Ayah 4:37آیت نمبر : 37۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یبخلون “ ، الذین من کان سے بدل ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور یہ صفت نہیں ہے، کیونکہ من اور ما نہ صفت بنتے ہیں نہ ان کی صفت بیان کی جاتی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ فخور میں مضمر سے بدل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ محل رفع میں ہو اور اس پر عطف کیا گیا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہو اور خبر محذوف ہو، یعنی (آیت) ” الذین یبخلون لہم کذا، اور یہ بھی جائز ہے کہ خبر یہ ہو (آیت) ” ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ “۔ یہ بھی جائز ہے کہ اعنی کے اضمار کے ساتھ منصوب ہو، پس پھر یہ آیت مومنین کے متعلق ہوگی اور یہ آیت اس تاویل پر ہوگی کہ بخل کرنے والوں سے اللہ کی محبت کی نفی کی گئی ہے پس اے مومنو ! جس کا ذکر کیا گیا ہے ان سے احسان کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں فرماتا ہے جس میں ایسی خصلتیں ہوں جو احسان سے مانع ہوں۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” (آیت) ” یبخلون ویامرون الناس بالبخل، بخل شرع میں مذموم ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو انسان پر واجب کیا ہے اسے ادا نہ کرے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے (آیت) ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ “۔ (آل عمران : 180) یہ آیت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے اور بخل اور اس کی حقیقت کے متعلق کلام بھی ہوچکی ہے اور بخل اور شح کے فرق پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے، حضرت ابن عباس وغیرہ کے قول میں اس آیت سے مراد یہود ہیں، کیونکہ انہوں نے تکبر، فخر، مال پر بخل اور حضرت محمد ﷺ کی تورات میں نازل شدہ صفات کو چھپانے کی قبیح صفات جمع کی ہوئی تھیں، بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ منافق ہیں جن کا خرچ کرنا اور ایمان تقیہ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے اور بخل کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، یہ ان تمام اعرابی صورتوں کی بنا پر ہے جو ہم نے ذکر کی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ اللہ تعالیٰ نے بخل کرنے والے مومنین کی دھمکی کو کافروں کی دھمکی سے جدا فرمایا ہے پہلے (مومینن) لوگوں کے لیے محبت کے نہ ہونے کی دھمکی دی اور کافروں کو عذسب مہین کی دھمکی دی۔
Ayah 4:38آیت نمبر 38۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس “ اس کا (آیت) ” الذین یبخلون “ پر عطف فرمایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا الکافرین پر عطف ہے اس صورت میں محل جر میں ہوگا اور جو واؤ کی زیادتی کی رائے رکھتے ہیں وہ جائز قرار دیتے ہیں کہ دوسرا ان کے نزدیک پہلے کی خبر ہو۔ جمہور علماء نے فرمایا : یہ منافقین کے بارے نازل ہوئی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رئاء الناس “ اور رئا نفاق سے ہے مجاہد نے کہا : یہ یہود کے بارے نازل ہوئی، طبری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس طائفہ سے ایمان باللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی نفی کی ہے جب کہ یہودی ایسے نہ تھے، ابن عطیہ نے کہا : مجاہد کا قول مبالغہ اور الزام پر مبنی ہے، کیونکہ آخرت کے متعلق ان کا ایمان، ایمان نہ ہونے کے مترادف تھا، کیونکہ ان کے لیے وہ نفع بخش نہیں تھا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 52 دارالکتب العلمیہ) بعض علماء نے فرمایا : یہ بدر کے دن کھلانے والے لوگوں کے متعلق نازل ہوئی اور یہ مکہ کے رؤساء تھے جو لوگوں پر اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ بدر کی طرف نکلیں، ابن عربی نے کہا : ریا کے طور پر خرچ کرنا احکام میں اس حیثیت سے داخل ہے کہ یہ کفایت نہیں کرتا۔
میں کہتا ہوں : اس پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : (آیت) ” قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم “۔ (توبہ : 53) اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسائ “۔ کلام میں اضمار ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ولا یومنون باللہ ولا بالیوم فقرینھم الشیطان ومن یکن الشیطان لہ قرینا فساء قرینا “۔ اور قرین، ساتھی اور دوست کو کہتے ہیں یہ الا قران سے فعیل کے وزن پر ہے، عدی بن زید نے کہا ؛
عن المرء لاتسال وسل عن قرینہ فکل قرین بالمقارن یقتدی :
آدمی کے متعلق مت پوچھ، اس کے دوست کے بارے میں پوچھ ہر دوست اپنے دوست کی پیروی کرتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں شیطان کی بات کو قبول کیا اس نے اس کے ساتھ دوستی کرلی، اور یہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ جس کا ساتھی آگ میں شیطان بنایا گیا وہ بہت برا ساتھی ہے، یعنی شیطان برا ساتھی ہے قرینا کو نصب تمیز کی بناء پر ہے۔
Ayah 4:39آیت نمبر : 39۔
اس آیت میں مامبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے، اور ذا بمعنی الذی ہے اور یہ جائز ہے کہ ما اور ذا ایک اسم ہو، پہلی صورت میں تقدیر یوں ہوگی ” وما الذی علیہم اور دوسری صورت میں تقدیر یوں ہوگی ای شیء علیہم (آیت) ” لو امنوا باللہ والیوم الاخر) یعنی ہو واجب الوجود کی اور جو رسول کریم ﷺ آخرت کی تفاصیل میں سے لے کر آئے تھے اس کی تصدیق کرتے اور خرچ کرتے اس سے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا تھا (آیت) ” وکان اللہ بھم علیما “۔ اس کا معنی ومفہوم کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔
Ayah 4:40آیت نمبر : 40۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے عمل کے ثواب میں کچھ کمی نہیں فرمائے گا اگرچہ ذرہ برابر عمل ہوگا، بلکہ انکے اعمال کی جزا دے گا اور انہیں اعمال پر ثواب دے گا۔ اس کلام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تھوڑے اور زیادہ عمل کے ثواب میں کمی نہیں فرمائے گا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یظلم الناس شیئا “۔ (یونس : 44) (اللہ تعالیٰ ظلم نہیں لوگوں پر ذرہ برابر) ذرۃ کا معنی سرخ چیونٹی ہے، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے : یہ چیونٹیوں میں سے چھوٹی چیونٹی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے یہ چیونٹی کا سر ہے، یزید بن ہارون نے کہا : لوگ کہتے ہیں کہ سرخ چیونٹی نہیں ہوتا اور حکایت کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے روٹی رکھی حتی کہ اس پر اتنی مقدار میں چیونٹیاں چڑھ گئی کہ انہوں نے روٹی کو ڈھانپ لیا پھر اس نے اس کا وزن کیا تو روٹی پر کوئی اضافہ نہیں تھا۔
میں کہتا ہوں : قرآن وسنت چیونٹی کا وزن ہونے پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ دینار اور نصف دینار کا وزن ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
بعض علماء نے فرمایا : الذرۃ سے مراد رائی کا دانہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فلا تظلم نفس شیئا، ان کان مثقال حبۃ من خردل اتینابھا “۔ (الانبیائ : 47) (پس ظلم نہ کیا جائے گا کسی پر ذرہ بھر اور اگر (کسی کا کوئی عمل) رائے کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو اسے بھی ہم لا حاضر کریں گے۔ )
بعض علماء نے اس کے علاوہ قول کیے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چھوٹے سے چھوٹے عمل کی بھی جزا دے گا، صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کسی مومن کی نیکی میں کمی نہیں فرماتا حتی کہ دنیا میں بھی اس کی برکت عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا عطا فرمائے گا، رہا کافر تو وہ اپنے اعمال خیر کے بدلے میں دنیا میں خوراک کھاتا ہے حتی کہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی نہ ہوگی جس کی اسے جزا دی جائے گی “۔ (1) (صحیح مسلم، صفات المنافقین، جلد 2، صفحہ 374)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان تک حسنۃ یضعفھا “۔ یعنی نیکی کا ثواب زیادہ فرمائے گا، اہل حجاز نے حسنۃ یعنی رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور عام قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے رفع کی صورت میں ” تک “ بمعنی تحدث ہوگا اور تامہ ہوگا اور دوسری صورت میں یہ ناقصہ ہوگا، یعنی ان تک فعلتہ حسنۃ “ یعنی اگر تیرا عمل نیکی ہوگا۔ اور حسن نے نضاعفھا “ نون کے ساتھ پڑھا ہے جو عظمت پر دلالت کرتی ہے اور باقی قراء نے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ اصح ہے، کیونکہ آگے ویؤت “ آیا ہے۔ ابو رجاء نے یضعفھا پڑھا ہے اور باقی قراء نے یضاعفھا پڑھا ہے، ان دونوں لغتوں کا معنی کثرت ہے، ابو عبیدہ نے کہا یضاعفھا اس کا معنی ہے وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور یضعفھا (تشدید کے ساتھ) اس کا معنی ہے وہ اسے دوگنا فرما دے گا۔
(آیت) ” من لدنہ “۔ یعنی من عندہ “ اس میں چار لغات ہیں لدن، لدن، لدا اور لدی “۔ جب عرب اس کو اپنی طرف مضاف کرتے ہیں تو نون کو مشدد کرتے ہیں اور اس پر من داخل ہوتا ہے جہاں میں ابتدائے غایت کے لیے ہوتا ہے۔ لدن بھی اسی طرح ہے، جب دونوں میں برابر ہو تو اس پر من کا دخول عمدہ ہے اسی وجہ سے سیبویہ نے کہا : لدن میں ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ابتدائے غایت کے لیے آتا ہے۔ (آیت) ” اجراعظیما “۔ یعنی جنت صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے ایک طویل حدیث شفاعت مروی ہے جس میں ہے کہ ” جب مومنین آگ سے نجات پائیں گے، فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ سے حق کا زیادہ مطالبہ کرنے والا نہیں جتنا کہ مومنین قیامت کے روز اپنے ان بھائیوں کے لیے کریں گے جو آگ میں ہوں گے، مومنین کہیں گے : اے ہمارے رب ! وہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے، حج کرتے تھے، انہیں کہا جائے گا، جنہیں تم پہنچانتے ہو انہیں نکالو، پس ان کی صورتیں آگ پر حرام کردی جائیں گی وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے آگ جن کی نصف پنڈلی تک اور گھٹنے تک پہنچی ہوگی، پھر وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! آگ میں اب کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جن کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم دوبارہ لوٹ جاؤ تم جس کے دل میں دینار کے برابر نیکی پاؤ اسے نکالو، وہ پھر ایک جمع غفیر کو نکالیں گے، پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ان میں سے کوئی نہیں چھوڑا جن کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم لوٹ جاؤ اور جس کے دل میں نصف دینار کے برابر خیر پاؤ اسے نکالو، وہ خلق کثیر کو نکالیں گے، پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے کوئی نہیں چھوڑا جن کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم واپس جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر نیکی پاؤ اسے نکالو وہ پھر ایک خلق کثیر کو نکالیں گے، پھر کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم نے آگ میں کوئی نیکی نہیں چھوڑی “۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے تھے : اگر تم میری اس حدیث پر یقین نہ کرو تو یہ پڑھ لو (آیت) ’ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “۔ الخ (1) حضرت ابن مسعود ؓ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے روز ایک بندے کو لایا جائے گا اور اسے کھڑا کیا جائے گا، پھر ایک ندا دینے والا لوگوں کے سروں پر ندا دے گا، یہ فلاں بن فلاں ہے جس کا اس پر کوئی حق ہے وہ اس سے اپنا حق لے لے، پھر اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا : انہیں اپنے حقوق ادا کر، وہ عرض کرے گا : یا رب ! میں کہاں سے لوں ؟ جب کہ دنیا تو ختم ہوچکی ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : انہیں اپنے حقوق ادا کر، وہ عرض کرے گا : یا رب ! میں کہاں سے لوں ؟ جب کہ دنیا تو ختم ہوچکی ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : اس کے اعمال صالحہ کو دیکھو اور ان میں سے کچھ ان پر حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو دے دو ، اگر ایک ذرہ برابر نیکی بچ جائے گی تو فرشتے عرض کریں گے : یا رب ! حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے، ہر صاحب حق کو اپنا حق دے دیا گیا ہے اور ذرہ برابر نیکی بچ گئی ہے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : اس ایک نیکی کو میرے بندے کے لیے کئی گنا کر دو اور اسے میری رحمت کے فضل کے طفیل جنت میں داخل کر دو ۔ اس کا مصداق یہ آیت ہے (آیت) ’ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ، وان تک حسنۃ یضعفھا “۔
اگر وہ بندہ بدبخت ہوگا تو فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے الہ ! اس کی نیکیاں ختم ہوگئی ہیں اور اس کی برائیاں باقی ہیں اور مطالبہ کرنے والے بہت سے باقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : مطالبہ کرنے والوں کی برائیوں میں سے لے کر اس کی برائیوں کے ساتھ ملا دو ، پھر اس کے لیے دوزخ کا پروانہ لکھ دو ، اس تاویل پر آیت جھگڑنے والوں کے متعلق ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کسی خصم کے لیے کسی خصم پر ذرہ برابر حق نہیں چھوڑے گا، اس کے لیے اس سے حق وصول کرے گا اور ذرہ برابر کمی نہیں کرے گا جو اس کے لیے باقی ہوگی اس کو اس پر ثواب دے گا اور اسے اس کے لیے کئی گنا کر دے گا، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” وان تک حسنۃ یضعفھا “۔ سے یہی مراد ہے۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 7 صفحہ 32) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : ” میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے میں بیس لاکھ نیکیاں عطا کرے گا اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، (آیت) ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویؤت من لدنہ اجرا عظیما “۔ عبیدہ نے کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اجراعظیما “۔ تو کون اس کا اندازہ کرسکتا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
Ayah 4:41آیت نمبر : 41۔
فاء کو التقاء ساکنین کی وجہ سے فتحہ دیا گیا ہے اور (اذا) ظرف زمان ہے اور اس میں عامل (آیت) ” جئنا “ ہے۔ ابو اللیث سمرقندی نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں خلیل بن احمد نے بتایا فرمایا : ہمیں ابن منیع نے بتایا فرمایا : ہمیں ابو کامل نے بتایا فرمایا : ہمیں فضیل نے بتایا، انہوں نے یونس بن محمد بن فضالہ سے روایت کیا، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس بنی ظفر میں تشریف لائے، آپ اس چٹان پر بیٹھ گئے جو بنی ظفر میں تھی اور آپ کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ حضرت معاذ ؓ اور دوسرے چند صحابہ تھے آپ نے ایک قاری کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا حتی کہ جب وہ اس آیت پر پہنچا (آیت) ” فکیف اذا جئنا “۔ تو رسول اللہ ﷺ رونے لگے گئے حتی کہ آپ کے رخسار تر ہوگئے، آپ ﷺ نے عرض کی : یارب ! یہ ان پر ہے جن کے درمیان میں ہوں، ان کی کیا حالت ہوگی جن کو میں نے نہیں دیکھا ؟ بخاری نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ نین فرمایا : ” مجھ پر قرآن پڑھو، میں نے عرض کی : کیا میں آپ پر پڑھوں جب کہ آپ پر قرآن نازل ہوا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ پر سورة نساء پڑھی حتی کہ میں (آیت) ” فکیف اذا جئنا “۔ الخ پر پہنچا تو فرمایا : ٹھہر جا، جبکہ آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو تھے “۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 659) مسلم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے لیکن اس میں امسک (ٹھہرجا) کے الفاظ کی جگہ رفعت راسی (میں نے اپنا سر اٹھایا) ہے یا فرمایا : عمزنی رجل الی جنبی “۔ میرے پہلو میں ایک شخص تھا جس نے مجھے اشارہ کیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو بہہ رہے تھے، ہمارے علماء نے فرمایا : نبی مکرم ﷺ کا رونا اس ہولناکی اور شدت کی وجہ سے تھا جس کا بیان اس آیت میں ہے، کیونکہ انبیاء کو اپنی اپنی امتوں پر تصدیق وتکذیب کے لیے بطور گواہ لایا جائے گا اور نبی کریم ﷺ کو قیامت کے روز بطور گواہ لایا جائے گا اور (آیت) ” علی ھؤلآء “ سے اشارہ قریش کے کفار اور دوسرے کفار کے طرف ہے، کفار قریش کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ دوسروں کی بنسبت ان پر عذاب شدید ہوگا کیونکہ معجزات کو دیکھنے کے وقت انکا انکار عناد کی بنا پر تھا، وہ معجزات جو اللہ تعالیٰ نے آپ سے عادت کے خلاف ظاہر فرمائے تھے، مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ان کفار کا کیا حال ہوگا جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ اور (اے حبیب ! ) ہم لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ، کیا یہ عذاب دیئے جائیں یا انعام کیے جائیں ؟ یہ استفہام بمعنی توبیخ ہے، بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” ھؤلآئ “ کا ارشادہ تمام امت کی طرف ہے، ابن المبارک نے ذکر کیا کہ ہمیں ایک انصاری شخص نے بتایا اس نے منہال بن عمرو سے روایت کیا، اس نے اس بتایا کہ اس نے سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لیس من یوم الا تعرض علی النبی ﷺ امتہ عدوۃ وعشیۃ فیعرفھم بسیماھم اعمالھم فذالک یشھد علیھم “۔ یعنی نبی مکرم ﷺ پر ہر صبح وشام آپ کی امت پیش کی جاتی ہے حضور ﷺ اپنے ہر امتی کے چہرہ اور اس کے اعمال کو پہچانتے ہیں اسی وجہ سے آپ ﷺ لوگوں کے متعلق گواہی دیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید “۔ یعنی اس امت کے نبی کو ہم گواہ لائیں گے، (آیت) ” و جئنا من کل امۃ بشھید “۔ اور آپ کو ان پر گواہ لائیں گے، کیف مضمر فعل کی وجہ سے محل نصب میں ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے فکیف یکون حالھم جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور کبھی فعل مضمر کے قائم مقام اذا کو رکھا جاتا ہے اور اذا میں عامل جئنا ہے اور شہیدا حال ہے اور حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ طالب کا شیخ پر پڑھنا اور اس کتاب پیش کرنا جائز ہے اور اس کا برعکس بھی جائز ہے اس کا بیان سورة لم یکن میں حضرت ابی کی حدیث میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، (آیت) ” شھیدا “ حال کی بنا پر منصوب ہے۔
Ayah 4:42آیت نمبر : 42۔
” عصوا “ میں واؤ کو التقاء ساکنین کی وجہ سے ضمہ دیا گیا ہے اور اس کو کسرہ دینا جائز ہے نافع ابن عامر نے تسوی تا کے فتحہ اور سین کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، حمزہ اور کسائی نے بھی اسی طرح پڑھا ہے مگر انہوں نے سین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 55 دارالکتب العلمیہ) اور باقیوں نے تا کے ضمہ اور سین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جس کے فاعل کا ذکر نہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر زمین کو برابر کردیتا، یعنی انہیں اور زمین کو برابر کردیتا، دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ خواہش کریں گے کاش اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ نہ اٹھاتا ار ان پر زمین برابر رہتی، کیونکہ وہ مٹی سے نقل کیے گئے تھے پہلی اور دوسری قرات پر الارض فاعل ہوگی معنی یہ ہوگا کہ وہ خواہش کریں گے اگر زمین ان کے لیے کھلتی اور وہ اس کے اندر چلے جاتے، یہ قتادہ کا قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : بابمعنی علی ہے یعنی کاش ان پر زمین پھٹتی اور پھر ان پر ہموار کردی جاتی، یہ ابو الحسن سے مروی ہے، تشدید کی قرات اور ادغام کی بنا پر ہے اور تخفیف تا کے حذف کی بنا پر ہے، بعض علماء نے فرمایا : وہ یہ تمنا کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ جانور مٹی ہوگئے ہیں اور وہ جان لیں گے کہ انہوں نے ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” ویقول الکفر یلیتنی کنت تربا “۔ (النبائ) کا یہی معنی ہے، بعض علماء نے فرمایا : وہ یہ تمنا کریں گے جب یہ امت انبیاء کو دیکھے گی جیسا کہ پہلے سورة بقرہ آیت 143 میں (آیت) و کذلک جعلنکم امۃ وسطا “۔ کے تحت گزر چکا ہے، تو گزشتہ امتیں کہیں گی، ان میں زنا کار اور چور ہیں ان کی شہادت قبول نہیں تو نبی کریم ﷺ اپنے امتیوں کا تزکیہ فرمائیں گے، پھر مشرک کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین “۔ (الانعام) ۔
پس ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے، اللہ تعالیٰ کے (آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا “۔ کا یہی مطلب ہے یعنی انہیں دھنسا دیا جاتا۔ واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ زجاج نے کہا : بعض نے کہا : یہ جملہ مستانفہ ہے، کیونکہ جو انہوں نے اعمال کیے وہ اللہ کی بارگار میں ظاہر ہیں وہ انہیں چھپانے کی قدرت نہیں رکھتے، بعض علماء نے فرمایا : یہ معطوف ہے معنی ہے وہ خواہش کریں گے کاش زمین ان پر برابر کردی جاتی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپائی نہ ہوتی کیونکہ اس نے ان کے جھوٹ کو ظاہر کردیا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق اور (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین “۔ کے متعلق پوچھا گیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب وہ دیکھیں گے جنت میں تو صرف اہل اسلام داخل ہوں گے، تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم مشرک نہ تھے، تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے، حسن اور قتادہ نے کہا : آخرت کے بعض مقام پر وہ بولیں گے اور بعض مقام پر نہیں بول سکیں گے، مطلب یہ ہے کہ جب ان کے لیے ان کے اعمال ظاہر ہوں گے اور ان کے محاسبہ کیا جائے گا تو وہ کچھ نہیں چھپائیں گے۔ مزید بیان سورة انعام میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔