4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔ یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنیولا اور صاحب قدرت ہے۔

آیت نمبر : 148۔ تا 149۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوٓء من القول “۔ کلام یہاں مکمل ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ یہ استثنا پہلی کلام سے نہیں ہے، یہ محل نصب میں ہے یعنی جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے یہ کہنا جائز ہے کہ فلاں نے مجھ پر ظلم کیا اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو تقدیر کلام اس طرح ہو : ” لا یحب اللہ ان یجھر بالسوٓء الا من “ جمہور علماء کی قرات ظلم ظاء کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ اور لام کا ساکن کرنا بھی جائز ہے، اور جن علماء نے ظلم ظا اور کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ زید بن اسلم، ابن ابی اسحاق وغیرہما ہیں اور فتحہ کی خفت کی وجہ سے لام کو ساکن کرنا جائز نہیں پس پہلی قرات پر ایک طائفہ نے کہا : اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کہ کوئی برملا بری بات کہے مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو تو اس کے لیے اپنی مظلومیت کی داستان سنان مکروہ نہیں، پھر برملا بری بات کہے مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو تو اس کے لیے اپنی مظلومیت کی داستان سنانا مکروہ نہیں۔ پھر برملا بری بات کی کیفیت میں علماء کا اختلاف ہے اور اس میں سے جو مباح ہے اس میں بھی اختلاف ہے، حسن نے کہا : ایک شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف دعا نہ کرے بلکہ اس طرح کہے : اللہم اعنی اعلیہ، اللھم استخرج حقی، اللہم حل بینہ وبین مایرید من ظلمی (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2، صفحہ 375) اے اللہ اس کے خلام میری مدد فرما، اے اللہ میرا حق نکال دے، اے اللہ اس کے اور جو وہ مجھ پر ظلم کا ارادہ کرتا ہے اس کے درمیان حائل ہوجا۔ یہ مدافعت کی دعا ہے اور یہ سوء کی کم سے کم منزل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ، نے کہا : اس کے لیے مباح ہے جس پر ظلم کیا گیا ہے کہ وہ ظالم کے خلاف بددعا کرے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 539) وہ صبر کرے تو اس کے لیے بہتر ہے، یہ ظالم کے خلاف دعا کی نوع میں اطلاق ہے، سدی اور حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول بھی ہے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہے اس کے لیے ظالم پر اس کے ظلم کی مثل ظلم کرنا اور اس کی برائی بیان کرنا جائز ہے۔ (3) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 540) ابن مستیز نے کہا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ کا معنی ہے جس کو کفر یا اسی جیسی بری بات پر مجبور کیا گیا ہو، یہ مباح ہے، اس مفہوم پر آیت اکراہ کے بارے میں ہوگی۔ (4) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 129 دارالکتب العلمیہ) اور اس طرح قطرب نے کہا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ سے مراد مکرہ (جس کو مجبور کیا گیا ہو) ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہوتا ہے، وہ اگرچہ کفریہ کلمہ بھی کہہ دے تو اس پر گرفت نہیں ہے، فرمایا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ کا معنی بدل کی حیثیت سے بھی جائز ہے گویا یوں فرمایا : لا یحب اللہ الا من ظلم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ظالم کو پسند نہیں کرتا گویا وہ فرماتا ہے : وہ مظلوم کو اجر دیتا ہے، اس قول پر تقدیر اس طرح ہوگی : لا یحب اللہ ذا الجھر بالسؤ الا من ظلم یہ بدل کے اعتبار سے ہے، مجاہد نے کہا : یہ ضیافت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اسے یہ کہنے کی رخصت دی گئی ہے۔ ابن جریج نے مجاہد سے روایت کیا ہے یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا میں کسی شخص کا مہمان بنا تو اس نے اس کی مہمان نوازی نہ کی تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الا من ظلم “۔ اس روایت کو ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : یہ آیت ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کی مہمان نوازی نہ کی تو اسے یہ کہنے کی رخصت دی گئی کہ اس نے میری اچھے طریقہ سے ضیافت نہیں کی (5) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 540) جن علماء نے ضیافت کو واجب قرار دیا ہے انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں : کیونکہ ظلم ممنوع ہے پس یہ ضیافت کے وجوب پر دلیل ہے۔ لیث بن سعد کا یہی قول ہے۔ جمہور علماء کہتے ہیں : ضیافت (مہمان نوازی) یہ مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اس کا مزید بیان سورة ہود میں آئے گا۔ ظاہر آیت کا مقتضا یہ ہے کہ مظلوم مناسب حد تک ظالم سے بدلہ لے سکتا ہے اگر وہ مومن ہے جیسا کہ حضرت حسن نے فرمایا : قذف کے مقابلہ میں قذف ہو تو یہ درست نہیں، یہ مسئلہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اگر وہ کافر ہے تو پھر اپنی زبان کو آزاد چھوڑ دے اور اس کے لیے ہلاکت، ہر دعا جو چاہے مانگ لے جس طرح کہ نبی مکرم ﷺ نے دعا کی تھی ” اے اللہ ! مضر قبیلہ کو روند ڈال، ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسے قحط میں مبتلا کردے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 946) اور عرض کی : ” اے اللہ فلاں کو اپنی گرفت میں لے لے فلاں کو اپنی گرفت میں لے لے “۔ آپ نے قریش کے نام لیے، اگر وہ سرعام ظلم کرنے والا ہے تو اس کے خلاف بدعا بھی جہرا ہوگی، نہ اس کی عزت محترم ہوگی، نہ اس کا بدن محترم ہوگا، نہ اس کا مال محترم ہوگا، ابو داؤد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ان کی کوئی چیز چوری کی گئی تھی، میں چور کے خلاف دعا کرتی تھی، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :” اپنی بدعا کے ساتھ اس کی سزا میں تخفیف نہ کر “ (2) (سنن ابی داؤد کتاب الادب جلد 2، صفحہ 316، ایضا حدیث 1279، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) عمرو بن شرید نے اپنے باپ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” قرض کی ادائیگی پر قادر شخص کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور اس کی سزا کو حلال کرتا ہے “۔ (3) (سنن ابی داؤد، کتاب القضیہ جلد 2 صفحہ 155) ابن مبارک نے کہا : اس کی عزت کو حلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت کلامی کی جاتی ہے اور اس کی سزا کے حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید کیا جاتا ہے، صحیح مسلم میں ہے ” غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (4) ‘(صحیح بخاری، باب الحوالۃ، حدیث نمبر 2125، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) خوشحال قادر شخص سے جب ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے اور وہ ٹال مٹول کرے تو یہ ظلم ہے یہ اس کی عزت کو مباح کردیتا ہے، اس لیے کہا جاتا ہے، فلاں لوگوں سے ٹال مٹول کرتا ہے، لوگوں کو حقوق روکتا ہے امام کے لیے اس کو ادب سکھانا اور اس کو تعزیر لگانا مباح کرتا ہے حتی کہ وہ اس عمل سے اجتناب کرے، یہی معنی سفیان سے بھی مروی ہے، یہی ابن المبارک کے قول کا معنی ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اس باب سے وہ نہیں ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عباس ؓ کا قول حضرت علی ؓ کے متعلق ہے جو انہوں نے حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان، حضرت زبیر، اور حضرت عبدالرحمن بن عومرضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی موجودگی میں کہا تھا : اے امیر المومنین ! میرے اور اس جھوٹے گنہگار، غادر خائن کے درمیان جو جھگڑا ہے اس کا فیصلہ کیجئے، کسی نے بھی ان پر بات کو لوٹایا نہیں، کیونکہ یہ فیصلہ تھا اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سچا اور صحیح سمجھتا تھا حتی کہ حضرت عمر ؓ نے ان پر جو واجب تھا وہ نافذ کردیا، یہ ابن عربی کا قول ہے، ہمارے علماء نے فرمایا : یہ اس صورت میں ہے جب مقامات و مراتب برابر ہوں لیکن جب مراتب میں فرق ہو تو کمتر لوگوں کو فضلاء پر زبان کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی (5) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1، صفحہ 513) بلکہ ان کا حق صرف دعوی کے ساتھ طلب کیا جائے گا دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ کی طرف سے جو گفتگو تھی وہ غصے میں تھی کیونکہ حضرت عباس ؓ نے یہ قول اپنے چچا ہونے کی حیثیت سے بولا، کیونکہ چچا باپ کی مثل ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں باپ جب بیٹے کے بارے میں ان الفاظ کا اطلاق کرتا ہے تو اس میں سختی اور جھڑکنے میں مبالغہ مقصود ہوتا ہے نہ کہ بیٹا واقعی ان امور سے موصوف ہوتا ہے، نیز وہ ایک دینی ولایت کے جھگڑے میں تھے حضرت ابن عباس ؓ کا خیال تھا کہ کہ ان کی اس میں مخالفت جائز نہیں اور ان کی اس مسئلہ میں مخالفت کو مخالف ان امور سے متصف کردیتا ہے پس آپ نے ان وجوہ کی بنا پر غصہ کی وجہ سے ایسا کہا تھا، جب حاضرین نے یہ جان لیا تھا تو کسی نے حضرت ابن عباس ؓ پر انکار نہ کیا یہ مازری اور قاضی عیاض (رح) وغیرہما کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) جس نے ظلم پڑھا یعنی ظاء اور لام کے فتحہ کے ساتھ، یہ زید بن اسلم کی قرات ہے یہ محمد بن کعب قرضی کے بعد مدینہ میں قرآن جاننے والے علماء میں سے تھے اور یہ ابن ابی اسحاق، ضحاک، حضرت ابن عباس، ابن جبیر، اور عطا السائب، رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، رحمۃ اللہ علیہم کی قرات ہے یعنی جس نے قول یا فعل میں ظلم کیا تو اس کی سرعام برائی بیان کرو، معنی میں فعل سے نہی ہے اور سے زجروتوبیخ کرنا ہے، معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا کہ جو نفاق سے توبہ کرے تو پھر اسے کہا جائے کہ کیا تو پہلے منافق نہیں تھا ؟ الا ظلم مگر جو نفاق پر قائم رہے، اس پر دلیل یہ قول ہے۔ (آیت) ” الا الذین تابوا، ابن زید نے کہا : یہ اس طرح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق خبر دی کہ دوزخ کے نچلے طبقہ میں، پس تو جہرا ان کی برائی کا بیان تھا پھر اس کے بعد ان کے متعلق فرمایا : ما یفعل اللہ بعذابکم ‘ یہ ان کو مانوس کرنا اور شکر و ایمان کی طرف بلانا ہے پھر مومنین کو فرمایا : (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوٓء من القول الا من ظلم “۔ یعنی جو مسلمان ہوجائے تو اسے منافق نہ کہو مگر وہ جو نفاق پر قائم ہو اسے کہا جائے گا کیا تو منافق، کافر نہیں ہے، تیرے لیے آگ کا نچلا طبقہ ہے اس جیسا اور کوئی قول، ایک قوم نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا کہ کسی کی سرعام برائی بیان کی جائے پھر استثنا منقطع ذکر فرمایا لیکن جو ظلم کرے وہ ظلم و زیادتی کرتے ہوئے مظلوم کی عزت کو بھی تار تار کرے جب کہ وہ ہے بھی ظالم۔ میں کہتا ہوں : یہ اکثر ظالموں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے ظلم کے ساتھ ساتھ اپنی زبان سے گالی گلوچ بھی دیتے ہیں اور مظلوم کی عزت کو بھی تار تار کرتے ہیں جس کو ان پر حرام کیا گیا تھا، ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہ معنی بھی ہو سکتا ہے۔ (آیت) ” الامن ظلم “۔ جس نے بری بات کہی مناسب ہے کہ ہم اس کے ہاتھ کو پکڑیں یہ پہلی کلام سے استثنا نہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں : اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں ایک حدیث یہ ہے خذوا علی ایدی سفھائکم (1) (شعب الایمان فی الامر بالمعروف، جلد 6، صفحہ 92) تم اپنے بیوقوفوں کے ہاتھوں کو پکڑو، اور ارشاد ہے ” اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو “ (2) (صحیح بخاری کتاب الاکراہ جلد 2، صفحہ 1026) صحابہ نے کہا : یہ مظلوم ہم اس کی تو مدد کریں گے، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ فرمایا ” تم اسے ظلم سے روکو، فراء نے (آیت) ” الامن ظلم “۔ یعنی ولا من ظلم، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکان اللہ سمیعاعلیما “۔ ظالم کو ڈرایا گیا ہے تاکہ وہ ظلم نہ کرے اور مظلوم کو اس جملہ سے ڈرایا گیا ہے کہ وہ انتقام لینے حد سے تجاوز نہ کرے، پھر اس کے بعد فرمایا (آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوئ “۔ عفو ودرگز کی رغبت دلائی، العفوا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس کا مطلب ہے انتقام پر قدرت ہوتے ہوئے معاف کرنا آل عمران میں (آیت) ” والعافین عن الناس “ (آل عمران : 134) کے تحت یہ مفہوم گزر چکا ہے، غور وفکر کرنے والوں کے لیے ان تھوڑے سے الفاظ میں بہت سے معانی موجود ہیں، بعض نے کہا : اگر تو معاف کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے معاف کرے گا، ابن المبارک نے روایت کیا ہے فرمایا : مجھے اس نے بتایا جس نے حسن سے سنا تھا کہ جب ساری امتیں قیامت کے روز رب العالمین کے سامنے گری پڑی ہوں گی تو آواز دی جائے گی : وہ کھڑا ہو جس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے تو وہ کھڑا ہوگا جس نے دنیا میں معاف کیا ہوگا، اس حدیث کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کرتا ہے : (آیت) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (الشوری : 40 )
Ayahs 4:150–151

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہے اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت نمبر : 150 تا 151۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین یکفرون “۔ پہلے مشرکین ومنافقین کا ذکر فرمایا تو اب اہل کتاب میں سے کفار کا ذکر فرمایا، کیونکہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ محمد ﷺ کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے، کیو کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم فرمایا۔ (آیت) ” یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ “۔ کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں فرق کرنا، اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں فرق کرنا کفر ہے۔ یہ اس لیے کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے اس طریقہ پر عبادت کرنا فرض کیا جو اس نے اپنے رسل کی زبانوں پر شروع کیا تھا جب انہوں نے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی شریعتوں کو رد کیا اور ان سے انکی شریعتوں کو قبول نہ کیا تو وہ عبودیت کے التزام سے انکار ہوگئے جس کے التزام کا نہیں حکم دیا گیا تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے انکاری کی طرح ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کا انکار کفر ہے، کیونکہ اس میں عبودیت اور طاعت کے التزام کا ترک کفر ہے اور اسی طرح رسولوں پر ایمان لانے میں تفریق کرنا بھی کفر ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض “۔ اس سے مراد یہود ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا، یہ قول سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ وہ اپنی عوام سے کہتے تھے، ہم اپنی کتب میں حضرت محمد ﷺ کا ذکر نہیں پاتے۔ (آیت) ” ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا “۔ یعنی وہ ایمان اور کفر کے درمیان راستہ بنانا چاہتے ہیں یعنی اسلام اور یہودیت کے درمیان نیا دین بنانا چاہتے ہیں۔ ذالک فرمایا ذینک نہیں فرمایا، کیونکہ ذالک تثنیہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر ذینک ہوتا تو بھی جائز ہوتا۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا “۔ جب پہلے ذکر فرمایا کہ وہ کہتے ہیں : (آیت) ” نؤمن ببعض ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں تو اس سے ان کے ایمان کا شبہ ہوتا تھا تو اس شبہ کو زائل کردیا تاکیدا فرمایا کہ یہ کافر ہیں، بعض پر ایمان لانا انہیں کچھ مفید نہیں جب کہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا جب انہوں نے رسول مکرم ﷺ کا انکار کیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی بھی انکار کیا اور اس رسول کا بھی انکار کیا جس نے رسول معظم ﷺ کی آمد کی بشارت دی تھی اسی وجہ سے یقینی طور پر یہ کافر ہیں (آیت) ” للکفرین “۔ یہ اعتدنا کے مفعول ثانی کے قائم مقام ہے یعنی کافروں کی تمام اقسام کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے میں عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر : 152۔ اس سے مراد نبی مکرم ﷺ اور آپ کی امت ہے۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ۔ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دو ۔ سو ان کے گناہ کی وجہ سے انکو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔

آیت نمبر : 153۔ یہود نے حضرت محمد ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھے اور یکبارگی کتاب لے آئیں جو آپکی سچائی مدعی ہو جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لائے تھے یہ انہوں نے آپ سے مطالبہ حجت بازی کے لیے کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آگاہ کیا کہ ان کے آباء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بڑی حجت بازی کی تھی انہوں نے کہا تھا : ہمیں اللہ کھلم کھلا دکھاؤ، یہ سورة بقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ جھرۃ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی رؤیۃ جھرۃ تو انہیں بجلی کی کڑک کے ساتھ سزا دی گئی، کیونکہ انہوں نے معجزات دیکھنے کے بعد بڑا سوال کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم اتخذوالعجل “۔ کلام میں حذف ہے اس کی تقدیر یوں ہے پھر ہم نے انہیں زندی کی اور زندہ رہے پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، سورة بقرہ میں یہ واقعہ تفصیلا گزر چکا ہے مزید ذکر سورة طہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ (آیت) ” من بعد ما جاء تھم البینت “۔ براہین، دلائل، ظاہری معجزات، یدبیضا، عصا، سمندر کا پھٹنا وغیرہ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پھر یہ سارے دلائل دیکھنے کے بعد (آیت) ” فعفونا عن ذالک اس ہٹ دھرمی کے باوجود ہم نے انہیں معاف کردیا۔ (آیت) ” واتینا موسیٰ سلطنا مبینا “۔ یعنی واضح حجت، یہ وہ آیات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے، ان کو سلطان کہا گیا ہے، کیونکہ جو ان آیات کو لے کر آیا تھا وہ حجت کے ساتھ غالب آیا تھا اور یہ آیات دلوں کو غالب کرنی والی تھیں، یعنی وہ جانتے تھے کہ انسان کی قوت میں اس کی مثل لانا ممکن نہیں۔
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

آیت نمبر : 154۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم “۔ یعنی ان کے میثاق توڑنے کے سبب ہم نے ان پر طور کو بلند کیا اور وہ میثاق تورات پر عمل کرنا تھا، پہاڑ کے بلند کرنے اور ان کے دروازہ سے داخل ہونا کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، (آیت) ” سجدا “ حال کی بنا پر منصوب ہے ورش نے (آیت) ” وقلنا لھم لاتعدوا فی السبت “۔ میں عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے عدا یعدو عدوا وعدوانا وعدوا وعداء سے مشتق کرکے پڑھا ہے، یعنی مچھلیاں پکڑنے کے ساتھ حد سے نہ بڑھا جیسا کہ سورة میں گزرچکا ہے۔ اصل میں تعتدوا تھا، تاکو دال میں ادغام کیا گیا، نحاس نے کہا : عین کا ساکن کرنا جائز نہیں، اس میں دو ساکنوں کو جمع نہ کیا جائے گا، اور جس نے اس طرح پڑھا ہے اس نے خطا کی ہے، (آیت) ” واخذنا منھم میثاقا غلیظا “ یعنی وہ عہد جو ان سے تورات کے بارے میں لیا تھا، بعض علماء نے فرمایا : یہ عہد قسم کے ساتھ مؤکد ہے اس لیے اس کو غلیظ کہا گیا ہے۔
Ayahs 4:155–156

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

آیت نمبر : 155 تا 156۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما نقضھم میثاقھم نقضھم “۔ کو جر با کی وجہ سے ہے اور (ما) زائدہ موکدہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما رحمۃ من اللہ “۔ (آل عمران : 159) یہ پہلے گزر چکا ہے، بامحذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے : فبنقضھم میثاقھم لعناھم، یہ قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، سامع کے علم کی وجہ سے فعل کو حذف کیا گیا، ابو الحسن علی بن حمزہ کسائی نے کہا : یہ ماقبل کے متعلق ہے معنی یہ ہے انہیں بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا ان کے ظلم کی وجہ سے اور ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے، فرمایا : انکے ظلم کی تفسیر بیان فرمائی جس کی وجہ سے بجلی کی کڑک نے انہیں پکڑ لیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنے عہد کو توڑا اور انبیاء کو قتل کیا اور باقی تمام ان کے اعمال قبیحہ جن میں انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ان تمام افعال کی وجہ سے بجلی کی کڑک نے انہیں پکڑ لیا، طبری وغیرہ نے اس کا انکار کیا ہے، کیونکہ بجلی کی کڑک میں وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں گرفتار ہوئے تھے اور جنہوں نے انبیاء کو قتل کیا اور حضرت مریم (علیہما السلام) پر بہتان باندھا، وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد تھے، پس جنہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) پر بہتان باندھا وہ بجلی کی کڑک میں گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ مہدوی وغیرہ نے کہا : یہ لازم نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے خبر ان کے متعلق دی ہو اور مراد ان کے آباء ہوں جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، زجاج نے کہا : (آیت) ” فبما نقضھم میثاقھم “۔ کا معنی ہے ہم نے انکے پختہ عہد توڑنے کی وجہ سے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں، کیونکہ یہ قصہ (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا “۔ تک طویل ہے اور وہ میثاق جو انہوں نے توڑا تھا وہ یہ تھا کہ وہ نبی مکرم ﷺ کی صفات بیان کریں، بعض علماء نے فرمایا : انکے عہد توڑنے، ان کے ایسا ایسا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، بعض علماء نے فرمایا : ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے، اور فاء مقحمہ ہے۔ (آیت) ” کفرھم اور قتلھم “ اس پر معطوف ہیں (آیت) ” بایت اللہ “ سے مراد ان کی کتب کی آیات ہیں جن میں انہوں نے تبدیلی کی، غلف، غلاف کی جمع ہے یعنی انہوں نے کہا : ہمارے دل پہلے ہی علم کے برتن ہیں، ہمارے پاس جو علم ہے اس کے علاوہ ہمیں کسی علم کی ضرورت ہی نہیں، بعض علماء نے کہا : یہ اغلف کی جمع ہے جو غلاف کے ساتھ ڈھانپا گیا یعنی ہمارے دل پردوں میں ہیں، جو آپ کہتے ہیں اسے ہم نہیں سمجھتے، یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ (آیت) ” قلوبنا فی اکنۃ “۔ (حم السجدہ : 5) یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ان کا مقصود رسولوں کی حجت کو دور کرنا ہے طبع کا معنی مہر لگانا ہے، یہ بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” بکفرھم “۔ یعنی ان کے کفر پر ان کے لیے جزا ہے جس طرح فرمایا (آیت) ” بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلا ما یؤمنون “۔ (بقرہ) یعنی ایمانا قلیلا تھوڑا ایمان یعنی بعض انبیاء پر ایمان لائے اور یہ ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے پھر دوبارہ فرمایا : (آیت) ” بکفرھم “۔ یہ اس لیے تاکہ وہ خبر دے کہ انہوں نے کفر کے بعد کفر کیا۔ بعض نے فرمایا : (آیت) ” وبکفرھم “۔ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار ہے، مابعد کی دلالت کی وجہ سے اس کو حذف کیا گیا، (آیت) ” بکفرھم “ میں عامل وہ ہے جو (آیت) ” فبما نقضھم کا ہے کیونکہ یہ اس پر معطوف ہے، اس میں عامل طبع ہونا جائز نہیں، اور بہتان عظیم جو انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) پر باندھا کہ یوسف نجار سے وہ ملی ہیں، حالانکہ یوسف نجار نیک لوگوں میں سے تھے، بہتان ایسے جھوٹ کو کہتے جس سے تعجب ہو یہ پہلے گزر چکا ہے، واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 4:157–158

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے۔ (خدا نے انکو ملعون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی۔ اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور پیروی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔

آیت نمبر : 157 تا 158۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم ‘۔ ان کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ قول کے بعد اس سے ابتدا کی گئی ہے اور لغتہ اس سے کلام شروع ہو رہی ہے۔ سورة آل عمران میں لفظ (آیت) ” المسیح “ کا اشتقاق گزر چکا ہے، (آیت) ” رسول اللہ “۔ بدل ہے اگر تو چاہے تو اس سے پہلے اعنی کا اعتبار کرلے، (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ “۔ یہ ان کے قول کا رد ہے۔ (آیت) ” ولکن شبہ لھم “۔ یعنی ان کی شبیہ کسی دوسرے پر ڈالی گئی جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، بعض لوگوں نے کہا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کو نہیں جانتے تھے انہوں نے اسے قتل کردیا جسے قتل کیا جب کہ انہیں اس میں شکل تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ “۔ بعض نے فرمایا : ان کے علماء کا اختلاف تھا، بعض نے فرمایا : تمام کی طرف سے اختلاف تھا، بعض نے فرمایا : صرف عوام کا اختلاف تھا، ان کے اختلاف کا معنی یہ ہے کہ ان میں سے بعض نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) الہ ہیں، بعض نے کہا : وہ ابن اللہ ہے، یہ حسن کا قول ہے۔ (1) (تفسیر الحسن، البصری، جلد 2، صفحہ 376) بعض نے فرمایا : ان کا اختلاف یہ تھا کہ ان کی عوام نے کہا : ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قتل کردیا، اور جنہوں نے آسمان کی طرف بلند ہوتا انہیں دیکھا انہوں نے کہا : ہم نے اسے قتل نہیں کیا، بعض نے کہا : ان کا اختلاف یہ تھا کہ نسطوریہ نصاری نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ناسوت کی جہت سولی چڑھایا گیا، لاہوت کی جہت سے نہیں، ملکانیہ نے کہا : حضرت عسی (علیہ السلام) پر سولی اور قتل ناسو ولاہوت دونوں جہتوں سے جاری ہوا، بعض نے کہا : ان کا اختلاف یہ تھا کہ انہوں نے کہا : اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں اور اگر یہ حضرت (علیہ السلام) ہیں تو ہمارا ساتھی کہاں ہے۔ (2) ؟ (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 148) بعض نے فرمایا : ان کا اختلاف یہ تھا کہ یہود نے کہا : ہم نے حضرت عسی (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے، کیونکہ یہوذا جو یہود کا سردار تھا یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سعی کی تھی، نصاری کے ایک طائفہ نے کہا : بلکہ ہم نے اسے قتل کیا ہے، ان میں سے ایک طائفہ نے کہا : بلکہ انہیں اللہ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے اور ہم اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ (3) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 184) (آیت) ” مالھم بہ من علم “ من زائدہ ہے اور کلام یہاں مکمل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الا اتباع الظن “ یہ پہلے استثنا نہیں یہ محل نصب میں ہے اور بدل کے اعتبار سے محل رفع میں ہونا بھی جائز ہے، یعنی (آیت) ” مالھم بہ من علم الا اتباع الظن۔ سیبویہ نے یہ شعر استشہاد پیش کیا ہے۔ وبلدۃ لیس بھا انیس الا الیعافیر ولا العیس : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما قتلوہ یقینا “۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی (رح) نے کہا : اس کا معنی ہے ما قتلوا ظنھم یقینا جس طرح تیرا قول ہے : قتلتہ علما جب تجھے مکمل طور پر علم ہو (1) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 544) (ہ) ضمیر کا مرجع الظن ہے، ابو عبید نے کہا : اگر یہ معنی ہوتا وما قتلوعیسی یقینا تو اللہ تعالیٰ فرماتا : وما قتلوہ، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے وما قتلوا الذی شبہ لھم انہ عیسیٰ یقینا اس مفہوم پر یقینا “ ، پر وقف ہوگا، بعض علماء نے فرمایا : اسکا معنی ہے وما قتلوا عیسیٰ ، اس مفہوم پر (آیت) ” وما قتلوہ “۔ پر وقف ہوگا، اور (آیت) ” یقینا “ مصدر محذوف کی صفت ہوگا اس میں دو تقدیریں ہوں گی (1) قالوا ھذا قولا یقینا یا قال اللہ ھذا قولا یقینا (2) معنی ہوگا ” وما علموہ علما یقینا، نحاس نے کہا : اگر تم یہ معنی مقدر کرو بل رفعہ اللہ الیہ یقینا تو یہ خطا ہے، کیونکہ بل کا مابعد اس کے ضعف کی وجہ سے ماقبل میں عمل نہیں کرتا، ابن انباری نے (آیت) ” ما قتلوہ “ پر وقف کی اجازت دی ہے، اس بنا پر کہ (آیت) ” یقینا “ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جو جواب قسم ہے تقدیر اس طرح ہوگی ولقد صدقتم یقینا یعنی صدقا یقینا اور (آیت) ” بل رفعہ اللہ الیہ “۔ نئی کلام ہیں یعنی اللہ نے انہیں آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ مکان سے پاک اور بلند ہے اس کے اٹھانے کی کیفیت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے، (آیت) ” وکان اللہ عزیزا “ یعنی اللہ تعالیٰ یہود سے انتقام لینے کی طاقت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے بطرس بن استیسانوس رومی کو ان پر مسلط کردیا، اس نے ان سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔ (آیت) ” حکیما “۔ اس نے یہود پر لعنت اور غضب کا فیصلہ فرمایا۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر انکی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں کے۔

آیت نمبر : 159۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن، مجاہد اور عکرمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا : اس کا معنی ہے ہر کتابی اپنی موت سے پہلے مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا (2) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2 صفحہ 378) پہلی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور دوسری ضمیر کا مرجع کتابی ہے، ہر یہودی اور نصرانی جب موت کے فرشتے کو دیکھتا ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا ہے، لیکن ایسا ایمان نفع بخش نہیں ہوتا، کیونکہ یہ مایوسی کے وقت کا ایمان ہے اور موت کی حالت سے متصل ایمان ہے۔ ہر یہودی اس وقت اقرار کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں اور ہر نصرانی اقرار کرتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول تھے۔ روایت ہے کہ حجاج نے شہر بن حوشب سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا : میں ایک یہود و نصاری سے قیدی لاتا ہوں اور اس کی گردن مارنے کا حکم دیتا ہوں پھر میں اس وقت اسے دیکھتا ہوں تو میں اس سے ایمان نہیں دیکھتا، شہر بن حوشب نے اسے کہا : جب وہ آخرت کے امر کو دیکھتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا ہے لیکن ایمان اسے فائدہ نہیں دیتا، حجاج نے شہر بن حوشب سے پوچھا : تو نے یہ قول کہاں سے لیا ہے شہر نے کہا : میں نے یہ محمد بن حنیفہ سے لیا ہے تو حجاج نے کہا : تو نے یہ چشمہ صافی سے لیا ہے، مجاہد ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا ہے، ان سے پوچھا گیا : اگر وہ غرق ہوجائے یا جل جائے یا اسے درندے کھا جائیں وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، بعض علماء نے فرمایا : دونوں ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں، معنی یہ ہیں کہ قرب قیامت کے وقت جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا تو جو عیسائی زندہ ہوگا وہ آپ پر ایمان لے آئے گا۔ یہ قتادہ ؓ ابن زید ؓ وغیرہما کا قول ہے، اور طبری نے اس کو اختیار کیا ہے۔ یزید بن زریع نے ایک شخص سے، انہوں نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ سے مراد قبل موت عیسیٰ ہے، اللہ کی قسم ! اب وہ اللہ کی بارگاہ میں زندہ ہیں لیکن وہ زمین پر اتریں گے تو سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2 صفحہ 378) ضحاک ؓ اور سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” لیؤمنن بہ “۔ ہ ضمیر کا مرجع حضرت محمد ﷺ ہیں اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں ہے، کیونکہ یہ تمام واقعات آپ نازل ہوئے اور مقصود آپ ﷺ پر ایمان لانا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کو متضمن ہے، کیونکہ ان کے درمیان تفریق جائز نہیں، بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” لیؤمنن بہ “۔ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی ہر کتابی موت سے پہلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے گا لیکن حقیقت دیکھنے کے وقت ایمان اسے نفع نہیں دے گا، پہلی دو تاویلیں زیادہ ظاہر ہیں، زہری نے سعید بن مسیب ؓ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” ابن مریم ایک عادل حاکم کی حیثیت سے اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور سجدہ صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہوگا (2) (صحیح بخاری، کتاب فضائل انبیاء، حدیث نمبر 3192، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو : (آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : اس سے مراد قبل موت عیسیٰ ہے، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، سیبویہ کے نزدیک آیت کی تقدیر اس طرح ہے : وان من اھل الکتاب احد لا لیومنن بہ “۔ اور کو فیوں کی تقدیر اس طرح ہے : وان من اھل الکتاب الا من لیومنن بہ، اس میں قبح ہے، کیونکہ اس میں موصول کا حذف ہے اور صلہ موصول کا بعض ہوتا ہے گویا بعض اسم حذف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا “۔ یعنی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرے گا اس کی تکذیب کی گواہی دیں گے اور جو تصدیق کرے گا اس کی تصدیق کی گواہی دیں گے۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت نمبر : 160 تا 161۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا “۔ زجاج نے کہا : یہ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ سے بدل ہے، اور (آیت) ” طیبت “۔ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ (الانعام : 146) اور ظلم کو تحریم پر مقدم فرمایا، کیونکہ ظلم کے متعلق خبر دینے کا مقصود یہی بیان کرنا ہے کہ یہ تحریم کا سبب ہے۔ (آیت) ” وبصدھم عن سبیل اللہ “۔ یعنی وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے روکتے ہیں، (آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ یہ سب اس ظلم کی تفسیر ہے جو وہ کیا کرتے تھے اور اسی طرح جو پہلے گزر چکا ہے کہ وہ عہد کو توڑتے تھے اور جو بعد میں آئیگا آل عمران میں گزر چکا ہے کہ تحریم کے سبب میں علماء کے مختلف تین اقوال ہیں۔ مسئلہ نمبر : (2) ابن عربی نے کہا : امام مالک (رح) کے مذہب میں کوئی اختلاف نہیں کہ کفار مخاطب ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ انہیں سود کھانے سے اور لوگوں کے ناحق مال کھانے سے منع کیا گیا ہے، اگر یہ اس کے متعلق خبر ہے جو قرآن میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے اور وہ خطاب میں داخل ہیں تو بھی بہتر ہیں اور اگر یہ خبر ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات میں نازل فرمایا اور انہوں نے احکامات کو بدلا، اور تحریف کی اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور نافرمانی کی تو کیا ہمارے لیے انکے معاملات جائز ہیں، جب کہ وہ قوم اپنے دین میں اپنے اموال کو خراب کرچکی ہے یا نہیں ؟ ایک طائفہ نے کہا : ان کا معاملہ جائز نہیں، کیونکہ ان کے اموال میں یہ فساد ہے، صحیح یہ ہے کہ انکے سود اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کے ارتکاب کے باوجود ان کے ساتھ معاملہ کرنا جائز ہے، اس پر قرآن وسنت سے قطعی دلیل قائم ہوچکی ہے۔ (آیت) ” وطعام الذین اوتوالکتب حل لکم “۔ (المائدہ : 5) یہ نص ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے یہود سے معاملات کیے اور آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی جو اپنے عیال کے لیے جو لینے کے لیے رہن رکھی تھی۔ شک اور خلاف کی بیماری کو جڑ سے ختم کرنے والی چیز امت کا اہل حرب کے ساتھ تجارت کرنے کے جواز پر اتفاق ہے نبی مکرم ﷺ نے تجارت کی خاطر ان کی طرف سفر کیا تھا، اس سفر سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ان کی طرف سفر کرنا اور انکے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے، اگر کہا جائے کہ یہ نبوت سے پہلے کا سفر تھا تو ہم کہیں گے : نبی مکرم ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے بھی کسی حرام کا ارتکاب نہیں کیا اور یہ تواتر سے ثابت ہے اور نہ بعثت کے بعد آپ نے کوئی عذر پیش کیا اور نہ اعلان نبوت کے بعد آپ سے منع ثابت ہے اور نہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اور نہ آپ کے وصال کے بعد کسی نے اہل کتاب کی طرف سفر کو ترک کیا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قیدیوں کو چھڑانے کے لیے سفر کرتے تھے اور یہ واجب ہے اور صلح میں حضرت عثمان ؓ کو بھیجا گیا تھا، اور کبھی یہ سفر واجب ہوتا ہے، اور کبھی مستحب، رہا صرف تجارت کی خاطر اہل کتاب کی طرف سفر کرنا تو وہ مباح ہے۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 515)
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

آیت نمبر : 162۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لکن الراسخون فی العلم منہم “۔ اہل کتاب کے مومنوں کی استثناء فرمائی، یہود انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ اشیاء اصل میں حرام تھیں اور آپ انہیں حلال کرتے ہیں اور یہ ہمارے ظلم کی وجہ سے حرام نہیں ہوئی ہیں تو یہ ارشاد نازل ہوا (آیت) ” لکن الراسخون فی العلم “۔ الرسخون فی العلم، سے مراد کتاب کا علم رکھنے والا ہے۔ الرسوخ سے مراد ثبوت ہے، یہ آل عمران میں گزر چکا ہے، اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام، کعب الاحبار اور ان جیسے دوسرے علماء ہیں، والمومنون سے مراد مہاجرین وانصار ہیں جو حضرت محمد ﷺ کے اصحاب تھے۔ (آیت) ” والمقیمین الصلوۃ “ حسن، مالک بن دینار (رح) اور ایک جماعت نے (آیت) ” المؤمنون “۔ پر عطف کی بنا پر المقیمون پڑھا ہے اسی طرح حضرت عبداللہ کی قرات میں ہے اور ابی کی قرات میں (آیت) ” والمقیمین ہے، جیسا کہ مصاحف میں ہے، اس کے نصب میں چھ اقوال ہیں اصح قول سیبویہ کا ہے کہ مدح کی بنا پر منصوب ہے یعنی اعنی المقیمین اور سیبویہ نے کہا : تعظیم کی بنا پر نصب دی گئی ہے، المقیمین الصلوۃ اسی بنا پر منصوب ہے۔ وکل قوم اطاعوا امر سیدھم الا نمیرا اطاعت امر غاویھا : امر مرشدھم بھی مروی ہے۔ الظاعنین ولما یظعنوا احدا والقائلون لمن دار نخلیھا : ایک اور شاعر نے کہا : ولا یبعدن قومی الذین ھم سم العداۃ وافۃ الجزر : النازلین بکل معترک واطیبون معاقد الازر : نحاس نے کہا : المیقین میں جو کہا گیا ہے اس میں سے اصح قول یہی ہے کہ تعظیم کی وجہ سے نصب دی گئی ہے۔ کسائی نے کہا : المقیمین کا عطف (ما) پر ہے، نحاس نے کہا : اخفش کا قول ہے کہ یہ بعید ہے، کیونکہ معنی یہ ہوجائے گا یومنون بالمقیمین “۔ یعنی وہ زکوۃ ادا کرنے والوں پر ایمان لاتے ہیں، محمد بن جریر (رح) نے حکایت کیا ہے کہ ان سے کہا گیا کہ یہاں المقیمین سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ نماز، تسبیح اور استغفار میں رہتے ہیں، جریر نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس نے حکایت کیا ہے مدح کی بنا پر نصب بعید ہے، کیونکہ مدح خبر کے مکمل ہونے کے بعد ہوتی ہے اور (آیت) ” الرسخون “ کی خبر (آیت) ” اولیئک سنؤتیھم اجرا عظیما “۔ ہے پس (آیت) ” المقیمین “ کو نصب مدح پر نہیں ہے، نحاس نے کہا : (آیت) ” المؤتون “ میں سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ ابتدا کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے، اور دوسرے علماء نے کہا : مبتدا کے اضمار پر رفع دیا گیا ہے یعنی وہ زکوۃ دینے والے ہیں بعض علماء نے فرمایا : المقیمین کا عطف قبلک کی کاف پر ہے، یعنی من قبلک ومن قبل المقیمین، بعض نے فرمایا الیک میں جو کاف ہے اس پر عطف ہے، بعض نے فرمایا : منھم میں ھا اور میم پر عطف ہے یعنی منھم ومن المقیمین یہ تینوں جوابات جائز نہیں، کیونکہ ان میں اسم ظاہر کا عطف مجرور مضمر اسم پر ہے۔ چھٹا جواب وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے متعلق اور ” ان ھذن لسحران “۔ اور الصبؤن “ جو سورة مائدہ میں ہے، ان کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے سائل سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کاتبوں نے غلطی کی ہے، ابان بن عثمان نے کہا : کاتب کو لکھایا جاتا تھا پس وہ لکھتا تھا، اس نے لکھا، لکن الراسخون فی العلم منھم والمومنون، پھر اس نے کہا : اب کیا لکھوں ؟ تو اسے کہا گیا : تم لکھو (آیت) ” والمقیمین الصلوۃ “ پھر یہاں اسی طرح واقع ہوا (٭) (باقلانی نے کہا : جس طرح الانتصار لنقل القرآن کے صفحہ 129 پر ہے ” حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ قول کہ یہ کاتب کی غلطی ہے تو ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ خبر واحد ہے اور اس میں کوئی حجت نہیں “ کیونکہ قرآن وہ ہے جو نقل متواتر سے ثابت ہے) قشیری نے کہا : یہ مسلک باطل ہے، کیونکہ جنہوں نے کتاب کو جمع لکھا ہے وہ لغت میں اسوۃ تھے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ قرآن میں وہ داخل کرتے تھے جو نازل نہیں ہوا تھا، ان اقوال میں سے اصح ترین قول سیبویہ کا ہے اور وہی خلیل کا قول ہے اور کسائی کا قول وہ ہے جسے قفال اور طبری نے اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

آیت نمبر : 163۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح یہ یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآئ “۔ کے کلام سے متصل ہے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت محمد ﷺ کا معاملہ بھی پہلے انبیاء کے معاملہ کی طرح ہے، حضرت ابن عباس ؓ اور ابن اسحاق (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یہ یہود کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سکین اور عدی بن زید تھا انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی کی طرف وحی نہیں کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی، وحی کا معنی خفیہ طور آگاہ کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : وحی الیہ بالکلام یحی وحیا، واوحی یوحی ایحاء (الی نوح) ان کو مقدم فرمایا کیونکہ یہ پہلے نبی تھے ان کی زبان پر شریعت جاری ہوئی بعض کے اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں۔ زبیر بن بکار نے ذکر کیا ہے کہ مجھے ابو الحسن علی بن مغیرہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن محمد بن سائب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے فرمایا : پہلے نبی جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر مبعوث فرمایا وہ حضرت ادریس (علیہ السلام) تھے انکا اسم اخنوخ ہے، پھر رسولوں کا سلسلہ ختم ہوگیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے نوح بن لمک بن متوشلخ بن اخنوخ کو مبعوث فرمایا، سام بن نوح نبی تھا، پھر رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبی مبعوث فرمایا اور اسے خلیل بنایا۔ وہ حضرت ابراہیم بن تارخ ہے اور تارخ کا اسم آزر ہے، پھر حضرت اسماعیل بن ابراہیم کو مبعوث فرمایا، پس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا وصال مکہ میں ہوا پھر حضرت اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) مبعوث ہوئے پس وہ شام میں فوت ہوئے پھر حضرت لوط (علیہ السلام) مبعوث ہوئے، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے چچا تھے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے وہ حضرت اسرائیل بن اسحاق (علیہ السلام) ہے، پھر حضرت یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے پھر حضرت شعیب بن یوبب پھر ہود بن عبداللہ مبعوث ہوئے پھر حضرت صالح بن آسف (علیہ السلام) مبعوث ہوئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ابنا عمران مبعوث ہوئے پھر حضرت ایوب (علیہ السلام) پھر حضرت خضریہ خضرون ہیں پھر حضرت داؤد بن ایشا (علیہ السلام) مبعوث ہوئے پھر حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) پھر حضرت یونس بن متی پھر حضرت الیاس (علیہ السلام) پھر حضرت ذوالکفل (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور ان کا اسم عویدنا ہے یہ یہوذا ابن یعقوب کی اولاد سے تھے۔ حضرت زبیر ؓ نے کہا حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور حضرت مریم بنت عمران ام عیسیٰ کے درمیان سترہ سو سال کا فاصلہ ہے، اور یہ دونوں سبط میں سے نہیں تھے، پھر حضرت محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب النبی ﷺ مبعوث ہوئے حضرت زبیر ؓ نے کہا : ہر نبی جن کا قرآن میں ذکر ہے وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے تھے سوائے حضرت ادریس (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے، عربوں میں سے صرف پانچ انبیاء تھے حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ وعلیھم اجمعین، ان کو عرب کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے علاوہ کسی نے عربی نہیں بولی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والنبین من بعدہ “۔ یہ تمام انبیاء کو شامل ہے، پھر فرمایا : (آیت) ” واوحینا الی ابراھیم “۔ بعض لوگوں کا ذکر فرمایا ان کے شرف کے لیے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ملئکتہ ورسولہ وجبریل ومیکل “۔ (بقرہ : 98) پھر فرمایا : (آیت) ” و عیسیٰ وایوب “۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان انبیاء سے مقدم فرمایا جو ان سے پہلے تھے، کیونکہ واو ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی، نیز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخصیص یہود کا رد ہے، اس آیت میں ہمارے نبی مکرم ﷺ کی شان اور شرف پر تنبیہ ہے، کیونکہ انبیاء پر آپ کے ذکر کو مقدم فرمایا اس کی مثل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح “۔ (الاحزاب : 7) نوح، النوح سے مشتق ہے، آل عمران میں ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہ منصرف ہے یہ عجمی اسم ہے اس کے تین حروف ہیں پس تخفیف کی گئی، ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق یہ عجمی اسماء ہیں یہ معرفہ بھی ہیں، اس لیے غیر منصرف ہیں اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) ہیں مگر عیسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) جائز ہے کہ ان میں الف تانیث کے لیے ہو پس یہ نہ معرفہ میں منصرف ہوں گے اور نہ نکرہ میں منصرف ہوں گے، یونس اور یوس، حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے نون کے کسرہ کے ساتھ یونس پڑھا ہے اسی طرح یوسف پڑھا ہے ان کو آنس اور آسف سے بنایا ہے، اس بنا پر ان کا منصرف ہونا اور ہمزہ سے ہونا واجب ہے اور ان کا جمع یآنس اور یآسف ہوگا اور جنہوں نے ہمزہ نہیں دیا انہوں نے یوانس ویواسف، ابو زید نے حکایت کیا ہے کہ یونس اور یوسف نون اور سین کے فتحہ کے ساتھ ہے، مہدوی نے کہا : یونس گویا اصل میں معروف کا صیغہ ہے اور یونس مجہول کا صیغہ ہے، ان کے ساتھ نام رکھا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتینا داؤد زبورا “۔ الزبور، حضرت داؤد (علیہ السلام) کی کتاب تھی اس میں ایک سو پچاس سورتیں تھیں اس میں نہ حکم تھا نہ حلال تھا نہ حرام تھا، اس میں حکمتیں اور مواعظ تھے، زبیر کا معنی کتابت ہے اور زبور بمعنی مذبور ہے یعنی المکتوب جیسے الرسول، الرکوب، الحلوب بمعنی المفعول ہیں، حمزہ نے زبور ازا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ زبر کی جمع ہے جیسے فلس اور فلوس اور زبر بمعنی المذبور ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ : ھذا الدرھم ضرب الامیر، یہاں ضرب بمعنی مضروب ہے اصل میں توثیق کے کلمہ میں استعمال ہوتا ہے، کہا جاتا ہے : بئرمزبورۃ یعنی پتھروں کے ساتھ لپٹا ہوا کنواں، کتاب کو زبور کہا جاتا ہے اس پر وثوق کی وجہ سے، حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بہت خوبصورت آواز تھی جب آپ زبور کی قرات شروع کرتے تھے تو ان کی آواز کی خوبصورتی کی وجہ سے انسان، جن، پرندے اور وحشی جمع ہوجاتے تھے، آپ متواضع تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے کھاتے تھے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ ہمیں ابو اسامہ نے بتایا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت داؤد (علیہ السلام) لوگوں کو خطاب کرتے تھے جب کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کے پتوں کی گٹھڑی ہوتی تھی جب وہ فارغ ہوتے تو قریب والا شخص ان سے لے لیتا اور اسے بیچتا آپ زرہیں بناتے تھے اور حدیث میں ہے ” آنکھ میں نیلا رنگ برکت ہے ‘ اور داؤد (علیہ السلام) کی آنکھیں نیلی تھیں۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

آیت نمبر : 164۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ورسلا قد قصصنھم علیک من قبل “۔ یعنی مکہ میں اور رسلا کی نصب فعل مضمر کی وجہ سے ہے یعنی وارسلنا رسلا، کیونکہ ” اوحینا الی نوح “ کا معنی ہے وارسلنا نوح “۔ بعض علماء نے فرمایا : فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس پر قصصنھم “ دلالت کر رہا ہے یعنی قصصنا رسلا “۔ اس کی مثل سیبویہ نے اس شعر سے دی ہے۔ اصحبت لا احمل السلاح ولا املک راس البعیر ان نفرا : والذئب اخشاہ ان مررت بہ وحدی واخشی الریاح والمطرا : یعنی اخشی الذئب، اور حضرت ابی کی قرات میں ورسل “ رفع کے ساتھ ہے اس کی تقدیر یہ ہے منہم رسل “ پھر فرمایا گیا : اللہ تعالیٰ نے جب اپنی کتاب میں بعض انبیاء کے اسماء ذکر فرمائے اور بعض کے ذکر نہ فرمائے تو جن کا ذکر فرمایا ان کو فضیلت ہے ان پر جن کا ذکر نہیں فرمایا، یہود نے کہا : محمد ﷺ نے انبیاء کا ذکر کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ تکلیما “ ، مصدر ہے اس کا معنی تاکید ہے یہ اس کے قول کے بطلان پر دلالت کرتا ہے جو کہتا ہے : اس نے درخت میں اپنے لیے کلام تخلیق کی پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے سن لیا، بلکہ یہ وہ حقیقی کلام ہے جس کے ساتھ متکلم، متکلم ہوتا ہے، نحاس نے کہا : نحویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب فعل مصدر کے ساتھ مؤکد ہوتا ہے تو وہ مجازا نہیں ہوتا اور شاعر کے قول میں یہ جائز نہیں : امتلاء الحوض وقال قطنی : کہ قال قولا اسی طرح جب تکلیما فرمایا تو یہ اس حقیقی کلام پر محمول ہوگا جو سمجھی جاتی ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : یارب ! مجھے تو نے کیوں کلیم بنایا ؟ انہوں نے وہ عمل طلب کیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نہیں سعادت عطا فرمائے تاکہ وہ اس عمل کو زیادہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : کیا تجھے یاد ہے جب کوئی بکری کا بچہ بھاگ جاتا ہے پھر تو دن کا اکثر حصہ اس کے پیچھے لگا رہتا ہے اور وہ تجھے تھکا دیتا ہے پھر تو اسے پکڑتا ہے اور اسے بوسہ دیتا ہے پھر اسے اپنے سینے سے لگاتا ہے اور تو اسے کہتا ہے : تو نے مجھے تھکایا اور اپنے آپ کو بھی تھکایا اور تو اس پر غصے نہیں ہوتا اس وجہ سے میں نے تجھے کلیم بنایا :
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

آیت نمبر : 165۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین رسلا قد قصصنھم سے بدل کی بنا پر منصوب ہے اور فعل کے اضمار پر منصوب ہونا جائز ہے اور حال کی بنا پر نصب بھی جائز ہے یعنی (آیت) ” کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ رسلا “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ تو نے ہم پر کوئی کتاب نازل کی اور قرآن حکیم میں ہے (آیت) ” وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ (بنی اسرائیل) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک (طہ : 134) ان تمام آیات میں دلیل ہے کہ عقل کی طرف سے کوئی چیزواجب نہیں، کعب الاحبار سے مروی ہے فرمایا کہ بارہ لاکھ انبیاء کرام تشریف لائے تھے۔ مقاتل نے کہا : چودہ لاکھ چوبیس ہزار انبیاء تھے، حضرت انس بن مالک ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا :” میں آٹھ ہزار انبیاء کے بعد مبعوث کیا گیا ان میں سے چار ہزار بنی اسرائیل سے تھے “ (1) یہ ابو الیث سرقندی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے، پھر شعبہ عن ابی اسحاق عن الحارث الاعور بن ابی ذر الغفاری کی سند سے ذکر فرمایا کہ حضرت ابوذر ؓ نے کہا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ انبیاء کتنے تھے اور رسول کتنے تھے ؟ فرمایا ” انبیاء ایک لاکھ چوبیس ہزار تھے اور تین سوتیرہ رسول تھے ‘ (2) میں کہتا ہوں یہ صحیح ترین قول ہے الاجری، ابو حاتم البستی نے اپنی مسند صحیح میں اس قول کو ذکر کیا ہے۔
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

آیت نمبر : 166۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لکن اللہ یشھد “ ابتدا کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے اگر تو چاہے تو نون کو شددے اور اسم جلالت کو نصب دے کلام میں حذف ہے جس پر موجود کلام دلالت کر رہا ہے گویا کفار نے کہا : اے محمد ! ہم تیرے لیے گواہی نہیں دیتے اس کے بارے میں جو تو کہتا ہے تو پھر تیرے لیے کون گواہی دے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لیکن اللہ گواہی دیتا ہے۔ (آیت) ” انزلہ بعلمہ “ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تو اس کے اہل ہے کہ تجھ پر قرآن نازل ہو۔ یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ جانتا ہے۔ (آیت) ” والملئکۃ یشھدون “۔ ملائکہ کی شہادت کا ذکر فرمایا تاکہ اس کے ساتھ کفار کی شہادت کی نفی ہوجائے۔ (آیت) ” وکفی باللہ شھیدا “۔ اس میں با زائدہ ہے معنی ہے کفی اللہ شاھدا۔
Ayah 4:167

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

آیت نمبر : 167۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ یعنی یہود، (آیت) ” وصدوا عن سبیل اللہ “ یعنی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے لوگوں کو اپنے اس قول سے روکا کہ ہم اپنی کتاب میں حضرت محمد ﷺ کی صفت کو نہیں پاتے، نبوت، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں ہے اور تورات میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہ ہوگی۔ (آیت) ” قد ضلوا ضللا بعید “۔ کیونکہ انہوں نے کفر کیا اس کے ساتھ لوگوں کو انہوں نے اسلام سے منع کیا۔
Ayahs 4:168–169

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

آیت نمبر : 168 تا 169۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “ یعنی یہودی، یعنی حضرت محمد ﷺ کی شان چھپا کر انہوں نے محمد ﷺ پر ظلم کیا اور اپنے نفسوں پر ظلم کیا جب کفر کیا اور لوگوں پر ظلم کیا جب انہیں چھپایا۔ (آیت) ” لم یکن اللہ لیغفرلھم “ یہ اس کے بارے میں ہے جو اپنے کفر پر مرا اور توبہ نہ کی۔