Ayahs 3:108–109یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور ارض کا مالک ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کا بھی مالک ہے ‘ اور تمام امور کا آخری فیصلہ اسی کے ہاں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عمل پر جزاء وسزا کا تعین اس لئے کیا ہے تاکہ سچ کا بول بالا ہو اور نظام عدل جاری ہو اور معاملات اس نہج پر چلیں جو شان جلالت کے لائق ہوں اور یہ بات نہیں ہے جیسا کہ اہل کتاب کو زعم ہے کہ انہیں تو صرف معدودے چند دنوں تک آگ کی سزا دی جائے گی پھر وہ نکل آئیں گے ۔
اس کے بعد امت مسلمہ کے اوصاف کا بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت ‘ اپنی قدر و قیمت اور اپنی حقیقت سے شناسا ہوسکے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے سامنے اہل کتاب کا تعارف کرایا جاتا ہے ۔ اہل کتاب کے رتبہ کو کم نہیں کیا جاتا ‘ ان کی حقیقت بیان کرکے انہیں یہ امیددلائی جاتی ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کے لئے مفید ہوگا ‘ لہٰذا اہل ایمان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان کے دشمن انہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ وہ ان کے مکر و فریب اور ان کے قتال کے باوجود مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ نہ مسلمانوں پر فتح یاب ہوسکتے ‘ اہل کفر آخرت میں دوزخ میں رہیں گے اور اس دنیا میں ایمان وتقویٰ کے بغیر انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ آخرت میں انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
Ayah 3:110ان آیات کے ابتدائی حصہ میں ‘ جماعت مسلمہ کے کاندھوں پر ایک بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے اور یہ بوجھ اس لئے ڈالا گیا ہے کہ اللہ نے اس جماعت کو مکرم اور معزز بنایا ہے اور اسے ایسا مقام و مرتبہ دیا گیا ہے ‘ جس پر آج تک کوئی دوسری جماعت فائز نہیں ہوسکی۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
” اب دنیا میں وہ بہتر گروہ تم ہو ‘ انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ بدی سے روکتے ہو ‘ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “
یہاں اخرجت صیغہ ماضی مجہول لایا گیا ہے ۔ اور یہ ایک خاص تعبیر ہے اور قابل توجہ ہے ۔ اس سے اللہ جل کے لطیف دست قدرت کا اظہار ہوتا ہے ۔ جو اس امت کو باہر نکال رہا ہے اور غیب کے اندھیروں میں سے ‘ اس جماعت کو دھکیل دھکیل کر منصہ شہود پر لایا جارہا ہے ۔ اور اسے اس پردے کے پیچھے سے ظاہر کیا جارہا ہے جس کے پیچھے جھانکنا کسی انسان کا کام نہیں ہے اور نہ انسان اس پردہ غیب کے پیچھے کچھ جانتا ہے ۔ اخرجت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خفیہ اور نامعلوم قوت انہیں آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طور پر متحرک کررہی ہے ۔ یہ عمل یوں ہوتا ہے کہ اچانک اس کائنات کے اسٹیج پر ایک امت نمودار ہوجاتی ہے ۔ اور اس نے ایک اسٹیج پر ایک خاص رول ادا کرنا ہوتا ہے ۔ یہ رول نہایت اہم ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا ایک خاص مقام متعین ہوجاتا ہے ۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ……………” اب دنیا میں بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے ۔ “ یہ ہے وہ بات جس کا ادراک امت مسلمہ کو اچھی طرح کرلینا چاہئے تاکہ اسے اپنی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہوجائے کہ اسے تو تمام انسانوں کی اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے تاکہ وہ ہر اول دستے کا کام دے اور اس کو اس کائنات میں قیادت کا مقام حاصل ہو ۔ اس لئے کہ صرف امت ہی نہیں بلکہ وہ بہترین امت ہے ۔ اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر خیر کی قیادت ہو ‘ شر کی قیادت نہ ہو ‘ یہی وجہ ہے کہ یہ بات اس کی شان قیادت سے فروتر قرار دی گئی ہے کہ وہ دوسری جاہلی امتوں سے ہدایت لے ۔ اس کا فرض تو یہ ہے کہ دوسری جاہلی اقوام کو اپنے خزانہ علم واخلاق سے عطیات دے ۔ اور اس کے ذخائر میں ہمیشہ ایسی اجناس موجود ہونی چاہئیں جنہیں وہ دوسری محروم اقوام وملل کو عطا کرتی رہے ۔ وہ ان اقوام وملل کو صحیح عقائد و تصورات دے ‘ صحیح فکر دے ‘ صحیح نظام حیات دے ‘ صحیح اخلاق دے ‘ صحیح علم ومعرفت عطاکرے ۔ یہ وہ فریضہ ہے جو اس کی اعلیٰ حیثیت کی وجہ سے اس پر عائد ہوتا ہے اور اس پر یہ فریضہ اس کے مقصد وجود کی وجہ سے فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ بات اس کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ ہر میدان میں دوسری امم کے لئے ہر اول دستہ رہے ۔ وہ ہمیشہ قیادت کے مقام ومنصب پر رہے اور ہمیشہ مرکز امم ہو۔ لہٰذا اس کے اس منصب کے کچھ آثار ونتائج ہیں ۔ وہ منصب محض دعویٰ سے حاصل نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس امت کے سپرد کیا جاتا ہے جو اس کی اہل ہوا کرتی ہے ‘ وہ اپنے تصورات و افکار کی وجہ سے اور اپنے اعلیٰ نظام حیات کی وجہ سے جب اس کے اہل ہوتی ہے ‘ تب ہی یہ اسے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ امت کو علمی میدان میں بھی سب امم سے آگے ہونا چاہئے اور ترقی وتعمیر کے اعتبار سے بھی اسے اقوام وملل سے آگے ہونا چاہئے ‘ تاکہ وہ مقام خلافت فی الارض پر فائز ہو اور اپنے آپ کو اس کے لئے اہل ثابت کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ جس نظام حیات کی داعی ہوگی وہ نظام اس سے بہت کچھ کمالات کا مطالبہ کرتا ہے ‘ اور اس سے اس کا اولین مطالبہ یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں سب سے آگے رہے اگر وہ اس منصب پر بدستور فائز رہنا چاہتی ہو اور اس کے تقاضوں اور اس کے فرائض کو پورا کرتی ہو ۔
اس امت کے منصب اور مقام کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس زندگی کو شر اور فساد سے پاک کردے اور اس کے پاس اس قدر قوت ہونا چاہئے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے سکے ۔ اس لئے کہ وہ ایک بہترین امت ہے اور لوگوں کی اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے ۔ اور وہ خیر امت محض اللہ کی جانب سے کسی مجاملت یا خصوصی تعلق محبوبیت کی وجہ سے نہیں بنی ‘ نہ ہی اسے خیر امت اتفاقاً بلا مقصد و ارادہ بنادیا گیا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس سے ایسے کام کی توقع نہیں کی جاسکتی ‘ اللہ کے ہاں اعزاز اور شرف ان خام خیالیوں کی بنا پر نہیں ملتا ‘ جن میں یہ اہل کتاب مبتلا ہوگئے تھے اور کہتے تھے نَحنُ اَبنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤہٗ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں ۔ “ ہرگز نہیں ‘ یہ ایک مثبت عمل تھا ‘ منصوبے کے مطابق انسانیت کو برائی سے بچانامقصود تھا ‘ اسے معروف قائم کرنا مطلوب تھا ‘ اور ایمانی تصور حیات کے ساتھ جو دنیا میں معروف ومنکر کی حدوں کو واضح کردے۔
تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ……………” نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دراصل اس بہترین امت کے فرائض ہیں ‘ جن کو لے کر اسے اٹھنا ہے چاہے وہ ان فرائض کی ادائیگی میں تکالیف اٹھانی پڑیں ‘ اس لئے کہ یہ ایک خاردار راستہ ہے ۔ اس میں شر کو چیلنج کرنا ہے ‘ لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا ہے اور معاشرے کو شروفساد کے عوامل واسباب سے بچانا ہے اور یہ سب کام تھکادینے والے کام ہیں ‘ لیکن یہ سب کام ایک صالح معاشرے کے قیام اور بچاؤ کے لئے ضروری ہیں نیز اس کے سوا وہ نقوش جم نہیں سکتے جن کے مطابق اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ “
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ پکا مومن ہونا بھی ضروری ہے ‘ اس لئے اسلامی معاشرے میں حسن وقبح کے پیمانے ایمان ہی کے ترازو کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور معروف اور منکر کی صحیح پہچان ہوسکے ۔ اس لئے کہ کسی ایک گروہ کا صالح ہوجانا ہی کافی نہیں ‘ بعض اوقات شر و فساد اس قدر پھیل جاتا ہے کہ معاشرے کی اجتماعی اقدار بدل جاتی ہیں اور ان میں خلل پڑجاتا ہے ۔ اس لئے خیر وشر کے لئے ایک مستحکم تصور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس میں فضائل اعمال اور رذائل صفات کے اندر اچھی طرح جدائی ہو ‘ معروف منکر سے جدا ہو ‘ اور یہ تصور حیات اصلاح کی کسی مخصوص اسکیم سے علیحدہ ایک دائمی اصول و مبادی پر مبنی ہو۔
اور ظاہر ہے کہ یہ مقاصد صرف ایمان کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوسکتے ہیں ‘ یعنی اس کائنات میں صحیح تصور اور اس کائنات کے خالق کے ساتھ اس کا تعلق کے بارے میں صحیح تصور ‘ انسان اور اس کے مقصد وجود کے بارے میں صحیح تصور اور اس کائنات کے اندر انسان کے مقام اور اس کی حیثیت کے بارے میں صحیح تصور ۔ پھر ان صحیح تصورات کے نتیجے میں صحیح اخلاقی اصول وجود میں آتے ہیں ‘ جو خدا خوفی اور اس کی رحمت ورضا کی امیدپر مبنی ہوتے ہیں ‘ اور ان اصولوں کی وجہ سے لوگ ان اخلاقی اصولوں کے قیام پر بخوشی مائل ہوتے ہیں ‘ ان کے دلوں پر اللہ کی حکمرانی ہوتی ہے اور ان کے معاشرے پر اللہ کی شریعت کی حکمرانی ہوتی ہے اور یوں ان اصول وقواعد کی نگہبانی بھی ہوتی رہتی ہے۔
پھر ایمان اس لئے بھی ضروری ہے کہ داعیان خیر ‘ امر کنندگان معروف اور مانعان منکر اس راہ پرخار پر ‘ مشقتیں برداشت کرتے ہوئے ثابت قدمی سے ‘ اس قوت ایمانی کے بل بوتے پر گامزن ہوسکیں ۔ خصوصاً جبکہ ان کا مقابلہ شر کے طاغوتوں سوے ہو اور یہ طاغوت نوجوان بھی ہو اور تنومند بھی ہو ‘ جبکہ وہ خواہشات نفس کے طاغوت کا مقابلہ کررہے ہوں اور یہ خواہش اپنی شدت میں ہو اور خوب جوان ہو ‘ جبکہ وہ گری ہوئی ارواح کا مقابلہ کررہے ہوں جن کے عزائم کند ہوچکے ہوں جن کی شمع امید بجھ چکی ہو اور ایسے حالات میں ان کا زاد راہ صرف ایمانی قوت ہو ‘ ان کا سامان جنگ صرف ایمان ہو اور ان کا تکیہ صرف اللہ پر ہو ‘ ان کی حالت یہ ہو کہ ایمان کے زادراہ کے سواتمام توشے ختم ہوچکے ہوں اور ایمان کے سازوسامان کے سوا تمام سازوسامان ختم ہوچکے ہیں ۔ اور اللہ کے سوا تمام سہارے ایک ایک کرکے گرچکے ہوں ۔
اس سے پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ اے امت مسلمہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو سر انجام دے ۔ وہاں تو امت پر فریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر عائد کیا گیا تھا ۔ اب یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو ‘ تمہاری صفت و خاصیت یہ ہے کہ تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو ‘ اس میں امت کو یہ اشارہ ہے کہ اگر تمہارے اندر یہ صفت نہ پائی گئی ‘ یا کسی وقت نہ پائی جاتی ہو تو گویا تمہارا حقیقی وجود ہی نہ ہوگا۔ اس لئے کہ انسانی معاشرے میں یہ تمہاری پہچان ہے ۔ تم اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ لے اٹھو گے ‘ تو تم موجود تصور ہوگے اور اگر تم یہ فریضہ ترک کردوگے تو تم معدوم تصور ہوگے ‘ اور گویا صفت ایمان اور اسلام معدوم تصور ہوگی۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر امت مسلمہ کے اس فریضے کی طرف صراحت اور اشارات کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ‘ جس پر بحث ہم ان مقامات پر کریں گے ۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی بار بار اس فریضہ منصبی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ چیدہ چیدہ احادیث یہاں پیش کروں :
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا :” تم میں سے جو بھی منکر کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے زائل کردے ‘ اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنی زبان کے ساتھ ‘ اور اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل کے ساتھ ۔ اور یہ ضعیف ایمان ہے۔ “
حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑگئے ‘ تو انہیں ان کے علماء نے روکا ‘ اور وہ نہ رکے ‘ تو ان کے علماء نے ان سے ہم نشینی کی ‘ ان کے ساتھ کھاتے پیتے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دلوں کو دوسروں کے دلوں کے ساتھ مارا ‘ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ بیٹھ گئے (اور آپ ﷺ تکیہ لگائے تھے ) اور پھر فرمایا :” ہرگز نہیں ! اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ یہاں تک کہ تم انہیں واپس حق کی طرف اچھی طرح پلٹا کر نہ لے آؤ۔ “ لفظ تامروا تعطفوا (موڑو) اور تردوا (یعنی واپس لاؤ) ہے۔ (ابوداؤد ۔ ترمذی)
حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں ‘ فرمایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے ” اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تمہیں معروف کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں منکر سے روکنا ہوگا ورنہ قریب ہے کہ اللہ ‘ اپنی جانب سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے اور پھر صورت حال یہ ہوجائے کہ تم اسے پکارو گے اور وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب تمہیں نہ دے۔ “ (ترمذی)
اور حضرت عرس بن عمیر کندی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جب زمین میں کوئی برائی ہورہی ہو ‘ تو جو شخص اس وقت اسے دیکھ رہا ہو ‘ اور اس پر نکیر کررہا ہو تو ایسا ہوگا ‘ جس طرح وہ اس سے غائب ہو ‘ اور جو شخص اس سے غائب ہو لیکن اس پر راضی ہو تو وہ ایسا ہوگا جیسا کہ وہ اسے دیکھ رہاہو۔ (ابوداؤد)
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ فرمایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ شہداء کے سردار ہیں اور وہ شخص شہداء کا سردار ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوگیا اسے امر بالمعروف کیا اور اسے منکر سے روکا ٹوکا ‘ اور اس وجہ سے اس نے اس شخص کو قتل کردیا ۔ “ (روایت حاکم)
یہ اور اس کے علاوہ دوسری بیشمار احادیث اسلامی سوسائٹی کی اس خصوصیت کو بیان کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اسلامی معاشرے میں یہ فریضہ اور اس کی ادائیگی اشد ضروری ہے ۔ اس صفت کی وجہ سے معاشرے کی راہنمائی اور تربیت کا انتظام ہوتا رہتا ہے ‘ اور قرآنی ہدایت کے حکم ہونے کے علاوہ یہ ایک ایسا توشہ ہے جس کی افادیت سے اور اس کی قدر و قیمت سے ہم بالکل غافل ہیں ۔ اس کے بعد اب ہم پہلی آیت کے حصہ آخر کی طرف آتے ہیں ۔
وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ……………” یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو اس کے حق میں بہتر ہوتا اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں ۔ “
ان فقروں میں اہل کتاب کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ایمان لے آئیں ۔ ایمان ان کے لئے بہتر ہوگا ‘ اس کی وجہ سے ان کو اس تفرقہ بازی اور ہلاکت سے نجات ملے گی جس میں پڑے ہوئے ہیں ‘ وہ اعتقادی تصورات میں بھی فرقہ واریت میں مبتلا تھے اور ان کی شخصیت مجتمع نہ تھی ‘ اس لئے ان کے اعتقادی تصورات کے اندر اس قدر صلاحیت نہ تھی کہ وہ کسی اجتماعی نظام زندگی کی اساس بن سکیں ۔ اس وجہ سے کہ ان کے اجتماعی نظام ‘ ان کے اپنے عقائد کے علاوہ دوسرے تصورات پر قائم تھے ۔ چناچہ ان کا اجتماعی نظام ہمیشہ لنگڑا ‘ لولا اور ہوا کے اندر معلق نظام رہا۔ اس کی جڑیں کھبی بھی ان معاشرے کے اندر نہ پھیلیں ‘ جس طرح دنیا کے وہ نظام ہوا میں معلق رہتے ہیں جو کسی مکمل اعتقادی اور نظریاتی اساس پر قائم نہیں ہوتے ‘ جن کی تعمیر ایسے نظریہ حیات پر نہیں ہوتی جو اس کائنات کے معمہ کا مکمل حل پیش کرتا ہو ‘ جو وجود انسانی کے مقاصد نہ متعین کرتا ہو ‘ جو اس کائنات میں انسان کا مقام نہ متعین کرتا ہو ‘ اور ایمان لانا ان کے لئے آخرت میں بھی مفید ہے ۔ اس لئے کہ آخرت میں غیر اہل اسلام کا جو برا انجام ہونے والا ہے ‘ اس سے وہ بچ جائیں گے ۔
اس آیت میں صاف صاف اعتراف کیا جاتا ہے کہ ان اہل کتاب میں سے بعض لوگ صالح بھی ہیں ۔ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ……………” ان میں سے بعض اگرچہ مومن ہیں مگر اکثر فاسق ہیں۔ “
اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایمان لائے تھے ‘ اور وہ بہت ہی اچھے مسلمان تھے ۔ مثلا عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ بن شعبہ اور کعب بن مالک وغیرہ ۔ انہی لوگوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے ۔ اگرچہ اس آیت میں اجمالی اشارہ ہے اور دوسری آیت میں تفصیلی اشارہ ہے ۔ لیکن ان کی اکثریت دین اسلام سے منکر رہی ۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے اس عہد کو توڑا جو اللہ نے نبیوں سے لیا تھا کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے نبی پر ایمان لائے گا ‘ جو اس کے بعد مبعوث ہوگا ‘ اور اس کی نصرت کرے گا ۔ وہ دین اسلام کے نافرمان اس طرح قرار پائے کہ انہوں نے نبی آخرالزمان کے بھیجنے کے سلسلے میں اللہ کے ارادہ اور حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا ‘ محض اس لئے کہ یہ رسول بنی اسرائیل کے قبیلے سے نہ تھا ‘ اور انہوں نے اس رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی آخری شریعت کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے کرانے کے اعزاز سے بھی اپنے آپ کو محروم رکھا ‘ حالانکہ اللہ کا ارادہ اور فرمان یہ تھا کہ تمام انسانیت اس شریعت کے مطابق زندگی بسر کرے ۔
اہل ایمان میں سے بعض لوگ چونکہ بدستور مدینہ کے اہل یہود کے ساتھ روابط قائم کئے ہوئے تھے اور اس وقت تک مدینہ طیبہ میں یہودی ایک برتر قوت تھے ‘ وہ ایک عسکری قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اقتصادی قوت بھی تھے اور اہل اسلام میں بعض لوگ ان کی اس حیثیت کو تسلیم بھی کرتے تھے ‘ اس لئے قرآن کریم نے یہ ضروری سمجھا کہ ان نافرمانوں کو اس حیثیت پر تنقید کرکے مسلمانوں کو ان کی مرعوبیت سے نکالاجائے اور ان کے کفر ‘ نافرمانی اور ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی حیثیت میں جو کمی واقع ہوئی ہے ‘ اس کا اظہار کیا جائے ۔ نیز جس طرح وہ فرقوں میں بٹے ہوئے تھے اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت اور خواری مسلط کردی تھی یہاں اسے واضح طور پر ریکارڈ کردیا گیا ۔
Ayah 3:111ان آیات میں اللہ مومنین کو فتح ونصرت کی ضمانت دیتے ہیں ‘ اور آخرکار ان کی سلامتی کی بھی صریح ضمانت دیتے ہیں ‘ جب بھی وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنا سامنا کریں گے یہ ضمانت ان کے لئے موجود ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اپنے رب پر یقین کریں۔
لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الأدْبَارَ ثُمَّ لا يُنْصَرُونَ……………” یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے زیادہ سے زیادہ بس ستاسکتے ہیں ‘ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے ‘ پھر ایسے بےبس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی ۔ “
اس لئے وہ دعوت اسلامی کو کوئی حقیقی ضرر نہیں پہنچاسکتے ‘ نہ وہ جماعت مسلمہ کی تشکیل میں کوئی اثر اندازی کرسکتے ہیں اور نہ وہ دعوت اسلامی کو اس کرہ ارض سے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہاں جماعت مسلمہ کے ساتھ جب ان کا تصادم ہوتا ہے تو وہ اذیت دے سکتے ہیں ‘ وہ اس قسم کے عارضی دکھ دے سکتے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن جب وہ مسلمانوں کے ساتھ میدان جنگ میں مقابل ہوں گے تو ان کے لئے شکست لکھی ہوئی ہے اور آخر کار وہ شکست کھائیں گے ‘ ان کی قسمت میں مسلمانوں کے برخلاف کوئی نصرت نہیں ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی مددگار ملے گا اور نہ وہ مسلمانوں کی زد سے بچ سکیں گے ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ان پر ذلت کی زد پڑگئی ہے اور اس کا یہ انجام بد لکھ دیا گیا ہے ‘ اس لئے وہ جس سرزمین میں بھی ہوں گے وہ ذلیل ہوکر رہیں گے ‘ وہ یا تو اللہ کی ذمہ داری میں رہیں گے اور یا مسلمانوں کی ذمہ داری میں رہیں گے ۔ جب وہ مسلمانوں کی ذمہ داری میں داخل ہوں گے تو ان کا مال اور ان کی جان محفوظ ہوگی ماسوائے اس کے کہ ان کے خلاف کوئی حق ثابت ہوچکا ہو ‘ یوں انہیں امن اور اطمینان نصیب ہوگا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودیوں کو صحیح امن مسلمانوں کی ذمہ داری کے اندر نصیب ہوا ہے۔ لیکن یہود اس قدر نمک حرام ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مسلمانوں سے زیادہ اور کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھتے ۔” وہ اللہ کا غضب لے کر لوئے ہیں ۔ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ یعنی گویا وہ دربدر ہوئے ‘ مارے مارے پھرتے رہے اور آخر کار اللہ کے غضب کا سامان سروں پر اٹھائے ہوئے لوٹے۔ “ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ……………” ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ۔ “ ان کے ضمیر اور شعور میں محتاجی کا احساس رچ بس گیا ہے ۔
ان آیات کے نزول کے بعد یہ تمام واقعات یہودیوں کی تاریخ میں انہیں پیش آئے ‘ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان جو معرکے پیش ہوئے ان میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح ونصرت سے سرفراز کیا ‘ جب تک مسلمانوں نے اپنے دین اور اپنے نظام حیات اور اپنے نظریہ حیات کو اپنے سینے سے لگائے رکھا ‘ اور اپنی زندگیوں میں اسلامی نظام حیات قائم رکھا ‘ تو ان کے اعداء کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے ذلت اور خواری کو لکھ دیا۔ الا یہ کہ مسلمانوں کے عہد وذمہ داری کی وجہ سے انہیں چین نصیب ہوا یا یہ کہ خود مسلمانوں نے اسلامی نظام حیات کو ترک کردیا اور اپنے دین کو چھوڑ دیا۔
Ayah 3:112قرآن کریم اس بات کا بھی انکشاف کرتا ہے کہ ان لوگوں کی قسمت میں ذلت اور خواری کیوں لکھ دی گئی ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ تو سبب دراصل ایک عام سبب ہے ‘ جس کے آثارونتائج ہر قوم پر منطبق ہوسکتے ہیں ۔ چاہے وہ دین کے معاملے میں جس قدر اونچے دعوے کرتی ہو۔ ان کی ذلت و خواری کا سبب اللہ کی نافرمانی اور ظلم تھا۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ
” اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام تھا۔ “
لہٰذا اللہ کی آیات کا سرے سے انکار کردینا اپنی زندگیوں میں انہیں نافذنہ کرنا اور ان کے مطابق اپنا نظام عدالت نہ چلانا اور انبیاء کو ناحق قتل کرنا ‘ اور ان لوگوں کو قتل کرنا جو لوگوں میں داعیان عدل ہوں جیسا کہ اس سورت کی دوسری آیت میں وارد ہے ۔ یعنی صرف نافرمانی اور ظلم کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور شکست ‘ ذلت اور خواری ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ۔ اور یہی وہ اسباب ہیں جو آج کل اس کرہ ارض پر مسلمانوں کی بگڑی ہوئی منحرف نسل کے اندر مکمل طور پر پائے جاتے ہیں ‘ وہ نسل جو اپنے اوپر لفظ اسلام کا اطلاق غلط طور پر کررہی ہے ‘ اور یہی اسباب آج وہ اللہ کے سامنے اپنے کردار کے آئینہ میں ‘ پیش کررہے ہیں ‘ اس لئے اللہ کی جانب سے بھی آج ان کے ساتھ بعینہ وہی سلوک کیا جارہا ہے جو اللہ نے ان ہی اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ کبھی کیا تھا ‘ یعنی آج شکست ‘ ذلت اور خواری ان کا مقدر بن چکی ہے ۔ جب آج ان میں سے کوئی پوچھتا کہ ہم اس کرہ ارض پر غالب کیوں نہیں ہورہے ‘ حالانکہ ہم مسلمان ہیں ؟ تو یہ سوال کرنے سے پہلے اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اسلام ہے کیا ؟ اور مسلمان ہوتے کون ہیں ؟ پھر وہ یہ سوال کرے ۔
بہرحال رسول ﷺ کے وقت اہل کتاب میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے ۔ اگرچہ تھوڑے تھے ‘ یہ ضروری تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا ۔ اس لئے آیت بالا کے بیان کردہ کلیہ میں استثناء کی گئی ۔ بتایا گیا کہ وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ان میں سے اچھے مومن بھی پیدا ہوئے ہیں ۔ اور ان کا تعلق باللہ بعینہ ایک اچھے مسلمان اور صادق مسلمان کی طرح ہے۔ اس لئے جو اس جزا کے مستحق ہوں گے ‘ جس کے سچے اہل ایمان مستحق ہوئے ۔
Ayahs 3:113–115یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔
یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔
یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔
Ayah 3:116یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “
ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق ایمان سے ہو ‘ لیکن قرآن کریم اس کی تعبیر اس طرح نہیں کرتا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو ایک زندہ اور متحرک منظر کی صورت میں پیش کرتا ہے ‘ جو نبض کی طرح متحرک ہو ۔
Ayah 3:117ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جس کے سامنے ایک ہر ابھرا کھیت ہے ‘ اس کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ کھیت لہلہارہا ہے ۔ اچانک تیز ہوا چلتی ہے ‘ یہ نہایت سرد برفانی ہوا ہے ‘ شدید سردی کی وجہ سے تیار فصل جل جاتی ہے ‘ یہ دیکھا گیا ہے کہ شدت برودت کی وجہ سے فصل جھلس جاتی ہے ۔ الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں کہ گویا اس کھیت پر بڑی تیزی اور قوت کے ساتھ سنگ باری ہوتی ہے اور پورے پورے کھیت کو برباد اور خراب کردیا جاتا ہے ۔
چشم زدن میں یہ پورا عمل سر انجام پاتا ہے ۔ آناً فاناً کھیت ملیا میٹ اور خراب ہوجاتا ہے ۔ یہی مثال اس دنیا میں ان لوگوں کے انفاق کی ہے جو کافر ہیں ‘ اگرچہ وہ بظاہر کارخیر اور اچھے مقاصد میں خرچ کرتے ہیں نیز ان لوگوں کے اموال اور اولاد بھی کچھ کام نہ دیں گے ۔ قیامت میں سب کے سب بےکار ہوں گے ۔ وہ وہاں نہ کوئی حقیقی دولت ہوں گے اور نہ ان پر کوئی جزاء ہوگی اور نہ مفید بن سکیں گے ۔
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ……………” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ وہ خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں ۔ “ خود انہوں نے اس نظام زندگی سے روگردانی کی جو تمام انفرادی بھلائیوں اور اچھائیوں کو جمع کرنے والا ہے ‘ ان کو ایک خط مستقیم پر لاتا ہے اور مستحکم کرکے ایک مرکزتک پہنچاتا ہے ۔ جس کا ایک مقرر ہدف ہے ‘ ایک قابل فہم داعیہ ہے ‘ اس میں نیکی کا ایک خاص طریق کار ہے ‘ اس میں نیکی کو کسی عارضی جذبے یا کسی پوشیدہ خواہش اور یا کسی بےربط عمل کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس میں نیکی اور بھلائی ایک مستقل دائمی منہاج کے مطابق سر انجام دی جاتی ہے ۔
ان لوگوں نے خود اپنے لئے گمراہی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا ‘ انہوں نے اللہ کی رسی کی حفاظت سے منہ موڑا ‘ جس کی وجہ سے ان کے تمام اعمال اکارت گئے ‘ یہاں تک کہ جو مال انہوں نے بظاہر کارخیر میں صرف کئے وہ بھی ضائع ہوئے ۔ جب ان کا کھیت بھی تباہ ہوگیا ‘ تو پھر ان کا مال ان کے کس کام اور ان کی اولاد ان کے کس کام ؟ یہ ظلم انہوں نے خود اپنے آپ پر کیا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے خود نافرمانی اور روگردانی کا راستہ اپنے لئے اختیار کیا ۔
غرض یہ فیصلہ کن بات ہے کہ کوئی انفاق فی سبیل اللہ اور کوئی عمل صالح اس وقت تک مفید نہیں ہے جب اس کا رابطہ ایمانی منہاج سے نہ ہو ‘ جب تک وہ ایمانی داعیہ پر مبنی نہ ہو ۔ یہ فیصلہ اللہ کا ہے ‘ یہ اللہ کا کہنا ہے لہٰذا اس میں انسان کے لئے کچھ کہنے کا کوئی موقعہ باقی ہی نہیں رہتا ۔ اس فیصلے کو وہی لوگ چیلنج کرسکتے ہیں جو اللہ کی آیات کو چیلنج کرتے ہیں ‘ لیکن ان کا یہ چیلنج علم و دانش پر مبنی نہیں ہوتا ۔ وہ ہدایت پر مبنی ہوتا ہے ‘ نہ کتاب الٰہی کے روشن دلائل پر۔
یہ سبق جس کا آغاز اہل کتاب کے طرز عمل میں انحراف اور بگاڑ سے ہوا تھا ‘ جس میں بتایا گیا تھا کہ اہل کتاب کے جدال ومناظرے میں کیا کیا مغالطے ہیں ‘ جس میں تفصیلاًبتایا گیا کہ یہ اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف کیا کیا سازشیں کررہے ہیں ‘ جس میں جماعت مسلمہ کو بتایا گیا تھا ‘ کہ اس کرہ ارض پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں ‘ قطع نظر اس سے کہ یہ فاسق ‘ بگڑے ہوئے لوگ جو محاربہ کررہے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔ اس سبق کے آخر میں جو اس پوری سورت میں طویل سبق ہے ‘ جماعت مسلمہ کو بڑی سختی سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ ہرگز ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستی نہ رکھے جو اس کے قدرتی دشمن ہیں ۔ اس کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ان دشمنوں کو اپنا راز دان بنائے یا ان پر بھروسہ کرے ‘ جبکہ وہ ان تمام لوگوں کے بھی پکے دشمن ہیں جو ایمان لائے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی یہ تنبیہ اور تخویف ایک دائمی اصول ثبت ہوتی ہے اور ہم اس کا مصداق آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسی شکل ہے جسے قرآن کریم نے ایک زندہ جاوید صورت میں قلم بند کیا ہے لیکن قرآن کے حاملین آج اس سے غافل ہیں ۔ چناچہ ان کی اس غفلت کی وجہ سے ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور آئندہ بھی وہ یقیناً شر و فساد سے دوچار ہوں گے اور ان سے توہین آمیز سلوک کیا جائے گا ‘ اگر وہ نہ سمجھے۔
Ayah 3:118یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی تکذیب کرتی ہے اور ان کا ہر عضو ان کو جھٹلاتا ہے لیکن مسلمان ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ لوگ مسلمانوں کے لئے صرف بےچینی اور ناکامی ہی کو پسند کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو نافرمان بنانے اور ان کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں کو فروگذاشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جب بھی انہیں فرصت ملے چاہے رات کو ملے یا دن کو ملے۔
یہ تصویر جس کے عجیب خدوخال قرآن کریم نے بتائے ہیں ‘ اور جس کا اطلاق سب سے پہلے ان اہل کتاب پر ہوتا تھا جو مدینہ میں مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے ۔ یہ ایسی تصویر ہے جو اپنے فیچرز سے اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جو پے پناہ کینہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ اسے چھپا رہے تھے ۔ یہ رات دن مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کررہے تھے ‘ اور مسلمانوں کی نسبت ان کی نیت میں ہر وقت کھوٹ پایا جاتا تھا ۔ اور ان کے ان پوشیدہ جذبات میں ہر وقت ابال آتا رہتا تھا ‘ اس کے برخلاف سادہ دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ابھی تک ان میں سے بعض لوگوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی تھی ‘ بعض لوگ ابھی تک ان کے لئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے ‘ اور ابھی تک ان کو یہ اطمینان تھا کہ اگر ہم ان کو کوئی راز بتادیں تو وہ انہیں بطور امانت محفوظ رکھیں گے ۔ اس لئے انہوں نے ان اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کو جگری دوست ‘ ساتھی اور رازدان بنالیا تھا اور وہ جماعت کے اندرونی راز تک انہیں بتانے سے نہ چوکتے تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ روشنی دی گئی جس میں جماعت مسلمہ نے ان کے اندروں کو دیکھ لیا اور حقیقت سے آگاہ ہوگئے ۔ اور اس روشنی کے ساتھ انہیں یہ سخت تنبیہ کی گئی اور انہیں اپنے ان قدرتی دشمنوں کے خفیہ منصوبوں اور سازشوں سے آگاہ کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے دشمن ہیں جو کبھی ان کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ‘ مسلمانوں کی جانب سے محبت اور ہم نشینی ان کے اس دلی بغض کو صاف نہیں کرسکتی ‘ یہ تبصرہ اور یہ تنبیہ اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے ‘ یہ ایک دائمی صورت حال کا مقابلہ ہے اور اس کا مصداق ہم اپنے موجودہ دور میں ایک کھلے مشاہدے کے بطور پر اپنے سامنے پاتے ہیں۔
آج مسلمان اپنے رب کریم کے اس حکم سے غافل ہیں ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہ رکھیں خصوصاً ایسے لوگوں کے ساتھ جو ان کے مقابلے میں اپنی اصلیت کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ‘ نظام زندگی کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں اور اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ان پر اعتماد نہ کریں ‘ ان کو راز دان نہ بنائیں اور ان سے کوئی مشورہ نہ لیں ۔ لیکن مسلمانوں کی غفلت کی انتہاء ہے کہ وہ اپنے رب حکیم کا یہ مشورہ بھول چکے ہیں اور ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے لئے ہر معاملے میں مشیر اور مرجع بنایا ہوا ہے ۔ ہر معاملے میں ‘ ہر موضوع پر اور ہر مسئلے کے بارے میں ‘ ہر سوچ میں ‘ ہر فکر میں ‘ ہر منہاج میں اور ہر طریقہ کار میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنا استاد ومرشد بنارکھا ہے ۔
اللہ کی اس سخت تنبیہ و تخویف سے آج مسلمان غافل ہیں ‘ وہ ان لوگوں سے دوستی کررہے ہیں جو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں ‘ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دریچے ان دشمنوں کے لئے وا کردیئے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت مسلمہ سے بھی کہتے ہیں اور آج کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور ہر دور کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں۔
وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
” تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ۔ “
Ayah 3:119اور اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :
هَا أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الأنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
” اور تم ان سے محبت رکھتے ہو ؟ مگر وہ تو تم سے محبت نہیں رکھتے ‘ حالانکہ تم تمام کتب سماوی کو مانتے ہو ‘ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی مان لیا ہے ‘ مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ وغضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ۔
Ayah 3:120اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا……………تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ “
بارہا ہم تجربات کے تھپیڑے کھاتے ہیں ‘ مگر ہمیں ہوش نہیں آتی ‘ باربار ہم پر سازشوں اور تخریب کاریوں کا انکشاف ہوتا ہے ‘ جو مختلف بھیس بدل کر کی جاتی ہیں ‘ مگر ہم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘ باربار ان دشمنوں کی زبان پر ایسی باتیں آجاتی ہیں جن سے ان کے دلی کینہ کا اظہار ہوتا ہے ‘ جسے مسلمانوں کی مسلسل محبت اور دوستی کے مساعی زائل نہ کرسکیں اور جسے مسلمانوں کی دینی رواداری بھی صاف نہ کرسکی ‘ لیکن ہم پھر بھی وہی کچھ کرتے ہیں اور ان کے لئے اپنے دل کھول دیتے ہیں ‘ ان میں سے دوست چن لیتے ہیں اپنی زندگی میں بھی اور اپنے نظام زندگی میں بھی ۔ اور ان لوگوں کے ساتھ ہماری رواداری اس حد تک پہنچ جاتی ہے یا ہماری روحانی شکست کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے نظریہ حیات میں بھی ان کے ساتھ مجاملت اور مداہنت کرتے ہیں اور اس رواداری یا روحانی شکست کی وجہ سے ان کے سامنے اپنے نظریہ حیات کے ذکر سے بھی ڈرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ ہم اپنے نظام حیات میں بھی رواداری کرتے ہیں اور اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر استوار نہیں کرتے ‘ ان کی خاطر ہم اپنی تاریخ میں بھی تحریف کرتے ہیں ‘ اپنے نشانات راہ ان کی خاطر مٹاتے ہیں تاکہ اس تاریخ کے بیان میں ان معرکوں کا ذکر نہ آجائے جن میں ہمارے اسلاف نے ان کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ۔ یہی ذہنی شکست ہے جس کی وجہ سے ہم پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے ‘ جو ہر اس قوم پر نازل ہوتا ہے جو اللہ کے امر سے سرتابی کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں ‘ ہم ضعیف وناتواں ہوتے ہیں اور ہم شرمندہ اور نامراد ہوتے ہیں اور ہمیں وہ نقصان پہنچ جاتا ہے جس پر ہمارے دشمن خوش ہوتے ہیں اور ہم اس ناکامی اور خرابی سے دوچار ہوتے ہیں ‘ جس کی سازش وہ ہماری صفوں کے اندر کرتے ہیں ۔
لیکن دیکھو ‘ ہماری یہ کتاب ہمیں وہ طریقہ بتاتی ہے کہ کس طرح ہم ان دشمنوں سے جان بچائیں ‘ جس طرح اس کتاب نے یہ سبق پہلی جماعت اسلامی کو بھی سکھایا تھا ‘ کس طرح ہم ان ایذا رسانیوں سے بچیں گے ‘ کس طرح ہم اس کینہ سے محفوظ ہوں گے جو ہمارے خلاف ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کبھی کبھار اس کی چنگاری ان کے منہ سے نکل جاتی ہے۔
وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ……………” مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ ان پر حاوی ہے ۔ “
تو وہ طریقہ صبر اور عزم کا طریقہ ہے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا طریقہ ہے ۔ (اگرچہ وہ بہت ہی طاقتور ہوں) اور ان کی مکاری اور سازشوں کے مقابلے میں جم جانے کا طریقہ ہے ۔ اگر وہ سازشوں اور خفیہ ریشہ دوانیوں کا طریقہ اپنائیں تو ہمارا طریقہ صبر اور اپنے نظریہ حیات پر پختگی سے جم جانے کا طریقہ ہوگا۔ بہہ جانے ‘ ختم ہوجانے اور دوسروں کے مقابلے میں ذلیل ہونے کا طریقہ نہیں ہوگا۔ نہ یہ کوئی صحیح پالیسی ہے کہ دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے یا ان کے متوقع شر و فساد کی وجہ سے ہم اپنے تمام نظریات یا بعض نظریات کو ترک کردیں ۔
دشمنان اسلام کے مقابلے میں وہ دوسرا طریق کار خدا خوفی کا طریق کار ہے ۔ صرف ایک اللہ سے ڈرنا اور صرف اس کی نگرانی کا احساس رکھنا ‘ تقویٰ اور اللہ خوفی ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسانی دل اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں ‘ ان کا تعلق صرف ان لوگوں سے ہوتا ہے جو اس اللہ کے نظام میں داخل ہوتے ہیں اور وہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جب ایک دل ذات باری کی معرفت حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے اندر سے اللہ کے سوا تمام دوسری قوتوں کا خوف دور ہوجاتا ہے اور جس قدر عزم پختہ ہوجاتا ہے اسی قدر اللہ سے یہ رابطہ مضبوط ہوتا جاتا ہے ۔ اس لئے وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا ۔ اور نہ ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں ۔ محض اپنی جان بچانے کے لئے یا دنیاوی عزت وناموس کمانے کے لئے ۔
مسلمانوں کے لئے یہی ایک راستہ ہے ‘ صبر وتقویٰ کا راستہ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لینے کا راستہ اور اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے جب بھی تاریخ اسلام میں صرف ایک اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی پوری زندگیوں میں اسلامی نظام حیات اختیار کیا ‘ تو انہوں نے عزت ووقار کا مقام پایا ‘ وہ کامران رہے ‘ اور اللہ نے انہیں دشمنوں کی سازشوں سے بچایا ‘ ان کا کلمہ بلند ہوا ‘ اور اپنی تاریخ میں مسلمانوں نے جب بھی اپنے قدرتی اعداء کی رسی کو تھاما ‘ وہ اعداء جو ان کے نظریہ حیات کے مقابلے میں خفیہ اور اعلانیہ طور پر باغیانہ جدوجہد میں مصروف ہیں ‘ اور جب کبھی مسلمانوں نے ان اعداء کے مشوروں پر کان دھرا اور انہوں نے خفیہ طور پر یا ظاہری طور پر دوست بنایا اور انہیں اپنا معاون ‘ مشیر اور ماہر فن بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کی تقدیر میں شکست لکھ دی ‘ ان کے دشمنوں کو ان کی سرزمین میں قوت دی ‘ ایسے مسلمانوں کو ان کے مقابلے میں ذلیل کیا اور وہ نہایت ہی برے انجام تک پہنچتے رہے ۔ اسلامی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول اٹل ہے ۔ یہ اس کی ایسی سنت ہے جس میں کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ‘ اور جو شخص اس کرہ ارض پر اللہ کی اس باربار دہرائے جانے والی سنت کا مشاہدہ نہیں کرتا تو اس کی آنکھیں صرف ذلت ‘ کمزوری اور توہین اور ناتوانی کے آثار ہی کا مشاہدہ کرسکیں گی ۔ اس جملے پر یہ سبق اختتام پذیر ہوتا ہے اور اس سورت کا حصہ اول بھی یہاں اختتام پذیر ہوجاتا ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ معرکہ یہاں زوروں پر ہے اور اہل اسلام اور اہل کفر کے کیمپ یہاں آکر مکمل طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ہیں ۔
اس سبق کو ختم کرنے سے پہلے ایک دوسری حقیقت بھی نوٹ کرلینے کے قابل ہے ۔ وہ یہ کہ اسلام اپنے خالص اور کھلے دشمنوں کے ساتھ بھی پوری رواداری برتتا ہے وہ ابھی اہل اسلام کو صرف یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ اہل کفر کے ساتھ خفیہ دوستی نہ رکھیں لیکن وہ اہل اسلام کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ کفار کے ساتھ دھوکہ کریں ‘ ان کے ساتھ کینہ رکھیں ‘ یا ان سے نفرت کریں یا ان کے خلاف مکاری اور سازشوں کا اسلوب اختیار کریں ۔ اسلام صرف انہیں یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچائیں اور اسلامی اتحاد کا دفاع کریں اور اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کی تدبیریں کریں یعنی اسلام نے صرف انہیں خطرے سے آگاہ کیا ‘ اپنے دفاع کی طرف انہیں متوجہ کیا اور وہ خطرہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھا ۔ اور اس میں ان کے تمام دشمن شریک تھے ۔
رہے اہل اسلام تو وہ اسلامی رواداری کے مطابق دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ‘ لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ پاکیزگی اور صفائی پر مبنی ہوتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی سے اور محبت کرتے ہوئے ملتے ہیں ‘ وہ اپنے آپ کو سازشوں سے بچاتے ہیں مگر خود کسی کے خلاف سازشیں نہیں کرتے ‘ وہ دوسروں کے کینہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں لیکن خود ان کے دل میں کسی کے ساتھ کینہ نہیں ہوتا ‘ الا یہ کہ دوسرے ان کے دین اور نظام حیات کے خلاف بغاوت اور دشمنی کررہے ہوں ‘ وہ ان کے نظریہ حیات میں فتنہ انگیزی کررہے ہوں ‘ اور لوگوں کو اللہ کے صراط مستقیم پر آنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوں ‘ اگر ایسے حالات ہوں تو پھر مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ایسے جنگجو دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہوں ‘ تاکہ فتنے کو روکا جائے اور ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو راہ خدا میں کھڑی کردی گئی ہوں ۔ اور اسلامی نظام کے قیام کے لئے سد راہ ہوں ‘ ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد بھی جہاد فی سبیل اللہ ہوگا ۔ صرف ذاتی مقاصد یا ذاتی انتقام کے لئے نہ ہوگا ‘ یہ جہاد پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے ہوگا ‘ صرف ان لوگوں کی ذات کے خلاف نہ ہوگا ‘ جنہوں نے اسلام کی راہ کو روکا ۔ اور یہ اس لئے ہوگا کہ اسلامی نظام زندگی کا پیغام جو خیر ہے لوگوں تک بےروک ٹوک پہنچ سکے ۔ اس لئے جہاد و قتال نہ ہوگا کہ مجاہدین دنیا میں تغلب حاصل کریں ‘ انہیں اس کرہ ارض پر سر بلندی نصیب ہو اور وہ لوگوں کا استحصال کریں ‘ بلکہ مقصد صرف یہ ہوگا کہ اسلام کا نظام زندگی قائم کیا جائے جس کے عادلانہ سایہ تلے سب لوگ انصاف کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ یہ جہاد کسی قوم کا علم بلند کرنے کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں امپریلزم کے قیام کے لئے شروع کیا جاتا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جس کی تائید قرآن وسنت کی متعدد نصوص سے ہوتی ہے ‘ پہلی جماعت اسلامی کی تاریخ اس کی ترجمان ہے ۔ اور یہ جماعت تو بہرحال اس دنیا میں ان نصوص کے مطابق زندگی گزاررہی تھی ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی نظام زندگی ‘ بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ جو لوگ اسلامی نظام کی راہ روکتے ہیں وہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں ‘ اور اسلامی نظام کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کا پیچھا کرے اور ایسے لوگوں سے انسانیت قیادت چھین لے ‘ اور یہی وہ فریضہ ہے جس کے لئے اسلامی جماعت اور خیر امت کو اٹھایا گیا ہے۔