Ayah 4:29آیت نمبر : 29۔
اس آیت میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” بالباطل “۔ یعنی بغیر حق کے، اس کی بہت سی صورتیں ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا اور سورة بقرہ میں اس کا معنی بیان کیا ہے اور باطل طریقہ سے مال کھانے کی ایک صورت بیع العریان بھی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص تجھ سے کوئی سامان لے یا تجھ سے جانور کرائے پر لے اور تجھے ایک درہم یا اس سے زیادہ رقم دے اس شرط پر کہ اگر وہ اس چیز کو خریدے گا یا سواری پر سوار ہوگا تو وہ سامان کی قیمت یا جانور کے کرایہ سے ہوگا اور اگر سامان نہیں خریدے گا یا سواری کرائے پر نہیں لے گا تو جو اس نے تجھے دیا ہے وہ تیرا ہوگا، یہ جائز نہیں ہے اور حجازی علماء اور عراقی علماء کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ کیونکہ یہ جوائے اور دھوکے اور خطرے کے بیع سے ہے اور یہ بغیر عوض اور بغیر ہبۃ کے مال کھانا ہے اور یہ بالاجماع باطل ہے۔ بیع عریان فسخ ہوگی جب اس بیع واقع ہوگی خواہ وہ قبضہ سے پہلے ہو یا قبضہ کے بعد ہو، اگر سامان موجود ہوگا تو وہ واپس کیا جائے گا اور اگر سامان ضائع ہوچکا ہوگا تو قبضہ کے دن کی قیمت لوٹائی جائے گی، ابن سیرین، مجاہد، نافع بن عبدالحارث اور زید بن اسلم نے بیع العریان کو جائز قرار دیا ہے اور زید بن اسلم کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز قرار دیا، ابو عمرو ؓ نے کہا : یہ نبی مکرم ﷺ سے صحیح طریقہ سے ثابت نہیں ہے، یہ عبدالرزاق نے اسلمی عن زید بن اسلم کے سلسلہ سے مرسل روایت کی ہے اور اس جیسی روایت حجت نہیں ہوتی، اور یہ احتمال ہے کہ بیع العریان جو جائز ہے اور اس تاویل پر ہو جو امام مالک (رح) اور ان کے ساتھ فقہاء نے کی ہے وہ تاویل یہ ہے کہ پہلے تو وہ اسے رقم دے دے پھر اس پہلی رقم کو ثمن سے شمار کیا جائے جب بیع کی تکمیل کو اختیار کرے۔ امام مالک (رح) اور دوسرے علماء کے نزدیک اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں، مؤطا امام مالک (رح) میں عن الثقۃ عندہ عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے سلسلہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع العربان سے منع فرمایا (1) (موطا امام مالک (رح) کتاب البیوع، صفحہ 568) ابو عمر (رح) نے کہا : علماء نے اس مقام میں الثقۃ عندہ میں کلام کی ہے، بعض علماء نے کہا کہ انہوں نے ابن لہیعہ سے یہ حدیث لی یا ابن وہب عن ابن لہیعہ کے سلسلہ سے روایت کی۔ ابن لہیعہ علماء میں سے ہے مگر کہا جاتا ہے کہ اس کی کتابیں جل گئی تھیں پھر جب اس کے بعد وہ اپنے حافظہ سے بیان کرتا تھا تو غلطی کرتا تھا اور جو ابن لہیعہ سے ابن مبارک اور ابن وہب نے روایت کیا ہے وہ بعض علماء کے نزدیک صحیح ہے اور بعض علماء نے ابن لہیعۃ کی تمام احادیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس کے پاس وسیع علم تھا اور وہ کثرت سے احادیث رکھتا تھا مگر علماء کے نزدیک یہی حال تھا جو ہم نے پہلے بیان کیا۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ تجارت جو باہمی رضا مندی سے ہو، تجارت سے مراد خرید وفروخت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مثل ہے، (آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (بقرہ : 275) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور تجارۃ کو رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یعنی الا ان تقع تجارۃ۔
اس پر سیبویہ نے یہ شعر دلیل دیا ہے :
فدی لبنی ذھل بن شیبان ناقتی، اذا کان یوم ذو کواکب اشھب :
اس کان کو تامہ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ فاعل کے ساتھ مکمل ہوجاتا ہے اور اسے مفعول کی احتیاج نہیں ہوتی، تجارۃ نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس صورت میں ناقصہ ہوگا، کیونکہ بغیر خبر کے اسم کے ساتھ مکمل نہیں ہوتا پس اسم اس میں مضمر ہوگا اور اگر چاہے تو اس کو مقدر کرلے یعنی ” الا ان تکون الاموال تجارۃ “۔ پس مضاف کو حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھا گیا، یہ پہلے گزر چکا ہے اسی سے یہ ارشاد ہے (آیت) ” وان کان ذوعسرۃ “۔ (بقرہ : 280)
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” تجارۃ “۔ لغت میں تجارت سے مراد معاوضہ ہے اسی سے وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کو ان اعمال صالحہ کے عوض دیتا ہے جو اس کے فعل کا بعض ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم “۔ (الصف)
ترجمہ : اے ایمان والوں کیا میں آگاہ کروں تمہیں ایسی تجارت پر جو بچائے تمہیں درد ناک عذاب سے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یرجون تجارۃ لن تبور “۔ (فاطر)
ترجمہ : وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہر گز نقصان والی نہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسکم واموالھم “۔ (توبہ : 111)
ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ نے خرید لی ہیں ایمانداروں سے انکی جانیں اور ان کے مال۔
ان تمام صورتوں میں بیع وشراء کا ذکر مجازا ہے، بیع وشرا کو عقود کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کے ساتھ اغراض حاصل ہوتی ہیں، تجارت کی دو قسمیں ہی بغیر نقل اور سفر کے حضر میں پھیرنا ہے۔ یہ تربص اور احتکار ہے، اور معزز لوگوں نے اس سے اعراض کیا ہے، متقین نے اس سے دلچسپی نہیں رکھی، دوسری صورت یہ ہے کہ سفر کے ساتھ مال گھمانا اور دوسرے شہروں کی طرف منتقل کرنا ہے، یہ اہل مرؤت کے لائق ہے اور اس میں منفعت عام ہے مگر اس میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور دھوکا بھی بڑا ہوتا ہے، نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : مسافر اور اس کا مال ہلاکت پر ہوتا ہے مگر جو اللہ تعالیٰ بجالے، یعنی خطرہ ہے نے کہا : یہ آیت متصوفین کے قول کے فساد پر بڑی دلیل ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) ہر معاوضہ تجارت ہے خواہ وہ عوض کسی اعتبار سے ہو، مگر (آیت) ” بالباطل “۔ کا ارشاد اس سے ہراس عوض کو خارج کردیتا ہے جو شرعا جائز نہیں مثلا سود، یا جہالت یا فاسد عوض کو مقدر کرنا جیسے شراب، خنزیر وغیرہ، اور اس سے ہر وہ عقد بھی خارج ہوجاتا ہے جو جائز تو ہوتا ہے لیکن اس میں عوض نہیں ہوتا جیسے قرض، صدقہ ہبۃ لیکن ثواب اس سے ملتا ہے اور تبرعات کی عقود دوسرے دلائل کے ساتھ جائز ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر آئیں گے یہ دونوں طرفیں متفق علیہما ہیں اور اس سے وہ دعوت بھی خارج ہوگئی جس کی طرف تمہارا بھائی تمہیں بلاتا ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے (آیت) ” لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ کے تحت روایت کیا ہے کہ ایک شخص اس آیت کے نزول کے بعد کسی کے پاس کھانا کھانے سے اجتناب کرتا تھا، تو اس آیت کو سورة نور کی آیت سے منسوخ کردیا : فرمایا : (آیت) ” لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم اوبیوت ابآئکم او بیوت امھتکم او بیوت اخوانکم او بیوت اخوتکم او بیوت اعمامکم او بیوت عمتکم او بیوت اخوالکم او بیوت خلتکم او ماملکتم مفاتحہ او صدیقکم لیس علیکم جناح ان تکلوا جمیعا او اشتاتا “۔ (النور : 61)
ترجمہ : نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اور نہ تم پر اس بات میں کہ تم کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں میں الخ)
ایک امیر آدمی اپنے کھانے کی طرف اہل میں سے کسی شخص کو بلاتا تھا تو وہ کہتا تھا کہ میں اس سے کھانے میں حرج دیکھتا ہوں اور وہ کہتا : مجھ سے اس کا مسکین زیادہ حق دار ہے پس اس ارشاد میں میں اس چیز کا کھانا حلال فرمایا جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور اہل کتاب کا کھانا حلال فرمایا (1) (سنن ابو داؤد، کتاب الاطعمہ، جلد 2، صفحہ 171)
مسئلہ نمبر : (5) اگر تو بازار سے کوئی چیزخریدے پھر اس چیز کا مالک تجھے خریدنے سے پہلے کہے : تو اس کو چکھ لے تیرے لیے حلال ہے، پس تو اس سے نہ کھا، کیونکہ اس کا کھانے کی اجازت دینا خریدنے کی وجہ سے ہے، بعض اوقات تمہارے درمیان سودا واقع نہیں ہوتا پس اس کا کھانا مشتبہ ہوگا، لیکن اگر وہ تیرے لیے اس چیز کی صفت بیان کرے پھر تو اس سے خریدے اور تو اسے اس صفت پر نہ پائے تو تجھے اختیار ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) جمہور علماء تجارت میں غبن کے جواز کے قائل ہیں مثلا کوئی شخص ایک یاقوت ایک درہم میں بیچے حالانکہ وہ سو درہم کے مساوی ہو تو یہ تیرے لیے جائز ہے، کیونکہ مالک جس کی ملکیت صحیح ہے اس کے لیے اپنے بہت سے مال کو تھوڑے مال کے ساتھ بیچنا جائز ہے، اس میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے جب کہ اس کی قدر معروف ہو، جس طرح ہبۃ جائز ہے، اگر ہبہ کیا جائے، اور اس میں اختلاف ہے جب اس کی قدر معروف نہ ہو، ایک قوم نے کہا : اگر اس کی قدر معروف ہو یا نہ ہو یہ بیع جائز ہے جب کہ بیچنے والا دانا، آزاد اور بالغ ہو، اور ایک جماعت نے کہا : جب غبن تہائی سے تجاوز کر جائے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 41 دارالکتب العلمیہ) تو مردود ہے اس سے قریب قریب اور تجارت میں متعارف غبن مباح ہے لیکن بہت زیادہ غبن جائز نہیں ہے، یہ ابن وہب کا قول ہے جو امام مالک (رح) کے اصحاب میں سے ہیں پہلا قول صحیح ہے، کیونکہ زانیہ لونڈی کی حدیث میں ہے ” اس کو بیچ دو اگرچہ بالوں کی رسی کے بدل ہو (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود جلد 2، صفحہ 258) اور نبی مکرم ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے کہا تھا : ” اس کو نہ خرید اگرچہ وہ تجھے ایک درہم میں ہی بیچ دے اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” لوگوں کو چھوڑو اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔ (4) (صحیح مسلم کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 4) اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” کوئی شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے (5) (صحیح مسلم کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 4) ان ارشادات میں قلت و کثرت، تہائی وغیرہ کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (7) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” عن تراض منکم “۔ یعنی تم جو باہم رضا مندی سے کرو، یہاں تراض بمعنی رضا ہے لیکن باب مفاعلہ اس لیے ذکر کیا، کیونکہ تجارت دو شخص کے درمیان ہوتی ہے، علماء کا تراضی کے بارے میں اختلاف ہے، ایک جماعت نے کہا : بیع کا تمام اور جزم بیع کی عقد کے بعد ابدان کے جدا ہونے کے ساتھ ہے یا ایک دوسرے کو کہے : تو اختیار کرلے، دوسرا کہے : میں نے اختیار کرلیا، اس صورت میں عقد کے بعد سودا پختہ ہوجائے گا اگرچہ ابدان کے ساتھ جدا بھی نہ ہوں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 41 دارالکتب العلمیہ) یہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اور امام شافعی، ثوری، اوزاعی، لیث، ابن عیینہ، اسحاق وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے امام اوزاعی نے کہا : بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں مگر تین بیوع میں اختیار نہیں سلطان کا مال غنیمت کی بیع کرنا، میراث میں شرکت کیبیع کرنا اور تجارت میں شرکت کرنا جب ان تین بیوع کا سودا ہوگا تو بیع واجب ہوجائے گی اور دونوں کو اختیار نہیں ہوگا اور فرمایا : جدائی کی حد یہ ہے کہ بائع اور مشتری میں سے ہر ایک دوسرے سے چھپ جائے یہ اہل شام کا قول ہے، اور لیث نے کہا : جدائی یہ ہے کہ ایک کھڑا ہوجائے، امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے تھے : دونوں کو اختیار ہے جب تک جسموں کے ساتھ جدا جدا ہوجائیں خواہ انہوں نے کہا ہو کہ اختیار کرلو یہ نہ کہا ہو حتی کہ ابدان کے ساتھ اپنی اپنی جگہ سے جدا ہوجائیں، یہ بھی امام شافعی (رح) کا قول ہے اور اس باب میں یہی صحیح ہے، کیونکہ اس کے متعلق احادیث وارد ہیں۔ یہ حضرت ابن عمر ؓ حضرت ابو برزہ ؓ اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے۔ امام مالک (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا : بیع کا تمام یہ ہے کہ زبان سے بیع کرنا، اس سے بیع پختہ ہوجائے گی اور اختیار اٹھ جائے گا، امام محمد بن حسن نے کہا : البیعان بالخیار مالم یتفرقا “۔ (2) (صحیح بخاری کتاب البیوع جلد 1، صفحہ 279) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ بائع جب کہے : میں نے تجھے (یہ چیز) بیچی تو اس کے لیے رجوع کا حق ہے جب تک کہ مشتری نے یہ نہ کہا ہو کہ میں نے قبول کیا، یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ امام مالک (رح) نے اس پر نص قائم فرمائی، یہ ابن خویزمنداد نے حکایت کیا ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کو رجوع کا حق نہیں، یہ قول سورة بقرہ میں گزر چکا ہے پہلے قول کے قائلین نے حضرت سمرہ بن جندب، حضرت ابو برزہ، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص، حضرت ابوہریرہ، حضرت حکیم بن حزم رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وغیرھم کی حدیث سے استدلال کیا ہے جو نبی مکرم ﷺ سے انہوں نے روایت کی ہے آپ ﷺ نے فرمایا : بیع کرنے والوں کو خیار ہے جب تک جدا نہ ہوجائیں یا ایک دوسرے کو کہے : اختیار کرلے (3) (سنن نسائی، کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 213) یہ دوسری روایت الابیع الخیار اور الا ان یکون بیعھما عن خیار کا معنی ہے یعنی بیع کے مکمل ہونے کے بعد ایک دوسرے کو کہے : بیع کا نفاذ یا بیع کا فسق اختیار کرلے اگر وہ بیع کا قائم رکھنا اختیار کرے تو بیع مکمل ہوجائے گی اگرچہ ایک دوسرے سے جدا بھی نہ ہوں حضرت ابن عمر ؓ جو حدیث کے روای ہیں وہ جب کسی سے بیع کرتے اور اس بیع کو نافذ کرنا پسند کرتے تو تھوڑا سا چل پڑتے اور پھر لوٹ آتے۔ ” الاصول “ میں ہے : جو حدیث روایت کرتا ہے وہ اس کی تاویل کو زیادہ جانتا ہے خصوصا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کیونکہ وہ بات کو زیادہ جاننے والے تھے اور حالات سے زیادہ واقف تھے، ابوداؤد، دارقطنی نے ابو الوضی سے روایت کیا ہے فرمایا : ہم ایک لشکر میں سفر پر تھے تو ایک شخص آیا جس کے ساتھ ایک گھوڑا تھا ہم میں سے ایک شخص نے اسے کہا : کیا تو یہ گھوڑا اس غلام عوض بیچے گا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ اس نے گھوڑا غلام کے عوض بیچ دیا، پھر اس نے ہمارے ساتھ رات گزاری جب صبح ہوئی تو وہ اپنے گھوڑے کی طرف گیا، تو خریدنے والے نے اسے کہا : اب تجھے گھوڑے سے کیا غرض ؟ کیا تو نے مجھے یہ فروخت نہیں کیا تھا ؟ اس نے کہا : مجھے اس بیع کی کوئی ضرورت نہیں، پھر خریدنے والے نے کہا : تجھے اس سے کیا غرض ؟ تو مجھے یہ بیچ چکا ہے، ان دونوں کو لوگوں نے کہا : یہاں رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابو برزہ ؓ موجود ہیں تم دونوں ان کے پاس جاؤ حضرت ابو برزہ ؓ نے ان دونوں سے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہاں، بو برزہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں، اور میں نہیں دیکھتا کہ تم جدا ہوئے تھے، یہ دونوں صحابی ہیں اور حدیث کے مخرج کو انہوں نے جان لیا اور اس کے مقتضا پر عمل کیا بلکہ یہ صحابہ کا عمل تھا سالم نے کہا : حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : ہم جب بیع کرتے تھے تو ہم میں سے ہر ایک کو خیار ہوتا تھا جب تک کہ بیع کرنے والے دونوں جدا نہ ہوجاتے تھے، حضرت عبداللہ نے فرمایا : میں نے اور حضرت عثمان نے بیع کی میں نے انہیں وادی کی زمین دی اور ان کی خیبر کی زمین لی، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : جب میں نے سودا کردیا تو میں الٹے پاؤں چلنے لگا اس خوف سے کہ کہیں حضرت عثمان میرے جدا ہونے سے پہلے مجھے سودا لوٹا نہ دیں یہ روایت دارقطنی نے نقل کی ہے پھر فرمایا : اہل لغت نے فرقت اور فرقت میں فرق کیا ہے ؟ فرقت کو کلام کے اعتبار سے اور فرقت ابدان کے اعتبار سے جدائی کو لیا ہے، احمد بن یحی ثعلب نے کہا : مجھے ابن اعرابی نے مفضل سے روایت کر کے بتایا کہ فرقت دو کلاموں کے درمیان فرق کرنے کے لیے ہے اور فرقت دو شخصوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے ہے یعنی میں نے دو کلموں کے درمیان فرق کیا تو دونوں جدا ہوگئیں، اور فرقت کا مطلب ہے : دو آدمیوں کے درمیان جدائی کی تو دونوں جدا ہوگئے۔ افتراق کلام کے لیے استعمال کیا اور التفرق ابدان کے لیے استعمال کیا، مالکی علماء نے آیۃ الذین سے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” اوفوا ابالعقود “۔ (المائدہ : 1) سے حجت پکڑی ہے، یہ دونوں شخص عقد کرچکے ہیں اور اس حدیث میں الوفاء بالعقود کا ابطال ہے انہوں نے فرمایا : کبھی التفرق قول کی تفریق میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے عقد نکاح اور اس طلاق کا وقوع جس کو اللہ تعالیٰ نے فراق کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تکونوا کالذین تفرقوا “۔ (آل عمران : 105) اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : تفترق امتی (میری امت جدا ہوجائے گی) آپ ﷺ نے بابدانھا نہیں فرمایا۔ دار قطنی وغیرہ نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے شعیب کو یہ کہتے ہوئے سنا، وہ فرماتے ہیں، میں نے نبی مکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا : جو شخص کسی دوسرے سے کوئی چیز خریدے تو ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہوگا حتی کہ اپنی جگہ سے جدا ہوجائیں مگر یہ کہ خیار کا سودا ہو پس ان میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے جدا ہوجائے اس خوف سے کہ اس کا ساتھی سودا واپس نہ کر دے (1) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 50) ان علماء نے فرمایا : یہ چیز دلیل ہے کہ افتراق سے پہلے ان کے درمیان بیع مکمل ہوچکی ہے، کیونکہ سودا واپس کرنا صحیح نہیں ہوتا مگر اسی صورت میں جب بیع مکمل ہوچکی ہو، فرماتے ہیں : المتبایعان بالخیار (2) (سنن نسائی، کتاب البیوع، جلد 2، صفحہ 213) کا معنی ہے کہ دونوں خیار میں برابر ہیں جب تک کہ انہوں نے عقد نہیں کیا جب دونوں نے عقد کرلیا تو اس میں خیار باطل ہوگیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جو انہوں نے افتراق بالکلام سے اس کی علت بیان کیا ہے اس سے مراد ابدان ہیں جس طرح ہم نے سورة آل عمران میں بیان کیا ہے اگرچہ بعض جگہ میں افتراق بالکلام صحیح ہوتا ہے لیکن اس جگہ صحیح نہیں ہے، اس کا بیان یہ ہے کہ یہ کہا جائے گا کہ وہ ہمیں اس کلام کے متعلق خبر دیں جس کے ساتھ اجتماع واقع ہو اور اس کے ساتھ بیع مکمل ہوگئی کیا یہ وہ کلام ہے جس سے افتراق یا اس کے علاوہ کا ارادہ کیا گیا ہے ؟ اگر وہ کہیں کہ اس کے علاوہ ہے تو پھرگئے اور ایسی بات لائے جو غیر معقول ہے، کیونکہ وہاں اس کلام کے علاوہ کوئی کلام تھی ہی نہیں۔ اگر وہ کہیں کہ یہ بعینہ وہ کلام ہے تو انہیں کہا جائے گا : یہ کیسے جائز ہے کہ وہ کلام جس کے ساتھ وہ جمع ہوئے اور جس کے ساتھ ان کی بیع مکمل ہو، اسی کلام کے ساتھ جدا ہوئے ؟ یہ عین محال ہے اور فاسد قول ہے، رہا آپ ﷺ کا قول کہ کسی کے لیے اپنے ساتھی سے جدا ہونا حلال نہیں اس خوف سے کہ کہیں وہ سودا واپس نہ کر دے۔ (1) (جامع ترمذی کتاب البیوع جلد 1، صفحہ 150) اس کا معنی استحباب پر محمول ہے، اگر یہ قول صحیح ہے اس کی دلیل حضور ﷺ کا ارشاد ہے : من اقال مسلما اقالہ اللہ عثرتہ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع جلد 2، صفحہ 134) (جو کسی مسلمان کو سودا واپس کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی لغزش معاف کر دے گا) اور مسلمانوں کے اجماع سے حجت پکڑی ہے کہ ظاہر حدیث کے خلاف پر ایسا کرنے والے کے لیے یہ حلال ہے اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے جدا ہوجائے تاکہ اس کی بیع کو نافذ کر دے اور وہ واپس نہ کرسکے مگر یہ کہ جب وہ چاہے اور اس وجہ سے انہوں نے اس پر اجماع کیا ہے جس نے لا یحل روایت کیا ہے اس کی روایت رد ہے اگر اس خبر کی وجہ سے استحباب نہ ہو ورنہ بالاجماع یہ باطل ہے اور رہی یہ تاویل کہ المتبایعان سے مراد المتساویان ہے یہ لفظ کے ظاہر سے عدول ہے، اس کا معنی ہے ان دونوں کے عقد کے بعد انہیں اختیار ہے جب تک کہ وہ دونوں اپنی مجلس میں ہیں مگر ایسی بیع جس میں ایک اپنے ساتھی سے کہے کہ تو اختیار کرلے پس وہ اختیار کرلے، ایسی صورت میں دونوں کا اختیار ختم ہوجائے گا اگرچہ وہ جدا نہ بھی ہوں، اگر خیار فرض کیا جائے تو معنی ہوگا : مگر بیع الخیار، پھر بیع الخیار، پھر خیارجسموں کے ساتھ جدا ہونے کے بعد بھی باقی رہے گا، اس باب کی تتمیم اختلافی کتب میں موجود ہے اور عمرو بن شعیب کے قول میں سمعت ابی یقول حدیث کی حدیث کی صحت کے لیے دلیل ہے۔ دارقطنی نے کہا : ہمیں ابوبکرنیساپوری نے کہا انہوں نے کہا ہمیں محمد بن علی الوراق نے بیان کیا کہ میں نے امام احمد بن حنبل (رح) سے کہا شعیب نے اپنے باپ سے کوئی چیز سنی ہے انہوں نے کہا : وہ کہتے تھے : مجھے میرے باپ نے بتایا میں نے پوچھا اس کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا ہے، امام احمد بن حنبل (رح) نے کہا : ہاں میرا خیال ہے اس نے اس سے سنا ہے، دارقطنی نے کہا : میں نے ابوبکر نیساپوری کو یہ کہتے ہوئے سنا وہ عمروبن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص ہے عمرو بن شعیب کا اپنے باپ شعیب سے سماع صحیح ہے اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر : (8) دارقطنی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سچا امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے روز انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا “۔ (1) (سنن دارقطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 7) اور تاجر کے لیے اپنے سامان کی ترویج اور تزیین کے لیے قسم اٹھانا مکروہ ہے یا سامان پیش کرتے وقت نبی مکرم ﷺ پر درود پڑھنا مکروہ ہے مثلا وہ اس طرح کہے : صلی اللہ علی محمد ! یہ کتنا عمدہ سامان ہے، اور تاجر کے لیے مستحب ہے کہ فرائض کی ادائیگی سے تجارت اسے مشغول نہ رکھے جب نماز کا وقت آجائے تو اسے تجارت کو چھوڑ دینا مناسب ہے تاکہ وہ اس آیت کے مصداق لوگوں میں سے ہوجائے،
(آیت) ” رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ “۔ (النور : 37)
ترجمہ : ایسے مرد جنہیں تجارت اور بیع ذکر الہی سے غافل نہیں کرتی) مزید بیان آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (9) یہ آیت اور مذکورہ احادیث صوفیاء میں سے ان لوگوں کا رد کرتی ہیں جو تجارت اور صنعت کے ذریعے خوارک حاصل کرنے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے باطل ذرائع سے مال کھانے کو حرام کیا ہے اور تجارت کے ذریعے مال کو حلال کیا ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم اس میں ایک مسئلہ ہے حضرت حسن ؓ نے کثرت پر دلالت کی بنا پر ” تقتلوا “ پڑھا ہے اس پر اہل تاویل کا اجماع ہے کہ اس آیت سے مراد بعض کے بعض کو قتل کرنے سے نہی ہے، پھر لفظ اپنے آپ کے قتل کو بھی شامل ہے یعنی دنیا پر حرص اور طلب مال کے لالچ میں اس کو قتل نہ کرے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 42) یعنی اپنے آپ کو ایسے دھوکوں میں ڈالے جو اسے تلف تک پہنچانے والے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ تنگی اور غضب میں اپنے آپ کو قتل نہ کرو، ان تمام صورتوں کو نہی شامل ہے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ نے اس آیت سے حجت پکڑی تھی جب انہوں نے غزوہ ذات السلاسل میں اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے جنبی ہونے حالت میں ٹھنڈے پانی سے غسل نہیں کیا تھا نبی مکرم ﷺ نے ان کے احتجاج کو قائم رکھا تھا اور ان پر آپ ﷺ مسکرائے تھے اور مزید کچھ نہ کہا تھا، اس حدیث کو ابو داؤد وغیرہ نے نقل کیا ہے۔
Ayah 4:30آیت نمبر : 30
ذلک کا ارشارہ قتل کی طرف ہے، کیونکہ وہ قریب مذکور ہے، یہ عطا کا قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا اشارہ باطل کے ذریعے سے مال کھانے اور قتل نفس کی طرف ہے، کیونکہ ان دونوں کے متعلق نہی متواتر آئی ہے پھر نہی کے مطابق وعید وارد ہوئی ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس سورت کے آغاز سے جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان تمام کی طرف یہ اشارہ ہے، طبری نے کہا : (آیت) ” ذلک کا اشارہ ان چیزوں کو شامل ہے جو آخری وعید کے بعد منع کی گئی ہیں اور وہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔
کیونکہ سورت کے آغاز میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان کے ساتھ وعید متصل ہے مگر (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔ کے قول کے بعد وعید نہیں ہے مگر یہ آیت کریمہ : (آیت) ’ ومن یفعل ذلک عدوانا “۔
العدوان، حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 43۔ 42 دارالکتب العلمیہ) اور الظلم کسی چیز کو اس کی مناسب جگہ پر نہ رکھنے کو کہتے ہیں، اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے، وعید کو عدوان اور ظلم کے ذکر کے ساتھ مقید فرمایا تاکہ اس سے سہو اور غلطی کا فعل نکل جائے، عدوان اور ظلم دونوں کا ذکر فرمایا، حالانکہ ان کے معانی قریب قریب ہیں، ان کی وجہ ان کے الفاظ کا اختلاف ہے اور کلام میں یہ حسن ہے جیسا کہ شاعر نے کہا :
والقی قولھا کذبا ومینا :
اس جملہ میں کذبا اور مینا کا ذکر کیا، حالانکہ دونوں کا معنی جھوٹ ہے۔
اور الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے عطف عمدہ ہوتا ہے، کہا جاتا ہے : ” بعدا وسحقا “۔ اس سے یعقوب (علیہ السلام) کا قول ہے (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “۔ (یوسف : 86) لفظ کے اختلاف کی وجہ سے یہ عمدہ ہے۔
(آیت) ” نصلیہ “۔ اس کا معنی ہے ہم اسے آگ کی گرمی مس کریں گے (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 43 دارالکتب العلمیہ) ہم ان آیات اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کی حدیث کو جمع کرنے کا مفہوم نافرمانوں اور گناہ کبیرہ کرنے والوں میں بیان کیا ہے جن کے لیے وعید نافذ ہوگی پس اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اعمش اور نخعی نے نصلیہ کو نون کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ صلی نارا سے منقول ہے یعنی میں نے اس کو گرم کیا۔ اور حدیث میں ہے : شاۃ مصلیۃ، بھونی ہوئی بکری، اور جنہوں نے نون کو ضمہ دیا ان کے نزدیک ہمزہ سے منقول ہے۔ مثلا طعمت اور اطعمت۔
Ayah 4:31آیت نمبر : 31۔
اس آیت کے ضمن میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بڑے بڑے گناہوں سے منع فرمایا چھوٹے گناہوں سے اجتناب پر تخفیف کا وعدہ فرمایا۔ یہ دلیل ہے کہ گناہ چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی ہوتے ہیں، یہی اہل تاویل اور فقہاء کی جماعت کا نظریہ ہے، چھونا اور دیکھنا یقینی طور پر بڑے گناہوں سے اجتناب کے ساتھ معاف ہوجاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا قول حق ہے لیکن اس پر یہ چیز واجب نہیں، اس کی نظیر پہلے (آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ کے ارشاد میں توبہ کی قبولیت کے بارے گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ بڑے گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے چھوٹے گناہ معاف فرما دیتا ہے، لیکن ایک اور چیز بھی اجتناب کبائر کے ساتھ متصل ہو تو یہ صغیر گناہ معاف ہوں گے اور وہ ہے فرائض کا قائم کرنا، امام مسلم (رح) نے حضرت ابویرہرہ (رح) سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے پانچ نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک، رمضان سے رمضان تک گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، جب کبائر سے اجنتاب کرے۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 122) ابو حاتم البستی (رح) نے مسند میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے پھر تین مرتبہ فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ (2) (المحریر لوجیز جلد 2، صفحہ 44) پھر خاموش ہوگئے ہم میں سے ہر شخص رسول اللہ ﷺ کی قسم کی وجہ سے سر جھکا کر رو رہا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : جو بندہ پانچ نازیں ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور سات بڑے گناہوں سے اجتناب کرے تو قیامت کے روز اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھولے جائیں گے حتی کہ انہیں زور سے بند کیا جائے گا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ کتاب وسنت سے چھوٹے گناہوں کی تکفیر کی تائید ملتی ہے مثلا غیر محرم کو دیکھنا اور اس کے مشابہ گناہ اور سنت نے بیان فرمایا کہ (آیت) ” تجتنبوا “۔ سے مراد تمام بڑے گناہوں سے کامل اجتناب نہیں ہے واللہ اعلم۔ اصولوں نے فرمایا : کبیرہ گناہوں سے اجتناب کے ساتھ چھوٹے گناہوں کا کفارہ ہونا قطعی طور پر واجب نہیں بلکہ یہ غلبہ ظن، قوت رجا پر محمول ہے اور مشیئت ثابت ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر گناہ کبیرہ سے اجتناب کرنے والے کے لیے اور فرائض ادا کرنے والے کے لیے ہم قطعی طور پر صغیرہ گناہوں کے کفارہ کا حکم لگائیں تو یہ اس کے لیے اس مباح کے حکم میں ہوں گے جس میں قطعی طور پر گناہ نہیں ہوتا اور یہ شریعت میں نقص ہے۔ اور ہمارے نزدیک کوئی صغیر نہیں ہوگا، قشیری عبدالرحیم نے کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ یہ کبائر ہیں لیکن بعض دوسروں سے بڑے گناہ ہیں۔ تمییز، نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بندہ تمام گناہوں سے اجتناب کرے۔
میں کہتا ہوں : جس نے نفس کی مخالفت کی طرف دیکھا جیسا کہ بعض علماء نے فرمایا تو گناہ کے چھوٹا ہونے کی طرف نہ دیکھ بلکہ تو اس کی طرف دیکھ جس کی تو نے نافرمانی کی۔ اس نسبت سے تمام گناہ بڑے ہیں اس طریقہ پر قاضی ابوبکر، استاذ ابو اسحاق اسفرائینی، ابو المعالی، ابو النصر عبدالرحیم قشیری رحمۃ اللہ علیہم کا کلام اسی پر محمول کیا جائے گا، انہوں نے فرمایا : بعض گناہوں کو دوسروں کی نسبت سے صغیرہ گناہ کہا جاتا ہے جس طرح زنا کو کفر کی نسبت صغیرہ کہا جاتا ہے بلکہ یہ تمام کبیرہ ہیں اور کفر کے علاوہ جس کے لیے وہ چاہے گا اسے معاف کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس بات کو کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے جو اس کے علاوہ ہے جس کو چاہتا ہے۔
اور انہوں نے (آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ “۔ کی قرات سے بھی حجت پکڑی ہے اور بڑا گناہ شرک ہے اور علماء اصول نے فرمایا : کبائر کی صورت میں اس سے مراد کفر کی اجناس ہوگی۔ وہ آیت جس نے حکم کو مقید کیا ہے تمام مطلقات کو اس کی طرف پھیرا جائے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ : (آیت) ” ویغفرما دون ذلک لمن یشآء “۔ اسی طرح علماء اصول نے مسلم وغیرہ کی اس روایت سے بھی حجت پکڑی ہے جو ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کسی مسلمان کا حق اپنی قسم سے حاصل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آگ کو واجب کردے گا اور اس پر جنت حرام کر دے گا “۔ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ حق تھوڑا سا بھی ہو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اگرچہ وہ کیکر کی چھڑی ہی وہ “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الا ایمان جلد، 1، صفحہ 80) پس تھوڑے سے گناہ پر بھی شدید وعید آئی ہے جس طرح زیادہ گناہ پر آئی ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آگ یا غضب یا لعنت یا عذاب کی وعید سنائی ہے، حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جن گناہوں سے منع فرمایا ہے وہ تینتیس تک ہیں اور اس کی تصدیق یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ “۔ طاؤوس نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا گناہ کبیرہ ساتھ ہیں ؟ فرمایا یہ ستر کے قریب ہیں، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : ایک شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : کبیرہ گناہ ساتھ ہیں ؟ فرمایا یہ سات سو تک ہیں ان میں بڑے سات ہیں مگر استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی فرمایا : کبیرہ گناہ چار ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی اور رحمت الہیہ سے قنوط اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے امن میں ہونا (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 43 دارالکتب العلمیہ) اور اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس پر قرآن دلیل ہے، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ گناہ کبیرہ نو ہیں اور وہ یہ ہیں۔
(1) کسی نفس کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، محصنۃ پر تہمت لگانا، جھوٹی گواہی دینا، والدین کی نافرمانی کرنا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، جادو کرنا اور بہت الحرام میں الحاد کرنا۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 43 دارالکتب العلمیہ) اور علماء کے نزدیک مندرجہ ذلیل گناہ بھی کبائر میں سے ہیں جوا چوری، شراب پینا، سلف صالحین کو گالی دینا شرعی احکام سے عدول کرنا، خواہش کی اتباع کرنا، جھوٹی قسم کا اٹھانا اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا، انسان کا اپنے والدین کو گالی دینا، آدمی کسی کے والدین کا گالی دیتا ہے پھر وہ اس کے والدین کو گالی دیتا ہے۔ زمین میں فساد کی کوشش کرنا، اس کے علاوہ بھی کثرت سے گناہ ہیں جن کا ذکر قرآن میں اور احادیث میں آیا ہے جن کو ائمہ نے تخریج کیا ہے، مسلم نے کتاب الایمان میں ان میں سے اکثر کا ذکر کیا ہے، کبائر کے متعلق آثار کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد اور حصر میں علماء کا اختلاف ہے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ کبائر کے متعلق صحیح اور حسن احادیث وارد ہیں ان میں حصر اور شمار کا قصد نہیں کیا گیا ہے لیکن بعض دوسروں کی نسبت بڑے ہیں جن کا ضرر ونقصان زیادہ ہے، شرک تمام کبائر سے بڑا ہے یہ وہ ہے جس کی بخشش نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر نص قائم فرمائی ہے اور اس کے بعد بڑا گناہ رحمت الہیہ سے مایوسی ہے، کیونکہ اس میں قرآن کی تکذیب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کا قول حق ہے (آیت) ” ورحمتی وسعت کل شیئ “۔ (الاعراف : 156) پس جو کہتا ہے کہ وہ اسے نہیں بخشے گا تو اس نے ایک وسیع چیز کو محدود کردیا، یہ اس صورت میں ہے جب وہ اس کا اعتقاد رکھتا ہو، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ (یوسف) اس کے بعد بڑا گناہ قنوط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون “۔ (الحجر) اس کے بعد بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے امن ہونا ہے پس وہ گناہوں میں لگا رہتا ہے اور بغیر عمل کے اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون “۔ (الاعراف) (تو کیا یہ بےخوف ہوگئے ہیں اللہ کی خفیہ تدبیر سے پس نہیں بےخوف ہوتے اللہ کی خفیہ تدبیر سے سوائے اس قوم کے جو نقصان اٹھانے والی ہوتی ہے) اور فرمایا : (آیت) ” ذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم اردکم فاصبحتم من الخسرین “۔ (حم السجدہ) (اور تمہارے اس گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کہا کرتے تھے تمہیں ہلاک کردیا پس تم ہوگئے نقصان اٹھانے والوں سے) اس کے بعد بڑا گناہ کسی کو قتل کرنا ہے، کیونکہ نفس کا ضیاع اور وجود کو ختم کرنا ہے، لواطت، اس میں نسل کو ختم کرنا ہے، زنا، اس میں نسب کا اختلاط ہے، شراب پینا، اس میں عقل کا چلانا جانا ہے جس پر تکلیف کا مدار ہے، نماز کا ترک کرنا اور اذان کو ترک کرنا اس میں شعار اسلام کے اظہار کا ترک ہے، جھوٹی گواہی دینا، اس میں خونوں، شرمگاہوں اور اموال وغیرہ کا مباح کرنا ہے اس کے علاوہ ایسے امور جن کا نقصان واضح ہے، ہر وہ گناہ جس کو شرع نے برا کہا اس پر عقاب کی دھمکی دی اور اس پر سختی فرمائی یا اسکا نقصان وجود میں زیادہ ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے تو وہ گناہ کبیرہ ہے اس کے علاوہ گناہ صغیرہ ہے، یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وندخلکم مدخلا کریما “۔ ابو عمر و اور اکثر کو فیوں نے ” مدخلا “ کو میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اس میں احتمال ہے کہ مصدر ہو یعنی ادخالا اور مفعول محذوف ہے یعنی ہم تمہیں جنت میں داخل کریں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ مدخلا مکان کے معنی میں ہو تو اس صورت میں مفعول ہوگا، اہل مدینہ نے میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ دخل کا مصدر ہو اور فعل کے اضمار کے ساتھ منصوب ہو تقدیر عبارت اس طرح ہوگی :
ندخلکم فتدخلون مدخلا “۔ اور کلام اس پر دلیل ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ اسم مکان ہو پھر اس کو نصب مفعول بہ کی حیثیت سے ہوگی یعنی ہم تمہیں معزز جگہ یعنی جنت میں داخل کریں گے، یہ ابو سعید بن اعرابی نے کہا : میں نے ابو داؤد سجستانی کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسلمان تمام جنت میں جائیں گے میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ یعنی اگر تم بچتے رہو گے ان بڑے بڑے کاموں سے روکا گیا ہے تمہیں جن سے تو ہم محو کردیں گے تمہارے (نامہ اعمال) سے تمہاری برائیاں اور ہم داخل کریں گے تمہیں عزت کی جگہ میں یعنی جنت میں، اور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ذخیرہ کیا ہے (1) (تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، جلد 4 صفحہ 282، دارالسیرہ بیروت) جب اللہ تعالیٰ کبائر کے علاوہ فرما دے گا اور نبی مکرم ﷺ کبیرہ گناہوں کی سفارش کریں گے تو پھر مسلمانوں پر کون سا گناہ باقی رہے گا اور ہمارے علماء نے فرمایا : اہل سنت کے نزدیک کبیرہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے ہر اس شخص کے لیے جو موت سے پہلے انہیں ترک کر دے گا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور مسلمانوں میں سے جو ان پر مرے گا اسے بھی بخش دیا جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “۔ یعنی شرک کے علاوہ گناہ معاف فرمادے گا جس کے لیے چاہے گا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہوں پر مرا ہو اگر موت سے پہلے توبہ کرنے والا مراد ہو تو پھر شرک اور دوسرے گناہوں میں فرق کا کوئی معنی نہیں رہے گا، کیونکہ شرک سے توبہ کرنے والے کی بھی مغفرت ہوجاتی ہے، حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے فرمایا : سورة نساء کی پانچ آیات ایسی ہیں جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہیں۔ (1) ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ۔ (2) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ (3) ومن یعمل سوئا اویظلم نفسہ (4) وان تک حسنۃ یضعفا، (5) والذین امنوا باللہ رسولہ “۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا : سورة نساء میں آٹھ آیات ہیں جو اس امت کے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہیں جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔
(1) یرید اللہ لیبین لکم (2) واللہ یرید ان یتوب علیکم (3) یرید اللہ ان یخفف عنکم (4) ان تجتنبواکبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم (5) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ (6) ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ (7) ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ (8) ما یفعل اللہ بعذابکم “۔ (الایۃ)
Ayah 4:32آیت نمبر : 32۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) ترمذی نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : مرد جہاد کرتے ہیں اور عورتیں جہاد نہیں کرتی ہیں، ہمارے لیے نصف میراث ہے (اس کی کیا حکمت ہے ؟ ) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ اور مجاہد (رح) نے کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ان المسلمین والمسلمت “۔ الخ (الاحزاب : 35) اور حضرت ام سلمہ ؓ پہلی سفر کرنی والی عورت تھی جو مدینہ طیبہ ہجرت کرکے آئی تھی، ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث مرسل ہے بعض نے اس حدیث کو ابن ابی نجیح عن مجاہد کے سلسلہ میں مرسل روایت کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے اس طرح کہا : (1) (جامع الترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2 صفحہ 127) حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں لوگ عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے جب انہیں وارث بنایا گیا تو مرد کے لیے دو عورتوں کے حصوں کے برابر حصہ رکھا گیا عورتوں نے خواہش کی کہ کاش ان کے حصے بھی مردوں کے حصوں کی طرح ہوتے اور مردوں نے کہا : ہم امید کرتے ہیں کہ آخرت میں ہماری نیکیوں کی وجہ سے ہمیں عورتوں پر فضیلت دی جائے گی جس طرح میراث میں ہمیں ان پر فضیلت دی گئی ہے، پس یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ولا تتمنوامافضل اللہ بہ بعضکم علی بعض۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تتمنوا “۔ التمنی ارادہ کی ایک قسم ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہے جس طرح التلقف اس کی ایک قسم ہے جس کا تعلق ماضی سے ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو التمنی (آرزو) سے منع فرمایا :
کیونکہ اس میں تعلق خاطر ہے اور موت کو بھولنا ہے علماء کا اختلاف ہے کہ کی کیا اس تمنی کی نہی میں رشک داخل ہے یا نہیں ؟ رشک یہ ہے کہ ایک شخص خواہش کرے کہ اس کے پاس فلاں آدمی جیسی حالت ہو اگرچہ اس سے اس حالت کے زوال کی خواہش نہ کرے، جمہور علماء رشک کی اجازت دیتے ہیں مثلا امام مالک (رح) وغیرہ اور بعض علماء کے نزدیک نبی مکرم ﷺ کے ارشاد : لا حسد الا فی اثنتین “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین جلد 1 صفحہ 272) رشک نہیں ہے مگر دو شخصوں میں ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا فرمایا ہو وہ اسے دن اور رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو وہ اسے دن، رات کے اوقات میں اس سے لوگوں کو نفع دیتاہو۔ اور لا حسد “ کا معنی ہے کوئی رشک ان دو امور میں رشک سے اعظم و افضل نہیں ہے۔ امام بخاری (رح) نے اس مفہوم پر متنبہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے باب ان الفاظ میں باندھا ہے باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ، مہلب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا جو تمنا جائز نہیں ہے اور یہ دنیا کے سازوسامان کی خواہش کرنا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اعمال صالحہ کی تمنا یہ اچھی چیز ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ پر تمنا کرے مگر اپنی تمنا کو ایسی چیزوں سے نہ ملائے جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے تو یہ جائز ہے یہ نبی مکرم ﷺ کی حدیث میں موجود ہے : وددت ان احیاثم اقتل میں خواہش کرتا ہوں کہ میں زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔
میں کہتا ہوں : حدیث جو امام بخاری (رح) نیی اپنی صحیح میں کتاب التمنی میں ذکر کی ہے وہ خیر کی تمنانیک افعال اور ان میں رغبت پر دلیل ہے اس میں نیکی کے تمام اعمال پر شہادت کی فضیلت کا ذکر ہے، کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے شہادت کی تمنا کی، کسی دوسری چیز کی تمنا نہ کی، یہ شہادت کا بلند مرتبہ ہے۔ اور اہل شہادت کی کرامت وعزت ہے، رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شہادت عطا فرمائی تھی، کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : خیبر کا کھانا زہر کی تکلیف کو مجھ پر لوٹاتا ہے یہ وہ وقت ہے کہ میری رگ جان (اس کی وجہ سے) کٹ گئی اور صحیح میں ہے شہید کو کہا جائے گا تو تمنا کر، پس وہ کہے گا : میں تمنا کرتا ہوں کہ میں دنیا کی طرف لوٹ جاؤں حتی کہ تیرے راستہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رسول اللہ ﷺ ابو طالب کے ایمان اور ابولہب اور قریش کے سرداروں کے ایمان کی تمنا کرتے تھے، حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہوگا آپ ﷺ فرماتے تھے۔ ہائے میرا شوق ان بھائیوں کی طرف جو میرے بعد آئیں گے مجھ ایمان لائیں گے جب کہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں، یہ تمام احادیث دلیل ہیں کہ ایسی تمنا سے منع نہیں کیا گیا جو حسد اور بغض کی داعی نہ ہو، اور اس آیت میں جس تمنا سے نہی کی گئی ہے وہ اسی قبیل سے ہے اور اس میں وہ تمنا داخل ہے جس میں انسان دوسرے کی حالت کی تمنا کرتا ہے خواہ اس کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے ہو اور ساتھ یہ خواہش کرتا ہے کہ وہ نعمت دوسرے سے چھن جائے، برابر ہے تو نے اس کے ساتھ تمنا کی ہو کہ تیری طرف وہ چیز لوٹ آئے یا نہیں، یہ بعینہ حسد ہے اس کی اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ “۔
ترجمہ : کیا حسد کرتے ہیں لوگوں سے اس نعمت پر جو عطا فرمائی ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے۔
اور اس میں داخل ہے اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح بھیجنا، یا اس کی بیع پر بیع کرنا، کیونکہ یہ حسد اور ناراضگی کی داعی ہے، بعض علماء نے رشک کو بھی مکروہ کہا ہے ان کے نزدیک یہ بھی نہی میں داخل ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ جائز ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دینے والا ہے، ضحاک نے کہا : کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی کے مال کی تمنا کرے، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں سنا جنہوں نے کہا تھا :
(آیت) ” یلیت لنا مثل ما اوتی قارون۔۔۔۔ واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس “۔ (القصص : 79 تا 82)
ترجمہ : اے کاش ہمیں بھی اسی قسم کا (جاہ و جلال) نصیب ہوتا جیسے دیا گیا ہے قارون کو۔۔۔۔۔ اور صبح کی ان لوگوں نے جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کررہے تھے، جب اسے زمین میں اپنے محل اور مال کے ساتھ دھنسادیا گیا۔
(آیت) ” لو لا ان من اللہ علینا لخسف بنا “۔ (القصص : 82)
ترجمہ : اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں گاڑ دیتا۔
کلبی نے کہا : کوئی شخص اپنے بھائی کے مال، عورت، خادم اور سواری کی تمنا نہ کرے بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے : یا اللہ مجھے بھی اس کی طرح یہ نعمتیں عطا فرما، اسی طرح تورات میں ہے اور اسی طرح قرآن میں ہے : (آیت) ” وسئلوا اللہ من فضلہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی کے مال اور اہل کی تمنا سے منع فرمایا ہے اور اپنے مومنین بندوں کو حکم فرمایا کہ اس کا فضل اس سے طلب کرو، اور جمہور کی حجت نبی مکرم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : ” دنیا چار افراد کے لیے ہے ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور علم عطا فرمایا ہو پھر وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہو اور اس کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لیے اس میں حق جانتا ہو یہ افضل ترین مرتبہ ہے، دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہو اور مال عطا نہ فرمایا ہو پس وہ سچی نیت سے یہ کہتا ہو : ” اگر میرے لیے مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح اسے خرچ کرتا پس اس کی اس نیت کی وجہ سے دونوں کا اجر برابر ہوگا “۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب الزھد عن رسول اللہ ﷺ جلد 2، صفحہ 56) یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے، امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے، حسن نے کہا : تم میں سے کوئی مال کی تمنا نہ کرے اسے کیا معلوم کہ اس کی ہلاکت اس میں ہو۔ یہ اس صورت میں صحیح ہے جب وہ دنیا کے لیے تمنا کرے۔ مگر جب وہ کسی خیر کے لیے تمنا کرے تو شریعت نے اس کو جائز قرار دیا ہے پس بندہ تمنا کرے کہ اس کے ذریعہ وہ اپنے رب کا قرب حاصل کرے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” للرجال نصیب مما اکتسبوا “۔ اس سے مراد ثواب اور عقاب ہے۔ (آیت) ” وللنسآء “ اسی طرح عورتوں کے لیے ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ عورت کے لیے بھی ایک نیکی کا بدل دس نیکیاں ہیں جس طرح مردوں کے لیے ایک نیکی کا بدل دس نیکیاں ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد میراث ہے۔ اس قول کے مطابق اکتساب بمعنی الاصابۃ ہوگا۔ مرد کے لیے دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر تمنا سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اس میں حسد کے دواعی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے مصالح کو زیادہ جانتا ہے پس اس نے ان کے مصالح کو جانتے ہوئے ان کے درمیان میراث کی تقسیم میں فرق رکھا۔
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وسئلوا اللہ من فضلہ “۔ ترمذی نے حضرت عبداللہ سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو وہ سوال کرنے کو پسند فرماتا ہے اور افضل عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے “ ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے “ (1) (جامع ترمذی، کتاب الدعوات عن الرسول اللہ، جلد 2، صفحہ 173) یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کا حکم واجب ہے، بعض علماء نے اس معنی کو لیا ہے اور اسے نظم کیا ہے :
اللہ یغضب ان ترکت سؤالہ وبنی ادم حین یسال یغضب :
اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کیا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے اور انسان سے جب سوال کیا جاتا ہے تو ناراض ہوتا ہے۔
احمد بن المعذل ابو الفضل المالکی نے کیا خوب کہا ہے :
التمس الارزاق عند الذی مادونہ ان سیل من حاجب :
من یبغض التارک تسالہ جو داومن یرضی عن الطالب :
ومن اذا قال جری قولہ بغیر توقیع الی کاتب :
ہم نے اپنی کتاب ” قمع الحرص بالذھد والقناعۃ “۔ میں اس کے قریب مفہوم میں کلام ذکر کی ہے۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا : (آیت) ” وسئلو اللہ من فضلہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی عبادت کا سوال کرو۔ فضل سے مراد امر دنیا نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد پسندیدہ عمل کی توفیق طلب کرنا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں : اپنے رب سے سوال کرو حتی کہ سیر ہو کر کھانے کا بھی اسی سوال کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر وہ عطا نہیں فرمائے گا تو کبھی بھی میسر نہ آئے گا، سفیان بن عیینہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سوال کا حکم نہیں دیا مگر اس لیے کہ وہ عطا کرے۔
کسائی اور ابن کثیر نے (آیت) ” وسلوا اللہ من فضلہ “۔ پڑھا ہے یعنی تمام قرآن میں بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (آیت) ” وسئلو اللہ “۔ اس کی اصل ہمزہ کے ساتھ مگر تخفیف کے لیے ہمزہ حذف کیا گیا ہے۔ اللہ اعلم۔