Ayah 4:123آیت نمبر 123۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ ابو جعفر مدنی نے (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ یعنی دونوں جگہ یا کی تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ اس کے نزول کے بارے میں بہتر قول وہ ہے جو حکم بن ابان نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہودونصاری نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو ہم میں سے ہوگا قریش نے کہا : ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ قتادہ اور سدی نے کہا : مومنین اور اہل کتاب نے باہم فخر کیا، اہل کتاب نے کہا : ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور ہم اللہ کے تم سے زیادہ حقدار ہیں مومنون نے کہا ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں اور ہماری کتاب تمام کتب پر غالب ہے تو یہ آیت نازل ہوئی (1) (اسباب النزول، جلد 1، صفحہ 199، قدیمی کتب خانہ کراچی)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ یہاں سوء سیمراد شرک ہے، حسن نے کہا : یہ آیت کافر کے بارے میں ہے اور انہوں نے ” ھل یجازی الا الکفور “۔ پڑھا ہے اور ان سے یہ بھی مروی ہے (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ فرمایا یہ اس کے لیے ہے جس کی رسوائی کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جس کی عزت واکرام کا ارادہ فرمایا اس کے لیے رسوائی نہیں، اللہ نے ایک قوم کا ذکر کیا (2) (تفسیر الحسن البصری جلد 2، صفحہ 370۔ 369) اور فرمایا : (آیت) ” اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا ونتجاوز عن سیاتھم فی اصحب الجنۃ وعدالصدق الذی کانوا یوعدون “۔ (الاحقاف) یہی وہ (خوش نصیب) ہیں قبول کرتے ہیں ہم جن کے بہترین اعمال کو اور درگزر کرتے ہیں ہم جن کی برائیوں سے، یہ جنتیوں میں سے ہوں گے یہ (اللہ کا) سچا وعدہ ہے جو (اہل ایمان سے) کیا گیا ہے۔
ضحاک ؓ نے کہا : اس سے مرادیہود، نصاری مجوس اور کفار عرب ہیں (3) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 340)
جمہور علماء نے کہا : آیت کا لفظ عام ہے کافر، مومن ہر ایک کو اس کے برے عمل کی جزا ملے گی، کافر کی جزا آگ ہے، کیونکہ اس کا کفر اسے ہلاک کرتا ہے اور مومن کو اس کی جزا دنیا کی تکالیف کی صورت میں دی جاتی ہے (4) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 114 دارالکتب العلمیہ) جس طرح کہ مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : جب (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ کا ارشاد ہوا تو مسلمانوں کو بہت زیادہ پریشانی ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم صحت کے قریب قریب اعمال کرو، اور درست عمل کرو، ہر کلیف جو مسلمان کو پہنچتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ ہوتی ہے حتی کہ چھوٹی سی مصیبت جو اسے پہنچتی ہے اور کانٹا جو اسے چبھتا ہے “ (5) (صحیح مسلم، البروالصلہ والاداب جلد 2، صفحہ 319)
(یہ سب چیزیں کفارہ ہوتی ہیں) حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں فصل نمبر 95 میں تخریج کیا ہے کہ ہمیں ابراہیم بن مستمر الہذلی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبدالرحمن بن سفیم بن حیان ابو زید نے بیان فرمایا : میں نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا : میں حضرت ابن عمر کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف چلا تو حضرت عمر ؓ نے حضرت نافع ؓ سے کہا : تو مجھے مصلوب (جس کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا) یعنی ابن زبیر کے پاس سے نہ گزار یا فرمایا : اچانک آدمی رات کے وقت سولی کی لکڑی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے محل سے لگی، تو وہ بیٹھ گئے اپنی آنکھوں کو ملا پھر کہا : اے ابو خبیب اللہ تجھ پر رحم کرے تو تھا، تو تھا، میں نے تیرے باپ زبیر کو یہ کہتے سنا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ، فی الدنیا اوفی الاخرۃ (جو برائی کرے گا اسے اس کی جزا دنیا میں ملے گی یا آخرت میں ملے گی) اگر تو یہ تیرا قتل تیرے اس فعل کے بدلے میں ہے تو یہ اس کی جزا ہے (1) (نوادرالاصول، جلد 1، صفحہ 132، فصل نمبر 95)
ابو عبداللہ ترمذی نے کہا : جو قرآن میں ہے وہ مجمل ہے فرمایا (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ اس سے نیک، فاجر، دشمن، دوست اور مومن، کافر سب داخل ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں دو جگہوں کے درمیان فرق کیا فرمایا : یجزبہ فی الدنیا اوفی الاخرۃ یعنی اس پر دونوں جگہ جزا جمع نہیں ہوگی، آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : اگر یہ تیرا قتل، تیرے فعل کے بدلے میں ہے تو یہ جزا ہے، یعنی اس نے حرم میں قتال کیا، اس میں ایک عظیم واقعہ صادر کیا حتی کہ بیت اللہ کو جلا دیا گیا اور منجنیق کے ذریعے حجر اسود کو مارا گیا حتی کہ وہ پھٹ گیا تھا پھر چاندی کے ساتھ اس کو جوڑا گیا تھا، وہ ابھی تک اسی حالت میں ہے عبداللہ نے بیت اللہ کے رونے کی آواز سنی تھی آہ آہ، جب حضرت ابن عمر ؓ نے عبداللہ کا فعل دیکھا پھر اسے سولی پر مقتول دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کا قول ذکر کیا (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا : اگر یہ قتل اس فعل کے بدلے ہے تو گویا اس فعل کی جزا یہ قتل اور پھانسی دی گئی ہے اللہ تعالیٰ ابن زبیر پر رحم فرمائے، رسول اللہ ﷺ نے دونوں فریقوں کے درمیان دوسری حدیث میں تفریق کی ہے۔ ہمیں میرے باپ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں ابو نعیم نے بتایا فرمایا ہمیں محمد بن مسلم نے بتایا انہیں یزید بن عبداللہ بن اسامۃ بن الہاد لیثی سے روایت کیا ہے فرمایا : جب (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ کا ارشاد نازل ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : یہ تو ہم میں سے کسی کو باقی چھورنے والی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! مومن کو اس کی جزا دنیا میں دی جائے گی اور کافر کو اس کی جزا قیامت کے روز دی جائے گی، ہمیں جارود نے بتایا فرمایا ہمیں وکیع، ابو معاویہ اور عبدہ نے بتایا انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی سے روایت کیا فرمایا : جب (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ کا ارشاد نازل ہوا تو حضرت ابوبکر ؓ نے کہا : اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کردیا ہے، کیا تو تھکتا نہیں ہے ؟ کیا تو غمگین نہیں ہوتا ہے ؟ کیا تجھے محنت ومشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کی : کیوں نہیں فرمایا : اس کے ذریعے تمہیں جزا دی جاتی ہے قرآن میں (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ میں اجمال تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر بیان کردی۔
ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی مکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا : ’ اے ابوبکر ! تجھے اور مومنین کی برائی کی جزا دنیا میں دے دی جاتی ہے حتی کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے ملو گے تو تمہارا کوئی گناہ نہ ہوگا۔ رہے دوسرے لوگ (کافر) ان کے لیے وہ جزا کو جمع کرے گا حتی کہ وہ قیامت کے روز اس کی جزا دئیے جائیں گے “ (1) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 129) امام ترمذی (رح) نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں مقال ہے۔ موسیٰ بن عبیدہ کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے یحییٰ بن سعید قطان اور امام احمد بن حنبل نے ضعیف قرار دیا ہے اور مولی بن سباع مجہول ہے۔ یہ حدیث ایک اور طریق سے حضرت ابوبکر ؓ سے مروی ہے لیکن اس کی صحیح سند نہیں ہے اور یہ عائشہ ؓ سے بھی مروی ہے۔
میں کہتا ہوں : اس حدیث کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے نقل کیا ہے فرمایا ہمیں سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے علی بن زید سے روایت کیا، انہوں نے اپنی ماں سے روایت کیا کہ اس نے حضرت عائشہ ؓ سے اس آیت کے بارے پوچھا : (آیت) ” ان تبدوا ما فی انفسکم اوتخفوہ “۔ (بقرہ : 284) اور اس آیت کے متعلق پوچھا : (آیت) ” من یعمل سوءا یجزبہ “۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا : جب میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ہے مجھ سے کسی نے اس کے متعلق نہیں پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا :” اے عائشہ ! انسان کو جو تکلیف پہنچتی ہے مثلا بخار، مصیبت، کانٹا چبھتا ہے حتی کہ وہ سامان جو انسان اپنی آستین میں رکھتا ہے پھر وہ اسے تلاش کرتے ہوئے پریشان ہوجاتا ہے پھر وہ اسے اپنے صندوق میں پا لیتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں کو بدل دیتا ہے حتی کہ مومن گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح سونے کی پتری بھٹی سے صاف و شفاف نکلتی ہے “۔ (2) (تفسیر درمنثور، جلد 2، صفحہ 402، جامع ترمذی، حدیث نمبر 2917، ضیا القرآن پبلی کیشنز) لیس کا اسم ان تمام اقوال میں مضمر ہے تقدیر اس طرح ہے لیس الکائن من امورکم ماتتمنونہ بل من یعمل سوء یجزبہ، بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ثواب تمہاری امیدوں کے ساتھ نہیں ہے، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے : (آیت) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلھم جنت۔ ‘
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ونصیرا یعنی مشرکین کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انا لننصررسلنا ولذین (غافر) بیشک ہم (اب بھی) مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور مومنین کی اس دنیوی زندگی میں اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جس دن گواہ (گواہی) دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو برائی کرے گا اسے جزا ملے گی مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے، ایک جماعت کی قرات ” ولا یجدلہ “ ہے۔ یجز پر عطف کی بنا پر جزم دی گئی ہے۔
ابن بکار نے ابن عامر سے روایت کیا ہے (آیت) ” رفع کے ساتھ نئے کلام کے اعتبار سے ہے، اگر آیت کو کافر پر محمول کیا جائے توکل اس کے لیے ولی ونصیر نہ ہوگا، اگر مومن پر محمول کی جائے تو اللہ کے علاوہ اس کا کوئی مددگار و نصیر نہ ہوگا۔
Ayah 4:124آیت نمبر : 124۔
ایمان کو شرط قرار دیا، کیونکہ مشرکین کعبہ کی خدمت، حاجیوں کو کھانا کھلانے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے پر اتراتے تھے اور اہل کتاب اپنی سبقت اور اپنے قول (آیت) ” نحن ابنؤااللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) کے ساتھ ڈینگیں مارتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ بغیر ایمان کے اچھے اعمال قبول نہیں۔ (آیت) ” یدخلون الجنۃ “ کو ابوعمرو اور ابن کثیر نے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے باقی لوگوں نے معروف کا صیغہ پڑھا ہے یعنی وہ اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے، نقیر کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس سے مراد وہ نکتہ ہے جو گٹھلی کی پیٹھ میں ہوتا ہے۔
Ayah 4:125آیت نمبر : 125۔
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو تمام ادیان پر فضیلت دی ہے۔ (آیت) ” اسلم وجھہ للہ “ اس کا معنی ہے اس نے اپنے دین کو اللہ کے لیے خاص کیا اور عبادت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں جھکے اور متوجہ ہوئے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد حضرت ابوبکر ؓ ہیں دینا کو نصب بیان کے اعتبار سے ہے (آیت) ” وھو محسن “ مبتدا خبر ہیں اور حال ہے یعنی وہ موحد ہو۔ اس میں اہل کتاب داخل نہیں، کیونکہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کو ترک کیا۔ الملۃ سے مراد دین ہے۔ الحنیف، سے مراد مسلم ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “۔ ثعلب نے کہا : خلیل کو خلیل اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ محبوب کی محبت اس کے دل میں راسخ ہوجاتی ہے، اور اس میں کوئی خلل نہیں چھوتی مگر اسے بھر دیتی ہے، شاعر نے کہا :
تخللت مسلک الروح منی وبہ سمی الخلیل خلیلا :
اے محبوب ! جہاں جہاں میری روح کا گزر ہے وہاں تیرا عشق سمایا ہوا ہے اس وجہ سے خلیل کو خلیل کہا جاتا ہے۔
خلیل فعیل کا وزن ہے بمعنی فاعل ہے جیسے علیم بمعنی عالم ہے، بعض فرمایا : یہ معنی مفعول ہے جیسے حبیب بمعنی محبوب ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے تھے اور اللہ کے محبوب بھی تھے، بعض نے فرمایا : الخلیل اختصاص کے معنی سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اس نے ابراہیم کو ان کے دور میں رسالت کے لیے خاص فرمایا نحاس نے اس قول کو اختیار کیا اور فرمایا : اس پر دلیل نبی کریم ﷺ کا قول ہے، وقد اتخذ اللہ صاحبکم خلیلا (1) (صحیح مسلم فضائل الصحابہ، جلد 2 صفحہ 273)
یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھی کو خلیل بنایا، اس سے مراد آپ ﷺ کی اپنی ذات ہے اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” لو کنت متخذا خلیلا لا تخذت ابابکر خلیلا “۔ (1) (صحیح مسلم، فضائل صحابہ، فضائل ابی بکر الصدیق، جلد 2، صفحہ 273، صحیح بخاری، حدیث نمبر 3381، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
یعنی اگر میں کسی کو کسی چیز کے ساتھ مختص کرتا تو ابوبکر کو کرتا، اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے بعض صحابہ کو دین کی کسی چیز کے ساتھ خاص فرمایا تھا۔
بعض علماء نے فرمایا : الخلیل کا معنی محتاج ہے۔ ابراہیم خلیل اللہ کا معنی ہوگا وہ اللہ کی بارگاہ کے محتاج اور فقیر ہیں گویا وہ جس کو حاجت ہو، زہیر نے ہرم بن سنان کی تعریف میں کہا :
ان اتاہ خلیل یوم مسغبۃ یقول لا غائب مالی ولا حرم :
یعنی اگر بھوک کے دن کوئی محتاج اس کے پاس آتا ہے تو وہ کہتا ہے، نہ میرا مال غائب ہے اور نہ کوئی ممانعت ہے۔
زجاج نے کہا خلیل وہ ہوتا ہے جس کی محبت میں خلل نہ ہو، یہ جائز ہے کہ ان کو اللہ کا خلیل کہا گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے محبت کی تھی اور اسے چن لیا تھا اور اس سے مکمل محبت کی تھی، اور اس اعتبار سے خلیل اللہ کہنا بھی جائز ہے کہ وہ اللہ کے فقیر تھے کیونکہ انہوں نے فقر وفاقہ اختیار نہیں کیا تھا مگر اللہ کے لیے، وہ اس میں مخلص تھے۔ الاختلال کا معنی فقر ہے روایت ہے کہ جب انہیں منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا گیا اور وہ ہوا میں تھے تو جبریل امین ان کے پاس آئے اور کہا کیا تجھے کوئی حاجت ہے ؟ ابراہیم نے کہا : تجھ سے تو نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خلت، اللہ تعالیٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدد کرنا ہے، بعض نے فرمایا خلیل کو خلیل اس لیے کہا گیا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے گئے تھے جو مصر میں تھا بعض نے کہا : وہ موصل میں تھا آپ اس لیے اس کے پاس گئے تھے تاکہ اس کے پاس سے کھانا لے آئیں آپ نے اپنے ساتھی کو نہ پایا، آپ نے اپنی زنبیل میں ریت بھر لی اور گھر کی طرف چل پڑے، آپ نے وہ زنبیل رکھ دی اور خود سو گئے، گھر والوں نے اسے کھولا تو انہوں نے اس میں آٹا پایا اس نے اسے روٹی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے تیار کی، جب کھانا پیش کیا تو آپ نے پوچھا : یہ تمہیں کہاں سے ملا ہے، گھر والوں نے کہا : یہ وہی ہے جو تم اپنے مصری دوست سے لائے ہو، آپ نے فرمایا : یہ میرے خلیل یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔
بعض نے فرمایا : آپ نے کفار کے روساء کی مہمان نوازی کی اور انہیں تحائف دیئے اور ان سے حسن سلوک کیا، روساء نے پوچھا تمہاری کیا حاجت ہے ؟ آپ نے فرمایا : میری حاجت یہ ہے کہ تم سجدہ کرو، انہوں نے سجدہ کیا، تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی : اے اللہ ! میرے لیے جو ممکن تھا وہ میں نے کردیا اب تو وہ کر جو تیری شان کے لائق ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق دی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنا لیا، کہا جاتا ہے جب ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انسانوں کی شکل میں ؤئے اور آپ انکے لیے بھونا ہوا موٹا بچھڑا لائے تو انہوں نے اسے نہ کھایا اور کہا ؛ ہم بغیر قیمت کے کوئی چیز نہیں کھاتے، آپ نے انہیں فرمایا : اس کی قیمت دو اور کھاؤ، انہوں نے پوچھا : اس کی قیمت کتنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی ابتدا میں تم بسم اللہ کہو اور اس کے آخر میں الحمد للہ کہو فرشتوں نے آپس میں کہا : اللہ تعالیٰ کو اس کو اپنا خلیل بنانا چاہیے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنا دیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، کیونکہ وہ کھانا کھلاتے تھے اور اسلام پھیلاتے تھے اور رات کو نماز پڑھتے تھے جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوتے تھے “ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرئیل ! اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل کیوں بنایا ؟ اے پیارے محمد ! ﷺ کھانا کھلانے کی وجہ سے (1) (شعب الا ایمان، باب اکرام الضیف، جلد 7 صفحہ 98)
بعض نے فرمایا : خلیل وہ ہوتا ہے جو اللہ کے لیے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کے لیے دشمنی رکھتا ہے، دو آدمیوں کے درمیان خلت کا مطلب دوستی ہے یہ تخلل الاسرار بین المتخالین “ سے مشتق ہے، بعض نے فرمایا : یہ الخلۃ سے ہے دونوں دوستوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی حاجت پوری کرتا ہے۔ مصنف ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : الرجل علی خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل “۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 308)
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
من لم تکن فی اللہ خلتہ فخلیلۃ منہ علی خطر :
جس کی دوستی اللہ کی رضا کے لیے نہیں اس کا دوست اس سے خطرے میں ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
اذا ماکنت متخذا خلیلا فلا تثقن بکل اخی اخاء :
فان خیرت بینھم فالصق باھل العقل منھم والحیاء :
فان العقل لیس لہ اذا ما تفاضلت الفضائل من کفائ :
جب تو کسی کو خلیل بنانے والا ہو تو ہر بھائی چارہ رکھنے والے پر وثوق نہ کر، جب تو ان میں سے چناؤ کرے تو ان میں اہل عقل اور حیاداروں کا چناؤ کر، کیونکہ عقل کا کوئی ہم پلہ نہیں جب فضائل کا مقابلہ ہوتا ہے۔
حضرت حسان ؓ نے کہا تھا :
اخلاء الرجل ھم کثیر ولکن فی البلاء ھم قلیل :
فلا تغررک خلۃ من تواخی فمالک عند نائبۃ خلیل :
وکل اخ یقول انا وفی ولکن لیس یفعل ما یقول :
سوی کل لہ حسب ودین فذاک لما یقول ھو المفعول :
مردوں کے دوست بہت ہوتے ہیں لیکن مصیبت میں وہ کم ہوتے ہیں۔ جس کو تو بھائی بنائے ہوئے ہے اس کی دوستی تجھے دھوکے میں نہ ڈالے، تیرا مال مصیبت کے وقت خلیل ہوتا ہے، ہر بھائی کہتا ہے کہ میں وفادار ہوں لیکن جو وہ کہتا ہے کرتا نہیں ہے، سوائے اس دوست کے جو حسب والا اور دین دار ہے وہ جو کچھ کہتا ہے اسے کرنے والا ہوتا ہے۔
Ayah 4:126آیت نمبر : 126۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ ملک اور ایجاد کے اعتبار سے سب کچھ اللہ کے لیے ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اس کے حسن طاعت کی وجہ سے نہ اسے اس کی دوستی کی حاجت تھی، نہ کثرت کے لیے اور نہ مدد کے لیے، اسے اس کی ضرورت ہی کیا ہے جب زمین و آسمانوں کا سب کچھ اس کا ہے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے امتثال امر پر عزت وشرف بخشا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکان اللہ بکل شیء محیطا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کا اپنے علم سے احاطہ کیا ہوا ہے۔
Ayah 4:127آیت نمبر 127۔
یہ آیت کریمہ صحابہ کرام کے عورتوں کے متعلق سوال اور میراث میں کے احکام وغیرہ کے سبب سے نازل ہوئی، پس اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے یعنی جس کے متعلق تم نے پوچھا اس کا تمہارے لیے حکم بیان کرتا ہے، یہ آیت ان احکام کی طرف راجع ہے جو اس سورت کے آغاز میں عورتوں کے امر کے متعلق گزر چکے ہیں اور ان کے لیے کچھ احکام باقی تھے جن کو ابھی تک لوگوں نے سمجھا نہیں تھا تو انہوں نے سوال کیا انہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے۔ اشہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی مکرم ﷺ سے سوال کیا جاتا تھا تو آپ جواب نہیں دیتے تھے حتی کہ وحی نازل ہوتی تھی اور وہ کتاب میں سے : (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء، قل اللہ یفتیکم فیھن۔۔۔۔ (آیت) ” یسئلونک عن الیتمی۔۔۔۔۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔۔۔ (آیت) ” یسئلونک عن الجبال۔۔۔۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی جلد 1، صفحہ 503)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما یتلی علیکم “۔ ما محل رفع میں ہے اس کا عطف اسم جلالت پر ہے معنی یہ ہے کہ قرآن تمہیں ان کے بارے فتوی دیتا ہے اور وہ یہ ہے۔ (آیت) ” فانکحو ما طاب لکم مان النسآئ “۔ یہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وترغبون ان تنکحوھن “۔ یعنی وہ ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتے پھر عن کو حذف کیا گیا، اور بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے یرغبون فی ان تنکحوھن، یعنی وہ ان نکاح کرنے کی رغبت رکھتے تھے، پھر فی کو حذف کیا گیا، سعید بن جبیر اور مجاہد (رح) نے کہا : اس یتیم بچی سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے تھے جب ان کا مال زیادہ ہوتا تھا (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 348)
حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے : وترغبون ان تنکحوھن رغبۃ احدکم عن یتبۃ التی تکون فی حجرہ حتی تکون قلیلۃ المال والجمال : (2) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 348)
یعنی جس کا مال اور جمال کم ہوتا تو اس سے نکاح میں رغبت نہیں رکھتے تھے۔ سورة کے آغاز میں یہ گزر چکا ہے۔
Ayah 4:128آیت نمبر : 128۔
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان امراۃ “ فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے، مابعد فعل اس کی تفسیر کر رہا ہے۔ خافت بمعنی توقعت یعنی اسے توقع ہو اور جنہوں نے خافت بمعنی تیقنت کہا ہے وہ غلط ہے، زجاج نے کہا : وان امراۃ خافت من بعلھا دوام النشور۔ یعنی عورت کو اگر اپنے خاوند سے ہمیشہ زیادتی کا خوف ہے، نحاس نے کہا : نشوز اور اعراض کے درمیان فرق نہیں۔ یہ نشوز کا مطلب دور ہونا اور اعراض کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بات نہ کرے اور نہ اس سے محبت کرے، یہ آیت حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ کے سبب نازل ہوئی۔
ترمذی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ روایت کیا ہے فرمایا : حضرت سودہ کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اسے طلاق دے دیں گے تو حضرت سودہ نے عرض کی (حضور) آپ مجھے طلاق نہ دیں اور مجھے اپنے پاس رکھیں اور میری باری آپ عائشہ کے لیے کردیں تو آپ ﷺ نے ایسا کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (3) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 129) (آیت) ” فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا والصلح خیر “ جس پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ امام ترمذی (رح) نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابن عیینہ نے زہیر سے انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ حضرت رافع بن خدیج ؓ کی بیوی خولہ بنت محمد بنت مسلمۃ تھی حضرت رافع ؓ نے اسے ناپسند کیا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے تو اس نے اسے طلاق دینے کا ارادہ کیا تو خولہ نے کہا : تو مجھے طلاق نہ دے اور میرے لیے جو چاہے باری مقرر کر، پس اس کے ساتھ سنت جاری ہوئی اور یہ ارشاد نازل ہوا : (آیت) ” وان امراۃ “ الخ۔
بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ” وان المراۃ خافت من بعلھا نشوزا او اعراضا ‘، کے متعلق آپ نے فرمایا : ایک شخص کے پاس ایک عورت ہوتی تھی جس سے وہ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا وہ اسے جدا کرنے کا ارادہ کرتا تھا تو وہ اسے کہتی : جو تو میرے متعلق فیصلہ کرے وہ مجھے منظور ہے (1) (صحیح بخاری کتاب المظالم، جلد 1، صفحہ 331)
تو یہ آیت نازل ہوئی، عام قراء کی قرات : ان یصالحا ہے اکثر کو فیوں نے ان یصلحا پڑھا ہے۔ جحدری اور عثمان البتی نے ان یصلحا پڑھا ہے اس کو معنی یصطلحا ہے ط کو ص میں ادغام کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اس آیت سے ان جہلا کا رد بھی سمجھ آتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ مرد جب عورت کی جوانی سے لطف اٹھا لے اور وہ بوڑھی ہوجائے تو اسے اس کے بدلے دوسری عورت تبدیل کرنا مناسب نہیں، ابن ابی مالی کہ نے کہا : حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ جب بوڑھی ہوگئی تو نبی مکرم ﷺ نے اسے طلاق دینے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا، اس نے آپ سے عرض کی : آپ مجھے اپنے پاس رکھیں اور میری باری عائشہ ؓ کو دے دیں، آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو ان کا وصال ہوا تو آپ کی ازواج میں سے تھیں۔ (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 504)
میں کہتا ہوں : محمد بن مسلمۃ کی بیٹی نے بھی ایسا ہی کیا۔ امام مالک (رح) نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے محمد بن مسلمۃ کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہی حتی کہ بوڑھی ہوگئی تو انہوں نے اس پر نوجوان لڑکی سے نکاح کرلیا اور نوجوان لڑکی کو اس پر ترجیح دی اور محمد بن مسلمہ کی بیٹی نے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے اسے ایک طلاق دے دی پھر اسے چھوڑ دیا حتی کہ جب وہ حیض سے پاک ہوئی تو اس سے رجوع کرلیا پھر نوجوان لڑکی کو اس پر ترجیح دی، پھر اس نے طلاق کا مطالبہ کیا تو پھر ایک طلاق دے دی اور پھر رجوع کرلیا، پھر نوجوان لڑکی کو اس پر ترجیح دی پھر اس نے طلاق کا مطالبہ کیا، حضرت رافع نے کہا : اب تیری ایک طلاق باقی ہے اگر تو چاہے تو اس ترجیح کے باوجود ٹھہری رہے اگر تو چاہے تو میں تجھے جدا کردوں، اس عورت نے کہا ؛ میں اس ترجیح کے باوجود ٹھہری رہوں گی، پس حضرت رافع نے اسے اپنے پاس ٹھہرائے رکھا، حضرت رافع ؓ نے اپنے اوپر کوئی گناہ نہ دیکھا جب وہ اس ترجیح کے باوجود ان کے پاس ٹھہری رہی، اس کو معمر نے زہری سے ان الفاظ اور معانی کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ زائد ذکر کیا ہے کہ جو ہم تک خبر پہنچی ہے یہ وہ صلح ہے جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” وان المراۃ خافت من بعلھا نشوزا او اعراضا، فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا والصلح خیر “۔
ابو عمر بن عبدالبر، نے کہا : فاثر الثابۃ علیھا (رافع نے نوجوان لڑکی کو اس بوڑھی پر ترجیح دی) اس سے مراد نوجوان عورت کی طرف نفس کا میلان اور اس کے لیے نشاط ہے یہ مراد نہیں کہ حضرت رافع ؓ نے کھانے، پینے اور رات گزارنے میں اس پر ترجیح دی تھی، کیونکہ حضرت رافع ؓ جیسے عظیم صحابی کے متعلق ایسا گمان نہیں کیا جاتا، ابوبکر بن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے فرمایا ہمیں ابو الاحوص نے بتایا، انہوں نے سماک بن حرب سے روایت کیا ہے، انہوں نے خالد بن عرعرہ سے روایت کیا ہے انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس آیت کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا : یہ وہ عورت تھی جو کسی مرد کے نکاح میں ہوتی پھر وہ اس کی بدصورتی یا فقر یا کبر یابدخلق ہونے کی وجہ سے اس سے آنکھیں پھیر لیتا اور وہ عورت اس سے جدائی کو پسند نہ کرتی، پھر اگر وہ اپنے مہر میں سے کچھ اس کے لیے معاف کردیتی تو اس کے لیے وہ مال لینا حلال ہوتا اور اگر وہ اپنے ایام میں سے کچھ اس کے لیے کردیتی تو کوئی حرج نہ ہوتا۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 355)
ضحاک نے کہا : وہ اپنے حق سے کچھ کم کر دے تو کوئی حرج نہیں جب وہ کسی نوجوان اور خوبصورت عورت سے نکاح کرے، مقاتل بن حیان نے کہا : وہ مرد جس کی بیوی بڑی عمر کی ہوتی پھر وہ اس پر ایک نوجوان عورت سے نکاح کرلیتا تو وہ اپنی بڑی بیوی کو کہتا : میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا اس شرط پر کہ میں اس نوجوان لڑکی کے لیے تیری نسبت زیادہ دن مقرر کروں گا وہ اس صلح پر راضی ہوجاتی، اگر وہ انکار کرتی اور راضی نہ ہوتی تو باری میں عدل کرنا مرد پر لازم ہے۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 167۔ 166)
مسئلہ نمبر : (3) ہمارے علماء نے فرمایا : ایسے حالات میں صلح کی تمام صورتیں جائز ہیں مثلا مرد عورت کو کچھ مال دے اس شرط پر کہ وہ صبر سے رہے یا عورت کچھ دے اس شرط پر کہ خاوند کے اس پر ترجیح دینے کے باوجود وہ اس کے پاس ٹھہری رہے یا وہ ترجیح دے اور عصمت کے ساتھ اسے روکے رکھے یا صبر پر یا ترجیح پر بغیر کچھ عطا کیے صلح واقع ہوجائے، یہ سب صورتیں مباح ہیں (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 119 دارالکتب العلمیہ)
اور یہ بھی جائز ہے کہ کوئی عورت اپنی سوکن سے کسی چیز کے بدلے اپنی باری کے متعلق صلح کرلے جو وہ اسے عطا کرے گی جیسا کہ نبی مکرم ﷺ کی ازواج مطہرات نے کیا تھا۔
یہ واقعہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت صفیۃ پر ناراض ہوئے تو اس نے حضرت عائشہرضی اللہ تعالیٰ عنھا سے کہا : میرے اور رسول اللہ ﷺ کے در میان صلح کرا میں نے اپنی باری تجھے ہبہ کردی۔ یہ ابن خویزمنداد نے احکام میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : کسی مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ حضرت صفیہ ؓ پر ناراض ہوئے تو مجھے صفیہ نے کہا : کیا تیرے لیے ممکن ہے کہ تو مجھ سے رسول اللہ ﷺ کو راضی کرے اور میری باری تیرے لیے ہو ؟ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے زعفران سے رنگا ہوا دوپٹہ اوڑھا جو میرے پاس تھا اور میں نے اس پر مزیدزعفران چھڑکا پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ کے قریب بیٹھ گئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” مجھ سے دور ہوجا یہ تیرا دن نہیں ہے “۔ میں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے پھر میں نے سارا واقعہ عرض کیا تو آپ ﷺ حضرت صفیہ ؓ سے راضی ہوگئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کے درمیان مساوات کو ترک کرنا اور بعض کو بعض پر ترجیح دینا جائز نہیں مگر یہ کہ مفضولہ کی اجازت اور رضا سے ترجیح جائز ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) کو فیوں نے یصلحا پڑھا ہے اور باقی قراء نے ان یصالحا پڑھا ہے، جحدری نے یصلحا پڑھا ہے۔ جنہوں نے یصالحا پڑھا ہے اس کی وجہ یہ کہ عرب کی کلام میں معروف ہے کہ جب کسی قوم کے درمیان جھگڑا ہو تو کہا جاتا ہے : تصالح لقوم یہ نہیں کا جاتا : اصلح القوم، اگر اصلح ہوتا تو اس کا مصدر اصلاح ہوتا اور جنہوں نے یصلحا پڑھا ہے اس نے جھگڑے اور تنازع میں اس کی مثل استعمال کیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے : فاصلح بینم اور صلحا کو نصب اس قرات کی بنا پر مفعول کی حیثیت سے ہے اور عطا کی مثل اسم ہے جیسے وہ اعطیت سے اسم ہے اصلحت صلحا، اصلحت امرا کی مثل ہے اسی طرح یصلحا پڑھنے والے کی قرات پر بھی مفعول ہوگا، کیونکہ باب تفاعل کبھی متعدی آتا ہے اور یہ مصدر ہونے کا بھی احتمال رکھتا ہے اس کے زوائد کو حذف کیا گیا ہے اور جنہوں نے یصلحا پڑھا تو اس کی اصل یصتلحا ہے پھر یصطلحا بن گیا پھر طاء کو صاد سے بدلا گیا پھر صاد کو صاد میں بدلا گیا صاد کو طا سے نہیں بدلا کیونکہ اس میں آواز لمبی ہوجاتی ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والصلح خیر “۔ یہ لفظ عام مطلق ہے، یہ تقاضا کرتا ہے کہ حقیقی صلح جس سے نفوس کو سکون ملے اور اس سے اختلاف زائل ہو، وہ طلاق سے بہتر ہے، اور اس معنی میں داخل ہیں وہ تمام صورتین جس پر مرد اور عورت کے درمیان صلح قائم ہو، مال میں ہو یا وطی میں ہو، یا کسی اور اعتبار سے ہو، (آیت) ” خیر “ یعنی جدائی سے بہتر ہے، اختلاف، کینہ وناراضگی پر قائم رہنا شر کے قواعد میں سے ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے دشمنی کے بارے فرمایا : انھا الحالقۃ (1) (المستدرک للحاکم، معرفۃ الصحابہ، جلد 3 صفھہ 242) یعنی یہ دین کو ختم کرنے والی ہے نہ کہ بالوں کو مونڈنے والی ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واحضرت الانفس الشح “۔ یہ خبر دی گئی ہے کہ بخل ہر نفس میں رکھا گیا ہے، انسان اپنی جبلت اور خلقت کی وجہ سے بخل کرتا ہے حتی کہ وہ بخل اسے ناپسندہ چیزوں سے نفرت کرنے پر ابھارتا ہے کہا جاتا ہے : شح یشح، ابن جبیر (رح) نے کہا : یہ عورت کا اپنے خاوند سے نفقہ کے بارے بخل کرنا اور اپنی باری کے ایام کے بارے بخل کرنا ہے۔ ابن زید نے کہا : بخل سے یہاں مراد مرادمرد اور عورت کا بخل ہے، ابن عطیۃ نے کہا : یہ بہتر ہے، کیونکہ غالب طور پر عورت اپنے خاوند سے اپنے حصہ کے لیے بخل کرتی ہے اور خاوند غالب طور پر نوجوان عورت سے اپنے حصہ پر بخل کرتا ہے۔ الشح کا مطلب ہے اپنے نظریات و عقائد پر اور ارادہ پر ضبط کرنا، ہمم اور اموال میں ضبط کرنا وغیرہ، یہ دین کے معاملہ میں ہو تو محمود ہے اس کے علاوہ ہو تو مذہوم ہے اس کے متعلق اللہ نے فرمایا : (آیت) ” ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “۔ (الحشر)
اور وہ جو حقوق شرعیہ کی ادائیگی سے مانع ہو یا ایسی چیز کے کرنے سے جس کا مروت تقاضا کرتی ہو وہ بخل رزیل ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 120 دارالکتب العلمیہ) جب بخل ان اخلاق مذمومہ اور خصائل لیئمہ کی طرف راجع ہو تو اس کے ساتھ امید افزا خیر اور کوئی نیک صلاح باقی نہیں ہوتی۔
میں کہتا ہوں : روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے انصار کو کہا ؛ ” تمہارا سردار کون ہے “۔ انہوں نے کہا : جد بن قیس، اس بخل کے باوجود اس میں ہے، نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ای داء ادوی من البخل کون سی بیماری بخل سے بڑی ہے ؟ انصاری نے : یارسول اللہ ! یہ کیسے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک قوم سمندر کے ساحل پر اتری انہوں نے اپنے بخل کی وجہ سے مہمانوں کے پاس آنا ناپسند کیا، انہوں نے کہا : ہم میں سے مرد عورتوں سے جدا ہوجائیں تاکہ مرد مہمانوں سے عورتوں کی دوری کا عذر پیش کریں اور عورتیں مردوں سے دوری کا عذر پیش کریں، انہوں نے ایسا ہی کیا، ان پر زمانہ لمبا ہوگیا تو ان کے مرد، مردوں عورتوں سے مشغول ہوگئیں، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس کو ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا “۔ یہ شرط ہے۔ اور (آیت) ” فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ جواب ہے یہ مردوں کو خطاب ہے اس حیثیت سے کہ خاوند کے لیے بخل کرنا ہے اور یہ اچھا نہیں ہے یعنی اگر تم عورتوں سے حسن سلوک کرو گے اس طرح کہ ان کو ناپسند کرنے باوجود ان کے ساتھ رہو گے اور ان پر ظلم نہیں کرو گے تو یہ تمہارے لیے افضل ہے۔
Ayah 4:129آیت نمبر : 129۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل “۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ تم عورتوں کے درمیان عدل و مساوات کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ طبعی محبت، جماعت اور قلبی لگاؤ سے ہے پس اللہ تعالیٰ نے بشری حالت کو بیان فرمایا اور یہاں فرمایا کہ خلقت کے اعتبار سے وہ کسی ایک کی طرف میلان قلب پر قابو نہیں رکھتے اسی وجہ سے نبی مکرم ﷺ نے عرض کی تھی : اللہم ان ھذہ قسمتی فیما املک فلاتلمنی فیما تملک ولا املک (1) (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 290)
اے اللہ یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں اور مجھے اس میں ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں، پھر نہی فرمائی اور فرمایا : (آیت) ” فلا تیمیلوا کل المیل “۔ مجاہد (رح) نے کہا : تم برائی کا ارادہ نہ کرو بلکہ باری مقرر کرنے میں اور خرچہ میں برابری کو لازم پکڑو، کیونکہ اس کی انسان کی طاقت ہے، اس کا تفصیلی بیان سورة احزاب میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
قتادہ نے نضر بن انس سے انہوں نے بشیر بن نہیک سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس کی دو بیویاں ہوں گی اور وہ ان کے درمیان عدل نہیں کرے گا تو وہ قیامت کے دن آئے گا جب کہ اس کی ایک طرف جھکی ہوئی ہوگئی “۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 168)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتذروھا کالمعلقۃ “۔ یعنی وہ نہ مطلقہ ہو، نہ خاوند والی ہو (3) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2، صفحہ 373) یہ حسن کا قول ہے، یہ کسی معلق چیز سے تشبیہ ہے، کیونکہ وہ چیز نہ زمین پر قرار پذیر ہوتی ہے اور نہ اس پر ہوتی ہے جس سے لٹکائی گئی ہوتی ہے۔ یہ قول ان کی ضرب المثال میں عام ہے : ارض من المرکب بالتعلیق اور نحویوں کے عرف میں یہ فعل کی تعلیق سے ہے، اسی سے ام زرع کی حدیث میں عورت کا قول ہے زوجی العشنق ‘ میرا خاوند لمباتڑنگا ہے اگر میں بولوں تو مجھے طلاق دی جائے اور اگر میں خاموش رہوں تو میں معلق رہوں گی، (1) (صحیح بخاری، کتاب النکاح، جلد 2، صفحہ 779)
قتادہ ؓ نے کہا : وہ قیدی عورت کی طرف ہے (2) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 367) حضرت ابی ؓ نے ” فتذروھا کالمسجونۃ (3) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 168) پڑھا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے (آیت) ” فتذروھا کا نھا “ ، معلقۃ “۔ پڑھا ہے اور فتذروھا کا محل نصب ہے کیونکہ نہی کا جواب ہے اور کالمعلقۃ میں کاف بھی محل نصب میں ہے۔
Ayahs 4:130–132آیت نمبر : 130 تا 132۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ یعنی اگر صلح نہ کریں بلکہ جدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا گمان کریں، اللہ تعالیٰ مرد کو ایسی بیوی دے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور عورت کو ایسا مرد عطا فرمائے گا جو اس پر کشادگی کرے گا۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے غربت کی شکایت کی تو انہوں نے اسے نکاح کرنے کا حکم دیا، وہ شخص گیا اس نے نکاح کرلیا پھر وہ آیا اور غربت کی شکایت کی، انہوں نے اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا پھر ان سے اس آیت کے متعلق کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے اسے نکاح کا حکم دیا کہ شاید وہ اس آیت والوں سے ہو : (آیت) ” ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فض لہ “۔ (النور : 32) جب وہ اس آیت کے مصداق لوگوں سے نہیں تھا تو میں نے اس کو طلاق کا حکم دیا میں نے کہا : شاید یہ اس آیت کے مصداق لوگوں سے ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم “۔ یعنی تقوی کا حکم تمام امتوں میں عام تھا تقوی کے متعلق قول گزر چکا ہے۔ (آیت) ” وایاکم “۔ کا عطف الذین پر ہے، (آیت) ” ان اتقوا اللہ “۔ محل نصب میں ہے الاخفش نے کہا : یعنی بان اتقوا اللہ “۔ بعض عارفین نے کہا : یہ آیت قرآن کی آیات کا مدار ہے کیونکہ تمام قرآن اس پر گھومتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم “۔ یعنی تقوی کا حکم یہ تقوی کا حکم یہ تمام امتوں کو عام ہے اور تقوی کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ (آیت) ” وایاکم، الذین ‘ ‘۔ پر اس کا عطف ہے (آیت) ” ان اتقوا اللہ “۔ محل نصب میں ہے۔ اخفش نے کہا : یعنی بان اتقوا اللہ اور بعض عارفین نے کہا : یہ آیت قرآن کریم کی چکی ہے کیونکہ سارا قرآن اس پر گھومتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان تکفروا فان اللہ مافی السموت وما فی الارض، وکان اللہ غنیا حمیدا، وللہ مافی السموت وما فی الارض، وکفی باللہ وکیلا “۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس تکرار کا کیا فائدہ ؟ تو اس کے دو جواب ہیں۔
(1) تاکید کے لیے تکرار فرمایا تاکہ بندے متنبہ ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کی ملک وملکوت میں جو کچھ ہے اس میں غور وفکر کریں وہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے۔
(2) دوسرا جواب یہ ہے کہ تکرار کے کئی فوائد ہیں پہلے میں یہ خبر دی کہ اللہ تعالیٰ دونوں وسیع بخشش سے غنی کر دے گا کیونکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اس کے خزانے ختم نہیں ہوتے پھر فرمایا : ہم نے تمہیں اور اہل کتاب کو تقوی کا حکم دیا اگر تم انکار کرو گے تو وہ تم سے بےنیاز ہے، کیونکہ اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ پھر تیسری مرتبہ ذکر کرنے میں اپنی تخلیق کی حفاظت اور ان کی تدبیر کے متعلق آگاہ کیا فرمایا : (آیت) ” وکفی باللہ وکیلا “ یعنی اللہ تعالیٰ کارساز کافی ہے، کیونکہ اسی کا ہے آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ فرمایا : (آیت) ” مافی السموت “ اور من فی السماوات نہیں فرمایا : کیونکہ جنس کا اعتبار کیا گیا اور آسمانوں اور زمینوں میں ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دونوں ہیں۔
Ayahs 4:133–134آیت نمبر : 133۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یشایذھبکم “۔ اگر چاہے تو لے جائے تمہیں موت کے ساتھ (آیت) ” ایھا الناس “۔ یہ خطاب مشرکین ومنافقین کو ہے (آیت) ” ویات باخرین “۔ اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو لے آئے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلیمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ھم قوم ھذا وہ اس کی قوم ہے، بعض نے فرمایا : آیت عام ہے یعنی اگر تم انکار کروگے تو وہ تمہیں لے جائے گا اور ایسی مخلوق لے آئے گا جو تم سے زیادہ اللہ کی اطاعت گزار ہوگی، یہ اس طرح ہے جس طرح دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم “۔ (محمد) اس آیت میں ہر اس شخص کو تنبیہ کی گئی ہے اور ڈرایا گیا ہے جس کو کوئی ولایت، امارت اور ریاست حاصل ہے اور وہ اپنی رعیت سے انصاف نہیں کرتا یا وہ عالم ہے اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا اور لوگوں کو نصیحت نہیں کرتا وہ اسے لے جائے اور کوئی دوسرا لے آئے۔
(آیت) ” وکان اللہ علی ذلک قدیرا “۔ قدرت اللہ تعالیٰ کی ازلی صفت ہے اس کی مقدورات لامتناہی ہیں جس طرح اس کی معلومات لامتناہی ہیں، اس کی صفات میں ماضی اور مستقبل ایک جیسا ہے، ذکر میں ماضی کو خاص کیا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ وہ اپنی ذات اور صفات میں حادث ہے، قدرت سے مراد وہ قدرت ہے جس کے ساتھ فعل ہوتا ہے اس کے ہوتے ہوئے عجز کا وجود جائز نہیں ہوتا۔
یعنی جو آخرت کی طلب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فرائض پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں اس کا ثواب عطا فرمائے گا اور جو دنیا طلب کرنے کے لیے عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرمائے گا جو اس نے دنیا میں اس کے لیے کیا ہے اور آخرت میں اس کے لیے کوئی ثواب نہ ہوگا، کیونکہ اس نے غیر اللہ کے لیے عمل کیا جیسا کہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” ومالہ فی الاخرۃ من نصیب “۔ (الشوری) اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا لنار “۔ (ہود : 16) یہ وہ لوگ ہیں نہیں ان کے لیے آخرت میں بجز آگ کے۔
اس مفہوم کی بناء پر سابقہ آیت سے مراد منافقین و کفار نہ ہوں گے۔ یہ طبری کا اختیار ہے، روایت ہے کہ مشرکین قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے تاکہ دنیا میں وہ ان پر وسعت فرمائے اور ان سے مصائب کو دور کرے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : (آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ، وکان اللہ سمیعا بصیر “۔ یعنی جو وہ کہتے ہیں اسے وہ سنتا ہے اور جو وہ پوشیدہ کرتے ہیں اسے دیکھتا ہے۔