Ayah 4:113آیت نمبر : 113۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیک ورحمۃ “۔ لولا کے بعد سیبویہ کے نزدیک مبتدا مرفوع ہوتا ہے اور خبر محذوف ہوتی ہے ظاہر نہیں ہوتی معنی یہ ہے کہ اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی کہ ہم نے تجھے حق پر آگاہ کیا، بعض نے فرمایا : نبوت اور عصمت عطا کرکے رحمت وضل نہ کیا جاتا تو ایک گروہ نے تجھے حق سے ہٹانے کا قصد کرلیا تھا، کیونکہ سوال انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہ ابن ابیرق کو تہمت سے بری کردیں اور وہ تہمت یہودی پر ڈال دیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ پر فضل فرمایا کہ انہیں اس واقعہ کی حقیقت پر آگاہ فرمایا اور اس کا علم عطا فرمایا : (آیت) ” وما یضلون الا انفسم “۔ کیونکہ وہ گمراہوں جیسے اعمال کرتے تھے، ان کے اعمال کا وبال ان پر لوٹے گا، (آیت) ” وما یضرونک من شیء “۔ کیونکہ آپ معصوم ہیں۔ (آیت) ” وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ “۔ اس سے کلام کا آغاز ہورہا ہے۔ بعض ہو رہا ہے، بعض نے فرمایا : واؤ حال کے لیے ہے جیسے تیرا قول ہے : جئتک والشمس طالعۃ میں تیرے پاس آیا جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا اسی سے امرء القیس کا قول ہے :
وقد اغتدری والطیرنی وکنا تھا :
پس کلام متصل ہے یعنی وہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اس کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے (آیت) ” والحکمۃ “۔ وحی کے ذریعہ فیصلہ (آیت) ” وعلمک مالم تکن تعلم “۔ یعنی شرائع اور احکام اور تعلم محل نصب میں ہے، کیونکہ وہ کان کی خبر ہے اور جزم کی وجہ سے نون سے ضمہ حذف کیا گیا ہے اور واو کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے۔
Ayah 4:114آیت نمبر : 114۔
اس سے مراد بنی ابیرق کی قوم ہے جس نے جو تدبیر کی تھی۔ اور انہوں نے وہ تدبیر نبی مکرم ﷺ سے ذکر کی تھی النجوی دو آدمیوں کے درمیان سرگوشی کرنا ہے، تو کہتا ہے : ناجیت فلانا مناجاۃ ونجاء وھم ینتجون ویتناجون ونجوت فلانا انجوہ نجوا اس کا معنی ہے سرگوشی کرنا، نجوی یہ نجوت الشی سے مشتق ہے یعنی میں نے اسے خاص کیا، میں نے اسے علیحدہ کیا، النجوۃ بلند زمین کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اردگرد کی زمین سے بلند ہوتی ہے شاعر نے کہا :
فمن بنجوتہ کمن بعقوتہ والمستکن کمن یمشی بقرواح (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 119)
پس نجوی کا معنی سرگوشی کرنا ہے، یہ مصدر ہے، جماعت کے لیے بھی بولا جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : قوم عدل ورضا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذھم نجوی “۔ (الاسرائ : 47) پہلی صورت میں غیر جنس سے استثنا ہوگی اور وہ استثنا منقطع ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے، من محل رفع میں ہوگا یعنی (آیت) ” الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس “۔ لین جو صدقہ کا حکم دے یا نیکی کا حکمدے یا لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور نیکی کی طرف بلائے تو ایسی سرگوشی میں بھلائی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ من محل جر میں ہو تقدیر کلام اس طرح ہو : لا خیر فی کثیر میں نجواھم الا نجوی من امر بصدقۃ “ ھر اس کو حذف کیا گیا، دوسری صورت میں یعنی جب نجوی علیحدہ جماعت کا اسم ہو تو من بدل کی حیثیت سے محل جر میں ہوگا۔ یعنی : لا خیر فی کثیر من نجواھم الا فیمن امر بصدقۃ۔ یا جس نے کہا : ما مررت باحد الا زیدا “ اس کے قول پر محل نصب میں ہوگا۔ بعض مفسرین نے کہا : ان میں سے زجاج بھی ہے، نجوی پوری جماعت کا کلام ہے یا دو آدمیوں کا کلام ہے خواہ وہ سرگوشی سے ہو یا جہرا ہو (2) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 119)
اس میں بعد ہے۔ واللہ اعلم۔ المروف کا لفظ تمام نیک اعمال کو شامل ہے، مقاتل نے کہا : المعروف سے یہاں مراد فرض ہے۔ (3) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 120) اور پہلا قول اصح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی میں سے ہے کہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملے “۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” معروف اپنے اسم کی طرح ہے، سب سے پہلے قیامت کے روز جنت میں معروف (نیکی) اور معروف والے (نیکی کرنے والے) داخل ہوں گے “۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : ناشکرے کی ناشکری تجھے نیکی سے دور نہ کرے، کبھی ناشکرے کے کئی گنا انکار کے باوجود شکر گزار شکر کرتا ہے حطیئۃ نے کہا :
من یفعل الخیر لا یعدم جو ازیہ لا یذھب العرف بین اللہ والناس :
اور ریاشی نے یہ شعر کہا ہے :
ید المعروف غنم حیث کا نت تحملھا کفورا او شکورا
ففی شکر الشکور لھا جزاء وعند اللہ ما کفر الکفور :
ماوردی نے کہا : جو شخص نیکی کرسکتا ہے وہ نیکی کرنے میں جلدی کرے اور اس سے محروم ہونے سے بچے اور اس سے عجز کے خوف سے نیکی کرنے میں جلدی کرے اور اسے جاننا چاہیے کہ یہ اس کے زمانہ کی فرصتوں میں سے ہے اور اس کے امکان کی غنیمتوں سے ہے، کوئی قادر شخص نیکی میں سستی نہ کرے، کتنے ہی قدرت پر اعتماد کرنے والے لوگوں سے نیکی فوت ہوگئی اور پھر اس نے شرمندگی کا وارث بنایا، اس پر قدرت کے باوجود زائل ہوگئی اور خجالت کا وارث بنا دیا، جیسا کہ شاعر نے کہا :
مازلت اسمع کم من واثق خجل حتی ابتلیت فکنت الواثق الخجلا :
اگر اپنے زمانہ کے مصائب کو بھانپ لیا جاتا اور اپنے امر کے عواقب سے محفوظ ہوا جاتا تو اس کی غنیمتیں ذخیرہ شدہ ہوتیں اور اس کے واجبات ضرور ادا کیے جاتے، نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس پر نیکی کا دروازہ کھولا گیا تو وہ اس کو غنیمت جانے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کب بند ہوجائے۔ ” (1) (ابن مبارک الزہد، صفحہ 117)
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر چیز کا پھل ہوتا ہے، اور نیکی کا پھل جلدی کرنا ہے “۔ (2) (ماوردی ادب الدنیا والدین، صفحہ 188) نوشیروان سے کیا گیا : تمہارے نزدیک بڑی سے بڑی مصیبت کیا ہے ؟ اس نے کہا : تجھے نیکی پر قدرت ہو اور اسے نہ کرے حتی کہ وہ فوت ہوجائے، عبدالحمید نے کہا : جس نے فرصت کو اس کے وقت سے مؤخر کیا تو اسے اس کے فوت ہونے کا یقین ہونا چاہیے، بعض شعراء نے کہا :
اذا ھبت ریاحک فاغتنمھا فان لک خافقۃ سکون :
ولا تغفل عن الاحسان فیھا فما تدری السکون متی یکون :
جب تیری صحت و خوشحالی کی ہوائیں چل رہی ہوں تو اس کو غنیمت جان، کیونکہ ہر حرکت کرنے والی چیز کے لیے سکون ہے اور اسی حالت میں احسان سے غافل نہ ہو تجھے معلوم نہیں کہ سکون کب ہوجائے گا ؟
بعض ذوی المحرمات نے ایک والی کو لکھا جس نے اپنی حرمت کی رعایت میں سستی کی تھی :
اعلی الصراط ترید رعیۃ حرمتی ام فی الحساب تمن بالانعام :
للنفع فی الدنیا اریدک فانتبہ لحوائجی من رقدۃ النوام :
کیا تو اپنی حرمت کی رعایت کا پل صراط پر ارادہ رکھتا ہے یا تو حساب کے دن انعام کے ساتھ احسان کرے گا میں تجھ سے دنیا میں نفع لینے کا ارادہ کرتی ہوں تو میری حاجات کو پورا کرنے کے لیے نیند سے بیدار ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نیکی مکمل نہ ہوگی مگر تین خصلتوں کے ساتھ : اس کو جلدی کرنا اور اس کو تھوڑا سمجھنا اور اس کو پوشیدہ رکھنا، جب تو نیکی کو جلدی کرے گا تو تو اسے بہتر کرے گا، جب تو اسے چھوٹا سمجھے گا تو تو اسے عظیم کرے گا، جب تو اسے چھپائے گا تو تو اسے مکمل کرے گا، کسی شاعر نے :
زاد معروفک عندی عظما انہ عندک مستور حقیر :
تتناساہ کان لم تاتہ وھو عند الناس مشھور خطیر :
میرے نزدیک تیری نیکی نے تیری عظمت کو زیادہ کیا ہوہ تیرے نزدیک پوشیدہ اور حقیر ہے تو اسے بھول جا گویا تو نے وہ نیکی کی ہی نہیں جب کہ وہ لوگوں کے نزدیک مشہور اور عظیم ہو۔
نیکی کی شرط میں یہ ہے کہ اس پر احسان نہ جتلایا جائے اور اپنے اچھے فعل پر تکبر نہ کیا جائے، کیونکہ ان دونوں صورتوں میں شکر کا اسقاط ہے اور اجر کا ضیاع ہے، سورة بقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اواصلاح بین الناس “۔ یہ خونوں کے تنازعے ختم کرنے اور مال اور عزت کے جھگڑے مٹانے سب کو شامل ہے اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور فتنہ و فساد بھڑکانے کا باعث ہو اور ہر اس کلام کو شامل ہے جس سے مراد رضا الہی ہو۔
حدیث پاک میں ہے : ” ابن آدم کا سارا کلام اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف حجت ہے مگر جو نیکی کا حکم دینے برائی سے منع کرنے اور اللہ کے ذکر کے لیے ہو “ (1) (جامع الترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 64، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 3963، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
جس نے ریاکاری اور سردار بننے کا طلب کیا وہ ثواب نہیں پائے گا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا : جھگڑے والوں کو لوٹاؤ حتی کہ وہ آپس میں صلح کرلیں، کیونکہ قاضی کا فیصلہ انکے درمیان کینہ پیدا کرتا ہے، مزید سورة مجادلہ میں مناجات کی حرام صورتوں کا ذکر آئے گا۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے فرمایا : جس نے دو شخصوں کے درمیان صلح کرائی اللہ تعالیٰ اسے ہر کلمہ کے عوض ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا، اور نبی مکرم ﷺ نے حضرت ابو ایوب سے فرمایا : ” کیا میں تمہاری ایسے صدقہ پر راہنمائی نہ کروں جسے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند کرتے ہو ؟ (وہ یہ ہے) لوگوں کے درمیان صلح کرانا جب وہ ان میں فساد پیدا ہوجائے اور انکے درمیان قرب پیدا کرنا جب وہ ایک دوسرے سے دور ہوجائیں “ (2) (شعب الایمان فی اصلاح بین الناس، جلد 7، صفحہ 490، حدیث نمبر 11094)
اوزاعی (رح) نے کہا : اللہ کی بارگاہ میں کوئی قدم اس قدم سے زیادہ محبوب نہیں جو جھگڑنے والوں کے درمیان صلح کے لیے اٹھایا جاتا ہے، اور جس نے دو آدمیوں کے درمیان صلح کرائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ سے برات لکھ دے گا، محمد بن منکدر نے کہا : دو آدمی مسجد کے کونے میں جھگڑے، میں ان کی طرف مائل ہوا اور میں نے ان کے ساتھ صلح کی کوشش کرتا رہا حتی کہ انہوں نے صلح کرلی، حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : جو کہ مجھے دیکھ رہے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ” جو دو شخصوں کے درمیان صلح کرائے گا وہ شہید کے ثواب کا مستحق ہوگا “۔ یہ تمام اخبار ابو مطیع مکحول بن مفضل نفسی نے اپنی کتاب ” اللؤلئیات “ میں ذکر کی ہیں، میں نے اس کو مصنف کے خط سے ایک ورقہ میں پایا انہوں نے ان کے اصل پر آگاہ نہیں کیا۔
(آیت) ” ابتغاء “ مفعول لاجلہ کی حیثیت سے منصوب ہے۔
Ayahs 4:115–116آیت نمبر : 115 تا 116۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) علماء نے فرمایا : یہ دونوں آیات ابن ابیرق چور کے سبب سے نازل ہوئیں جب نبی مکرم ﷺ نے اس پر ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا اور وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا اور مرتد ہوگیا تھا، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا : جب ہو مکہ میں گیا تو مکہ میں ایک گھر کو نقب لگائی اسے مشرکین نے پکڑ لیا اور اسے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضللا بعیدا “۔
ضحاک ؓ نے کہا : قریش کے چند لوگ مدینہ طبیہ آئے اور اسلام قبول کیا، پھر مرتد ہو کر مکہ کی طرف لوت گئے پس یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یشاقق الرسول “۔ المشاقۃ کا معنی دشمنی کرنا ہے، یہ آیت اگرچہ زرہ چوری کرنے والے یا اس کے علاوہ کے بارے میں نازل ہوئی لیکن یہ ہر اس شخص کو شامل ہے جو مسلمانوں کے طریق کی مخالفت کرتا ہے۔ (آیت) ” الھدی “ سے مراد رشد اور بیان ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” نولہ ماتولی “۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو مرتد ہوا تھا، اس کا معنی ہے ہم اسے اور جس کی وہ عبادت کرتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں، مجاہد سے مروی ہے کہ ہم اسے ان بتوں کے سپرد کردیتے ہیں جو نہ نقصان دیتے ہیں، اور یہ مقاتل کا قول ہے، کلبی نے کہا : (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ کا ارشاد ابن ابیرق کے بارے میں نازل ہوا جب اس کا حال اور اس کی چوری ظاہر ہوگئی تو وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا اور مرتد ہوگیا، اس نے مکہ میں ایک شخص کی دیوار میں نقب لگائی جسے حجاج بن علاط کہا جاتا تھا، پس اس پر دیوار گر گئی اور وہ نقب میں موجود تھا حتی کہ وہ اسی حال میں پایا گیا، لوگوں نے اسے مکہ سے نکالا وہ شام کی طرف چلا گیا، اس نے قافلہ کے اموال چوری کیے انہوں نے اسے پتھر مار مار کر قتل کردیا، تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” نولہ ما تولی ونصلہ جہنم، وسآءت مصیرا “۔ عاصم، حمزہ اور ابو عمرو نے (آیت) ” نولہ ونصلہ “۔ کو ھا کے جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ھا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ہیں۔
مسئلہ نمبر : (2) (آیت) ” ومن یشاقق الرسول “۔ کے ارشاد میں علماء نے فرمایا : اجماع کے قول کی صحت پر دلیل ہے، اور (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “۔ میں خوارج کا رد ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے۔ اس مفہوم پر کلام گزر چکی ہے، ترمذی نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، ابن فورک نے کہا : ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنا صرف کافر کے لیے ہے اور اہل قبلہ میں سے فاسق جب بغیر توبہ کے مر جائے گا تو اسے آگ کا عذاب دیا جائے گا، پھر وہ رسول مکرم ﷺ کی شفاعت سے یا ابتداء اللہ کی رحمت سے آگ سے نکل جائے گا، ضحاک ؓ نے کہا : ایک بوڑھا بدو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : یارسول اللہ ﷺ میں بوڑھا ہوں گناہوں اور خطاؤں میں غرق ہوں لیکن میں نے جب سے اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کیا اور اس پر ایمان لایا میں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، میرا اللہ کی بارگاہ میں کیا حال ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرما دی : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “۔ (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 121 )
Ayah 4:117آیت نمبر : 117۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یدعون من دونہ “۔ یعنی من دون اللہ، (آیت) ” الا انثا “۔ یہ اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ بتوں کی عبادت کرتے تھے، ان نافیۃ بمعنی ما ہے، اثنا “ سے مراد بت ہیں یعنی لات، عزی اور مناۃ، ہر قبیلہ کا ایک بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے : انثی بنی فلاں “ یہ حسن اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2 صفحہ 365)
ہر بت کے ساتھ اس کا شیطان ہوتا تھا وہ بتوں کے مجاروں اور کاہنوں کو نظر آتا اور ان سے کلام کرتا، یہ کلام بطور تعجب ذکر کی گئی ہے، کیونکہ ہر جنس سے مونث کمزور اور گھٹیا ہوتی ہے۔ پس یہ ان لوگوں کی جہالت ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پتھروں کو شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کا نام مونث رکھتے ہیں یا اس کے بارے عقیدہ مونث کا رکھتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” الا انثا “ سے مراد موات (مردے) ہیں، کیونکہ مردوں میں روح نہیں ہوتی (3) (تفسیر الماوردی جلد 1 صفحہ 519)
جس طرح لکڑی اور پتھر ہوتا ہے، مواب کے متعلق اسی طرح خبر دی جاتی ہے جس طرح مونث کے متعلق خبر دی جاتی ہے، کیونکہ قدرومنزلت میں یہ برابر ہوتے ہیں، تو کہتا ہے ” الاحجار تعجبنی “ اور اسی طرح تو کہتا ہے : المراۃ تعجنی “ بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” الا انثا “ سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ مشرکوں نے کہا : ملائکہ (نعوذ باللہ) اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ اللہ کی بارگاہ میں ہماری سفارشی ہیں۔ یہ ضحاک ؓ سے مروی ہے (4) (تفسیر الماوردی جلد 1 صفحہ 529) حضرت ابن عباس ؓ کی قرات الا وثنا واؤ اور ثا کے فتحہ کے ساتھ اسم جنس کے افراد کی بنا پر ہے۔ وثنا واو اور ثا کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا ہے یہ وثن کی جمع ہے اور اوثان بھی وثن کی جمع ہے جیسے اسد اور آساد ہے، نحاس نے کہا : میری معلومات کے مطابق اس کے ساتھ نہیں پڑھا گیا۔
میں کہتا ہوں : ابوبکر انباری (رح) نے ذکر فرمایا : ہمیں میرے باپ نے بتایا، انہوں نے کہا ہمیں نصربن داؤد نے بتایا، انہوں نے کہا ہمیں ابو عبید نے بتایا اور انہوں نے کہا : ہمیں حجاج نے بتایا انہوں نے جریج سے روایت کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے وہ اس طرح پڑھتی تھیں، (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا “۔ (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 121) حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ” الاثنا “ پڑھا ہے گویا وثن کی جمع وثان بنائی گئی جیسے تو کہتا ہے : حمل وحمال پھر وثن کی جمع وثان بنائی گئی جیسے تو کہتا ہے : مثال اور مثل، پھر واؤ کو ہمزہ سے بدلا گیا جب اسے ضمہ دیا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” واذا الرسل اقتت “۔ (المرسلات) یہ الوقت سے ہے پس اثن جمع الجمع ہے، نبی مکرم ﷺ نے الا انثا جمع انیث پڑھا ہے جیسے غدیروغدر، طبری نے حکایت کیا ہے کہ یہ اناث کی جمع ہے جیسے ثمار کی جمع ثمر ہے (2) (تفسیر طبری)
یہ قرات نبی کریم ﷺ سے ابو عمر والدانی نے حکایت کی ہے اور فرمایا : حضرت ابن عباس، حسن اور ابو حیوہ نے اس کے ساتھ پڑھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ان یدعون الا شیطنا مریدا “۔ اس سے مراد ابلیس ہے، کیونکہ انہوں نے اس کی اطاعت کی جو اس نے انہیں مزین کر کے دیا پس انہوں نے گویا اس کی عبادت کی۔ اس کی مثال معنی میں یہ ہے : (آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ (توبہ : 31) یعنی جو انہوں نے حکم دیا اس کی انہوں نے اطاعت کی یہ مطلب نہیں کہ بلاواسطہ ان کی عبادت کی۔ مزید تفصیل آگے آئے گی۔
شیطان کے لفظ کا اشتقاق گزر چکا ہے، المرید سے مراد سرکش اور نافرمان ہے، یہ فعیل کا وزن ہے، یہ مرد سے مشتق ہے جس کا معنی نافرمانی کرنا ہے۔ المرید اطاعت سے نکلنے والا، مراد الرجل یمرد مرودا جب کوئی نافرمانی کرے اور اطاعت سے نکل جائے، فھو مارد، مریدومتمرد، ابن عرفۃ نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جس کا شر ظاہر ہو، اسی سے کہا جاتا ہے : شجرہ مراداء وہ درخت جس کے پتے جھڑ جائیں اور اس کی لکڑیاں ظاہر ہوجائیں اور اسی سے رجل امرد کہا جاتا ہے جس کے رخساروں سے بالوں کی جگہ ظاہر ہو۔
Ayah 4:118آیت نمبر : 118۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لعنہ اللہ “ اللعن کا اصل معنی دور کرنا ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے اور عرف میں ایسا دور کرنا ہے جو ناراضگی اور غضب کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ ابلیس پر تعیین کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے اسی طرح وہ کفار جو مر چکے ہیں مثلا فرعون، ہامان اور ابو جہل ان پر تعیین کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے اور رہے زندہ لوگ تو ان کے بارے میں کلام سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا “۔ یہ شیطان نے کہا تھا یعنی میں اپنی گمراہ کن چالوں کے ساتھ ان کو تیری اطاعت سے نکالوں گا اور اپنی گمراہی کے ساتھ انہیں گمراہ کروں گا، یہ کفار اور نافرمان لوگ ہیں خبر میں ہے ” ہر ہزار میں سے ایک اللہ کے لیے ہوگا باقی شیطان کے لیے ہوں گے “۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 159)
میں کہتا ہوں : یہ معنی صحیح ہے، اس کی تائید کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا قیامت کے روز حضرت آدم کو یہ کہنا کہ ” آگ کا حصہ نکالو “۔ حضرت آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے، آگ کا حصہ کتنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے “ (2) (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، جلد 2 صفحہ 967، حدیث نمبر 3099، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے، بعث النار وہ شیطان کا حصہ ہے، واللہ اعلم۔
بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد لوگوں کا بہت سی اشیاء میں شیطان کی اطاعت کرنا ہے مثلا بچے کی ولادت کے وقت وہ ایک کیل لگاتے تھے اور ساتویں دن اسے گھماتے تھے اور کہتے تھے : یہ اس لیے ہے تاکہ گھروں میں رہنے والے جن اسے جان لیں۔
Ayah 4:119آیت نمبر : 119۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولاضلنھم “۔ یعنی میں انہیں ہدایت کے راستہ سے پھیروں گا۔ (آیت) ” ولا منینھم یعنی ان کے لیے جھوٹے امیدیں مزین کروں گا۔ یہ کسی ایک تمنا پر منحصر نہیں، کیونکہ ہر ایک اپنی رغبت اور قرائن حال کے اعتبار سے خواہش و تمنا کرتا ہے، بعض علماء نے فرمایا : میں انہیں لمبی زندگی کی امیددلاؤں گا کہ خیر توبہ اور معرفت حاصل کرنے کا بڑا وقت باقی ہے نیز انہیں گناہوں پر اصرار کی امید دلاؤں گا (آیت) ” ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام “۔ البتک کا معنی کاٹنا ہے اسی سے ہے سیف باتک کانٹے والی تلوار، یعنی شیطان نے کہا : میں انہیں بحیرہ، سائبہ اونٹنیوں کے کان کاٹنے پر برانگیختہ کروں گا جیسے بت کہ وبتکہ، مخففا وبت کہ، مخففا ومشددا وفی یدہ بتکۃ یعنی اس کے ہاتھ میں ٹکڑا ہے اس کی جمع بتک ہے۔ زہیر نے کہا :
طارت وکفہ من ریشھا بتک :
وہ اڑی جب کہ اس کی ہتھیلی میں اس کے پروں کے ٹکڑے تھے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ “۔ یہ تمام لام قسم کے لیے ہیں، علماء کا اختلاف ہے کہ یہ تبدیلی اور تغیر کس طرف راجع ہے۔ ایک جماعت نے کہا : اس سے مراد خصی کرنا، آنکھ پھوڑنا اور کان کاٹنا ہے۔ یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت عکرمہ ؓ اور حضرت ابو صالح ؓ نے بیان کیا ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 1، صفحہ 530) ان تمام صورتوں میں حیوان کو تکلیف دینا ہے اور سرکشی کے ساتھ حلال کرنا اور حرام کرنا ہے، اور یہ قول بغیر حجت اور دلیل کے ہے، جانوروں میں کان باعث جماع اور منفعت ہیں، اسی طرح دوسرے اعضاء ہیں، اسی وجہ سے شیطان نے دیکھا کہ وہ اس کے ذریعے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرے۔ عیاض بن حمار مجاشعی کی حدیث میں ہے ” میں نے اپنے بندوں کو حق کی پیروی کرنے والا پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں اپنے دین سے دور کردیا، میں نے جن چیزوں کو انکے لیے حلال کیا تھا اسے انہوں نے حرام کردیا اور شیاطین نے انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جس کے متعلق میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور شیاطین نے انہیں حکم دیا کہ وہ تخلیق کو بدل دیں “۔ (2) (صحیح مسلم، الجنۃ وصفہ نعیمھا واھلھا، جلد 2، صفحہ 385)
اس حدیث کو قاضی اسماعیل نے اور مسلم نے تخریج کیا ہے اور اسماعیل نے روایت کیا کہ ہمیں ابو الولید اور سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کیا، انہوں نے ابولاحوص سے روایت کیا انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جب کہ میری ہئیت بڑی خراب تھی، آپ ﷺ نے پوچھا : ” کیا تیرے پاس مال ہے ؟ “ اس نے کہا : میں نے عرض کی : میرے پاس مال تو ہے، آپ نے کہا : ” کون سا مال ہے “ ؟ میں نے کہا : گھوڑے، اونٹ، غلام ہر قسم کا مال ہے۔ ابو الولید نے کہا : اس نے بکریوں کا بھی ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہے تو تجھ پر اس کا اثر دکھائی دینا چاہیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا ؛ ” کیا تیری قوم کی اونٹنیاں صحیح کانوں والے بچے جنم دیتی ہیں پھر تو نشتر کا قصد کرتا ہے اور اس سے ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور تو کہتا ہے : یہ بحر ہے اور تو ان کی کھالوں کو چیرتا ہے اور تو کہتا ہے : صرم ہے یہ اس لیے کرتا ہے تاکہ تو انہیں اپنے اوپر اور اپنے گھروں والوں پر حرام کر دے۔ “ ؟ اس نے کہا : ہاں۔
آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو تجھے عطا فرمایا وہ حلال ہے اور اللہ تعالیٰ کا نشتر تیرے نشتر سے زیادہ تیز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کلائی تیری کلائی سے زیادہ سخت ہے “۔ اس نے کہا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بتائیے ایک شخص کے پاس میں جاتا ہوں، وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا پھر وہ میرے پاس آتا ہے کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں یا میں بھی اس جیسا سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”(نہیں) بلکہ تو اس کی مہمان نوازی کر “ (3) ۔ (المستدرک للحاکم کتاب اللباس، جلد 4، صفحہ 201، حدیث نمبر 64)
مسئلہ نمبر : (3) جب یہ شیطان کے فعل اور اس کے اثر سے تھا تو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ” ہم جانور کی آنکھوں اور کانوں کو خصوصی طور پر دیکھیں اور ہم کا نا جانور قربانی کے لیے نہ دیں اور ایسا بھی نہ ہو جس کے کان کی طرف کٹی ہوئی ہو اور ایسا بنی نہ ہو جس کا آخری حصہ کٹا ہوا ہو۔ اور ایسا بھی نہ ہو جس کے کانوں کو نشان لگانے والے آلے نے کاٹا ہو اور ایسا بھی نہ ہو جس کے کان چیرے گئے ہوں “ (4) (سنن ابی داؤد کتاب الضحایا، جلد 2، صفحہ 32) اس حدیث کو ابو داؤد نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ہمیں حضور ﷺ نے حکم دیا، آگے پوری حدیث ذکر کی۔
کانوں میں عیب کا علماء کے نزدیک اعتبار ہے، امام مالک (رح) اور لیث (رح) نے کہا : اگر ایسا جانور ہو جس کے کان کٹے ہوئے ہوں یا زیادہ کٹے ہوئے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں اور نشان لگانے والے آلے سے جو تھوڑا سا چیرا گیا ہو وہ جائز ہے۔ یہ امام شافعی (رح) اور فقہاء کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اگر ایسا جانور ہو جس کے پیدائشی کان نہ ہوں تو امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) نے کہا : اس کی قربانی جائز نہیں اگر چھوٹے چھوٹے کان ہوں تو جائز ہے، امام ابوحنیفہ (رح) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) جانوروں کو خصی کرنا اس کی اہل علم میں سے ایک جماعت نے اجازت دی ہے جس کہ اس سے منفعت کا قصد کیا گیا ہو خواہ وہ موٹاپے کی غرض سے ہو یا کوئی اور غرض ہو، جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ خصی کی قربانی دینے میں کوئی حرج نہیں، بعض علماء نیی اس کو مستحسن قرار دیا ہے جب کہ وہ دوسرے جانوروں سے زیادہ موٹا ہو۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 114 دارالکتب العلمیہ)
اور گھوڑوں کو خصی کرنے کی رخصت حضرت عمر بن عبدالعزیز نے دی تھی حضرت عمروہ بن زبیر ؓ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا،
امام مالک (رح) نے بکرے کو خصی کرنے کی رخصت دی ہے، یہ جائز ہے، کیونکہ اس سے حیوان کو ایسے بت کے دین کے ساتھ معلق کرنے کا قصد نہیں کیا جاتا جس کی عبادت کی جاتی ہے اور نہ اس میں ایسے رب کے دین کی وجہ سے معلق کرنے کا قصد کیا جاتا ہے جس کی توحید بیان کی جاتی ہے اس میں تو صرف عمدہ گوشت حاصل کرنے کا قصد کیا جاتا ہے اور مذکر کو تقویت دینے کا قصد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے مونث کی اس کی خواہش ختم ہوجاتی ہے۔ بعض علماء نے خصی کرنے کو ناپسند کیا ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” خصی وہ لوگ کرتے ہیں جو بےعلم ہیں “۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، جلد 1 صفحہ 314)
ابن المنذر (رح) نے اس کو پسند کیا ہے اس نے کہا : کیونکہ یہ ارشاد حضرت ابن عمر ؓ سے ثابت ہے وہ فرماتے ہیں : یہ اللہ کی تخلیق میں سے ہے، عبدالملک بن مروان نے اس کو ناپسند کیا ہے۔
اوزاعی (رح) نے کہا : لوگ ہر اس چیز کو خصی کرنا مکروہ جانتے تھے جس کی نسل چلتی ہے۔ ابن المنذر (رح) نے کہا : اس میں دو حدیثیں ہیں : ایک حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے بکرے، بیل اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا (3) (السنن الکبری للبیہقی، باب کراھیۃ خصاء الغنم والبھام، جلد 10 صفحہ 24)
اور دوسری حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے زندہ چیز کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کرنے اور جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا (4) (السنن الکبری للبیہقی، باب کراھیۃ خصاء الغنم والبھام، جلد 10 صفحہ 24)
مؤطا میں اس باب سے وہ ہے جو امام مالک (رح) نے نافع عن ابن عمر ؓ کے سلسلہ سے روایت کی ہے کہ وہ خصی کرنے کو ناپسند کرتے تھے فرماتے تھے : اس میں تخلیق کی تکمیل ہے۔ ابو عمر ؓ نے کہا : خصی نہ کرنے میں تخلیق کا تمام ہے اور تخلیق کا بڑھنا بھی روایت ہے (5) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 502)
میں کہتا ہوں : ابو محمد نے عمر بن اسماعیل عن نافع عن ابن عمر ؓ سے مسند روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : ” ان جانوروں کو خصی نہ کرو جو اللہ کی تخلیق کو بڑھاتے ہیں “ ‘۔ (6) (السنن الکبری للبیہقی، باب کراھیۃ خصاء الغنم والبھام، جلد 10 صفحہ 24)
اس حدیث کو دارقطنی نے اپنے شیخ سے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں ابو عبداللہ معدل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عباس بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہمیں ابو مالک نخعی نے بیان کیا، انہوں نے عمر بن اسماعیل (رح) سے روایت کیا پھر یہ حدیث ذکر کی، دارقطنی نے کہا : اس کو عبدالصمد بن نعمان نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) آدمی کو خصی کرنا مصیبت ہے، کیونکہ جب اسے خصی کیا جائے گا تو اس کا دل اور اس کی قوت ختم ہوجائے گی جب کہ حیوان کا حکم اس کے برعکس ہے اور انسان کی نسل ختم ہوجائے گی جس کا نبی مکرم ﷺ کے قول میں حکم دیا گیا ہے : تناکحوا تناسلوا فانی مکاثر بکم الامم “۔ نکاح کرو، نسل برھاؤ میں تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر کثرت کو بیان کرنے والا ہوں گا۔
پھر اس میں سخت تکلیف بھی ہے بعض اوقات انسان ہلاک بھی ہوجاتا ہے۔ اس میں مال کا ضیاع اور نفس کا ہلاک کرنا ہوتا ہے اور ان تمام چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پھر یہ مثلۃ ہے اور نبی مکرم ﷺ نے مثلہ سے منع کیا ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب المظالم، جلد 1، صفحہ 336)
اور یہ صحیح ہے۔ حجازی اور کوفی فقہاء کی ایک جماعت نے صقالیۃ وغیرہم سے خصی غلام خریدناناپسند کیا ہے انہوں نے کہا : اگر وہ ان سے خریدے نہیں جائیں گے تو ان کو خصی نہیں کیا جائے گا، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ انسان کا خصی کرنا حلال اور جائز نہیں، کیونکہ یہ مثلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔ اسی طرح تمام اعضاء کا بغیر حد اور قصاص کے کاٹنے کا حکم ہے یہ ابو عمر ؓ کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) یہ ثابت ہوگیا تو تو جان لے کہ نشان لگانا اور شعار کرنا اس نہی سے مستثنی ہے جو شیطان کے شریط کے متعلق ہے اور یہ آگ کے ساتھ حیوان کو عذاب دینے کی نہی ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کردیا ہے۔ الوسم کا معنی آگ سے داغ لگانا ہے اس کا اصل معنی علامت ہے، کہا جاتا ہے : وسم الشیء یسیہ جب کوئی ایسی علامت لگائے جس سے وہ چیز پہچانی جائے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” سیماھم فی وجوھم “۔ (الفتح : 29) السیما علامت کو کہتے ہیں، المیسم داغ لگانے کا آلہ۔
صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے ثابت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں نشان لگانے کا آلہ دیکھا آپ صدقہ اور فئی وغیرہ کے اونٹوں کو نشان لگا رہے تھے تاکہ ہر مال پہچانا جائے اور اس کے حق میں ادا کیا جائے اور کسی دوسرے مال کی طرف تجاوز نہ ہو۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ جلد 2، صفحہ 203)
مسئلہ نمبر : (7) چہرے کے علاوہ تمام اعضاء میں نشان لگانا، داغنا جائز ہے، کیونکہ حضرت جابر ؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور چہرے پر داغ لگانے سے منع فرمایا ہے۔ (3) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ جلد 2، صفحہ 202)
اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے یہ اس لیے ہے کہ چہرے کو باقی تمام اعضاء پر شرف حاصل ہے، کیونکہ وہ حسن و جمال کا مقر ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ حیوان کا قوام ہے، نبی مکرم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے غلام کو مار رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا : چہرے پر مارنے سے اجتناب کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی تخلیق اپنی صورت پر کی ہے “۔ (4) (ایضا، کتاب البرہ والصلۃ، جلد 2، صفحہ 327) یعنی مضروب کی صورت پر، یعنی اس مضروب کا چہرہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے چہرہ کے مشابہ ہے، پس اس کی مشابہت کی وجہ سے اس کا احترام لازم ہے۔ یہ سب سے بہتر ہے جو کچھ اس کی تاویل میں کہا گیا ہے، واللہ اعلم، ایک جماعت نے کہا : یہ وشم اور جو حسن کے لیے تصنع کیا جاتا ہے اس تبدیلی کے ساتھ اس کی طرف اشارہ ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حسن کا قول ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے جو حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جسم پر نشان بنانے والیاں اور نشان بنوانے والیاں، چہرے سے بال نوچنے والیاں اور نوچوانے والیاں اور حسن کی خاطر دانت کھلے کرانے والیاں اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیاں (ان سب پر) اللہ کی لعنت ہے “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ جلد 2، صفحہ 205)
اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے مکمل بیان سورة الحشر میں آئے گا، ان شاء اللہ۔
الوشم ہاتھوں میں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ عورت کی ہتھیلی کی پیٹھ اور اس کی کلائی کو سوئی کے ساتھ کریدا جاتا ہے پھر اس میں سرمہ یا کوئلے کا دھواں بھر دیا جاتا ہے پھر وہ سبز ہوجاتا ہے۔ قد وشمت وشما فھی واشمۃ یعنی نشان بنانا اور المستوشمہ۔ ایسا نشان بنوانے والی، یہ ہر وی کا قول ہے۔ ابن عربی (رح) نے کہا : صقلی، اور افریقی لوگ ایسا کرتے ہیں (2) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1، صفحہ 501) تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنی جوانی میں اپنی طاقت پر دلالت کرے، قاضی عیاض نے کہا : ہر وی کی روایت میں جو مسلم کے رواۃ میں سے ہے۔ الواشمۃ والموشہ کی جگہ والوشیۃ والمستوشیۃ کے الفاظ ہیں۔ یعنی میم کی جگہ یا ہے۔ یہ الوشی سے مشتق ہوگا جس کا معنی مزین ہونا ہے اور الوشی کی اصل دو رنگوں پر کپڑے کو بننا ہے ثور موشی ایسا بیل جس کے چہرے اور پیروں میں سیاہی ہو، یعنی عورت بال نوچ کر دانت کھلے کر کے، دانت باریک کرکے زینت حاصل کرتی ہے۔ المتنمصات یہ متنمصۃ کی جمع ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جس کے چہرے سے بال اکھیڑنے والے آلہ سے بال اکھیڑے گئے ہوں، ابن عربی (رح) نے کہا : مصری لوگ زیر ناف بال اکھیڑتے ہیں وہ اسی سے ہے، کیونکہ سنت زیر ناف بالوں کا حلق کرنا ہے اور بغلوں کے بال نوچنا ہے اور فرض کے بال نوچنا یہ اسے ڈھیلا کردیتا ہے اور تکلیف دیتا ہے اور بہت ساری منفعت کو ضائع کردیتا ہے۔ (3) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1، صفحہ 501)
المتفلجات ‘ یہ متفلجۃ کی جمع ہے، وہ عورت جو اپنے دانتوں کو کھلا کرتی ہے یعنی خلقۃ اس کے دانت ملے ہوئے ہوتے ہیں وہ اپنے عمل سے انہیں کھلا کرتی ہے۔ مسلم کی کتاب کے علاوہ میں ہے۔ الواشرات یہ واشرۃ کی جمع ہے جو اپنے دانتوں کو تیز کرتی ہے یعنی وہ شگاف جو جو ان عورتوں کے دانتوں میں ہوتا ہے، بڑی عمر کی عورت نوجوان لڑکی سے مشابہت کے لیے ایسا کرتی ہے، یہ تمام امور احادیث کی رو سے گناہ کبیرہ ہیں۔ اس معنی میں اختلاف ہے جس کی وجہ سے یہ نہی کی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کیونکہ تدلیس کے باب میں ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ کی تخلیق کی تغییر کے باب سے ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : یہ اصح ہے یہ پہلیی معنی کو بھی متضمن ہے۔
پھر بعض نے فرمایا : یہ منع اب بھی باقی ہے، کیونکہ یہ اللہ کی تخلیق کی تبدیلی کے باب سے ہے اور جو تزیین باقی رہنے والی نہ ہو جیسے سرمہ لگانا یا میک اپ کرنا، عورتوں کے لیے علماء نے جائز قرار دیا ہے، لیکن مردوں کے لیے امام مالک (رح) نے اس کو مکروہ کہا ہے۔ امام مالک (رح) نے عورت کے لیے ہاتھوں پر مہندی لگانا جائز قرار دیا ہے، حضرت عمر ؓ سے اس کا انکار بھی مروی ہے۔ فرمایا : یا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو مہندی لگائے یا ترک کر دے، امام مالک (رح) نے حضرت عمر ؓ سے مروی روایت کا انکار کیا ہے کہ عورت مہندی سے خضاب لگانا ترک نہ کرے۔ کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا جس نے مہندی نہیں لگائی ہوئی تھی آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم (عورتوں) میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو اس طرح نہ چھوڑے کہ وہ مرد کا ہاتھ معلوم ہو “ وہ عورت پھر ہمیشہ مہندی لگاتی رہی حتی کہ اس کی عمر نوے سال سے بڑھ گئی تھی اور پھر وہ فوت ہوگئی۔
قاضی عیاض نے کہا : کالی مہندی کے متعلق منع کرنے کی حدیث مروی ہے، صاحب المصابیح نے اس کا ذکر کیا ہے اور عورت بغیر زیور کے نہ ہو اس کی گردن میں موتیوں کا ہار ہو۔ نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا : ” بغیر ہار کے ہونا تیرے لیے مناسب نہیں خواہ وہ دھاگے کا ہو یا چمڑے کا ہو “۔ حضرت انس ؓ نے کہا : عورت کے لیے مستحب ہے کہ وہ نماز میں اپنے ہار کو اپنی گردن سے لپیٹ دے اگر وہ چمڑے کا ہو۔
ابو جعفر طبری نے کہا : حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث میں دلیل ہے کہ خاوند یا کسی اور کے لیے جس کی خاطر کمی یا زیادتی کے ساتھ اللہ کی تخلیق کو بدلنا جائز نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے خواہ وہ دانتوں کو کھلا کرے یا دانتوں کو تیز کرے یا اس کا دانت لمبا ہو تو وہ اسے اکھیڑ دے یا بہت سے لمبے دانت ہوں تو اس کی اطراف کو کاٹ دے۔ اسی طرح داڑھی یا مونچھوں کا حلق کرنا یا نیچے والے ہونٹ کے بالوں کا حلق کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ تمام صورتیں اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے عیاض نے کہا ؛ جس کی زائد انگلی ہو یا کوئی عضو زائد ہو تو اس کا کاٹنا اور اس کا اکھیڑنا جائز نہیں، کیونکہ یہ اللہ کی تخلیق کی تبدیلی سے ہے، مگر یہ زائد عضو تکلیف دیتا ہو تو ابو جعفر وغیرہ کے نزدیک اس کو اکھیڑنے میں حرج نہیں۔
مسئلہ نمبر : (8) میں کہتا ہوں : اس باب سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : لعن اللہ والواصلۃ والمستوصلہ والواشمۃ والمستوشمۃ (1) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، جلد 2، صفحہ 204، صحیح بخاری حدیث نمبر 5491، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی، نشان بنانے والی اور نشان بنوانے والی پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے تخریج کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو اپنے بالوں میں دوسرے بال جوڑنے سے منع فرمایا تاکہ بال زیادہ نظر آئیں، واصلۃ وہ عورت جو ایسا کرتی ہے اور المستوصلہ جو بال لگواتی ہے۔ مسلم نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی مکرم ﷺ نے عورت کو اپنے بالوں میں کوئی چیز ملانے سے زجر وتوبیخ فرمائی (2) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، جلد 2، صفحہ 205، صحیح بخاری حدیث نمبر 5491، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
حضرت اسمائرضی اللہ تعالیٰ عنھا بنت ابی بکر سے مروی ہے فرمایا : ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کی شادی ہوئی ہے اسے بیماری لگ گئی ہے جس کی وجہ سے اس کے بال جھڑگئے ہیں کیا میں اس کو دوسرے بال لگوا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور بال لگوانے والی پر لعنت کی ہے “ (3) (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، جلد 2، صفحہ 205، صحیح بخاری حدیث نمبر 5491، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
یہ بال جوڑنے کی تحریم میں نص ہے۔
امام مالک (رح) اور عطا کی جماعت نے یہی کہا ہے : انہوں نے ہر قسم کے بال خواہ وہ اون سے ہوں یا کپڑے سے ہوں سب سے منع کیا ہے، کیونکہ اس میں بھی بال جوڑنے کا معنی پایا جاتا ہے، لیث بن سعد، نے شاذ قول کیا ہے اس نے اون اور کپڑے اور ایسی چیز جو بال نہیں، کے ملانے کو جائز قرار دیا ہے، یہ اہل ظاہر کے مذہب کے زیادہ مشابہ ہے، اور دوسرے علماء نے سر پر بال رکھنے کو مباح قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : نہی صرف ملانے کے متعلق ہے۔ یہ محض ظاہر ہے اور معنی سے اعراض ہے ایک قوم نے شاذ قول کیا ہے : انہوں نے مطلقا وصل (بال اگانے) کو جائز قرار دیا ہے، یہ قطعا باطل قول ہے، احادیث اس کا رد کرتی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے وہ مروی ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا : میری والدہ عورتوں کو کنگھی کرتی ہے، کیا میں اس کے مال سے کھا سکتا ہوں ؟ ابن سیرین نے کہا : اگر وہ مال لگاتی ہے تو نہیں اور نہی میں وہ داخل نہیں جو زینت اور خوبصورتی کے لیے رنگ برنگ ریشم کے دھاگوں سے باندھا جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) ایک گروہ نے کہا : اللہ کی تخلیق کی تغییر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند، پتھروں اور آگ وغیرہ کو اس لیے پیدا فرمایا تاکہ ان سے نفع حاصل کیا جائے، کفار نے ان کو معبود بنادیا، زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو پیدا فرمایا تاکہ ان سے نفع حاصل کیا جائے کفار نے ان کو معبود بنا دیا، زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو پیدا فرمایا تاکہ ان پر سواری کی جائے اور ان کا گوشت کھایا جائے لیکن کفار نے ان کو اپنے اوپر حرام کردیا، اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور پتھروں کو لوگوں کے لیے مسخر کیا لیکن لوگوں نے انہیں معبود بنا کر پوجنا شروع کردیا، پس انہوں نے اللہ کی تخلیق کو بدل ڈالا، مفسرین کی ایک جماعت مجاہد ؓ ضحاک ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ ؓ کا یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : (آیت) ” فلیغیرن خلق اللہ “۔ سے مراد اللہ کے دین کو بدلنا (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 123) یہ نخعی کا قول ہے، طبری نے اس کو اختیار کیا ہے، انہوں نے فرمایا : اگر یہ معنی ہو تو وہ تمام صورتیں اس میں داخل ہوں گی جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے، مثلا خصی ہونا، جسم پر سوئی سے بیل بوٹے بنانا اور دوسرے گناہ، کیونکہ شیطان ان تمام گناہوں کی طرف بلاتا یعنی وہ بدل دیں گے اسے جو اللہ نے اپنے دین میں حکم فرمایا، مجاہد (رح) نے بھی یہ کہا ہے (آیت) ” فلیغیرن خلق اللہ “۔ یعنی وہ اللہ کی اس فطرت کو بدل دیں گے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا فرمایا یعنی وہ اسلام پر پیدا کیے گئے تھے شیطان نے انہیں اس کو تبدیل کرنے کا حکم دیا
نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا یہی معنی ہے : کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ وینصرانہ ویمجسانہ (2) (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 185، ایضا حدیث نمبر 1270، ضیا القرآن پبلی کیشنز) ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں، پس خلق کا معنی اس طرف لوٹے گا جس میں اللہ تعالیٰ نے چیونٹیوں کی شکل میں حضرت آدم کی پیٹھ سے انہیں نکالا اور ان میں ایمان پیدا فرمایا جس کا ذکر : (آیت) ” الست بربکم، قالوا بلی “۔ (الاعراف : 172) میں ہے ابن عربی نے کہا : طاؤوس سے مروی ہے کہ وہ کالی عورت کا سفید مرد سے نکاح ہوتا یا سفید عورت کا کالے مرد سے نکاح ہوتا تو وہ اس میں حاضر نہ ہوتے تھے وہ کہتے : یہ بھی (آیت) ” فلیغیرن خلق اللہ “۔ سے ہے، قاضی نے کہا : اگرچہ لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے مگر یہ مخصوص ہے کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے اپنے غلام زید کا نکاح جو سفید رنگت والے تھے، اپنی دایہ بر کہ حبشیہ سے کردیا جو حضرت اسامۃ کی والدہ تھی اور حضرت اسامہ سفید سے کالے پیدا ہوئے تھے طاؤوس کے علم کے باوجود یہ مسئلہ ان سے مخفی رہا (3) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1 صفحہ 502)
میں کہتا ہوں : پھر حضرت اسامہ ؓ نے فاطمۃ بنت قیس سے نکاح کیا تھا وہ عورت سفید تھی اور قریشی تھی اور حضرت بلال ؓ کے نکاح میں حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی بہن زہریۃ ؓ تھی یہ خاص اور طاؤوس پر یہ معاملہ مخفی رہا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ “ یعنی جو شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ کے حکم کو چھوڑتا ہے، (آیت) ” فقد خسر “ اس نے اپنے اجر میں کمی کی اور اپنا ہی نقصان کیا، کیونکہ اس نے اللہ کا حق شیطان کو دیا اور شیطان کے لیے اللہ کا حق چھوڑ دیا۔
Ayahs 4:120–122آیت نمبر 120، تا 122۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یعدھم “۔ یعنی وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے، مال وجاہ اور ریاست کے سبز باغ دکھاتا ہے اور انہیں کہتا ہے نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ کوئی سزا ہے، وہ انہیں فقر وغربت سے ڈراتا ہے تاکہ وہ بھلائی میں مال خرچ نہ کریں (آیت) ” ویمنیھم اس کا بھی یہی مفہوم ہے (آیت) ” وما یعدھم الشیطن الا غرور “۔ یعنی دھوکا، ابن عرفہ نے کہا : الغرور ہر وہ چیز جس کے ظاہر کو تو دیکھے تو تو اس سے محبت کرے جب کہ اس کا باطن مکروہ ہو یا مجہول ہو شیطان کو غرور کہا جاتا ہے، کیونکہ نفس کی محبت کی جگہوں پر ابھارتا ہے جب کہ اس کے پیچھے تکلیف دہ چیزیں ہوتی ہیں۔ (آیت) ” اولئک “ یہ مبتدا ہے (آیت) ” ماوھم “ دوسرا مبتدا ہے، (آیت) ” جھنم “۔ دوسرے مبتدا کی خبر ہے اور پھر جملہ پہلے مبتدا کی خبر ہے، (آیت) ” محیصا ‘۔ ملجا اس سے فعل خاص یحیص آتا ہے (آیت) ” ومن اصدق من اللہ قیلا “۔ مبتدا خبر ہیں۔ قیلا، قال قیلا وقولا وقالا تمام کا ایک معنی ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی سچا نہیں، جو معانی اس آیت کے ضمن میں ہیں ان پر کلام گزر چکی ہے۔