4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑ بڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا ؟ تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ؟ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت نمبر : 77۔ عمرو بن دینار نے عکرمہ ؓ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے ساتھی نبی مکرم ﷺ کے پاس مکہ میں آئے اور کہا : اے اللہ کے نبی ! ہم عزت میں تھے جب کہ ہم مشرک تھے جب ہم ایمان لائے تو ہم ذلیل ہوگئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : انی امرت بالعفوفلا تقاتلوا القوم۔ (1) (سنن نسائی، کتاب الجہاد جلد 2، صفحہ 51) مجھے عفو کا حکم دیا گیا ہے پس تم قوم سے نہ لڑو، جب اللہ تعالیٰ آپ کو مدینہ طیبہ کی طرف جانے کا حکم دیا تو آپ کو قتال کرنے کا حکم دیا پس وہ لوگ اس وقت جہاد سے رک گئے پس یہ آیت نازل ہوئی، اس حدیث کو نسائی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے، اور یہ کلبی کا قول ہے، مجاہد نے کہا : وہ یہود تھے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 79 دارالکتب العلمیہ) حسن نے کہا : یہ مومنین کے بارے میں ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 80 دارالکتب العلمیہ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یخشون الناس، الناس سے مراد مشرکین مکہ ہیں : (آیت) ” کخشیۃ اللہ “۔ یہ بشری تقاضا کے مطابق خوف تھا نہ مخالفت کی وجہ سے تھا، سدی نے کہا : یہ وہ لوگ تھے جو جہاد کے فرض ہونے سے پہلے اسلام لائے تھے جب جہاد فرض کیا گیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔ اور بعض علماء نے فرمایا : یہ منافقین کا وصف بیان کیا گیا ہے۔ (4) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 79 دارالکتب العلمیہ) معنی یہ ہے کہ وہ مشرکین کی طرف سے قتل سے ڈرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی طرف سے موت سے ڈرتے تھے۔ (آیت) ” اواشد خشیۃ “۔ یعنی وہ اپنے اعتقاد میں اس سے بھی زیادہ ڈرتے تھے، میں کہتا ہوں : یہ آیت کے سیاق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال، لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ یعنی لولا، ھلا کے معنی میں ہے اس سے متصل فعل ہوتا ہے۔ اللہ کی پناہ کہ کسی معزز صحابی سے یہ قول صادر ہو جو جانتا ہو کہ یہ زندگی کی عمر محدود ہے اور رزق تقسیم شدہ ہے بلکہ شدہ ہے بلکہ صحابہ تو اللہ تعالیٰ کے اوامر کے پیروی کرنے والے، سننے اور اطاعت کرنے والے تھے، وہ جانتے تھے کہ اس دنیا میں رہنے کی نسبت آخرت کے گھر میں پہنچنا بہتر ہے جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے مگر یہ کہ اس کا قائل ایسا شخص ہو جس کا ایمان ابھی راسخ نہ ہو اور ابھی اس کا دل اسلام کی عظمتوں کے ساتھ کشادہ نہ ہوا ہو۔ کیونکہ اہل ایمان ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے تھے ان میں سے کچھ کامل تھے اور کچھ ناقص تھے، یہ وہ تھے جس کا نفس متنفر تھا اس حکم سے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا جس میں اسے مشقت لاحق ہوتی تھی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل متاع الدنیا قلیل “۔ یہ مبتدا خبر ہے اسی طرح (آیت) ” والاخرۃ خیرلمن اتقی “۔ یعنی جو گناہوں سے بچا اس پر کلام سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ (آیت) ” متاع الدنیا “ دنیا کی منفعت اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہونا مراد ہے۔ دنیا کی منفعت کو قلیل کہا کیونکہ اس کے لیے بقا نہیں، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ’ میری مثال اور دنیا کی مثال سوار کی طرح ہے جس نے ایک درخت کے نیچے قیلولہ کیا “۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، صفحہ 312، ایضا، جامع ترمذی، حدیث 2299، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پھر وہ پچھلے پہر اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ مفہوم سورة بقرہ میں تفصیلی مفہوم کے ساتھ گزر چکا ہے۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو ! ) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہیں گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ (گزند) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج و راحت) سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟

آیت نمبر : 78۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” این ما تکونوا یدرکم الموت “۔ شرط اور جزا ہے اور مازائدہ ہے یہ خطاب عام ہے اگرچہ مراد منافقین یا وہ کمزور مومن ہیں جنہوں نے کہا تھا ؛ (آیت) ” لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ یعنی تو نے ہمیں کیونکہ ڈھیل نہ دی تاکہ ہم اپنی عمریں پوری کرکے فوت ہوتے، یہ منا یقین کے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، کیونکہ جب جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے کہا : (آیت) ” لوکانوا عندنا ماماتوا وما قتلوا “۔ (آل عمران : 156) اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا : (آیت) ” این ما تکونوا یدرکم الموت، ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے، ابو صالح نے ان سے روایت کیا ہے ” البروج “ کا واحد برج ہے، بلند عمارت اور عظیم محل کو کہتے ہیں، فرفۃ نے اپنی اونٹنی کی تعریف میں کہا : کانھا برج رومی تکففھا بان بشید وآجرواحجار : اونٹنی کو شاعر نے بلند رومی محل سے تشبیہ دی ہے۔ طلحہ بن سلیمان نے (آیت) ” یدرککم، کاف کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور فا کے اضمار کا اعتبار کیا ہے، یہ بہت قلیل ہے، یہ صرف اشعار میں ہوتا ہے۔ من یفعل الحسنات اللہ یشکرھا : اس میں لفظ اللہ سے پہلے فا مضمر ہے۔ علماء تفسیر کا بروج کی مراد میں اختلاف ہے، اکثر کا قول یہ ہے کہ زمین میں جو قلعے بنے ہوئے تھے وہ مراد ہیں، یہ قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ یہ بچاؤ اور حفاظت میں انسان کی غایت ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے انکے لیے ان کی مثال دی، قتادہ ؓ نے کہا : قصور محصنۃ محفوظ قلعے، یہ ابن جریج اور جمہور کا قول ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 80 دارالکتب العلمیہ) اسی سے ہے عامر بن طفیل کا قول جو اس نے نبی مکرم ﷺ سے کیا تھا ” ھل لک فی حصن ومنعۃ “ ؟ کیا آپ کے لیے کوئی محفوظ قلعہ ہے ؟ مجاہد نے کہا : البروج سے مراد محلات ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : البروج سے مراد حصون، قلعے اور محلات ہیں اور (آیت) ” مشیدۃ “ کا معنی بلند وبالا ہے۔ یہ زجاج اور قتبی کا قول ہے، عکرمہ ؓ نے کہا : جو جص کے ساتھ بنائے گئے ہوں، قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے محفوظ، المشید اور المشید دونوں کا ایک معنی ہے، اسی سے ہے قصر مشید اور تشدید تکثیر کے لیے ہے۔ بعض نے فرمایا : الشید سے مراد بلند وبالا ہے۔ الشید سے مراد وہ جو جس کے ساتھ لپائی کیے گئے ہوں، کہا جاتا ہے : شاد البنیان واشاد بذکرہ، سدی نے کہا : البروج سے مراد آسمان دنیا میں بنائے بروج ہیں، یہ قول مکی نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا : کیا تم نے ملاحظہ نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” والسمآ ذات البروج، (البروج) جعل فی السمآء بروجا “۔ (فرقان : 61) (آیت) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “۔ (الحجر : 16) ابن عربی نے ابن القاسم عن مالک کے سلسلہ سے روایت کیا ہے، نقاش نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا (آیت) ” فی بروج مشیدۃ “ ، کا معنی ہے وہ لوہے کے محلات میں ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 80 دارالکتب العلمیہ) ابن عطیہ نے کہا : اس قول کی تائید ظاہر لفظ نہیں کرتے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 81 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت عمروں کے بارے میں قدریہ کا رد کرتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” این ما تکونوا یدرکم الموت “۔ الایۃ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جب عمر ختم ہوجاتی ہے تو روح کا جسم سے جدا ہونا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ بذریعہ قتل ہو یا طبعی موت ہو یا کوئی اور طرح ہو جس کو اللہ تعالیٰ جاری فرمائے تاکہ روح جسم سے نکل جائے۔ معتزلہ نے کہا : مقتول کو اگر قاتل قتل نہ کرتا تو وہ زندہ رہتا، سورة آل عمران میں ان کا رد گزر چکا ہے، مزید آگے آئے گا، انہوں نے اپنے اس قول کے ساتھ کفار اور منافقین کی موافقت کی۔ مسئلہ نمبر : (3) شہروں کا بنانا اور ان کی تعمیر کرنا تاکہ ان کے ذریعے اموال اور نفوس کی حفاظت کی جائے یہ بندوں میں اللہ کی سنت ہے، اس میں اس کی رد کی بہت بڑی دلیل ہے جو کہتے ہیں : توکل ترک اسباب کا نام ہے، شہروں کا بنانا بڑا سبب ہے اور ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے، انبیاء کرام نے قلعے بنائے اور اپنی حفاظت میں اضافہ کرنے کے لیے شہروں کے اردگرد خندقیں کھودیں۔ احنف سے پوچھا گیا : دیواروں کی کیا حکمت ہے ؟ اس نے کہا : تاکہ وہ سفیہ (بےوقوف) کو روکے، تاکہ حکیم آئے اور وہ اس کی حفاظت کرے۔ مسئلہ نمبر : (4) اگر ہم امام مالک (رح) اور سدی کے قول کو تسلیم کریں کہ یہ آسمان کے بروج ہیں تو پھر فلک کے بروج بارہ ہیں اور اس سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں، بعض نے فرمایا : ان ستاروں کے لیے بروج ہیں تاکہ وہ ظاہر ہوں، یہ برج یبرج سے مشتق ہے جب کوئی چیز ظاہر ہو اور بلند ہو اسی سے ہے (آیت) ” تبرجن تبرج الجاھیلۃ الاولی “۔ (الاحزاب : 33) ان کو اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے لیے منازل بنایا اور ان میں اس کو مقدور کیا اور ان پر زمانوں کو مرتب کیا اور ان کو جنوبی اور شمالی بنایا، مصالح پر دلیل بنایا اور قبلہ پر علامت بنایا اور رات اور دن کے اوقات کے تحصیل کا راستہ بنایا تاکہ تہجد اور احوال معاش وغیرہ کے اوقات کی معرفت حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان تصبھم حسنۃ یقولوا ھذہ من عند اللہ “۔ یعنی منافقین کو جب خوشحالی اور شادابی میسر آتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ (آیت) ” وان تصبھم سیئۃ “۔ یعنی قحط سالی اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کہتے ہیں : یہ آپ کی طرف سے ہے یعنی یہ سب کچھ آپ کی، آپ کے صحابہ کی وجہ سے بےبرکتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” حسنۃ “۔ سے مراد سلامتی اور امن ہے، اور (آیت) ” سیئۃ “۔ سے مراد امراض اور خوف ہے، بعض نے فرمایا : (آیت) ” حسنۃ “ سے مراد غنا ہے اور (آیت) ” سیئۃ “ سے مراد فقر ہے، بعض نے فرمایا : (آیت) ” حسنۃ “ سے مراد بدر کے دن کی نعمت فتح اور غنیمت ہے اور (آیت) ” سیئۃ “ سے مراد جنگ احد کی مصیبت، شدت اور قتل ہے، بعض نے فرمایا : (آیت) ” حسنۃ سے مراد خوشی ہے۔ (آیت) ” سیئۃ “ سے مراد تکلیف ہے، یہ تمام مفسرین اور علماء تاویل کے اقوال ہیں جیسے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ۔ یہ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب نبی مکرم ﷺ مدینہ طبیہ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا : جب سے یہ شخص اور اس صحابہ ہمارے پاس آئے ہیں اس وقت سے ہمارے پھلوں اور کھیتوں میں کمی آگئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (آیت) ” من عندک “ کا معنی ہے تمہاری تدبیری کی وجہ سے، بعض نے فرمایا : تمہاری نحوست کی وجہ سے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے یعنی تمہاری نحوست کی وجہ سے جو ہمیں لاحق ہوئی، یہ انہوں نے فال کی جہت سے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قل کل من عند اللہ “۔ یعنی شدت، خوشحالی، کامیابی، ناکامی، سب اللہ کی طرف سے ہے یعنی اس کے فیصلہ اور قدرت سے ہے (آیت) ” فمال ھؤلآء القوم “۔ یعنی منافقین، (آیت) ” لا یکادون یفقھون حدیثا “۔ یعنی کیا وجہ ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

آیت نمبر : 79۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ، وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک “۔ یعنی اے پیارے محمد ! جو آپ کو شادابی، صحت اور سلامتی میسر آئے تو وہ تجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور جو انسان کو قحط سالی اور شدت لاحق ہو وہ اس کے گناہ کی وجہ سے ہے جس پر اسے عقاب کیا گیا ہے۔ خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے، یعنی اے لوگو ! تمہیں جو شادابی، وسعت رزق میسر آئے تو وہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور جو قحط سالی اور تنگی رزق پہنچے تو تمہاری اپنی طرف سے ہے یعنی تمہارے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ یہ حسن اور سدی وغیرہما کا قول ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم النسآء “۔ (طلاق : 1) بعض علماء نے فرمایا : خطاب ایک انسان کو ہے اور مراد پوری جنس ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” والعصر، ان الانسان لفی خسر “۔ (العصر) یعنی لوگ خسارے میں ہیں۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ ان سے استثنا کی فرمایا : (آیت) ” الا الذین امنوا “۔ اور استثنا جملہ یا جماعت سے ہوئی ہے۔ اس تاویل پر (آیت) ” ما اصابک “۔ نئی کلام ہوگی۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے تقدیر کلام اس طرح ہے یقولون اس پر کلام متصل ہوگی، معنی یہ ہوگا تو کیا ہوگیا اس قوم کو بات سمجھنے کے قریب نہیں جاتے حتی کہ کہتے ہیں، جب پہنچے آپ کو بھلائی یہ اللہ کی طرف سے ہے، بعض علماء نے فرمایا : الف استفہام مضمرہ ہے معنی ہے۔ (آیت) ” فمن نفسک “۔ کیا آپکی طرف سے ہے ؟ اس کی مثل ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتلک نعمۃ تمنھا علی “۔ (الشعرائ : 22) معنی یہ ہے اوتلک نعمۃ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلما را القمر بازغا قال ھذا ربی “۔ (الانعام : 77) ای ھذا ربی (یہ تمام مثالیں ہمزہ استفہام کی تقدیر کے ساتھ ہیں) ابوالخراش الہذالی نے کہا : رمونی وقالوا یاخویلد لم ترع فقلت وانکرت الوجوہ ھم ھم : شاعر نے اھم کا ارادہ کیا ہے، ہمزہ استفہام مضمر ہے۔ یہ کثرت سے ہوتا ہے، مزید تفصیل آگے آئے گی، اخفش نے کہا : ما بمعنی الذی ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ شرط ہے، نحاس نے کہا : درست اخفش کا قول ہے، کیونکہ یہ قحط سالی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر اس کا تعلق گناہوں سے ہوتا تو عبارت یوں ہوتی وما اصبت من سیئۃ، عبدالوہاب بن مجاہد نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابی ؓ ، اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے : ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وانا کتبتھا علیک، یہ قرات تفسیر کی بنا پر ہے، بعض کج رو لوگوں نے اس کو قرآن سے ثابت کیا ہے اور اس کے متعلق حضرت ان مسعود ؓ اور حضرت ابی ؓ سے مروی حدیث منقطع ہے، کیونکہ مجاہد (رح) نے نہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو دیکھا اور نہ حضرت ابی کو دیکھا۔ اور جنہوں نے کہا : الحسنۃ سے مراد جنگ بدر کی فتح اور غنیمت ہے اور السیئۃ سے مراد جنگ احد کی شکست ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو سزا ملی جب ان تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کی انہوں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ پیچھے سے حفاظت کریں اور اپنی جگہ کو کسی حال میں بھی نہ چھوڑیں، پس ان صحابہ نے قریش کی ہزیمت کو دیکھا اور مسلمانوں کو مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنی صفیں چھوڑ دیں، خالد بن ولید جو اس وقت کفار کے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ تیر اندازوں کے گروہ سے خالی ہے تو انہوں نے گھوڑوں کا ایک دستہ لیا اور مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کردیا اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صررف صاحب علم موجود تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کی وصیت کی حفاظت کی تھی پس وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا اور شہید ہوگیا جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی مثال نازل فرمائی۔ وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اولما اصابتکم مصیبۃ “۔ (ال عمران : 165) یعنی جنگ احد میں جو تمہیں مصیبت پہنچی، (آیت) ” قد اصبتم مثلیھا “۔ (آل عمران : 165) یعنی بدر کے روز اس کی دو مثل حاصل کرچکے ہو۔ (آیت) ’ قلتم انی ھذا قل ھو من عند انفسکم (آل عمران : 165) اور یہاں حسنۃ سے مراد اطاعت اور سیئۃ سے مراد معصیت لینا جائز نہیں جیسا کہ قدریہ نے کہا اگر یہ اس طرح ہوتا تو ما اصبت ہوتا جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ فعل کے معنی میں ہے اور ہمارے نزدیک کسب کے معنی میں ہے۔ ” حسنۃ “ طاعت کے معنی میں اور ” سیئۃ “ معصیت کے معنی میں ہے اسی قول میں ہے : (آیت) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا، ومن جآء بالسیئۃ فلا یجزی الامثلھا “۔ (الانعام : 160) لیکن اس آیت میں یہ خوشحالی، قحط، سالی، راحت وشدت کے معنی میں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے وضاحت کی ہے اور اسی طرح سورة اعراف میں آیا ہے وہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین ونقص من الثمرات لعلھم یذکرون “۔ السنین سے مراد یکے بعد دیگرے قحط سالی ہے، ان سے بارش روک لی اور پھلوں میں کمی ہوگئی اور قیمتیں بہت چڑھ گئیں، (آیت) ” فاذا جآء تھم الحسنۃ قالوا لنا ھذہ وان تصبھم سئیۃ یطیروا بموسی ومن معہ “۔ (الاعراف : 131) تو جب آتا ان پر خوشحالی (کادور) تو کہتے : ہم مستحق ہیں اس کے اور اگر پہنچتی انہیں کوئی تکلیف (تو) بدفالی پکڑتے موسیٰ سے اور آپ کے ساتھیوں سے۔ یعنی وہ ان سے بری فال پکڑتے تھے اور کہتے تھے : یہ مہنگائی اور قحط سالی اس وجہ سے ہے کہ ہم نے تیری اتباع کی اور تیری پیروی کی، اللہ تعالیٰ نے ان کا اس آیت سے رد فرمایا : (آیت) ” الا انما طئرھم عند اللہ “۔ (الاعراف : 131) یعنی برکت کی فال اور شوم کی فال خیر اور شر، نفع وضرر یہ اللہ کی طرف سے ہے اس میں مخلوق کا کوئی تعلق نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق خبر دی، جنہوں نے نبی مکرم ﷺ کی طرف ان چیزوں کو منسوب کیا فرمایا : (آیت) ’ وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ “۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الا انما طیرھم عند اللہ “۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما اصابکم یوم التقی الجمعن فباذن اللہ “۔ (آل عمران : 166) اور وہ مصیبت جو پہنچی تھی تمہیں اس روز جب مقابلہ کو نکلے تھے دونوں لشکر تو وہ اللہ کے حکم سے پہنچی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی یعنی اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر اور علم کے ساتھ، قرآنی آیات ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں، ہمارے علماء نے فرمایا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ شک نہیں کرتا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے ارادہ ومشئیت سے ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (الانبیا : 35) اور ہم خوب آزماتے ہیں تمہیں برے اور اچھے حالات سے دور کرکے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واذا ارادہ اللہ بقوم سوء افلا مردلہ وما لھم من دونہ من وال “۔ (الرعد) اور جب ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا تو کوئی ٹال نہیں سکتا اور نہ ہی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی مدد کرنے والا ہوتا ہے۔ مسئلہ : بعض اہل سنت کے جہال نے اس آیت سے اسی طرح حجت پکڑی ہے جس طرح قدریہ نے اس سے حجت پکڑی ہے ان کے احتجاج کی وجہ یہ ہے کہ قدریہ کہتے ہیں : یہاں الحسنۃ بمعنی اطاعت ہے اور السیۃ بمعنی معصیت ہے اور انہوں نے کہا : معصیت کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ’ ما اصابک من سیئۃ “۔ میں انسان کی طرف منسوب کیا گیا ہے نہ کی اللہ تعالیٰ کی طرف۔ یہ اس آیت سے ان کے تعلق کی وجہ ہے، دوسرے علماء کے تعلق کی وجہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” قل کل من عند اللہ “۔ ان علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں الحسنۃ اور السیئۃ کو اپنی طرف منسوب کیا ہے، نہ کہ مخلوق کی طرف، یہ آیت ہے دونوں فریق کے جہال اس کے متعلق ہیں، کیونکہ انہوں نے اس کی بنیاد اس پر رکھی کہ سیئۃ یہاں معصیت کے معنی میں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا، واللہ اعلم، قدریہ اگر کہیں کہ (آیت) ” مآاصابک من حسنۃ “۔ یعنی طاعت میں سے (آیت) ” فمن اللہ “۔ تو اللہ کی طرف سے تو ان کا یہ عقیدہ نہیں ہے، کیونکہ ان کا عقیدہ جس پر ان کے مذہب کی بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ نیکی، نیکی کرنے والے کا فعل ہے اور برائی، برائی کرنے والے کا فعل ہے۔ اسی طرح اگر ان کی اس آیت میں حجت ہوتی تو کلام اس طرح ہوتا ما اصبت من حسنۃ وما اصبت من سیئۃ۔ کیونکہ وہ نیکی اور برائی کا فاعل ہے اس کی طرف مضاف نہیں کیا جاتا مگر ان دونوں افعال کے کرنے کے ساتھ جن کو کسی غیر نے نہ کیا ہو۔ اس مقالہ پر امام ابو الحسن شبیب بن ابراہیم بن محمد بن حیدرہ نے اپنی کتاب احزالغلاصم فی افحامالمخاصم میں نص قائم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ارسلنک للناس رسولا “۔ مصدر مؤکد ہے یہ معنی بھی جائز ہے کہ ذا رسالۃ، وکفی باللہ شھیدا “۔ بیان کی بنا پر نصب ہے اور بازائد ہے، یعنی (آیت) ” وکفی باللہ شھیدا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی رسالت کی سچائی پر گواہ ہے اور وہ گواہ ہے کہ وہ سچا ہے۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر ﷺ تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے

آیت نمبر : 80 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اس کی اطاعت ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، جلد 2، صفحہ 124) اور ایک روایت میں ہے ” جس نے میرے امیر کیا اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن تولی “۔ جس نے منہ پھیرا “۔ (آیت) ” فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے اعمال کا پاسبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ پر صرف تبلیغ کرنا ہے قتبی نے کہا : حفیظا کا معنی ہے محاسبا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو آیۃ السیف سے منسوخ کردیا اور اس سے جنگ کرنے کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے۔
Ayahs 4:81–82

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ کرو اور خدا ہی کافی کار ساز ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

آیت نمبر : 81 تا 82۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طآئفۃ منھم غیرالذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون “۔ یعنی امرنا طاعۃ اور طاعۃ پر نصب بھی جائز ہے یعنی نطیع طاعۃ، یہ نصر بن عاصم، حسن اور حجدری کی قرات ہے، اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی وہ جب آپ کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ہمارا معاملہ اطاعت ہے یا ہم پوری اطاعت کرتے ہیں اور ان کا یہ قول نفع بخش نہیں، کیونکہ جو اطاعت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو حقیقۃ مطیع نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انکی اس اطاعت کو ثابت نہیں کیا جو انہوں ظاہر کی تھی اگر بغیر اعتقاد طاعت اگر ہوتی تو ان کے لیے اس کا حکم کیا جاتا، پس ثابت ہوا کہ اعتقاد کے ساتھ اطاعت کا ثبوت ہے۔ (آیت) ” فاذا برزوا “۔ جب وہ نکلتے ہیں۔ (آیت) ” من عندک بیت طائفۃ منھم “۔ طائفہ کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ رجال کے معنی میں ہے، کو فیوں نے تا کو طا میں ادغام کیا، کیونکہ دونوں ایک مخرج سے ہیں۔ کسائی نے فعل میں اس کو قبیح سمجھا ہے جب کہ بصریوں کے نزدیک یہ قبیح نہیں ہے اور بیت کا معنی ملمع سازی کرنا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے تبدیلی کرنا اور بدلنا یعنی نبی مکرم ﷺ کے قول کو انہوں نے بدلا جس کا آپ ﷺ نے ان سے عہد لیا تھا اور جس کا انہیں حکم دیا تھا التبییت کا معنی تبدیل کرنا ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے : اتونی فلم ارض ما بیتوا وکانوا اتونی بامرنکر : (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 83 دارالکتب العلمیہ) ۔ لا نکح اتمھم منذرا وھل ینکح العبد حر لحر : ایک اور شاعر نے کہا : بیت قولی عبدالملیب ک قاتلۃ اللہ عبدا کفورا : ان اشعار میں بیت کا معنی تبدیل کرنا ہے۔ وبیت الرجل الامر : جب کوئی رات کے وقت پھر جائے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اذ یبیتوں ما لا یرضی من القول “۔ اور عرب کہتے ہیں : امر بیت بلیل، جب کوئی امر پختہ کیا جائے، رات کو اس کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فارغ وقت ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : اجمعوا امرھم بلیل فلما اصبحوا اصبحت لھم ضوضاء : اس سے ہے بیت الصیام والبیوت : الماء یبیت لیلا والبیوت : الامر یبیت عملیہ صاحبہ مھتما بہ۔ ھذلی نے کہا : : واجعل فقر تھا عدۃ اذا خفت بیوت امر عضال : والتبیت والبیات : دشمن کا رات کے وقت آنا، بات یفعل کذا جب کوئی رات بھر کام کرتا رہے جیسے کہا جاتا ہے : ظل بالنھار، وبیت الشیء “ ، یعنی کسی چیز کا اندازہ لگایا، اگر کہا جائے کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ ابتدا میں تمام کا ذکر کیا پھر (آیت) ” بیت طائفۃ منھم “۔ فرمایا اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس کی حالت سے تعبیر فرمایا جس کے متعلق اسے علم ہے کہ وہ کفر اور نفاق پر باقی رہا اور اس سے درگزر فرمایا جس کے متعلق اسے معلوم تھا کہ وہ اس سے واپس آجائے، بعض نے فرمایا : اس کی حالت کو بیان کیا جو حاضر ہوا اور اپنے معاملہ میں حیران ہوا اور جس نے سنا وہ خاموش رہا تو اس کا ذکر نہ کیا۔ (آیت) ” واللہ یکتب ما یبیتون “۔ یعنی وہ ان کے اعمال کیے صحیفوں میں ان کی سازش کو لکھ رہا ہے تاکہ انہیں اس پر سزا دیجائے زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے وہ تجھ پر کتاب میں نازل کرے گا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 83 دارالکتب العلمیہ) اس آیت میں دلیل ہے کہ صرف قول کچھ مفید نہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا : طاعۃ اور صرف یہ لفظ کہا اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کو ثابت نہیں فرمایا اور ان کی اطاعت کی صحت کا حکم نہ لگایا، کیونکہ وہ اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ مطیع، اطاعت شعار نہیں ہوگا، مگر اطاعت کے اعتقاد کے ساتھ جب کہ اطاعت ساتھ ساتھ بالفعل پائی بھی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا، افلا یتدبرون القران “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاعراض عنھم “۔ یعنی ان کے اسماء کی خبر نہ دو (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 83 دارالکتب العلمیہ) ضحاک ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں، بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے انہیں سزا دو ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے اور دشمن پر مدد میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے کا حکم دیا، کہا جاتا ہے۔ یہ (آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین “۔ (توبہ : 73) کے ارشاد سے منسوخ ہے، پھر منافقین پر عیب لگایا کہ وہ قرآن میں غور وفکر سے اعراض کرتے ہیں اور اس کے معانی میں غور و تدبر نہیں کرتے، تدبرت الشی۔ کسی چیز کے انجام میں غور وفکر کرنا۔ حدیث میں ہے لا تدابروا (3) (شعب الایمان، باب حفظ اللسان، جلد 4، صفحہ 199، حدیث نمبر 4783) یعنی ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، وادبر القوم۔ یعنی اس کا امر آخر تک پہنچا، والتدبیرا انسان کا اپنے معاملہ میں غور وفکر کرنا گویا وہ اس کی عابت و انجام کی طرف دیکھتا ہے۔ یہ آیت اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : (آیت) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “۔ (محمد) قرآن میں غور وفکر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے تاکہ اس کے معنی کو جان لیا جائے، یہ ان علماء کے قول کے فساد پر رد ہے جو کہتے ہیں : تفسیر ہے کچھ نہیں لیا جائے گا مگر جو نبی مکرم ﷺ سے ثابت ہو اور لغت عرب کی بنا پر جو سمجھ آئے اس کی تاویل سے منع کیا۔ اس میں غور وفکر اور استدلال کرنے کی دلیل ہے اور تقلید کے ابطال کی دلیل ہے، نیز اس میں قیاس کے اثبات پر دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاکثیرا “۔ یعنی اگر یہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں وہ بہت زیادہ تفاوت اور تناقص پاتے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ؓ اور ابن زید ؓ سے مروی ہے، اس اختلاف میں قرات کے الفاظ اور امثال، دلالات کے الفاظ اور سورة اور آیات کی مقاد پر داخل نہیں بلکہ تناقص و تفاوت کا اختلاف مراد لیا ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ تم جس کے متعلق خبر دیتے ہو کہ یہ غیر اللہ سے ہے اگر ایسا ہوتا تو اس میں اختلاف ہوتا، بعض نے فرمایا : جو متکلم زیادہ کلام کرتا ہے اس کی کلام میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے یا تو وصف اور لفظ کے اعتبار سے یا جودت معنی کے اعتبار سے یا تناقض کے اعتبار سے یا جھوٹ کے اعتبار سے، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کا حکم دیا، کیونکہ وہ اس میں نہ تو وصف کے اعتبار سے اختلاف پائیں گے، نہ معنی کے اعتبار سے رد پائیں گے نہ تناقض پائیں گے اور جو غیوب کی خبریں انہیں دی گئی ہیں، جو راز کی باتیں انہیں بتائی گئی ہیں ان میں اختلاف نہیں پائیں گے۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

آیت نمبر : 83۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء ھم امر من الامن “۔ اذا میں شرط کا معنی ہے اور اس کی جزا نہیں لگائی جاتی اگرچہ اس پر مازائدہ کیا گیا ہو اور یہ بہت قلیل الاستعمال ہے سیبویہ نے کہا : اور عمدہ ہے جو کعب بن زہیر ؓ نے کہا : واذا ماتشاء تبعث منھا مغرب الشمس ناشطامذعورا : یعنی عمدہ یہ ہے اذا ما کے ساتھ جزم نہ دی جائیی جس طرح اس بیت میں جزم نہیں دی گئی، سورة بقرہ کی ابتدا میں یہ گزر چکا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا امر سنتے ہیں جس میں امن ہوتا ہے جیسے مسلمانوں کی کامیابی اور ان کے دشمن کا قتل (اوالخوف) یا اس کی ضد (اذا عوابہ) تو اس کا خوب چرچا کرتے ہیں اور اس کی حقیقت کو سمجھنے سے پہلے اس پر گفتگو کرتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا : یہ کمزور مسلمانوں کی طرف سے تھا، حسن سے مروی ہے کہ وہ نبی مکرم ﷺ کے امر کو افشا کرتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ان پر اس میں کچھ بھی نہیں ہوگا ضحاک ؓ اور ابن زید نے کہا : یہ منافقین کے بارے میں ہے پس انہیں اس سے منع کیا گیا، کیونکہ اس سے انہیں جھوٹی افواہ پھیلانا لازم آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم “۔ یعنی اس پر گفتگو نہ کرتے اور اس کا چرچا نہ کرتے حتی کہ خود نبی مکرم ﷺ اس کو بیان کرتے اور اس کا اظہار کرتے۔ (آیت) ” اولی الامر “۔ سے مراد اہل علم وفقہ ہیں، یہ حسن اور قتادہ وغیرہما سے مروی ہے، سدی اور ابن زید (رح) نے کہا : اس سے مراد والی ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 85 دارالکتب العلمیہ) بعض نے فرمایا : لشکروں کے امرواء ہیں (آیت) ” العلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ یعنی وہ اسے نکالتے یعنی وہ جان لیتے جس کا افشاء کرنا مناسب تھا اور جس کا چھپانا مناسب تھا، الاستنباط، یہ استنبطت الماء سے مشتق ہے جب پانی کو کوئی نکالے، النبط وہ پانی جو کنواں کھودتے وقت ابتدا میں نکلتا ہے اسے الماء المستنبط کہتے ہیں، نبطیوں کو نبط اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ زمین میں جو کچھ تھا اسے نکالتے تھے، لغت میں الاستنباط کا معنی الاستخراج (نکالنا) ہے یہ اجتہاد کی دلیل ہے جب کہ کسی معاملہ میں نص اور اجماع نہ ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ “۔ سیبویہ کے نزدیک فضل پر رفع مبتدا کی وجہ سے ہے اور اس کی خبر کا ظاہر کرنا جائز نہیں۔ اور کوفی کہتے ہیں : لولا کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے۔ (آیت) ” لاتبعتم الشیطن الا قلیلا “۔ اس آیت میں تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اس بات کا چرچا کیا مگر ان میں سے تھوڑے لوگوں نے یہ چرچا نہ کیا اور افشا نہ کیا۔ یہ نحویوں کی ایک جماعت کا قول ہے، کسائی، اخفش، ابوعبید، ابو حاتم اور طبری، وغیرہ رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اس کو جان لیا، ان لوگوں نے جنہوں نے ان میں سے استنباط کیا مگر ان میں سے تھوڑے لوگوں نے، یہ حسن (رح) وغیرہ سے مروی ہے۔ زجاج کا مختار قول بھی یہی ہے۔ اس نے کہا : استنباط کو زیادہ لوگ جانتے تھے، کیونکہ اس کا مطلب ہے خبر کا علم حاصل کرنا، پہلے قول کو فراء نے اختیار کیا، اس نے کہا : سرایا کو مان لیا جب اس کا مستنبط علم غالب ہوا، الاذاعۃ (افشا) بعض میں ہوتا ہے اور بعض میں نہیں ہوتا کلبی نے فراء سے روایت کیا ہے اسی وجہ سے میں اذاعت سے استثنا کو اچھا سمجھتا ہوں۔ نحاس نے کہا : یہ دونوں قول مجاز پر ہیں مراد یہ ہے کہ کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اور تیسرا قول بغیر مجاز کے ہے، معنی یہ ہوگا اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، یہ کہ اس نے تم میں اپنا (ذی شان) رسول بھیجا جس نے تم میں حجت قائم کی، تو تم کفر کرتے اور شرک کرتے مگر تھوڑے تم میں سے وحدانیت کا اظہار کرتے، اس میں چوتھا قول بھی ہے۔ ضحاک ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے تم شیطان کی اتباع کرتے مگر تھوڑے یعنی حضرت محمد ﷺ کے صحابہ خود شیطان کے امر کو بیان کرتے مگر تھوڑے (2) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 218) یعنی جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے ساتھ خالص فرما دیا، اس قول کی بنا پر (آیت) ” الا قلیلا “۔ کا استثناء (آیت) ” لا تبعتم الشیطن “۔ کے قول سے ہوگا، مہدوی نے کہا : اس قول کا اکثر علماء نے انکار کیا ہے جب تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تمام لوگ شیطان کی پیروی کرتے۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کر دے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی سخت ہے

آیت نمبر : 84۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فقاتل فی سبیل اللہ “۔ یہ فاء (آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نؤتیہ اجرا عظیما “۔ سے متعلق ہے یعنی اس وجہ سے جہاد کرو، بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ “ کے قول سے متعلق ہے گویا یہ معنی ہے دشمن سے جہاد کو نہ چھوڑ اور مومنین میں جو کمزور ہیں اس کی مدد کرنے کو ترک نہ کر اگرچہ تو تنہا بھی ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیری مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کو جہاد کا حکم دیا اگرچہ وہ تنہا بھی جہاد کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت کی ضمانت دی ہے ابن عطیہ نے کہا : یہ لفظ کا ظاہر ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 86 دارالکتب العلمیہ) مگر کسی خبر میں ایسا نہیں آیا کہ جہاد کسی مدت کے لیے آپ پر فرض کیا ہو اور امت پر فرض نہ ہو، معنی یہ ہے کہ لفظ خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے یہ مثال ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے : یہ ہر ایک کے لیے خاص ہے، یعنی اے محمد ﷺ اور آپ کی امت میں سے ہر شخص کو یہ حکم ہے۔ (آیت) ” فقاتل فی سبیل اللہ لاتکلف الانفسک “۔ یہ ہر مومن کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد کرے اگرچہ تنہا بھی ہو اس سے نبی مکرم ﷺ کا قول ہے : ” واللہ لا قاتلھم حتی تنفرد سالفتی “۔ (2) (مسند احمد بن حنبل، مسند الکوفیین، جلد 4، صفحہ 329) اللہ کی قسم میں ان سے جہاد کروں گا حتی کہ میری گردن تن سے جدا ہوجائے، حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کے ارتداد کے وقت کہا تھا : ولو خالفتنی یمینی لجاھدتھابشالی “۔ اگر میرا دایاں ہاتھ میرا ساتھ نہیں دے گا تو میں بائیں ہاتھ سے جہاد کروں گا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت بدر الصغری کے موسم میں نازل ہوئی، ابو سفیان جب جنگ احد سے واپس گیا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے بدر الصغری کے موسم کا وعدہ لیا، جب وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ستر شہسواروں کے ساتھ اس کی طرف نکلے لیکن ابو سفیان نہ آیا اور جنگ نہ ہوئی، یہ مجاہد کے قول کے معنی کے اعتبار سے ہے جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، اس کا ماقبل سے تعلق اس طرح ہے کہ منافقین کا وصف بیان کیا گیا کہ وہ معاملے کو خلط ملط کرتے ہیں اور جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں پھر نبی مکرم ﷺ کو ان سے اعراض کرنے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا اگرچہ اس پر کوئی بھی مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” لاتکلف الانفسک “۔ تکلف مرفوع ہے، کیونکہ مستقبل کا صیغہ ہے اس کو جزم نہیں دی گئی، کیونکہ یہ پہلے کی علت نہیں ہے، اخفش نے کہا کہ اس کو جزم بھی جائز ہے اور (آیت) ” الانفسک “۔ مجہول کی خبر ہے معنی یہ ہے کہ کسی دوسرے کا فعل تم پر لازم نہیں ہوگا اور تم سے اس کا مواخذہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وحرض المؤمنین، عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا “۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وحرض المؤمنین، اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال پر مومنین کو برانگیختہ کیا، کہا جاتا ہے : حرضت فلا ناعلی کذا، جب تو کسی کو کسی حکم دے، حارض فلان علی الامر واکبر وواظب، سب کا ایک معنی ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا “۔ عسی امید کے لیے ہوتا ہے اور اللہ کی طرف سے وجوب کے معنی میں ہوتا ہے۔ کیونکہ طمع (امید) کلام عرب میں وجوب کے معنی میں آتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین “۔ (الشعرائ) ابن مقبل نے کہا : ظنی بھم کعسی وھم بتنوفۃ یتنازعون جو ائز الامثال : اس میں عسی یقین کے معنی میں ہیی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واللہ اشد باسا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صولت، سلطنت بہت زیادہ ہے اور گرفت کرنے پر زیادہ قادر ہے جس کا ارادہ کرتا ہے (آیت) ” واشد تنکیلا “۔ سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ حسن وغیرہ کا قول ہے، ابن درید نے کہا : رماہ اللہ بنکلۃ یعنی رماہ بما ینکلہ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پر اسی چیزکو پھینکا جس کے ساتھ اس نے اسے سزا دی، نکلت بالرجل تنکیلا یہ النکال سے مشتق ہے، المنکل وہ چیز جو انسان کو سزا دیتی ہے، شاعر نے کہا : ارم علی اقفائھم بمنکل : یعنی ان کی گردنوں پر عبرت ناک سزا دو ۔ مسئلہ نمبر : (3) اگر کوئی یہ کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کفار شدت اور تکلیف میں ہیں اور تم نے کہا تھا کہ عسی بمعنی یقین ہے تو پھر یہ وعدہ کیسا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وعدہ پایا گیا، اس کا وجود استمرار اور دوام کے ساتھ لازم نہیں، جب ایک دفعہ یہ پایا گیا اگرچہ یک لحظہ کے لیے ہو تو وعدہ سچا ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے بدر الصغری میں مشرکین سے ان کی تکلیف کو روک لیا اور جو انہوں نے جنگ اور قتال کا عہد کیا تھا اس سے وہ پیچھے رہ گئے۔ (آیت) ” وکفی اللہ المؤمنین القتال “۔ (الاحزاب : 25) مومنین سے اللہ تعالیٰ نے قتال کو روک لیا اور حدیبیہ میں جب انہوں نے عذر کیا اور فرصت کو غنیمت جانا تو مسلمان ان کو سمجھ گئے پس وہ نکلے اور انہوں نے انہیں قیدی بنالیا، یہ سفیر تھے جو صلح کرانے کے لیے چلے تھے، (آیت) ” ھو الذی کف ایدیھم عنکم “۔ (الفتح : 24) سے یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان گروہوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا وہ بغیر قتل و قتال کے واپس لوٹ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وکفی اللہ المؤمنین القتال “۔ اور یہودی اپنے گھروں کو مومنین سے لڑے بغیر چھوڑ کر چلے گئے یہ سب باس ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین سے روک لی، اس کے ساتھ ساتھ یہود ونصاری اور بہت سے دشمن رسوائی کے ساتھ جزیہ دینے پر راضی ہوگئے اور ذلیل و خوار ہو کر جنگ کا راستہ ترک کردیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی شدت روک لی، والحمد للہ رب العالمین۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

آیت نمبر : 85۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یشفع “۔ الشفاعۃ اور الشفعۃ وغیرہ الشفع سے مشتق ہیں اور اس کا معنی جفت عدد ہے۔ اسی سے الشفیع (شفعہ کرنے والا) کیونکہ وہ صاحب حاجت کے ساتھ شفع (جفت) ہوجاتا ہے اس سے ناقۃ شفوع ہے جب ایسی اونٹنی جو ایک بچہ جنم دینے کے بعد پھر حاملہ ہوجائے الشفع، ایک کو دوسرے کے ساتھ ملانا، الشفعۃ شریک کی ملکیت کو اپنی ملکیت کے ساتھ ملانا، الشفاعۃ کسی دوسرے کو اپنی جاہ اور وسیلہ کے ساتھ ملانا، یہ حقیقۃ شفیع کی قدر ومنزلت کا مشفع کے پاس اظہار کرنا ہے اور جس کے لیے سفارش کی گئی ہے اس کو نفع پہنچانا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اس آیت کی تاویل میں مفسرین کا اختلاف ہے، مجاہد، حسن، ابن زید، رحمۃ اللہ علیہم وغیرھم نے کہا : یہ لوگوں کا اپنی ضروریات کے لیے آپس میں سفارش کرنا ہے پس جو اس لیے سفارش کرے گا تاکہ وہ کسی نفع پہنچائے تو اس کے لیے حصہ ہوگا اور جو کسی کو ضرر اور نقصان پہنچانے کے لیے سفارش کرے گا اس کے لیے بوجھ ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : شفاعت حسنۃ وہ ہے جو نیکی اور اطاعت میں ہو اور سئیۃ سفارش وہ ہے جو معاصی (گناہوں) میں ہو (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 86 دارالکتب العلمیہ) جو اچھی سفارش کرے گا تاکہ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرائے تو وہ اجر کا مستحق ہوگا اور جو چغلی اور غیبت کرے گا وہ گنہگار ہوگا، یہ پہلی کے قریب ہے، بعض علماء نے فرمایا : شفاعت حسنۃ سے مراد مسلمانوں کیے لیے دعا کرنا ہے اور سئیۃ سیے مراد مسلمانوں کے لیے بددعا کرنا ہے صحیح حدیث میں ہے : ” جس نے کسی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے دعا کی تو اس لیے دعا قبول کی جاتی ہے اور فرشتہ کہتا ہے آمین اور تیرے لیے اس کی مثل ہے “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب الزکر، جلد 2، صفحہ 352) یہ ہے وہ حصہ جس کا ذکر کیا گیا ہے اسی طرح جو کسی کے لیے برائی کی دعا کرتا ہے تو اس کی نحوست اس کی اپنی طرف لوٹ کر آتی ہے، یہود مسلمانوں کے لیے بددعا کرتے تھے، بعض علماء نے فرمایا : جو جہاد میں اپنے ساتھی کے ساتھ ملے گا اس کے لیے اجر میں سے حصہ ہوگا اور جو باطل میں اپنے ساتھی سے ملے گا اس کے لیے گناہ کا بوجھ ہوگا، حسن سے بھی مروی ہے الحسنۃ جو دین میں جائز ہو اور السئۃ جو دین میں جائز نہ ہو گویا یہ جامع قول ہے، الکفل کا مطلب بوجھ اور گناہ ہے حسن، قتادہ، سدی اور ابن زید رحمۃ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ اس سے مراد نصیب (حصہ) ہے، یہ کفل البعیر سے مشتق ہے وہ کپڑا جو سوار اونٹ کی کہ ان کے ارد گرد لپیٹتا ہے تاکہ وہ گر نہ جائے۔ کہا جاتا ہے : اکتلفت البعیر، جب کوئی اونٹ کی کہ ان کے اردگرد کپڑا لپیٹے اور اس پر سوار ہو اس کو کہا جاتا ہے اکتفل کیونکہ اس نے ساری پیٹھ کو استعمال نہیں کیا بلکہ پیٹھ کا ایک حصہ استعمال کیا۔ یہ خیر وشر کے حصہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے : (آیت) ” یؤتکم کفلین من رحمتہ “۔ (الحدید : 28) سفارش کرنے والے کو اجر مل جاتا ہے جب وہ جائز کام کی سفارش کرتا ہے اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ بھی کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” من یشفع “۔ (جو سفارش کرے گا) (آیت) ” من یشفع “۔ (جس کی سفارش قبول کی جائے گی) نہیں فرمایا صحیح مسلم میں ہے ” سفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر فیصلہ فرمائے گا “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلہ والادب جلد 2، صفحہ 330) مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکان اللہ علی کل شیء مقیتا “۔ ، مقتا “۔ کا معنی ہے قدرت والا، اسی سے زبیر بن عبدالمطلب کا شعر ہے : وذی ضغن کففت النفس عنہ وکنت علی مساء تہ مقیتا : (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 86 دارالکتب العلمیہ) اس میں شاعر نے مقیتا کو قدیرا کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو روزی دینے والا ہے، اسی سے نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : کفی بالمراثما ان یضیع من یقیت (3) (سنن ابی داؤد کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 238) ۔ انسان کے لیے یہ گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے عیال وغیرہ کو ضائع کر دے یعنی جن کو وہ خوراک دیتا ہے جو اس کی قدرت میں ہیں اور قبضہ ہیں۔ یہ ابن عطیہ نے ذکر کیا ہے، اسی سے وہ کہتا ہے۔ قتہ اقوتہ قوتا واقتہ اقیۃ اقاتۃ فانا قائت ومقیت۔ ان تمام کا معنی روزی دینا اور رزق دینا ہے۔ کسائی نے حکایت کیا ہے : اقات، یقیت، شاعر کا قول ہے۔ انی علی الحساب مقیت : (4) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 223) ” میں حساب سے خوراک دینے والا ہوں “۔ طبری نے اس کے بارے کہا : یہ مذکورہ معنی سے نہیں ہے بلکہ یہ موقوف کے معنی میں ہے۔ (5) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 87 دارالکتب العلمیہ) ابو عبیدہ نے کہا : المقیت کا معنی الحافظ، (حفاظت کرنے والا) ہے۔ کسائی نے کہا : المقیت کا معنی المقتدر ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عبیدہ کا قول اولی ہے، کیونکہ یہ القوت سے مشتق ہے اور القوت کا معنی ہے، وہ مقدار جو انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ الفراء نے کہا المقیت وہ ہوتا ہے جو ہر شخص کو رزق اور خوراک دیتا ہے، حدیث شریف میں ہے : کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت (6) (سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 238) انسان کے لیے یہ گناہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کو وہ خوراک دیتا ہے ہے۔ ثعلبی نے ذکر کیا ہے : ابن الفارس نے ” المجمل “۔ میں حکایت کیا ہے : المقیت المقتدر، المقیت الحافظ والشاھد، وما عندہ قیت لیلۃ وقوت لیلۃ، یعنی المقیت کا معنی قدرت والا ہے، اور اس کا معنی حافظ وشاہد بھی ہے اور وہ بھی جس کے پاس رات کی خوراک ہو۔ واللہ اعلم۔