4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 4:45–53

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز اور کافی مددگار ہے

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ (تم سے گفتگو کے وقت) راعنا کہتے ہیں اور اگر یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو انکی حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی درست ہوتی لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں ؟ نہیں بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے کہ تم لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں) اور ان کا یہ قول ہے : (آیت) ” لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا اونصری “۔ (بقرہ : 111) نہیں داخل ہوگا جنت میں (کوئی بھی) بغیر ان کے جو کہ یہودی ہیں یاعیسائی، اور ضحاک ؓ اور سعدی (رح) نے کہا : ان کا یہ قول ہے ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے، جو ہم دن کے وقت کرتے ہیں وہ رات کو معاف کردیا جاتا ہے اور جو ہم رات کو کرتے ہیں اور دن کو معاف کردیئے جاتے ہیں، ہم گناہوں کے نہ ہونے میں بچوں کی طرح ہیں، مجاہد، ابو مالک اور عکرمہ (رح) نے کہا : ان کا نماز کے لیے چھوٹے بچوں کا آگے کرنا اس لیے تھا، کیونکہ ان پر گناہ نہیں ہیں، یہ آیت کے مقصد سے بعید ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ ان قول ہے کہ جو ہمارے آباء فوت ہوگئے ہیں اور وہ ہمارے لیے شفاعت کریں گے اور ہمارا تزکیہ کریں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : یہ ان کی ایک دوسرے پر ثنا ہے۔ (4) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 65 دارالکتب العلمیہ) جو کچھ کہا گیا ہے یہ قول اس سے بہتر ہے، کیونکہ یہ آیت کے معنی سے ظاہر ہے، الزکیۃ کا معنی گناہوں سے پاک کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت اور فلا تزکوا انفسکم “۔ (النجم : 32) کا ارشاد تقاضا کرتا ہے کہ مزکی اپنی تعریف سے اپنی زبان کو روکے اور کسی کو اپنے اعمال کے بارے نہ بتائے، کیونکہ حقیقت میں قابل ستائش وہ ہے جس کے افعال اچھے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کا تزکیۃ فرمائے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 66۔ 65 دارالکتب العلمیہ) انسان کے اپنے تزکیۃ کا کوئی اعتبار نہیں اصل اعتبار اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کا تزکیہ کرنا ہے۔ صحیح مسلم میں محمد بن عمرو بن عطا، سے مروی ہے فرمایا : میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا، مجھے زینب بنت ابی سلمہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع کیا ہے اور تو نے اس کا نام برہ رکھا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم اپنی تعریف خود نہ کرو اللہ تعالیٰ تم سے نیکو کاروں کو بہتر جانتا ہے “۔ صحابہ نے کہا : ہم اس کا کیا نام رکھیں : فرمایا :” اس کا نام زینب رکھو “۔ (2) (صحیح مسلم کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 208) کتاب وسنت دلالت کرتی ہیں کہ انسان اپنا تزکیہ نہ کرے، اس طرح اب مصری شہروں میں کثرت سے اپنی صفات لوگ ذکر کرتے ہیں جو تزکیہ کا تقاضا کرتی ہیں مثلا زکی الدین، محی الدین اور اس کے مشابہ القاب لیکن جب ان اسماء کے ساتھ مسلمانوں کی قباحتیں زیادہ ہوگئیں تو ان صفات کا اپنے اصل سے دور ہونا ظاہر ہوگیا اور یہ اس طرح ہوگئیں کہ اب کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ مسئلہ نمبر : (3) کسی دوسرے کا تزکیہ کرنا اور اس کی مدح کرنا، بخاری میں ابو بکرہ کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص کا نبی مکرم ﷺ کے پاس ذکر کیا گیا اور ایک شخص نے اس کی خیر کے ساتھ تعریف کی، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تجھ پر افسوس تو نے اپنے بھائی کی گردن توڑ دی، آپ ﷺ نے یہ کئی مرتب فرمایا۔ اگر تم میں سے کوئی لامحالہ کسی کی تعریف کرنے والا ہو تو اسے کہنا چاہیے میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں اگر وہ اسے اس طرح دیکھتا ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے “۔ (3) (صحیح بخاری کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 895) اور نبی مکرم ﷺ نے انسان کی ایسی تعریف کرنے سے منع فرمایا جو اس میں نہ ہو ورنہ اس میں اعجاب وکبر داخل ہوجائے گا اور گمان کرے گا کہ وہ حقیقت میں اس مقام پر فائز ہے اور یہ چیز اسے عمل کے ضائع کرنے اور فضیلت کی زیادتی کو ترک کرنے تک پہنچا دے گی، اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ویحک قطعت عنق صاحبک تجھ پر افسوس تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ اور دوسری حدیث میں ہے : قطعتم ظھر الرجل (4) (صحیح بخاری کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 895) تم نے آدمی کی پیٹھ توڑ دی، یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب لوگوں نے ایک شخص کی ایسی تعریف کی جو اس میں نہیں تھی، اس بناء پر علماء نے نبی مکرم ﷺ کے ارشاد احثوا التراب فی وجوہ المداحین “۔ (5) (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، جلد 7، صفحہ 214) (تعریف کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی ڈالو) کی تاویل کی ہے، یہاں ایسے تعریف کرنے والے مراد ہیں جو باطل طریقہ سے مدح کریں اور ایسی صفات بیان کریں جو انسان میں نہ ہوں حتی کہ اس کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہوں اس کے ذریعے ممدوح سے کھانا حاصل کرتے ہو اور اسے فتنہ میں مبتلا کرتے ہوں، رہا کسی کا کسی کی ایسے اچھے عمل اور محمود امر پر تعریف کرنا جو واقعی اس میں ہے تاکہ اس میں مزید اچھے اعمال کی ترغیب ہو اور لوگوں کو اس کی اقتدا پر ابھارا جائے تو یہ وہ مدح نہیں ہوگی (جس کی مذمت کی گئی ہے) اگرچہ وہ انسان کے اچھے افعال واقوال کی تعریف کرنے والا ہو۔ نبی مکرم ﷺ نے اشعار، خطبوں اور کلام کی خود تعریف فرمائی اور تعریف کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی نہ ڈالی اور نہ اس کا حکم دیا جیسے ابوطالب کا قول ہے۔ : وابیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامی عصمۃ للررالمل : اس طرح نبی مکرم ﷺ نے حضرت عباس ؓ اور حضرت حسان ؓ کی ان کے اشعار کی وجہ سے تعریف فرمائی، حضرت کعب بن زہیر ؓ کی مدح فرمائی اور اپنے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مدح فرمائی فرمایا : ” تم طمع کے وقت کم ہوگئے اور گھبراہٹ کین وقت زیادہ ہوگئے “ صحیح حدیث میں رہا نبی مکرم ﷺ کا یہ ارشاد ” لا تطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ بن مریم وقولوا عبداللہ ورسولہ “ (1) (صحیح بخاری کتاب الانبیائ، جلد 2، صفحہ 490) (یعنی تم میری اس طرح تعریف میں مبالغہ نہ کرو جس طرح نصاری نے عیسیٰ بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا اور تم کہو عبداللہ ورسولہ) اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میری ایسی صفات بیان نہ کرو جو مجھ میں نہیں ہیں جنکے ذریعے میری مدح تلاش کرتے ہو، جس طرح نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایسی صفات بیان کی تھیں جو ان میں تھیں جوان میں نہیں تھیں، انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں، پس اس طرح انہوں نے کفر کیا اور گمراہ ہوئے، یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جس کسی کو اس کی حد سے بلند کیا اور اس کی ایسی صفات بیان کیں کہ اس کی قدر تجاوز کیا تو وہ شخص حد سے بڑھنے والا گنہگار ہے، کیونکہ یہ اگر کسی میں جائز ہوتا تو سب مخلوق سے زیادہ اس کے مستحق رسول اللہ ﷺ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا یظلمون فتیلا، یظلمون “ میں ضمیر ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہے جو اپنا تزکیہ کرتے ہیں اور جن کا اللہ تعالیٰ تزکیہ فرماتا ہے، اور ان دو اصناف کے علاوہ جو لوگ ہیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں۔ الفتیل کھجور کی گٹھلی کی شق میں جو سفید دھاگا ہوتا ہے اسے کہتے ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ عطا اور مجاہد کا قول ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 66 دارالکتب العلمیہ) بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ باریک پردہ ہے جو گٹھلی کے اردگرد ہوتا ہے جب کھجور پکی اور کچی کیفیت کے درمیان ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو مالک اور سدی ؓ کا قول ہے جب تو اپنی انگلیوں اور ہتھیلیوں کو ملتا ہے تو جو میل نکلتی ہے اس کو فتیل کہتے ہیں (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 66 دارالکتب العلمیہ) یہ فعیل بمعنی مفعول ہے، یہ تمام مفہوم کسی شے کی تحقیر اور تصغیر سے کنایہ ہیں، اور اللہ تعالیٰ کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا اسی تحقیر کی مثال یہ ارشاد ہے : ولا یظلمون نقیرا “ ، نقیر اس نکتہ کو کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے، اسی سے کھجور پیدا ہوتی ہے۔ شاعر نے کسی بادشاہ کی مذمت میں کہا : تجمع الجیش ذا الالوف وتغرر ثم لا ترزا العدو فتیلا : پھر نبی مکرم ﷺ کو اس سے تعجب کرایا، فرمایا (آیت) ” انظر کیف یفترون علی الکذب “۔ (دیکھیے کیسے اللہ پر افترا باندھتے ہیں) اپنے اس قول میں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، بعض علماء نے فرمایا : وہ اپنی ستائش خود کرتے ہیں (4) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 66 دارالکتب العلمیہ) یہ ابن جریج سے مروی ہے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہمارے لیے کوئی گناہ نہیں سوائے اس کے جس طرح ہمارے بیٹوں کے گناہ ہیں جس دن کی پیدائش ہوتی ہے الافتراء کا معنی جھوٹ گھڑنا ہے، اسی سے ہے : افتری فلان علی فلان، یعنی اس نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی، فریت الشیء، میں نے اسے کاٹ دیا، (آیت) ” وکفی بہ اثما مبینا “۔ بیان کی بنا پر منصوب ہے مطلب گناہ کی بڑائی اور اس کی مذمت ہے، عرب اس کی مثل مدح اور مذمت میں استعمال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم تر الی الذین اتو انصیبا من الکتب “۔ یعنی یہود، (آیت) ” یؤمنون بالجبت والطاغوت “۔ اہل تاویل کا الجبت اور الطاغوت کی تاویل میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس ؓ ، ابن جبیر، اور ابو العالیہ نے کہا : حبشی زبان میں الجبت جادوگر کو کہتے ہیں اور الطاغوت کاہن کو کہتے ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 66 دارالکتب العلمیہ) حضرت فاروق اعظم سیدنا عمر ؓ نے فرمایا : الجبت سے مراد جادو ہے اور الطاغوت سے مراد شیطان ہے۔ (2) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 158) حضرت ابن مسعود ؓ سے فرمایا : الجبت اور الطاغوت سے مراد یہاں کعب بن اشرف اور حی بن اخطب ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : اجبت سے مراد حی بن اخطب ہے اور الطاغوت سے مراد کعب بن اشرف ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “۔ قتادہ ؓ نے کہا : الجبت سے مراد شیطان ہے اور الطاغوت سے مراد کاہن ہے۔ (3) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 158) ابن وہب نے حضرت مالک بن انس ؓ سے روایت کیا ہے الطاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، فرمایا میں نے کسی شخص کو یہ کہتے سنا کہ جبت سے مراد شیطان ہے، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے، بعض نے فرمایا : یہ دونوں اللہ کے سوا ہر معبود کے لیے استعمال ہوتے ہیں یا وہ جس کی اللہ کی معصیت میں اطاعت کی جاتی ہے۔ یہ احسن ہے۔ الجبت کا اصل الخبس ہے وہ جس میں خیر نہ ہو، تاسین کا بدل ہے، یہ قطرب کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الجبت سے مراد ابلیس ہے اور الطاغوت سے مراد اس کے اولیاء ہیں، اس باب میں امام مالک (رح) کا قول بہتر ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوالطاغوت “۔ (النحل : 36) اور فرمایا (آیت) ” والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا “۔ (الزمر : 17) قطن بن المخارق نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اطرق والطیرۃ والعیافۃ من الجبت “۔ (4) (مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ 477) الطرق، سے مراد جھڑکنا ہے اور العیافۃ سے مراد خط ہے، اس حدیث کو ابو داؤد نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے بعض علماء نے فرمایا : الجبت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کو اللہ نے حرام کیا اور الطاغوت سے مراد ہر سرکش انسان ہے، واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقولون للذین کفروا “۔ یہود، قریش کے کفار کو کہتے : تم محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ کعب بن اشرف ستر سوار لے کر مکہ کی طرف جنگ احد کے بعد نکلا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ پر قریش سے معاہدہ کرے، کعب ابو سفیان کے پاس اترا اس نے اسے اچھا ٹھکانا دیا اور باقی یہود دوسرے قریش کے گھروں میں ٹھہرے سب نے معاہدہ کیا کہ محمد ﷺ سے لڑیں گے، ابو سفیان نے کہا : تو ایک ایسا شخص ہے جو کتاب پڑھتا ہے اور جانتا ہے اور ہم امی (ان پڑھ) لوگ ہیں، ہم نہیں جانتے ہم میں سے کون حق کے زیادہ قریب اور ہدایت یافتہ ہے، ہم یا محمد ﷺ کعب نے کہا : اللہ کی قسم ! تم محمد ﷺ سے زیادہ راہ راست پر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ام لھم نصیب من الملک “۔ ام متصلہ ہے نصیب کا معنی حصہ ہے، ” من الملک “۔ ملک سے ہے۔ یہ بطور انکار ہے یعنی انکے لیے کوئی ملک نہیں ہے اگر اس میں سے ان کے لیے کچھ ہوتا تو اپنے بخل اور حسد کی وجہ سے کسی کو کچھ نہ دیتے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے بلکہ کیا انکے لیے حصہ ہے (1) ؟ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 67 دارالکتب العلمیہ) اس صورت میں ام منقطعہ ہوگا اس کا معنی پہلی بات سے اضراب اور دوسری کے لیے آغاز ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ عاطفہ ہے، محذوف پر عطف ہے، کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے نفرت کرتے تھے، تقدیر اس طرح ہے اھم اولی بالنبوۃ ممن ارسلتہ ام لھم نصیب من الملک۔ (آیت) ” فاذا لا یؤتون الناس نقیرا “۔ یعنی وہ لوگوں کے حقوق روکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے متعلق ان کے عمل کی خبر دی جو ان کے متعلق وہ جانتا ہے۔ النقیرگٹھلی کی پیٹھ پر نکتہ کو کہتے ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ وغیرہ سے مروی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ النقیر جو انسان اپنی انگلی سے کریدتا ہے جس طرح وہ زمین کو کریدتا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے النقیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے انگوٹھے کی طرف اپنی شہادت کی انگلی کے باطن پر رکھی پھر دونوں کو بلند کیا اور کہا یہ نقیر ہے۔ (2) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 165) النقیر اصل میں وہ لکڑی ہے جس کو کریدا جاتا ہے اور اس میں نبیذ بنائی جاتی ہے، اس کے استعمال میں پہلے نہی وارد ہوئی تھی پھر منسوخ ہوگئی، فلان کریم النقیر ‘۔ یعنی کریم الاصل ہے۔ اذا یہاں معلغہ ہے، غیر عاملہ ہے، کیونکہ اس پر فاعاطفہ داخل ہے اور اگر نصب دیتا تو جائز ہوتا، سیبویہ نے کہا : اذا افعال کے عوامل میں اس طرح ہے جس طرح اسماء کے عوامل میں اظن ہے، یعنی جب کلام کا اعتماد اس پر نہ ہو لغو ہوتا ہے اور اگر کلام کی ابتدا میں ہو تو اس کے بعد فعل مستقبل ہو تو یہ نصب دیتا ہے جیسے تیرا قول ہے : انا ازورک میں تیری زیارت کو آؤں گا، وہ تجھے جوابا کہے : اذا اکرمک، عبداللہ بن عتمہ الضبی نے کہا : اردد حمارک لا یرتع بروضتنا اذن یرد وقید العیر مکروب : یہاں اذن نے نصب دی ہے، کیونکہ اذن سے پہلے جو کلام ہے وہ مکمل ہے اور یہ ابتدائے کلام میں واقع ہوا ہے اگر یہ دو چیزوں کے درمیان واقع ہو جیسے تیرا قول ہے، زید اذا یزورک تو لغو ہوتا ہے۔ اگر اس پر یا عاطفہ یا واؤ عاطفہ داخل ہو تو اس میں اعمال اور الغاجائز ہے۔ اعمال اس کے لیے کہ واؤ کے بعد نئی کلام ہے، جملہ کا عطف جملہ پر ہے، اور غیر قرآن میں فاذا لا یوتوا جائز ہے، قرآن میں ہے : (آیت) ” واذا لایلبثون “۔ (الاسراء : 76) اور مصحف ابی میں تھا : واذا لا یلبثوا “۔ اور الغا اس لیے کہ واؤ کے بعد جو ہوتا ہے وہ اس کلام کے بعد ہوتا ہے جس پر عطف کیا جاتا ہے، سیبویہ کے نزدیک فعل کے لیے ناصب اذن ہے اور خلیل کے نزدیک اذن کے بعد ان مضمرہ ناصب ہے، فراء نے کہا : اذا الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے، اور یہ منون ہے ،۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو العباس محمد بن یزید کو یہ کہتے سنا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اس شخص کے ہاتھ کو داغ دوں جو اذا کو الف کے ساتھ لکھتا ہے کیونکہ یہ لن اور ان کی مثل ہے اور حروف میں تنوین داخل نہیں ہوتی۔
Ayahs 4:54–55

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور دانائی عنایت فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو ان نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دورزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

آیت نمبر : 54، تا 55) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ام یحسدون “ اس سے مراد یہود ہیں، ” الناس “ سے مراد خاص نبی مکرم ﷺ ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ وغیرہما سے روایت ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبی مکرم ﷺ سے نبوت ملنے پر حسد کیا تھا آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر حسد کیا تھا ان کے ایمان لانے پر، قتادہ ؓ نے کہا : ” الناس “ سے مراد عرب ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبوت کی وجہ سے ان سے حسد کیا، ضحاک ؓ نے کہا : یہود نے قریش سے حسد کیا، کیونکہ ان میں نبوت تھی، حسد مذموم ہے اور حسد کرنے والا مغموم ہے حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھاتی ہے، حضرت انس ؓ نے نبی مکرم ﷺ سے یہ روایت کیا ہے حسن نے کہا : میں نے حاسد سے زیادہ کوئی ظالم نہیں دیکھا جو مظلوم کے زیادہ مشابہ ہو جس کا نفس ہمیشہ قلق میں رہتا ہے، غم لاحق رہتا ہے اور اس کے آنسو ختم ہی نہیں ہوتے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ کی نعمتوں پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں عطا فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی بعض کتب میں فرماتا ہے : حسد کرنے والا میری نعمتوں کا دشمن ہے، میری قضا سے ناراض ہے اور میری تقسیم پر خوش نہیں ہے، منصور الفقیہ نے کہا : الاقل لمن ضل لی حاسدا اتدری علی من اساءت الادب : اسات علی اللہ فی حکمہ اذا انت لم ترض لی ما وھب : ” خبردار میرے حاسد کو کہو : کیا تو جانتا ہے تو نے کس کی بےادبی کی ؟ تو نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سلسلہ میں اس کی بےادبی کی جب تو مجھ سے خوش نہیں جو اس نے مجھے عطا فرمایا “۔ کہا جاتا ہے : حسد پہلا گناہ ہے جس کے ساتھ آسمان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی اور پہلا گناہ ہے جس کے ساتھ زمین میں نافرمانی کی گی، آسمان میں ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے حسد کیا اور زمین میں قابیل نے ہابیل سے حسد کیا، ابو العتاہیہ نے لوگوں کے بارے میں کہا : فیارب ان الناس لا ینصفوننی فکیف ولو انصفتھم ظلمونی : وان کان لی شیء تصدوا لاخذہ وان شئت ابغی شیئھم منعونی : وان نالھم بذلی فلا شکر عندھم وان انا لم ابذل لھم شتمونی : وان طرقتنی نکبۃ فکھوا بھا وان صحبتی نعمۃ حسدونی : سامنع قلبی ان یحن الیھمو واحجب عنھم ناظری وجفونی : (1) (دیوان ابی البتاہیۃ، صفحہ 308) بعض علماء نے فرمایا : جب تجھے پسند ہو تو حاسد سے سلامت رہے تو اس پر اپنا معاملہ ظاہر نہ کر۔ قریش سے ایک شخص نے کہا : حسدوا النعمۃ لما ظھرت فرموھا یاباطیل الکلم : واذا ما اللہ اسدی نعمہ لم یضرھا قول اعداء النعم : اور کتنا خوب کہا ہے : اصبر علی حسد الحسود فان صبرک قاتلہ : فالنار تاکل بعضھا انلم تجد ماتاکلہ : بعض اہل تفسیر نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من الاسفلین “۔ (حم السجدہ) کے تحت فرمایا : کہ الذین سے مراد جنوں میں سے ابلیس ہے اور انسانوں میں سے قابیل ہے، کیونکہ ابلیس پہلا فرد ہے جس نے کفر کا طریقہ جاری کیا اور قابیل پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ جاری کیا۔ اس کی اصل حسد ہے، شاعر نے کہا : مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فقد اتینا “ پھر اللہ تعالیٰ نے نے بتایا کہ اس نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا فرمائی اور انہیں ملک عظیم بخشا، ہمام بن حارث نے کہا : ان کی فرشتوں کے ذریعے تائید کی گئی (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) بعض نے فرمایا : یہاں ملک سے مراد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہی ہے (3) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 169) حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی ہے کیا وہ حضرت محمد ﷺ سے حسد کرتے ہیں اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عورتیں حلال کیں ؟ پس اس بنا پر ملک عظیم سے مراد یہ ہوگا کہ اس نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے ننانوے عورتیں حلال کیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اس سے بھی زائد عورتیں حلال کیں، طبری نے فرمایا : اس سے مراد جو اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بادشاہی اور عورتوں کی حلت عطا فرمائی تھی، اور مراد یہود کی تکذیب اور ان پر رد ہے انہوں نے جو کہا تھا کہ اگر یہ محمد ﷺ نبی ہوتے تو زیادہ عورتوں میں رغبت نہ رکھتے اور نبوت انہیں ان سے علیحدہ رکھتی، اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی جو حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تھا، انہیں (یہود) توبیخ فرمائی پس یہود نے اقرار کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہزار عورتیں تھیں، نبی مکرم ﷺ نے انہیں کہا کہ ان کی ہزار عورتیں تھیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، تین سو مہر والی اور سات سو لونڈیاں اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس سو عورتیں تھیں، نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” ایک شخص کے پاس ہزار عورتیں تھیں ایک شخص کے پاس سو عورتیں تھیں یہ زیادہ ہیں یا نو عورتیں زیادہ ہیں “۔ یہود خاموش ہوگئے اس وقت آپ ﷺ کی نوازواج مطہرات تھیں۔ مسئلہ نمبر : (3) کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تمام انبیاء سے زیادہ بیویاں تھیں۔ کثرت ازواج میں فائدہ یہ تھا کہ ان میں چالیس انبیاء کی قوت تھی، جو جتنا طاقت ور ہوتا ہے وہ زیادہ نکاح کرتا ہے، کہا جاتا ہے : نکاح سے آپ نے زیادہ تعلقات قائم کرنے کا ارادہ کیا تھا، کیونکہ ہر عورت کے دو قبیلے ہوتے ہیں ایک باپ کی طرف سے، ایک ماں کی طرف سے، پس جب کوئی کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو دو قبیلے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ہر قبیلہ اس کے لیے اس کی دشمنوں کے خلاف مددگار ہوجاتا ہے کہا جاتا ہے : جو متقی ہوتا ہے اس کی شہوت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ جو متقی نہیں ہوتا وہ نظر اور لمس کے ذریعے شہوت کم کرتا رہتا ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا جو حدیث میں مروی ہے کہ ” آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں “ (1) (مسند احمد بن حنبل، جلد 1 صفحہ 412) جب دیکھنا اور چھونا شہوت کے پورا کرنے کی ایک قسم ہے تو جماع کم ہوتا ہے اور متقی نہ کسی کی طرف دیکھتا ہے نہ چھوتا ہے تو اس کی شہوت اس کے نفس میں جمع ہوتی ہے پس وہ زیادہ جماع پر قادر ہوتا ہے۔ ابوبکر الوراق نے کہا : ہر شہوت دل کو سخت کرتی ہے مگر جماع دل کو صاف کرتا ہے اسی وجہ سے انبیاء زیادہ نکاح کرتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (4) (آیت) ” فمنھم من امن بہ “۔ یعنی جو نبی مکرم ﷺ پر ایمان لائے۔ کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ آپ ﷺ سے حسد کیا جاتا تھا۔ (آیت) ” ومنھم من صد عنہ “۔ یعنی جس نے اعراض کیا اور آپ ﷺ پر ایمان نہیں لایا، بعض علماء نے فرمایا : بہ کا مرجع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) معنی یہ ہوگا کہ آل ابراہیم میں سے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور جنہوں نے اس سے روکا بعض نے فرمایا : ضمیر کا مرجع الکتاب ہے۔
Ayahs 4:56–57

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل اور جل جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

آیت نمبر : 56 تا 57۔ الاصلاء کا معنی اس سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے، حمید بن قیس نے نون کے فتحہ کے ساتھ نصلیھم پڑھا ہے یعنی ہم انہیں بھون دیں گے، کہا جاتا ہے : شاہ مصلیۃ (بھونی ہوئی بکری) نارا اس قرات پر حرف جر کے حذف کے ساتھ ہے تقدیر عبارت بنار ہوگی۔ (آیت) ” کلما نضجت جلودھم “۔ کہا جاتا ہے : نضج الشیء نضجا ونضجا فلان نضیج الراء یعنی وہ پختہ رائے والا ہے، آیت کا معنی ہے ہم انہیں دوسری کھالیں تبدیل کردیں گے، زنادقۃ میں سے جو قرآن پر طعن کرتے ہیں اگر وہ کہیں کہ جلد کو کیسے عذاب دیا جائے گا جب اس نے گناہ کیا ہی نہیں، اسے کہا جائے گا جلد کو عذاب و عقاب نہیں کیا گیا حقیقت تکلیف نفوس پر واقع ہے، کیونکہ یہی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں اور کھالوں کی تبدیلی نفوس کے عذاب میں زیادتی ہے۔ اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” لیذوقوا العذاب “۔ اور ارشاد ہے (آیت) ” کلما خبت زدنھم سعیر “۔ (الاسرائ) پس مقصود ابدان کو عذاب دینا اور روحوں کو تکلیف پہنچانا ہے، اگر کھالوں کا ارادہ ہوتا تو یوں کہا جاتا : لیذقن العذاب۔ مقاتل نے کہا : آگ اسے ہر روز ساتھ مرتبہ کھائے گی، حسن نے کہا : ستر مرتبہ کھائے گی، جب وہ انہیں کھالے گی تو انہیں کہا جائے گا : دوبارہ اسی طرح ہوجاؤ جس طرح پہلے تھے تو وہ پہلی کیفیت میں ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : جب وہ جل جائیں گے تو کاغذوں کی طرح سفید کھالیں ان کے لیے بدل جائیں گی (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 69 دارالکتب العلمیہ) بعض نے فرمایا : کھالوں سے مراد ان کے لباس ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وتری المجرمین یومئذ مقرنین فی الاصفاد، سرابیلھم من قطران “۔ (ابراہیم) لباس کو کھال کہا گیا ہے، کیونکہ لباس کھالوں کو قرب کی وجہ سے لازم ہوتا ہے جس طرح جو چیز انسان کے ساتھ خاص ہوتی ہے اس کے لیے کہا جاتا ہے : ھو جلدۃ مابین عینیہ، حضرت ابن عمر ؓ نے یہ شعر کہا تھا : یلومونی فی سالم والومھم وجلدۃ بین العین والانف سالم : وہ مجھے سالم کے بارے ملامت کرتے ہیں اور میں انہیں ملامت کرتا ہوں سالم تو میرے ساتھ خاص ہے۔ جب ایک لباس جل جائے گا تو پھر دوبارہ دے دیا جائے گا۔ شاعر نے کہا : کسا اللوم نتیما خضرۃ فی جلودھا فویل لتیم من سرابیلھا الخضر : پس جلود، سرابیل سے کنایہ ہیں، بعض علماء نے فرمایا : ہم انہیں پہلی کھائیں نئی کر کے لوٹا دیں گے جس طرح تو کاری گر کو کہا تا ہے : تو میرے لیے اس انگوٹھی سے نئی انگوٹھی بنا دے، پس وہ اسے توڑتا ہے اور اس سے تیرے لیے نئی انگوٹھی بنا دیتا ہے۔ انگوٹھی جو بنائی گئی حقیقت میں وہی پہلی انگوٹھی ہے۔ لیکن بناوٹ بدل گئی جب کہ چاندی ایک تھی، یہ نفس کی طرح ہے جب وہ مٹی بن جائے گا تو وہ لاشی ہوجائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا جیسے تیرا اپنے صحیح بھائی کے لیے عہد تھا پھر تو اس کے بعد میں بیمار کمزور دیکھتا ہے تو تو اسے کہتا ہے : تو کیسا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میں اس کے علاوہ ہوں جس کے ساتھ تیرا عہد تھا، حالانکہ وہ وہی ہے لیکن اس کی حالت بدل گئی ہے، قائل کا قول کہ میں وہ نہیں جس کا تیرا عہد تھا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” غیرھا مجاز ہے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ’ یوم تبدل الارض غیر الارض “۔ (ابراہیم : 48) اس دن زمین، دوسری زمین سے بدل دی جائے گی، حالانکہ بعینہ یہ وہی زمین ہوگی مگر ان کے لیے ٹیلے، پہاڑ، انہار، اشجار بدل جائیں گے اس کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا اور اس کو برابر کردیا جائے گا، مزید بیان سورة ابراہیم میں آئے گا، اس معنی کا شاعر کا قول ہے : فما الناس بالناس الذین عھدتم ولا الدار بالدار التی کنت اعرف : اور شعبی (رح) نے کہا : ایک شخص حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ ملاحظہ نہیں فرماتے عائشہ ؓ نے کیا کہا ؟ اس نے اپنے زمانہ کی مذمت کی، اور انہوں نے لبید کے دو بیت پڑھے ہیں۔ ذھب الذین یعاش فی اکنافھم وبقیت فی خلف کجلد الاجرب : یتلذذون مجانۃ ومدلۃ ویعاب قائلھم وان لم یشغب : حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ لبید پر رحم فرمائے، یہ اگر وہ ہمارے زمانہ کو دیکھتا تو وہ کسے کہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اگر حضرت عائشہ ؓ نے اپنے زمانہ کی مذمت کی ہے تو عاد نے اپنے زمانہ کی مذمت کی، کیونکہ عاد کی ایک الماری میں ان کے ہلاک ہونے کے طویل زمانہ بعد ایک تیر پایا گیا وہ اس زمانہ کے نیزہ سے بھی لمبا تھا اس پر لکھا ہوا تھا : بلاد بھاکنا ونحن باھلھا اذ الناس ناس والبلاد بلاد : شہر تو اسی طرح باقی تھے مگر انکے احوال اور ان کے رہنے والوں کے احوال بدل گئے تھے۔ (آیت) ” ان اللہ کان عزیزا “ یعنی کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرتی نہ اس سے کوئی چیز فوت ہوتی ہے۔ (آیت) ” حکیما “۔ اپنے بندوں کو لوٹانے میں اس کی حکمت ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی صفت میں فرمایا : (آیت) ” وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ یعنی اتنے گھنے سائے کہ ان میں دھوپ نہیں لگے گی، حسن نے کہا : ظلا کی صفت ظلیلا لگائی گئی، کیونکہ اس میں وہ چیزیں داخل نہ ہوں گی جو دنیا کے سایہ میں داخل ہوتی ہیں مثلا گرم ہوا وغیرہ، ضحاک نے کہا : درختوں کے سائے اور محلات کے سائے کلبی نے کہا : (آیت) ” ظلا ظلیلا “۔ سے مراد دائمی سایہ ہے۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک خدا سنتا (اور) دیکھتا ہے

آیت نمبر : 58۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامنت “۔ یہ آیت اہم ترین احکام سے ہے یہ اپنے ضمن میں دین وشرع کی تمام تفصیلات کی جامع ہے نہ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس آیت کا مخاطب کون ہیں حضرت علی بن ابی طالب ؓ ، زید بن اسلم ؓ ، شہر بن حوشب ؓ ، اور ابن زید ؓ نے کہا : یہ خطاب مسلمانوں کے والیوں کو ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 70 دارالکتب العلمیہ) یہ نبی مکرم ﷺ اور آپ کے امراء کے لیے ہے پھر بعد کے تمام امراء کو شامل ہے، ابن جریج وغیرہ نے کہا : یہ خاص نبی مکرم ﷺ کو کعبہ کی چابی کے بارے میں خطاب ہے جب آپ نے عثمان بن ابی طلحہ اور اس کے چچا زاد شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ سے وہ چابی لی تھی، یہ دونوں حضرات فتح مکہ کے وقت کافر تھے، حضرت ابن عباس بن عبدالمطلب ؓ نے چابی کو طلب کیا تاکہ پانی پلانے کے عمل کے ساتھ سدانہ کے عمل کو بھی ساتھ ملا لیں، رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس میں جو بت تھے انہیں توڑ دیا اور مقام ابراہیم کو نکالا تو جبریل امین اس آیت کے ساتھ نازل ہوئی، حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کعبہ سے نکلے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے، میں نے اس سے پہلے آپ سے یہ نہیں سنی تھی، عثمان اور شیبۃ کو بلایا اور کہا : یہ کعبہ کی چابی لے لو، ہمیشہ ہمیشہ یہ تمہارے پاس رہے گی تم سے کوئی نہیں چھینے گا مگر ظالم، مکی نے حکایت کیا ہے کہ شیبۃ نے چابی نہ دینے کا ارادہ کیا پھر چابی اس نے پیش کردی، نبی مکرم ﷺ نے اسے فرمایا : ” یہ اللہ کی امانت لے لے “ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 70 دارالکتب العلمیہ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت والیوں کے ساتھ خاص ہے کہ وہ عورتوں کو نافرمانی وغیرہ سے بچنے کی نصیحت کریں اور ان عورتوں کو اپنے خاوندں کی طرف لوٹا دیں، (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 70 دارالکتب العلمیہ) اس آیت میں ظاہر یہ ہے کہ یہ تمام لوگوں کو شامل ہے، یہ ولاۃ کو شامل ہے کہ ان کے پاس جو امانات ہیں انہیں تقسیم کرنے میں اور ظلم کو دور کرنے میں اور فیصلوں میں عدل کرنے میں امانت کا مظاہرہ کریں، یہ طبری کا اختیار ہے، دوسرے لوگوں کو شامل ہے کہ وہ ودیعتوں کی حفاظت کریں، جھوٹی شہادت سے اجتناب کریں وغیرہ، جس طرح ایک شخص کسی نازل شدہ معاملہ میں فیصلہ کرتا ہے، نماز، زکوۃ، اور تمام عبادات اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، یہ معنی حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث سے مرفوعا بھی مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اللہ کے راستہ میں شہید ہونا سارے گناہوں کا کفارہ ہے “ یا فرمایا : ” ہر چیز کا کفارہ ہے سوائے امانت کے، نماز میں امانت، روزے میں امانت، بات میں امانت اور سب سے سخت ودیعتیں ہیں “۔ (4) (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 10، صفحہ 219، حدیث نمبر 10627) یہ حدیث ابو نعیم حافظ نے الحلیۃ میں روایت کی ہے، جن علماء نے کہا کہ یہ آیت تمام لوگوں کو شامل ہے ان میں حضرت ابراء بن عازب، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، اور حضرت ابی بن کعب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں، یہ علماء فرماتے ہیں : ہر چیز میں امانت ہے وضو، نماز، زکوۃ، جنابت روزہ، کیل وزن اور ودائع، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی تنگ دست اور خوشحال کو امانت روکنے کی رخصت نہیں دی (5) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 70 دارالکتب العلمیہ) میں کہتا ہوں : یہ اجماع ہے، علماء کا اجماع ہے کہ امانتیں، ان کے حق داروں کو لوٹائی جائیں گی خواہ نیکو کار ہوں یا فجار ہوں یا ابن المنذر (رح) کا قول ہے، امانت مصدر ہے جو مفعول کے معنی میں ہے اسی وجہ سے اس کی جمع بنائی گئی ہے، نظم یہ کہ پہلے گزر چکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے متعلق خبر دی کہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان کو چھپایا تھا اور انہوں نے مشرکوں کو کہا : تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو، یہ ان کی طرف سے خیانت تھی، پس کلام تمام امانات کے ذکر تک جاری ہوئی پس یہ آیت اپنے نظم کی وجہ سے ہر امانت کو شامل ہے یہ بہت زیادہ ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، بڑی بڑی امانتیں احکام میں ہیں : ودیعت، لقطہ، رہن، عاریۃ، حضرت ابی بن کعب، ؓ نے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ادا الامانۃ الی من ائتمنک ولا تخن من خانک “۔ (1) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 35، حدیث نمبر 141) جس نے تیرے پاس امانت رکھی تھی اسے امانت ادا کرو اور اس کے ساتھ بھی خیانت نہ کرو جو تم سے خیانت کرے، اس حدیث کو دار قطنی کے روایت کیا ہے، حضرت انس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث نبی مکرم ﷺ سے روایت کی ہے، سورة بقرہ میں اس کا مفہوم گزر چکا ہے۔ حضرت ابو امامہ نے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں یہ فرماتے سنا ” عاریۃ لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی، دودھ والا جانور جو تمہیں دودھ پینے کے لیے دیا گیا ہے وہ لوٹا جائے گا اور قرض ادا کیا جائے گا اور زعیم غارم ہے۔ ‘’ (2) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 41، حدیث نمبر 166) یہ حدیث صحیح ہے، ترمذی نے اس کو نقل کیا ہے، دارقطنی نے یہ زائد روایت کیا ہے : ایک شخص نے کہا : اللہ کا عہد (اس کا کیا حکم ہے) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا حق ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے “۔ (3) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 41، حدیث نمبر 165) اس آیت اور حدیث کی بنا پر ودیعت لوٹائی جائے گی اور ہر حال میں یہ لوٹائی جائے گی خواہ اس کو چھپایا گیا ہو یا نہ چھپایا گیا ہو، اس میں تعدی کی گئی ہو یا تعدی نہ کی گئی ہو، یہ عطاء، امام شافعی، امام احمد، اور اشہب رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے، ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس نے حیوان یا کوئی اور چیز عاریۃ لی اور وہ ایسی چیزوں میں سے ہو جس کو چھپایا نہ جاسکتا ہو پھر وہ عاریۃ لینے والے شخص کے پاس تلف ہوگئی تو اس شخص کی تلف میں تصدیق کی جائے گی اور وہ ضامن نہ ہوگا مگر تعدی کے ساتھ حسن بصری (رح) اور نخعی (رح) کا قول ہے اور یہی قول کو فیوں اور اوزاعی کا قول ہے، ان علماء نے فرمایا : نبی مکرم ﷺ کے ارشاد : العاریۃ موداۃ “۔ (عاریۃ لی گئی چیز واپس کی جائے گی) کا معنی اس ارشاد الہی کے معنی کی طرح ہے : (آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامنت الی اھلہا “۔ جب امانت تلف ہوجائے گی تو امین پر اس کی چٹی لازم نہ ہوگی، کیونکہ اس کی تصدیق کی جائے گی۔ اسی طرح عاریۃ لی گئی چیز بغیر تعدی کے تلف ہوجائے تو اس کی ضمانت نہیں لی جائے گی اور جب تعدی کے ساتھ تلف کرے گا تو اس پر خیانت کی وجہ سے اس کی قیمت اس پر لازم ہوگی، حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ عاریۃ لی گئی چیز میں ضمانت نہیں ہے۔ دارقطنی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ، کے سلسلہ سے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اس پر ضمانت نہیں “۔ (4) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 41، حدیث نمبر 167) امام شافعی (رح) نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں حضرت صفوان نے نبی مکرم ﷺ سے عرض کیا تھا، جب آپ نے اس سے زرہیں عاریۃ لی تھیں۔ کیا یہ عاریۃ مفمونۃ یا عاریۃ مؤداۃ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عاریۃ مؤداۃ ہیں (5) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 41، حدیث نمبر 160) مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل “۔ ضحاک ؓ نے کہا : اس کا مطلب ہے مدعی دلیل پر دلیل اور منکر پر قسم کے اصول کے ساتھ فیصلہ کرو، یہ خطاب والیوں، امراء اور حکام کو ہے اور معنی کے اعتبار سے تمام مخلوق کو شامل ہے جیسا کہ ہم نے اداء امانات میں ذکر کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ” انصاف کرنے والے قیامت کے روز رحمن کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں اور اپنے اہل کے بارے میں اور جن کے والی ہوتے ہیں، ان کے بارے میں عدل کرتے ہیں (1) اور فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر میں نگران ہے اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اسے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، خبردار ! تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا “ (2) ان احادیث صحیحہ میں یہ تمام نگران اور حکام ہیں اپنے اپنے مراتب پر، اسی طرح عالم اور حاکم بھی نگران ہے، کیونکہ جب وہ فتوی دیتا ہے تو حکم لگاتا ہے اور وہ حلال اور حرام، فرض اور ندب، صحت اور فساد کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ تمام امانت ہے جو ادا کی جاتی ہے اور حکم جس کا فیصلہ کیا جاتا ہے، نعما کے بارے میں سورة بقرہ میں کلام گزر چکی ہے۔ (آیت) ” ان اللہ کان سمیعا بصیرا “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت سمیع وبصیر کو بیان فرمایا وہ سنتا اور دیکھتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اننی معکما اسمع واری “۔ (طہ) “ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں سنتا اور دیکھتا ہوں، یہ سمع کا طریق ہے اور عقل اس پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ سمع اور بصر کا انتفاع اس کی نقیض اندھے پن اور بہرے پن پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ دو ضدوں کو قبول کرنے والا محل ایک چیز سے خالی نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نقائص سے پاک ہے اور یہ محال ہے کہ جو نقائص سے متصف ہو اس سے افعال کا ملہ کا صدور ہو جیسے سننے اور دیکھنے کی تخلیق اس سے جس کے لیے سمع وبصر نہیں ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نقائص سے پاک ہے یہ دلیل سمعی ہے اصل قرآن کے ساتھ ان لوگوں کے مناظرہ میں اس پر اکتفا کیا جائے گا جن کو کلمہ اسلام جمع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ وہم کرنے والوں کے وہم سے اور جھوٹ گھڑنے والوں کے افترا سے بلند وبالا ہے، (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون (الصافات)
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

آیت نمبر : 59۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) جب پہلی آیت میں ولاۃ کو خطاب فرمایا اور انہیں اداء امانات کا حکم دیا اور انہیں لوگوں کے درمیان عدل کا حکم دیا، تو اس آیت میں رعیت کو خطاب فرمایا، انہیں پہلے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیا، اس سے مراد اس کے احکام کی پیروی کرنا، اس کی نواہی سے اجتناب کرنا ہے پھر رسول کی اطاعت کا حکم دیا، یعنی جو حکم دیا اور جونہی فرمائی اس کی اطاعت کرنا، پھر امراء کی اطاعت کا حکم دیا، یہ جمہور علماء، حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے، سہل بن عبداللہ تستری (رح) نے کہا : سات چیزوں میں سلطان کی اطاعت کرو، دراہم ودنانیر بنانے میں، کیل اور وزن میں، احکام، حج، جمعہ میں عیدین اور جہاد میں، سہل نے کہا : جب کوئی سلطان عالم کو فتوی دینے سے منع کر دے تو اسے فتوی نہیں دینا چاہیے اگر وہ فتوی دے گا تو گناہگار ہوگا اگرچہ امیر ظالم بھی ہو، ابن خویز منداد نے کہا : سلطان کی اطاعت ایسے امر میں واجب ہوتی ہے جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اللہ کی معصیت میں اطاعت واجب نہیں، اسی وجہ سے ہم نے کہا : ہمارے زمانہ کے والیوں کی اطاعت، معاونت اور تعظیم جائز نہیں، اور ان کے ساتھ جہاد ثابت ہوگا اگر وہ ہمیں نماز پڑھائیں تو ان کے ساتھ نماز جائز ہوگی جب کہ وہ گناہوں کے اعتبار سے فاسق بھی ہوں، اگر وہ بدعتی ہوں تو ان کے ساتھ نماز جائز نہ ہوگی، مگر یہ کہ ان کا خوف ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لی جائے گی اور نماز کا اعادہ کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے فرمایا : امام پر حق ہے کی وہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے اور امانت ادا کرے جب وہ ایسا کرے تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس کیا اطاعت کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اداء امانت اور عدل کا حکم دیا پھر امام کی اطاعت کا حکم دیا، حضرت جابر بن عبد اللہ اور مجاہد نے کہا : اولو الامر سے مراد اہل قرآن اور اہل علم ہیں، یہی قول امام مالک کا مختار ہے اور یہی ضحاک کا قول ہے، اس سے مراد ہیں فقہاء اور علماء دین۔ مجاہد سے حکایت ہے کہ اس سے مراد خالص حضرت محمد ﷺ کے اصحاب ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 71 دارالکتب العلمیہ) اور عکرمہ سے حکایت ہے کہ یہ خاص حضرت ابوبکر وحضرت عمر ؓ کی طرف اشارہ ہے (2) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 180) سفیان بن عیینہ نے حکم بن اہان سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عکرمہ سے امھات الاولاد کے بارے میں پوچھا : عکرمہ ؓ نے کہا : وہ آزاد ہیں، میں نے کہا : کس چیز سے ؟ انہوں نے کہا : قرآن سے، میں نے کہا : قرآن میں کس آیت سے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ اور حضرت عمر الی الامر میں سے تھے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ام الولد آزاد ہوگئی اگرچہ بچہ گرا دے اس کا تفصیلی بیان سورة الحشر میں (آیت) ” وما اتکم الرسول فخذوہ “۔ الخ (الحشر : 7) کے تحت آئے گا، ابن کیسان نے کہا : اس سے مراد عقل والے اور اہل الرائے ہیں جو لوگوں کے معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : ان اقوال میں صحیح ترین قول پہلا اور دوسرا ہے، پہلا قول اس لیے کہ اہل قرآن سے امر کی اصل ہے اور حکم ان کی طرف لوٹتا ہے، صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، فرمایا : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ کا ارشاد حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی السہمی کے بارے نازل ہوا جب نبی مکرم ﷺ نے ایک سریۃ (چھوٹا سا لشکر) میں اسے امیر بنا کر بھیجا (1) ابوعمر ؓ نے کہا : حضرت عبداللہ بن حذافۃ ؓ کا مزاح معروف تھا ان کے مزاح سے یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک لشکر میں امیر بنایا، انہوں نے اپنے لشکریوں کو کہا : لکڑیاں اکٹھی کرو اور آگ جلاؤ، جب انہوں نے آگ جلاد تو انہیں آگ میں گھسنے کا حکم دیا، پھر انہیں کہا : کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، وہ صحابہ کہنے لگے، ہم اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکہ ہم آگ سے بچ جائیں (اور تم پھر ہمیں آگ میں گھسنے کا حکم دے رہے ہو) رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فعل کو درست کہا اور فرمایا : ” خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت (کاحکم) نہیں ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم “۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ مشہور ہے۔ محمد بن عمرو بن علقمہ عن عمر بن حکم بن ثوبان کے سلسلہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس السہمی اصحاب بدر میں سے تھے اور ان کی طبیعت میں مزاح تھا اور حضرت زبیر ؓ نے ذکر کیا فرمایا : مجھے عبدالجبار بن سعید نے بتایا انہوں نے عبداللہ بن وہب سے انہوں نے لیث بن سعد سے روایت کیا، فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حزام نے رسول اللہ ﷺ کی سواری کو کسی سفر میں بٹھایا قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ گرپڑتے، ابن وہب نے کہا : میں نے لیث سے پوچھا یہ انہوں نے آپ کو ہنسانے کے لیے کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ان میں خوش طبعی تھی، میمون بن مہران، مقاتل اور کلبی نے کہا (آیت) ” اولی الامر “۔ سے مراد اصحاب السریۃ (جہاد کرنے والے) ہیں، اور رہا دوسرا قول تو اس کی صحت پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ (آیت) ” فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول “۔ اللہ تعالیٰ نے متنازع فیہ معاملہ کو کتاب اللہ اور نبی مکرم ﷺ کی سنت کی طرف لوٹانے کا حکم دیا ہے اور علماء کے علاوہ کسی کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کی طاقت نہیں۔ علماء سے سوال کرنے کے وجوب کی صحت پر یہ دلیل ہے اور ان کے فتوی کی پیروی کے لزوم کی صحت پر دلیل ہے، سہل بن عبداللہ نے فرمایا : لوگ خیر پر رہیں گے جب تک سلطان اور علماء کی تعظیم کرتے رہیں گے اور جب لوگ ان دو شخصیات کی تعظیم کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی دنیا وآخرت کی اصلاح فرما دے گا اور جب لوگ اپنے سلطان اور علماء کی تحقیر کریں گے تو ان کی دنیا وآخرت کو وہ خراب کرے دے گا، رہا تیسرا قول تو وہ خاص ہے اور چوتھا قول اس سے بھی خاص ہے اور رہا پانچواں قول ظاہر لفظ اس کی تائید نہیں کرتے، اگرچہ معنا صحیح ہے، کیونکہ عقل پر فضیلت کی بنیاد ہے اور ہر ادب کا سرچشمہ ہے عقل کو ہی اللہ تعالیٰ نے دین کے لیے اصل دنیا کے لیے سہارا بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے عقل کے کمال کے ساتھ تکلیف کو واجب کیا ہے اور عقل کے احکام کے ساتھ دنیا کی تدبیر بنائی ہے اور ایک عقل مند کوشش کرنے والوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے، یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے ایک قول کا خیال ہے اولی الامر سے مراد حضرت علی اور ائمہ معصومین ہیں، اگر یہ معاملہ ہو تو پھر (آیت) ” فردوہ الی اللہ والرسول “۔ کا کوئی معنی نہیں رہتا بلکہ اللہ فرماتا : فردوہ الی الامام واولی الامر۔ کیونکہ ان کے نزدیک وہ کتاب وسنت پر حکم لگانے والا ہے ہے یہ قول متروک ہے اور جمہور کے نظریہ کے مخالف ہے۔ اطاعت کی حقیقت، حکم کی پیروی کرنا ہے جس طرح کہ معصیت اس کی ضد ہے اور معصیت کا مطلب حکم کی مخالفت کرنا ہے اطاعت یہ اطاع سے ماخوذ ہے جب کوئی پیروی کرے اور معصیت، عصی سے ماخوذ ہے جب کوئی سخت ہوجائے، اولو اس کا واحد ذو ہے یہ بغیر قیاس کے ہے جس طرح النساء الابل اور الخیل بغیر قیاس کے جمع ہیں ان میں سے ہر ایک اسم جمع ہے اس کا اس کے لفط سے واحد نہیں ہے، بعض نے الخیل کا واحد خائل کہا ہے، یہ پہلے گزرچکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان تنازعتم فی شیء “ یعنی تم جھگڑو اور اختلاف کرو یعنی ہر فریق دوسرے کی حجت کو کھینچتا اور ختم کرتا ہے، النزع کا معنی کھنچتا ہے المنازعۃ کا معنی حجتوں کا کھینچتا ہے اسی سے حدیث ہے (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 119) وانا لقول مالی ینازعنی القرآن، میں کہتا ہوں : مجھے کیا ہے کہ قرآن مجھ سے چھینا جارہا ہے، اعشی نے کہا : نازعتھم قضب الریحان متکئا وقھوۃ مزۃ راو وقھا خضل : الخضل نرم بوٹیوں کو کہتے ہیں : الخضیلۃ باغ کو کہتے ہیں، فی شی یعنی تمہارے دینی معاملہ میں۔ (آیت) ” فردوہ الی اللہ والرسول “۔ یعنی یہ حکم کتاب اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ یعنی رسول کریم ﷺ کی ظاہری حیات میں تو آپ سے سوال کرو اور آپ کے وصال کے بعد آپ کی سنن میں غور وفکر کے ساتھ مسئلہ کا حکم نکالو، یہ مجاہد، اعمش اور قتادہ کا قول ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 71 دارالکتب العلمیہ) اور یہ صحیح ہے، جس نے ایسا نظریہ نہیں دیکھا اس کے ایمان میں خلل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر “۔ بعض علماء نے کہا : اس کا مطلب ہے تم کہواللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، یہ رد کا مطلب ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 71 دارالکتب العلمیہ) یہ اس طرح ہے جیسے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا تھا، حق کی طرف رجوع باطل پر ڈٹے رہنے سے بہتر ہے، اور پہلا قول اصح ہے، کیونکہ حضرت علی ؓ کا قول ہے : ہمارے پاس وہ ہے جو کتاب اللہ میں ہے اور جو اس صحیفہ میں ہے یا وہ فہم ہے جو کسی مسلمان آدمی کو عطا کیا جاتا ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح اس قائل نے کہا ہے تو وہ اجتہاد باطل ہوجائے گا جو اس امت کی خصوصیت ہے اور وہ استنباط بھی باطل ہوجائے گا جو ایک مسلمان کو عطا کیا جاتا ہے، لیکن مثالیں دی جاتی ہیں اور مثال تلاش کی جاتی ہے تاکہ درست نتیجہ نکالا جائے۔ ابوالعالیہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ اور اگر لوٹا دیتے اسے رسول (کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اور بااقتدار لوگوں کی طرف اپنی جماعت سے تو جان لیتے اس خبر (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، مگر وہ جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو اس پر مطلع نہیں فرمایا۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے : اللہ اعلم یعنی اللہ بہتر جانتا ہے، حضرت علی ؓ نے حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “۔ (الاحقاف : 15) اور (آیت) ” والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین “۔ (بقرہ : 233) سے استنباط کی ہے جب ہم نے تیس مہینوں سے دو سال جدا کیے تو باقی چھ ماہ رہ گئے اس کی مثالیں کثیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الی الرسول “۔ میں دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نست پر عمل کیا جائے گا اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کی جائے گی، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” میں تمہیں جس چیز سے منع کروں اور اس سے اجتناب کرو اور جس کا میں تمہیں حکم دو اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو، تم سے پہلے لوگوں کو اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے اور کثرت سے سوال کرنے نے ہلاک کیا تھا۔ (1) (السنن الکبری للبیہقی، کتاب الطھارۃ، جلد 1 صفحہ 215) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو داؤد نے ابو رافع سے اور انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے صوفے پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اس کے پاس میرے امر میں سے کوئی امر آئے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سیی میں نے منع کیا ہے اور وہ کہے : ہم نہیں جانتے ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے اس کی اتباع کریں گے۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ جلد 2، صفحہ 279، ایضا حدیث نمبر 3989، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جب کہ آپ لوگوں کو خطاب فرما رہے تھے، آپ فرما رہے تھے، ” کیا تم میں سے کوئی اپنے صوفے پر ٹیک لگائے ہوئے گمان کرتا ہے کہ اللہ نے کسی چیز کو حرام نہیں کیا مگر جو اس قرآن میں ہے، خبردار ! میں نے اللہ کی قسم حکم بھی دیا، وعظ بھی کیا اور کچھ چیزون سے منع بھی کیا وہ قرآن کی مثل ہیں یا اس سے بھی زیادہ ہیں “۔ یہ حدیث ترمذی نے مقدام بن معدیکرب سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے، فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب العلم، جلد 2، صفحہ 91) اور قطی اس میں یہ ارشاد ہے : (آیت) ” فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ “۔ (النور : 63) (پس ڈرنا چاہیے انہیں جو خلاف ورزی کرتے ہیں، رسول کریم ﷺ کے فرمان کی انہیں کوئی مصیبت نہ پہنچے) مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ذلک خیر “۔ مختلف فیہ مسئلہ کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانا، اس میں جھگڑنے سے بہتر ہیی۔ (آیت) ” واحسن تاویلا “۔ تاویل کا معنی مرجع ہے، یہ آل یئول الی کذا سے مشتق ہے یعنی وہ ہوگیا بعض علماء نے فرمایا : یہ الت الشی سے مشتق ہے جب تو اسے جمع کریی اور اس کی اصلاح کرے تاویل کا معنی ان الفاظ کے معانی کو جمع کرنا ہے، جن کا سمجھنا مشکل ہے ایسے لفظ کے ساتھ جس میں کوئی مشکل نہ ہو، کہا جاتا ہے : اول اللہ علیک امرک، یعنی اللہ نے تجھ پر تیرا عمل جمع کردیا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ معنی ہو تمہاری تاویل سے بہتر ہے۔