4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کر چکیں تو پرے ہوجائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہوجاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں ہو یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

آیت نمبر 103 : اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ دارقطنی نے ابو عیاش زرقی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ؛ ہم رسول اللہ ﷺ کے عسفان میں تھے، مشرکین سے ہمارا مقابلہ ہوا ان کے جرنیل خالد بن ولید تھے اور ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی مشرکین نے کہا : مسلمان اس حالت پر ہیں کہ ہم ان پر حملہ کریں، فرمایا : پھر کہا ابھی مسلمانوں پر ایسی نماز کا وقت ہونے والا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹوں اور اپنے نفسوں سے زیادہ عزیز ہے، فرمایا : جبریل امین ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیت کریمہ لے کر آئے (1) (المستدرک للحاکم، صلوۃ الخوف، جلد 1، صفحہ 4386، حدیث نمبر 1252) (آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ آگے حدیث پوری ذکر کی، مکمل حدیث انشاء اللہ آگے آئے گی۔ یہ حضرت خالد ؓ کے اسلام کا سبب تھا یہ آیت سابقہ جہاد کے ذکر سے متصل ہے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ نماز سفر اور جہاد اور دشمن کے قتال کے عذر سے بھی ساقط نہیں ہوتی لیکن اس میں رخصت ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں اور اس سورت میں علماء کے اختلاف کا بیان گزر چکا ہے، یہ خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور قیامت تک بعد کے امراء کو شامل ہے اس کی مثل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “ (توبہ : 103) (ان کے اموال سے صدقہ لو) یہ تمام علماء کا قول ہے، امام ابو یوسف اور اسماعیل بن علیہ نے شاذ قول کیا ہے یہ دونوں حضرات کہتے ہیں : ہم نبی مکرم ﷺ کے بعد صلاۃ خوف نہیں پڑھیں گے (2) (زاد المسیر، جلد 1، صفحہ 110) کیونکہ خطاب خاص نبی مکرم ﷺ کے لیے ہے کیونکہ فرمایا (آیت) ” واذا کنت فیھم “۔ جب آپ ان میں نہ ہوں گے تو نماز بھی ان کے لیے نہ ہوگی، کیونکہ نبی مکرم ﷺ اس سلسلہ میں دوسروں لوگوں کی طرح نہیں ہیں، تمام لوگ پسند کرتے تھے کہ آپ کی اقتدا کریں اور آپ کے پیچھے نماز پڑھیں، اور آپ ﷺ کے بعد کسی کے لیے فضیلت میں اس مقام پر فائز ہونا ممکن نہیں، آپ ﷺ کے بعد لوگوں کے احوال برابر اور متقارب ہیں، اسی وجہ سے امام ایک فریق کو نماز پڑھائے گا اور دوسرے فریق کے لیے کسی دوسرے کو نماز پڑھانے کا حکم دے گا۔ رہا یہ کہ تمام ایک نماز کے پیچھے نمازیں پڑھیں یہ نہیں ہوگا۔ جمہور علماء نے کہا : ہمیں نبی مکرم ﷺ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ہمیں دوسری آیت اور حدیث میں آپ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ “۔ (النور : 63) اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : صلوا کما رایتمونی اصلی “۔ (3) (صحیح بخاری، کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 888) تم نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا پس آپ ﷺ کی اتباع مطلقا لازم ہے حتی کہ خصوص پر کوئی واضح دلیل دلالت کرے اگر معاملہ اس طرح ہوتا جو انہوں نے خصوص کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے تو پھر خطابات کا ان کے ساتھ خاص ہونا لازم ہوتا جن کی طرف خطابات متوجہ تھے، اس وقت شریعت کا ان کے ساتھ منحصرہونالازم ہوگا جن سے خطاب کیا گیا۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس نماز میں خصوص کے تو ہم کو ترک کیا اور انہوں نے غیر نبی مکرم ﷺ کے لیے بھی اس کو جائز قرار دیا جب کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حرام اور حلال کو زیادہ جاننے والے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ (الانعام : 68) اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو پڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے اعراض کرلے حتی کہ وہ کسی دوسری بات میں پڑیں۔ یہ خطاب بھی رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ کی امت بھی اس میں داخل ہے، اس کی بہت سی مثالیں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ (توبہ : 103) یہ تمام ان احکام کو آپ کے ساتھ خاص کرنے کا موجب نہیں بلکہ بعد والے بھی آپ کے قائم مقام ہیں۔ اسی طرح۔ (آیت) ” واذا کنت فیھم “۔ میں ہے، کہ آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا حضرت ابوبکر صدیق ؓ صحابہ کی جماعت میں تھے انہوں نے جنگ کی ان لوگوں سے جنہوں زکوۃ میں تاویل کی جس طرح صلاۃ خوف میں تم نے تاویل کی۔ ابو عمر نے کہا : زکوۃ لینے جس طرح نبی مکرم ﷺ اور بعد والے خلفاء برابر تھے نبی مکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے والے اور دوسروں کے پیچھے نماز والے کی نماز میں مشابہت نہیں ہے، کیونکہ زکوۃ لینے کا فائدہ مساکین کو فائدہ پہنچانا ہے اس میں عطا کرنے والے کو اس طرح فضیلت نہیں جس طرح آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے والے کو فضیلت ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلتقم طائفۃ منھم معک “۔ یعنی ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہو، (آیت) ” والیاخذوا اسلحتھم “۔ یعنی جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اور کہا جاتا ہے : (آیت) ” والیاخذوا اسلحتھم “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دشمن کے مقابلہ میں ہیں وہ ہتھیار اٹھائیں، اس کا بیان آگے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طائفہ کے لیے صرف ایک رکعت کا ذکر کیا ہے لیکن احادیث میں ہے کہ انہوں نے اس کے ساتھ دوسری رکعت ملائی، جیسا کہ آگے آئے گا۔ (آیت) ” فلتقم “۔ اور (آیت) ” فلیکونو “۔ کے قول سے کسرہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے، اخفش، فراء اور کسائی نے حکایت کیا ہے کہ لام امر، لام حجود کو فتہ دیا جاتا ہے، سیبویہ علت موجبۃ کی وجہ سے اس سے منع کرتے ہیں اور وہ علت لام جر اور لام تاکید کے درمیان فرق ہے اس امر سے مراد تقسیم ہونا ہے یعنی تمام کا دشمن کے سامنے ہونا ہے کہ ان کے حملہ سے بچا جائے۔ نماز خوف کی ہئیت میں روایات مختلف ہیں۔ روایات کے اختلاف کی وجہ سے علماء کی مذاہب میں بھی اختلاف ہے ابن القصاء نے ذکر کیا ہے کہ آپ ﷺ نے چودہ مقامات پر صلاۃ خوف پڑھی، ابن عربی نے کہا : نبی مکرم ﷺ نے چوبیس مرتبہ صلاۃ خوف پڑھی (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 491) امام احمد بن حنبل (رح) نے کہا : جو اہل حدیث کے امام ہیں اور حدیث میں نقل کی علل کی معرفت میں متقدم ہیں، میں نہیں جانتا کہ صلاۃ خوف میں کوئی حدیث مروی ہے مگر وہ حدیث مروی ہے مگر وہ حدیث ثابت ہے، یہ تمام احادیث صحیح ثابت ہیں جس حدیث کی بنا پر کوئی صلاۃ خوف پڑھے گا اس کے لیے جائز ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسی طرح ابو جعفر طبری نے کہا : امام مالک اور ان کے تمام اصحاب، سوائے اشہب، کا نظریہ صلاۃ خوف میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کے مطابق ہے۔ وہ حدیث امام مالک (رح) نے موطا میں یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے صالح بن خوات انصاری سے روایت کی ہے، کہ سہل بن ابی حثمہ نے انہیں بیان کیا کہ صلاۃ خوف میں امام کھڑا ہو اور اس کے ساتھ اس کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ کھڑا ہو اور ایک گروہ دشمن کے سامنے ہو۔ امام اس گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور سجدہ کرائے جو اس کے ساتھ ہیں پھر امام کھڑا ہو جب امام سیدھا کھڑا ہوجائے تو ٹھہر جائے اور باقی رکعت مقتدی خود مکمل کریں پھر وہ سلام پھیر دیں پھر وہ چلے جائیں اور امام کھڑا رہے اب یہ گروہ جو نماز پڑھ چکا ہے دشمن کے سامنے چلا جائے پھر وہ آجائیں جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی وہ امام کے پیچھے تکبیر کہیں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، سجدہ کرے پھر سلام پھیر دے وہ کھڑے ہوجائیں اور دوسری رکعت پڑھ کر سلام پھیردیں۔ ابن القاسم جو امام مالک (رح) کے شاگرد ہیں انہوں نے کہا : امام مالک کے نزدیک عمل قاسم بن محمد عن صالح بن خوات کی حدیث کے مطابق ہے، ابن القاسم نے کہا : وہ یزید بن رومان کی حدیث پر عمل کرتے تھے پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا، ابوعمر ؓ نے کہا : قاسم کی حدیث اور یزید بن رومان کی حدیث دونوں صالح بن خوات سے مروی ہیں مگر ان کے درمیان سلام میں فرق ہے، قاسم کی حدیث میں ہے کہ امام دوسرے طائفہ کو سلام پھیرائے پھر وہ کھڑے ہوں اور خود اپنی رکعت کو قضا کریں اور یزید بن رومان کی حدیث میں ہے کہ وہ انتظار کرے اور انہیں سلام پھیرائے۔ امام شافعی (رح) نے بھی یہی کہا ہے اور اسی کی طرف امام شافعی کا رجحان ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : یزید بن رومان کی حدیث صالح بن خوات سے جو مروی ہے وہ صلاۃ خوف میں مروی احادیث میں سے کتاب اللہ کے ظاہر کے زیادہ مشابہ ہے اور میں بھی کہتا ہوں : امام مالک رحمۃ اللہ علیہنے قاسم کی حدیث کی اختیار کرنے کی حجت تمام نمازوں پر قیاس کو بنایا ہے، کیونکہ تمام نمازوں میں امام کسی کا انتظار نہیں کرتا جو پہلے گزر چکا ہوتا ہے۔ اور سنت جس پر اجماع ہے وہ یہ ہے کہ مقتدی امام کے سلام کے بعد اپنی بقیہ نماز کی قضا کریں گے، ابو ثور کا قول اس مسئلہ میں امام مالک (رح) کے قول کی طرح ہے اور امام احمد (رح) نے امام شافعی (رح) کے قول کی طرح کہا جو ان کا مختار قول ہے وہ کسی پر عیب نہیں لگاتے تھے، جو صلاۃ خوف کے متعلق کسی بھی طریقہ پر عمل کرلیتا تھا، اصحاب مالک میں سے اشہب کا اختیار حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ﷺ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا طائفہ دشمن کے سامنے تھا پھر وہ واپس آئے وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کے سامنے آئے اور وہ لوگ آئے جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی تھی پھر انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر نبی مکرم ﷺ نے سلام پھیر دیا پھر ہر ایک گروہ نے اپنی اپنی رکعت خود ادا کی (1) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 592) حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : جب خوف اس سے زیادہ ہو تو سوارہو کر یا کھڑے ہو کر اشارہ سے نماز پڑھیں، یہ امام بخاری، امام مسلم، امام مالک (رح) وغیرہم نے تخریج کیا ہے، اس طریقہ کو اوزاعی نے اختیار کیا۔ اس کو ابو عمر بن عبد البر نے پسند کیا ہے فرمایا : یہ سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے اور یہ اہل مدینہ کے نقل کے ساتھ وارد ہے اور ان کے مخالف پر حجت قائم ہے، کیونکہ اصول کے زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ پہلا اور دوسرا گروہ انہوں نے اپنی رکعت کو نبی مکرم ﷺ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد قضا کیا اور متفق علیہ سنت سے معروف ہے بقیہ تمام نمازوں میں، رہے کوفی علماء امام ابوحنیفہ (رح) اور انکے اصحاب سوائے امام ابو یوسف کے، ان کا نظریہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کے مطابق ہے، اس حدیث کو ابو داؤد اور دارقطنی نے ذکر کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف پڑھائی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دو صفیں بنائیں ایک صف نبی مکرم ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری دشمن کے سامنے تھی نبی مکرم ﷺ نے اس گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر دوسرا گروہ آیا اور پہلے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہوئے اور پہلا گروہ دشمن کے سامنے چلا گیا انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی پھر سلام پھیر دیا پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور ایک رکعت خود پڑھی پھر سلام پھیر دیا وہ چلے گئے، اور ان ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہوئے جو دشمن کے سامنے تھے وہ پہلا گروہ ان کی جگہ آیا اور اپنی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 176) یہ طریقہ اور پہلا طریقہ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے مگر ان کے درمیان فرق ہے وہ یہ ہے حضرت ابن عمر کی حدیث میں ان کی قضا ایک حالت میں ظاہر ہوتی ہے اور امام اکیلا نگران کی طرح باقی رہتا ہے اور یہاں ان کی قضا ان کی نماز کی صفت پر متفرق ہے، بعض علماء نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کی حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث میں مروی طریقہ پر تاویل کی ہے حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث پر۔ ثوری، اشہب بن عبدالعزیز کا مسلک قائم ہے جیسا کہ ابو الحسن لخمی نے ان سے روایت کیا ہے اور پہلا قول ابو عمر، ابن یونس اور ابن حبیب نے ان سے روایت کیا ہے، ابو داؤد نے حضرت حذیفہ، حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ہر طائفہ کی ایک رکعت پڑھائی اور انہوں نے قضا نہیں کی (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 177) یہ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث کا مقتضی ہے کہ صلاۃ خوف میں ایک رکعت ہے، یہ اسحاق کا قول ہے، سورة بقرہ میں اس کی طرف اشارہ ہوچکا ہے، نماز اس کے مطابق اولی ہے جس میں احتیاط ہو اور حضرت ابن عباس ؓ ؓ کی حدیث سے حجت قائم نہیں ہوتی اور حدیث حذیفہ وغیرہ کی حدیث میں لم یقضوا “ اس پر محمول ہوگی کہ جن لوگوں نے روایت کیا ان کے علم میں ہے کہ انہوں نے بقیہ رکعت ادا نہیں کی، کیونکہ روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس نماز میں ایک رکعت بعد میں ادا کی اور جنہوں نے زیادتی کی شہادت دی وہ اولی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ” لم یقضوا “ سے مراد یہ ہو کہ انہوں نے قضا نہ کی جب وہ امن میں ہوئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ خوف زدہ کو جب امن ہوجائے تو خوف کی نمازیں جو وہ پہلے ادا کرچکا ہے ان کی قضا نہیں کرے گا، یہ تمام اقوال ابوعمر ؓ نے ذکر کیے ہیں صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ایک طائفہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ پیچھے چلے گئے اور پھر دوسرے طائفہ کو دو رکعتیں پڑھائیں فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے لیے چار رکعتیں تھیں اور مقتدیوں کے لیے دو دو رکعتیں تھیں، اس حدیث کو ابو داؤ داور دارقطنی نے حسن عن ابی بکرہ کی حدیث سے تخریج کیا ہے انہوں نے بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرا (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 177) اس حدیث کو دارقطنی نے حسن عن جابر کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا۔ ابو داؤد نے کہا : حضرت حسن اس کے ساتھ فتوی دیتے تھے، امام شافعی (رح) سے بھی یہ مروی ہے، اس سے ان علماء نے حجت پکڑی ہے جو نماز میں امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کو جائز قرار دیتے ہیں، یہ امام شافعی (رح) اوزاعی، ابن عطیہ، امام احمد بن حنبل اور داؤد رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب ہے، انہوں نے حضرت جابر کی حدیث سے تائید حاصل کی ہے کہ حضرت معاذ نبی مکرم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے پھر اپنی قوم کے پاس آتے تھے اور اپنی قوم کی امامت کراتے تھے۔ (الحدیث) امام طحاوی نے فرمایا : یہ ابتداء اسلام میں تھا، کیونکہ ابتدائے اسلام میں ایک فریضہ دو مرتبہ ادا کرنا جائز تھا پھر یہ منسوخ ہوگیا۔ واللہ اعلم۔ یہ صلاۃ خوف کے بارے علماء کے اقوال ہیں۔ مسئلہ نمبر : (3) یہ نماز ہے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے اس کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ مسلمانوں کی قبلہ کی طرف پیٹھ اور دشمن کا قبلہ کی طرف منہ ہو۔ ذات الرقاع میں ایسا اتفاق ہوا تھا، عسفان اور دوسری جگہوں پر مسلمانوں کا رخ قبلہ کی جانب تھا اور جو ہم نے خالد بن ولید کے قصہ میں نزول کا سبب ذکر کیا ہے وہ قوم کو دو حصوں میں تفریق کرنے کے مناسب نہیں کیونکہ (آیت) ” فاقمت لھم الصلوۃ “۔ کے قول کے بعد حدیث میں فرمایا : نماز کا وقت ہوا تو نبی مکرم ﷺ نے صحابہ کو ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم تمام نے رکوع کیا۔ فرمایا : پھر آپ نے سر اٹھایا تو ہم نے بھی سر اٹھایا، فرمایا پھر نبی مکرم ﷺ نے اسی صف کے ساتھ کیا جو آپ سے متصل تھی اور دوسرے نگرانی کرتے ہوئے کھڑے رہے پھر وہ بیٹھے سجدہ کیا اور آپ ﷺ نے ان پر سلام کیا (1) (سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 177) ۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ صلاۃ خوف پڑھی ایک مرتبہ غسفان میں ایک مرتبہ بنی سلیم کی زمین میں اس کو ابو داؤد نے ابو عیاش زرتی کی حدیث سے تخریج کیا ہے، یہ ثوری کا قول ہے اور زیادہ احتیاط پر مبنی ہے۔ ابو عیسیٰ نے ترمذی میں یہ طریقہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے اس حدیث میں ہے نبی مکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور ہر طائفہ کے لیے ایک ایک رکعت تھی اور نبی مکرم ﷺ کے لیے دو رکعتیں تھیں، امام ترمذی (رح) نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت ابو عیاش زرقی، رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین انکا نام زید بن صامت ہے، حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت حذیفہ، حضرت ابوبکر اور حضرت سہل بن حثمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بھی مروی ہے۔ میں کہتا ہوں : ان روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، شاید نبی مکرم ﷺ نے ان کو اکٹھی نماز پڑھائی ہو جس طرح حضرت ابو عیاش کی حدیث میں ہے اور ان کو دوسری نماز پڑھائی ہو جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آیا ہے اس میں اس شخص کے لیے حجت ہے جو کہتے ہیں نماز خوف ایک رکعت ہے، خطابی نے کہا : صلاۃ خوف کی کئی صورتیں ہیں نبی مکرم ﷺ نے مختلف ایام میں مختلف اشکال میں ادا فرمائی آپ نے ہراس طریقہ کو اختیار فرمایا جس میں نماز کے لیے احتیاط بھی تھی اور حراست و حفاظت کے لیے بھی زیادہ بلیغ تھا۔ مسئلہ نمبر : (4) مغرب کی نماز کی کیفیت میں اختلاف ہے، دارقطنی نے حسن عن ابی بکرہ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ایک قوم کو مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ چلے گئے اور دوسرے لوگ آئے انہیں بھی آپ ﷺ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پس نبی مکرم ﷺ کے چھ رکعت ہوئیں اور مقتدیوں کیلئے تین تین رکعتیں ہوئیں (2) (المستدر للحاکم، صلوۃ الخوف جلد 1، صفحہ 486، حدیث نمبر 1251) حسن کا یہی قول ہے، جمہور علماء صلاۃ مغرب میں اس نظریہ سے اختلاف رکھتے ہیں، یہ کہتے ہیں : وہ پہلے طائفہ کو دو رکعتیں پڑھائے اور دوسرے طائفہ کو ایک رکعت پڑھائے۔ پھر اس میں علماء کے اصول کے اختلاف کی بنا پر بقیہ نماز کب قضا کی جائے گی ؟ کیا سلام سے پہلے یاسلام کے بعد ؟ یہ امام مالک (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) کا نظریہ ہے، کیونکہ اس میں نماز کی ہیئت کی زیادہ حفاظت ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائے، کیونکہ حضرت علیٰ ؓ نے جنگ صفین میں ایسا ہی کیا تھا (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 494) واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (5) سخت جنگ اور شدت قتال اور وقت کے خروج کے خوف میں نماز خوف ادا کرنے میں اختلاف ہے، امام مالک، ثوری، ازواعی، امام شافعی، رحمۃ اللہ علیہم اور عام فقہاء فرماتے ہیں : جیسے ممکن ہو نماز ادا کرے، کیونکہ حضرت عمر کا قول ہے : اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو سوار ہو کر یا کھڑے ہو کر اشارہ سے نماز پڑھے، موطا میں ہے خواہ قبلہ کی طرف منہ ہو یا نہ ہو۔ سورة بقرہ میں ضحاک اور اسحاق کا قول گزر چکا ہے۔ اوزاعی نے کہا : اگر فتح تیار ہو اور وہ نماز پر قادر نہ ہوں تو ہر شخص خود اشارہ سے نماز پڑھے اور اگر اشارہ سے بھی ادا کرنے پر قادر نہ ہوں تو نماز کو موخر کردیں حتی کہ جنگ ختم ہوجائے اور امن میں جائیں تو دو رکھتیں ادا کریں، اگر وہ قادر نہ ہوں تو ایک رکوع اور دو سجدے ادا کریں اگر اس پر بھی قادر نہ ہوں تو ان کے لیے تکبیر کافی دو رکعتیں ادا کریں، اگر وہ قادر نہ ہوں تو ایک رکوع اور دو سجدے ادا کریں اگر اس پر بھی قادر نہ ہوں تو ان کے لیے تکبیر کافی ہوگی وہ نماز کو مؤخر کریں حتی کہ امن میں ہوجائیں، یہی مکحول کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ الکیاطبری نے ” احکام القرآن “ میں امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب سے حکایت کیا ہے۔ ال کیا نے کہا : جب خوف اس سے زیادہ ہو اور جنگ اپنے عروج پر ہو تو مسلمان قبلہ یا غیر قبلہ کی طرف جیسا بھی ممکن ہو نماز پڑھیں، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ثلاثہ اس پر متفق ہیں کہ وہ نماز نہ پڑھیں جب کہ یہ حالت ہو بلکہ نماز مؤخر کردیں، اگر وہ نماز کے اندر جنگ لڑیں گے تو انکی نماز فاسد ہوجائے گی، امام شافعی (رح) سے حکایت کیا گیا ہے طعن اور ضرب پے درپے لگائی تو نماز فاسد ہوجائے گی، میں کہتا ہوں : یہ قول حضرت انس ؓ کے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے، انہوں نے فرمایا : تستر قلعہ کی فتح فجر کی روشنی کے وقت ہوئی سخت جنگ ہوئی تو ہم نماز نہ پڑھ سکے مگر سورج بلند ہونے کے بعد ہم نے نماز پڑھی جب کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے اور ہمیں فتح حاصل ہوچکی تھی، حضرت انس ؓ نے کہا : مجھے اس نماز کے عوض دنیا ومافیہا محبوب نہیں۔ یہ حدیث بخاری نے روایت کی ہے، اس کی طرف ہمارے شیخ الاستاد ابو بن محمد بن القیسی القرطبی المعروف بابی حجۃ کا میلان ہے، یہی ظاہر امام بخاری (رح) کا مختار ہے، کیونکہ انہوں نے اس کے پیچھے حدیث جابر کو ذکر کیا ہے فرمایا : جنگ خندق کے دن حضرت عمر ؓ آئے وہ کفار قریش کو گالی دے رہے تھے اور عرض کر رہے تھے : یا رسول اللہ ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی حتی کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے بھی نماز نہیں پڑھی فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ بطحان وادی میں اترے، وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد نماز عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ (2) (صحیح بخاری، مواقیت الصلوۃ جلد 1، صفحہ 83) مسئلہ نمبر : (6) حملہ آور اور جس کا پیچھا کیا گیا ہے اس کی نماز میں بھی اختلاف ہے، امام مالک (رح) اور ان کے ساتھیوں کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ دونوں برابر ہیں، ہر ایک اپنی سواری پر نماز پڑھے گا۔ اوزاعی، امام شافعی، اور فقہاء اصحاب الحدیث اور ابن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہم نے کہا : پیچھا کرنے والا (حملہ آور) زمین پر نماز پڑھے یہ صحیح ہے، کیونکہ پیچھا کرنا نفل ہے اور فرض نماز کا زمین پر ادا کرنا فرض ہے جہاں ممکن ہو اور سوار سواری پر نماز نہ پڑھے مگر جب اسے شدید خوف ہو، جب کہ پیچھا کرنے والا ایسا نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر : (7) چھاونی میں لشکر موجود تھا انہوں نے ایک تاریکی دیکھی انہوں نے اسے دشمن گمان کیا انہوں نے صلاۃ خوف پڑھ لی پھر ظاہر ہوا کہ وہ کوئی دشمن نہیں ہے، ہمارے علماء کی ایسی صورت میں دو روایتیں ہیں ایک یہ کہ وہ نماز کا اعادہ کریں، یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے، دوسری یہ کہ ان پر اعادہ نہیں ہے یہ امام شافعی کا اظہرقول ہے، دوسرے قول کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اجتہاد پر عمل کیا تو ان کے لیے یہ جائز تھا جیسا کہ اگر قبلہ کی سمت میں خطا کر بیٹھیں اور نماز پڑھ لیں تو ان پر اعادہ نہیں ہوتا، یہ اولی ہے، کیونکہ انہوں نے وہی کچھ کیا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وقت کے اندر لوٹائیں اور اگر وقت نکل چکا ہو تو نہ لوٹائیں۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولیاخذوا اسلحتھم “۔ اور فرمایا (آیت) ” ولیاخذوا حذرھم واسلحتھم “۔ یہ احتیاط اور ہتھیار اٹھانے کی صفتیں ہیں تاکہ دشمن اپنی آرزو پوری نہ کرلے اور فرصت کو نہ پائے، السلاح اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان جنگ میں اپنا دفاع کرتا ہے۔ عنترہ نے کہا : کسوت الجعد جعد بنی ابان سلاحی بعد عری وافتضاح : کہتا ہے : میں نے اسے اپنے ہتھیار دیئے تاکہ ان کے ساتھ وہ اپنی حفاظت کرے اور اس کے بعد کہ وہ ہتھیاروں سے خالی ہوچکا تھا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (آیت) ” ولیاخذوا اسلحتھم “۔ یعنی وہ طائفہ ہتھیار اٹھائے جو دشمن کے سامنے ہے، کیونکہ نماز پڑھنے والا طائفہ جنگ نہیں کر رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے علاوہ علماء نے کہا : نماز پڑھنے والا طائفہ ہتھیار اٹھائے، یعنی جو پہلے نماز پڑھنے والے ہیں وہ اپنے ہتھیار اٹھائیں یہ نحاس نے ذکر کیا ہے اس نے کہا : یہ احتمال ہے کہ وہ گروہ جس کو نماز میں ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے یعنی ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور انہیں اپنے ہتھیار لینے چاہئیں، کیونکہ اسے دشمن کا زیادہ خوف ہے، نحاس نے کہا : یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حکم تمام کے لیے ہو، کیونکہ اس میں دشمن کے لیے ہیبت ہوگی اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حکم صرف اس گروہ کو ہو جو دشمن کے سامن ہے ابو عمر نے کہا : اکثر اہل علم اس نماز کے لیے ہتھیار اٹھانا مستحب قرار دیتے ہیں جو خوف میں نماز پڑھ رہا ہو۔ اور کہ (آیت) ” ولیاخذوا اسلحتھم “۔ کے قول کو ندب پر محمول کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ خوف نہ ہوتا تو اس کا اٹھانا واجب نہ ہوتا پس اس کا امر استحبابی ہے، اہل ظاہر نے کہا : نماز خوف میں ہتھیار اٹھانا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے مگر جسے بارش وغیرہ کی وجہ سے اذیت ہو تو اس کے لیے واجب نہیں، اگر بارش وغیرہ ہو تو اس کے لیے ہتھیاراتارنا جائز ہے، ابن عربی نے کہا : جب وہ نماز پڑھیں تو خوف کے وقت اپنے ہتھیار اٹھائیں، یہی امام شافعی (رح) کا قول ہے، اور یہ قرآن کی نص ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا : وہ ہتھیار نہ اٹھائیں، کیونکہ اگر ان پر ہتھیار اٹھانا واجب ہوتا تو ہتھیار نہ اٹھانے کی صورت میں نماز باطل ہوتی۔ ہم کہتے ہیں نماز کی وجہ سے ہتھیار اٹھانا واجب نہیں بلکہ ان پر قوت ونظر کی خاطر ہتھیار اٹھانا واجب ہے۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 494) (یعنی کفار کے سامنے قوت و طاقت کا مظاہرہ ہو) مسئلہ نمبر : (9) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذا سجدوا “۔ اس میں ضمیر اس گروہ کے لیے ہے جو نماز پڑھ رہا ہے پھر وہ لوٹ جائیں، یہ بعض مروی ہیئات پر ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے جب وہ قضا رکعت کا سجدہ کرلیں اور یہ حضرت سہل بن ابی حثمہ کی ہیئت پر ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ نماز کو کبھی سجدہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، یہ نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی طرح ہے۔ اذا دخل احدکم المسجد فلیسجد سجدتین “۔ (2) (صحیح بخاری کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 63) یعنی جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت نماز پڑھے، یہ سنت ہے۔ اور (آیت) ” فلیکونوا “۔ میں ضمیر احتمال رکھتی ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہو جنہوں نے سجدہ کیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس طائفہ کے لیے ہو جو پہلے دشمن کے مقابلہ میں کھڑا تھا۔ مسئلہ نمبر : (10) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ودا لذین کفرو “۔ کافر خواہش کرتے ہیں کہ تم ہتھیار اٹھانے سے غافل ہوجاؤ تاکہ وہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہتھیار اٹھانے کے امر میں حکمت بیان فرمائی اور دوسرے طائفہ میں احتیاط کا ذکر فرمایا جب کہ پہلے کے ساتھ یہ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ دوسرا ہوشیار رہنے اور احتیاط کرنے کا زیادہ مستحق ہے، کیونکہ دشمن اپنا قصد اس وقت سے مؤخر نہیں کرے گا، کیونکہ یہ نماز کا آخر ہے نیز دشمن کہے گا کہ ہتھیار ان بھاری ہوں اور وہ تھک چکے ہوں گے، اس آیت میں اسباب کو اختیار کرنے کی بہت واضح دلیل موجود ہے اور ہر اس چیز کو اختیار کرنے کی دلیل ہے، جو صاحب عقل لوگوں کو نجات دینے والی ہے اور سلامتی تک پہنچانے والی ہے اور دار کرامت تک وصال بخشنے والی ہے۔ (آیت) ” میلۃ واحدۃ “۔ یعنی ایسا حملہ جو جڑ سے اکھیڑ دے اور اس کے ساتھ دوسرے حملہ کی ضرورت بھی نہ رہے۔ مسئلہ نمبر : (11) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر “۔ نماز میں ہتھیار اٹھانے کے وجوب میں علماء کا اختلاف ہے ہم نے پہلے اس کی طرف اشارہ کیا ہے، اگر واجب نہیں تو احتیاط کے لیے مستحب ہے پھر بارش میں ہتھیار رکھنے کی رخصت دی، کیونکہ اس طرح اندرونی ہتھیار گیلے اور بھاری ہوجائیں گے اور لوہے کو زنگ آلود کر دے گی، بعض علماء نے فرمایا : نخلہ وادی کے بطن میں نبی مکرم ﷺ موجود تھے، جب مشرکوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، وہ بارش والا دن تھا، اور نبی مکرم ﷺ ہتھیار اتار کر قضا حاجت کے لیے باہر نکل گئے تھے، کفار نے آپ ﷺ کو صحابہ سے جدا دیکھا تو غورث بن حارث نے آپ کا قصد کیا وہ اپنی تلوار کے ساتھ پہاڑ سے آپ کی طرف اترا اس نے آپ سے کہا : آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ “ دعا کی اللھم اکفنی الغورث بما شئت۔ غورث نے اپنی تلوار کو نبی مکرم ﷺ کی طرف جھکایا تاکہ آپ کو مارے تو وہ فورا پھسل کر منہ کے بل گر پڑا (دلائل النبوۃ للبہیقی، جلد 3، صفحہ 168) واقدی نے ذکر کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے غورث کو سینے پر دھکا دیا جیسا کہ سورة مائدہ میں آئے گا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی نبی کریم ﷺ نے تلوار اٹھائی اور فرمایا : اے غورث، تجھے اب مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا : کوئی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو میرے لیے حق کی گواہی دے تو میں تجھے اب مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا : کوئی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو میرے لیے حق کی گواہی دے تو میں تجھے تیری تلوار دے دوں گا، غورث نے کہا : نہیں لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کے بعد آپ سے نہیں لڑوں گا اور نہ میں آپ کے خلاف کسی دشمن کی مدد کروں گا آپ ﷺ نے اسے تلوار دے دی اس وقت بارش میں ہتھیار اٹھانے کی رخصت میں یہ نازل ہوئی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ایک زخم کی وجہ سے بیمار ہوگئے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے ہتھیار ترک کرنے اور بارش کے عذر کی وجہ سے دشمن کے لیے تیاری چھوڑنے کی صحابہ کرام کو رخصت دی، پھر انہیں حکم دیا اور فرمایا : (آیت) ” وخذوا حذرکم “۔ یعنی ہوشیار رہو تم نے ہتھیار رکھ دیئے ہوں یا نہ رکھے ہوں، یہ تمام حالات میں دشمن سے ہوشیار رہنے اور تیاری کی تاکید پر دلیل ہے، کیونکہ لشکر کو ہمیشہ اسی صورت میں مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ ہوشیاری میں کوتاہی کرتے ہیں، ضحاک نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” خذوا حذرکم “۔ کے تحت فرمایا : یعنی اپنی تلواریں لٹکاؤ، کیونکہ یہ جنگ کی ہیئت ہے۔
Ayahs 4:103–104

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کفار کے پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو تو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا (اور) بڑے حکمت والا ہے

آیت نمبر 103 تا 104۔ اس آیت میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” قضیتم “ اس کا معنی ہے تم نماز خوف سے فارغ ہوجاؤ، یہ دلیل ہے کہ قضا کا لفظ اس فعل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو وقت کے اندر کیا جائے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فاذا قضیتم مناسککم “۔ (بقرۃ : 200) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذکرواللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم “۔ جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ ذکر جس کا حکم دیا گیا ہے وہ نماز خوف کے بعد ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 107 دارالکتب العلمیہ) یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو خواہ کسی حال میں ہو کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا پہلو کے بل لیٹے ہوئے ہو۔ تکبیر “۔ لا الہ الا اللہ “ اور فتح ونصرت کی دعا ہمیشہ کرتے رہو خصوصا جنگ کی حالت میں، اس کی مثال یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون “۔ (الانفال) جب تم ملو کسی گروہ سے تو ثابت قدم رہو اور ذکر کرو اللہ کا کثرت سے تاکہ تم فلاح پاؤ۔ کہا جاتا ہے : (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ “ کا معنی ہے جب تم دار الحرب میں نماز پڑھو تو سواریوں پر نماز پڑھو یا کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو پر لیٹے ہوئے اگر تم قیام کی طاقت نہیں رکھتے، جب خوف ہو یا مرض ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ (بقرہ : 239) اور ایک قوم نے کہا اس آیت کی مثال آل عمران میں ہے، روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسجد میں چلا رہے تھے، آپ نے پوچھا یہ شور کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : (آیت) ” فاذکرواللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم “۔ فرمایا : اس سے مراد فرضی نماز ہے یعنی اگر وہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر نماز پڑھیں اگر بیٹھ کر نما زپڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اپنے پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو، مراد نفس صلاۃ ہے، کیونکہ نماز اللہ کا ذکر ہے، یہ اذکار مفروضہ اور اذکار مسنونہ پر مشتمل ہے پہلا قول اصح ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاذا اطماننتم “۔ جب تم امن میں ہو۔ الطانینۃ کا معنی ہے خوف سے نفس کا سکون حاسل کرنا، (آیت) ” فاقیموا الصلوۃ “ تو نماز کو اس کے ارکان کے ساتھ اور سفر میں اس کی کمال ہئیت کے ساتھ اور حضر میں کمال تعداد کے ساتھ ادا کرو۔ (آیت) ” ان الصلوۃ کا نت علی المؤمنین کتبا موقوتا “۔ یعنی نماز مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔ زید بن اسلم نے کہا : موقاتا، کا معنی ہے تم اسے علیحدہ علیحدہ اپنے وقت میں ادا کرو (1) ۔ اہل لغت کے نزدیک اس کا معنی ہے مخصوص وقت میں فرض کی گئی ہے کہا جاتا ہے : وقتہ فھو موقوت ووقتہ، فھو مؤقت یہ بعینہ زید بن اسلم کا قول ہے یعنی وقت پر کسی کام کو کرنا اور فرمایا : کتبا، مصدر مذکر ہے اسی وجہ سے فرمایا (آیت) ” موقاتا “۔ مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہو، سورة آل عمران میں یہ گزر چکا ہے۔ (آیت) ” فی ابتغآء القوم “۔ دشمن قوم کی تلاش میں، بعض علماء نے کہا : یہ جنگ احد میں نازل ہوئی جب نبی مکرم ﷺ نے مشرکین کا پیچھا کرنے کا حکم دیا، جب کہ مسلمانوں کو زخم لگ چکے تھے، یہ امر تھا کہ اس کے ساتھ نہ نکلے مگر جو جنگ میں تھا جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے بعض نے فرمایا : یہ ہر جہاد کے بارے میں ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان تکونوا تالمون “۔ یعنی تم زخموں کی وجہ سے دکھ محسوس کرتے ہو تو وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں ان زخموں سے جو انہیں پہنچے تھے، لیکن تمہیں فضیلت حاصل ہے تم اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہو وہ اس کی امید نہیں رکھتے، یہ اس لیے کہ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی امید نہیں رکھتا اس آیت کی مثال یہ ہے : (آیت) ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “۔ (آل عمران : 140) یہ آیت پہلے گزر چکی ہے، عبدالرحمن اعرج نے اسے ان تکونوا “ یعنی ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی لان، منصور بن المعتمر نے ” ان تکونوا تسلمون “ پڑھا ہے یعنی تا کے کسرہ کے ساتھ، بصریوں کے نزدیک تا میں کسرہ کے ثقل کی وجہ سے کسرہ کو جائز نہیں دیا، پھر بعض علماء نے فرمایا : الرجاء بمعنی خوف ہے کیونکہ جو کسی چیز کی امید رکھتا ہے اس کے حصول کا اسے یقین نہیں ہوتا، پس جس کی وہ امید رکھتا ہے اس کے فوت ہونے کے خوف سے خالی نہیں ہوتا، فراء اور زجاج نے کہا : الرجاء بمعنی خوف استعمال نہیں ہوتا (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر جلد 1، صفحہ 112) مگر نفی کے ساتھ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مالکم لا ترجون للہ وقارا “۔ (نوح) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت سے خوف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” للذین لایرجون ایام اللہ (الجاثیہ : 14) یعنی وہ خوف نہیں کرتے، قشیری نے کہا : کلام میں نفی کے بغیر بھی خوف کا ذکر بعید نہیں ہوتا، لیکن ان دونوں نے دعوی کیا ہے، یہ نہیں پایا جاتا مگر نفی کے ساتھ۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:105

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغا بازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا۔

آیت نمبر ؛ 105۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اس آیت میں نبی مکرم ﷺ کا شرف تکریم اور تعظیم کا ذکر ہے اور آپ کو احکام شریعت کے تفویض ہونے کا ذکر ہے اور حکم میں سیدھے راستہ پر چلنے کا حکم ہے اور بنی ابیرق کا معاملہ جو آپ کے پاس لایا گیا تھا اس پر تنبیہ کا ذکر ہے۔ بنی ابیرق یہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر اور اسیر بن عروہ ان کے چچا کا بیٹا تھا، انہوں نے رات کے وقت حضرت رفاعہ بن زید کے مکان کو نقب لگائی تھی اور اس کی زرہیں اور کھانے کا سامان چرا لیا تھا، پس اس پر آگاہی ہوگئی تھی، بعض علماء نے کہا : چور صرف بشیر تھا اس کی کنیت ابو طعمہ تھی اس نے زرہ چوری کی تھی، بعض علماء نے فرمایا : زرہ ایک بوری میں تھی جس میں آٹا تھا، آٹا بوری کے سراخ سے گرتا گیا حتی کہ اس کے گھر تک پہنچ گئے، اس کا بھائی کا بیٹا رفاعہ آیا اس کا نام قتادہ بن نعمان تھا اس نے نبی مکرم ﷺ کے پاس ان کی شکایت کی پھر حضرت اسیر بن عروہ نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے ایک اچھے گھرانے کو بدنام کرنے کا قصد کیا ہے، حالانکہ وہ دین دار لوگ ہیں انہوں نے ان مسلمانوں پر بغیر دلیل کے چوری کا الزام لگایا ہے اور چوری میں ملوث کیا ہے نبی مکرم ﷺ ان کی طرف سے جھگڑنے لگے حتی کہ قتادہ اور رفاعہ پر ناراض ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی (آیت) ” لا تجادل عن الذین یختانون انفسھم “۔ (2) (جامع ترمذی کتاب التفسیر جلد 2، صفحہ 128) الایۃ، آپ ان کی طرف سے نہ جھگڑا کریں جنہوں نے اپنے آپ سے خیانت کی، اور یہ ارشاد نازل فرمایا : (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ بریا “۔ جو شخص کمائے کوئی خطا یا گناہ پھر تہمت لگائے اس سے کسی بےگناہ کو۔ وہ شخص جس پر چوری کی انہوں نے تہمت لگائی تھی وہ لبید بن سہل تھا، بعض نے کہا : زید بن سمین تھا، بعض نے کہا : ایک انصاری شخص تھا (1) (تفسیر الماوردی، جلد 1 صفحہ 529) جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابن ابیرق جو چور تھا مکہ کی طرف بھاگ گیا وہ سلافہ بنت سعد بن شہید کے پاس ٹھہرا، حضرت حسان بن ثابت ؓ نے سلافۃ کے بارے میں ایک بیت کہا ہے جس میں وہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وقد انزلتہ بنت سعد واصبحت ینازعھا اس تھا وتنازعہ : ظننتم بان یخفی الذی قد صنعتموا قفینا نبی عدہ الوحی واضعۃ : جب سلافۃ کو حضرت حسان کے یہ شعر پہنچے تو اس نے ابن ابیرق کو کہا : تو نے مجھے حسان کے شعر دیے ہیں اس نے اس کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا پھر وہ خیبر کی طرف بھاگ گیا اور مرتد ہوگیا، پھر اس نے ایک رات ایک گھر کو نقب لگائی تو اس کی دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرتد ہو کر مرگیا۔ (٭) (جامعت ترمذی، حدیث نمبر 2962، ضیا القرآن پبلی کیشنز) اس حدیث کو کثیر الفاظ کے ساتھ ترمذی نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن غریب ہے ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس کو مسند ذکر کیا ہو سوائے محمد بن سلمہ حرافی کے، لیث اور طبری نے مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ پھر بعض نے کہا : زید بن سمین اور لبید بن سہل یہودی تھے، بعض نے کہا : لبید مسلمان تھا، یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے، ابو عمر نے اسے ” کتاب الصحابہ “ میں داخل کیا ہے، یہ چیز ابو عمر کے نزدیک اس کے اسلام پر دلالت کرتی ہے اور بشیر منافق شخص تھا نبی مکرم ﷺ کے اصحاب کی ہجو کرتا تھا اور دوسروں کے اشعار کو اپنی طرف منسوب کرتا تھا اور مسلمان کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یہ خبیث کا شعر ہے اس نے ایک شعر کہا جس میں وہ اسی چیز کا اظہار کرتا ہے : او کلما قال الرجال قصیدۃ نحلت وقالوا ابن الابیرق قالھا (2) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 310) ضحاک ؓ نے کہا : نبی مکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا اور وہ تسلیم کرچکا تھا یہود ہتھیاروں سے مسلح ہو کر آئے انہوں نے اسے پکڑا اور اسے بھگا کرلے گئے پس اس کے بارے میں نازل ہوا (آیت) ” ھانتم ھؤلآء “۔ یعنی یہود۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” بما ارک اللہ “۔ اس کا معنی شرع کے قوانین پر یہ ہے کہ آپ کو اللہ نے دکھایا یا وحی اور نص کے ذریعے یا اس نظر سے جو وحی کے طریقوں پر جاری ہے، یہ قیاس میں اصل ہے یہ دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کوئی رائے قائم فرمائیں تو وہ درست ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ دکھائی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی عصمت کا ضامن ہے، ہم میں سے جو کوئی کسی چیز کے بارے کوئی خیال کرتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان ہوتا ہے تو جو اس نے رائے قائم کی ہوتی ہے اس میں قطعیت نہیں ہوتی اور یہاں آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں، کیونکہ حکم آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا اور اس کلام میں اضمار ہے یعنی (آیت) ” بما ارک اللہ “۔ اور اس میں دوسرا اضمار ہے اور آپ اس علم کے مطابق احکام جاری فرمائیں جو ہم نے آپ کو عطا کیا لوگوں کے استدلال سے دھوکا کھائے بغیر۔ مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اسم فاعل کے معنی میں ہے جیسے تیرا قول ہے جالستہ فانا جلیسہ یہاں فعیل بمعنی مفعول نہیں ہے اس پر دلیل (آیت) ” ولا تجادل “ ہے الخصیم جھگڑا کرنے والا، خصیم کی جمع خصماء ہے، بعض نے فرمایا : خصیم مخاصما اسم فاعل بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کو اہل تہمت کی جمع خصماء ہے، بعض نے فرمایا : خصیم مخاصما اسم فاعل بھی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے رسول مکرم ﷺ کو اہل تہمت کی مدد اور ان کا دفاع کرنے سے منع فرمایا جب کہ ان کے خصم حجت سے بات کررہے ہیں، اس میں دلیل ہے کہ مبطل اور متہم کی طرف سے خصومت میں نیابت جائز نہیں اور کسی کے لیے کسی کی طرف سے جھگڑنا جائز نہیں مگر یہ جاننے کے بعد کہ وہ حق پر ہے پہلے اسی سورت میں یتیموں اور لوگوں کے مال کی حفاظت کے متعلق کلام گزر چکی ہے، اس میں بیان فرمایا کہ کافر کا مال بھی مسلمان کے مال کی طرح محفوظ ہے مگر اس جگہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اسے مباح فرمایا۔ مسئلہ نمبر : (4) علماء نے فرمایا : جب مسلمانوں کے لیے کسی قوم کا نفاق ظاہر ہوجائے تو مسلمانوں میں سے کسی فریق کا اس منافق قوم کے لیے جھگڑنا مناسب نہیں تاکہ اس کی حمایت کریں اور ان کا دفاع کریں، یہ نبی مکرم ﷺ کے دور میں واقعہ پیش آیا تھا اور اس کے بارے میں یہ نازل ہوا (آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور یہ نازل فرمایا : (آیت) ” لا تجادل عن الذین یختانون انفسھم “۔ یہ خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سے ایسا کرتے ہیں آپ کی ذات مراد نہیں ہے اس کی دو وجوہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا جو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے ذکر فرمایا : (آیت) ” ھانتم ھؤلاء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا “۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ ان کے درمیان فیصلہ فرمانے والے تھے اسی وجہ سے آپ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا جاتا تھا آپ کسی دوسرے کی طرف عذر پیش نہیں کرتے تھے، پس یہ دلیل ہے کہ کسی غیر کا قصد کیا گیا ہے۔
Ayah 4:106

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگنا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر : 106۔ اس آیت میں ایک مسئلہ ہے ؛ طبری اس معنی کی طرف گئے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے اپنے اس خیال سے استغفار کریں جو آپ نے بددیانت لوگوں کے لیے جھگڑنے کا کیا تھا۔ (1) (تفسیر طبری جلد 5، صفحہ 309) آپ ﷺ کو استغفار کا حکم دیا، کیونکہ آپ نے ان کا دفاع کرنے اور یہودی کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تھا، یہ ان کا مذہب ہے جو انبیاء پر صغائر کو جائز قرار دیتے ہیں، ابن عطیہ نے کہا : یہ گناہ نہیں ہے، کیونکہ ظاہر پر دفاع کرنے والے تھے اور آپ ان کی برات کا نظریہ رکھتے تھے اور معنی یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے اور باطل کے لیے جھگڑنے والوں کے لیے استغفار کریں اس کا مقام لوگوں میں اس طرح ہے کہ آپ دعوی کرنے والوں کی بات سنیں اور جو دلائل سنیں ان کے مطابق فیصلہ کریں اور آپ گنہگار کے لیے استغفار کریں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 110 دارالکتب العلمیہ) بعض علماء نے فرمایا : یہ تسبیح کے طریقہ پر استغفار کا حکم ہے جیسے کوئی شخص کہتا ہے : استغفر اللہ “ یہ بطور تسبیح ہوتا ہے اس میں گناہ سے توبہ کا ارادہ نہیں ہوتا، بعض نے فرمایا : خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد بنو ابیرق ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” یایھا النبی اتق اللہ “۔ (الاحزاب : 1) اور فرمایا (آیت) ” فان کنت فی شک “۔ (یونس : 94)
Ayah 4:107

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

آیت نمبر : 107۔ یعنی آپ ان کی طرف سے نہ جھگڑیں جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں یہ اسیر بن عروہ کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ پہلے گزرا ہے، المجادلۃ کا معنی مخاصمہ (جھگڑنا) ہے، یہ جدل سے مشتق ہے اس کا معنی کسی چیز کو بٹنا ہے اسی سے ” مجدول الخلق “۔ مضبوط اور لطیف جسم والا ہے اسی سے ہے الاجدل شکرے کو کہا جاتا ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ الجدالۃ سے مشتق ہے اور یہ زمین کی سطح ہے جھگڑنے والوں میں سے ہر ایک اپنے مخالف کو زمین کی سطح پر پھینکنا چاہتا ہے۔ قد ارکب الحالۃ بعد الحالہ واترک العاجز بالجدالہ : منعفر الیست لہ محالہ : الجدالہ سے مراد زمین ہے اسے عربوں کا قول ہے ترکتہ مجدلا یعنی زمین پر ڈالا ہوا چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یحب “۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں فرماتا اور اس کا ذکر بلند نہیں کرتا، (آیت) ” من کان خوانا “۔ خود خیانت کرنے والا ہے، خوانا مبالغہ کا وزن ذکر فرمایا ہے یہ صیغہ اس لیے ذکر فرمایا تاکہ اس خیانت کی بڑائی کا ذکر ہو۔
Ayahs 4:108–109

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا تو ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تما م) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کیساتھ کون جھگڑے گا ؟ اور کون انکا وکیل بنے گا ؟

آیت نمبر 108 تا 109۔ ضحاک ؓ نے کہا : جب اس نے چوری کی تو اس نے اپنے گھر میں ایک گڑھا کھودا اور زرہ کو پرنالے کے نیچے رکھ دیا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر زرہ کی جگہ مخفی نہیں ہے۔ (آیت) ” وھو معھم “۔ یعنی وہ ان کو تاڑنے والا اور ان پر نگہبان ہے۔ بعض نے فرمایا (آیت) ” یستخفون من الناس “ کا معنی ہے وہ لوگوں سے چھپتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “۔ (الرعد : 10) یعنی وہ چھپنے والا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ لوگوں سے حیا کرتے ہیں یہ اس لیے، کیونکہ حیا کرنا چھپنے کا سبب ہے۔ (آیت) ” وھو معھم “ یعنی علم، رویت، اور سمع کے اعتبار سے وہ ان کے ساتھ ہے، اہل سنت کا قول ہے، جہمیۃ، قدریہ اور معتزلہ نے کہا : اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، انہوں نے اس آیت سے اور اس کی مثل دوسری آیات سے استدلال کیا ہے، انہوں نے کہا : جب فرمایا (آیت) ” وھو معھم “ تو ثابت ہوا کہ وہ ہر جگہ ہے، کیونکہ اس نے اس کے ساتھ ہونا ثابت کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے قول سے بلند وبالا ہے، کیونکہ یہ اجسام کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے، کیا آپ نے بشر (بن غیاث) کے مناظرہ کو اللہ تعالیٰ کے قول : (آیت) ” مایکون من نجوی ثلثۃ الا ھو رابعھم “۔ (المجادلہ : 7) میں ملاحظہ نہیں کیا جب اس نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ ہے، تو اس کے مقابل نے اسے کہا : وہ تیری ٹوپی میں، تیری پوستین میں اور تیرے گدھے کے پیٹ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ بلند وبالا ہے اس سے جو وہ کہتے ہیں، یہ وکیع نے حکایت کیا ہے۔ (آیت) ” یبیتون “ کا معنی یقولون ہے، یہ معنی کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، (آیت) ” مالا یرضی “۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کو اپنے اہل طاعت کے لیے پسند نہیں کرتا، (آیت) ” من القول “۔ رائے اور اعتقاد میں سے، جیسے تیرا قول ہے مذہب امام مالک (رح) و امام شافعی (رح)، بعض نے فرمایا : القول “۔ بمعنی مقول ہے کیونکہ نفس قول کا تو، رات کو مشورہ نہیں کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ھانتم ھؤلآء “ اس سے بشیر چور کی قوم ہے جو اسے بھگا کرلے گئے تھے اور اس کی طرف سے جھگڑے تھے، زجاج نے کہا : (آیت) ” ھؤلآء بمعنی الذین ہے (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر جلد 1، صفحہ 115) جدلتھم کا معنی ہے تم جھگڑے۔ (آیت) ” فی الحیوۃ الدنیا، فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ “۔ استفہام ہے اس کا معنی انکار اور توبیخ ہے۔ (آیت) ” ام من یکون علیھم وکیلا “۔ وکیل وہ ہوتا ہے جو امور کی تدبیر کو قائم کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی تدبیر کو قائم کرنے والا ہے معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کے ساتھ گرفت میں لے لے گا اور انہیں دوزخ کی آگ میں داخل کردے گا تو کوئی ان کے معاملہ کو قائم کرنے والا نہ ہوگا۔
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا (اور) مہربان پائے گا

آیت نمبر : 110۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بنی ابیرق پر اس آیت کے ساتھ توبہ پیش فرمائی۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا “۔ یعنی جو چوری کر بیٹھے (آیت) ” او یظلم نفسہ “۔ یا شرک کر بیٹھے۔ (آیت) ” ثم یستغفر اللہ “ پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے، زبان سے استغفار بغیر توبہ کے نفع مند نہیں، ہم نے یہ مسئلہ سورة آل عمران میں بیان کردیا ہے، ضحاک ؓ نے کہا : یہ آیت وحشی کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت حمزہ کا قاتل تھا اس نے اس نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا اور حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میں شرمندہ ہوں، کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ “۔ الا یہ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت سے مراد عموم ہے اور تمام مخلوق کو شامل ہے، سفیان نے ابو اسحاق سے انہوں نے اسود اور علقمہ سے روایت کی ہے ان دونوں حضرات نے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : جس نے سورة نساء کی یہ دو آیتیں پڑھیں پھر استغفار کیا تو اس کی بخشش کردی جائے گی۔ (1) (آیت) ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (2) (آیت) ” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جآءوک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدواللہ توابارحیما “۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں جب رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ مجھے اس کے ساتھ نفع دیتا تھا جتنا وہ چاہتا تھا اور جب میں کسی دوسرے سے کوئی بات سنتا تھا تو میں اس سے حلف لیتا تھا اور مجھے حضرت ابوبکر ؓ نے بیان کیا اور حضرت ابوبکر ؓ نے سچ کہا، انہوں نے فرمایا : جس شخص سے کوئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو اسے بخش دیا جائے گا پھر یہ آیت تلاوت کی (1) (سنن ابی داؤد باب الاستغفار، حدیث نمبر 1300، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 1384، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (آیت) ” ومن یعمل سوءا “۔ الخ۔
Ayahs 4:111–112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا ہے (اور) حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو متہم کر دے تو اس بہتان اور صریح گناہ کو بوجھ اپنے سر پر رکھا

آیت نمبر : 111 تا 112۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما “۔ بعض علماء نے فرمایا : (آیت) ” خطیئۃ “۔ اور اثما دونوں کا ایک معنی ہے۔ لفظ کے اختلاف کی وجہ سے تاکیدا مکرر فرمایا، طبری نے کہا : الخطئۃ اور الاثم کے درمیان فرق ہے، خطیئۃ کبھی ارادۃ ہوتی ہے اور کبھی بغیر ارادہ کے ہوتی ہے اور اثم عمدا ہوتا ہے۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 319) بعض نے فرمایا : الخطیئۃ وہ ہوتی ہے جس میں ارادہ نہ ہو جیسے قتل خطا۔ بعض نے فرمایا : الخطیئۃ چھوٹا گناہ ہوتا ہے اور الاثم بڑا گناہ ہوتا ہے، اس آیت کا لفظ عام ہے اس کے تحت تمام لوگ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ثم یرم بہ بریئا “۔ البری کا اسم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، بہ کی ضمیر الاثم یا الخطیئۃ کے لیے، کیونکہ اس کا معنی بھی الاثم ہے یا دونوں کے لیے ہے، بعض نے فرمایا : یہ الکسب کی طرف راجع ہے، (آیت) ” فقد احتمل بھتانا و اثما مبینا “۔ یہ تشبیہ ہے، کیونکہ گناہ بوجھ اور ثقل ہوتے ہیں یہ محمولات کی طرح ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم “۔ (العنکبوت : 13) البھتان، البھت سے ہے، اس کا مطلب ہے تو اپنے بھائی پر کوئی تہمت لگائے جب کہ وہ اس سے بری ہو۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے “۔ ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :” اپنے بھائی کا ایسی چیز کے ساتھ ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہے “۔ جو تو کہتا ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ بات نہ ہو اور تو اسے کہے تو وہ بہتان ہے “ (1) صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ والادب، جلد 2، صفحہ 322) یہ نص ہے، بری کو تہمت لگانا یہ بہتان ہے کہا جاتا ہے، بھتہ، بھتاوبھتانا جب کوئی کسی کے بارے میں ایسی بات بیان کرے جب کہ اس نے کی نہ ہو، وہ شخص بہات ہوگا اور جس کے لیے بات کی گئی ہو مبہوت ہے، کہا جاتا ہے : بھت الرجل جب کوئی حیران و ششدر ہوجائے، اور بھت (عین کلمہ کے ضمہ کے ساتھ) اس کی مثل ہے اور ان دونوں سے افصح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فبھت الذی کفر “۔ (بقرہ : 258) کیونکہ کہا جاتا ہے : رجل مبہوت اور باھت اور بھیت نہیں کہا جاتا، یہ کسائی کا قول ہے۔