Ayah 4:93آیت نمبر : 94۔
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یقتل “ من شرطیہ ہے اور اس کا جواب (آیت) ” فجرآؤہ “ ہے، جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی صفت کے بارے میں اختلاف ہے، عطا اور نخعی وغیرہما نے کہا : جس نے لوہے کے ساتھ قتل کیا جیسے تلوار، خنجر، نیزے کی انی اور اس قسم کی دوسری کوئی تیز چیز جو کاٹنے کے لیے تیار کی گئی ہو یا ایسی چیز جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس کے استعمال میں موت ہے جیسے بھاری پتھر وغیرہ۔ ایک جماعت نے کہا : جان بوجھ کر قتل کرنے والا وہ ہے جس نے لوہے کے ساتھ قتل یا پتھر کے قتل کیا یا ڈنڈے کے ساتھ قتل کیا یا اس کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ قتل کیا، یہ جمہور کا قول ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 94 دارالکتب العلمیہ) ۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قتل عمد اور قتل خطا کا ذکر فرمایا اور شبہ العمد کا ذکر نہیں فرمایا : علماء کا اس کے بارے میں اختلاف ہے، ابن المنذر (رح) نے کہا : امام مالک (رح) نے اس کا انکار کیا، انہوں نے کہا : کتاب اللہ میں صرف عمد اور خطا کا ذکر ہے، خطابی نے بھی امام مالک (رح) سے یہ ذکر کیا اور یہ زائد ذکر کیا رہا شبہ عمد تو ہم اس کو نہیں جانتے، ابو عمر ؓ نے کہا : امام مالک اور لیث بن سعد نے شبہ العمد کا انکار کیا پس جو ان کے نزدیک ایسی چیز سے قتل کیا گیا جس کے ساتھ عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا مثلا دانتوں سے کاٹا، طمانچہ مارا، کوڑ مارا، چھڑی ماری وغیرہ تو یہ عمد ہوگا اور اس میں قصاص ہوگا۔ ابو عمر نے کہا : ان دونوں کے قول کے موافق صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے جمہور فقہائے امصار کا یہ نظریہ ہے کہ یہ تمام صورتیں شبہ عمد کی نہیں، امام مالک (رح) سے یہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ ابن وہب اور صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے، ابن المنذر (رح) نے کہا : ہمارے نزدیک شبہ عمد پر عمل کیا جائے گا، جن علماء نے شبہ عمد کو ثابت کیا ہے ان میں شعبی، حکم، حماد، نخعی، قتادہ، سفیان ثوری، اہل عراق اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔ ہم نے یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ صحیح ہے، خون کے سلسلہ میں احتیاط کرنی ضروری ہے، کیونکہ اصل یہ ہے کہ خون کی جلد میں حفاظت کی جائے، پس خون بہانا مباح نہیں مگر ایسی صورت میں جو بالکل واضح ہو جس میں کسی قسم کا اشکال نہ ہو اور صورت میں اشکال ہے، کیونکہ جب حکم عمد اور خطا میں متردد تھا تو اس کے لیے شبہ عمد کا حکم لگایا گیا، ضرب (مارنا) مقصود تھا، قتل مقصود نہیں تھا قتل بغیر ارادہ کے ہوا تھا، پس قصاص ساقط ہوگا اور دیت بھاری ہوگی۔ اسی کی مثال احادیث میں آئی ہے ابو داؤد نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” خبردار خطا کی دیت، شبۃ عمد جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو سواونٹ ہیں جن میں چالیس، ایسی اونٹنیاں ہوں جن کے بطنوں میں بچے ہوں “ (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الدیات، جلد 2، صفحہ 269 ) ۔ دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قتل عمد میں قصاص ہے اور قتل خطا میں دیت ہے، اس میں قصاص نہیں، ہے اور جونا معلوم پتھریا ڈنڈے یا کوڑے سے قتل کیا گیا ہو تو وہ اونٹوں کی دیت مغلظہ ہے “۔ (2) ، (سنن دارقطنی، کتاب الحدود الدیات، جلد 3، صفحہ 94، حدیث نمبر 47) سلیمان بن موسیٰ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شبۃ عمد کی دیت قتل عمد کی طرح مغلظ ہے، شبۃ عمد والے کو قتل نہیں کیا جائے گا “۔ (3) (ایضا، جلد 3، صفحہ 95، حدیث نمبر 53) یہ نص ہے، طاؤوس نے اس شخص کے بارے میں کہا جو جنگ میں ڈنڈے، کوڑے یا پتھر کے ساتھ مارا گیا ہو تو اس کی دیت دی جائے گی، اور اس کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائیگا، اس لیے کہ معلوم نہیں اس کا قاتل کون ہے ؟ امام احمد بن حنبل نے کہا : العمیا وہ امرجس کا معاملہ پوشیدہ ہو اس کی وجہ معلوم نہ ہو، اسحاق نے کہا : یہ قوم میں تخارج (٭) (شرکاء کا جائیداد کو آپس میں تقسیم کرنا) اور بعض کو بعض نے قتل کی صورت میں ہوتا ہے اس کی اصل التعمیۃ “۔ (٭٭) (پوشیدہ رکھنا) سے ہے جس کا معنی تلبیس ہے یہ دارقطنی نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ : شبہ عمد کو تسلیم کرنے والوں کا دیت مغلظہ میں اختلاف ہے عطا اور امام شافعی، نے کہا : یہ تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس خلفہ ہیں۔ یہ قول حضرت عمر، حضرت زید بن ثابت، حضرت مغیرہ بن شعبۃ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کا ہے، یہ امام مالک کا مذہب ہے جب وہ شبہ عمد کا قول کرتے ہیں۔ اور امام مالک (رح) کا مشہور مذہب یہ ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا مگر مدلجی نے اپنے بیٹے کے ساتھ جو کچھ کیا اس جیسے مسئلے میں شبہ عمد کا قول کرتے ہیں جب اس نے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، بعض علماء نے کہا : یہ چار قسم کے اونٹ ہوں گے چوتھائی بنات لبون، چوتھائی حقاق، چوتھائی جذاع اور چوتھائی بنات مخاض، یہ نعمان اور یعقوب کا قول ہے، ابو داؤد نے یہ سفیان عن ابی اسحاق عن عاصم بن ضمرہ عن علی کے سلسلہ سے ذکر کیا ہے، بعض نے فرمایا : یہ پانچ قسم کے اونٹ ہوں گے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون، بیس ابن لبون، بیس حقے اور بیس جذعے، یہ ابو ثور کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : چالیس جذعے بازل (٭) (بازل اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کی عمر آٹھ سال ہوچکی ہو اور نویں سال میں شروع ہوچکا ہو اس وقت اس کی طاقت مکمل ہوجاتی ہے اس کے بعد اسے بازل عام اور بازل عامین کہا جاتا ہے، نہایہ) عام تک، تیس حقے، تیس بنت لبون، یہ حضرت عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے، اور یہی حسن بصری، طاؤوس اور زہری رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے، بعض نے فرمایا : چونتیس خلفۃ بازل عما تک تینتیس حقے، تنتیس جذعے، اور یہی شعبی (رح) اور نخعی (رح) کا قول ہے، یہ ابو داؤد نے ابو الاحوص عن ابی اسحاق عن عاصم بن ضمرہ عن علی کے سلسلہ سے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) ان میں اختلاف ہے جن میں شبہ عمد کی دیت لازم ہوتی ہے، حارث عکلی، ابن ابی لیلی، ابن شبرمہ، قتادہ اور ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم نے کہا : قتل کرنے والے پر اس کے مال میں ہوگی، شعبی، نخعی، حکم، امام شافعی، ثوری، امام احمد، اسحاق، رحمۃ اللہ علیہم اور اصحاب الرائے نے کہا : وہ عاقلہ پر وہ گی، ابن المنذر نے کہا : شعبی کا قول اصح ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے جنین کی دیت مارنے والی کے عاقلہ پر جاری کی تھی۔
مسئلہ نمبر : (4) علماء کا اجماع ہے کہ قتل عمد کی دیت عاقلہ پر نہ ہوگی بلکہ وہ مجرم کے مال میں ہوگی، سورة بقرہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے، علماء کا اجماع ہے کہ قتل خطا کرنے والے پر کفارہ ہے اور قتل عمد میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا نظریہ یہ ہے کہ قتل عمد والے پر اسی طرح کفارہ ہے جس طرح قتل خطا میں کفارہ ہے، امام شافعی (رح) نے فرمایا : قتل خطا میں جب کفارہ واجب ہے تو قتل عمد میں بدرجہ اولی واجب ہوگا، اور فرمایا : جب سہو میں سجدہ مشروع ہے تو عمد میں بدرجہ اولی مشروع ہوگا، جو اللہ تعالیٰ نے قتل عم میں ذکر فرمایا وہ قتل خطا میں جو واجب ہے اس کو ساقط کرنے والا نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر کفارہ نہ ہوگا جو اس کے مال سے لیا جائے گا، بعض علماء نے فرمایا : کفارہ واجب ہوگا، جس نے خود کشی کی اس پر کفارہ اس کے مال سے ہوگا، ثوری، ابو ثور، اور اصحاب الرائے رحمۃ اللہ علیہم نے کہا : کفارہ واجب نہ ہوگا، مگر وہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا ہے، ابن المنذر (رح) نے کہا ؛ ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کیونکہ کفارات عبادات ہیں اور تمثیل جائز نہیں اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کوئی فرض اللہ کے بندوں پر لازم کر دے مگر کتاب اللہ یا سنت اجماع سے اور جنہوں نے عمدا قتل کرنے والے پر کفارہ لازم کیا ان کے پاس حجت نہیں جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اس جماعت کے بارے اختلاف ہے جنہوں نے خطاء ایک شخص کو قتل کردیا، ایک جماعت نے کہا : ہر ایک پر کفارہ ہوگا۔ حسن، عکرمہ، نخعی، حارث عکلی، امام مالک، ثوری، امام شافعی، امام احمد، اسحاق، ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم اور اصحاب الرائے نے بھی یہی کہا ہے۔ ایک طائفہ نے کہا : ان تمام پر ایک کفارہ ہوگا۔ ابو ثور نے یہی کہا ہے اوزاعی سے یہی حکایت کیا گیا ہے۔ زہری نے غلام آزاد کرنے اور روزہ رکھنے میں فرق کیا ہے، ایک جماعت کے بارے میں فرمایا : جو منجنیق پھینکتے ہیں اور ایک شخص کو قتل کر دیتیی ہیں، تمام پر ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اور اگر وہ غلام نہ پائیں تو ہر ایک پر دو ماہ کے متواتر روزے ہوں گے۔
مسئلہ نمبر : (6) نسائی نے روایت کیا ہے ہمیں حسن ابن اسحاق المروزی نے بتایا وہ ثقہ ہے فرمایا، مجھے خالد بن خداش نے بتایا، انہوں نے فرمایا ہمیں حاتم بن اسماعیل نے بتایا، انہوں نے بشیر بن مہاجر سے روایت کیا، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ ؓ سے روایت کیا، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مومن کا قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک زوال دنیا سے بھی بڑا ہے “۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سب سے پہلے جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اور سب سے پہلے بندوں کے درمیان جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خونوں کے متعلق ہوگا “۔ (1) (صحیح بخاری، باب القصاص، حدیث نمبر 6052، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، جامع ترمذی، باب ماجاء ان اول ما یحاسب بہ العبد الخ، حدیث نمبر 378، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسماعیل بن اسحاق نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک سائل نے ان سے کہا ؛ اے ابو العباس ! کیا قاتل کے لیے توبہ ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے مسئلہ پر تعجب کرنے والے کی طرح کہا : تو کیا کہتا ہے ؟ دو یا تین مرتبہ کہا، پھر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تجھ پر افسوس اس کے لیے توبہ کہاں ! میں نے نبی مکرم ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ” مقتول آئے گا جب کے اس کا سر اس کے ایک ہاتھ میں لٹکا ہوا ہوگا وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو بلا رہا ہوگا، اس کی رگیں خون آلود ہوں گی حتی کہ دونوں روکے جائیں گے، مقتول اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا : اے رب ! اس نے مجھے قتل کیا اللہ تعالیٰ قاتل کو فرمائے گا : تو نیست ونابود ہو جائی پھر اسے آگ کی طرف لے جایا جائے گا “۔ حسن سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میں نے اپنے رب سے کسی چیز کے بارے اتنا سوال نہیں کیا جتنا کہ میں نے مومن کے قتل کے بارے میں کیا تو مجھے جواب نہ ملا “۔
مسئلہ نمبر : (7) جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کیا اس کے لیے توبہ ہے ؟ بخاری نے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس میں اہل کوفہ نے اختلاف کیا پھر میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی ہے : (آیت) ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزآؤ ہ جھنم “۔ یہ سب سے آخر میں نازل ہوا اور اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا، نسائی نے حضرت ابن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا : کیا اس شخص کے لیے توبہ ہے جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرتا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت مکی ہے ان پر سورة فرقان کی آیت 68 پڑھی : (آیت) ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت مکی ہے، اسے مدنی (آیت) ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزآؤ ہ جھنم خلدا فیھا وغضب اللہ علیہ “۔ نے منسوخ کیا ہے۔
زید بن ثابت سے اسی طرح روایت ہے اور سورة نساء کی آیت، سورة فرقان کی آیت سے چھ ماہ بعد نازل ہوئی اور ایک روایت میں آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی، نسائی نے ان دونوں روایات کو حضرت زید بن ثابت سے روایت کیا ہے۔ حضرت زید اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایات کو دیکھ کر معتزلہ نے آیت کے عموم کا نظریہ قائم کیا ہے، انہوں نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء “۔ کے عموم کا مخصوص ہے، انہوں نے کہا کہ وعید ہر قاتل پر نافذ ہوگی انہوں نے دونوں آیتوں کو جمع کیا ہے کہ انہوں نے کہا : تقدیر عبارت اس طرح ہوگی، ” یغفر مادون ذالک لمن یشاء الا من قتل عمدا۔
علماء کی ایک جماعت جن میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی ہیں، حضرت زید ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے، ان کا خیال ہے کہ قاتل کے لیے توبہ ہے، یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے بتایا انہوں نے سعد بن عبیدہ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا : ایک شخص حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہا : کیا جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نہیں مگر آگ، جب وہ شخص چلا گیا تو حضرت ابن عباس ؓ سے ساتھیوں نے کہا : کیا آپ ہمیں اس طرح فتوی دیتے تھے تو آپ یہ فتوی دیتے تھے کہ قاتل کی توبہ قبول ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اسے گمان کرتا تھا کہ یہ بہت غصہ میں ہے کسی مومن کو قتل کرنا چاہتا تھا، فرمایا : لوگ اس شخص کے پیچھے گئے تو انہوں اسے ویسا ہی پایا، یہ اہل السنت کا مذہب ہے اور یہ صحیح ہے، اور یہ آیت مخصوصہ ہے اور تخصیص کی دلیل آیات اور اخبار ہیں۔ علماء کا اجماع ہے کہ یہ آیت مقیس بن ضبانہ کے بارے میں نازل ہوئی ان کا واقعہ اس طرح ہے کہ وہ اور ان کا بھائی، ہسام بن ضبابہ مسلمان ہوئے، پھر مقیس نے اپنے بھائی ہشام کو بنی نجار میں مقول پایا، اس واقعہ کی خبر نبی مکرم ﷺ کو کی گئی تو آپ نے بنی نجار کو لکھا کہ ” اس کے بھائی کا قاتل اس کے حوالے کر دو “۔ اور آپ نے مقیس کے ساتھ ایک شخص کو بھیجا جس کا تعلق بنی فہر سے تھا، بنو النجار نے کہا : اللہ قسم ! ہم اس کا قاتل نہیں جانتے لیکن ہم دیت دیں گے، پس انہوں نے سو اونٹ دیت دیئے پھر وہ دونوں مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ آئے، راستہ میں مقیس نے فہری شخص پر حملہ کر کے اسے اپنے بھائی کے قتل کے بدلے قتل کردیا، اور اونٹ لے لیے اور مرتد ہو کر مکہ چلا گیا اور وہ شعر پڑھتا تھا :
قتلت بہ فھرا وحملت عقلہ سراۃ بنی النجار ارباب فارع : (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 95 دارالکتب العلمیہ)
حللت بہ وتری وادرکت ثورتی وکنت الی الاوثان اول راجع :
تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اسے حل وحرم میں امن نہیں دیتا “ (2) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 257)
آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا جب کہ وہ کعبہ کے ساتھ متعلق تھا، جب اہل تفسیر اور علماء دین کی نقل سے یہ ثابت ہے تو اسے مسلمانوں پر محمول کرنا مناسب نہیں پھر اس آیت کے ظاہر کو (آیت) ” ان الحسنت یذھبن السیات “۔ (ہود : 114) اور (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “۔ (الشوری : 25) اور (آیت) ” ویغفر مادون ذلک لمن یشآئ “۔ کے ظاہر کو لینے سے اولی نہیں ہے، ان دونوں آیات کے ظاہر کو لینے میں تناقص ہے، پس تخصیص ضروری ہے پھر سورة فرقان کی آیت اور اس آیت کو جمع کرنا ممکن ہے، نہ نسخ ہے اور نہ تعارض ہے، سورة نساء کی مطلق آیت کو سورة فرقان کی مقید آیت پر محمول کیا جائے گا معنی یہ ہوگا کہ اس کی جزا یہ ہے کہ مگر جو توبہ کرلیے خصوصا جب کہ موجب یعنی قتل اور موجب یعنی عقاب کی دھمکی متحد ہیں، رہی تو وہ بہت سی ہیں جیسے حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی حدیث جس میں فرمایا : ” تم میری بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے اور نہ اس نفس کو قتل نہیں کروں گے جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، جو تم میں سے ان احکام کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو ان باتوں میں سے کسی کا ارتکاب کرے گا اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے گا تو اسے معاف کردے گا، اگر چاہے گا تو اسے عذاب دے گا “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الحدود، جلد 2 صفحہ 73، صحیح بخاری، حدیث نمبر 17، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس حدیث کو ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے، جیسے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے بارے مروی ہے جس نے سو آدمیوں کو قتل کیا تھا، اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح میں، ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے۔ (2) (ابن ماجہ باب ھل لقاتل المؤمن توبۃ، حدیث نمبر 2611، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس کے علاوہ بھی اخبار ثابت ہیں پھر ہمارے ساتھ ان کا اس شخص کے بارے میں اجماع ہے جس کے خلاف قتل کی گواہی دی گئی اور وہ اقرار کرتا ہو کہ اس نے جان بوجھ کر قتل کیا ہے، پھر اس کے اولیاء سلطان کے پاس آئیں اور اس پر حد قائم کی جائے اور قصاصا قتل کیا جائے تو آخرت میں اس کا پیچھا نہیں کیا جائے گا، حضرت عبادہ ؓ کی حدیث کے مقتضی پر بالاجماع اس پر وعید نافذ نہ ہوگی، تو انہوں نے (آیت) ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا “۔ کے عموم سے جو عمارت تعمیر کی تھی وہ ان پر ٹوٹ گئی اور جو ہم نے ذکر کیا اس کے ساتھ تخصیص داخل ہوگئی، جب معاملہ اس طرح ہے تو معلوم ہوا کہ یہ آیت مخصوص ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا یا یہ اس قول پر محمول سمجھنے والا ہے، یہ بالاجماع کفر کی طرف لوٹتا ہے، ایک جماعت نے کہا : قاتل کا معاملہ مشیت الہی کے سپرد ہے خواہ وہ توبہ کرے یا نہ کرے، یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے مسلک ہے، اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد : (آیت) ” فجزآؤہ جھنم خلدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ “۔ یہ اس کے کفر پر دلیل ہے، اللہ تعالیٰ غضب نہیں فرماتا مگر کافر پر جو ایمان سے خارج ہوتا ہے، ہم اس کے جواب میں کہیں گے یہ وعید ہے اور وعید میں خلف کرم ہے جس طرح کہ شاعر نے کہا :
وانی متی اوعدتہ اوعدتہ لمخلف ایعادی ومنجز موعدی :
یہ پہلے گزر چکا ہے، دوسرا جواب یہ ہے اگر وہ اسے یہ جزا دے یعنی وہ اپنے بڑے گناہ کی وجہ سے اس گناہ کا مستحق اور سزاوار ہے، ابو مجلز لاحق بن حمید اور ابو صالح وغیرہما نے اس پر نص قائم کی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ بندے کے لیے ثواب کا وعدہ فرماتا ہے تو وہ اسے پورا کرتا ہے اور اگر اس کے لیے عقوبت مقرر فرماتا ہے تو اس کے لیے مشیت ہے اگر چاہے گا تو اسے عتاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا “۔ ان دونوں تاویلوں میں نظر ہے رہی پہلی تاویل، قشیری نے کہا : اس میں نظر ہے، کیونکہ رب تعالیٰ کا کلام خلف کو قبول نہیں کرتا مگر یہ کہ اس سے عام کی تخصیص مراد لی جائے اور یہ کلام میں جائز ہے اور رہی دوسری تاویل ،۔ اگرچہ روایت کیا گیا ہے کہ یہ مرفوع ہے۔ نحاس نے کہا : اس میں غلطی واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ذلک جزآؤھم جھنم بما کفروا “۔ (کہف : 106) کسی نے یہ نہیں کہا : ان جازاھم (اگر وہ انہیں جزا دے گا) یہ عربی جاننے میں خطا ہے، کیونکہ اس کے بعد (آیت) ” غضب اللہ علیہ “۔ ہے وہ جازاہ کے معنی پر محمول ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اس کی جزا جہنم ہے اگر وہ توبہ نہ کرے اور گناہ پر اصرار کرے حتی کہ وہ اپنے رب سے معاصی کی نحوست کے ساتھ کفر پر ملاقات کرے، ہبۃ اللہ نے اپنی کتاب ” الناسخ والمنسوخ “ میں ذکر کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ (آیت) ” ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “۔ ہے اور فرمایا : اس پر لوگوں کا اجماع ہے مگر حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا یہ آیت محکمۃ ہے، ہبۃ اللہ کے قول میں نظر ہے، کیونکہ یہ عموم اور تخصیص کا مقام ہے، نہ کہ نسخ کا مقام۔ یہ ابن عطیہ کا قول ہے : (1) (المحرر الوجیز، زیر آیت ہذہ)
میں کہتا ہوں : یہ حسن ہے، کیونکہ نسخ اخبار میں نہیں ہوتا معنی یہ ہے کہ وہ اسے جزا دے گا۔ نحاس نے ” معانی القرآن “ میں کہا : علماء اہل نظر کے نزدیک یہ حکم محکم ہے وہ جزا دے گا جب وہ توبہ نہیں کرے گا۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو اسکا حکم بیان کردیا۔ (آیت) ” وانی لغفار لمن تاب “۔ (طہ : 82) پس قاتل اس سے خارج نہیں ہے الخلود دوام پر دلالت نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد “۔ (الانبیائ : 34)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یحسب ان مالہ اخلدہ۔ “۔ (الہمزہ : 3)
زہیر نے کہا :
ولا خالد الاا لجبال الرواسیا :
یہ تمام شواہد دلالت کرتے ہیں کہ خلد کا لفظ تابید کے معنی کے علاوہ پر بھی بولا جاتا ہے، کیونکہ پہاڑ بھی اور مال بھی دنیا کے زوال کے ساتھ زائل ہوجائیں گے اسی طرح عرب کہتے ہیں : لاخلدن فلانا فی السجن (میں فلاں کو ہمیشہ قید خانہ میں رکھوں گا) السجن ختم ہوجائے گی اور فنا ہوجائے گی اسی طرح مسجون بھی، اس کی مثل دعا میں ہے : خلد اللہ ملکہ وابد ایامہ، یہ لفظ اور معنی تمام گزر چکے ہیں۔
Ayah 4:94آیت نمبر : 94۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ یہ جہاد اور قتل کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، الضرب کا معنی زمین پر چلنا ہے، عرب کہتے ہیں : ضربت فی الارض جب کوئی تجارت یا جنگ یا کسی اور غرض سے سفر کرے، یہ ” فی “ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اور بغیر ” فی “ کے بھی۔ مثلا ضربت الارض جب آدمی قضاء حاجت : (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 96 دارالکتب العلمیہ)
کا قصد کرے اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے : لا یخرج الرجلان یضربان الغائط یتحدثان کاشغین عن فرجیھما فان اللہ یمقت علی ذالک “۔ (2) (مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ 36، ایضا ابو داؤد حدیث نمبر 14، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
کوئی دو شخص قضاء حاجت کے لیے نکلیں تو وہ اپنی شرمگاہیں کھولے ہوئے باتیں نہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے، یہ آیت کریمہ مسلمانوں کی ایک جماعت کے بارے نازل ہوئی وہ اپنے سفر میں ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس اونٹ اور بکریاں تھیں جنہیں وہ بیچنا چاہتا تھا اس نے مسلمانوں پر سلام کیا اور کہا : ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ ایک مسلمان نے اس پر حملہ کردیا اور اسے قتل کردیا۔ جب نبی مکرم ﷺ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا گیا تو آپ پر بہت ناگوار گزرا، پھر یہ آیت نازل ہوئی (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 96 دارالکتب العلمیہ)
بخاری نے عطاء عن ابن عباس ؓ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا اسے مسلمان ملے، اس نے کہا : السلام علیکم، مسلمانوں نے اسے قتل کردیا اور اس کی بکریاں پکڑ لیں، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (آیت) ” عرض الحیوۃ الدنیا “۔ تک نازل فرمائی (آیت) ” عرض الحیوۃ الدنیا “۔ سے مراد یہ غنیمت ہے فرمایا حضرت ابن عباس ؓ نے السلام پڑھا ہے یہ بخاری کے علاوہ میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس کے اہل کو دیت اور بکریاں بھی لوٹا دیں، اس واقعہ میں قاتل اور مقتول کی تعیین میں اختلاف ہے۔ اکثر علماء کا جو قول ہے وہ وہ ہے جو ابن اسحاق کی سیرت میں مصنف ابو داؤد میں اور الاستیعاب لابن البر میں ہے کہ یہ قاتل محلم بن جثامہ تھا اور مقتول عامر بن اضبط تھا، نبی مکرم ﷺ نے محلم کے خلاف دعا کی تو وہ بعد میں صرف سات دن زندہ رہا پھر وہ دفن کیا گیا تو زمین نے اسے قبول نہ کیا پھر دفن کیا گیا تو پھر بھی زمین نے قبول نہ کیا پھر دتیسری مرتبہ دفن کیا گیا تو زمین نے قبول نہ کیا جب لوگوں نے دیکھا کہ زمین اسے قبول نہیں کر رہی تو لوگوں نے اسے گھوٹیوں میں پھینک دیا۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” زمین تو اسے بھی قبول نہیں کرلیتی ہے، جو اس سے بدتر ہوتا ہے “ (4) (سنن ابن ماجہ، ابواب الفتن، صفحہ 290)
حسن نے کہا : اس بدترین شخص کو زمین لے لیتی ہے، لیکن قوم کو یہ نصیحت کی گئی کہ وہ اس کام کی طرف نہ لوٹیں، سنن ابن ماجہ نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی طرف بھیجا تو انہیں سخت جنگ کی اور انہوں نے انہیں کندھے دیے پھر میرے ایک قریبی شخص نے مشرکین پر نیزے سے حملہ کردیا جب وہ اس پر غالب آیا تو پھر اس نے کہا : ” لا الہ الا اللہ “۔ میں مسلمان ہوں، مسلمان نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا، پھر وہ مسلمان شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ میں ہلاک ہوگیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا : تو نے کیا گیا ہے ؟ آپ نے ایک یا دو مرتبہ پوچھا، اس نے اپنا واقعہ عرض کیا، اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو نے اس کا پیٹ کیوں نہ چاک کیا تاکہ تو اس کی کیفیت جان لیتا “۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ، اگر میں اس کا پیٹ چاک کرتا تو کیا میں اس کے دل کی کیفیت جان لیتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں تو نے نہ اس کی بات کو قبول کیا اور نہ تو اس کے دل کی کیفیت جانتا “۔ پھر رسول اللہ ﷺ اس سے خاموش ہوگئے تھوڑی دیر گزری حتی کہ وہ فوت ہوگیا پس ہم نے اسے دفن کیا، صبح وہ زمین پر باہر پڑا تھا، ہم نے کہا : شاید دشمن نے اس کی قبر کو کھودا ہو، پھر ہم نے دفن کیا پھر ہم نے اپنے نوجوانوں کو حفاظت کرنے کا حکم دیا، پھر بھی وہ صبح زمین پر پڑا تھا، پھر ہم نے کہا شاید نوجوان سو گئے ہوں، پھر ہم نے اسے دفن کیا، پھر ہم نے خود نگرانی کی لیکن صبح پھر وہ زمین کے اوپر تھا، پھر ہم نے اسے گھاٹیوں میں پھینک دیا۔ (1) (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن، صفحہ 290، ایضا حدیث نمبر 3919، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) بعض علماء نے کہا : قاتل اسامہ بن زید تھا اور مقتول مرداس بن نہیک غطفانی ثم الفزاری من بنی مرۃ من اہل فدک تھا، یہ ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے مرداس نے رات کو اسلام قبول کیا اور اس کیی متعلق اپنے گھر والوں کو بتایا، جب اسامہ ؓ پر نبی مکرم ﷺ نے معاملہ کی سختی کا ذکر فرمایا تو اسامہ نے قسم اٹھائی کہ وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرے گا جو ” لا الہ الا اللہ “۔ کہے گا اس کے متعلق کلام گزر چکی ہے، بعض علماء نے فرمایا : قاتل ابو قتادہ تھا، بعض نے فرمایا : ابو ورداء تھا، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ زمین نے جس کو پھینک دیا تھا وہ محلم تھا جو ہم نے ذکر کیا ہے شاید یہ تمام واقعات قریب قریب واقع ہوئے تو تمام کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، روایت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے اس مسلمان کو بکریاں اور اونٹ واپس کردیا اور اس کے تلف ہونے کی وجہ سے دیت بھی دی، واللہ اعلم۔ ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس لشکر کا امیر ایک شخص تھا جس کو غالب بن فضالہ لیثی کہا جاتا تھا بعض نے کہا : مقداد نام تھا، یہ سہیلی نے حکایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتبینوا “۔ یعنی غور کرو۔ تبینوا جماعت کی قرات ہے اور یہ ابوعبیدہ ؓ اور ابو حاتم ؓ کا مختار ہے ان دونوں حضرات نے کہا : جو خوب غور وفکر اور تثبت سے کام کرے تو کہا جاتا ہے : تبینت الامر وتبین الامر بنفسہ، یہ لازم اور متعدی استعمال ہوتا ہے۔ حمزہ نے فتثبتوا یعنی ثا کے ساتھ اور اس کے بعد باء کے ساتھ پڑھا ہے، تبینوا میں زیادہ تاکید ہے، کیونکہ انسان کبھی کسی کام کو مضبوط تو کرتا ہے، لیکن اس میں غور نہیں کرتا، اذا میں شرط کا معنی ہے اسی وجہ سے فتبینوا “۔ پر فا داخل ہوئی ہے، جزا پر فالگائی جاتی ہے جیسے شاعر نے کہا :
واذا تصبک حصاصۃ فتجمل :
اور بہتر یہ ہے کہ فا نہ لگائی جائے جیسا کہ شاعر نے کہا :
والنفس راغبۃ اذا رغب تھا واذا ترد الی قلیل تقنع :
سفر وحضر میں قتل سے پہلے غور و دغوض ضروری ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں سفر کو خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ وہ حادثہ سفر میں واقع ہوا تھا جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
مسئلہ نمبر : (3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “۔ السلم، السلم اور السلام تینوں کا ایک معنی ہے، یہ بخاری کا قول ہے تینوں طرح پڑھا بھی گیا ہے، ابوعبید قاسم بن سلام نے السلام کو اختیار کیا اور اہل نظر نے اس کی مخالفت کی انہوں نے کہا : السلم بہتر ہے، کیونکہ اس کا معنی پیروی کرنا اور تسلیم کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت) ” فالقوا السلم ماکنا نعمل من سوء “۔ (النحل : 28)
السلم کا معنی تسلیم کرنا ہے یعنی تم اسے نہ کہو جس نے اپنے ہاتھ ڈال دیے اور سرتسلیم خم کردیا اور تمہاری دعوت کو ظاہر کیا ہے کہ تو مومن نہیں ہے، بعض نے فرمایا : السلم سے مراد السلام علیکم کا قول ہے یہ پہلے مفہوم کی طرف راجع ہے، اسلام کے سلام کے ساتھ سلام کرنا اطاعت اور انقیاد کی دلیل ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا معنی انحیاز اور ترک ہو۔ اخفش نے کہا : فلان سلام جب کوئی کسی سے خلط ملط ہوتا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 96 دارالکتب العلمیہ)
السلم سین کی تشدید اور کسرہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ ہو تو اس کا معنی صلح ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) ابو جعفر سے مروی ہے کہ انہوں نے (آیت) ” لست مؤمنا “۔ دوسری میم کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ امنتہ سے مشتق ہوگا جب تو اسے پناہ دے، فھو مومن وہ پناہ دیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) مسلمان جب کافر سے ملے جس کا کوئی عہد نہیں ہے تو مسلمان کے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے اگر وہ کہے : ” لا الہ الا اللہ “۔ تو پھر اس کا قتل کرنا جائز نہیں، کیونکہ اسلام کے ساتھ وہ محفوظ ہوگیا جو اسلام اس کے خون، مال اور اہل کی حفاظت کرے، اگر وہ اس کے بعد اس کو قتل کردے گا تو بدلے میں اسے بھی قتل کیا جائے گا، اور مذکورہ واقعات میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے قتل ساقط ہوا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھے انہوں نے سمجھا کہ یہ اس نے ہتھیار کے خوف سے اور قتل سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس کو بچانے والا اس کا قول ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو بچانے والا ہوگا اس نے جیسا بھی کہا ہو۔ اسی وجہ سے اسامہ کو فرمایا :” کیا تو نے اس کے دل کو نہیں چیرا تھا تاکہ جو جان لیتا کہ کیا اس نے یہ کیا ہے یا نہیں “ (2) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 68) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے، یعنی غور وفکر کیا جائے گا کہ وہ اپنے قول میں سچا ہے یاجھوٹا ہے اور یہ ممکن نہیں۔ اور صرف یہی باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے بیان کرے، اس میں بہت سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ احکام کا دارومدار ظن غالب پر ہوتا ہے نہ کہ قطعیت پر اور باطن کے رازوں پر آگاہی کے ساتھ۔
مسئلہ نمبر : (6) اگر کوئی کہہ دے : سلام علیکم تو اسے قتل کرنا جائز نہیں حتی کہ اس کے پیچھے جو کچھ ہے وہ جان لے، کیونکہ یہ اشکال کی جگہ ہے، امام مالک (رح) نے کافر کے بارے فرمایا : جو پایا گیا تو اس نے کہا : میں امن طلب کرتے ہوئے آیا ہوں، میں امان طلب کرتا ہوں، یہ مشکل امور ہیں، میرا خیال ہے اس کو اس کی پناہ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس پر اسلام کا حکم نہیں لگایا جائیگا، کیونکہ اس کے لیے کفر تو ثابت ہے پس اسے وہ چیز ظاہر کرنی ضروری ہے جو اس کے قول پر دلالت کرے، صرف یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور میں مومن ہوں کافی نہیں ہے نہ نماز پڑھنا کافی ہے حتی کہ وہ ایسا کلمہ کہے جس کے ساتھ نبی مکرم ﷺ نے حکم کو معلق کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : امرت ان اقتال الناس حتی یقولوا ” لا الہ الا اللہ “۔ (3) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 37) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں حتی کہ وہ ” لا الہ الا اللہ “ کہیں۔
مسئلہ نمبر : (7) اگر نماز پڑھے یا کوئی ایسا فعل کرے جو اسلام کے خصائص میں سے ہے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، ابن عربی (رح) نے کہا : ہمارے خیال میں اس سے وہ مسلمان نہ ہوگا مگر اس سے پوچھا جائے گا اس نماز کے پیچھے کیا ہے اگر وہ کہے : مسلمان کی نماز تو اسے کہا جائے گا ” لا الہ الا اللہ “۔ کہہ، اگر وہ یہ کہے تو اس کا صدق ظاہر ہوجائے گا اگر وہ انکار کرے گا تو ہم جان لیں گے کہ وہ مزاح کر رہا ہے اور جو اس کا یہ فعل اسلام خیال کرتا تھا اس کے نزدیک یہ انکار ردت ہوگیا صحیح یہ ہے کہ یہ کفر اصلی ہے ردت نہیں ہے، یہی حکم ہے جس نے سلام علیکم کہا : اسے کلمہ پڑھنے کا مکلف کیا جائے گا اگر وہ کلمہ پڑھ لے تو اس کی ہدایت ثابت ہوجائے گی اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا عناد ظاہر ہوجائے گا اور اسے قتل کیا جائے گا (آیت) ” فتبینوا “۔ کے قول کا یہی معنی ہے یعنی مشکل امر میں خوب غوروخوض کرلو۔ اوتثبتوا یعنی جلد نہ کرو، دونوں کا معنی برابر ہے اگر کسی نے اسے قتل کردیا تو وہ ایک ممنوع کام کا ارتکاب کرنے والا ہوگا، اگر کہا جائے کہ نبی کرم ﷺ کا محلم پر سختی کرنا اور قبر سے اس کا باہر آجانا اس کا مخرج کیسا ہے ؟ ہم کہیں گے : کیونکہ اس کی نیت سے معلوم ہوچکا تھا کہ وہ اسلام کی کوئی پرواہ نہیں کرتا پس اس نے اسے جاہلیت کے بغض ودشمنی کی وجہ سے جان بوجھ کر قتل کیا تھا۔
مسئلہ نمبر : (8) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی جو مال لینا چاہتے ہیں، دنیا کے سامان کو عرض کیا جاتا ہے کیونکہ وہ عارضی ہے، زائل ہونا والا ہے اور ثابت نہیں ہے، ابو عبیدہ نے کہا : دنیا کے تمام سامان کو عرض (را کے فتحہ کے ساتھ) کہا جاتا ہے، اسی سے ہے : الدنیا عرض حاضر یا کل منھا البر والفاجر (1) (مجمع الزوائد، کتاب الصلوۃ، جلد 2 صفحہ 415، حدیث نمبر 3151)
دنیا موجود سامان ہے جس سے نیک اور فاجر کھاتا ہے۔ اور العرض (را کے سکون کے ساتھ) دنانیر اور دراہم کے سوا چیزوں کو کہا جاتا ہے، ہر عرض وعرض ہے لیکن ہر عرض، عرض نہیں ہے صحیح مسلم میں نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ” غنا کثرت عرض (سامان دولت) سے نہیں ہوتی بلکہ غناحقیقۃ نفس کا غنا ہے “ (2) (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 336، صحیح بخاری حدیث نمبر 5965، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
بعض علماء نے اس معنی کو نظم میں بیان کیا ہے۔
تقنع بما یکفیک واستعمل الرضا فانک لا تدری اتصبح ام تمسی :
فلیس الغنی عن کثرۃ المال انما یکون الغنی والفقر من قبل النفس :
یہ ابو عبیدہ ؓ کے قول کی تصحیح کرتا ہے کہ مال ہر اس چیز کو شامل ہے جو متمول ہونے کا باعث ہو، ” کتاب العین “۔ میں ہے العرض سے مراد ہر وہ چیز ہے جو دنیا سے پائی گئی ہو۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” تریدون عرض الدنیا “۔ (الانفال : 67) تم دنیا کے سامان کا ارادہ کرتے ہو، عرض کی جمع عروض ہے۔ ابن الفارس کی ” المجمل “ میں سے العرض وہ مرض وغیرہ جو انسان کو لاحق ہوتی ہے۔ عرض الدنیا جو دنیا کے مال سے تھوڑا ہو یا زیادہ ہو، اور العرض سے مراد وہ سامان ہے جو نقدی کے علاوہ ہے۔ اعرض الشیء کا مطلب ہے جب ظاہر اور ممکن ہو، العرض جو طول کے خلاف ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فعند اللہ مغانم کثیرۃ “۔ جو شخص احکام الہی کی پیروی کرتے ہوئے آئے گا اور ممنوع چیزوں کا ارتکاب نہیں کرے گا اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سی غنیمتیں تیار کر رکھی ہیں پس تم ان نعمتوں کو گراؤ نہیں۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 96 دارالکتب العلمیہ)
(آیت) ” کذلک کنتم من قبل “۔ یعنی تم بھی اپنے ایمان کو اپنی قوم کے خوف سے چھپاتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو عزت دینے اور دین کو غالب کرنے کے ساتھ تم پر احسان فرمایا : اسی طرح ان میں سے ہر ایک اپنی قوم میں تمہارے ساتھ نماز پڑھنے کے انتظار میں ہے پس یہ درست نہیں کہ جب وہ تمہارے پاس پہنچے تو تم اسے قتل کر دو حتی کہ معاملہ بالکل واضح ہوجائے۔ ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے اسی طرح تم کافر تھے (آیت) ” فمن اللہ علیکم “۔ تم پر اللہ نے احسان فرمایا کہ تم اسلام لے آئے پس تم انکار نہ کرو کہ وہ اس طرح ہو پھر وہ اسلام کا اظہار کرے جب وہ تم سے ملے پس تم اس کے معاملہ میں خوب تحقیق کرلو (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 97 دارالکتب العلمیہ)
مسئلہ نمبر : (10) اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام زبان سے اقرار کا نام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا “۔ یہ علماء فرماتے ہیں : جب ” لا الہ الا اللہ “۔ کہنے والے کو ” مومن نہیں ہے “ کہنے سے منع کیا گیا ہے، تو صرف اس قول سے اسے قتل کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، اگر ایمان صرف زبان سے اقرار نہ ہوتا تو ان کے قول پر عیب نہ لگاتے، ہم نے کہا : قوم نے اس حالت میں شک کیا کہ یہ قول ان سے بچنے کے لیے کہا ہو پس انہوں نے اسے قتل کردیا اللہ تعالیٰ نے ظاہر شریعت کے علاوہ بندوں کے لیے کوئی حکم نہیں بنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ “۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 37)
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں حتی کہ وہ ” ا لا الہ الا اللہ “۔ کہ دیں، اس میں کوئی دلیل نہیں کہ ایمان فقط اقرار کا نام ہے، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ منافقین یہ قول کہتے تھے، حالانکہ وہ مومن نہیں تھے جیسا کہ سورة بقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے اس کی مزید وضاحت نبی مکرم ﷺ کے اس فرمان نے کردی۔ افلا شققت عن قلبہ (3) (احکام القرآن للطبری، جلد 5، صفحہ 264)
اس سے ثابت ہوا کہ ایمان صرف اقرار نہیں، ایمان کی حقیقت تصدیق بالقلب، دل سے تصدیق کرنا ہے اور بندے کے لیے اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مگر جو کچھ اس سے سنے، اس سے انہوں نے بھی استدلال کیا جنہوں نے کہا : زندیق کی توبہ قبول کی جائے گی جب وہ اسلام کو ظاہر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زندیق اور دوسرے کافروں میں کوئی فرق نہیں کیا جب وہ اسلام کو ظاہر کرے، اس پر گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے، اس آیت میں قدریہ کا رد ہے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے مومنین پر تمام مخلوق کے درمیان سے احسان فرمایا انہیں توفیق کے ساتھ خاص فرمایا : اور قدریہ کہتے ہیں : اس نے تمام مخلوق کو ایمان کے لیے تخلیق کیا، اگر معاملہ اس طرح ہوتا جیسا کہ انہوں نے گمان کیا ہے تو مومنین کو احسان کے ساتھ خاص کرنے کا کوئی معنی نہ ہوتا۔
مسئلہ نمبر : (11) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتبینوا تاکید کے لیے، پھر غور وخوض کے امر کو ذکر فرمایا (آیت) ” ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ یہ احکام الہیہ کی مخالفت سے ڈرانا ہے، یعنی اپنے آپ کی حفاظت کرو اور اپنے نفسوں کو ایسی لغزشوں سے بچاؤ جو تمہیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں۔
Ayahs 4:95–96آیت نمبر : 95 تا 96۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بدر سے پیچھے رہنے والے اور بدر کی طرف نکلنے والے برابر نہیں (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 269)
پھر فرمایا (آیت) ” غیر اولی الضرر “۔ الضرر، سے مراد اپاہج ہونا ہے، ائمہ حدیث سے مروی ہے اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں انہوں نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تھا آپ پر سکینت چھاگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر تھی، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری بوجھ کبھی کسی چیز کو نہیں پایا، پھر جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا :” لکھو “ میں نے شانے کی ہڈی پر لکھا (آیت) ” لا یستوی القعدون۔۔۔۔ الایۃ، ابن ام مکتوم کھڑے تھے وہ نابینا آدمی تھی جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت سنی تو عرض کی : یارسول اللہ ! جو مومنین میں سے جہاد کر ہی نہیں سکتا وہ کیسے جہاد کرے ؟ جب کلام مکمل ہوئی تو پھر رسول اللہ ﷺ پر سکینت چھا گئی آپ کی ران میری ران پر تھی میں نے دوبارہ بوجھ محسوس کیا جس طرح پہلے محسوس کیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا : ” اے زید پڑھو “ میں نے (آیت) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “۔ پڑھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” غیر اولی الضرر “۔ الایۃ (2) (سنن ابی داؤد کتاب الجہاد جلد 1، صفحہ 339، ایضا حدیث نمبر 2146، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پڑھو “۔ حضرت زید ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کو تنہا نازل فرمایا پھر میں نے اس کو لاحق کیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! گویا میں اب اس کے ملحق کو دیکھ رہا ہوں جب کندھے کی ہڈی میں دراڑ پیدا ہوئی تھی۔ (3) (الکشاف، جلد 1، صفحہ 553)
بخاری میں مقسم مولی عبداللہ بن حارث سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” لا یستوی القعدون من المؤمنین “۔ کا ارشاد بدر کی جنگ میں پیچھے رہنے والوں اور بدر کی طرف نکلنے والوں کے متعلق ہے، علماء نے فرمایا : اہل الضرر سے مراد معذور لوگ ہیں۔ کیونکہ ان کے عذروں نے انہیں نقصان پہنچایا حتی کہ جہاد سے انہیں روک دیا، صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جب کہ آپ کسی غزوہ سے واپس آرہے تھے، ” مدینہ میں کچھ لوگ ہیں تم نے وادی طے کی اور تم جس جگہ چلے وہ تمہارے ساتھ تھے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عذر نے روک لیا تھا “۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صاحب العذر کو غازی کا اجر ملتا ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ احتمال ہے کہ اس کا اجرا برابر ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل میں وسعت ہے اور اس کو ثواب اس کا فضل ہے نہ کہ استحقاق ہے۔ سچی نیت پر وہ ثابت ہوتا ہے جو فعل پر ثابت نہیں ہوتا، بعض علماء نے فرمایا : معذور کو بغیر تضعیف کے اجر ملے گا جب کہ غازی کو تضعیف کے ساتھ اجر ملے گا، کیونکہ اس نے خود بالفعل شرکت کی۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول اصح ہے ان شاء اللہ۔ کیو کہ اس کے لیے صحیح حدیث موجود ہے کہ ” مدینہ طیبہ میں کچھ لوگ ہیں “ اور ابو کبثہ کی حدیث میں نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” دنیا چار لوگوں کے لیے ہے “۔ یہ حدیث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے اس معنی سے مراد وہ ہے جو حدیث میں وارد ہے ” جب بندہ مریض ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے کے لیے وہ لکھو جو یہ صحت میں کرتا تھا حتی کہ ٹھیک ہوجائے یا میں اس کی جان قبض کر لوں “۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، والسیر، جلد 1 صفحہ 420، ایضا حدیث نمبر 2774، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (2) بعض علماء نے اس آیت سے دلیل پکڑی ہے اہل دیوان، اجر میں نوافل پڑھنے والوں سے زیادہ ہیں، کیونکہ اہل دیوان، عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور تکالیف میں مال کو خرچ کرتے ہیں اور لشکروں اور اوامر کو خوش کرتے ہیں پس وہ نوافل پڑھنے والوں سے عظیم ہوتے ہیں، کیونکہ بڑی بڑی جنگوں میں ان کے دل سکون میں ہوتے ہیں اور دل خوش ہوتے ہیں، ابن محیریز نے کہا : عطیہ دینے والے نفل پڑھنے والوں سے افضل ہوتے ہیں، کیونکہ وہ خوف دور کرتے ہیں، مکحول نے کہا : لشکروں کا خوف، قیامت کے خوف کو دور کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اس سے اس شخص نے بھی دلیل پکڑی ہے جو کہتا ہے غنا فقر سے افضل ہے، (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 98 دارالکتب العلمیہ)
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کا ذکر فرمایا جس کے ذریعے نیک اعمال تک پہنچا جاتا ہے، علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے جب کہ اس بات پر اتفاق ہے کے فقر کی وجہ سے زیادہ محتاج بن جانا مکروہ ہے، اور غنا کی وجہ سے اکڑنا مذموم ہے، ایک قوم نے غنا کو فضیلت دی ہے، کیونکہ غنی قادر ہوتا ہے اور فقیر عاجز ہوتا ہے اور قدرت، عجز سے افضل ہوتی ہے، ماوردی نے کہا : یہ ان لوگوں کا مذہب ہے جن پر شہرت غالب تھی، دوسرے علماء فقر کو فضیلت دیتے ہیں، کیونکہ فقیر تارک ہوتا ہے غنی ملابس ہوتا ہے، اور دنیا کا ترک اس کی ملابست سے افضل ہے، ماوردی نے کہا : یہ ان کا مہذب ہے جس پر سلامتی کی محبت غالب ہے، بعض دوسرے دونوں امر میں توسط کی فضیلت دیتے ہیں کہ حد فقر سے غنا کے ادنی مراتب کی طرف نکلے تاکہ دو امروں کی فضیلت کو پائے اور دونوں حالتوں کی مذمت سے سلامت ہوجائے، ماوردی نے کہا : یہ اس کا مذہب ہے جو اعتدال کو فضیلت دیتے ہیں، خیر الامور اوسطھا بہتر امر متوسط ہے، شاعر نے کتنا خوبصورت کہا :
الا عائذا باللہ من عدم الغنی ومن رغبۃ یوم الی غیر مرغب :
مسئلہ نمبر : (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” غیر اولی الضرر “۔ یہ اہل کوفہ اور ابوعمرو کی قرات غیر (رفع کے ساتھ) ہے۔ اخفش نے کہا : یہ قاعدین کی صفت ہے، کیونکہ اس سے کسی متعین قوم کا ارادہ نہیں کیا گیا پس یہ نکرہ کی طرف ہوگئے ان کا غیر سے وصف بیان کرنا جائز ہے معنی یہ ہے کہ (آیت) ” لا یستوی القاعدون غیر اولی الضرر “۔ یعنی ” لا یستوی القاعدون الذین ھم غیر اولی الضرر “۔ اور یہ معنی ہے ” لا یستوی القاعدون الاصحاء، یعنی صحیح بیٹھ رہنے والے برابر نہیں۔ یہ زجاج نے کہا ہے۔ ابو حیوہ نے غیر پڑھا ہے اور مومنین کی صفت بنایا ہے یعنی من المومنین الذین ھم غیر اولی الضرر من المومنین الاصحاء، اہل الحرمین نے غیر کو القاعدین یا المومنین سے استثناء کی بنا پر منصوب پڑھا ہے یعنی الا اولی الضرر، پس وہ مجاہدین کے ساتھ برابر نہیں اگر تو چاہے تو القاعدین سے حا کی بنا پر منصوب پڑھنے یعنی ” لا یستوی القاعدون من الاصحاء یعنی فی حال صحتھم، یعنی حالت صحت میں بیٹھنے والے برابر نہیں اور القاعدون سے کا حال ہونا جائز ہے، کیونکہ ہم کا لفظ معرفہ کا لفظ ہے جیسا کہ تو کہتا ہے : جاءنی زید غیر مریض اور جو ہم نے نزول کا سبب ذکر کیا ہے وہ بھی نصب کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فضل اللہ مجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجہ “۔ اس کے بعد فرمایا : (آیت) ” درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ “۔ پہلے درجۃ کے ساتھ فضیلت دینا پھر درجات کے ساتھ فضیلت دینا یہ مبالغہ، بیان اور تاکید ہے، بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو معذور لوگوں میں سے بیٹھنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی او بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والوں پر کئی درجات فضیلت دی، یہ ابن جریج اور سدی وغیرہما کا قول ہے، بعض نے فرمایا : درجۃ کا معنی علو (بلندی) ہے یعنی ان کا ذکر بلند کیا اور ثناء مدح اور تعریف کے ساتھ ان کو رفعت عطا فرمائی، یہ درجہ اور درجات کا معنی ہے یعنی جنت میں ان کو مدح وتعریف کے ساتھ شان رفیع عطا فرمائے گا، ابن محیریز نے کہا : ستردرجات ہیں اور ہر دو درجات کے درمیان ستر سال عمدہ گھوڑے کے دوڑنے کی بلندی ہے۔ (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 2، صفحہ 64)
درجات اجر سے بدل ہے اور اس کی تفسیر ہے، ظرف کی تقدیر پر اس کو نصب دینا بھی جائز ہے یعنی فضلھم بدرجات اور اس کا (آیت) ” اجرا عظیما “۔ کی تاکید ہونا بھی جائز ہے، کیونکہ اجر عظیم ہی درجات، مغفرت اور رحمت ہے اور اس رفع بھی جائز ہے، یعنی ذالک درجات، اجرا کو نصب فضل کی وجہ سے ہے اگر تو چاہے تو مصدر بنا دے اور یہ احسن ہے پھر اسے فضل کی وجہ سے نصب نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنے دو مفعول پورے کرچکا ہے اور وہ المجاھدین اور علی القاعدین ہیں اور اسی طرح درجۃ کا حکم ہے، الدرجات سے مراد منازل ہیں جو ایک دوسرے سے بلند ہیں اور نبی مکرم ﷺ سے صحیح میں مروی ہے کہ ” جنت میں سو درجات اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لیے تیار فرمائے ہیں ہر دو درجات کے درمیان آسمان اور زمین میں جتنا فاصلہ ہے “۔ (2) (صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر جلد 1، صفحہ 391، صحیح بخاری، حدیث نمبر 2581، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
(آیت) ” وکلا وعد اللہ الحسنی “۔ کلا کو نس ؓ وعد کی وجہ سے ہے اور ” الحسنی “ سے مراد جنت ہے یعنی وعداللہ کلا الحسنی “۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے جنت کا وعدہ فرمایا، پھر بعض علماء نے فرمایا : کلا سے مراد خاص مجاہدین ہیں، بعض نے فرمایا : مجاہدین اور معذور لوگ ہیں، واللہ اعلم۔