3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لئے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت اور نصیحت

نوامیس فطرت اور انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کی طرف اشارے کے بعد لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے ان واقعات سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ……………” یہ لوگوں کے لئے ایک صرف اور صریح تنبیہ ہے ۔ جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “ یہ تمام انسانوں کے لئے ایک بیان ہے ۔ پس یہ انسانیت کے لئے ایک دور رس انقلاب ہے اور لوگ اس انقلاب سے اس وقت تک بہرہ ور نہیں ہوسکتے جب تک یہ بیان نہ کیا جائے ۔ لیکن اس بیان سے استفادہ صرف ایک خاص گروہ ہی کرسکے گا ۔ صرف یہی لوگ عبرت ونصیحت حاصل کرسکیں گے ۔ صرف یہی لوگ بہرہ ور ہوں گے ۔ کون المتقون۔ یہ حقیقت ہے کہ کلمہ ہدایت کو شرف قبولیت صرف دل مومن بخشتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ہدایت کے لئے ہر وقت کھلا ہوتا ہے اور فصیح وبلیغ نصیحت سے استفادہ متقی دل ہی کرسکتا ہے ‘ جو ہر وقت کلمہ ہدایت سنتے ہی دھڑکنے لگتا ہے اور قبولیت کے لئے آمادہ ہوتا ہے ۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ صرف حق و باطل کا علم کسی کو فائدہ دے یا ہدایت وضلالت کا صرف علم مفید ہو۔ سچائی اپنی فطرت کے اعتبار سے اس قدر واضح ہوتی ہے کہ اس کے لئے وہ کسی طویل کلام وبیان کی محتاج ہی نہیں ہوتی ۔ دراصل جس چیز کی کمی ہوتی ہے وہ قبول حق کا داعیہ ہوتا ہے اور لوگوں کو حق کے قبول کرنے کا راستہ معلوم نہیں ہوتا۔ سچائی کی رغبت اور اس کے قبول کرنے کے راستے صرف اس صورت میں مل سکتے ہیں جب کوئی دل ایمان ویقین سے بھرجائے اور ایمان اس وقت محفوظ رہتا ہے جب اس کی پشت پر تقویٰ اور اللہ خوفی موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس قسم کی تاکیدیں کی گئی ہیں کہ اس کتاب میں جو سچائی ‘ جو ہدایت ‘ جو روشنی ‘ جو وعظ اور جو عبرت آموز باتیں بیان کی گئی ہیں وہ مومنین اور متقین ہی کے مفید مطلب ہیں ۔ اس لئے کہ ایمان اور تقویٰ دل کے دریچے ہدایت ‘ روشنی اور عبرت ونصیحت کے لئے کھول دیتے ہیں ۔ صرف ایمان وتقویٰ کے بل بوتے پر ہی ایک انسان راہ حق کی تکالیف برداشت کرسکتا ہے ۔ یہ اصلی بات ہے اور اس مسئلے کی یہی حقیقت ہے ۔ صرف علم اور معلومات کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کئی ایسے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں کہ وہ حق کے علم ومعرفت کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہوئے بھی باطل کے پرستار ہوتے ہیں اور اس میں گم گشتہ ہوتے ہیں ۔ محض اس لئے کہ ان کی نفسانی خواہشات ان پر قابو پائے ہوئے ہوتی ہیں جن کے مقابلے میں علم ومعرفت بےبس ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ وہ ان مشکلات کو دیکھ کر گھبراجاتے ہیں جو حاملین حق اور داعیان حق کا ہمیشہ استقبال کرتی ہیں۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

دل شکستہ نہ ہو ‘ غم نہ کرو ‘ تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔

اس کے بعد روئے سخن مسلمانون کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کی دلجوئی کی جاتی ہے ‘ تسلی دی جاتی ہے اور ثابت قدمی کی تلقین کی جاتی ہے۔ وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ…………… ” دل شکستہ نہ ہو ‘ غم نہ کرو ‘ تم ہی غالب رہوگے ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ وَلا تَهِنُوا………… یہ لفظ وہن سے نکلا ہے ‘ جس کے معنی ضعیفی کے ہیں اور غم نہ کرو ‘ یعنی ان مصائب پر جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا ان مفادات کے لئے جو تم سے چھوٹ گئے ۔ تم غالب اور برتر ہو ‘ اس لئے کہ تمہارا نظریہ حیات برتر ہے ۔ تم صرف اللہ وحدہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو اور وہ لوگ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے سامنے جھکتے ہیں یا کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک کرکے اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اور تمہارا نظام حیات ان کے نظام حیات کے مقابلے میں افضل و برتر ہے ۔ تم اس نظام کے مطابق زندگی بسر کررہے ہو جسے اللہ نے بنایا ہے ۔ اور وہ اس نظام زندگی کے پیروکار ہیں جو انسانوں نے بنایا ہے ۔ تمہارا رول ان کے مقابلے میں برتر ہے ۔ تم پوری انسانیت کے لئے حاملین وصیت ہو ‘ اس پوری انسانیت کے لئے ہادی اور راہبر ہو جبکہ وہ اللہ کے اس نظام سے دھتکارے ہوئے ہیں ‘ گمراہ ہوچکے ہیں ۔ اس کرہ ارض پر تمہارا مقام بلند مقام ہے ۔ تم اس وراثت کے حاملین میں سے ہو جس کا تمہارے ساتھ اللہ نے عہد کررکھا ہے ۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ عدم اور فنا کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اس لئے اگر تم سچے مومن بن جاؤ تو تم ہی اس دنیا میں اعلیٰ اور سربلند رہوگے ۔ اور اگر تم سچے مومن ہو تو نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور نہ دل شکستہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ کبھی تم پر مصیبت آئے گی اور کبھی تم کامران ہوگے اور جہاد ‘ ابتلا اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز ہوجانے کے بعد تمہاری عاقبت اچھی ہوگی ۔ ” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے ) کے گواہ ہیں ۔ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں ۔ اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کو سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “ یہاں اس چوٹ کا ذکر کیا گیا جو اہل اسلام کو لگی اور اس کا بھی ذکر کیا جو جھٹلانے والوں کو لگی تھی ۔ مکذبین کے چوٹ سے مراد غزوہ بدر ہے ۔ اس لئے کہ اس موقعہ پر مشرکین کو چوٹ لگی تھی اور اہل اسلام صحیح وسالم بچ گئے تھے لیکن جھٹلانے والوں کی چوٹ سے مراد غزوہ احد بھی ہوسکتا ہے جس میں ابتداءً گو مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی ۔ اہل کفر کو شکست ہوئی تھی اور ان میں سے ستر آدمی قتل ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد مشرکین بھاگ نکلے اور مسلمان ان کے تعاقب میں نکلے اور کھوپڑیوں پر ضربات لگاتے رہے ۔ مشرکین کا علم تک گر گیا اور کوئی ایساشخص نہ رہا جو آگے بڑھ کر علم اٹھاتا ۔ آخر کار ایک عورت نے علم اٹھایا۔ اس پر انہیں جرات ہوئی اور اس کے اردگرد جمع ہوگئے ۔ اس کے بعد مشرکین کی باری آئی جب تیراندزوں سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی ۔ آپس میں اختلاف کیا اور اس معرکے کے آخری دور میں مسلمانوں پر وہ مصیبت آئی جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور یہ پوری پوری سزا تھی اس بات کی کہ انہوں نے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور آپس میں اختلاف کیا۔ یوں اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ظاہر ہوئی جسے اس نے اس کائنات کے لئے مقدر فرمایا ہے ۔ اس لئے تیر اندازوں کی جانب سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی اور مشورہ کے باوجود آپس میں اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوئے تھے کہ ان کے دلوں میں مال غنیمت کا لالچ پیدا ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جہاد و قتال میں مسلمانوں کے لئے نصرت تو بہرحال لکھ دی ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو صرف جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں ۔ اور ان کا مطمح نظر اس دنیائے دنی کو کوئی بےوقعت فائدہ نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ایک دوسری سنت کا ظہور بھی ہوا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فتح ونصرت کو لوگوں کے درمیان پھرتے رہتے ہیں ۔ کبھی اہل حق کو فتح ہوتی ہے تو کبھی کبھار اہل باطل کو فتح ہوتی ہے ۔ ان کے اعمال اور ان کی نیتوں کے مطابق ۔ ان ایام کی وجہ سے اہل ایمان اور اہل نفاق کو چھانٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ نیز غلطیوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں سے نظریاتی کھوٹ نکل جاتا ہے۔
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں ‘ ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی راستی کو گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں

إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا ” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا تھا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سے سچے مومن کون ہیں۔ “ کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی ‘ وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں ‘ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے پاک ہوچکا ہے اور کس میں نظریاتی میل کچیل موجود ہے ۔ کون ہے جو جلد باز ہے اور کون ہے جو ثابت قدم ہے ۔ کون ہے جو مایوسی کا شکار ہوتا ہے اور کون ہے جسے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ کون ہے جو تن بتقدیر سپرد کرتا ہے اور کون ہے جو راضی برضا ہوتا ہے ‘ یا خود سری اختیار کرتا ہے ؟ یہاں آکر اسلامی جماعت کی تطہیر ہوجاتی ہے اور ظاہر ہوجاتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون مناق ہے ۔ دونوں فریقوں کی حقیقت واضح ہوکر سامنے آتی ہے ۔ اور لوگوں کی دلی کیفیات اس دنیا کے لوگوں پر بھی منکشف ہوجاتی ہیں ۔ اس طرح اسلامی صفوں سے ہر قسم کی وہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں جو لوگوں کے درمیان اخلاقی اور نظریاتی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں جبکہ جمعیت میں مختلف الخیال اور مبہم قسم کے لوگ ہوں۔ اللہ تعالیٰ مومنین کو بھی جانتے ہیں اور منافقین کو بھی جانتے ہیں ۔ اللہ علیم بذات الصدور ہیں ۔ لیکن واقعات زندگی ‘ فتح وشکست کے نتیجے میں چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے ہوئے اوصاف واقعات زندگی کی صورت میں برملا ہوجاتے ہیں ۔ اب ایمان ایک ظاہری عمل کی صورت میں سامنے آجاتا ہے ۔ اور نفاق بھی متشکل اور متجسم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ان امور پر حساب و کتاب ہوگا اور ان پر انعام وسزا بھی ہوگی ۔ اللہ ان امور پر حساب و کتاب نہیں لیتے جنہیں وہ جانتے ہیں بلکہ جزاوسزاکا دارومدار ان امور پر ہوتا ہے جو عمل میں آجاتے ہیں۔ اور زندگی کے نشیب و فراز اور سختی ونرمی کا یکے بعد دیگرے آنا ایک ایسی کسوٹی ہے جس کا نتیجہ غلط نہیں ہوتا ‘ یہ ایک ایسا ترازو ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں رہتی ۔ اس میزان میں مشکلات اور امن دونوں برابر ہیں ۔ کئی ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں ‘ صبر اور مصابرت کرتی ہیں لیکن جب سہولت آتی ہے تو تن آسان ہوجاتی ہیں لیکن اہل ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکلات میں جم جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں لیکن جب عیش و آرام کا وقت آتا ہے تو پھر بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے ۔ ان دونوں حالتوں میں ان کی توبہ اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ ان کا یقین اس بات پر پختہ ہوتا ہے ۔ خوشحالی اور بدحالی دونوں میں عمل دخل ذات باری کا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کی تربیت فرما رہے تھے اور یہ تربیت اس دور میں ہورہی تھی جب جماعت مسلمہ پوری دنیا کی قیادت کا چارج لینے ہی والی تھی تو اللہ تعالیٰ نے بدر کی کامیابی اور خوشحالی کے بعد احد کی ناکامی اور برے حالات سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کردیا ۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات بےسبب نہ تھے اور دونوں ‘ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کے عین مطابق تحت الاسباب تھے ‘ جو فتح وہزیمت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ؟ تاکہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت میں اور پختہ ہوجائے ۔ اللہ پر اس کا توکل اور بھروسہ اور زیادہ ہوجائے ۔ وہ ذات باری کے ساتھ مزید جڑجائے اور اسلامی نظام زندگی کے مزاج اور اس کے فرائض سے حق الیقین کی طرح واقف ہوجائے۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے ۔ امت مسلمہ کو حکمت الٰہیہ کے کچھ اور پہلو دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ حکمتیں اس معرکے کے واقعات کے بیان کے دوران اور زندگی کے نشیب و فراز کے آئینہ میں دکھائی جاتی ہیں یعنی مسلمانوں کی صفوں کی تطہیر اور اہل ایمان کو اہل نفاق سے چھانٹ دینے کے بعد بعض دوسری حکمتیں ؟ وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ” اور تم میں سے بعض کو شہید کردے۔ “ یہ عجیب طرز ادا ہے جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ خود شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔ مجاہدین میں سے مقام شہادت کے لئے انتخاب ہوتا ہے اور یہ انتخاب اللہ تعالیٰ خود اپنے لئے کرتے ہیں ۔ پس یہ گویا کوئی مصیبت اور خسارہ نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ اپنے لئے اختیار کرلیتے ہیں ‘ چھانٹ لیتے ہیں ۔ یہ گویا ان کے لئے خاص اعزاز ہوتا ہے ۔ ان کو اللہ نے چھانٹ لیا اور ان کو مقام شہادت اور مرتبہ شہادت حق پر فائز کردیا تاکہ وہ خالصتاً اللہ کے ہوجائیں اور اس کی مقرب کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ وَیَتَّخِذَ مِنھُم…………” اللہ ان سے چن لے گا۔ “ پھر ایک مفہوم کے مطابق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں اور یہ اپنی جان دے کر اس سچائی پر شہادت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ پر اتارا ہے ۔ یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ پیغام ‘ پیغام حق ہے اور یہ شہادت وہ اس انداز میں اور اس اسلوب میں دیتے ہیں کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا اور جرح کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اور اس کے بعد بات کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ یہ شہادت اس مسلسل جدوجہد کے ساتھ دیتے ہیں جس کا انجام جان کا نذرانہ پیش کرنے پر ہوتا ہے اس طرح وہ اپنے خون سے اس سچائی کو تسلیم کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے اسے فیصلہ کن شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مختار لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کی جانب سے جو نظریہ حیات نازل ہوا ہے وہ حق ہے ۔ وہ اس پر ایمان لاچکے ہیں ۔ وہ اس کے لئے خالص ہوگئے ہیں ۔ وہ ان کو اس قدر عزیز ہوگیا ہے کہ عزیز تراز جان ہے اور یہ کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک وہ اس سچائی کے مطابق نہ ہوجائے ۔ یہ کہ وہ اس پر پختہ یقین کرچکے ہیں ۔ اس لئے وہ اس امر میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں سے باطل کو ختم کردیں ‘ نکال دیں اور یہ حق پوری دنیا میں استوار ہوجائے اور لوگوں کے نظام حکومت میں بھی وہ رائج ہوجائے ۔ غرض یہ شہداء ان سب امور کے شہداء ہیں اور ان کی شہادت عبارت ہے جہاد اور موت فی سبیل اللہ سے اور یہ ایک ایسی شہادت ہے جس میں کسی قیل وقال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اب ذرا دوسرا پہلو دیکھیں ‘ جب کوئی اپنی زبان سے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت ادا کرتا ہے ‘ یہ شہادت اس وقت تک شہادت نہیں ہوتی جب تک یہ مقر اس شہادت کے مفہوم اور تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔ اور مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ سمجھے ‘ باہمی مفہوم کو وہ اللہ کے سوا کسی اور مأخذ شریعت اور مأخذ قانون نہ بنائے ، اس لئے کہ الٰہ کی خصوصیات میں یہ سے مخصوص ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے قانون سازی کرے ۔ اور بندوں کے حوالے سے مخصوص ترین بندگی یہ ہے کہ بندہ اپنانظام حیات اور نظام قانون اللہ تعالیٰ سے اخذ کرے ۔ اور جس کی عملی شکل یہ ہے کہ وہ قانون رسول اللہ ﷺ سے اخذکرے جو اللہ کے رسول اور اس کی جانب سے شارع ہیں ۔ اور ان دومصادر کے علاوہ ان کے نزدیک قانون کا کوئی اور مصدر ماخذ نہ ہو۔ پھر اس کلمہ شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ جدوجہد شروع کردے جس کے نتیجے میں اس کرہ ارض پر الوہیت اور حاکمیت صرف اللہ کی ہوجائے ۔ جس طرح اس کی تبلیغ حضرت محمد ﷺ نے فرمائی ۔ اور یہ شریعت اسلامی نظام حیات بن جائے ۔ یہ نظام غالب ہو اور اس کی پیروی ہونے لگے اور یہ نظام لوگوں کی پوری زندگی میں متصرف ہو اور اس کے تصرف سے زندگی کا کوئی پہلو مستثنیٰ نہ ہو۔ اس مفہوم کے اعتبار سے ‘ اس نظریہ حیات نے یہ تقاضا کیا کہ یہ شخص اس کی راہ میں جان دے دے تو شہید نے جان دے دی ۔ اس لئے وہ ایک ایسا گواہ بن گیا جس سے اللہ نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ یہ شہادت ادا کرے ۔ اس لئے کہ اسے اللہ نے گواہی کے مقام پر فائز کیا ہے ۔ اس وجہ سے وہ شہید بن گیا ہے ۔ یہ ہے اس عجیب انداز کلام کا گہرافہم یعنی وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ……………اور یہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کا مفہوم اور مقتضاء ہے ۔ اس شہادت کا وہ مفہوم نہیں ہے ۔ جس کے مطابق یہ شہادت ایک مذاق بن جائے ‘ محض وقت کا ضیاع ہو اور اس سے رخصتیں برآمد ہوتی ہوں۔ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ……………” بےشرک ایک عظیم ظلم ہے ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ میں نے سوال کیا کیا رسول اللہ ﷺ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ صرف اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ “ اس سے پہلے سیاق کلام میں جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اور اب یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا ۔ اس لئے بالواسطہ اس بات کی تاکید ہے کہ جھٹلانے والے اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچیں گے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت نہیں کرتا۔ اس انداز تعبیر کے یہ اثرات بھی سامنے آتے ہیں کہ ایک مومن ظلم اور ظالم سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اور ظلم اور ظالمین کے خلاف یہ فضا پیدا کرنا حدیث جہاد اور حصول شہادت کے لئے آمادہ کرنے کے اس موقعہ کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے ۔ اس لئے مومن اس بات کے خلاف جہاد کرتا ہے جسے اللہ مٹانا چاہتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف جہاد کرتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہیں ۔ اور یہ شہادت گاہ مومن ہے ۔ اس جگہ وہ نذرانہ جان پیش کرتا ہے اور ایسے ہی لوگوں سے اللہ شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ مومنوں کا الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کرنا چاہتا تھا۔

اس کے بعد اب مضمون اس طرف جاتا ہے کہاں حادثات فاجعہ کے پس پشت کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی تربیت مقصود تھی ‘ اسے پاک کرکے اس کے اعلیٰ کردار کے لئے تیار کرنا مقصود تھا ‘ تاکہ وہ اللہ کی تقدیر اور ہتھیار بن کر کافروں کو نیست ونابود کرے اور مکذبین کو سزا دینے کے لئے دست قدرت کے لئے پردہ بن جائے ۔ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور وہ آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “ تمحیص علیحدہ اور ممتاز کرنے کے بعد کا درجہ ہے ۔ اور یہ وہ کاروائی ہے جو انسان کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے ۔ ضمیر کے اندر اس کی تکمیل ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہوتا ہے جس سے شخصیت کے خفیہ گوشے کھل کر سامنے آجائیں ۔ ان خفیہ گوشوں پر لائٹ فوکس ہوجاتی ہے تاکہ ان گوشوں سے میل ‘ کھوٹ اور ملاوٹ دور ہوجائے ۔ وہ واضح اور صاف نظر آجائیں اور یہ شخصیت سچائی پر خوبی کے ساتھ جم جائے ۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی شخصیت کے بارے میں صحیح جائزہ نہیں لے سکتا۔ وہ اپنی خفی کمزوریوں اور اپنے نفس کے نشیب و فراز سے واقف نہیں ہوتا ۔ اور یوں اسے نہ اپنی قوت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ اپنی کمزوریوں کا صحیح پتہ ہوتا ہے۔ اس کی بعض ایسی خفیہ کمزوریاں ہوتی ہیں جن کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ان کو ابھارا جائے۔ چھانٹی کے اس عمل کا انتظام اللہ جل شانہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔ اور یہ چھانٹی اسی طرح کی جارہی تھی کہ مسلمانوں کو زندگی کے نشیب و فراز سے دوچار کیا جائے ‘ انہیں فتح بھی ہو اور شکست بھی ہو ‘ سختی بھی آئے اور اچھے حالات بھی درپیش ہوں۔ انہیں خوب رگڑا دیا جائے ۔ اور اس تلخ رگڑ کے بعد اہل ایمان اپنے بارے میں وہ کچھ جان لیں جو اس سے قبل وہ جانتے تھے ۔ حادثات ‘ تجربے اور مختلف عملی مواقف سے دوچار کرکے ان کی یہ چھانٹی ہوئی۔ بعض اوقات انسان اس غرے میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ قوی وشجاع ہے اور حرص وآزار کے پنجے سے آزاد ہے اور جب وہ عملی تجربات کی کسوٹی پر چڑھتا ہے اور جب وہ واقعی حالات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی شخصیت میں تو ابھی بڑی بڑی کمزوریاں ہیں ‘ جو ابھی تک دور نہیں ہوسکیں ۔ اور یہ کہ وہ ابھی تک مشکلات کے اس قدر دباؤ کے برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے یہ بات خود اس کے مفاد میں ہوتی ہے کہ اسے قبل از وقت اپنی کمزوریوں کا علم ہوجائے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو ازسرنو ڈھالنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ ان مشکلات کے برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلے جو اس کی دعوت کی راہ میں لازماً درپیش آنے والی ہیں۔ اور اس نظریہ حیات کی وجہ سے وہ لابدی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ وہ اس پہلی جماعت اسلامی کی اچھی طرح تربیت کردے ۔ جسے اس نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا تھا ۔ اس اسکیم کے مطابق اس جماعت نے اس کرہ ارض پر ایک عظیم کا سر انجام دینا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اسی طرح چھاٹا اور احد میں اسے ایسے حالات سے دوچار کیا جو غیر متوقع تھے تاکہ یہ جماعت اپنی سطح ذرابلند کرے اور اپنے آپ کو اس رول کے لئے تیار کرے جو اللہ نے طے کردیا تھا کہ اس نے ادا کرنا ہے اور وہ یہ تھا کہوَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور تاکہ وہ کافروں کی سرکوبی کرے ۔ “ اور یہ اس لئے کہ حق کے ذریعہ ‘ باطل کی سرکوبی کرنا سنت الٰہیہ میں سے ایک سنت ہے ۔ لیکن یہ سرکوبی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حق ظاہر ہوجائے اور سخت تربیت اور چھانٹی کے ذریعہ اس کی کمزوریاں دور کردی جائیں ۔
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے تو یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔

اب اگلی حکیمانہ بات بصورت استفہام انکاری آتی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو درست کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سنت الٰہی کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ فتح وشکست ‘ اعمال اور انکے نتائج کے بارے میں اللہ کا ایک اٹل قانون ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنت کی راہ میں تو کانٹے بھی بچھے ہوئے ہوتے ہیں ‘ مشکلات بھی ہوتی ہیں ‘ اور اس راہ میں مشکلات کو صبر وثبات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ محض خالی خولی تمناؤں اور نیک خواہشات کے ذریعہ یہ گھاٹی عبور نہیں کی جاسکتی ۔ تمہیں اس راہ میں مشکلات انگیز کرنی ہوں گی اور اپنی صفوں کو کمزور لوگوں سے صاف کرنا ہوگا۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (142) وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں وہ کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔ تم موت کی تمنائیں کررہے تھے مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ “ صیغہ استفہام انکاری اس مقام پر استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب کو ایک نہایت ہی خطرناک فکری غلطی پر متنبہ کرنا مطلوب ہوتا ہے ۔ یہاں فکری غلطی یہ تھی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس زبان سے اس قسم کا اعلان ہی کافی ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میں موت کے لئے تیار ہوں ‘ اسلام کی راہ میں مرمٹنے کے لئے۔ صرف اس اعلان ہی سے گویا انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ کی تمام مشکلات برداشت کرلیں اور اب وہ اللہ کی رضامندی اور جنت دونوں کے مستحق ہوگئے ہیں۔ یہاں انہیں سختی کے ساتھ بتایا گیا کہ تمہاری یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ تمہیں مشکلات کے واقعی تجربے سے گزرنا ہوگا ‘ عملی امتحان ہوگا ، جہاد میں شرکت کرنی ہوگی اور مصائب کو گلے لگانا ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ کہ ان مشکلات کی حالت میں جزع وفزع نہیں بلکہ صبر کرنا ہوگا اور ان کو برداشت کرنا ہوگا۔ یہاں اس آیت کے بعض الفاظ چونکادینے والے ہیں وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ …………… ” حالانکہ ابھی یہ تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے ہیں وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ……………” اور کون ہیں جو اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ “ اس لئے اس راہ میں صرف جہاد کرلینا ہی کافی نہیں ہے ‘ بلکہ مشکلات راہ پر صبر کرنا بھی ضروری ہے ۔ یہ مشکلات تو مسلسل ہوتی ہیں ‘ مختلف نوعیت کی ہوا کرتی ہیں اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوجاتیں جب میدان جنگ میں جہاد ختم ہوجاتا ہے ‘ بلکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں مشکلات جہاد بہت ہی کم ہوتی ہیں بمقابلہ اس کے جو جہاد کے بعد آتی ہیں اور جن کی خاطر صبر کا تقاضا کیا گیا ہے اور جن میں ایمان کی آزمائش ہوتی ہے ۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں نہ ختم ہونے والی مشکلات ہوتی ہیں ‘ افق ایمان پر مسلسل جمے رہنا ‘ شعور اور عمل دونوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہنا ‘ زندگی کی راہوں میں انسانی کمزوریوں پر بذریعہ صبر قابو پاتے رہنا ‘ روز مرہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے ساتھ یومیہ معاملات میں اور اپنے نفس کے ساتھ تمام معاملات میں اسلام پر جمے رہنا اور خصوصاً ان مقامات پر صبروثبات کا مظاہرہ کرنا جن میں باطل قوتوں کو بظاہر کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ یوں نظر آتی ہیں گویا بس فتح اب ان کے لئے مقدر ہے ۔ پھر بعض اوقات جدوجہد طویل ہوتی ہے اور راستہ طویل اور کٹھن نظرآتا ہے اور مشکلات سے پر نظر آتا ہے ‘ ایسے حالات میں صبر کرتے رہنا ‘ جہاد اور مشکلات اور جنگاہ میں آرام طلبی کی تمنا ‘ وسوسے اور نفس کی اکتاہٹ کے مقابلے میں صبر وثبات کا مظاہرہ کرتے چلے جانا ‘ غرض اس راہ میں جو نامعلوم اور پوشیدہ مشکلات ہوتی ہیں ‘ اور ان میں سے میدان جنگ صرف ایک مشکل ہے ‘ ان سب کو انگیز کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا وغیرہ یہ سب اس آیت کے تقاضے ہیں اور جنت کی راہ کی مشکلات ہیں ۔ غرض ان مقاصد کا حصول صرف الفاظ اور تمناؤں سے نہیں ہوتا۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

تم موت کی تمناکر رہے تھے ‘ مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لواب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔ “

وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ……………” تم موت کی تمنائیں کررہے تھے ‘ مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ “ یہاں قرآن مجید ان کو ایک بار پھر موت کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے ‘ جس کی وہ تمنائیں کیا کرتے تھے ۔ اور پھر جس کا معائنہ وہ معرکہ احد کے میدان میں کرچکے تھے اور اس منظر کے سامنے انہیں اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ ذرا ان حقائق کے ساتھ جو عملی میدان میں درپیش آئے ہیں ‘ ان الفاظ وکلمات کا مقابلہ کریں جو ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ان تمناؤں کا موازنہ کریں جو ان کے دلوں میں ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں سکھائے کہ وہ ہر اس کلمے اور لفظ کا جائزہ لیں جو ان کی زبانوں سے نکلتا ہے اور یہ دیکھیں کہ ان کلمات کے پیچھے مفہومات کا کس قدر سرمایہ موجود ہے اور یہ جائزہ وہ ان حقائق کی روشنی میں لیں جو معرکہ احد کے اندر پیش آئے ۔ اس طرح انہیں معلوم ہوگا کہ ان کلمات کی قدر و قیمت کیا ہے ‘ جو وہ اپنے منہ سے ادا کرتے ہیں اور ان تمناؤں کی حیثیت کیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں اور ان بھاری حقائق کے مقابلے میں ان وعدوں کا کیا مقام ہے جو انہوں نے کئے تھے ۔ پھر انہیں یہاں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ صرف ہوا میں تحلیل ہونے والے الفاظ یا دل میں ابھرنے والی تمنائیں ہیں انہیں جنت میں داخل نہیں کرسکتیں ‘ بلکہ جب جنت میں وہ تب داخل ہوسکیں گے جب وہ ان کلمات کو حقیقت کا جامہ پہنائیں اور ان تمناؤں کو میدان عمل میں لائیں تاکہ وہ حقیقی جہاد کا روپ دھاریں اور اس راہ کی مشکلات میں وہ صبر کرتے ہوئے نظر آئیں اور اللہ کی راہ میں ان حقائق کو لوگوں کی واقعی اور عملی دنیا میں دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کام کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ مومنین کو مشکلات میں ڈالے بغیر اور تکالیف دئیے بغیر ہی پہلے ہی دن اپنے نبی ‘ اپنے اس پیغام ہدایت اور اپنے اس تجویز کردہ نظام حیات کو کامیابی سے ہمکنار کردیتا۔ وہ اس بات پر قادر تھا کہ وہ فرشتے اتارتا اور وہ ان کے ساتھ لڑتے یا وہ اکیلے ہی مشرکین کو تباہ کردیتے ‘ جس طرح ان فرشتوں نے قوم عاد ‘ قوم ثمود اور قوم لوط (علیہم السلام) کو تباہ کیا تھا۔ لیکن جو اہداف مقرر ہوئے تھے ‘ وہ صرف فتح ونصرت نہ تھے ۔ اہداف میں یہ امر بھی تھا کہ جماعت مسلمہ کی تربیت بھی کی جائے ‘ اس لئے کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا تھا۔ اس وقت انسانیت ضعیف ونحیف تھی ‘ خواہشات نفسانی اور میلانات جسمانی کی غلام تھی ‘ اور وہ عملاً جاہلیت اور فکراً انحراف کا شکار تھی اور اس مقصد کے لئے ایسی قیادت درکار تھی جو ذہین ہو ‘ اور وہ قائدین سے اعلیٰ صلاحیتوں کا تقاضا کرتی ہو ‘ اور ان تقاضوں میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہو کہ وہ حق اور صداقت پر پختگی سے جمنے والے ہوں۔ وہ مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کی صفوں میں کہاں کمزوری ہے اور کہاں قوت ہے ۔ اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ انسانی نفس کہاں ٹھوکر کھاتا ہے ‘ کہاں راہ راست سے انحراف کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ کہ پھر ان سب کمزوریوں کا علاج کیا ہے ؟ پھر اگر اچھے حالات اور کامرانی ہو تو پھر بھی صبر کرنے والی ہو اور شدیدحالات ہوں تو پھر بھی صبر ہو ‘ اور حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے بعد ناکامی دیکھنا اور اس پر صبر کرنا ان حالات میں بہت ہی کڑوی اور ناخوشگوار صورت حال تھی ۔ جماعت مسلمہ کو عالمی قیادت کے منصب پر فائز کرنے کے احکام دینے سے قبل ‘ اللہ تعالیٰ نے جماعت مسلمہ کو ایسی سخت تربیت سے گزارا۔ یہ اس لئے کہ وہ اس عظیم اور خوفناک کام کرنے کے لئے تیار ہوجائے ‘ جو اس نے کرہ ارض پر سرانجام دینا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ وہ اس عظیم مشن پر اس انسان کو بھیجے گا جس کے لئے اس نے اسے چھانٹ لیا اور منتخب کرلیا ہے ۔ اور مشیئت الٰہیہ جماعت مسلمہ کی تیاری اور تربیت میں اب مختلف وسائل کو کام میں لاتی ہے ۔ مختلف حالات اور واقعات سے اسے گزارا جاتا ہے ۔ کبھی تو اس جماعت کو ایک فیصلہ کن فتح عطا کی جاتی ہے ‘ تو پھر یہ خوش ہوجاتی ہے ‘ اپنے اوپر اس کا اعتماد بحال ہوجاتا ہے ‘ اور یہ کام اللہ تعالیٰ کی معاونت خاصہ کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ اسے فتح و کامرانی کا تجربہ بھی کرایا جاتا ہے ۔ تو وہ کامرانی کے اس نشے میں صبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے ‘ وہ اس میں کبر و غرور بدمستی اور علو کے مقابلے میں بھی کامیاب ہوتی ہے ۔ تواضع اور اللہ کے شکر کا دامن نہیں چھوڑتی ۔ اور بعض اوقات اسے شکست شدت اور درد سے گزارا جاتا ہے ‘ تو وہ اللہ کے جناب میں پناہ لیتی ہے ۔ اسے اپنی ذاقی قوت کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ اور اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ جب وہ اسلامی نظام زندگی سے معمولی انحراف بھی کرے گی تو اس کے لئے اس کے نتائج کس قدر خطرناک ہوں گے ۔ یوں وہ شکست کی کڑواہٹ بھی چکھ لے گی اور اس کے ساتھ وہ باطل پر بھی غالب ہوگی اس لئے کہ وہ حق پر ہے ۔ اسے اپنی صفوں کے اندر کمزوریاں اور نقائص معلوم ہوجائیں گے کہ کہاں سے خواہشات نفس در آتی ہیں ‘ کہاں جاکر قدم پھسلتے ہیں تاکہ اگلے مرحلے میں وہ ان تمام کمزوریوں کو دور کرسکے ۔ اور وہ فتح اور شکست دونوں سے تجربات کا ایک وسیع سرمایہ لے کر آگے بڑھے ۔ یہ تھی سنت الٰہیہ اور اس کے مطابق قضا وقدر کا نظام چل رہی تھا۔ اس میں سرموانحراف ممکن نہ تھا اور نہ اب ہے ۔ یہ معرکہ احد کے حاصلات تجربہ میں سے ایک قلیل زاد راہ تھا ‘ تجربات کا ایک حصہ تھا جسے جماعت مسلمہ کے لئے ‘ ہر اسلامی انقلابی جماعت مسلمہ کے لئے ‘ ہر دور ‘ ہر زمان اور ہر مکان میں اٹھنے والی جماعت کے لئے یہاں آیات قرآنی میں قلم بند کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد قرآن کریم اپنی خاص نہج کے مطابق ‘ جماعت اسلامی کی تربیت کے لئے یہاں بعض عظیم اور اہم واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں ملاحظہ ہو :
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ یاد رکھو ! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا ۔

اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد ﷺ قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر میدان جنگ کو چھوڑ گئے ۔ رسول ﷺ کے پاس چند افراد رہ گئے اور ان حالات میں آپ ﷺ ان چند افراد کے ساتھ جم گئے۔ اور مسلمانوں کو یہ آواز دینے لگے کہ واپس آؤ ‘ چناچہ وہ پھر سے مجتمع ہوئے ۔ ان کے دل تھم گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک محسوس انداز میں ان پر اونگھ طاری کرکے انہیں طمانیت قلب اور امن و سکون عطا کردیا جب کہ تفصیلات بعد میں آرہی ہیں۔ یہ واقعہ جس نے ان لوگوں کو مکمل طور پر مدہوش کردیا تھا ‘ قرآن کریم اسے نکتہ توجہ بناتا ہے اور اس مناسبت سے وہ یہاں اسلامی تصور حیات کے اہم حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ اس کو موضوع بناکر یہاں حقیقت موت وحیات کے بارے میں اہم اشارے دئیے جاتے ہیں اور تاریخ ایمانی اور حالات قافلہ ایمانی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے یاد رکھو ‘ جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ بیشک محمد ﷺ صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ‘ یہ سب رسل فوت ہوئے ہیں اور محمد ﷺ بھی اس طرح فوت ہوں گے جس طرح وہ رسول فوت ہوئے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جب اس معرکہ میں یہ حقیقت (اگرچہ جھوٹی افواہ کے طور پر) تمہارے سامنے آئی تو کیوں تمہاری نظروں سے اوجھل رہی ۔ یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔ محمد ﷺ اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے ہیں ۔ وہ اس لئے آئے ہیں کہ اللہ کا پیغام پہنچادیں ۔ اللہ اپنی جگہ زندہ لایموت ہے ۔ اس کا پیغام زندہ جاوید ہے ۔ اس لئے یہ کس طرح مناسب ہوگا کہ اگر پیغام لانے والے فوت ہوجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جو اس معرکہ کی افراتفری میں ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی حالانکہ مناسب تھا کہ یہ اہل ایمان کی نظروں سے اوجھل ہوجائے کیونکہ یہ نہایت ہی سیدھی سادھی بات تھی۔ انسان فانی ہے اور نظریہ حیات باقی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی ایک علیحدہ حقیقت ہے جو ان لوگوں سے بالکل مستقل حقیقت رکھتا ہے جو اس کے حاملین ہیں اور جو اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ‘ وہ رسول ہوں یا رسولوں کے بعد امت کے داعی اور مبلغین ہوں ۔ وہ مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور یہ محبت ایسی ہے جس کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ‘ اس کا فرض ہے کہ وہ ذات رسول اور اس نظریہ حیات کے اندر فرق و امتیاز کرے جسے اس ذات نے لوگوں تک پھیلایا۔ اس لئے کہ جو نظریہ حیات آپ ﷺ نے دیا وہ حَیٌّ لِایَمُوتُ…………ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو حَیٌّ لَایَمُوتُ…………ہے۔ یہ فرق کرنا ان کا فرض اس لئے بنتا ہے کہ وہ محب رسول ہیں ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ رسول ﷺ کو کانٹا تک بھی چبھے ۔ ابودجانہ کو دیکھو وہ اپنی پیٹھ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کے ڈھال بنے ہوئے ہیں ۔ ان پر تیروں کی بارش ہورہی ہے اور وہ وہیں ہیں جو جمے ہوئے ہیں اور یہ دیکھو کہ آپ صرف 9 آدمیوں کے ساتھ رہ گئے اور ان سے ایک کے بعد ایک شہید ہورہا ہے ‘ سب ختم ہوجاتے ہیں لیکن آپ ﷺ کو گزند نہ پہنچے نہیں دیتے ۔ اور آج ہر جگہ اور ہر زمانے میں آپ کا نام سنتے ہی لوگ بوجہ محبت وجد میں آجاتے ہیں اور ٹوٹ کر آپ سے محبت کرتے ہیں ‘ اپنے پورتے پورے وجود کے ساتھ اور اپنے پورے جذبات کے ساتھ ۔ اے محبان رسول ! داعی سے دعوت کی قدر و قیمت زیادہ ہے ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ……………” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں ۔ “ وہ سابق رسول بھی اسی دعوت کے حاملین تھے جس کی جڑیں زمانہ قدیم تک دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ تاریخ کے بڑے بڑے میدانوں میں بارہا یہ دعوت سر سبز ہوتی رہی ہے ۔ اس کا آغاز ‘ آغاز انسانیت کے ساتھ ساتھ ہوا ہے ۔ اور یہ رسول زندگی کی گزرگاہوں میں اس کے حدی خواں رہے ہیں ۔ قائدانہ انداز میں امن وسلامتی کے ساتھ ۔ اس لئے یہ پیغام اور یہ نظام داعی سے بڑا ہے اور داعی سے زیادہ زندہ رہنے والا ہے۔ داعی تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن یہ پیغام زمانوں اور نسلوں سے جاری وساری ہے ۔ اس کے ماننے والے اس کے منبع اول کے ساتھ مربوط اور جڑے رہتے ہیں ۔ وہ منبع اور مصدر جس نے خود ان رسولوں کو بھیجا وہ منبع باقی ہے۔ اس کی طرف مومنین کا رخ ہے ۔ وہ نصب العین ہے اور اہل ایمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ الٹے پاؤں پھریں اور اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر مرتد ہوجائیں حالانکہ اللہ زندہ جاوید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ان کے رویے پر سخت نکیر کی گئی ۔ فرماتے ہیں أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ” کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بن رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ تعبیر ایسی ہے کہ اس میں ارتداد کی زندہ تصویر سامنے آجاتی ہے۔” تم لوگ الٹے پھر جاؤگے۔ “ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ……………اوروَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ……………” جو الٹاپھرے۔ “ یہ ایک حسی اور دیکھے جانے والی حرکت ہے ‘ ایک زندہ شخص الٹے پاؤں مڑتا ہے۔ یہ انقلاب ارتداد کی ایک مجسم شکل ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات چھوڑنا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ایک شخص اچانک واپس الٹے پاؤں مڑجائے ۔ حالانکہ یہاں اس انقلاب سے مراد یہ حسی حرکت نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے مراد وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ایک شخص نظریاتی پسپائی اختیار کرتا ہے ۔ ایک شخص نے یہ آواز دی کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں ‘ یہ سنتے ہی بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور اور یہ سوال آگیا کہ اب مشرکین کے ساتھ جنگ کا فائدیہ کیا ہے ؟ غرض اس طرح ذہنی حرکت اور اس ذہنی انقلاب کا اظہار حسی حرکت سے کیا گیا۔ یعنی ان کے ذہن اس طرح واپس ہوگئے جو طرح وہ معرکہ احد میں جسمانی طور پر پسپائی اختیار کررہے تھے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف نضربن انس ؓ نے اشارہ کیا تھا۔ لوگوں نے ہتھیار چھوڑ دئیے اور ان سے کہا گیا کہ رسول اکرم ﷺ تو مارے گئے۔ اس پر انہوں نے ان سے کہا :” پھر محمد ﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کروگے۔ اٹھو اور اس مقصد کے لئے شہیدہوجاؤ جس کے لئے آپ ﷺ شہید ہوئے۔ “ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا……………” یاد رکھو جو الٹاپھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا۔ “ وہ تو خود خسارہ اٹھائے گا ۔ وہ خود اپنے آپ کو ایذا شدیتا ہے کہ وہ الٹا پھرتا ہے اور اس کے اس انقلاب موقف سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اللہ تو لوگوں سے بےنیاز ہے ۔ وہ ان کے ایمان کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے یہ نظام تجویز کیا جس میں خود ان کی سعادت اور ان کا فائدہ ہے ۔ اور جو شخص اس نظام سے روگردانی کرے گا وہ خود برے انجام سے اس دنیا میں دوچار ہوگا۔ وہ اپنی ذات میں حیران وپریشان ہوگا اور اپنی سوسائٹی میں بھی ۔ اس کے اس فعل کی وجہ سے یہ نظام خراب ہوگا ‘ حیات انسانی خراب ہوگی اور پوری انسانی آبادی خراب ہوگی ۔ تمام معاملات بےترتیب ہوجائیں گے ‘ لوگ خود اپنے ہاتھوں گرفتار مصیبت ہوں گے ۔ محض اس لئے کہ انہوں نے اس نظام سے روگردانی کی کہ صرف اس کے اندر پوری انسانی نظام زندگی کا نظام درست طور پر چل سکتا ہے ۔ انسان مطمئن ہوسکتا ہے اور صرف اس نظام کے زیرسایہ نفس انسانی اپنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ اور اس پوری کائنات کے ساتھ چل سکتا ہے جس کے اندر وہ زندہ رہ رہا ہے۔ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ……………” اور جو اللہ کے شکر گزاربندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ یہ شکرگزار وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر و قیمت جاتے جو اس نے انہیں اسلامی نظام زندگی دے کر ان پر کی ۔ وہ شکر اس طرح ادا کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ اس طرح بھی شکر کرتے ہیں کہ اللہ کی ثناء خوانی کریں ‘ اور اس کو قائم کرکے اس دنیا کی سعادت حاصل کریں اور یہی ان کی جزا اس دنیا میں ہے ۔ ان کی شکر گزاری کی بہترین جزا اور اس کے بعد آخرت میں ان کو جزا دی جائے گی اور یہ اخروی سعادت ہوگی جو اس دنیاوی سعادت مندی سے بہت بڑی ہوگی اور جوابدہی ہوگی۔ گویا اس واقعہ پر اس تبصرے کے ذریعہ ‘ اللہ تعالیٰ ‘ مسلمانوں کی اس ذاتی دلچسپی کو ‘ جو رسول اکرم ﷺ کی ذات کے ساتھ تھی ‘ ہٹاکر اسے براہ راست ذات باری کے ساتھ جوڑتے ہیں جو اس دعوت کا اصل سرچشمہ ہے ۔ اس لئے کہ دعوت اسلامی کا یہ چشمہ صافی رسول ﷺ نے نہیں جاری فرمایا تھا۔ آپ نے تو لوگوں راہنمائی اس طرف فرمائی اور لوگوں کو بلایا کہ وہ اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے فیض سے فیض یاب ہوں ‘ جس طرح آپ ﷺ سے پہلے دوسرے رسول بھی یہی راہنمائی کرتے رہے تھے ۔ اور وہ مخلوق کے پیاسے قافلوں کو دعوت دیتے رہے کہ اس چشمہ صافی سے سیراب ہوں اور پیاس بجھائیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں وہ مضبوط رسی تھمادیں ‘ جسے حضرت محمد ﷺ نے نہیں باندھا ‘ بلکہ آپ تو اس لئے تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو اس پختہ رسی میں باندھ دیں۔ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیں اور وہ اس دنیا سے اس حالت میں چلے جائیں کہ لوگ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا رابطہ براہ راست اسلام سے ہوجائے اور ان کا عہد براہ راست اللہ کے ساتھ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ‘ اس عہد کے بارے میں ان کی شمولیت بلاواسطہ ہوجائے ۔ براہ راست اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرسکیں ‘ ایسی ذمہ داریاں جو رسول اکرم ﷺ کے فوت ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیں ۔ گویا انہوں نے براہ راست اللہ سے بیعت اور براہ راست اللہ کے سامنے وہ اس کے بارے میں جوابدہ ہیں ۔ گویا اللہ کی مشیئت یہ تھی کہ امت مسلمہ اس صدمے سے دوچار ہوجائے جس سے ایک دن اس نے دوچار ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ جب یہ صدمہ ہوگا تو ان کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انہیں اس صدمے کی ریہرسل کرادی ۔ وہ انہیں عملاً پہنچادیا یعنی رسول کی وفات کے بارے میں بھی انہیں یہ صدمہ پہنچادیا ‘ قبل اس کے کہ یہ صدمہ جب فی الواقعہ ہو تو انہیں بالکل ہی نڈھال نہ کردے۔ اور جب رسول ﷺ کی وفات کے وقت وہ اس صدمے سے دوچار ہوئے تو وہ فی الوا قعہ اسے برداشت نہ کرسکے ۔ حضرت عمرؓ جیسی تربیت یافتہ شخصیت اٹھ کھڑی ہوئی ‘ تلوار سونت لی اور پکارا کہ کوئی یہ لفظ منہ تک نہ لائے کہ محمد ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔ یہ ابوبکرؓ ہی تھے جو فوراً اٹھے ‘ جو خدا رسیدہ تھے ‘ جن کا تعلق تقدیر الٰہی سے براہ راست مضبوط تھا ‘ انہوں اسی آیت کو پڑھا اور ان لوگوں کو یاد دلایا جو نڈھال ہوکر حواس کھوبیٹھے تھے ۔ جب انہوں نے اس خدائی پکار کو سنا تو ان کے حواس بحال ہوئے اور وہ ہوش میں آئے ۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا ۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ جو شخص ثواب دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا میں سے دیں گے ‘ اور جو ثواب آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے ۔

اس کے بعد نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے فطری خوف کو ایک ٹچ دیتے ہیں یہ ایک نہایت ہی الہامی مس ہے ۔ وہ یکدم اس خوف کو دور کردیتا ہے اور موت وحیات کے بارے میں ایک اٹل حقیقت بیان کردی جاتی ہے ۔ نیز موت کے بعد لوگوں کے ساتھ اللہ کا سلوک اور جزاء وسزا کا ذکر کردیا جاتا ہے۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ ” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ جو شخص دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دے دیں گے اور جو ثواب آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطاکریں گے۔ “ ہر شخص کی موت کے لئے ایک لکھا ہوا وقت مقرر ہے اور کوئی شخص اس لکھے ہوئے وقت تک زندگی گزارنے سے پہلے ہرگز مر نہیں سکتا ۔ اس لئے ڈر ‘ خوف ‘ ہراس اور جزع وفزع ایک پل بھر زندگی کی میعاد کو آگے نہیں بڑھاسکتا ۔ شجاعت ‘ ثابت قدمی ‘ اقدام اور وفاداری سے عمر کم نہیں ہوتی ۔ ناس ہو بزدلی کا ! بزدلوں کی آنکھ نیند کو تر سے ! جس کے لئے جو دن مقرر ہے ‘ اس میں نہ ایک دن کی کمی ہو سکتی ہے اور نہ اضافہ ! اس حقیقت کے بیان سے نفس انسانی میں تقدیر اور اجل کی حقیقت بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی اس کے بارے میں سوچنا چھوڑدیتا ہے ۔ اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا ۔ اس کی سوچ تمام تر ادائے فرض ‘ وفائے عہد اور ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے میں صرف ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ حرص اور کنجوسی کے بندھنوں سے بھی آزاد ہوجاتا ہے اور خوف اور جزع وفزع پر بھی قابو پالیتا ہے ۔ اب وہ راہ حق کی تمام مشکلات کو انگیز کرتے ہوئے اور راہ حق کے فرائض پورے کرتے ہوئے بڑے صبر و سکون کے ساتھ اور توکل علی اللہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ۔ کیونکہ اب کی اس نئی سوچ کے مطابق ‘ موت کا وقت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور لکھا ہوا ہے ۔ ذرا ایک قدم اور آگے جائیں ۔ اس بات کا فیصلہ ہوگیا کہ عمر لکھی ہوئی ہے اور موت کا وقت متعین اور مقرر ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اصل سوچ یہ ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے ۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ اے نفس ! کیا تم ایمان کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہو اور کامیابی اور ناکامی کو اسی دنیا کے اندر محدود اور بند کردینا چاہتے ہو اور صرف اس دنیا کے لئے زندہ رہنا چاہتے ہو یا کہ تمہاری نظریں افق اعلیٰ پر بھی ہیں ؟ کیا اس محدود دنیا کے مقابلے میں بہت بڑی دنیا کی فکر بھی تمہیں ہے ۔ اس دنیا کی محدود عمر کے غم اور اہتمام کے ساتھ ساتھ کیا آخرت کا ارادہ بھی ہے ؟ وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ” جو شخص ثواب دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں دے دیں گے اور جو شخص آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا۔ “ اور ان دونوں زندگیوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ اور ان دونوں ارادوں میں بہت بڑا امتیاز ہے جبکہ دونوں صورتوں میں موت کا وقت وہی ہے جو مقرر ہے۔ فرق یہ ہے کہ جو شخص صرف اس دنیا کے لئے زندہ ہے اور صرف اس دنیا کا عوضانہ چاہتا ہے اس کی زندگی اور کیڑوں مکوڑوں اور ڈھورڈنگروں کی زندگیوں میں کیا فرق ہے ۔ دونوں کا وقت مقرر ہے ۔ اور جس شخص کی نظریں دار آخرت پر لگی ہوئی ہیں ‘ وہ انسانوں جیسی شریفانہ اور کریمانہ زندگی بسر کرتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے ۔ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے اور یہ بھی وقت مقرر پر اس دنیا سے رخصت ہوگا۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا……………” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرکستا۔ موت کا وقت لکھا ہوا ہے ۔ “ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ……………” اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطاکریں گے ۔ “ یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو مقام انسانیت کو پالیتے ہیں اور اللہ نے انسان کو جو شرف عطا کیا ہے اس کی قدر کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو حیوانی سطح سے ذرا اوپر رکھتے ہیں ۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس شکریہ کی صورت یہ ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں ۔ غرض اس انداز میں حیات وممات کی حقیقت ذہن نشین کرنے اور زندگی کے ان مقاصد اور ترجیحات کے حوالے سے اپنے لئے چن لیتے ہیں ‘ قرآن کریم انسانوں کے سامنے دوراستے رکھتا ہے ‘ ان کو دعوت فکر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے لئے کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں ۔ وہ اپنے لئے محض کیڑے مکوڑوں کی زندگی پسند کرتے ہیں یا انسان مکرم کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ یوں نفس انسانی خوف موت اور دنیا کی تکالیف پر جزع وفزع ترک کرکے ایک زیادہ مفید کام کی طرف منتقل ہونا پسند کرتا ہے اور یہ انتخاب وہ اپنے اختیار تمیزی سے کرتا ہے کیونکہ وہ دونوں میں سے ہر راستہ وہ اختیار کرسکتا ہے۔ چاہے تو دنیا کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو آخرت کا راستہ اختیار کرے ۔ جو راہ بھی وہ اختیار کرے ‘ اس کا صلہ پائے گا۔