Ayah 3:167اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے وہ بات ان کے دل میں نہ تھی ۔ “ ان کے دلوں میں تو نفاق کی بیماری تھی ۔ اور یہ نفاق انہیں نظریہ ٔ حیات کے تابع نہ کرتا تھا بلکہ وہ ان کی شخصیات اور ان کی ذاتی حیثیات کو نظریہ حیات سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ان لوگوں کے رئیس عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کی دن اس کی رائے کو قبول نہیں کیا ۔ اور اس واقعہ سے پہلے کے اسباب یہ تھے کہ جب رسول اکرم ﷺ اپنی رسالت کے پیغام کو لے کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ ابن ابی کی سربراہی میں ایک ریاست کی تشکیل کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ اس کے لئے تاج بن رہا تھا ۔ آپ ﷺ کی آمد کے نتیجے میں ریاست کا مقام حاملین اسلام نے حاصل کرلیا ۔ یہ بات ان کے دل میں تیر کی طرح پیوست تھی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ احد کے دن واپس ہوگئے تھے ۔ چونکہ دشمن مدینہ کے دروازے پر تھے ‘ اس لئے یہ لوگ واپس ہوگئے اور مومن صادق کی یہ بات انہوں نے رد کردی ۔ یہ مومن صادق عبداللہ بن عمرو ابن حزام تھے ۔ وہ انہیں پکار رہے تھے تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا……………”(آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دفاع ہی کرو) اس کے جواب ان کا احتجاج و استدلال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کوئی جنگ نہیں ہے ۔ اگر کوئی بات ہوتی وہ ضرور جاتے ۔ اور ان کے موقف کی تردید یوں کی گئی وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ……………” اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ “
یوں وہ اپنے تخلف اور پلٹنے کو حکمت اور مفید قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو نقصان اور ضرر رساں قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے صاف اور ستھرے تصور حیات کو خراب کرتے ہیں ‘ کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ موت وحیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق تقدیر الٰہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ان غلط تصورات کی تردید ضروری سمجھتے ہیں ۔ فوراً ان کے اس تصور کی واضح تردید کردی جاتی ہے ‘ جس سے ایک طرف ان کی تیار کی ہوئی سازش کے تار وپور بکھر جاتے ہیں اور دوسری جانب سے اسلامی تصور حیات ہر قسم کے اجمال اور دھندلے پن سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھادینا ۔ “
موت تو جس طرح مجاہد کو آتی ہے اسی طرح جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں ‘ انہیں بھی آتی ہے ‘ بہادر کو بھی آتی ہے اور بزدل کو بھی آتی ہے۔ نہ کوئی محافظ اسے ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر ۔ نہ بزدلی اور جہاد سے غیر حاضری سے وہ ٹل سکتی ہے۔ اور یہ صورت حال ایسی ہے ‘ جو خود اپنی دلیل آپ ہے اور اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہی حقیقی صورت حال ہے جس کو قرآن مجید خود ان کے خلاف پیش کرتا ہے ۔ یوں ان کی مکروہ سازش کو رد کردیا جاتا ہے ۔ سچائی کو اپنی جگہ رکھ کر مستحکم کردیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دل مطمئن اور مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انہیں اطمینان ‘ آرام اور ذوق یقین سے سیراب کردیا جاتا ہے۔
واقعات احد کے بیان کے اس انداز کی طرف ذہن انسانی ملتفت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس بیان میں اس واقعہ یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی روگردانی کو بہت ہی موخر کرکے لایا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ واقعہ اس معرکے کے ابتدائی دور میں ہوا تھا اور معرکے کے آغاز ہی سے وہ واپس ہوگیا تھا۔ اسے اول میں بیان کرنے کے بجائے آخر میں لایا گیا یہ کیوں ؟
یہ تاخیر اس لئے کی گئی کہ اس میں بھی قرآن کریم کے انداز تربیت میں سے ایک خاص انداز کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس حادثہ پر تبصرے سے قبل وہ تمام اساسی تصورات بیان کردئیے جو اسلامی نظام زندگی کے بنیادی قواعد میں شمار ہوتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ذہن میں وہ تمام احساسات جاگزیں ہوگئے ‘ اور مسلمانوں کی اقدار کے لئے حقیقی پیمانے وضع ہوگئے تو آخر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کردیا گیا جنہوں نے نفاق اختیار کیا تھا۔ ان کے کردار اور ان کی سرگرمیوں کو بےنقاب کیا گیا۔ ایسے موقعہ پر ان لوگوں کے خلاف تنقید آئی جب مسلمانوں کے ذہن اس کے لئے تیار تھے اور اس قابل ہوگئے تھے کہ معلوم کرسکیں کہ ان کے افکار و تصورات کے اندر کیا کیا انحراف ہے اور کیا کیا کمزوریاں ہیں ؟ اور یہ کہ ان کے پیمانے کس قدر غلط ہیں ؟ اور یہ کہ ایک مومن کے دل و دماغ کے اندر افکار اور تصورات اور حسن وقبح کے پیمانے ایسے ہونے چاہئیں اور کسی فرد اور قوم کے اعمال کا جائزہ ان پیمانوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس کے بعد جب مومن پر اعمال اور افراد کو پیش کیا جاتا ہے تو وہ ایک روشن مزاج اور ایمانی احساس اور ایمانی سرمایہ حکمت کی روشنی میں ان پر فوراً حکم لگاتا ہے کہ کیا کمتر ہے اور کیا بہتر ہے ۔ کون صالح ہے اور کون برا ہے۔
یہ قرآنی انداز بیان کا ایک خاص رنگ ہے ۔ عبداللہ ابن ابی اس وقت تک اپنی قوم کا سرکردہ لیڈر تھا جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ وہ اس لئے سوج گیا کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کی رائے کو قبول نہ کیا تھا۔ اس لئے کہ نبی ﷺ نے اصول مشورہ کو رائج کرنا تھا۔ پھر جو بات طے ہوجائے اس کو نافذ کرنا تھا ‘ چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسری رائے کے سلسلے میں لوگوں کو رجحان ظاہرہوگیا تھا ۔ اس شخص کی اس روگردانی کی وجہ سے اسلامی صفوں کے اندر بڑی افراتفری پیدا ہوگئی تھی ۔ ان کے افکار میں تزلزل پیدا ہوگیا تھا۔ پھر اس کی رائے کی اہمیت اور بھی واضح ہوگئی جب شکست ہوئی اور لوگوں کو حسرت اور افسوس ہونے لگا۔ اور دلوں میں یہ بات آئی کہ اسی کے کہنے پر عمل کرلیا ہوتا ۔ اسلامی منہاج کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی رائے اور اس کے اس فعل کو قدرے نظر انداز کرکے اور غیر اہم کرکے پیش کیا جائے اور جنگ کے واقعات کا آغاز اس واقعہ سے نہ کیا جائے ۔ حالانکہ یہ حادثہ پہلے درپیش ہوا تھا۔ اس واقعہ کو اس قدر موخر کرنے اور پھر اسے بیان کرکے اس گروہ پر نفاق کا لیبل چسپاں کردینے اور پھر ان کے لئے غائب اور مجہول صیغے کا استعمال اور اس گروہ کے سرغنے کا ذکر نہ کرنے سے اور انہیں الَّذِينَ نَافَقُوا……………کہہ کر پکارنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی اہمیت کو کم کیا جائے اور یہ بات اصولاًان تمام لوگوں پر چسپاں ہو ‘ جو ایسی حرکات کرتے ہیں اور بات اس طرح اصولی رنگ اختیار کرے جس طرح آغاز کلام میں اسے اصولی رکھا گیا تھا۔
Ayah 3:168اہل اسلام کے دلوں کے اندر سکون پیدا کرنے ‘ ان کے دلوں اور ان کے ضمیر کو ‘ ان سنن الٰہیہ پر مطمئن کرنے کے بعد جو اس کائنات میں جاری اور ساری ہیں ‘ انہیں یہ بتانے کے بعد کہ تمام کام اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ‘ اور یہ سمجھانے کے بعد کہ اللہ کی تقدیر کے پیچھے اللہ کی حکمت اور تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنے کے بعد کہ موت کے لئے وقت مقرر ہے ‘ اس کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور جنگ میں شریک نہ ہونا اسے موخر نہیں کرسکتا اور جنگ میں شرکت سے موت پہلے نہیں آسکتی اور یہ سمجھانے کے بعد کوئی محافظ موت سے حفاظت نہیں دے سکتا اور کوئی تدبیر موت کو روک نہیں سکتی ‘ غرض ان تمام امور کے بعد اب سیاق کلام میں ایک دوسری حقیقت کو لیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی ذات میں بھی عظیم ہے اور اس کے اثرات بھی نہایت ہی عظیم ہیں۔
یہ حقیقت کیا ہے ؟ یہ کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں وہ مردہ نہیں ہوتے ‘ وہ تو زندہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب کے ہاں مہمان خصوصی ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی ‘ مرنے کے بعد ‘ اسلامی جماعت کی زندگی سے منقطع نہیں ہوتی ‘ وہ بعد کے واقعات سے لاتعلق نہیں ہوتے ‘ وہ ان واقعات سے خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور واقعات میں ایک موثر فیکٹر بھی ہوتے ہیں اور زندگی عبارت کس چیز سے ہے ؟ تاثیر اور تاثر ہی تو زندگی ہے ۔
یہاں معرکہ احد کے شہداء کی زندگی اور ان واقعات اور حادثات کے درمیان رابطہ قائم کردیا جاتا ہے جو ان کی شہادت کے بعد پیش آئے ۔ اس کے بعد گروہ مومن کی بات متصلاً بیان کردی جاتی ہے ‘ جس نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔ درآنحالیکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ وہ نکلے ‘ انہوں نے قریش کا تعاقب کیا ‘ یہ قریش اگرچہ جاچکے تھے لیکن یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں ۔ اس گروہ نے لوگوں کے اس ڈرامے کی کوئی پرواہ نہ کی کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ۔ ذات باری پر توکل کی اور انہوں نے اس کارنامے کی وجہ سے اپنے ایمان کو حقیقت کا روپ دیا۔
Ayah 3:169مومنین کے دل و دماغ میں تقدیر اور موت کے مقررہ وقت کے بارے میں صحیح تصورات بٹھانے کے بعد اور منافقین اسلامی صفوں کے اندر جو بےچینی ‘ شکوک اور حسرتیں پیدا کرتے تھے ان کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کے اندر مزید سکون اور پورا اطمینان پیدا کیا جائے ۔ اس لئے منافقین مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے تھے کہ اگر تم اتنے ہی باتدبیر ہو تو خود اپنی موت کو روک لینا جب وہ آئے ۔ لیکن سابقہ آیات میں پیدا کردہ ایمان وایقان اور اس مسکت جواب کے بعد اللہ نے چاہا کہ ان کے دلوں میں شہداء کے مستقبل کے بارے میں مزید اطمینان پیدا کردیاجائے ۔ وہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے (اور شہداء ہوتے ہی وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوں) اور ان کے پیش نظر یہی مقاصد ہوں ۔ اور ان مقاصد کے ساتھ کوئی اور مقصد شریک نہ ہو۔ تو ایسے شہداء جو فی سبیل اللہ قتل ہوئے وہ فی الحقیقت زندہ جاوید ہیں ۔ ان کو ایسے خصائص حاصل ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ انہیں ان کے رب کے ہاں کھانے دیے جاتے ہیں اور کھانے کے علاوہ ان پر فضل خداوندی ہے اور اس فضل پر وہ بہت خوش ہیں ‘ اور ان کو پھر اہل ایمان کے معاملات کی رپورٹ دی جاتی ہے جن معاملات کے لئے انہوں نے اپنی جان دی ۔ وہ پورے واقعات ان کو سنائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد بھائیوں کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب خواص وہ ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں مثلاً سازوسامان ‘ خوشخبری ‘ اہتمام اور تاثر اور تاثیر ۔ یہ سب زندہ لوگوں کی صفات ہیں ۔ لہٰذا ان کی جدائی وفات حسرت آیات نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کا رابطہ زندوں کے ساتھ قائم ہے اور اس کے علاوہ مزید فضل یہ کہ وہ فضل الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ فضل ان کے رزق اور مرتبے ومقام سے علیحدہ ہے ۔ اس لئے لوگ شہداء اور ان کے بعد رہنے والے بھائیوں کے درمیان جو فرق کرتے ہیں وہ درحقیقت کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اس لئے لوگوں کے ذہنوں میں عالم الحیاۃ اور عالم مابعد الممات کے اندر جو فرق ہے وہ شہداء کے حوالے سے کچھ نہیں ہے ۔ مومنین کے نقطہ نظر سے کوئی فرق نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کا معاملہ یہاں بھی اللہ سے ہے اور وہاں بھی اللہ سے ہے۔
اس حقیقت کو ذہن میں بٹھانے کے بعد اس دنیا کے واقعات پر سوچنے کے انداز بدل جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت انسان کی سوچ بدل دیتی ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں ایک مومن کے اندر ایک بالکل نئی سوچ پیدا ہوجاتی ہے ۔ کائنات کی یہ حرکت ایک مومن کے نقطہ نظر سے اپنے اندر تسلسل رکھتی ہے۔ وہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ۔ یوں ایک انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت وجہ سے قبل الممات اور بعد الممات زندگی میں ایک پردہ ساحائل ہوجاتا ہے۔
یہ موت وحیات کے لئے ایک نیا نقطہ نظر ہے ۔ اس سے ایک مسلمان کے شعور میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی اور موت دو کا استقبال ایک مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں۔
وَلا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ……………” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو ‘ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ‘ اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔ “
یہ آیت اس بارے میں نص قطعی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ‘ جنہوں نے زندگی قربان کردی ‘ اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے انہیں مردہ کہنا یا سمجھنا ممنوع ہے ۔ اور یہ آیت اس امر میں بھی قطعی ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔ اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں ۔ اور اس نہی اور اثبات کے بعد ‘ اس آیت میں ان خصائص حیات کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے رزق دئیے جانے کا ذکر ہے۔
ہم اس جہاں فانی میں ‘ شہداء کی زندگی سے صحیح معرفت نہیں پاتے ۔ ہاں ان شہداء کی زندگی کے بعض اوصاف بعض احادیث میں ذکر ہوئے ہیں ‘ لیکن اللہ جل شانہ کی طرف سے بذریعہ وحی آئی ہوئی یہ آیت ہمارے لئے اس ضمن میں کافی وشافی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ علیم وخبیر ہے اور صرف اللہ ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ موت وحیات کے بارے میں تصورات کو بدل دے ۔ یہ کہ ان کے درمیان کس حد تک دوئی اور جدائی ہے اور کس قدر اتحاد واتصال ہے ۔ اور یہ بات اللہ ہی بتاسکتا ہے کہ معاملات بعینہ ایسے نہیں ہیں جس طرح بظاہر ہمیں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں یا جس طرح ہم ان کا ادراک کرسکتے ہیں ۔ اور ہم جب بےقید اور مطلق حقائق کے معانی اپنے اذہان میں مقرر کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ مفاہیم آخری مفہومات ہیں اور یہ کہ ہم نے حقائق بعد الممات کا کماحقہ ادراک کرلیا ہے ۔ لہٰذا ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم صرف ذات باری تعالیٰ کے بیان کا انتظار کریں کہ اللہ نے کیا کہا ہے ‘ اور اس پر اکتفاء کریں۔
شہداء وہ لوگ ہیں جو بظاہر قتل ہوجاتے ہیں ۔ بظاہر ان کی زندگی ان سے جدا ہوجاتی ہے اور وہ بھی زندگی سے جدا ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح ہمیں نظرآتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ‘ اور تمام دنیاوی اغراض کو ترک کرکے قتل ہوتے ہیں ‘ دنیا کی چھوٹی چھوٹی اغراض کو وہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کی روحیں اللہ سے مل جاتی ہیں ‘ اس لئے وہ اپنی روحوں کو اللہ کی راہ میں قربان کردیتے ہیں۔ اور وہ اسی طرح بظاہر قتل ہوتے نظر آتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جو مخبر صادق ہے ہمیں اطلاع دیتے ہیں کہ وہ مردہ نہیں اور ہمیں منع کرتے ہیں کہ انہیں زبان سے بھی مردہ نہ کہو ۔ اور بتاکید مزید فرماتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ۔ انہیں باقاعدہ رزق دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کا رزق اس طرح حاصل کرتے ہیں جس طرح زندہ لوگ حاصل کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی بعض دوسری خصوصیات کی بھی اطلاع دیتے ہیں ‘ مثلاً
Ayah 3:170فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 3:171اس کے بعد یہ خصوصیت کہ ان کے دل ان لوگوں کے حالات کے اندر مشغول ہیں اور دلچسپی لے رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ رہ رہے ہیں اور ان کے زندہ رہنے والوں کے انجام کے بارے میں بہت ہی مطمئن ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہے ۔
يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ
” اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ‘ ان کے لئے بھی کسی رنج وخوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ “
وہ اپنے بھائیوں سے منقطع نہیں ہوگئے ‘ جو ابھی وہاں نہیں پہنچے اور ان سے جدا ہوگئے ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کے ساتھ ہیں اور دنیا اور آخرت میں پیچھے آنے والوں سے جو کچھ ملنے والا ہے ‘ اس پر وہ بہت ہی خوش ہیں اور وہ اس لئے شاداں وفرحاں ہیں کہ ان آنے والوں کے لئے بھی کسی رنج اور خوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے رب کے ہاں جو اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ آنے والوں کے بھی مزے ہیں ۔ اس لئے کہ ان پر بےبہا فضل وکرم ہورہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین صادقین کے ساتھ یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
سوال یہ ہے کہ زندگی کے خصائص میں سے کون ساوہ خاصہ ہے جو ان شہداء فی سبیل اللہ کو حاصل نہیں ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو آنے والے مومنین سے ان کو ممتاز کرتی ہے اور یہ کہ ان کے اس انتقال کی وجہ سے پھر حسرت ‘ فقدان اور وحشت اور افسوس کا کیا موقعہ ہے ؟ یعنی پسماندگان کے لئے افسوس کا کیا موقع ہے کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ یہ تو نہایت خوشی کا موقعہ ہے ۔ یہ تو رضامندی اور محبت کا موقعہ ہے کہ ایک شخص ہم سے جدا ہوکر اللہ کے ہاں پہنچ گیا۔ اور اس انتقال کے ساتھ ساتھ ہم سے ملحق بھی ہے ۔
اگر موت فی سبیل اللہ ہے ‘ تو وہ موت نہیں ہے اور خود مجاہدین کے اپنے شعور کے مطابق بھی وہ موت نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے بھی موت نہیں ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ یہ زندگی کے میدان کی وسعت ہے ۔ اس کے شعور کی وسعت ہے ‘ اس کی صورتوں کی وسعت ہے ۔ یہ حیات ‘ شہید کی حیات ‘ زندگی کی سرحدوں کے آگے چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس زندگی کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ یہ زندگی دنیا کی تنگ دامانی سے نکل کر ایک وسیع میدان میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اس کے سامنے وہ پردے اور رکاوٹیں نہیں ہوتیں جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ۔ گویا زندگی اپنی شکل و صورت سے منتقل ہوکر دوسری شکل و صورت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک زندگی ختم ہوتی اور دوسری شروع ہوتی ہے ۔
اس آیت نے زندگی کو جو نیا مفہوم دیا ہے ‘ یا قرآن کریم کی اس جیسی دوسری آیات شہداء کی زندگی کو جو مفہوم عطا کرتی ہیں ‘ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ مجاہدین کرام کے قدم طلب شہادت میں ہر وقت رواں دواں رہے ۔ اور ان کی ایک مثال وہ نمونے ہیں جو ہم نے جنگ احد کے بیان کے آغاز میں دئیے ہیں ۔
اس حقیقت اور عظیم حقیقت کے بیان کے بعد کہ اہل ایمان کے لئے جو کچھ اللہ کے ہاں تیار کیا ہوا ہے ‘ اس پر شہداء خوشیاں منا رہے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہاں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان ہیں ‘ کون ہیں اور ان کا ان کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟
Ayah 3:172یہ وہ لوگ تھے جنہیں جنگ احد کی دوسری صبح رسول اللہ ﷺ نے پکارا نکلو کہ ابھی تلخ معرکہ ختم نہیں ہے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے زخموں سے ابھی تک خون جاری ہے ۔ اور وہ کل ہی جان لڑا کر موت کے منہ سے نکلے تھے ۔ اور ابھی تک انہوں نے کل کے معرکہ کی ہولناکیوں کو بھولانہ تھا۔ ہزیمت کی تلخی ان کے منہ میں باقی تھی ‘ درد کی شدت میں ابھی تک کمی نہ آئی تھی ۔ مزید یہ کہ انہوں نے اعزہ و اقارب کی قیمتی جانوں کا نذرانہ کل ہی تو پیش کیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت بری طرح زخمی تھی ۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا تھا اور صرف انہیں پکارا تھا اور یہ دعوت اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی طرف سے لبیک کہنا ‘ ایک ایسافعل تھا جس کے اندر گہرے اشارات پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ بڑے حقائق پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ تھی ۔
ممکن ہے رسول اللہ ﷺ یہ چاہتے ہوں کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی آخری بات اور ان کا آخری شعور یہ نہ ہو کہ انہیں ہزیمت ہوئی ہے ۔ اور وہ شکست کھاچکے ہیں اور اس زخموں کی حالت میں کراہ رہے ہیں ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ کپڑے جھاڑیں اور قریش کا تعاقب کریں ۔ ان کا پیچھا کریں تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ تو ایک ابتلاتھی ‘ ایک تجربہ تھا اور یہ اس معرکے کا کوئی آخری فیصلہ نہ تھا ۔ اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کی قوت اپنی جگہ موجود ہے ۔ اور یہ کہ دشمن ابھی تک ضعیف ہیں ۔ یہ تو ایک بار تھی جس میں اچانک شکست ہوگئی ۔ اور ہم اس کا بدلہ لیں گے ۔ اگر ہم نے کمزوری اور بےاتفاقی کو دور کردیا اور اللہ اور رسول کے حکم کو تسلیم کیا۔
یہ بھی ممکن تھا کہ رسول اللہ قریش کے ذہنوں سے یہ بات نکالنا چاہتے ہوں کہ وہ فتح کے پھریرے اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس معرکے میں شریک ہونے والوں کی معیت میں ان کا تعاقب کیا۔ اور اس سے قریش کو یہ جتلانا مقصود تھا کہ انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کی قوت کو توڑا نہیں ہے ۔ اور یہ کہ ابھی تک ان میں تعاقب یا دوسری جنگ کی قوت باقی ہے ۔ جس طرح سیرت کی روایات میں آتا ہے اس تعاقب سے یہ دونوں مقاصد پورے ہوگئے۔
شاید رسول اکرم ﷺ مسلمانوں اور پوری دنیا کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ اس دنیا میں ایک نئی حقیقت کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ نئی حقیقت جو اپنے ظہور کے بعد اب قائم ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ اس نئی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا عقیدہ ہے ۔ یہی اس کا نصب العین ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی مقصد حیات نہیں ہے اور اس کے سوا اس کو زندگی میں کوئی اور ترجیح نہیں ہے ۔ مسلمان اس نظریہ حیات ہی کے لئے زندہ ہیں ‘ اس لئے اس نظریہ حیات کے بعد ان کے نفوس کی کوئی اور تمنا نہیں ہے ۔ اور وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔
اس وقت اس کرہ ارض پر یہ ایک بالکل نئی بات تھی ۔ لہٰذا یہ بات ضروری تھی کہ پوری دنیا کو معلوم ہوجائے اور خود مسلمانوں کو بھی اس کا شعور ہوجائے ‘ کہ یہ جدید نظریہ اب قائم ہوچکا ہے اور اب یہ اس کرہ ارض پر ایک انمٹ حقیقت ہے ۔ اور اس حقیقت کا اس سے بڑا اظہار نہ ہوسکتا تھا کہ احد میں اس قدر زخم کھانے کے بعد فدایان اسلام اپنے رستے زخموں کے ساتھ ایک غالب قوت کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں ۔ ان کی جانب سے یہ اقدام ایک واضح روشن اور بالکل ایک خوفناک اقدام تھا ۔ اس میں توکل علی اللہ کی روشن مثال پائی جاتی تھی ۔ اور لوگ ان جانبازوں کو جو ڈرا رہے تھے کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ‘ جس طرح ابوسفیان کے نمائندوں نے انہیں یہ بات پہنچائی تھی اور منافقین نے بھی قریش کے اس منصوبے کو خوفناک انداز میں پیش کیا کہ وہ ایسا کرنے والے ہیں ۔
الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو ‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ اور انہوں نے جواب دیا ‘ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے ۔ “
اس خوفناک صورت حال میں یہ تعاقب دراصل یہ اعلان تھا کہ اس کرہ ارض پر اب انقلاب اور یہ عظیم انقلاب اب حقیقت بن چکا ہے ۔ غرض یہ تھے وہ بعض پہلو جو رسول ﷺ کے اس حکیمانہ اقدام سے واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ سیرت کی بعض روایات سے ان لوگوں کے حالات کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے زخموں کے اندر چکنا چور ہونے کے باوجود رسول ﷺ کی کال (پکار) پر لبیک کہا۔
Ayah 3:173محمد بن اسحاق نے عبداللہ ابن جارحہ ‘ ابوالسائب سے روایت کی ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب جو بنو عبدالاشہل سے تعلق رکھتے تھے ‘ وہ احد میں شریک تھے ۔ اس نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ میں تھا ‘ میرا بھائی تھا ‘ ہم لوٹے دونوں زخمی تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے موذن نے اعلان کیا کہ نکلو ‘ دشمن کا تعاقب کرنا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا یا بھائی نے مجھ سے کہا کیا اب ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ جنگ رہ جائے گی ۔ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں ہے اور ہم دونوں شدید زخمی بھی ہیں ۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکل پڑے ۔ میرا زخم بھائی سے ذرا کم تھا۔ جب اس کی طبیعت خراب ہوتی تو میں اسے پیچھے سے تھامتا ‘ یہاں تک کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ گئے ۔
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ احد کی جنگ بروز ہفتہ 15 شوال کو ہوئی تھی ۔ دوسرے دن 16 شوال کو رسول ﷺ کے موذن نے اذان دی ۔ اور حکم دیا کہ دشمن کا تعاقب کرنا ہے ۔ اور موذن نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارے ساتھ صرف وہ لوگ جائیں گے جو کل کے معرکے میں شریک ہوئے تھے ۔ آپ کے ساتھی جابر ابن عبدللہ ابن عمرو ابن حرام نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے اپنی بہنوں کی نگرانی کے لئے چھوڑدیا تھا۔ میری سات بہنیں تھیں ۔ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ ” برخوردار نہ یہ میرے لئے مناسب ہے اور نہ آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ ان سات عورتوں کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکلیں ۔ “ اور میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کا شرف تمہیں دے دوں۔ اس لئے تم بہنوں کے پاس رہو ۔ صرف ان کو رسول ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ آپ کے ساتھ نکلے ۔
جب اس عظیم حقیقت کا اعلان ہوا ‘ تو اس قسم کے عظیم اور بےمثال واقعات ظہور پذیر ہوئے ۔ لوگوں کی ذہنی دنیا میں انقلاب آیا۔ ایسے تربیت یافتہ نفوس قدسیہ تیار ہوئے جو صرف اللہ کو اپنا وکیل و مددگار سمجھتے تھے۔ وہ صرف ذات باری پر راضی تھے ‘ ذات باری ہی کو کافی سمجھتے تھے ۔ وہ ذات باری ہی کو یاد کرتے تھے اور جب سخت سے سخت حالات پیش آتے تو ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا اور جب لوگ انہیں مشکلات سے ڈراتے تو ان کا جواب یہ ہوتا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “
Ayahs 3:174–175اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔
فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ
” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “
وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ……………” اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ۔ “ اللہ تعالیٰ یہاں پھر ان کی توجہ جود اور بخشش کے سبب اول کی طرف مبذول کراتے ہیں ‘ کہ سبب اول اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہوا کرتا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا موقف قابل تعریف تھا۔ کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی نعمت کی تلاش میں تھے ۔ تمام نعمتوں کا سرچشمہ یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہوجائے اور ان کا موقف بھی ایسا تھا جہاں فضل خداوندی کی بارش تھی ۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ……………” اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ “ اس طرح ‘ اللہ اپنی ابدی کتاب میں یہ ثبت کردیتے ہیں اور اپنے کلام میں ان کی یہ تصویر کھینچتے ہیں ‘ ان کا یہ موقف پیش فرماتے ہیں اور اللہ کا کلام وہ کلام ہے جس کے ساتھ یہ پوری کائنات ہم آہنگ ہے ۔ غرض ان کا موقف نہایت ہی شریفانہ ہے اور ان کی یہ تصویر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔
جب انسان کے اس موقف اور ان کے اس نظارے پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات میں ان لوگوں کا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے ‘ وہ پختہ کار ہوگئے ‘ باہم متناسق ہوگئے ‘ وہ جہاں کھڑے تھے وہاں مطمئن ہوکر جم گئے ۔ ان کے خیالات سے تمام دھند اور میل دور ہوگئی اور ان کی صورت حال بالکل نئی ہوگئی ۔ کل ان کے تصورات میں اور ان کی صفوں کے اندر جو خلجان اور جو تذبذب پایا جاتا تھا ‘ آج اس کا نام ونشان نہیں ہے ۔ صرف ایک رات ہی گزری تھی کہ ان کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ۔ عظیم فرق اور میلوں کی مسافت ایک لحظہ میں طے ہوگئی۔ اس تلخ تجربے نے ان کے نفوس کے اندر اپنا کام کردکھایا ۔ اس حادثہ نے انہیں خوب جھنجھوڑا جس کی وجہ سے ان کے تصورات سے ہر قسم کے غبار چھٹ گئے ‘ ان کے دل از سر نو جاگ اٹھے ‘ ان کے قدم جم گئے اور ان کے دل از سر نو عزم صمیم سے مالا مال ہوگئے ۔ بالکل درست ہے یہ کہنا کہ اس ابتلا میں بھی اللہ فضل پوشیدہ تھا۔
اس پیراگراف کے آخر میں اس وقت کے موجودہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی علت بھی بتادی گئی ۔ بتایا گیا کہ یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کا ڈر اور رعب تمہارے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو رعب وبدبہ کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو شیطان کی اس چال سے خوب خبردار رہنا چاہئے ۔ اور اس کے اس مکر کو بےاثر بنانے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ اس لئے وہ اہل قریش سے نہ ڈریں کیونکہ وہ اس وقت شیطان کے ساتھی ہیں ۔ وہ شیطان ہے دوستوں سے خائف ہونے کے بجائے اللہ سے ڈریں کیونکہ صرف وہی قوی قادر مطلق اور جبار ہے اور وہی اس بات کا مستحق کہ اس سے خوف کیا جائے۔
” اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا ‘ جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ‘ مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان لانے والے ہو۔ “
شیطان اپنے دوستوں کو بہت بڑا کرکے اور پھولا کر پیش کرتا ہے ۔ وہ انہیں ایسے لباس میں پیش کرتا ہے جس میں وہ قوی اور طاقتور نظر آئیں ۔ وہ دلوں میں یہ رعب بٹھاتا ہے کہ شیطان کے ساتھی سب کچھ اپنے حق میں پھیر سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ وہ نفع بھی دے سکتے ہیں اور ضرر بھی دے سکتے ہیں تاکہ شیطان اس ذریعہ سے اپنی ضروریات اور اغراض پوری کرتا رہے ۔ اور ان دوستوں کے ذریعہ دنیا میں شر اور فساد پھیلائے ۔ اور لوگوں کو اپنے دوستوں کے سامنے اس قدر جھکادے کہ وہ ان کی اطاعت غیر مشروط طور پر کریں ۔ کوئی ان کے سامنے کسی بات کا انکار نہ کرسکے ۔ کوئی شخص ان پر تنقید نہ کرسکے اور ان شر و فساد سے روکنے کی جرأت ہی نہ کرسکے ۔
شیطان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ باطل کو خوب پھولاکر اور موٹا کرکے پیش کرے ۔ اس طرح کہ وہ قوی ‘ صاحب قدرت ‘ قہار اور جبار اور سخت گرفت کا مالک نظر آئے ۔ اس کی کوئی پوزیشن نہ ہو ۔ اس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس پر غالب آسکتی ہو ۔ شیطان کی مصلحت یہ ہے کہ وہ صورت حال کو اس طرح قائم رکھے ۔ خوف اور رعب کے پردے میں اور تخویف اور پکڑ کی فضا میں شیطان کے دوست دنیا میں سب کاروائیاں کرتے ہیں ۔ وہ معروف کو منکر بناتے ہیں اور منکر کو معروف بناتے ہیں۔ شر ‘ فساد اور گمراہی پھیلاتے ہیں ۔ سچائی ‘ ہدایت اور عدل کی آواز کو دھیما کرتے ہیں ‘ بغیر اس کے کہ کوئی ان کو چیلنج کرے یا ان کے سامنے کھڑا ہو ‘ یا قیادت کے مقام سے انہیں ہٹاسکے ۔ غرض وہ باطل جس کی ترویج کرتے ہیں ان پر تنقید کی جرأت ہی اہل حق کو نہ ہو اور جس حق کو وہ مٹانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کرنے اور اسے غالب کرنے کی بھی کسی جرأت نہ ہوسکے ۔
شیطان سخت مکار ‘ دغاباز اور غدار ہے ۔ وہ اپنے دوستوں کے لباس میں آتا ہے۔ اور جو لوگ شیطانی وساوس کے مقابلے میں احتیاط نہیں کرتے ‘ وہ ان دوستوں سے انہیں خوب ڈراتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں اسے خوب ننگا کرتے ہیں ۔ اور وہ یوں ننگا ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم پر اس کے مکروفریب کا کوئی لباس ہی نہیں رہتا ۔ اہل ایمان شیطان کی حقیقت کو اچھی طرح جان لیتے ہیں ۔ اس کے وسوسوں اور اس کے مکر و فریب کی حقیقت کو پالیتے ہیں تاکہ وہ اس سے محتاط ہوجائیں ۔ اس کے دوستوں سے نہ ڈریں اور نہ ان سے خائف ہوں۔ جو مومن ذات باری پر مکمل بھروسہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے مقابلے میں شیطان بہت ہی کمزور ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی قوت کا سرچشمہ اللہ ہوتا ہے ۔ وہ واحد قوت جس سے کسی انسان کو ڈرنا چاہئے وہ صرف وہی قوت ہوتی ہے جو نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر ہو اور نفع اور نقصان دینے والی قوت صرف اللہ کی قوت ہے ۔ اور ایک مومن صرف اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ اور جب تمام اہل ایمان صرف اللہ سے ڈرنے والے بن جائیں تو وہ سب قوتوں کے مقابلے میں قوی تر ہوجاتے ہیں ۔ پھر ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی ۔ نہ شیطانی قوت اور نہ شیطان کے دوستوں کی قوت تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ……………” پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو ‘ اگر تم مومن ہو۔ “
اب اس سلسلے میں آخری نتیجہ اور آخری نچوڑ پیش کیا جاتا ہے ۔ روئے سخن رسول اکرم ﷺ کی طرف کرکے بطور تسلی اور دلجوئی کہا جاتا ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں ‘ اور آپ اس بات کا غم نہ کھائیں کہ یہ اہل کفر والحاد کی جانب بہت تیزی سے جارہے ہیں ۔ اور وہ اس کفر میں اس قدر تیز ہیں کہ گویا وہ کسی دوڑ کے مقابلے میں ہیں ‘ کہا جاتا ہے کہ ذرا ان کی اس حرکت پر غور کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کو نقصان کیا ہے ؟ یہ تو خود ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مصیبت ان کی قسمت میں لکھ دی ۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کیا کریں گے اور کیا کیا کفر کرنے والے ہیں ؟ اس لئے اس سے پہلے ہی یہ فیصلہ کردیا کہ اچھا تو آخرت میں محروم ہوگے ۔ اس لئے انہیں اس نے ان کے حال ہی پر چھوڑدیا اور وہ ہدف کفر ہی کی طرف بڑی مسارعت سے بڑھتے رہے ۔ ان کے سامنے راہ ہدایت بھی واضح تھی ‘ لیکن انہوں نے اپنے اختیار تمیزی کو استعمال کرتے ہوئے کفر کی راہ کو اپنایا ۔ اس لئے انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیا گیا ۔ اور ان کو مزید مہلت دی گئی کہ وہ خوب گناہ سمیٹ لیں زیادہ سے زیادہ ۔ یہ مہلت ان کو وقت کے لحاظ سے بھی دی گئی اور خوشحالی کی صورت میں بھی دی گئی ۔ لہٰذا یہ مہلت اور خوشحالی ان کے لئے گویا بطور انعام کار ایک وبال اور مصیبت ہے ۔ یہ حصہ آیات اس پر ختم ہوتا ہے کہ ان تمام واقعات کی پشت پر کیا حکمت تھی ؟ یہ کہ مومنین کو کیوں ابتلا میں ڈالا گیا ‘ اہل کفر کو کیوں اس قدر مہلت دی جارہی ہے ۔ یہ اس لئے پاک لوگ گندے لوگوں سے الگ چھٹ کر رہ جائیں ۔ اور یہ پاکیزگی اور تطہیر کا عمل آزمائش اور ابتلا ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ رسول کی بات بذریعہ آزمائش ہی معلوم ہوسکتی ہے ۔ وہ تو غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ ایک مناسب طریقہ کار کے مطابق غیب کا اظہار اہل ایمان پر ہوجائے ‘ اہل ایمان کو دلوں کا حال معلوم ہوجائے ‘ پاک لوگ گندے عناصر سے الگ ہوجائیں اور اللہ پر ایمان لانے والے ‘ قطعی اور یقینی طور پر میدان میں آجائیں۔
Ayah 3:176غزوہ احد کے واقعات کا یہ بہترین اختتامیہ ہے ۔ اس لئے کہ اس غزوہ میں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے تھے اور اس جنگ میں کفار کو فتح اور غلبہ نصیب ہوا تھا ۔ حق و باطل کی کشمکش میں ہمیشہ یہ شبہ پیدا ہوجاتا ہے اور اہل حق کے دلوں میں یہ بات ہمیشہ کھٹکتی ہے یا بعض اوقات کامیابی کی خواہش دلوں میں ابھرتی رہتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں حق کو کامیاب ہی ہونا چاہئے اور اگر کسی جگہ حق کو شکست ہو جس طرح احد میں اور کفر و باطل کو فتح وظفر نصیب ہو تو یہ کیوں ہوتی ہے ؟
یہ جھوٹا شبہ ہوتا ہے اور ہمیشہ دلوں میں اٹھتا رہتا ہے۔ اور انسان کی خواہش کامیابی اسے مسلسل دبارہی ہوتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اے رب ! حق کو شکست اور باطل کو فتح کیوں ہوتی ہے ؟ اہل حق مصائب میں مبتلاہو رہے ہیں اور اہل باطل نجات پا رہے ہیں اور کامیاب ہورہے ہیں اور اس طرح کیوں نہیں ہوتا کہ جب بھی حق و باطل کی باہم کشمکش ہو تو حق کو فتح نصیب ہو اور وہ غلبہ اور غنیمت لے کر واپس ہو ؟ کیا حق اور سچائی اس بات کی مستحق نہیں ہے کہ اسے فتح نصیب ہو اور باطل کے لئے یہ قوت اور یہ رعب کیوں ہے کہ حق کے ساتھ ٹکراؤ میں اسے ایسی کامیابیاں ہوتی ہیں جس سے اہل حق کے دلوں میں فتنے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے دل متزلزل ہوجاتے ہیں۔
اور یہ سوالات عملاً اس وقت سامنے آئے جب احد کے دن اہل ایمان نے نہایت ہی تعجب اور سراسیمگی میں یہ سوال کیا کہ اَنّٰی ھٰذَا ؟…………… ” یہ کیسے ہوگیا “………لہٰذا اس آخری اختتامیہ میں اس کا آخری جواب دیا جاتا ہے ۔ آخری اور فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پریشان دلوں کو سکون فراہم فرمادیتے ہیں اور اس پہلو سے جو بڑا وسوسہ بھی دلوں کے اندر راہ پاتا ہے ‘ اسے صاف کردیا جاتا ہے ۔ اللہ کی سنت کا بیان ہوتا ہے ۔ اللہ کی سنت کے تحت اس کی تقدیروں کا بیان ہوتا ہے اور پھر ان تمام سنن اور تقدیروں کے پیچھے جو اس کی وسیع تر تدبیر اور حکمت کارفرماہوتی ہے ‘ وہ بھی بتادی جاتی ہے اور یہ حکمت کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اور ہر اس جگہ ہوگی جہاں حق و باطل کی کشمکش ہو اور احد جیسے نتائج نکلیں۔
دنیا کے کسی معرکے سے باطل کا فتح مندی کے ساتھ نکل کر چلاجانا اور ایک وقت کے لئے اس کا پھول جانا اور طاقتور نظر آنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بس اللہ تعالیٰ نے اسے کھلی چھٹی دے دی ہے ۔ یا یہ کہ وہ اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ اس پر اب غلبہ نہیں پایا جاسکے گا یا یہ کہ باطل ہمیشہ کے لئے حق کے لئے مضر ہی رہے گا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح کسی معرکے میں سچائی کا شکست اور مصائب میں مبتلا ہوکر نکلنا یا سچائی کا کسی دور میں ضعف کا شکار ہوجانا ‘ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کوئی انصاف فرما رہے ہیں یا اللہ نے حق کو بھلادیا یا اس نے باطل کو آزاد چھوڑدیا کہ وہ سچائی کو بیخ وبن سے اکھاڑکر تباہ کردے۔
یوں ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو اللہ کی گہری حکمت اور تدبیر ہوتی ہے جو ہر جگہ اپنا کام کررہی ہوتی ہے ۔ کبھی حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باطل کو مہلت دی جائے اور وہ اپنی آخری سرحد تک پہنچ جائیں ۔ وہ اپنے تمام برے نتائج ظاہر کریں ‘ وہ لوگوں پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیں اور آخر کار وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان پر سخت سے سخت حملہ کیا جائے اور پھر حق کو آزمائش میں اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ حق و باطل کے درمیان فرق ہوجائے ۔ طیب اور خبیث کے اندر امتیاز ہوجائے ‘ اور ان آزمائشوں میں جو لوگ ثابت قدم رہیں انہیں عظیم اجر ملے اور وہ ممتاز مقام کے مستحق ہوجائیں ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ صورت حال سچائی کے لئے کمائی ہے اور باطل کے لئے خسارہ ہے ۔ ادہر یہ کمائی زیادہ سے زیادہ ہورہی ہو تو ادہر خسارہ زیادہ سے زیادہ ہورہا ہے۔
وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
” اے پیغمبر جو لوگ کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں۔ یہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے ۔ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ‘ اور بالآخر ان کو سخت سزاملنے والی ہے۔ “
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے ‘ اس کے ذریعہ آپ کے غبار خاطر کو دور کیا جارہا ہے جو آپ کے دل پر ان واقعات کی وجہ سے تھا۔ آپ اس سے بےحد دلگیر تھے کہ جو لوگ کفر میں غلامی کررہے ہیں وہ کفر میں سرپٹ بھاگے جارہے ہیں ۔ وہ نہایت سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ گویا ان کے لئے کوئی ہدف مقرر ہے اور انہوں نے اسے حاصل کرنا ہے۔
یہ ایسے الفاظ ہیں اور ایسی تعبیر ہے ‘ جن کے ذریعہ ان کی حقیقی نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ اکثر اوقات نظرآتا ہے کہ بعض لوگ کفر میں متشدد ہوتے ہیں ۔ وہ باطل ‘ شر اور اللہ کی نافرمانی کو اپنا نصب العین بنالیتے ہیں ۔ اس طرح کہ گویا انہوں نے اس کے مقابلے میں گول تک پہنچنا ہے ۔ اس لئے ایسے لوگ نہایت قوت ‘ نہایت جرأت اور نہایت ہی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں ‘ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید پیچھے سے انہیں کوئی دھکیل رہا ہے کہ آگے بڑھو یا آگے سے کوئی انہیں پکار رہا ہے کہ جلدی پہنچو یہ ہے تمہارا انعام ۔
آپ کا یہ غبار خاطر اور رنج وغم اللہ کی اس مخلوق کے لئے تھا ۔ آپ حسرت سے انہیں دیکھتے تھے کہ یہ لوگ آستین چڑھائے آگ کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور آپ وہ قوت نہیں پا رہے کہ انہیں بزور بازو روک دیں ۔ یہ لوگ اللہ کی طرف سے بار بار کے ڈراوے کی طرف بھی کان نہیں دھرتے ۔ پھر آپ اس سے بھی پریشان ہوتے ہیں کہ یہ لوگ جو آستین چڑھائے جہنم کی طرف سرپٹ دوڑ رہے ہیں ‘ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مصیبت میں مبتلا نہیں کررہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اہل اسلام کے لئے بھی رنج والم اور درد ودکھ کا باعث بن رہے ہیں ۔ یہ لوگ دعوت اسلامی کو بھی دکھ دے رہے ہیں اور جمہور کے اندر اس کے پھلاؤ کو بھی روک رہے ہیں ۔ اس لئے کہ جمہور عربب یہ دیکھ رہے تھے کہ مدینہ اور مکہ کی معرکہ آرائی کا انجام کیا ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اس صف میں شامل ہوجائیں جس کا مستقبل روشن ہو۔ جب قریش مسلمان ہوگئے اور انہوں نے سرتسلیم خم کرلیا تو تمام لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوگئے ۔ اور اس بات میں شک نہیں کہ اس صورت حال کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے دل پر اثرات تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کو مطمئن کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ آپ کو تسلی دی گئی اور آپ کے غبار خاطر کو دور کیا گیا۔
وَلا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا
” اے پیغمبر جو لوگ آج کفر کی راہ میں دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں۔ یہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ “……یہ کمزور بندے اس جو گے نہیں ہوسکتے کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچائیں۔ اور یہ بات محتاج بیان ہی نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ نظریاتی جنگ نظریاتی رہے اور مشرکین کے ساتھ معرکہ اپنی جگہہ رہے ۔ اور یہ خود اس کی جنگ اور اس کا معرکہ رہے ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کے کندھوں سے اس ذمہ داری کو اٹھالیا جاتا ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری نہیں رہتی کہ وہ لوگوں کے نظریات تبدیل کرنے کے پابند ہوں ۔ جو لوگ کفر کے اندر تیزی دکھا رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور اللہ کے ساتھ اس جنگ میں انہیں ہرگز کامیابی نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے کہ وہ اس ذات باری کے مقابلے میں بہت ہی ضعیف ہیں ۔ لہٰذا وہ دعوت اسلامی کو مآل کار کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے ۔ اور اس سے نتیجہ خود بخود نکل آتا ہے کہ وہ ان حاملین دعوت اسلامی کو بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں جنہیں وہ اس وقت شکست خوردہ سمجھتے ہیں ۔ چاہے جس قدر بھی وہ سرعت دکھائیں اور جس قدر بھی وہ اہل دعوت کو اذیتیں دے دیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں اور اپنے غلبہ کی وجہ سے پھولے نہ سمائیں ۔ حالانکہ وہ اللہ کے براہ راست دشمن ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کے لئے نہایت ہی برا اور نہایت ہی رسواکن انجام تیار کررکھا ہے۔ يُرِيدُ اللَّهُ أَلا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الآخِرَةِ……………” اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ۔ “ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اپناتمام سرمایہ یہاں ہی ختم کردیں اور اپنے تمام گناہوں کو اٹھائے ہوئے ہوں اور آخرت میں تمام عذاب کے سزاوار ہوجائیں اور یہ کفر کی راہ میں تیزی سے آگے بڑھ کر اپنی آخری منزل تک پہنچ جائیں ۔ اس لئے کہ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ……………” ان کے لئے بڑا عظیم عذاب ہے ۔ “
اور ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس شرمناک انجام کا ارادہ کیوں کرلیا ہے ؟ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی مرضی سے ایمان کے بدلے میں کفر خرید کر اپنے آپ کو اس کا مستحق بنالیا ہے ۔
Ayah 3:177إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………” جو لوگ ایمان چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں ۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ۔ “ ایمان تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے تھے ۔ ایمان کے دلائل اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ۔ خود انسانی فطرت اور نفس کے اندر دلائل ایمان موجود ہیں ۔ خود انسان کے عجیب و غریب جسم کے منصوبے کے اندر ‘ اس میں باہم مکمل ہم آہنگی کے اندر ‘ اس میں ودیعت کردہ فطرت انسانی کے اندر ‘ پھر انسانی فطرت اور اس کے اس طبیعی وجود میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے اندر ‘ پھر اس میں اس کے خالق اور صانع کے وجود کا فطری شعور ودیعت کئے جانے کے اندر اور پھر اس شعور کی بہترین نفسیاتی اور طبیعی مزاج کے اندر دلائل ہی دلائل ہیں ۔ اور ان دلائل کے علاوہ رسولوں کی دعوت بھی تو موجود رہی ہے اور ہے ۔ یہ دعوت اپنی اس فطری حالت میں موجود ہے جسے انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ اور اس فطرت اور اس دعوت رسل کے اندر پھر حسین ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دعوت لوگوں کی ضروریات اور ان کی زندگی کے لئے مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔
ہاں ‘ ایمان ان کے سامنے مکمل طور پر موجود تھا ‘ ان کی دسترست میں تھا ‘ انہوں نے اور انہوں ہی نے راہ ایمان کو چھوڑ کر کفر کی راہ خرید لی ۔ اور یہ کام انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے کیا۔ اس لئے وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ اللہ انہیں اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ کفر کی راہ پر سرپٹ دوڑیں تاکہ وہ اپنا پورا سرمایہ حیات اس راہ میں لگادیں اور ان کے لئے ثواب آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان دے سکیں ۔ اس لئے کہ وہ مکمل طور پر گمراہ ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سچائی کی معمولی مقدار بھی نہیں رہی ہے ۔ اور گمراہی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل اور کوئی طاقت نازل ہی نہیں کی ہے ۔ اس لئے اپنی حقیقت کے اعتبار سے باطل کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ اہل حق اور دعوت اسلامی کو کبھی کوئی مضرت نہیں پہنچاسکتے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر کوئی قوت ہے بھی تو وہ بہت ہی کمزور اور نحیف ہے ۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو پھولاکر دکھائے ‘ اور وقتی طور پر مسلمانوں کو کسی شکست کی وجہ سے رنج والم پہنچ جائے۔
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ…………” ان کے لئے درناک عذاب ہے ۔ “ یہ اس قدر المناک ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس قدر رنج والم وہ اس دنیا میں اہل اسلام کو نہیں دے سکتے ۔
Ayah 3:178وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
” جو ڈھیل ہم انہیں دے رہے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “
یہاں آکر اب بات اس عقدے پر پہنچ جاتی ہے جو بعض دلوں میں خلجان کا باعث بنا ہوا تھا۔ بعض دلوں میں یہ سوال پیدا ہورہا تھا اور وہ خلجان جسے بعض لوگوں کی روح محسوس کررہی تھی ‘ وہ دیکھ رہے تھے کہ بعض اللہ کے دشمن اور بعض سچائی کے دشمن مہلت پا رہے ہیں اور وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔ بظاہر خوب کھاتے پیتے ہیں ‘ قوت ‘ حکومت اور مال و مرتبے سے بہرہ ور ہیں اور خود بھی فتنے میں مبتلاہو رہے ہیں ۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا میں بھی فتنہ سامانیاں کررہے ہیں اور وہ اہل ایمان جن کے ایمان ضعیف ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں زمانہ جاہلیت کی طرح غیر مناسب تصورات اور خیالات رکھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید اللہ تعالیٰ باطل ‘ شر ‘ انکارحق ‘ کفر اور طغیان پر خوش ہوتا ہے ‘ نعوذباللہ ۔ اس لئے وہ اسے مہلت دیتا ہے اور ان کے لئے رسی ڈھیلی چھوڑتا ہے۔ وہ یہ بھی گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ معرکہ حق و باطل میں کوئی مداخلت نہیں کرتے ‘ اس لئے وہ باطل کو اس کے لئے آزاد چھوڑتے ہیں کہ وہ حق کا سرچھوڑدے اور اللہ اس کی نصرت وامداد کے لئے کچھ نہ کریں ‘ یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل ہی حق ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اسے پنپنے ‘ بڑھنے اور غالب ہونے نہ دیتے ۔ یا وہ سمجھتے تھے کہ باطل کا حق یہ ہے کہ وہ حق پر غالب آجائے اور جزیرۃ العرب کی پوزیشن یہی رہے ۔ اور سچائی کے حق میں غلبہ نہیں ہے ورنہ کیوں اللہ اہل باطل ‘ ظالموں ‘ باغیوں اور مفسدوں کو یوں چھوڑ دے کہ وہ باطل میں سرگرم رہیں ‘ کفر کی طرف شتابی سے بڑھیں ‘ طغیان میں سرگرداں رہیں اور یہ سمجھیں کہ وہ مستحکم ہوگئے ہیں اور اب کوئی قوت ان کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی ۔
یہ سب افکار باطلہ تھے ۔ اللہ کے حق میں سوچ بری تھی ۔ معاملہ ایسا نہ تھا اس لئے خود اللہ تعالیٰ اہل کفر کو متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا ہرگز گمان نہ کرو ۔ یہ جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ تمہیں گھیرتی نہیں ہے حالانکہ وہ کفر میں تیزی دکھا رہے ہیں ‘ اور یہ کہ انہیں جو اس دنیا میں حظ وافر دیا جارہا ہے جس سے وہ لطف اندوز ہورہے ہیں اور گمراہی میں آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لئے مزیدفتنہ ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط اسکیم ہے اور یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے کہ ان کی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے ۔
وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا……………” یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں ۔ پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “
اگر وہ اس بات کے مستحق ہوتے کہ اللہ انہیں ان انعامات سے نکالے ‘ انہیں ایسی ابتلا میں ڈالے جو ان کی آنکھیں کھولنے والی ہو تو ضرور اللہ انہیں ایسی ابتلا میں ڈال دیتے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں چاہتے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر خرید لیا ہے ۔ پھر وہ کفر کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس میں جدوجہد کررہے ہیں ۔ اس لئے اب وہ اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس غفلت اور خواب خرگوش سے جگائے اور ابتلا میں ڈالے ۔ یہ انعامات الٰہی اور سلطنت وقوت کے غرے میں ڈوبے ہوئے ہی بہتر ہیں ۔ اس لئے لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ……………” ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ “ اہانت آمیز عذاب ہے اور اس کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے بلند مقام ‘ مرتبہ اور انعامات ہوں گے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا بھی اللہ کی جانب سے ایک انعام ہوتا ہے اور یہ انعام بھی صرف اس شخص پر ہوتا ہے جس کے لئے اللہ نے خیر و فلاح کا ارادہ کیا ہو۔ اگر ابتلا اللہ کے دوستوں پر ہو تو اس میں ان کی کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے ۔ اگرچہ اللہ کے ان دوستوں کی تصرفات کی وجہ ابتلا ابتداءً آئی ہو اور ان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں آئی ہو ۔ بہرحال اس میں کوئی خفیہ حکمت کارفرما ہوتی ہے ‘ کوئی نہایت ہی لطیف تدبیر ہوتی ہے اور اپنے دوستوں پر اللہ کا فضل وکرم مقصود ہوتا ہے۔
یوں دل اپنی جگہ ٹھہر جاتے ہیں ‘ نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے اور اسلام کے واضح اور سیدھے حقائق مسلمانوں کے تصور کا حصہ بن جاتے ہیں ۔
اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی ایک بڑی بھلائی تھی کہ اس نے انہیں چھانٹ کر ان منافقین سے علیحدہ کردیا جو ان کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے اور ان کے آنے کے مختلف اسباب تھے ۔ وہ اس لئے نہیں آئے تھے کہ انہیں اسلام کے ساتھ کوئی محبت یا دلچسپی تھی بلکہ وہ مختلف حالات کی وجہ سے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے ۔ اس لئے اللہ نے مسلمانوں کو احد میں ابتلا میں ڈالا اور یہ ابتلا بھی خود ان کی اپنی سوچ اور ان کے بعض کاموں کی وجہ سے ان پر آئی ‘ لیکن اس میں حکمت یہ تھی کہ مجاہدین راہ حق کی صفوں میں سے خبیث اور طیب کے درمیان تمیز ہوجائے ۔