے کوئی ایک بھی اس سلسلہ میں متہم نہیں کیا گیا۔
پھر لوگوں سے ایسے امور ظاہر ہوئے جنہوں نے والیوں کو ان کے اتہام پر ابھارا پس جس پر اتہام ہو سکتا ہے اس کی شہادت کو ترک کیا گیا اور یہ اس طرح ہوگیا کہ بچے، والد، بھائی، خاوند اور بیوی میں گواہی جائز نہیں، یہ حسن، نخعی، شعبی، شریح، امام مالک، امام ثوری، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب ہے، اور ایک قوم نے ان کی آپس میں گواہی کو جائز قرار دیا جب کہ یہ عادل ہوں، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس کو جائز قرار دیا، اسی طرح حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ سے مروی ہے اور اسحاق، ثوری، اور مدنی رحمۃ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ امام مالک (رح) کا مذہب بھائی کی بھائی کے حق میں شہادت کے جواز کا مذہب ہے جب کہ وہ عادل ہو مگر نسب کے جھگڑا میں نہیں، ابن وہب نے ان سے روایت کیا ہے کہ بھائی کی بھائی کے حق میں گواہی جائز نہیں جب کہ اس کے عیال میں ہو یا مال کے حصہ میں ہو جس کا وہ وارث ہو۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1 صفحہ 507)
امام مالک (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا : خاوند کی بیوی کے حق میں گواہی قبول نہ ہوگی، کیونکہ ان کے درمیان املاک کے منافع جڑے ہوئے ہوتے ہیں، اور یہ محل شہادت ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : میاں، بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں گواہی قبول ہے، کیونکہ دونوں اجنبی ہیں، ان کے درمیان زوجیت کا عقد ہے جو زائل ہونے والا ہے اور اصل شہادت کا قبول کرنا ہے مگر جہاں کسی مخصوص سے خاص کیا ہو پس یہ اصل پر باقی ہے۔ یہ ضعیف ہے کیونکہ زوجیت محبت، مواصلت، الفت محبت کا موجب ہے۔ (2) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1 صفحہ 508)
پس اس میں تہمت قوی اور ظاہر ہے۔
ابو داؤد نے سلیمان بن موسیٰ عن عمرو بن شعیب، عن ابیہ عن جدہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خائن مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی شہادت رد فرمائی اور جس کی اپنے بھائی سے دشمنی تھی اس کی شہادت اپنے بھائی کے خلاف رد فرمائی اور قانع (سائل) کی اپنے مالکوں کے حق میں گواہی رد فرمائی اور دوسرے لوگوں کے لیے جائز فرمائی (3) (سنن ابی داؤد، کتاب القضیہ جلد 2، صفحہ 151)
خطابی نے کہا : ذوالغمروہ ہوتا ہے جس کی اپنے مشہود علیہ (جس کے خلاف گواہی دی گئی ہے) سے دشمنی ظاہر ہو پس تہمت کی وجہ سے اس کی شہادت رد کی جائے گی، امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا : دشمن کے خلاف اس کی گواہی قبول ہے جب کہ وہ عادل ہو، قانع سے مراد سائل اور کھانا طلب کرنے والا ہے۔ القنوع کی اصل سوال ہے۔ القانع کے بارے میں کہا جاتا ہے : جو قوم سے جدا ہو اور ان کی خدمت کرتا ہو اور ان کی ضروریات میں سے ہو، یہ اجیر یا وکیل کی طرح ہے، اس کی شہادت کے رد کی وجہ اپنی منفعت کی وجہ سے تہمت ہے، کیونکہ قانع اپنے مالکوں، موکلوں سے نفع پائے گا اس نفع سے جو انہیں پہنچے گا، ہر وہ شخص جو اپنی شہادت سے اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرے اس کی شہادت مردود ہے، جیسے کوئی شخص کسی کے حق میں گھر خریدنے کی گواہی دے جب کہ وہ خود شفیع ہو یا جس طرح کسی کے لیے کسی پر قرض کا فیصلہ کیا گیا جب کہ وہ مفلس ہے پھر وہ مفلس ایک شخص پر دین (قرض) وغیرہ کی گواہی دے، خطابی نے کہا : جس نے قانع کی شہادت کا مالکوں اور موکلوں کے حق میں رد ہونا منفعت کے حصول کی وجہ سے ہے، پس اس پر قیاس کرکے خاوند کی بیوی کے حق میں بھی شہادت رد ہونی چاہئے، کیونکہ ان کے درمیان منفعت کے حصول کی تہمت اس سے زیادہ ہے، امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی نظریہ ہے، اور حدیث ان علماء کے خلاف حجت ہے جو باپ کی بیٹے کے حق میں شہادت کو جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ فطری محبت اور جبلی میلان کی وجہ سے وہ ان سے نفع حاصل کرتا ہے، کیونکہ وہ اس کے مال کا مالک ہوتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : انت واملک لابیک (1) (سنن ابن ماجہ، باب للرجل من مال ولدہ، صفحہ 167) تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے، اور امام مالک (رح) کے نزدیک جن کی گواہی مردود ہے ان میں سے بدوی کی شہری کے خلاف گواہی ہے فرمایا : مگر یہ کہ وہ دیہات یا شہر میں ہو اور وہ جو شہر میں دیہاتی کو گواہ بناتا ہے اور اپنے پڑوسی شہریوں کو چھوڑتا ہے تو میرے نزدیک مشکوک ہے۔ ابو داؤد اور دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ بدوی (دیہاتی) کی گواہی شہری کے خلاف جائز نہیں (2) (سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام، صفحہ 173، 172)
محمد بن عبد الحکم (رح) نے کہا : امام مالک (رح) نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ یہاں حقوق اور اموال میں شہادت مراد ہے لیکن خونوں میں اور معاملات اس کے ہم معنی ہیں جن کو مخلوق طلب کرتی ہے ان کے بارے اس کی شہادت رد نہ ہوگی، عام اہل علم نے کہا : بدوی کی شہادت جب کہ وہ عادل ہو تو وہ جو شہادت بھی دے جائز ہے، واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” شہدآء للہ “۔ اس کو نصب ” قومین “۔ کی نعت کے اعتبار سے ہے اگر چاہے تو خبر کے بعد خبر بنا دے، نحاس نے کہا : ان دونوں تراکیب سے بہتر یہ ہے کہ نصب حال کی بنا پر ہو اور ذوالحال وہ ہو جو (آیت) ’ قومین “۔ میں ایمان والوں کے ذکر میں سے ہے، کیونکہ وہ نفس معنی ہے یعنی : ” کونوا قوامین بالعدل عند شھادتکم “۔ یعنی تم اپنی گواہی کے عدل کو قائم کرنے والے ہو، ابن عطیہ نے کہا : اس معنی میں اس میں حال ضعیف ہے، کیونکہ یہ شھادتکم کے معنی کی طرف عدل کو قائم کرنے کی تخفیف ہے، شہداء غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں الف تانیث ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” للہ “۔ اس کا معنی ہے اللہ کی ذات کے لیے اور اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے ثواب کے لیے، (آیت) ” ولو علی انفسکم۔ یہ شہداء کے متعلق ہے۔ یہ وہ ظاہر مفہوم ہے جس ساتھ مفسرین نے تفسیر کی ہے اور یہ مذکورہ شہادت حقوق میں ہے پس اس شہادت کے ذریعہ حقوق والوں کے حقوق کو وہ قریب کرے گا، اپنے نفس پر شہادت کے قیام کا یہی معنی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس کے ساتھ ادب سکھایا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ حق بات کہیں اگر اپنے ہی خلاف ہو (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 373) اور یہ بھی احتمال ہے کہ (آیت) ” شھدآء للہ “۔ کا معنی ہو اللہ کی وحدانیت کے گواہ بنو۔ اور (آیت) ” ولو علی انفسکم “۔ کا تعلق (آیت) ” قومین “۔ کے ساتھ ہو، پہلی تاویل زیادہ واضح ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیراف اللہ اولی بھما “۔ کلام میں اضمار ہے اور وہ کان کا اسم ہے یعنی ان یکن الطالب اور المشھود علیہ غنیا، یعنی اگر گواہی طلب کرنے والا یا جس کے خلاف گواہی دی جارہی ہے وہ غنی ہو تو اس کی غنا کو خیال نہیں کیا جائے گا اور اس سے ڈرا نہیں جائے گا اور اگر وہ فقیر ہو تو اس پر مہربانی کرنے کا خیال نہیں کیا جائے گا (آیت) ” فاللہ اولی بھما “۔ یعنی جو اس نے انکے لیے فقر اور غنا میں سے جو اختیار کیا ہے وہ ان کا زیادہ خیر خواہ ہے، سدی نے کہا : نبی مکرم ﷺ کے پاس ایک غنی اور فقیر نے جھگڑا کیا، آپ ﷺ کا میلان فقیر کے ساتھ ہوا اور آپ نے خیال کیا کہ فقیر غنی پر ظلم نہیں کرتا تو یہ آیت نازل ہوئی (2) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 535)
مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاللہ اولی بھما “۔ اللہ تعالیٰ نے بہما فرمایا بہ نہیں فرمایا اگرچہ ادا یک کے حصول پر دلالت کرتا ہے کیونکہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں میں سے ہر ایک کا زیادہ خیرخواہ ہے، اخفش نے کہا : او کبھی بمعنی واو ہوتا ہے، یعنی ان یکن غنیا وفقیرا فاللہ اولی بالخصمین کیفا کا نا، اگر وہ غنی ہو یا فقیر ہو اللہ تعالیٰ جھگڑنے والوں کا زیادہ خیرخواہ ہے جیسے بھی ہوں، اس میں ضعف ہے، بعض نے فرمایا : (آیت) ” بھما “۔ فرمایا کیونکہ ان دونوں کا ذکر پہلے گزرا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولہ اخ اواخت فلکل واھد منھما الدس “۔
مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلا تتبعوا الھوی “۔ خواہش نفس کی پیروی نہ کرو، کیونکہ یہ ہلاک کرنے والی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ “۔ (ص : 26) پس فیصلہ کیا کرو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی، وہ بہکا دے گی تمہیں راہ خدا سے۔
کیونکہ خواہش نفس کی اتباع ناحق شہادت پر ابھارتی ہے اور حکم میں ظلم پر برانگیختہ کرتی ہے، شعبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین چیزوں کا عہد لیا
(1) کہ وہ خواہشات نفس کی پیروی نہ کریں۔
(2) لوگوں سے نہ ڈریں اور صرف اللہ سے ڈریں۔
(3) اللہ تعالیٰ کی آیات کو قلیل ثمن کے عوض نہ بچیں، (آیت) ” ان تعدلوا “۔ محل نصب میں ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان تلوا او تعرضوا “۔ وان تلووا بھی پڑھا گیا ہے اس وقت یہ لویت فلانا حقہ لیا سے مشتق ہوگا جس کا معنی ہے میں نے اسے اس کا حق دیا، اس سے فعل لوی ہے اصل میں لوی تھا یا کو الف سے بدلا، کیونکہ یا متحرک ما قبل مفتوح تھا، اور مصدر لیا ہے اصل میں لویا تھا اور لیانا اصل میں لویانا تھا پھر واؤ کو یا میں ادغام کیا گیا۔
قتبی نے کہا : تو وا اللبی سے ہے یعنی شہادت میں ہیر پھیر کرنا اور کسی ایک خصم کی طرف میل ہونا، ابن عامر اور کو فیوں نے تلوا پڑھا ہے اس نے ارادہ کیا کہ اس کے امر کے لیے کھڑے ہو اور کسی ایک خصم کی طرف میل ہونا، ابن عامر اور کو فیوں نے تلوا پڑھا ہے اس نے ارادہ کیا کہ اس کے امر کے امر کے لیے کھڑے ہو اور پھر اعراض کرو، یہ تیرے اس قول سے ہے ولیس الامر۔ میں نے کام سپرد کیا، اس صورت میں کلام میں امر کے قیام سے اعراض کی وجہ سے توبیخ کا معنی ہوگا۔ بعض نے فرمایا : تلوا کا معنی ہے اعراض کرنا، پس لام کے ضمہ کے ساتھ قرات دو معانی کو مفید ہے ولایت اور اعراض اور دو واؤ کی قرات ایک معنی کے لیے مفید ہے اور وہ اعراض کرنا ہے بعض نحویوں نے کہا : جس نے (آیت) ” تلوا “ پڑھا اس نے غلطی کی، کیونکہ یہاں ولایت کے معنی کے لیے نہیں ہے، نحاس وغیرہ نے کہا : یہ لازم نہیں آتا۔ (آیت) ” تلوا “۔ بمعنی تلووا ہوگا اور تلوا کی اصل تلووا ہے ضمہ اس واؤد پر دشوار تھا جس کے بعد دوسری واؤ ہے تو اس کی حرکت لام کو دی گئی اور التقائے ساکنین کی وجہ سے ایک واو حذف کی گی۔ یہ لام ساکن اور دو واو کی قرات کی طرح ہے یہ مکی نے ذکر کیا ہے۔
زجاج نے کہا : یہ اپنی قرات پر وان تلوا تھا، پھر پہلی واؤ کو ہمزہ دیا پھر لام پر اس کی حرکت دینے کی وجہ ہمزہ میں تخفیف کی گئی تو تلوا ہوگیا اصل میں تلووا تھا۔ اس تقدیر پر دونوں قراتیں متفق ہوگئیں، یہ نحاس، مکی اور ابن عربی وغیرہم نے ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا یہ معنی ہے دو خصم قاضی کے سامنے بیٹھیں پھر قاضی ایک کی طرف میلان کرے اور ادوسرے اعراض کرے (1) (تفسیر ابن عباس، جلد 1، صفحہ 289، دارالتراث الاسلامی) اس اعتبار سے اللی کا معنی ہو گا کلام میں ٹال مٹول کرنا اور اس کو کھینچنا تاکہ حق کا فیصلہ فوت ہوجائے اور فیصلہ اس کے حق میں نافذ کرے جس کی طرف قاضی کا میلان ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے بعض قاضیوں کو دیکھا وہ ایسا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ سب کے لیے کافی ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 123 دارالکتب العلمیہ)
حضرت ابن عباس ؓ ، سدی (رح) ابن زید (رح) ضحاک (رح) اور مجاہد (رح) نے کہا : یہ گواہوں کے بارے میں ہے گواہ اپنی زبان سے ہیر پھیر کرے اور سچی گواہی نہ دے یا حق کی ادائیگی سے اعراض کرے، آیت کا لفظ عام ہے قاضیوں اور گواہوں کو شامل ہے ہر انسان کو عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حدیث شریف میں ہے ” مال والے کا حق کی ادائیگی سے ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور عقوبت کو حلال کرتا ہے “۔ (3) (سنن ابی داؤد کتاب الاقضیہ جلد 2 صفحہ 155)
ابن اعرابی نے کہا : عقوبت سے مراد اس کو قید کرنا ہے اور عرض سے مراد اس کی شکایت ہے۔
مسئلہ نمبر : (10) بعض علماء نے اس آیت سے غلام کی شہادت رد کرنے سے استدلال کیا ہے، انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حاکم کو شاہد (گواہ) بنایا ہے اور یہ بڑی واضح دلیل ہے کہ غلام اہل شہادت میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے مقصود اس مہم کے ساتھ مستقل ہونا ہے جب حاجت اس کا تقاضا کرے اور یہ غلام سے اصلا ممکن نہیں ہے پس اس کی شہادت رد ہوگی۔
Ayah 4:136آیت نمبر ؛ 136۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا “۔ یہ تمام مومنین کے متعلق نازل ہوئی معنی یہ ہے کہ اے تصدیق کرنے والو ! اپنی تصدیق پر قائم رہو اور اس پر ڈٹے رہو۔ (آیت) ’ والکتب الذی نزل علی رسولہ، الکتب “۔ سے مراد قرآن ہے، (آیت) ” والکتب الذی انزل من قبل “۔ اس سے کتاب مراد ہے جو انبیاء کرام پر نازل ہوئی، ابن کثیر، ابو عمرو اور ابن عامر نے نزل اور انزل (ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ نزل اور انزل پڑھا ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو حضرت محمد ﷺ سے پہلے انبیاء پر ایمان لائے تھے، بعض نے فرمایا : یہ منافقین کو خطاب ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 124 دارالکتب العلمیہ)
اس صورت میں معنی یہ ہوگا اے ظاہر ایمان لانے والو اللہ کے لیے اخلاص کا مظاہ کرو، بعض نے فرمایا : اس سے مراد مشرکین ہیں معنی یہ ہے اے لات وعزی اور طاغوت پر ایمان لانے والو اللہ پر ایمان لاؤ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی کتب کی تصدیق کرو۔
Ayah 4:137آیت نمبر : 137۔
بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کا انکار کیا پھر حضرت عزیز (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا پھر حضرت محمد ﷺ کے انکار میں بڑھتے گئے۔
بعض علماء نے کہا : وہ لوگ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا، نصاری نے اس کا انکار کیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر حضرت محمد ﷺ اور جو آپ لے کر آئے تھے اس کے انکار میں بڑھتے گئے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کفر کو تو بخشتا ہی نہیں پھر کیسے فرمایا : (آیت) ” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازدادوا کفرلم یکن اللہ لیغفرلھم “۔ سوا اس کا جواب یہ ہے کہ کافر جب ایمان لاتا ہے تو اس کے کفر کو معاف کردیا جاتا ہے پھر جب وہ کفر کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر اس کے پہلے کفر کو بھی معاف نہیں کیا جاتا، یہ اس طرح ہے جس طرح مسلم میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے فرمایا : کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم سے ان اعمال کا مواخذہ ہوگا جو ہم زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے تم میں سے اسلام میں اچھے اعمال کیے تو اس سے زمانہ جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہ کیا جائے گا اور جو پھر کفر کرے گا تو اس سے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کے اعمال کا مواخذہ کیا جائے گا “ (2) (صحیح مسلم کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 75)
ایک روایت میں ہے من اساء فی الاسلام اخذ بالاول والاخر “۔ (3) (صحیح بخاری باب اثم من الشرک باللہ حدیث نمبر 6410، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
جو اسلام میں کفر کرے گا اس سے پہلے زمانہ اور پچھلے زمانہ کے اعمال کا مواخذہ ہوگا۔
یہاں الاساء ۃ (برائی) کا معنی کفر ہے کیوں کہ برائی کا ارتکاب مراد لینا یہاں صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اسلام اپنے سے پہلے گناہوں کو ساقط نہیں کرتا ہے مگر جو تمام گناہوں سے محفوظ رہا مگر موت کے وقت۔ اور یہ بالاجماع باطل ہے۔ (آیت) ” ثم ازدادوا کفرا “۔ کا معنی ہے کفر پر اصرار کیا، (آیت) ” لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ انکی راہنمائی نہیں کرتا۔ (آیت) ” سبیلا “۔ جنت کا راستہ، بعض علماء نے فرمایا : وہ انہیں توفیق سے خاص نہیں کرتا جس طرح اپنے اولیاء کو خاص کرتا ہے اس آیت میں اہل قدر پر رد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ کافروں کو خیر کے راستہ کی ہدایت نہیں دیتا تاکہ انسان جان لے کہ وہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔ یہ آیت مرتدین کے حکم کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ مرتدین کے متعلق گفتگو سورة بقرہ میں (آیت) ” ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر “۔ (بقرہ : 217) کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayah 4:138آیت نمبر : 138۔
التبشیرا “۔ اس خبر کو کہتے ہیں جس کا اثر چہرے پر ظاہر ہو اس کا بیان پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، اور نفاق کا معنی بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 4:139آیت نمبر : 139۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یتخذون الکفرین اولیآء من دون المؤمنین “۔
(آیت) ” الذین، المنافقین کی صفت ہے اس آیت میں دلیل ہے کہ مسلمانوں میں جو معصیت کا ارتکاب کرے وہ منافق نہیں ہے، کیونکہ وہ کفار کو دوست نہیں بناتا۔ اس آیت کے ضمن میں کفار سے دوستی کی ممانعت بھی ہے اور وہ اعمال جو دین سے متعلق ہیں ان پر کافروں سے مدد لینا بھی منع ہے، صحیح میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا کہ وہ آپ کی معیت میں جہاد میں شریک ہوگا۔ تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا : ” تو واپس چلا جاہم مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے “ (1) (صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر، جلد 2 صفحہ 118) العزۃ اس کا معنی غلبہ ہے۔ عزہ یعزہ عزا جب کوئی کسی پر غالب آجائے۔
(آیت) ” فان العزۃ للہ جمیعا “۔ غلبہ اور قوت اللہ کے لیے ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (آیت) ” یبتغون عندہم اس سے مراد بنی قینقاع ہیں کیونکہ ابن ابی نے بنی قینقاع سے دوستی لگائی تھی۔
Ayahs 4:140–141آیت نمبر : 140، تا 141۔
اس آیت میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا “۔ یہ ان تمام لوگوں کو خطاب ہے جس نے ایمان کا اظہار کیا خواہ وہ سچا مسلمان ہے یا منافق ہے کیونکہ جب اس نے ایمان کا اظہار کیا تو اسے کتاب اللہ کے احکام کی پیروی کرنا لازم ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ (انعام : 68) یہ اس لیے نازل ہوا کہ منافقین یہودی علماء کے پاس بیٹھتے تھے اور قرآن کا مذاق اڑاتے تھے، عاصم اور یعقوب نے وقد نزل نون اور زا کے فتحہ کے ساتھ اور زا کی شد کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اسم جلالت پہلے (آیت) ” فان العزۃ للہ جمیعا “۔ میں گزر چکا ہے حمید نے بھی اسی طرح پڑھا ہے مگر انہوں نے زا کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، باقی قراء نے (آیت) ” نزل “ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ (آیت) ” ان اذا سمعتم ایت اللہ “ یہ عاصم اور یعقوب کی قرات پر محل نصب میں ہے، کیونکہ اس پر فعل واقع ہے اور باقی قراء کی قرات پر محل رفع میں ہے، کیونکہ یہ فعل مجہول کا نائب الفاعل ہے۔ (آیت) ” یکفربھا “۔ یعنی جب تم آیات الہی کا استہزا اور کفر سنو، سماع کو آیات پر واقع کیا مراد کفر اور استہزا کا سماع ہے جیسے تو کہتا ہے : سمعت عبداللہ یلام یعنی میں نے عبداللہ کی ملامت سنی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ کفر کے علاوہ، (آیت) ” انکم اذا مثلھم “۔ برائی کا ارتکاب کرنے والوں سے اجتناب کرنے کی یہ دلیل ہے، جب ان سے کسی برائی کا ظہور ہو، کیونکہ جس نے ان سے اجتناب نہیں کیا وہ ان کے فعل سے راضی ہے اور کفر پر رضا بھی کفر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انکم اذا مثلھم “۔ جو کسی بری مجلس میں بیٹھا اور ان پر انکار نہ کیا تو گناہ میں ان سے برابر کا شریک ہوگا، اور جب وہ برائی کلام کریں اور برائی کا عمل کریں تو ان پر انکار کرنا چاہیے اگر انکار کی طاقت نہیں ہے تو ان سے اٹھ جانا چاہیے تاکہ اس آیت کے مصداق سے نہ ہو، حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قوم کو شراب پیتے ہوئے پکڑا تو انہیں ایک شخص کے بارے بتایا گیا کہ وہ روزہ دار ہے آپ نے اسے بھی تادیب کا حکم دیا اور پھر یہ آیت پڑھی (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 124 دارالکتب العلمیہ) (آیت) ” انکم اذا مثلھم “۔ یعنی معصیت (برائی) پر رضا بھی معصیت ہے اسی وجہ سے برائی کرنے والے اور اس پر راضی سب سے مواخذہ کیا گیا ہے کہ تمام ہلاک ہوگئے یہ مماثلث تمام صفات میں نہیں ہے بلکہ اتصاف کی وجہ ظاہر حکم کے ساتھ مشابہت کا الزام ہے جیسا کہ شاعر نے کہا :
فکل قرین بالمقارن یقتدی (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 124 دارالکتب العلمیہ)
یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو تمام بدعتی اور گمراہ فرقوں سے اجتناب اولی ہے، کلبی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ منسوخ ہے اس ارشاد سے (آیت) ” ما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء “۔ (الانعا : 69) نہیں ہے ان پر جنہوں نے تقوی اختیار کیا ہے ان کفاروں کے حساب سے کچھ بوجھ۔
عام مفسرین نے فرمایا : یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہے جویبر نے ضحاک ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس آیت میں قیامت تک ہر دین میں بدعت نکالنے والا داخل ہے۔ (3) (معالم التنزیل جلد 2، صفحہ 175) ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین “۔ اصل میں جامع تنوین کے ساتھ تھا، استخفافا تنوین کو حذف کیا گیا۔ یہ بمعنی یجمع ہے (آیت) ” الذین یتربصون بکم “۔ اس سے مراد منافقین ہیں یعنی منافقین تم پر گردش زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ (آیت) ” فان کان لکم فتح من اللہ “۔ یہود پر تمہیں غلبہ مل جائے اور مال غنیمت حاصل ہو تو (آیت) ” قالوا الم نکن معکم “۔ کہتے ہیں : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ ہمیں بھی مال غنیمت عطا کرو۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب “۔ اگر کافروں کو کامیابی ملے “۔ (آیت) ” قالو الم نستحوذ علیکم تو کہتے ہیں : کیا ہم غالب نہیں آگئے تھے تم پر ؟ حتی کہ مسلمان تم سے ڈر گئے تھے اور ہمنے انہیں تم سے رسوا کیا تھا کہا جاتا ہے : استحوذ علی کذا کا اصل معنی گھیرنا ہے۔ حاذہ یحوذ حوزا جب کوئی کسی کا احاطہ کرلے، یہ فعل اپنی اصل پر آیا ہے اگر اس میں تعلیل کی جاتی تو یہ الم نستحذ ہوتا۔ اور اعلال کی صورت میں فعل استحاذ یستحیذ ہوتا ہے اور بغیر اعلال کے استحوذ یستحوذ ہوتا ہے۔
(آیت) ” ونمنعکم من المؤمنین “۔ یعنی ہم نے تم سے دور کیا اور ہم نے انہیں تمہارے ارادے سے جدا کردیا۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ منافقین مسلمانوں کے ساتھ جنگوں میں نکلتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے کہا : (آیت) ” قالوا الم نکن معکم “۔ (الحدید : 14) اور یہ دلالت کرتی ہے کہ مسلمان انہیں غنیمت نہیں دیتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے مال غنیمت طلب کیا اور کہا : کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے یہ بھی احتمال ہے کہ (آیت) ” قالوا الم نکن معکم “۔ مسلمان پر بطور احسان جتلانا ہو یعنی ہم تمہیں ان کی باتیں بتاتے تھے اور ہم تمہارے مددگار تھے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “۔ اس میں علماء کی پانچ تاویلات ہیں۔۔
(1) یسیع خضرمی سے روایت ہے اس نے کہا : میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے پاس حاضر تھا ایک شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “۔ یہ کیسے ہے ؟ بعض اوقات ہم سے جنگ کرتے ہیں اور ہم پر غالب آجاتے ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اس کا معنی قیامت کے دن اور فیصلہ کا دین ہے (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 139)
اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ قیامت کے دن ہوگا، ابن عطیہ (رح) نے کہا : تمام اہل تاویل نے یہ کہا ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 124 دارالکتب العلمیہ)
ابن عربی (رح) نے کہا : یہ ضعیف ہے، کیونکہ اس میں خبر کا فائدہ نہیں ہے اگرچہ کلام کی ابتدا میں اس مفہوم کا ذکر ہوچکا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ “۔ حکم کو قیامت تک مؤخر فرمایا اور دنیا میں معاملہ اسی طرح فرمایا کہ کبھی کفار غالب آتے ہیں اور کبھی مسلمان غالب آتے ہیں جیسی اس کی حکمت ہوتی ہے اور جیسا اس کا فیصلہ ہوچکا ہے، پھر فرمایا (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “۔ اس نے وہم کیا ہے جس نے کہا ہے کہ آخری کلام پہلے کلام کی طرف راجع ہے، یہ اس کے فائدہ کو گرا دیتی ہے، کیونکہ یہ تکرار ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے کوئی ایسا راستہ نہیں بنائے گا کہ وہ مسلمانوں کی حکومت کو ختم کردیں اور ان کے آثار ختم کردیں اور ان کی ملت کو مباح کردیں جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ثوبان ؓ کی حدیث میں نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان پر اپنے سو دشمن کو مسلط نہ کرے کہ وہ ان کی ملت کو مباح کردے اور میرے رب نے فرمایا : اے محمد ﷺ میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اسے رد نہیں کیا جاتا اور میں نے تجھے تیری امت کے لیے یہ عطا کیا کہ میں انہیں قحط سالی میں مبتلا کرکے ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان پر ان کے اپنے سوا دشمن کو مسلط نہیں کروں گا کہ ہو ان کی ملت کو مباح کردے اگرچہ ان پر ہر طرف کے لوگ بھی جمع ہوجائیں حتی کہ یہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور یہ ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔ “
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مومنین پر غلبہ کی کوئی راہ نہیں بنائے گا مگر یہ کہ باطل کا حکم دینا کردیں گے برائی سے نہ رکیں اور توبہ نہ کریں تو دشمن ان کی اپنی طرف سے ان غالب آئے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم “۔ (الشوری : 30) اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب پہنچی ہے۔ ابن عربی (رح) نے کہا : یہ بہت نفیس قول ہے۔
میں کہتا ہوں : اس پر دلیل حضرت ثوبان ؓ کی حدیث میں نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : حتی یکون بعضھم یھلک بعضا ویسبی بعضھم بعض یعنی حتی کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، یہ اس لیے ہے کہ (حتی) غایت کے لیے ہے پس ظاہر کلام اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دشمن ان پر غالب نہیں آئے گا کہ وہ انہیں مباح کر دے مگر یہ کہ جب مسلمان ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، اس زمانہ میں جو مسلمانوں کے درمیان جنگیں واقع ہوئیں ہیں اس میں یہ پایا گیا ہے کافروں کی شوکت سخت ہوگئی ہے اور وہ مسلمانوں کے شہروں پر غالب آگئے حتی کہ بہت کم شہر (ملک) ایسے ہیں جن پر کافروں کا معنوی طور پر غلبہ نہیں ہے ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے عفو، نصرت اور لطف کے ساتھ ہم پر کرم فرمائے۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ نے مومنین پر کافروں کے لیے کوئی شریعت نہیں بنائی جو کافروں کی طرف سے ہوگا وہ شرع کے خلاف ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مومنین پر کوئی حجت عقیلہ اور شرعیہ نہیں بنائی جس کے ذریعہ وہ غالب آجائیں مگر اللہ تعالیٰ اسے باطل کردے گا اور اس حجت کو نیست ونابود کر دے گا۔
مسئلہ نمبر : (6) ابن عربی (رح) نے کہا : ہمارے علماء نے اس آیت سے حجت پکڑی ہے کہ کافر مسلمان غلام کا مالک نہیں ہوتا یہی قول اشہب اور امام شافعی (رح) کا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے لیے مسلمان پر سبیل کی نفی فرمائی ہے اور خریدنے کے ساتھ ملکیت بھی سبیل ہے پس یہ اس کے لیے جائز نہ ہوگا اس کی عقد منعقد نہ ہوگی۔ ابن القاسم (رح) نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ (آیت) ” ولن یجعل اللہ الکفرین “۔ الخ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے دائمی ملک کا راستہ نہیں بنایا، کیونکہ دیکھتے ہیں کہ کافر کو ابتداء مسلمان پر ملکیت ہوتی ہے اور وہ میراث کے لیے ذریعے ہوتی ہے اس کی صورت یہ ہے کوئی کافر غلام، کافر کی ملکیت میں مسلمان ہوجائے تو اس پر بیع کا فیصلہ لازم ہوتا ہے اور اس کی بیع کا حکم قبول کیا جاتا ہے، کوئی شخص فوت ہو اور کافر کا وارث، مسلمان غلام کا وارث ہوجائے، یہ ایسا سبیل ہے جو قہرا ثابت ہے، اس میں قصد و ارادہ نہیں ہے اور خریدنے کے ساتھ ملکیت نیت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، اس میں کافر نے اپنے اختیار سے ملک کا ارادہ کیا ہے اگر اس کی بیع کے عقد کا حکم لگایا جائے اور اس کی ملکیت کے ثبوت کا حکم لگایا جائے تو اس میں اس کا قصد ثابت ہوگا اور اس نے اس پر سبیل بنالیا (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 510)
ابو عمر نے کہا : مسلمانوں کا اجماع ہے کہ نصرانی اور یہودی کا مسلمان غلام کو آزاد کرنا صحیح ہے اور اس پر نافذ ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ جب کسی کافر کا غلام مسلمان ہوجائے تو اسے بیچا جائے گا اور اس کی قیمت کافر کو دی جائے گی، یہ دلیل ہے کہ یہ اس کی ملک پر بیع ہے اور اس کی ملک پر آزاد ثابت ہوئی ہے مگر یہ ملکیت غیر مستقر ہے، کیونکہ اس پر اس کا بیچنا واجب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “۔ اس سے مراد غلام بنانا، ملکیت حاصل کرنا اور عبودیت ہے جو دائمی اور مستقل ہو۔
علماء کا اختلاف ہے کہ کافر کا مسلمان غلام کو خریدنے کا حکم کیا ہے ؟ اس میں دو قول ہیں (1) اس کی بیع فسخ ہے۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ بیع صحیح ہے۔ اور مشتری پر اس کو بیچا جائے گا۔
مسئلہ نمبر : (7) اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ ایک نصرانی نے اپنے نصرانی غلام کو مدبر بنایا پھر وہ غلام مسلمان ہوگیا، امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا ایک قول یہ ہے کہ اس کے اور غلام کے درمیان حائل ہوا جائے گا اور وہ اپنے نصرانی سردار پر نکالا جائے گا اور اسے اس پر بیچا نہیں جائے گا حتی کہ اس کا امر واضح ہوجائے، اگر نصرانی ہلاک ہوگیا اور اس پر قرضہ تھا تو مدبر غلام کی ثمن سے اس کا قرضہ ادا کیا جائے گا مگر یہ کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہو جس سے اس کا قرضہ اتارا جاسکتا ہو تو مدبر آزاد ہوجائے گا،
امام شافعی (رح) کا دوسرا قول یہ ہے کہ اسے اس پر بیچا جائے گا جب وہ مسلمان ہوگا، اس کو مزنی نے اختیار کیا ہے، کیونکہ مدبر وصیت ہے اور مسلمان کو مشرک کی ملکیت میں چھوڑنا جائز نہیں کہ وہ اسے ذلیل کرے اور اسے میراث میں نکالے، اسلام کی وجہ سے وہ اس کا دشمن بن گیا ہے۔ لیث بن سعد نے کہا : نصرانی غلام مسلمان سے بیچا گیا پھر مسلمان نے اسے آزاد کردیا اور ولاء اس کی ہوگی جس نے اس کو خریدا اور آزاد کیا اور نصرانی کو غلام کی قیمت دی جائے گی، سفیان اور کو فیوں نے کہا : جب نصرانی کا مدبر غلام مسلمان ہوجائے تو اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ غلام اپنی قیمت کما کر دے گا اگر نصرانی مدبر کی سعایت (مال کی ادائیگی کے لیے کوشش) سے فارغ ہونے سے پہلے مرگیا تو غلام آزاد ہوجائے گا اور سعایت باطل ہوجائے گی۔
Ayah 4:142آیت نمبر ؛ 142۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان المنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم “۔ الخدع کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، اللہ کی طرف سے خداع کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور رسل کو دھوکہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس کی سزا دیتا ہے حسن نے کہا : مومن منافق ہر شخص کو قیامت کے دن نور دیا جائے گا منافقین خوش ہوں گے اور یہ گمان کریں گے کہ وہ نجات پا گئے لیکن جب وہ پل صراط پر آئیں گے تو ہر منافق کا نور بجھ جائے گا (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2، صفحہ، 374)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں اسی کا ذکر ہے : (آیت) ” انظرون نقتمس من نورکم “۔ (الحدید : 13)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی “۔ یعنی وہ ریا کاری کے لیے نماز پڑھتے ہیں وہ سستی اور کاہلی میں نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور نہ نماز کے ترک پر سزا کا اعتقاد رکھتے ہیں، کیونکہ عشاء کی نماز کا وقت ہوتا تو وہ دن کے کام میں تھک چکے ہوتے تھے اور ان پر اس کا قیام ثقیل ہوتا تھا اور صبح کی نماز کا وقت ہوتا تو انہیں نیند بہت پیاری ہوتی (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 511) اگر انہیں تلوار کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی نماز کے لیے کھڑے نہ ہوتے۔
ریا کا معنی خوبصورتی کا اظہار ہے تاکہ لوگ اسے دیکھیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع کے لیے نہیں اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وصف بیان کیا کہ خوف اور ریا کاری کے ساتھ ساتھ ذکر بھی بہت کم کرتے ہیں، آپ ﷺ نے نماز میں تاخیر کرنے والے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :” یہ منافقین کی نماز ہے “۔ تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔ ” ان میں سے کوئی بیٹھا ہوا سورج کو تاڑتا رہتا ہے حتی کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے یا فرمایا شیطان کے دو سینگوں کے اوپر ہوتا ہے تو کھڑا ہوتا ہے۔ (مرغ کی طرح) چار چونچیں مارتا ہے اور اس میں اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا “ (1) (صحیح مسلم، المساجد، مواضع الصلوۃ جلد 1، صفحہ 225)
اس حدیث کو امام مالک وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے منافقین کا وصف قلت ذکرکے ساتھ کیا، کیونکہ وہ قرات اور تسبیح کے ساتھ اللہ کا ذکر نہیں کرتے تھے وہ تکبیر کے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے، بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قلت کے ساتھ ان کا وصف بیان فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرمایا : بعض نے فرمایا : اس میں اخلاص نہیں ہوتا اس لیے قلت سے تعبیر فرمایا :
یہاں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی نماز کو بیان فرمایا اور اس کے رسول مکرم حضرت محمد ﷺ نے بھی ان کی نماز کو بیان فرمایا : فرمایا :” جوان کی نماز کی طرح نماز پڑھے گا اور جس نے انکے ذکر کی طرح ذکر کیا وہ عدم قبولیت میں انکے ساتھ لاحق ہوگا “۔ یہ اس ارشاد : (آیت) ” قد افلح المؤمنون، الذین ھم فی صلاتھم خشعون “۔ (المومنون) کے مقتضی سے خارج ہے اس کا بیان آگے آئے گا مگر جس کو عذر ہو اور وہ صرف فرض کی ادائیگی پر اکتفاء کرے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اعرابی کو سکھایا جب آپ نے اسے نماز صحیح نہ پڑھتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا ” جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو مکمل وضو کر پھر قبلہ کی طرف منہ کر پھر تکبیر کہہ پھر جو قرآن پڑھنا ممکن ہو وہ پڑھ پھر رکوع کر حتی کہ مطمئن ہو کر رکوع کرے پھر سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوجائے پھر سجدہ کر حتی کہ اطمینان سے سجدہ کرے پھر سر اٹھا حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جائے پھر پوری نماز میں اس طرح “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ جلد 1 صفحہ 170) اس حدیث کو ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : لا صلاۃ لمن لم یقرء بام القرآن (3) (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ جلد 1 صفحہ 169) اس کی نماز (مکمل) نہیں جس نے الحمد شریف نہ پڑھی اور فرمایا : ” نماز جائز نہیں جس میں آدمی اپنی پیٹھ کو رکوع اور سجود میں سیدھا نہ کرے “ (4) (جامع ترمذی، کتاب الصلوۃ جلد 1 صفحہ 36) اس حدیث کو ترمذی نے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے، نبی مکرم ﷺ کے اصحاب اور بعد والے علماء کا اس پر عمل ہے۔ عطا فرماتے ہیں : آدمی رکوع و سجود میں پیٹھ کو سیدھا کرے۔ امام شافعی (رح)، امام احمد (رح) اور اسحاق، نے کہا : جو رکوع و سجود میں پیٹھ کو سیدھا نہیں کرتا اس کی نماز فاسد ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” نماز جائز نہیں جس میں آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ کو سیدھا نہیں کرتا “۔ (5) (جامع ترمذی، کتاب الصلوۃ جلد 1 صفحہ 36)
ابن عربی (رح) نے کہا : ابن القاسم اور امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا : طمانینت فرض نہیں، یہ عراقی روایت ہے، مالکیوں میں سے کسی کے لیے اس سے مشغول ہونا مناسب نہیں۔ یہ مفہوم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) ابن عربی (رح) نے کہا : جس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی تاکہ وہ اسے دیکھیں اور اس کے لیے ایمان کی گواہی دیں یا اس نے شہادت کی قبولیت اور امامت کے جواز کے لیے مرتبہ اور ظہور کو طلب کرنے کا ارادہ کیا تو یہ وہ ریا نہیں ہوگا جس سے منع کیا گیا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ریا جو گناہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو شکار کرے اور اس کے ذریعے خوراک حاصل کرے، یہ نیت جائز نہیں ہے اور اس پر اعادہ لازم ہے۔
میں کہتا ہوں : شہادت کی قبولیت کے لیے ظہور اور مرتبہ طلب کرنے کا ارادہ کیا ہو، اس قول میں نظر ہے، اس کا بیان سورة نساء میں گزر چکا ہے، وہاں اس میں غور کرو۔
یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ریا فرض اور نفل میں داخل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا “۔ یہ عام ہے، ایک قوم نے کہا : خاص نفل میں داخل ہے، کیونکہ فرض تمام لوگوں پر واجب ہے اور نفل اس کی اپنی طرف سے ہے، بعض نے اس کے برعکس فرمایا، کیونکہ نوافل نہ بھی پڑھے تو اس پر مواخذہ نہیں۔
Ayah 4:143آیت نمبر 143۔
المذبذب وہ شخص جو دو امروں کے درمیان متردد ہو۔ المذبذبۃ کا معنی اضطراب ہے، کہا جاتا ہے۔ ذبذبتہ فتذبذب، اسی سے نابغہ کا قول ہے :
الم تر ان اللہ اعطاک سورة تری کل ملک دونھا یتذبذب “۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 389)
ایک اور شاعر نے کہا :
خیال لام السلسبیل ودونھا مسیرۃ شھر للبرید المذبذب ‘: (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 127 دارالکتب العلمیہ)
اسی طرح دوسرے ذال کے کسرہ کے ساتھ بھی مروی ہے، ابن جنی نے کہا : یعنی حرکت کرنے والا پریشان جو ٹھہرتا نہ ہو، نہ آرام کرتا ہو، یہ منافقین، مومنین، اور مشرکین کے درمیان متردد تھے نہ خالص ایمان لانے والے تھے اور نہ صراحتہ کفر کا اقرار کرنے والے تھے، صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکری کی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان متردد ہوتی ہے کبھی ایک کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف جاتی ہے۔ “ (3) (صحیح مسلم صفات المنافقین واحکامھم، جلد 2، صفحہ 370)
ایک روایت میں تعیر کی جگہ تکر ہے۔
جمہور علماء نے مذبذبین میم کے ضمہ اور دونوں ذال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے دوسری ذال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور حضرت ابی کے حرف میں متذبذبین ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 127 دارالکتب العلمیہ) اس قرات پر ادغام جائز ہے یعنی مذبذبین پہلی ذال کی تشدید کے ساتھ اور دوسری کے کسرہ کے ساتھ ابوالحسن سے میم کے فتحہ اور دو ذالوں کے ساتھ مروی ہے۔
Ayah 4:144آیت نمبر : 144۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الکفرین اولیآء “۔ الکافرین اور اولیاء دو مفعول ہیں یعنی کافروں کو اپنے خاص دوست اور راز دان نہ بناؤ۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا اللہ علیکم سلطنا مبینا “۔ یعنی کیا تم چاہتے ہو کہ تم اپنے عذاب دینے کے لیے خود ہی اپنے خلاف حجت قائم کرو ؟ جب کہ اس نے تمہیں منع کیا ہے۔
Ayah 4:145آیت نمبر : 145۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فی الدرک “۔ کو فیوں نے را کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے لیکن پہلا قول افصح ہے، کیونکہ جمع میں ادراک کہا جاتا ہے جیسے جمل کی جمع اجمال ہے، یہ نحاس کا قول ہے، ابو علی نے کہا : یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے الثمع اور الثمع اور اس کی جمع ادراک ہے بعض نے فرمایا : الدرک کی جمع ادرک ہے جیسے فلس کی جمع افلس ہے، دوزخ کے ساتھ طبقات ہیں مگر پستی کی جانب درجات کو عرب دراک کہتے ہیں : کہا جاتا ہے : کو یں کے لیے ادراک ہیں اور بلندی کی جانب درجات کو درجات کہتے ہیں اور آگ کے لیے درکات ہیں یہ پہلے گزر چکا ہے۔
منافق نچلے طبقہ میں ہوں گے یہ ہادیہ ہے، کیونکہ ان کا کفر زیادہ غلیظ ہے اور ان کا دھوکا بہت زیادہ ہے اور مومنین کو اذیت دینا بہت کثیر ہے اوپر والا آگ کا درجہ جہنم ہے پھر لظی ہے پھر حطمہ ہے پھر سعیر ہے پھر سقر ہے پھر جحیم ہے پھر ہاویہ ہے، ان تمام کو پہلے طبقہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور کرم سے میں ہمیں ان تمام طبقات سے محفوظ فرمائے حضرت ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” فی الدرک الاسفل من النار “ کی تفسیر یہ مروی ہے کہ آگ میں لوہے کے تابوت ہیں جو منافقین پر بند کیے جائیں گے، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : قیامت کے روز سخت عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا۔
(1) منافقین :
(2) اصحاب مائدہ میں سے جنہوں نے انکار کیا۔
(3) آل فرعون، اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار “۔ اور اصحاب مائدہ کے بارے فرمایا : (آیت) ” فانی اعذبہ عذابا لا اعذبہ احدا من العالمین “۔ (المائدہ) اور آل فرعون کے بارے فرمایا : (آیت) ” ادخلوا ال فرعون اشد العذاب “۔ (غافر) (داخل کر دو فرعونیوں کو سخت تر عذاب میں)
Ayah 4:146آیت نمبر : 146
یہ منافقین سے استثنا ہے، نفاق سے توبہ کی شرط میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل کی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے یعنی ذات باری تعالیٰ کو ملجا ومعاذ بنائے اور اپنے دین کو خالص اللہ تعالیٰ کے ملنے کی وجہ سے ان کا اجرمومنین کے اجر کے برابر ذکر فرمایا، بخاری میں اسود سے مروی ہے فرمایا : ہم عبداللہ کے حلقہ میں بیٹھے تھے حضرت حذیفہ ؓ آئے حتی کہ ہمارے اوپر کھڑے ہوئے پھر سلام کیا پھر کہا : نفاق تم سے بہتر قوم پر نازل ہوا تھا، اسود نے کہا : سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : منافقین تو دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہیں، حضرت عبداللہ مسکرائے اور حضرت حذیفہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے، حضرت عبداللہ ! اٹھے تو ان شاگرد بکھر گئے حضرت حذیفہ ؓ نے مجھے کنکری ماری تو میں انکی طرف آیا حضرت حذیفہ ؓ نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ ؓ کے ہنسنے سے تعجب ہوا ہے جو میں نے کہا تھا وہ جان گئے تھے، بیشک اس قوم پر نفاق نازل ہوا تھا جو تم سے بہتر تھی، پھر انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انکی توبہ قبول فرمائی (1) (صحیح بخاری، تفسیر القرآن جلد 2 صفحہ 662)
فراء نے کہا : (آیت) ” فاولئک مع المؤمنین “۔ کا معنی ہے من المومنین، یہ نہیں فرمایا : ہم المومنون (وہ مومن ہیں)
یؤت سے جس طرح یا بولنے میں حذف ہوتی ہے لکھنے میں بھی حذف کی گئی، کیونکہ یا بھی ساکن ہے اور اس کے بعد لام بھی ساکن ہے۔ اس کی مثال : (آیت) ” یوم یناد المناد، سندع الزبانیۃ “۔ اور یوم یدع الداع ہے، واو اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کی گئی ہے۔
Ayah 4:147آیت نمبر : 147
استفہام بمعنی تقریر ہیں منافقین کے لیے، تقدیر یہ ہے تمہیں عذاب دینے میں اس کے لیے منفعت ہے اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ شکر گزار مومن کو عذاب نہیں دے گا، اس کا اپنے بندوں کو عذاب دینا اس کی بادشاہی میں اضافہ نہیں کرتا اور ان کے برے افعال پر ان کو عذاب نہ دینا اس کی سلطنت میں کمی نہیں کرتا، مکحول نے کہا : جس میں یہ چار چیزیں ہوں اس کے حق میں یہ ہیں اور جس میں یہ تین چیزیں ہوں وہ اس کے خلاف ہیں، چار چیزیں جو انسان کے حق میں ہوتی ہیں۔ (1) شکر (2) ایمان (3) دعا (4) استغفار، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما کان اللہ لعیذبھم وانت فیھم، وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون “۔ (الانفال) اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو عذاب دے انہیں حالانکہ آپ تشریف فرما ہیں ان میں اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ عذاب دینے والا انہیں حالانکہ وہ مغفرت طلب کر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قل مایعبؤا بکم ربی لولا دعاؤکم “۔ (الفرقان : 77) آپ فرمائیے : کیا پروا ہے تمہاری میری رب کو اگر تم اس کی عبادت نہ کرو۔
اور وہ تین چیزیں جو انسان کے خلاف ہوتی ہیں وہ یہ ہیں (1) دھوکا (2) بغاوت (3) عہدشکنی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ “۔ (الفتح : 10) پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ “۔ (فاطر : 43) نہیں گھیرتی گھناؤنی سازش سازشیوں کے اور فرمایا (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “۔ (یونس : 23)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وکان اللہ شاکرا علیما “۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قدر دانی فرماتا ہے جب وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں یشکرھم کا معنی ہے وہ انہیں ثواب دیتا ہے اور تھوڑے سے عمل کو قبول فرماتا ہے اور اس پر بہت بڑی ثواب دیتا ہے، یہ اطاعت پر ان کی طرف سے شکر ہے، لغت میں شکر کا معنی ظہور ہے، کہا جاتا ہے : دابۃ شکور، جو اپنے چارے سے زیادہ موٹاپا ظاہر کرے، یہ مفہوم پہلے تفصیلا گزر چکا ہے، عرب ضرب المثل کے طور پر کہتے ہیں : اشکر من بروقہ وہ تو زمین کے پہلے سبزہ سے بھی زیادہ ظاہر ہونے والا ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے پہلا سبزہ بادل کے سایہ سے ہی سرسبزوشاداب ہوجاتا ہے، بغیر بارش کے۔