Ayahs 4:60–61آیت نمبر : 60 تا 61۔
یزید بن زریع عن داؤد بن ابی ھند عن الشعبی کے سلسلہ سے مروی ہے شعبی نے فرمایا : ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا ہوا یہودی نے منافق کو نبی مکرم ﷺ سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ ﷺ رشوت قبول نہیں کرتے، منافق نے یہودی کو یہود کے حکام سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا ک، کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں رشوت لیتے ہیں، جب اختلاف ہوا تو دونوں نے جہینۃ قبیلہ میں ایک کاہن کو اپنا حکم بنانے پر اتفاق کیا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک “۔ یعنی منافق اور ” وما انزل من قبلک “۔ یعنی یہودی ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت، ویسلمواتسلیما ‘ ؓ
ضحاک ؓ نے کہا : یہودی نے منافق کو نبی مکرم ﷺ کی طرف بلایا اور منافق نے کعب بن اشرف کی طرف بلایا طاغوت یہی ہے، ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : منافقین میں سے ایک شخص جس کو بشر کہا جاتا تھا اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا تھا یہودی نے کہا : محمد ﷺ کے پاس چلو اور منافق نے کہا : بلکہ کعب بن اشرف کے پاس چلو، اللہ تعالیٰ نے اس کا نام طاغوت رکھا، یعنی سرکشی کرنے والا، یہودی نے انکار کیا اس لیے کہ فیصلہ صرف رسول اللہ ﷺ سے کرائیں گے جب اس منافق نے یہ دیکھا تو وہ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں کردیا۔ جب وہ دونوں آپ ﷺ کی بارگاہ سے واپس آئے تو منافق نے کہا میں اس پر راضی نہیں ہوں تم ہمارے ساتھ ابوبکر ؓ کے پاس چلو حضرت ابوبکر ؓ نے بھی یہودی کے حق میں فیصلہ دیا، منافق اس سے راضی نہ ہوا زجاج نے ذکر کیا ہے اس منافق نے کہا : عمر کے پاس چلو، دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے تو یہودی نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے پھر ابوبکر کے پاس گئے تھے لیکن یہ ان کے فیصلوں سے راضی نہیں ہوا، حضرت عمر ؓ نے منافق کو کہا : واقعی مسئلہ اسی طرح ہے ؟ منافق نے کہا : ہاں، حضرت عمر ؓ نے کہا : تم دونوں یہاں ٹھہرے رہو حتی کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں، حضرت عمر گھر میں داخل ہوئے تلوار پکڑی (باہر آئے) اور منافق کو مار دیا حتی کہ منافق مرگیا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا : جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتا میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں۔ یہودی بھاگ گیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انت الفاروق : (1) (تفسیر کشاف تفسیر سورة نساء، جلد 1 صفحہ 525)
(حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے) جبریل امین (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا : حضرت عمر ؓ نے حق و باطل کے درمیان فرق کردیا، پس آپ کو فاروق کا نام دیا گیا، یہ تمام آیات (آیت) ” ویسلموا تسلیما “۔ تک اس واقعہ میں نازل ہوئیں۔ ضلالا “۔ معنی کی بنا پر منصوب ہے یعنی فیضلون ضلالا، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” واللہ انبتکم من الارض نباتا “۔ (نوح) یہ معنی پہلے تفصیلا گزر چکا ہے (آیت) ” صدودا “۔ خلیل کے نزدیک مصدر کا اسم ہے اور مصدر الصد ہے کوفی علماء کہتے ہیں : یہ دونوں مصدر ہیں۔
Ayahs 4:62–63آیت نمبر : 62 تا 63۔
یعنی (آیت) ” فکیف “ کیا حال ہوگا۔ یا فکیف، یصنعون ‘ یعنی وہ کیا کریں گے، (آیت) ” اذا اصابتھم مصیبۃ “۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے استعانت ترک کرنے کی وجہ سے جب انہیں کوئی مصیبت آپہنچتی ہے اور جو ذلت انہیں لاحق ہوتی ہے اس ارشاد میں (آیت) ” فقل لن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوا معی عدوا “۔ (توبہ : 83) بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ان کے اپنے سردار کا قتل ہے۔ (آیت) ” بما قدمت ایدیھم “۔ یہاں تک کلام مکمل ہے پھر ان کے فعل کے متعلق خبر دی۔ یہ اس طرح ہے کہ حضرت عمر ؓ نیی جب ان کے ساتھی کو قتل کردیا تو ان کی قوم اس کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لیے آئی اور قسمیں اٹھانے لگے کہ ہم دیت طلب نہیں کر رہے ہیں مگر احسان کے لیے اور موافقت حق کے لیے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے فیصلہ میں آپ سے عدول نہیں کیا مگر جھگڑے میں مصالحت کے لیے اور فیصلہ میں بھلائی کے لیے، ابن کیسان نے کہا : (آیت) ” احساناوتوفیقا “ ‘۔ کا معنی عملا اور حقا ہے، اس کی مثال یہ ہے (آیت) ” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی “۔ (توبہ : 107) اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم “۔ زجاج نے کہا : اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ منافق ہیں اور ہمارے لیے فائدہ ہے کہ تم جان لو کہ یہ منافق ہیں، (آیت) ” فاعرض عنھم “۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ان کی سزا اسے اعراض فرمائیں، بعض نے فرمایا : ان کے عذر قبول کرنے سے اعراض فرمائیں۔ (آیت) ” وعظھم “۔ ان کو مطلب دلائیں، بعض نے فرمایا : بھرئے مجمع میں انہیں ڈارئیں۔ (آیت) ” وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ یعنی انہیں خلوت واندرون خانہ خوب زجر وتوبیخ کریں، حسن نے کہا : انہیں کہو اگر تم نے اپنے دلوں کی بات ظاہر کردی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ عرب کہتے ہیں : بعغ القول بلاغۃ، رجل بلیع یبلغ بلسانہ کنہ مافی قلبہ “۔ یعنی زبان کے ساتھ اپنے دل کی حقیقت تک پہنچا، عرب کہتے ہیں : احمق بلغ وبلغ یعنی وہ حماقت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : جو وہ چاہتا ہے اس کو پہنچتا ہے اگرچہ وہ احمق تھا، کہا جاتا ہے : (آیت) ” فکیف اذا اصابتھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم “۔ مسجد ضرار بنانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو ظاہر فرما دیا اور ان کی مسجد گرانے کا حکم دیا تو انہوں نے اپنے دفاع میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے قسمیں اٹھائیں ہم نے مسجد کی تعمیر فقط اللہ کی اطاعت اور کتاب کی موافقت میں کی ہے۔
Ayah 4:64آیت نمبر : 64۔
(آیت) ” الا لیطاع “۔ جس کا حکم دے اور جس سے منع کرے۔ (آیت) ” باذن اللہ “۔ اللہ کے علم کے مطابق، بعض نے اس کا معنی کیا ہے اللہ کی توفیق سے۔ (آیت) ” ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاءوک “۔ ابو صادق نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ہمارے پاس ایک اعرابی آیا جب کہ ہم تین دن سے رسول اللہ ﷺ کو دفن کرچکے تھے۔ اس اعرابی نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی قبر انور پر ڈال دیا اور قبر انور کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ آپ نے کہا تو ہم نے آپ کا قول سنا، آپ نے اللہ تعالیٰ سے کلام یاد کیا اور ہم نے آپ سے کلام یاد کیا، جو اس نے تجھ پر نازل کیا اس میں ہے : (آیت) ” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم “۔ (الایۃ) میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ میرے لیے استغفار کریں تو قبر انو سے آواز آئی ” تجھے بخش دیا گیا ہے “۔ (٭) (المجالس لابن عبد البر، جلد 3، صفحہ 275، الجموع للعو وی جلد 8، صفحہ 217)
(آیت) ” لوجدوا اللہ توابا رحیما “۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والاپائیں گے، یہ دونوں مفعول ہیں، اس کے علاوہ کوئی ترکیب نہیں۔
Ayah 4:65آیت نمبر : 65۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) مجاہد ؓ وغیرہ نے کہا : اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، جنہوں نے طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانے کا ارادہ کیا تھا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
طبری نے کہا : فلا کا قول پیچھے جو ذکر ہوچکا ہے اس کا رد ہے تقدیر عبارت یوں ہوگی، کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ پھر قسم سے آغاز فرمایا : (آیت) ” وربک لا یؤمنون “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 74 دارالکتب العلمیہ)
دوسرے ائمہ نے فرمایا : قسم پر لا کو نفی کے ساتھ اہتمام اور اس کو قوت کے اظہار کے لیے مقدم کیا گیا ہے پھر قسم کے بعد دوبارہ نفی کے ساتھ اہتمام کی تاکید کے لیے ذکر فرمایا اور دوسرے (لا) کا ساقط کرنا صحیح تھا اور پہلے لا کی تقدیم کے ساتھ اکثر اہتمام باقی تھا اور پہلے لا کو ساقط کرنا صحیح تھا اور نفی کا معنی باقی ہوگا لیکن اہتمام کا معنی ختم ہوجائے گا (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 74 دارالکتب العلمیہ)
شجر اس کا معنی اختلاف کرنا اور خلط ملط ہونا ہے، درخت کو شجر اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ اس کی ٹہنیاں ایک دوسرے سے الجھی ہوئی ہوتی ہیں ہودج کی لکڑیوں کو شجار کہتے ہیں، کیونکہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہوتی ہیں۔ شاعر نے کہا :
نفسی فداءک والرماح شواجر والقوم ضنک للقاء قیام :
میرا نفس تجھ پر فدا تھا جب نیزے گتھم گتھم تھے۔
طرفۃ نے کہا :
دھم الحکام ارباب الھدی وسعاۃ الناس فی الامرالشجر :
حکام ارباب الھدی اور ایک مختلف امر میں کوشش کر رہے تھے۔
ایک طائفہ نے کہا : یہ آیت حضرت زبیر ؓ اور انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ان کا باغ کو پانی پلانے میں جھگڑا تھا تو آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کو کہا : تو اپنی زمین کو پانی پلا، پھر پانی اپنے پڑوسی کی زمین کی طرف چھوڑ دے۔ انصاری کہنے لگا : میں تیری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ اپنی پھوپھی کے بیٹے سے محبت کرتے ہیں، یہ جملہ سن کر نبی مکرم ﷺ کا غصہ سے رنگ بدل گیا اور آپ نے پھر حضرت زبیر ؓ سے کہا : تو اپنی زمین کو پانی پلا، پھر پانی روک لے حتی کہ پانی وٹوں تک پہنچ جائے اور پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” فلا وربک “۔ الخ، یہ حدیث امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے۔ (4) (صحیح بخاری، کتاب الصلح، جلد 1، صفحہ 373)
امام بخاری (رح) کی سند یہ ہے عن علی بن عبداللہ عن محمد بن جعفر عن معمر۔ اور مسلم نے قتیبہ سے پھر دونوں نے زہری سے روایت کی ہے، انصاری شخص کے بارے اختلاف ہے بعض نے فرمایا : وہ اہل بدر میں سے ایک انصاری تھا مکی اور نحاس نے کہا : وہ حاطب بن ابی بلتعۃ ؓ تھا ثعلبی، وحدی، اور مہدوی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا : وہ حاطب تھا، بعض نے کہا : ثعلبہ بن حاطب تھا، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں صحیح پہلا قول ہے، کیونکہ وہ غیر متعین اور غیر مسمی ہے، اسی طرح بخاری اور مسلم میں بھی رجل من الانصار ذکر ہے۔ طبری نے منافق اور یہودی میں اس کے نزول کو اختیار کیا ہے۔ (1) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 190)
جیسا کہ مجاہد (رح) نے کہا : یہ اپنے عموم کے ساتھ حضرت زبیر ؓ کے واقعہ کو شامل ہے ابن عربی نے کہا : یہ صحیح ہے پس جس نے نبی مکرم ﷺ کو کسی فیصلہ میں متہم کیا وہ کافر ہے لیکن انصاری سے لغزش ہوئی تو نبی مکرم ﷺ نے اس سے اعراض کیا اور اس کی لغزش کو معاف کردیا، کیونکہ آپ ﷺ کو اس کے یقین کی صحت کا علم تھا، ان سے یہ لغزش عجلت میں ہوگئی تھی، نبی مکرم ﷺ کے بعد کسی کے لیے یہ محکم نہیں ہے ہر وہ شخص جو حاکم کے حکم سے راضی نہ ہوگا اور وہ اس میں طعن کرے گا اور اسے رد کرے گا تو وہ گناہگار ہوگا اس سے توبہ طلب کی جائے گی اور جو حاکم میں طعن کرے اس کے فیصلہ میں طعن نہ کرے تو اس کو تعزیر لگانے اور اسے معاف کرنے کا حق ہے، اس کا مزید بیان سورة اعراف کے آخر میں آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (2) جب اس آیت کے نزول کا سبب وہ ہے جو ہم نے حدیث سے ذکر کیا تو اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ اور اس کے خصم کے بارے فیصلہ دیا وہ بطور صلح تھا، آپ نے فرمایا : ” اے زبیر تو پانی پلا “۔ کیونکہ پانی اس کے قریب تھا۔ ” پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دے “ یعنی اپنے حق میں سے کچھ چھوڑ دے اور پورا پورا حق نہ لے اور اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑنے میں جلدی کر (2) (صحیح بخاری، کتاب الصلح، جلد 1، صفحہ 373)
آپ ﷺ نے حضرت زبیر کو مسامحت اور آسانی کرنے پر ابھارا جب انصاری نے یہ سنا اور اس سے راضی نہ ہوا اور ناراض ہوا، کیونکہ ہو چاہتا تھا کہ حضرت زبیر ؓ بالکل پانی کو نہ روکے، تو اس نے اپنی زبان سے غلط ہلاک کرنے والا، شان رسالت کے جو لائق نہ تھا وہ کلمہ بولا، اس نے کہا : یہ اس لیے فیصلہ فرمایا ہے کہ زبیر تمہاری پھوپھی کا بیٹا ہے، اس کے جملہ میں آن ہے یہ ان مفتوحہ انکار کی جہت پر ہمزہ کی مد کے ساتھ ہے۔ اس وقت نبی مکرم ﷺ کا غصہ کی وجہ سے چہرہ متغیر ہوگیا، پھر آپ نے حضرت زبیر ؓ کے لیے پورا پورا حق لینے کا فیصلہ دیا وہ کسی قسم کی مسامحت کا مظاہرہ نہ کریں، اس پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے حالت غضب میں کیسے فیصلہ فرمایا جب کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے “۔ (3) (سنن ابی داؤد کتاب القضا، جلد 2، صفحہ 149) ہم کہیں گے : آپ ﷺ تبلیغ اور احکام میں خطا سے معصوم تھے عقل کی دلیل کے ساتھ جو دلالت کرتی ہے کہ آپ جو اللہ کی طرف سے تبلیغ کرتے ہیں اس میں سچے ہیں، دوسرا کوئی آپ کی مثل نہیں ہے، اس حدیث میں ہے کہ حاکم جھگڑنے والوں کے درمیان اصلاح کا راستہ اختیار کرے اگرچہ اس پر حق ظاہر بھی ہوجائے، امام مالک (رح) نے اس سے منع کیا ہے امام شافعی (رح) کا قول اس میں مختلف ہے۔ اس حدیث میں جواز پر واضح حجت ہے۔ اگر وہ صلح کرلیں تو فبہا ورنہ صاحب حق اپنا پورا حق وصول کرے گا اور حکم ثابت ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (3) امام مالک (رح) کے اصحاب کا اوپر والے کا نیچے والے کی طرف پانی چھوڑنے کی صفت میں اختلاف ہے۔ ابن حبیب نے کہا : اوپر والا تمام پانی اپنے باغ میں داخل کرے گا اس سے اپنے باغ کو سیراب کرے گا حتی کہ پانی باغ میں اتنا ہوجائے کہ کھڑا ہونے والے کے ٹخنوں تک پہنچ جائے تو پھر پانی کا راستہ بند کرے اور ٹخنوں سے جو زائد مقدار میں پانی ہو وہ اپنے قریبی کی طرف چھوڑے معاملہ اسی طرح چلتا جائے حتی کہ پانی آخری کھیت والے کو پہنچ جائے میرے لیے مطرف اور ابن الماجشون نے اسی طرح تفسیر بیان کی ہے، یہ ابن وہب کا قول ہے ابن القاسم نے کہا : جب پانی باغ میں ٹخنوں کی مقدار تک پہنچ جائے، تو تمام پانی نیچے والے کی طرف چھوڑ دیی اور اپنے باغ میں کچھ بھی نہ روکے، ابن حبیب نے کہا : مطرف ابن الماجشون کا قول میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے وہ اسے زیادہ جانتے تھے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں ان دونوں کا گھر تھا وہاں یہ واقعہ پیش آیا اور وہاں یہ عمل جاری تھا۔
مسئلہ نمبر : (4) امام مالک (رح) نے حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کیا ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مہزور اور مذینب (مدینہ طیبہ کی دو وادیاں جن میں بارش کا پانی بہتا تھا) کے پانی کے بارے میں فرمایا : ”(پہلے باغ والا) پانی کو ٹخنوں تک روک لے پھر وہ نیچے والے کی طرف چھوڑ دے “۔ (1) (موطا امام مالک، کتاب الاقضیہ، صفحہ 643)
ابو عمر نے کہا : میں یہ حدیث نہیں جانتا کہ کسی طریق سے نبی مکرم ﷺ سے متصل مروی ہو اس کی ارفع سندیہ ہے محمد بن اسحاق عن ابی مالک بن ثعلبۃ عن ابیہ، نبی مکرم ﷺ کے پاس مہزوروالے آئے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ پانی جب ٹخنوں تک پہنچ جائے اوپر والا پانی کو نہ روکے۔ (2) (المعجم الکبیر اللطبرانی جلد 2، صفحہ 86۔ حدیث نمبر 1386)
عبدالرزاق نے ابو حازم قرطبی سے انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ” مہز ور کے پانی میں یہ فیصلہ فرمایا کہ ہر کھیت میں پانی کو روک لیا جائے گا حتی کہ ٹخنوں تک پہنچ جائے گا تو پھر چھوڑ دیا جائے گا اس کے علاوہ پانیوں کا یہی حکم ہوگا “۔ ابوبکر البزار سے اس حدیث کے بارے پوچھا گیا تو اس نے کہا : میں نے نبی مکرم ﷺ سے اس کے بارے میں حدیث محفوظ نہیں کی جو ثابت ہو۔ ابو عمر ؓ نے کہا : اس معنی میں اگرچہ اس لفظ کے ساتھ حدیث ثابت نہیں ہے جس کی صحت پر اجماع ہے، اسے ابن وہب نے لیث بن سعد اور یونس بن یزید سے ان دونوں نے ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ عروہ بن زبیر نے انہیں بیان فرمایا کہ انہیں حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ انہیں حضرت زبیر ؓ سے روایت کر کے بتایا کہ انکا ایک انصاری شخص سے پانی کی نالی میں جھگڑا ہوا دونوں اس نالی سے اپنے کھجوروں کے باغات کو سیراب کرتے تھے، یہ انصاری شخص نبی مکرم ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوا تھا، انصاری نے کہا : ” تو پانی چھوڑ دے “ زبیر نے انکار کیا، دونوں اپنا جھگڑا نبی مکرم ﷺ کے پاس لے گئے، آگے مکمل حدیث ذکر کی۔ ابو عمر نے کہا : ایک حدیث میں یرسل کے الفاظ ہیں اور دوسری میں اذا بلغ الماء الکعبین لم یحبس الاعلی (جب پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے تو اوپر والا نہ روکے) یہ ابن القاسم کے قول کی تائید کرتے ہیں، نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اوپر والا اگر پانی نہیں چھوڑے گا مگر جو ٹخنوں سے زائد ہوگا تو وہ پانی تھوڑی مدت میں ختم نہیں ہوگا اور وہ نہیں پہنچے گا وہاں تک جہاں اس نے پہنچنا ہے جب تمام پانی چھوڑے اور اوپر والا اگر ٹخنوں تک پانی لینے کے بعدچھوڑ دے تو اس میں عام فائدہ ہے ار زیادہ نفع ہے اس صورت میں تمام لوگوں شریک بنایا گیا ہے پس ہر حال میں ابن القاسم کا قول اولی ہے جب کہ اسفل (نیچے والا) کے لیے اس کی اصل ملک نہ ہو جو اس کے ساتھ خاص ہو اگر کوئی کسی عمل کی وجہ سے یا ملک صحیح کی وجہ سے یا قدیمی استحقاق اور ملک کے ثبوت کی وجہ سے پانی کا مستحق ہو تو ہر ایک اپنے حق پر قائم رہے گا جیسا کہ اس کا قبضہ ہے اور اصل مسئلہ ہے، وباللہ التوفیق۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت “۔ حرجا کا معنی تنگی اور شک ہے اسی وجہ سے گھنے درخت و حرج وحرجۃ کہا جاتا ہے، اس کی جمع حراج ہے، ضحاک ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے جو اب آپ نے فیصلہ فرمایا اس کا انکار کرکے گناہ نہ پائیں (آیت) ” ویسلموا تسلیما “۔ یعنی فیصلہ میں آپ کے امر کی اطاعت کریں، زجاج نے کہا : ” تسلیما “۔ مصدر مؤکد ہے اور جب تو کہتا ہے : ضربت ضربا “۔ تو گویا تو کہتا ہے : میں اس میں شک نہیں کرتا اسی طرح (آیت) ” ویسلموا تسلیما “۔ یعنی وہ آپ کے فیصلہ کو اس طرح تسلیم کریں کہ ان کے نفسوں میں کوئی شک نہ ہو۔
Ayahs 4:66–68آیت نمبر : 66 تا 68۔
ان آیات کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس اور ایک یہودی نے باہم تفاخر کیا، یہودی نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم پر اپنے آپ کو قتل کرنا فرض کیا گیا تھا ہم نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
اور ہمارے مقتول ستر ہزار تک پہنچ گئے ثابت نے کہا اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہم پر فرض کرتا تو اپنے آپ کو قتل کرو تو ہم ایسا کرتے۔ ابو اسحاق السبیعی نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی ؛ (آیت) ” ولو انا کتبناعلیہم “۔ تو ایک شخص نے کہا : اگر ہمیں حکم دیا جاتا تو ہم ایسا کرتے، سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمیں عافیت دی، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان من امتی رجالا الایمان اثبت فی قلوبھم من الجبال الرواسی (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
میری امت کے کچھ ایسے لوگ ہیں ایمان ان کے دل میں مستحکم پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوطی سے موجود ہے۔ ابن وہب نے کہا : مالک نے کہا : یہ کہنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے اسی طرح مکی نے کہا : وہ حضرت ابوبکر ؓ تھے۔ نقاش نے ذکر کیا کہ وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ تھے حضرت ابوبکر ؓ کی طرف سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر ہم پر یہ فرض کیا جاتا تو میں اپنے نفس اور اپنے گھر والوں سے اس حکم کی تعمیل کا آغاز کرتا۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
ابواللیث سمرقندی نے ذکر کیا ہے کہ وہ قائل حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابن مسعود اور حضرت ثابت بن قیس رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تھے، انہوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیتا یا ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” ان لوگوں کے دلوں میں ایمان مستحکم پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوطی سے موجود ہے “۔ (لو) حرف ہے، کسی دوسری چیز کے نہ پائے جانے کیوجہ سے اس چیز کے نہ پائے جانے پر دلالت کرتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اس نے ہم پر مہربانی کرتے ہوئے ہم پر یہ فرض نہیں کیا تاکہ ہماری معصیت ظاہر نہ ہو کتنے ایسے احکامات ہیں جن کے خفیف ہونے کے باوجود ہم نے کوتاہی کی اتنا بھاری حکم آجاتا تو کیا حالت ہوتی، لیکن اللہ کی قسم ! مہاجرین نے اپنے گھروں کو خالی چھوڑ دیا اور وہ ان کے ذریعے پسندیدہ زندگی کی تلاش میں نکلے۔ (آیت) ” مافعلوہ “ انہوں نے اپنے آپ کو قتل نہ کیا اور نہ انہوں نے گھروں کو چھوڑا (آیت) ” الا قلیل منھم “۔ قلیل، واؤسے بدل ہے تقدیر اس طرح ہے مافعلہ احد الا قلیل “۔ اہل کوفہ کہتے ہیں یہ تکریرپر ہے مافعلوہ مافعلہ الا قلیل منھم “۔ عبداللہ بن عامر اور عیسیٰ بن عمر نے استثناء کی بنا پر الا قلیلا پڑھا ہے، اسی طرح اہل شام کے مصاحف میں ہے، اور باقی قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے، رفع تمام نحویوں کے نزدیک عمدہ ہے۔ بعض نے فرمایا : نصب فعل کے اضمار پر ہے تقدیر اس طرح ہوگی الا ان یکون قلیلا منھم “۔ رفع بہتر ہے، کیونکہ لفظ معنی سے اولی ہوتا ہے، اور وہ معنی پر بھی مشتمل ہے ار ان قلیل میں سے حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ حضرت ثابت بن قیس ؓ تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، حسن اور مقاتل، نے حضرت عمار اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ذکر بھی کیا ہے، ہم نے بھی پہلے ان کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ولو انھم فعلوا مایوعظون بہ لکان خیرالھم “۔ یعنی اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے لیے دنیا وآخرت میں بہتر ہوتا۔ (آیت) ” واشد تثبیتا “۔ یعنی حق پر مضبوطی سے ثابت قدم ہو۔ (آیت) ” واذا الاتینھم من لدنا اجرا عظیما “۔ یعنی آخرت میں ثواب۔ بعض نے فرمایا : لام، لام الجواب ہے اور اذا جزا پر دال ہے، معنی یہ ہے لوفعلوا مایوعظون بہ لاتیناھم “۔ اگر وہ کرتے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تو ہم انہیں عطا فرماتے۔
Ayahs 4:69–70آیت نمبر : 69 تا 70۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ اگر منافقین اس امر کو بجا لاتے جس کے ساتھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اور وہ اس کی طرف رجوع کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر انعام فرماتا۔ اس کے بعد ان کا ثواب ذکر فرمایا جو ایسا کرتا ہے۔ یہ آیت اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم “۔ کی تفسیر ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے اپنے وصال کے وقت کہا تھا : اللھم الرفیق الاعلی (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 939)
اے اللہ رفیق اعلی کی سنگت عطا فرما، اس سے یہی مراد ہے، بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا : ما من نبی یمرص الاخیر بین الدنیا والاخرۃ، جو نبی مریض ہوتا ہے اسے دنیا اور آخرت میں اختیار دیا جاتا ہے۔
وہ تکلیف جس میں آپ مریض تھے آپ کو بولنے میں سخت دقت محسوس ہو رہی تھی تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : (آیت) ” مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین “۔ ان لوگوں کی معیت جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء، صدیقین اور شہداء اور صالحین، تو میں جان گئی کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ (2) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 660)
ایک طائفہ نے کہا : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن زید عبد ربہ انصاری ؓ جسے اذان دکھائی گئی تھی نے کہا : یا رسول اللہ ! جب آپ کا وصال ہوجائے گا اور ہم بھی فوت ہوجائیں گے تو آپ علیین میں ہوں گے ہم آپ کو دیکھ نہیں سکیں گے اور نہ آپ کے ساتھ جمع ہوں گے، حضرت عبداللہ ؓ نے اس پر اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، مکی نے اس عبداللہ ؓ سے ذکر کیا ہے کہ جب نبی مکرم ﷺ کا وصال ہوگیا تو انہوں نے دعا کی تھی : اللھم اعمنی فلا اری شیئا بعدہ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 76 دارالکتب العلمیہ)
اے اللہ مجھے نابینا کر دے تاکہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نہ دیکھوں، فعمی مکانہ تو وہ اسی جگہ نابینا ہوگئے، قشیری نے اس کو حکایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اللھم اعمنی فلا اری شیئا بعد حبیبی حتی القی حبیبی، فعمی مکانہ، اے اللہ مجھے اندھا کر دے میں اپنے حبیب کے بعد کسی کو نہ دیکھوں حتی کہ میں اپنے حبیب سے ملاقات کروں پس وہ اس جگہ نابینا ہوگئے۔ ثعلبی نے حکایت کیا ہے کہ یہ ثوبان مولی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی، وہ نبی مکرم ﷺ سے شدید محبت رکھتے تھے اور آپ کے بغیر صبر نہیں کرسکتے تھے۔ ایک دن وہ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے جب کہ ان کا رنگ اڑا ہوا ہا تھا اور جسم کمزور ہوچکا تھا اور حزن ان کے چہرے پر عیاں تھا آپ ﷺ نے پوچھا : اے ثوبان ! تمہارا رنگ کیوں متغیر ہے، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے مگر میں آپ کو نہیں دیکھتا تو میرا اشتیاق بڑھ جاتا ہے، اور مجھے انتہائی وحشت لاحق ہوتی ہے تو میں آپ سے ملاقات کرتا ہوں (اپنے عشق کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہوں) پھر میں نے آخرت کو یاد کیا اور مجھے خوف ہوا کہ میں وہاں تو آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا میں جانتا ہوں کہ آپ کا مرتبہ تو انبیاء کے ساتھ بلند ہوگا اور میں اگر جنت میں داخل بھی ہوا تو آپ سے نیچے درجے پر ہوں گا میں جانتا ہوں کہ آپ کا مرتبہ تو انبیاء کے ساتھ ہو بلند ہوگا اور میں اگر جنت میں داخل بھی ہوا آپ سے نیچے درجے پر ہوں گا اور اگر میں جنت میں داخل نہ ہوا تو پھر کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (4) (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، جلد 3، صفحہ 383)
واحدی نے یہ کلبی سے ذکر کیا ہے اور مسروق سے سندا روایت کیا ہے فرمایا : صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا : ہمارے لیے مناسب نہیں کہ دنیا میں ہم آپ سے جدا ہوں لیکن جب آپ ہم سے جدا ہوں گے تو آپ کو مرتبہ ہم سے بلند ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ الخ۔ اور اللہ کی اطاعت میں اللہ کے رسول کی اطاعت ہے لیکن آپ ﷺ کا ذکر آپ کے اسم کی قدرومنزلت کے اظہار کے لیے کیا ہے۔
(آیت) ” مع الذین انعم اللہ علیھم “۔ یعنی وہ ان کے ساتھ ایک گھر میں اور ایک جیسی نعمتوں میں ہوں گے وہ ان کی زیارت سے متمتع ہوں گے اور ان کے ساتھ حاضر ہوں گے لیکن وہ درجہ میں ان کے مساوی نہ ہوں گے وہ درجہ میں تو مختلف ہوں گے لیکن دنیا میں اتباع اور اقتدار کی وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت کریں گے، جو بھی جنت میں ہوگا اسے اس کے حال کے مطابق رضا ملے گی، تو اس سے مفضول ہونے کا اعتقاد ختم ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ونزعنا مافی صدورھم من غل۔ صدیق فعیل کا وزن ہے صدق یا تصدیق میں مبالغہ کا صیغہ ہے۔ صدیق وہ ہوتا ہے جو اپنے فعل سے اس کو ثابت کرتا ہے جو وہ زبان سے کہتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد انبیاء کی اتباع کرنے والافضلاء ہیں جنہوں نے تصدیق میں سبقت کی جیسے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سورة بقرہ میں صدیق کا اشتقاق اور شہید کا معنی گزر چکا ہے، شہداء سے یہاں مراد حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں اور صالحین سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” الشھدآئ “۔ سے مراد اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والے ہیں، صالحین سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے نیک لوگ ہیں۔
میں کہتا ہوں : لفظ ہر صالح اور شہید کو شامل ہے، واللہ اعلم۔ رفیق نرم پہلو والے کو کہتے ہیں، ساتھی کو رفیق کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی صحبت کے ساتھ تجھ سے نرمی کرتا ہے اسی سے الرفقۃ ہے بعض، بعض سے مہربانی اور نرمی کرتے ہیں اور (آیت) ” وحسن اولئک رفیقا “۔ بھی جائز ہے۔ اخفش نے کہا : (آیت) ” رفیقا “ حال کی بنا پر منصوب ہے یہ بمعنی رفقاء ہے اور کہا کہ تمیز کی بنا پر منصوب ہے اسی وجہ سے واحد کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے گویا معنی یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک رفیق ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ثم نخرجکم طفلا “۔ یعنی تم میں سے ہر ایک کو نکالیں گے بطور بچہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ینظرون من طرف خفی۔
اس کا معنی نبی مکرم ﷺ کا ارشاد بھی ظاہر کرتا ہے، خیرا الرفقاء اربعۃ بہتر رفیق (دوست) چار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی یہاں چار کا ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اس آیت میں حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت پر دلیل ہے یہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی کتاب میں اپنے اولیاء کے مراتب کا ذکر کیا تو پہلے ان سے آغاز فرمایا جو صدیقین سے اعلی ہیں اور وہ انبیاء ہیں پھر صدیقین کا ذکر فرمایا اور ان کے درمیان واسطہ نہیں بنایا اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ کا نام صدیق رکھنے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جس طرح محمد ﷺ کو نام رسول رکھنے پر اجماع ہے جب یہ ثابت ہوگیا اور صحیح یہ ہے کہ صدیق ہے اور رسول اللہ ﷺ دوسرے ہیں تو انکے بعد کسی کا مقدم ہو جائز نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ذلک الفضل “۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی طاعت سے یہ مرتبہ نہیں پایا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ مرتبہ پایا، معتزلہ کا نظریہ اس کے خلاف ہے کہ بندہ یہ مقام اپنے فعل حاصل کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء پر احسان کا اظہار فرمایا، اس کے ساتھ جو اس نے ان پر نوازشات فرمائی تھیں اور کسی کے لیے اس کام پر اپنی تعریف کرنا جائز نہیں ہوتا جو اس نے کیا نہیں ہوتا تو یہ معتزلہ کے قول کے بطلان کی دلیل ہے۔
Ayah 4:71آیت نمبر : 71۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم “۔ یہ محمدیہ میں سے مخلص مومنین کو خطاب ہے اور نہیں کفار سے جہاد کرنے، اللہ کے راستہ میں نکلنے اور شرع کی حمایت کرنے کا خطاب ہے ماقبل آیت سے اسکی نظم اور اتصال کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی طاعت کا ذکر کیا تو اہل طاعت کو دین کے احیاء اپنی دعوت کے اعلاء کے قیام کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ بلا سوچے سمجھے دشمن کی صفوں میں گھس نہ جائیں حتی کہ جو ہتھیار، سامان جنگ انکے پاس ہے اس کا خوب پتا لگا لیں اور جان لیں اور ان پر کیسے حملہ کریں، یہ انکے لیے زیادہ مضبوطی کا باعث ہے فرمایا (آیت) ” خذوا حذرکم “۔ تو جنگ کرنے کا اسلوب سکھایا اور یہ توکل کے منافی نہیں بلکہ یہ عین توکل کا مقام ہے جیسا کہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے اور مزید آگے آئے گا۔
” الحذر، الحذر دونوں لغتیں ہیں جیسے مثل اور مثل الفراء نے کہا اکثر کلام میں الحذر استعمال ہوتا ہے الحذر بھی مسموع ہے کہا جاتا ہے، خذ حذرک یعنی احذر (احتیاط کر) اور کہا جاتا ہے، خذو السلاح حذرا ‘، کیونکہ ہتھیار کے ساتھ احتیاط ہوتی ہے اور احتیاط تقدیر کو دور نہیں کرتی۔
مسئلہ نمبر : (2) قدریہ اپنے اس قول میں کہ احتیاط دشمن کے مکائد اور سازشوں کو دور کرتا ہے، اہل سنت سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر احتیاط فائدہ نہ دیتی تو لوگوں کو احتیاط کا حکم دینے کا کوئی معنی نہیں تھا پس معتزلہ کو کہ جائے گا کہ آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں کہ احتیاط تقدیر سے کچھ فائدہ دیتی ہے لیکن ہمیں مکلف کیا گیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو خود ہلاکت میں نہ ڈالیں، اسی سے یہ حدیث ہے اونٹ کو باندھو اور توکل کرو (1) (جامع ترمذی، حدیث نمبر 2441، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اگرچہ تقدیر پر اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق جاری ہوتی ہے اور اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس سے مراد دل کا اطمینان ہے نہ کہ یہ کہ احتیاط تقدیر سے کچھ فائدہ دیتی ہے اسی طرح احتیاط کرنا ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (آیت) ” قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا (التوبہ : 51) سے اپنے نبی مکرم ﷺ کی تعریف کی ہے، پس اگر اللہ تعالیٰ کا جو ان پر فیصلہ تھا اس کے خلاف نہیں پہنچتا تو اس کلام کا کوئی معنی نہیں رہتا۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فانفروا ثبات “۔ کہا جاتا ہے نفر ینفر نفیرا با کے کسرہ کے ساتھ نفرت الدابۃ نفر نفورا، (فا کے ضمہ کے ساتھ) اس کا مطلب ہے دشمن سے جنگ کرنے کے لیے اٹھو، استنفر الامام الناس ‘ امام نے لوگوں کو نضر کی طرف بلایا یعنی دشمن سے لڑنے کی دعوت دی، النفیر اس قوم کو کہتے ہیں جو جنگ کے لیے نکلتے ہیں اس کی اصل النفار اور النفور سے ہے اور اس کا معنی گھبراہٹ ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو علی ادبارھم نفورا “۔ یعنی وہ اسی سے ہے نفرالجلد یعنی جلد سوج گئی، تخلل رجل بالقصب فنفر فمہ۔ یعنی آدمی نے سرکنڈے کے ساتھ حلال کیا تو اس کا منہ سوج گیا، ابو عبید ؓ نے کہا : یہ نفار الشی من الشی سے مشتق ہے اور یہ ایک چیز کا دوسری چیز سے جدا ہونا ہے، ابن الفارس نے کہا النفر تین سے لے کر دس تک لوگوں کو کہتے ہیں النفیر اور النفر بھی ہے اسی طرح النفر اور النفرۃ بھی ہے۔ الفراء نے اس کو ہا کے ساتھ حکایت کیا ہے، یوم النفر جس دن لوگ منی سے نکلتے ہیں وثبات اس کا معنی ہے متفرق جماعتیں، کہا جاتا ہے ثبین جمع مذکر سالم اور جمع مونث سالم بنائی جاتی ہے عمرو بن کلثوم نے کہا :
فاما یوم خشیتنا علیہم فتصبح خلینا عصبا ثبینا :
پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثبات “۔ یہ سرایا ہے کنایہ ہے اس کا مفرد ثبۃ ہے، اس سے مراد لوگوں کا گروہ ہے اصل میں یہ الثبیۃ ہے، قد ثبیت الجیش کا مطلب ہے تو نے لشکر کو گروہ گروہ بنادیا، الثبۃ حوض کے وسط کو کہتے ہیں جس کی طرف پانی لوٹتا ہے۔ النحاس نے کہا عربی میں کمزور کا گمان ہے کہ یہ دونوں ایک چیز ہیں اور ہر ایک دوسرے سے ہے حالانکہ ان کے درمیان فرق ہے ثبہ الحوض کی تصغیر میں کہا جاتا ثویبۃ کیونکہ یہ ثاب یثوب سے مشتق ہے اور ثبۃ جس کا معنی جماعت ہے اس کی تصغیر میں ثبیۃ کہا جاتا ہے، نحاس کے علاوہ نے کہا ثبۃ الحوض میں واؤ محذوف ہے اور واؤ عین کلمہ ہے اور ثبۃ الجماعۃ، معتل اللام ہے، یہ ثبایثبو جیسے خلا یخلوا سیے مشتق ہے اور الثبۃ بمعنی الجماعت کا ثبۃ الحوض سے مشتق ہونا بھی جائز ہے کیونکہ پانی جب لوٹتا ہے تو جمع ہوتا ہے اس بناء پر ایک جماعت نے اس کی تصغیر ثوبیہ بنایئی ہے پس ایک یا کو دوسری یا میں داخل ہوگئی، حالانکہ کہا گیا ہے کہ ثبۃ الجماعۃ یہ ثبیت علی الرجل سے مشتق ہے جب تو اس کی زندگی میں اس کی تعریف کرے اور تو نے اس کے ذکر کے محاسن جمع کیے پس وہ اجتماع کی طرف لوٹتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اوانفروا جمیعا “۔ اس کا معنی ہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کثیر تعداد میں لشکر بن کر نکلو یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے، سرایا، غلائم اور لشکروں کے احکام اور وجوب النفیر کے احکامات سورة الانفال اور سورة برات میں آئیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (5) ابن خویز منداد نے ذکر کیا ہے کہ بعض علماء نے کہا یہ (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “۔ (توبہ : 31) اور (آیت) ” الاتنفروا یعذبکم “۔ (توبہ : 39) کے ارشادات سے منسوخ ہے اور (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “۔ (کا منسوخ ہونا فانفروا ثبات اوانفروا جمیعا اور (آیت) ” وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ “۔ (توبہ : 122) کے ارشادات کے ساتھ اولی ہے، کیونکہ جہاد فرض کفایہ ہے جب بعض مسلمانوں سرحدوں پر ہوں تو باقی لوگوں سے وہ فرض ساقط ہوجاتا ہے، صحیح یہ ہے کہ دونوں آیتیں محکم ہیں ایک اس وقت کے بارے میں ہے جب تمام پر حج فرض ہوجاتا ہے اور دوسری اس وقت کے بارے میں ہے جب کچھ لوگ ادا کر رہے ہوں تو کافی ہوتا ہے۔
Ayahs 4:72–73آیت نمبر : 72 تا 73۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ اس سے مراد منافقین ہیں، التبصئۃ اور الابطاء کا معنی ہے پیچھے رہنا، تو کہتا ہے : ما ابطاک عنا تمہیں ہم سے کس چیز نے پیچھے رکھا، یہ لازم ہے اور بطات فلا ناعن کذا بھی جائز ہے، یعنی میں نے اس کو پیچھے کردیا تو یہ متعدی ہے، اس آیت میں دونوں معانی مراد ہیں، منافقین خود بھی جہاد کے لیے نہیں نکلتے تھی اور دوسروں کو بھی منع کرتے تھے، مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اندر سے ہیں اور تمہاری جنس سے ہیں اور ان میں سے ہیں جس نے تمہارے لیے اپنا ایمان ظاہر کیا منافقین ظاہر حال میں مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان پر مسلمانوں کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں اور لمن میں لام تاکید کے لیے ہے اور دوسرا الام، لام قسم ہے اور من محل نصب میں ہے اور اس کے لیے صلہ لیبطئن ہے، کیونکہ اس میں قسم کا معنی ہے خبر منکم ہے، مجاہد نخعی اور کلبی نے (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ یعنی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، دونوں قراتوں میں معنی ایک ہے، بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ سے مراد بعض مومنین ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” وان منکم “۔ کے ساتھ خطاب کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین اور منافقین کے درمیان (آیت) ” وما ھم منکم “۔ (توبہ : 56) کے قول کے ساتھ فرق کیا ہے کلام کا سیاق اور ظاہر اس قول کی تائید نہیں کرتا اور انکو جنس اور نسب کے اعتبار سے خطاب میں جمع فرمایا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے نہ کہ ایمان کے اعتبار سے جمع کیا ہے یہی جمہور کا قول ہے اور یہی صحیح ہے انشاء اللہ تعالیٰ ، اس پر دلیل یہ آیت ہے (آیت) ” فان اصابتکم مصیبۃ “۔ یعنی قتل اور شکست تمہیں پہنچے، (آیت) ” قال قد انعم اللہ علی “۔ یعنی اللہ تعالیٰ مجھے پیچھے رکھ کر مجھ پر احسان فرمایا اور یہ عمل اور قول منافق سے ہی صادر ہوتا ہے خصوصا اس مقدس دور میں مومن کا یہ کہنا تو بعید ہے، اس آیت کی تفسیر وہ حدیث بھی کرتی ہے جو ائمہ حدیث نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے منافقین کے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا : ” منافقوں پر بھاری ترین نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اگر وہ جانتے جو ان دو نمازوں میں فضیلت ہے تو وہ ان نمازوں کی طرف آتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا “۔ ایک روایت میں آیا ہے ” اگر انہیں معلوم ہو کہ انہیں موٹی ہڈی ملے گی تو یہ عشاء کی نماز میں حاضر ہوتے “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب المساجد، جلد 1، صفحہ 232) یعنی اگر دنیا کی کوئی چیز ظاہر ہو تو اس کو لے سکتے ہیں اور اس کے ملنے کا یقین ہو تو وہ اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے۔
(آیت) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے غنیمت اور فتح تمہیں ملے، (آیت) ” لیقولن “ تو یہ منافق، حاسد اور نادم کے قول جیسا قول کرے گا۔ (آیت) ” یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ کاش میں انکے ساتھ ہوتا تو میں عظیم کامیابی حاصل کرتا۔ (آیت) ” کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ “۔ اس کلام میں تقدیم وتاخیر ہے، بعض علماء نے فرمایا : معنی یہ ہے کہ (آیت) ” لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ “۔ یعنی اس نیی تم سے جہاد پر کوئی عہد نہیں کیا تھا، بعض علماء نے فرمایا : یہ حال کی بنا پر منصوب ہے۔ حسن نے (آیت) ” لیقولن “۔ (من) کے معنی کے اعتبار سے لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 78 دارالکتب العلمیہ)
کیونکہ (آیت) ” لمن لیبطئن “ کے قول کا معنی کسی ایک خاص شخص کے لیے نہیں ہے اور جنہوں نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے لفظ (من) کے اعتبار سے واحد کی ضمیر لوٹائی ہے، ابن کثیر اور حفص نے عاصم سے کان لم تکن، مودۃ کے لفظ کی بناپرتا کے ساتھ پڑھا ہے اور جس نے یا کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے مودۃ کو الود کے معنی میں تصور کیا ہے اور منافقین کا قول (آیت) ” یلیتنی کنت معھم مال غنیمت کے فوت ہونے پر تاسف اور حسد کی بنا پر اللہ کی جزا میں شک کے ساتھ یہ کہے گا، فافوز تمنی کا جواب ہے اسی وجہ سے نصب دیا گیا ہے، حسن نے فافوز رفع کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ فوز کی تمنا ہے گویا یوں کہا : یالیتنی افوز فوزا عظیما اور نصب جواب کی بنا پر ہے، معنی یہ ہے کہ اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو کامیاب ہوتا، اس میں نصب ان کے اضمار کے ساتھ ہے، کیونکہ یہ مصدر کی تاویل پر محمول ہے، تقدیر کلام یہ ہے : یالیتنی کان لی حضور ففوز کاش میرے لیے حاضری اور کامیابی ہوتی۔
Ayah 4:74آیت نمبر : 74۔
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ “ یہ مومنین کو خطاب ہے یعنی اللہ کے راستہ میں لڑیں کفار سے (آیت) ” الذین یشرون “۔ جنہوں نے بیچ دیں اپنی جانیں اور اپنے اموال اللہ کے لیے (آیت) ” بالاخرۃ “ یعنی آخرت کے ثواب کے بدلے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ “ یہ شرط ہے ” فیقتل او یغلب “۔ اس پر معطوف ہے اور جزا (آیت) ” فسوف نؤتیہ اجرا عظیما “ ہے، فیقتل کا معنی ہے جو شہید ہوگا یا کامیاب ہوگا اور مال غنیمت لے گا، ایک جماع نے من یقاتل اور فلیقاتل (لام امر کے سکون کے ساتھ) پڑھا ہے، ایک جماعت نے : فلیقاتل (لام امر کے کسرہ کے ساتھ) پڑھا ہے، اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والے کی دونوں حالتوں کا ذکر فرمایا اور جو ان دونوں کے درمیان غایتیں تھیں ان پر اکتفا کیا، یہ ابن عطیہ نے ذکر کیا۔
مسئلہ نمبر : (3) آیت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے جو شہید کیا جائے گا یا مال غنیمت لے کر لوٹے گا انکے درمیان برابری ہے اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کفیل ہوتا ہے اس شخص کا جو اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے اور اسے نہیں نکالتا، مگر اللہ کے راستہ میں جہاد، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق، تو وہ میری کفالت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا یا اسے اپنے مسکن کی طرف لوٹاؤں گا جس سے وہ نکلا اجر یا غنیمت حاصل کرتے ہوئے “ (1) (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، جلد 2، صفحہ 133)
اس میں حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو مجاہدین اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں پھر وہ مال غنیمت حاصل کرتے ہیں وہ اپنے آخرت کے اجر میں سے دو ثلث (3؍2) جلدی حاصل کرلیتے ہیں اور انکے لیے 3؍1 حصہ باقی رہتا ہے، اگر انہیں غنیمت نہ ملی تو ان کے لیے اجر مکمل ہوگا “۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 338)
پس حضور ﷺ کا ارشاد : نائلا ما نال من اجرا وغنیمۃ (اجر یا مال غنیمت حاصل کرتے ہوئے) یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو مجاہدین سے شہید ہوتا ہے وہ دو امور میں سے ایک امر پائے گا یا اجر اگر مال غنیمت نہ پایا یا مال غنیمت پائے گا اور اجر نہیں ہوگا۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث اسکے خلاف مفہوم رکھتی ہے۔ جب صورت حال اس طرح ہو تو ایک قول نے کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کی سند میں حمید بن ہانی ہے وہ مشہور نہیں ہے اور انہوں نے پہلی حدیث کو اس کی شہرت کی وجہ سے ترجیح دی اور دوسرے ائمہ نے کہا : ان کے درمیان اور اختلاف نہیں ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں او بمعنی واؤ ہے جیسا کہ کوفی علماء کہتے ہیں، اس پر ابو داؤد کی روایت دلالت کرتی ہے اس میں ” من اجر وغنیمۃ (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 337)
کے الفاظ ہیں یعنی واؤ ہے جو جمع پر دلالت کرتی ہے، اور بعض مسلم کے راویوں نے واؤجمع بھی رویت کی ہے، اور حمید بن ہانی مصری ہیں انہوں نے ابوعبدالرحمن الحنبلی اور عمرو بن مالک ؓ سے سنا ہے حیوہ بن شریح اور ابن وہب نے ان سے روایت کیا ہے اور پہلی حدیث جہاد میں اخلاص اور مجردنیت پر محمول ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ضمانت دی ہے یا تو اسے شہادت ملے گی یا وہ اپنے گھر والوں کے لیے مال غنیمت اور اجر حاصل کرکے لوٹے گا، اور دوسری کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ جب وہ جہاد کی نیت کرتا ہے لیکن مال غنیمت پانے کے ساتھ، جب اس کی نیت تقسیم ہوگئی تو اس کا اجر کم ہوگا۔ اور سنت اس پر دلالت کرتی ہے مال غنیمت پانے والے کے لیے اجر ہے جیسا کہ قرآن کریم اس پر دال ہے پس کوئی تعارض نہیں ہے پھر کہا گیا کہ مال غنیمت پانے والے کے اجر کی کمی اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا اس سے وہ متمتع ہوتا ہے اور اس زندگی کی سختی زائل فرما دیتا ہے اور جو مال غنیمت سے محروم ہوتا ہے تو اس نے کچھ نہ پایا اور وہ اپنی زندگی کی سختی پر باقی ہوتا ہے اور اپنی حالت پر صبر کرتا ہے تو اس کا پورا اجر باقی رہتا ہے بخلاف پہلے شخص کے۔ اس کی مثال دوسری حدیث میں ہے۔ فمنا من مات لم یا کل من اجرہ شیئا۔۔۔۔۔ منھم مصعب بن عمیر۔۔۔۔ ومنا من اینعت لہ ثمرتہ فھو یھد بھا “۔ جو ہم میں سے فوت ہوا اور اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا ان میں سے مصعب بن عمیر ہے۔۔۔۔۔ اور ہم میں سے کچھ لوگوں کا پھل پک چکا ہے وہ اسے چن رہا ہے۔
Ayah 4:75آیت نمبر : 75۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یہ جہاد پر برانگیختہ کرنا ہے یہ اپنے ضمن میں اس بات کو لیے ہوئے ہے کہ کمزور لوگوں کو ان مشرکوں کے ہاتھوں سے آزاد کرانا ہے جو ان کمزور لوگوں کو سزا دیتے ہیں اور انہیں دین کے سلسلہ میں فتنہ میں ڈالتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ اور کمزور مومنین کو نجات دلانے کے لیے جہاد کو واجب فرمایا اگرچہ اس میں نفوس کا تلف بھی ہو، اور قیدیوں کا چھڑانا مسلمانوں کی جماعت پر واجب ہے، خواہ وہ جہاد سے ہو یا اموال خرچ کرنے کے ساتھ ہو، اور یہ ضروری ہے، کیونکہ یہ نفس سے کم درجہ رکھتے ہیں، امام مالک (رح) نے فرمایا : لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے تمام اموال کے ذریعے قیدیوں کا فدیہ دیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : فکوالعانی “۔ (1) (شعب الایمان کتاب فی الزکوۃ، جلد 3، صفحہ 215)
قیدی کو چھڑاؤ، سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اسی طرح علماء نے فرمایا : ان پر لازم ہے کہ وہ قیدیوں سے غم خواری کریں، کیونکہ مواسات (غم خواری) فدیہ دینے سے کم ہے۔ اگر قیدی غنی ہو تو وہ فدیہ دینے والے کو مال لوٹائے یا نہیں اس میں علماء کے دونوں قول ہیں لیکن اصح یہ ہے کہ وہ رجوع کرے۔
مسئلہ نمبر : (2) (آیت) ” المستضعفین “۔ اسم جلالت اللہ پر معطوف ہے یعنی وفی سبیل المستضعفین۔ کیونکہ مستضعفین ‘، (کمزور لوگوں) کو خلاصی دینا بھی فی سبیل اللہ میں سے ہے، یہ زجاج کا اختیار ہے اور یہی زہری کا قول ہے محمد بن یزید نے کہا : میرا پسندیدہ قول ہے کہ اس کا معنی ہے فی المستضعفین “۔ اس صورت میں السبیل پر عطف ہوگا، یعنی وفی المستضعفین۔ یعنی وہ جہاد کریں کمزور لوگوں کو بچانے کے لیے، پس یہ دونوں راستے مختلف ہیں، یعنی مکہ میں مومنین میں سے جو لوگ کفار قریش کی تکلیف میں ہیں۔ نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد سے یہی معنی ہے : اللھم انج الولید بن الولید وسلمۃ بن ہاشم و عیاش بن ابی ربیعہ والمستضعفین من المومنین (2) (صحیح بخاری کتاب التفسیر جلد 2 صفحہ 661)
اے اللہ ولید بن ولید، سلمۃ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنین میں سے کمزور لوگوں کو نجات عطا فرما، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں اور میری والدہ کمزور لوگوں میں سے تھے، بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان، میں اور میری والدہ ان میں سے تھے جن کا عذر اللہ تعالیٰ قبول فرمایا اور میں بچوں میں سے تھا اور میری والدہ عورتوں میں سے تھی۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا “۔ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہاں قریۃ سے مراد مکہ مکرمہ ہے، ظالم کے ساتھ اس کا وصف بیان کیا اگرچہ یہ فعل مکہ والوں کا تھا، کیونکہ ضمیر کے ساتھ تعلق ہے یہ اس طرح ہے جیسے تو کہتا ہے : مررت بالرجل الواسعۃ دارہ، الکریم ابوہ الحسنۃ جاریتۃ۔ اس کے ساتھ آدمی کا وصف بیان کیا گیا ان کے درمیان لفظی تعلق ہے اگر تو کہے : مررت بالرجل الکریم عمرو تو یہ جائز نہیں کیونکہ کرم عمرو کے لیے ہے پس اس کو رجل کی صفت بنانا جائز نہیں مگر تعلق کے ساتھ اور وہ ضمیر ہے اس صفت کا نہ تثنیہ ہوتا ہے نہ جمع، کیونکہ یہ فعل کے قائم مقام ہوتی ہے، معنی یہ ہے کہ وہ شہر جس کے بسنے والوں نے ظلم کیا اسی وجہ سے ’ الظالمین “ نہیں فرمایا۔ تو کہتا ہے : مررت برجلین کریم ابواھما حسنۃ جاریتاھما وبرجال کریم اباء ھم حسنۃ جو اریھم “۔ یعنی دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جن کے باپ کریم تھے ان کی لونڈی خوبصورت تھی اور ایسے مردوں کے پاس سے گزرا جن کے آباء کریم تھے انکی لونڈیاں خوبصورت ہیں۔ (آیت) ” واجعل لنا من لدنک “۔ لدنک بمعنی عندک ہے۔ ولیا جو ہمیں بچائے، (آیت) ” واجعل لنا من لدنک نصیرا “۔ جو ہماری ان کے خلاف مدد کرے۔
Ayah 4:76آیت نمبر : 76۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یہاں ” فی سبیل اللہ “ سے مراد فی طاعتہ ہے یعنی جو اللہ کی اطاعت میں جنگ کرتے ہیں (آیت) ” والذین یقاتلون فی سبیل اللہ الطاغوت “۔ ابو عبیدہ اور کسائی نے کہا : طاغوت مذکر اور مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ مذکر، مونث استعمال ہوتا ہے، کیونکہ وہ کاہن اور کاہنۃ کو طاغوت کہتے تھے، فرمایا ہمیں حجاج نے بتایا انہوں نے ابن جریج سے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں ابو الزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ان طاغوتوں کے بارے میں پوچھا گیا جن کے پاس لوگ فیصلے کے لیے جاتے تھے، تو انہوں نے فرمایا : ایک طاغوت جہینۃ میں تھا ایک اسلم میں تھا اور ہر قبیلہ میں ایک طاغوت تھا، ابواسحاق نے کہا : اس پر دلیل کہ وہ شیطان ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” فقاتلوا اولیآء الشیطن، ان کید الشیطن کان ضعیفا “۔ یعنی شیطان کا مکر اور اس کے پیروکاروں کا مکر، کہا جاتا ہے : اس سے مراد بدر کا دن ہے جب مشرکین کو شیطان نے کہا تھا : (آیت) ” لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم فلما ترآءت الفئتن نکص علی عقبیہ وقال انی بریء منکم “۔ (الانفال : 48) تو جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں بری الذمہ ہوں تم سے۔