Ayah 3:99اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا تعارف ان الفاظ میں کیا ہے ۔ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا……………” یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ۔ “ یہ ایک بامعنی جائزہ ہے ۔ اور اس میں بہت بڑا راز ہے ۔ یعنی اللہ کا راستہ تو بالکل سیدھا راستہ ہے اور اس کے علاوہ جو راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے راستے ہیں ۔ اور جب لوگوں کو سیدھے راستے سے روکا گیا اور جب ابھی ایمان کو اسلامی نظام حیات سے محروم کیا گی تو تمام انسانی امور میں اتقامت اور سیدھ ختم ہوجائے گی اور حسن وقبح کے پیمانے صحیح و سلامت نہ رہیں گے ۔ اور اس زمین کے نظام کا ہر شعبہ ٹیڑھا ہوجائے گا ۔ یہ ایک عظیم فساد ہوگا ‘ نظام فطرت میں فساد برپا ہوگا کیونکہ نظام فطرت کے خلاف ورزی ہوگی ‘ انسانی زندگی میں فساد اس لئے ہوگا کہ یہ زندگی ٹیڑھ پر قائم ہوگی ‘ اور یہ عظیم فساد اس لئے رونما ہوگا کہ لوگوں کو اسلامی ظام حیات سے روک دیا گیا ہوگا۔ پھر یہ فساد انسانی تصورات میں بھی برپا ہوگا ‘ انسانی ضمیر میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی اخلاق میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی طرزعمل میں فساد ہوگا ‘ انسانی روابط میں فساد ہوگا ‘ انسانی معاملات میں فساد ہوگا۔ غرض ان تمام روابط میں فساد ہوگا جو ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان پیدا ہوں گے ۔ نیز یہ فساد ان کے اور اس نظام کائنات میں بھی برپا ہوگا جس کائنات میں انسان رہتے ہیں ۔ پس لوگ یا تو اسلامی نظام زندگی کے تحت زندگی بسر کریں گے تو اس صورت میں وہ صراط مستقیم اور حالت صالحہ میں ہوں گے اور ان کے لئے بھلائی ہوگی یا پھر وہ ٹیڑھے اور منحنی راہوں پرچلیں گے ‘ تو اس صورت میں وہ ٹیڑھ ‘ فساد اور شر میں مبتلا ہوں گے ۔ دنیا میں یہی دوراستے ہیں اور یہی دوحالات ہیں جو بنی نوع انسان کی زندگی پر آسکتے ہیں ۔ ایک حالت یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہوں گے تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ پر گامزن ہوں تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ سے منحرف ہوں گے تو اس صورت حال میں شر اور فساد ہی ان کا مقدر ہوگا۔
یہاں آکر اہل کتاب کے ساتھ اب مناظرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اب انہیں بھلادیا جاتا ہے اور اب خطاب جماعت مسلمہ سے ہورہا ہے ۔ اب امت مسلمہ کو ہدایات دی جارہی ہیں ۔ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے او دشمن کی چالوں سے ڈرایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے خصائص کیا ہیں ‘ اس کا تصور حیات اور اس کا نظام زندگی کیا ہے ‘ اور وہ کیا ذرائع ہیں جنہیں کام میں لاکر اس نظام زندگی کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ؟
Ayah 3:100اس کرہ ارض پر اس امت کو اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر صرف اسلامی نظام زندگی کے برپا کرنے کے لئے اپنے لئے راہ متعین کرے ۔ یہ ایک منفرد ‘ ممتاز اور نمایاں امت ہے ۔ اس کا وجود اسلامی نظام زندگی سے پھوٹا ہے ‘ تاکہ وہ حیات انسانی کے اندر وہ رول ادا کرے جو اس کے سوا کوئی نہیں ادا کرتا ۔ یہ امت اس لئے برپا کی گئی ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کا اقرار کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے ‘ اور اس نظام کا نشان منزل نظر آرہا ہو ۔ اس میں قرآن وسنت کی نصوص اور احکام عملاً زندگیوں میں چلتے پھرتے نظر آئیں ‘ اسلامی نصوص انسانی شعور ‘ انسانی اخلاق اور انسانی طرز عمل اور انسانی روابط عملاً نظر آئیں۔
امت مسلمہ کے برپا کرنے کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا ‘ اس کی راہ اس وقت تک متعین نہیں ہوسکتی اور وہ انسانی زندگی میں یہ چمکدار اور خوبصورت اور ممتاز عملی زندگی اس وقت تک وجود میں نہیں لاسکتی جب تک وہ تمام ہدایات اللہ جل شانہٗ سے اخذ نہ کرے اور انسانی قیادت اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے اصول تسلیم نہ کرے ۔ تمام انسانوں کی راہنمائی کا انکار نہ کردے ‘ تمام انسانی اطاعتوں کو ترک نہ کردے اور تمام انسانوں کی پیروی ترک نہ کردے ۔ اسے یا تو یہ تمام امور سرانجام دینے ہوں گے اور یا پھر اسے کفر ‘ گمراہی اور راہ راست سے انحراف قبول کرنا ہوگا۔
یہ وہ اصول ہے جس کی تاکید قرآن مجید بتکرار کرتا ہے ‘ اور مختلف مواقع پر کرتا ہے ۔ اور یہی وہ اصول ہے جس پر جماعت مسلمہ کا شعور ‘ اس کی سوچ ‘ اس کے اخلاق پروان چڑھے ہیں جہاں بھی اسے موقعہ ملے ۔ اب مواقع میں سے ایک موقعہ یہ تھا ‘ جس میں اہل کتاب رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباحثہ کررہے تھے اور تحریک اسلامی کو مدینہ میں اہل کتاب کے مکروفریب ‘ خفیہ سازشوں اور عداوتوں کا مقابلہ کرنا پڑرہا تھا ۔ ہاں یہ ہدایات بہر حال مدینہ طیبہ کے ان مخصوص حالات کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ یہ ہدایات امت مسلمہ کے لئے دائمی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہرنسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ اس لئے کہ امت مسلمہ کا یہ اصول حیات ہے اور یہی اس کا مقصد وجود ہے ۔
اس امت کو اس لئے برپا کیا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی قیادت کرے ۔ اب یہ کس منطق کی رو سے جائز ہے کہ وہ جاہلیت کی پیروی کرے حالانکہ اس کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ جاہلیت کا قلع قمع کرے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور انسانوں کا رشتہ اللہ سے جوڑے ۔ انسانوں کی قیادت اسلامی نظام زندگی کے مطابق کرے ۔ اور جب یہ امت مسلمہ قیادت کے مقام سے گرجائے تو متصور ہوگا کہ امت مسلمہ کا وجود نہیں ہے ۔ اور اگر اس کا کوئی وجود ہے تو وہ بھی بےمقصد وجود ہے ۔ اسے تو اس لئے برپا کیا گیا تھا کہ وہ ایک صحیح تصورحیات کے مطابق انسانیت کی قیادت کرے ۔ اس کا عقیدہ بالکل درست ہو ‘ اس کا شعور استوار ہو ‘ اس کے اخلاق معیاری ہوں ‘ اس کا نظام مستحکم ہو اور اس کی تنظیم مضبوط ہو ۔ صرف ایسے حالات ہی میں انسانی عقل نشو ونما پاسکتی ہے اور اس کے لئے مزید راہیں میسر ہوسکتی ہیں ۔ اور وہ اس پوری کائنات سے اچھی طرح متعارف ہوسکتی ہے ۔ وہ اس کائنات کے بھیدوں سے آگاہ ہوسکتی ہے اور وہ اس کائنات کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں ‘ اس کے ذخیروں کو مسخر کرسکتی ہے ۔ لیکن امت کی قیادت عالیہ جو تسخیر کائنات کا حکم دیتی ہے ‘ وہ ان تمام قوتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں کو مسخر کرکے انہیں اس کائنات کی تباہی اور اس کائنات کی بربادی کے لئے کام میں نہیں لاتی ۔ اور نہ وہ ان قدرتی قوتوں کو اس سے دریافت کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرے اور شہوات حیوانیہ میں گم ہوجائے ۔ تسخیر کائنات کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت اپنے ایمان باللہ کو مضبوط کرے ‘ یہ تمسخر اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو ‘ اور اس معاملے میں وہ اللہ کے سوا کسی اور منبع سے ہدایات نہ لے ۔
اس سبق میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ وہ غیر اللہ کی اتباع کرے ۔ اور یہ بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح صحیح حالات پیدا کرسکتی ہے ۔ اور کس طرح اپنے آپ کو بچاسکتی ہے ۔ چناچہ پہلا حکم یہ دیا جاتا ہے کہ امت مسلمہ اہل کتاب کی پیروی اور اطاعت نہ کرے ‘ اگر وہ ایسا کرے گی تو اہل کتاب اسے کفر کی طرف لے جائیں گے اور اس کے سوا کوئی دوسری بات نہ ہوگی ۔
اہل کتاب کی اطاعت کرنا ‘ اور ان سے ہدایات اخذ کرنا ‘ ان کے اوضاع واطوار کا نقل کرنا ‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت مسلمہ نے داخلی طور پر شکست قبول کرلی ہے اور اس نے اپنے اس مقام قیادت سے دست برداری کرلی ہے ۔ نیز اس سے اسلامی زندگی کی یہ صلاحیت بھی مشکوک ہوجاتی ہے کہ وہ ہمارے دور میں زندگی کی راہنمائی ‘ اس کی تنظیم ‘ اس کی ترقی اور نشوونما کی اہلیت رکھتا ہے ۔ اور یہ بات دراصل کفر ‘ خفی ہے جو نفس انسانی کے اندر سرایت کرجاتا ہے ۔ یہ کفر غیر شعوری ہوتا ہے اور انسان اس کا خطرہ بھی محسوس نہیں کرتا ۔ یہ اسلام کے نقطہ نظر سے بات تھی ‘ رہی یہ بات کہ اہل کتاب کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ تو وہ دنیا میں سب سے زیادہ جس امر کے حریص ہیں وہ یہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اپنے عقیدے سے پھیر دیں ۔ اس لئے امت مسلمہ کے لئے یہ عقیدہ صخرہ نجات ہے ۔ وہ اس کے لئے ایک دفاعی لائن ہے اور اس کی قوت اور شوکت کا اصل منبع ہے ۔ اور اس امت کے دشمنوں کو اس راز کا بخوبی علم ہے ۔ اس سے قبل بھی انہیں اس کا علم تھا اور آج بھی انہیں اس کا علم ہے ۔ اور وہ اس امت کو اپنے عقائد ونظریات سے دور کرنے کے لئے ہر مکر اور ہر حیلہ کام میں لاتے ہیں ۔ وہ اس کام میں اپنی پوری توانائی اور اپنی پوری قوت صرف کرتے ہیں ۔ اور جب وہ اس امت کا مقابلہ علی الاعلان نہیں کرسکتے تو وہ اس کے خلاف خفیہ مکر و فریب کام میں لاتے ہیں اور جب یہ لوگ تنہا اس کام کو سرانجام دینے کے اہل نہیں رہتے تو پھر وہ اس کام میں منافقین سے امداد لیتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کا اظہار کرتے ہیں لیکن وہ اپنی افواج منظم کرکے اسلامی قلعے کی دیواروں میں اندر سے نقب لگاتے ہیں اور لوگوں کو اسلام سے دور کرتے ہیں ۔ اور ان کی نظروں میں ان نظامہائے زندگی کو حسین بناتے ہیں جو اسلامی نظام کے خلاف ہیں ۔ ان کے لئے ایسے طریقے ایجاد کرتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں اور اس امت پر ایسی قیادت مسلط کرتے ہیں جو اسلامی قیادت نہیں ہوتی۔
جب اہل کتاب دیکھتے ہیں کہ اہل اسلام میں سے انہیں ایسے افرادمل رہے ہیں جو ان کے تابع ‘ ان کے پیروکار اور ان کی بات پر اچھی طرح کان دھرنے والے ہیں تو وہ ان لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور انہیں ان مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کے حصول کے لئے ان کی نیندیں حرام ہیں تو وہ ان کو مقام قیادت دیں گے اور لوگوں کو ان کے پیچھے لگادیں گے تاکہ یہ ایجنٹ پوری امت کو کفر و ضلال کے راستے پر ڈال دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ کن اور دوتوک بات آتی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ
” اے ایمان لانے والو ! اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ “
رسول اکرم ﷺ کے دور میں اہل اسلام اس امر سے زیادہ کسی اور چیز سے نہ گھبراتے تھے کہ وہ اسلام سے پلٹ کر پھر کفر کی طرف چلے جائیں ۔ اور جنت کے مستحق ہوکر پھر جہنم کی طرف چلے جائیں ۔ اور یہی صفت ہر سچے مومن کی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت میں یہ ڈراوا ایسا تازیانہ ہے جس سے ضمیر گرم ہوگا۔ اس سے ڈرانے والے کی مشفق آواز سننے کے لئے سامع اچھی طرح آمادہ ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈراوا اور یاد دہانی کے مضامین مسلسل جاری ہیں ۔ کیا برامنکر حق ہے وہ شخص جو اہل ایمان کو ایمان لانے کے بعد بدراہ کرتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ ان پر آیات الٰہی مسلسل پڑھی جارہی ہیں اور رسول اللہ ان میں موجود ہیں اور وہ تمام محرکات موجود ہیں جو ایمان لانے کے باعث ہیں اور دعوت اسلامی مسلسل دی جارہی ہو اور کفر و ایمان کے دورا ہے پر نور ایمان چھایا ہوا ہے۔
Ayah 3:101ہاں ‘ ایسے حالات میں ‘ ایمان لانے کے بعد کسی مومن کا کافر ہوجانا بیشک ایک عظیم امر ہے ‘ اور جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا وقت پورا کرلیا اور اپنے رفیق الاعلیٰ کے ساتھ جاملے تو اس صورت میں بھی آیات الٰہی موجود ہیں ۔ اور سنت رسول ﷺ باقی ہے ۔ آج ہم بھی ان آیات کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح قرون اولیٰ کے لوگ مخاطب تھے ۔ اور آج بھی کامیابی کی راہ واضح ہے اور کامیابی کے جھنڈے بلند ہیں ۔ وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ……………” اور جو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔ “
ہاں ‘ اللہ کا دامن تھام لینے میں ہی نجات ہے۔ اللہ جل شانہٗ موجود ہیں ۔ وہ زندہ اور قیوم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام پر ‘ اسلامی نظریہ حیات اسلامی عقائد اور اسلامی نظام زندگی کے سلسلے میں بہت زیادہ سختی فرماتے تھے ۔ جبکہ زندگی کے خالص عملی اور تجربی امور میں آپ انہیں کھلا چھوڑتے تھے ، یعنی ان امور میں جن میں حقیقت کا دارومدار تجربے پر موقوف ہوتا ہے مثلاً طریقہائے زراعت ، طریقہائے جنگ و قتال اور ایسے ہی دوسرے امور جن کا تعلق خالص علمی اور تجرباتی امور سے ہوتا ہے اور جس میدان میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یا جن کا تعلق اسلامی نظام زندگی کے ساتھ نہیں ہوتا اور نہ ان کا تعلق ایک علیحدہ چیز ہے اور خالص علوم ‘ تجرباتی امور اور دوسرے انطباقی معاملات ایک دوسری چیز ہے ۔ اسلام کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق چلایا جائے ۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے عقل انسانی کو ایسے کام میں لگایا اگر وہ علم معرفت کی قوت سے نئی نئی مادی ایجادات سامنے لائیں اور یہ کام اسلامی نظام زندگی کے دائرے کے اندر اندر کیا جائے ۔
امام احمد بن حنبل (رح) ایک حدیث نقل کرتے ہیں ۔ بروایت سفیان ‘ جابر ‘ شعبی عبداللہ بن ثابت رحمہم اللہ ۔ وہ فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا ! رسول اللہ ‘ میں نے بنی قریظہ میں سے اپنے ایک یہودی بھائی کو کہا اور اس نے مجھے تورات سے بعض جامع چیزیں لکھ دیں ‘ کیا میں وہ آپ کی خدمت میں پیش نہ کردوں ؟ فرماتے ہیں کہ یہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا ۔ عبداللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر کیا آثار ہیں ؟ عمر نے کہا میں اس پر راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ‘ اسلام میرا دین ہے اور محمد میرے رسول ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے آثار غضب کے آثار غائب ہوگئے اور آپ نے فرمایا ” خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر آج تم میں موسیٰ (علیہ السلام) آجائے اور تم اس کی اطاعت کرو مجھے چھوڑ دو تو یقینا ً تم گمراہ ہوجاؤگے ۔ تمام امتوں میں سے تم میرا حصہ ہو اور میں تمام نبیوں میں سے تمہارا حصہ ہوں۔ “
حافظ ابویعلیٰ نے حماد ‘ شعبی کی روایت سے حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اہل کتاب سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کرو ‘ اس لئے کہ جب وہ خود گمراہ ہوگئے تو تمہیں کیسے ہدایت دے سکتے ہیں ۔ اگر تم نے ان سے کوئی بات دریافت کی ‘ تو پھر یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کروگے اور یا پھر کسی صحیح بات کی تکذیب کروگے ۔ اور اللہ کی قسم آج اگر تمہارے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوتے تو ان کے لئے میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا اور بعض روایات میں ہے ” اگر موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) زندہ ہوتے ‘ تو ان دونوں کے لئے میرے اتباع کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہوتا۔ “
یہ لوگ ہیں اہل کتاب اور یہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے احکام اس امر کے بارے میں کہ ان تمام امور میں جن کا تعلق عقائد ونظریات سے ہے یا جن کا تعلق نظام زندگی اور اسلامی قانون سے ہے ‘ ان میں اہل کتاب سے مکمل اجتناب کرنا ہے ۔ ہاں جن امور کا تعلق محض سائنسی علوم سے ہے تو ان میں اسلام کی روح اور اس کی واضح ہدایات کے مطابق تمام اقوام وملل سے استفادہ جائز ہے ‘ لیکن ان علوم کو بھی ایمانی نظام زندگی کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے ۔ اس شعور کے ساتھ کے کہ وہ ذات باری ہی ہے جس نے انسان کو اس فطرت کی تسخیر کی قوت دی ہے۔ اس نے فطرت کا رخ تبدیل کیا اور انسانیت کی بھلائی کے لئے اسے استعمال کیا اور انسانیت کے لئے امن و سکون اور سہولیات کا انتظام کیا ۔ لہٰذا وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کائناتی قوتوں کو مسخر کرنے کی طاقت ہمیں عنایت فرمائی اور شکر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں اس کی بندگی کی جائے اور پھر اس علم ومعرفت اور تسخیر کائنات کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کیا جائے۔
رہا ایمانی تصور حیات کا موضوع ‘ اس کائنات کی تخلیق کی بابت نظریات ‘ وجود انسانی کے مقاصد انسانی نظام زندگی اور اس کی تنظیمات اور قوانین ‘ انسان کا اخلاقی نظام اور اس کا طرز عمل تو ان تمام موضوعات میں کسی غیر اسلامی منبع فکر سے کوئی بات اخذ کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ‘ جس کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا تھا ۔ حالانکہ وہ معمولی بات تھی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اس سے بڑی سختی سے ڈرایا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ واضح کفر کا ارتکاب ہوگا۔
یہ ہے اللہ کی ہدایت اور یہ ہے اسوہ رسول اللہ ﷺ ۔ رہے ہم لوگ جو دعوائے اسلام کرتے چلے جارہے ہیں تو ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے علم کے اصول یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم بھی مستشرقین سے حاصل کرتے ہیں یا مستشرقین کے شاگردوں سے حاصل کرتے ہیں اور ذرا غور کیجئے کہ ہم اپنے لئے فلسفہ حیات اور وجود انسانی اور حیات انسانی کے آغاز کے نظریات بھی ان لوگوں سے اخذ کرتے ہیں یا پھر یونانی ‘ رومی اور یورپین اور ماری کی فلاسفہ سے یہ نظریات اخذ کرتے ہیں اور پھر ذرا ملاحظہ کیجئے کہ ہم اپنا نظام حیات ‘ اپنے ضوابط اور قوانین بھی ان جعلی مصادر سے اخذ کرتے ہیں ۔ ہم اپنا طرز عمل ‘ اپنے اخلاق اور اپنے آداب بھی اس گندے تالاب سے اخذ کرتے ہیں جو نہایت ہی گندہ ہے اور جس میں جدید مادی تہذیب کی گند جمع ہوچکی ہے ‘ جوہر قسم کے دینی تصورات سے عاری ہے ۔ چاہے وہ اسلام کے سوا کوئی اور دین ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے باوجود ہم اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ یہ ایک ایسا زعم ہے جس کا گناہ کفر صریح کے گناہ سے زیادہ ہے ۔ اس لئے کہ ایسا زعم باطل رکھ کر گویا ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ آج کے دور میں اسلامی نظام زندگی کامیاب نہیں ہے یا اگر کامیاب ہے تو گویا ہم نے اسلام کی شکل مسخ کرکے موجودہ طرز عمل کو اسلام سمجھ رکھا ہے ۔ اور ہم ان امور کی گواہی دے رہے ہیں جبکہ وہ لوگ جو اس زعم میں مبتلا نہیں ہیں وہ دراصل ایسی شہادت نہیں دے رہے ۔
حقیقت یہ ہے اور اسے گرہ میں باندھنا چاہئے کہ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے ۔ وہ چند ممتاز خوصیات کا حامل نظام ہے ۔ اعتقادی تصورات کے اعتبار سے بھی نظام زندگی اور نظام قانون کے اعتبار سے بھی اور اپنے اخلاقی قواعد و اصول کے اعتبار سے بھی ‘ جس پر ہمارے اجتماعی روابط قائم ہوتے ہیں اور یہ دین انہیں ترک نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ روابط سیاسی ہوں ‘ اقتصادی ہوں یا اجتماعی ہوں ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نظام پوری انسانیت کی قیادت کے منصب کا بھی مدعی ہے ۔ لہٰذا اس کا ضروری منطقی اور لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک ایسی انقلابی جماعت ہو ‘ جو اس نظام کے جھنڈے اٹھائے اور انسانیت کی راہنمائی کرے ۔ اور جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا اسلامی نظام کے اس قائدانہ دعویٰ کے مزاج کے ساتھ یہ امر مطابقت نہیں رکھتا کہ مسلمان دوسری ملل سے کوئی استفادہ کریں یا ان سے ہدایات لیں ۔
پھر یہ حقیقت بھی بروقت نظروں کے سامنے رہے کہ جب یہ دین آیا تھا تو یہ پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے آیا تھا۔ اور آج جو لوگ اس نظام کی حکمرانی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ بھی پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے دے رہے ہیں ۔ کل بھی جو شخص اس دعوت کا حامل ہو وہ بھی اسی مقصد کے لئے ہوگا۔ بلکہ انسانیت جن ظالمانہ نظامہائے زندگی کے نیچے پس رہی ہے ‘ اور جسے ہم چشم سر سے دیکھ رہے ہیں اسے اسلام کے عادلانہ زندگی کی اشد ضرورت ہے۔ اس الٰہی نظام زندگی کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے جس پر انسانیت کو نجات ملے ۔ لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اسلامی نظام زندگی اپنی تمام خصوصیات کو محفوظ اور زندہ رکھے ۔ اور پوری انسانیت کے اندر قائدانہ مقام حاصل کرے اور اسے ایک بار پھر اس دنیا میں مصائب اور مشکلات سے نجات دے ۔
اس وقت انسانیت نے تسخیر کائنات کے سلسلے میں جو جدوجہد کی ہے اور مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ اور طب اور صنعت کے میدان میں جو حقائق فراہم کئے ہیں وہ ماضی کے مقابلے میں معجزانہ ہیں اور انسانیت ان میدانوں میں مسلسل پیش قدمی کررہی ہے۔ اور نئی نئی فتوحات حاصل کررہی ہے لیکن ان سب فتوحات کا اس کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟ اس کی نفیساتی دنیا کا حال کیا ہے ؟ کیا اس میدان میں بھی وہ خوشحال ہے ؟ کیا اسے اطمینان قلب حاصل ہے ؟ کیا اس کی زندگی پر امن ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ وہ اس وقت ہمہ گیر بدبختی ‘ بےچینی اور خوف کا شکار ہے ۔ وہ اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے ۔ وہ بےراہ روی اور جرائم کی وسیع دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ لیکن اس نے انسانیت ‘ حیات انسانی کے مقصد وجود اور انسان کے مقصد تخلیق کے میدان میں کوئی ترقی نہیں کی۔ اس لئے آج جب ہم جدید تہذیب کے فرزند کی ذہنی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ اس کے نزدیک تخلیق انسان کا مقصد کیا ہے تو وہ اسلامی تصور حیات کے مقابلے میں اس میدان میں بالکل مفلس اور پسماندہ اور بونا نظر آتا ہے ۔ بلکہ اس میدان میں یوں نظر آتا ہے کہ اسے ایک لعنت گھیرے ہوئے ہے ‘ جس میں انسان خود اپنی ذات ‘ اس کائنات میں اپنے مقام کو گراتا چلا جاتا ہے ۔ اور اس گراوٹ کے نتیجے میں انسان کی ترجیحات اور اس کی دلچسپیاں بھی گرجاتی ہیں ………یوں انسان اپنی زندگی میں ایک خلاء محسوس کرتا ہے اور یہ خلاء اس تھکے ہوئے انسان کے دل کو کھا جاتا ہے ۔ حیرانی و پریشانی میں اس کی روح ہلاک ہورہی ہے ۔ یہ محض اس لئے کہ اس کی روح میں تصور الٰہ نہیں ہے اور تصور الٰہ سے شدید معاشی حالات نے اسے دور کردیا ہے ۔ اور غلط علمی تصورات نے اسے گمراہ کردیا ہے ۔ یہی علم اگر اسلامی نظام حیات کے رنگ میں ترقی کرتا ‘ تو اس کی ہر کامرانی انسان کو قدر کے قریب تر کردیتی ‘ لیکن جدید انسانیت کا حال یہ ہے کہ وہ جس قدر علمی میدان میں آگے بڑھتی ہے ‘ وہ اپنی بجھی ہوئی اور شکست خوردہ روح کی وجہ معرفت خدا سے اور دور ہوتی جاتی ہے ۔ وہ اس نور سے محروم ہے جس میں اسے اپنا حقیقی مقصدوجود نظر آئے ‘ اور وہ اس مقصد کی طرف اپنی علمی قوت کے ساتھ آگے بڑھے ‘ جو اسے خود اللہ نے عطا فرمایا ہے ۔ اور جس استعداد کی وجہ سے وہ یہ علمی ترقی کررہا ہے وہ بھی اسے اللہ کی عطاکردہ ہی تو ہے ۔ چناچہ انسانیت اس نظام حیات کو نہیں پا رہی ہے جو اس کی حرکت اور اس کائنات کی حرکت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ اس کی فطرت اور اس کائنات کی فطرت کے درمیان تطابق پیدا کرے ‘ اس کے قوانین اور قوانین قدرت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ ایسانظام جو اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ جو اس کی دنیا اور آخرت کے درمیان جوڑ پیدا کرے ‘ جو ایک فرد اور ایک جماعت کے حقوق کے اندر ‘ توازن پیدا کرے ‘ جو اس کے فرائض اور واجبات کے درمیان عدل پیدا کرے اور یہ سب کام نہایت ہی ترتیب کے ساتھ قدرتی طور پر ‘ جامعیت کے ساتھ خوشگوار انداز میں سر انجام پائیں۔
ہمارے دور میں بعض لوگ اسلامی نظام زندگی سے محروم ہوکر کام کرتے ہیں اور جو لوگ اس دور میں اسلامی نظام زندگی کی بات کرتے ہیں اور پرامید نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہیں ‘ انہیں یہ لوگ رجعت پسندی کا طعنہ دیتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات کی بات کرنے والے دراصل تاریخ اسلامی کے گزشتہ ایک مختصر سنہری دور کی محض آرزو اپنے دلوں کے اندر بسائے ہوئے ہیں ‘ لیکن وہ اسلامی نظام کے حوالے سے ‘ اپنی جہالت کی وجہ سے یا اپنی بدنیتی کی وجہ سے انسانیت کو اسلامی نظام زندگی کی قیادت سے محروم کئے ہوئے ہیں جو ان کی راہنمائی بڑی خوبی ‘ امن وسلامتی اور سکون و اطمینان کی طرف کرسکتا ہے ۔ جو ان کی راہنمائی دنیاوی ترقی اور خوشحالی کی طرف کرسکتا ہے۔
ہم جو اسلامی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس چیز کی طرف انسانیت کو بلا رہے ہیں ۔ ہم اس انسانیت کو اس کی حقیقی تلخیوں میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہم اس گندے تالاب کا متعفن رائحہ محسوس کررہے ہیں ‘ جس میں انسانیت لت پت ہے لیکن دور بلند افق پر نجات کے جھنڈے لہرا رہے ہیں جو صحراء کی تپش کی جھلسنے والی تھکی ماندی انسانیت کو نجات کی چمک دکھا رہے ہیں اور یہ پاک وصاف اور روشن چوٹی ‘ اس گندے تالاب میں انسانیت کو اپنی طرف بلارہی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر انسانیت کے قائدین نے اس نظام زندگی کو قبول نہ کیا تو انسانیت پوری انسانی تاریخ میں توہین آمیز مصیبت کا شکار ہوگی اور یہ پوری انسانی تاریخ میں بدترین مصیبت ہوگی اور ہر مفہوم کے اعتبار سے بدی ہوگی ۔
اس راہ میں پہلا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ یہ نظام زندگی ممتاز اور منفرد ہو اور اس کے حاملین ‘ اس کے ارد گرد پھیلی جاہلیت سے کوئی راہنمائی حاصل نہ کریں اور یہ نظام مسلسل پاک اور صاف موجود رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ کے اذن سے دوبارہ پوریہ انسانیت کی قیادت سنبھالے ۔ اللہ بڑا رحیم وکریم ہے اور وہ انسانوں کو ہمیشہ کے لئے انسان کے دشمنوں کے لئے رحم وکرم پر نہ چھوڑے گا ‘ جو جگہ جگہ انسانیت کو جاہلیت کی طرف بلاتے ہیں ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تلقین اللہ تعالیٰ ‘ پہلی جماعت مسلمہ کو اپنی کتاب میں کررہے ہیں اور رسول اکرم ﷺ نے بھی اپنی تعلیمات میں اس نکتے کی بار بار تلقین فرمائی ۔
اس تنبیہ اور خبرداری کے بعد کہ اہل کتاب سے کوئی ہدایت اخذ نہ کی جائے ‘ ان کی اطاعت اور اتباع نہ کیا جائے ‘ اب جماعت مسلمہ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی زندگی کا نظام حیات دواساسی قواعد پر مبنی ہے ۔ یہ ایسے قواعد ہیں جن کو مد نظر رکھنا اس کے لئے اس بار امانت کی اٹھانے کے لئے ضروری ہے ‘ جس کی ذمہ داری اللہ نے اس کے سپرد کی ہے اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ اس امت کو وجود میں لایا ہے ۔ یہ دونوں اساسی قواعد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں یعنی اخوت اور ایمان ۔ یعنی اللہ پر ایمان لانا ‘ اس سے ڈرنا اور تمام امور حیات میں ہر وقت اور ہر لحظہ اسے یاد رکھنا ۔ اور ان تمام لوگوں کے ساتھ اخوت رکھنا جو اس مفہوم میں مومن باللہ ہوں ۔ وہ اخوت جس کی وجہ سے جماعت مسلمہ زندہ ‘ قوی اور مستحکم بنیاد بن جاتی ہے اور یوں وہ اس عظیم کردار کے ادا کرنے کے قابل ہوجاتی ہے جو اسے انسانی زندگی اور انسانی تاریخ میں ادا کرنا ہے یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اور اس دنیا کے نظام حیات کو معروف پر قائم کرنا اور منکر کی آلودگی سے اسے پاک کرنا ۔ فرماتے ہیں :
Ayah 3:102یہ دومرکزی ستون ہیں جن پر جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ قائم ہے ۔ اور ان دونوں کے ساتھ وہ اپنا گراں اور عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اگر ان دونوں میں ایک پلر (Pillar) بھی گرجائے تو جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ گرجائے گا اور اس کے بعد اس جہاں میں اس کا کوئی کردار نہ رہے گا۔
پہلا ستون ایمان اور تقویٰ کا ستون ہے ۔ وہ تقویٰ اور خدا خوفی جو اللہ جل شانہ ‘ کے حقوق کی ادائیگی کا موجب بنے ۔ دائمی اور بیدار خدا خوفی ‘ جس میں کوئی غفلت نہ ہو ‘ جس میں کوئی وقفہ نہ ہو اور وہ پوری عمر میں تسلسل کے ساتھ قائم رہے ۔ یہاں تک کہ انسان پر موت آجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ……………” اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ “ اللہ سے ڈرو ‘ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ اس خدا خوفی کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ‘ یہ ڈرنے والے دل کا کام ہے کہ وہ خدا خوفی میں کس مقام تک جاپہنچتا ہے ‘ جس قدر وہ تصور کرسکتا ہے ۔ جس قدر اس کی طاقت ہو ۔ قلب مومن اس میدان میں جس قدر آگے بڑھے گا ‘ اس کے سامنے نئے نئے آفاق کھلیں گے اور اس کا را ہوار شوق اور مہمیز پائے گا ۔ اور وہ اپنی خدا خوفی سے جس قدر بھی اللہ کا قرب حاصل کر گا ‘ تو اس کا شوق اس سے بھی اونچے مقام کی طرف متوجہ ہوگا۔ اور جس مقام پر وہ ہوگا اس سے اونچے مقامات کا طالب ہوجائے گا اور آخر کار وہ ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جس میں اس کا دل مدام بیدار ہوجاتا ہے اور پھر وہ کبھی نہیں سوتا۔
وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ……………” تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ “ موت ایک ایسی خفیہ اور غائبانہ گھڑی ہے جس کا علم انسان سے مخفی رکھا گیا ہے ۔ پس جو شخص یہ ارادہ کرلے کہ وہ صرف اس حال میں مرنا چاہتا ہے کہ وہ صحیح مسلم ہو ‘ تو اس کی طرف ایک ہی سبیل ہے کہ وہ فوراً مسلم بن جائے ۔ اور ہر لحظہ وہ مسلم رہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی کے بعد اسلام کے ذکر سے ایک وسیع حکمت اور مفہوم کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یعنی مکمل طور پر سرتسلیم خم کرنا ۔ مکمل انقیاد صرف اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ۔ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے نظام زندگی کی پیروی کرنا ۔ اس کی کتاب کے مطابق فیصلے کرنا ۔ اور یہ وہ مفہوم ہے جسے اس سورت میں باربار دہرایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے ۔ یہ تو ہے وہ پہلا ستون جس پر جماعت مسلمہ قائم ہے تاکہ وہ اپنے وجود کو ثابت کرے ‘ اور اس کائنات میں جو اہم رول اسے سپرد کیا گیا ہے اسے ادا کرے ۔ اس لئے کہ اس ستون اور اس کی اساس کے بغیر انسانوں کا ہر اکٹھ جاہلی اکٹھ تصور ہوگا ۔ اس صورت میں پھر وہ اکٹھ اسلامی منہاج پر اکٹھ نہ ہوگا ‘ جسے امت مسلمہ کا اجتماع کہا جاسکے ۔ پس جاہلیت پر مبنی سوسائٹیاں ہوں گی جن میں ہدایت یافتہ قیادت نہ ہوگی ‘ جو صحیح معنوں میں انسانیت کی راہبر ہو ‘ بلکہ جاہلی قیادتیں اٹھیں گی۔
Ayah 3:103دوسری اساس جس پر اسلامی سوسائٹی کی عمارت اٹھتی ہے وہ اخوت اسلامی کی اساس ہے ۔ صرف اللہ کے نام پر برادری ‘ اسلامی نظام زندگی کی رفاقت ‘ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے کی رفاقت ۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو ‘ اور تفرقہ میں نہ پڑو ‘ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ اس نے تمہارے دل جوڑ دیئے اور اس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ‘ اللہ نے تم کو بچالیا ۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ تم ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا رستہ نظر آجائے ۔ “
یہ اخوت گویا خدا خوفی اور ایمان سے پھوٹتی ہے ‘ یعنی اسلام کی اساس اول ہے ۔ اور اخوت کی بنیاد اللہ کی رسی ہے ۔ یعنی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی اساس پر ‘ اس کے دین کی اساس پر اور اس کے منہاج کی اساس پر ۔ اس اخوت کی اساس جاہلیت کی اکٹھ کی اساس پر نہیں ہے ‘ نہ جاہلیت کے کسی دوسرے مقصد کی اساس پر ہے ‘ نہ کسی اور رسی پر جو اللہ کی رسی کے علاوہ ہو۔ صرف اللہ کی رسی پر َاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا……………” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ “
یہ اخوت جس کی اساس اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے پر ہے ‘ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت اسلامی پر اپنا احسان عظیم بتاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ یہ وہ نعمت ہے ‘ جس سے اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرماتے ہیں جن سے اللہ کو محبت ہوتی ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اس انعام کو یاد دلاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں ذرا اس حالت کو ذہن میں لائیں جس پر وہ جاہلیت کے دور میں تھے ۔ یعنی وہ ” اعداء “ تھے۔ ایک ایک کا دشمن تھا ۔ دیکھو مدینہ میں اوس اور خزرج کی طرح دشمنی کا نمونہ اور کوئی پیش کرسکتا ہے ۔ یہ یثرب کے دوقبیلے تھے ‘ یہ قبیلے یہودیوں کے پڑوس میں رہتے تھے اور یہ یہودی ان کے درمیان عداوت کی آگ سلگائے رکھتے تھے ‘ وہ ہر وقت پھونکیں مارتے تھے ‘ اور اس آگ کو اس قدر تازہ رکھتے کہ وہ ان کے درمیان ہر قسم کے تعلقات کو جلاکر بھسم کردیتی ۔ یہودیوں کے لئے یہ ایک اچھا میدان کار تھا ۔ اور وہ اسی میں رات اور دن کام کرتے رہے تھے ۔ اور اسی کے ساتھ زندہ رہتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان دو عربی قبیلوں کی تالیف قلب کا سامان کردیا اور یہ اسلام تھا ‘ یہ صرف اسلام ہی تھا جس نے ان نفرت کرنے والے قبائل کے دلوں کو جوڑا۔ اور یہ صرف اللہ کی رسی ہی تھی جسے سب نے مضبوطی سے پکڑرکھا تھا اور وہ اللہ کے اس احسان کی وجہ سے بھائی بھائی بن گئے تھے ۔ یہ صرف اسلامی اخوت ہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں اتحاد پیدا ہوسکتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے اپنی تاریخی دشمنیاں بھول سکتے ہیں ‘ یا اپنے قبائلی انتقام معاف کرسکتے ہیں ‘ یا لوگ اپنے ذاتی مفادات اور فرقہ وارانہ روایات کو ترک کرسکتے ہیں اور پھر تمام لوگ اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے سامنے ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا
” اور تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ اس نے تمہارے دل جوڑ دئیے اور اس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ “
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنا وہ احسان جتلاتے ہیں کہ وہ آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر تھے اور قریب تھا کہ وہ اس میں گرجائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بچالیا۔ اور وہ اس سے اس طرح بچے کہ انہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور ایمان لے آئے ۔ یہ تھی اسلام کی پہلی اساس ۔ اور پھر ان کے دلوں میں محبت ڈال دی اور وہ بھائی بھائی بن گئے اور یہ محبت اور رفاقت اسلام کے اجتماعی نظام کی دوسری اساس تھی ۔ اس لئے فرمایا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا……………” اور تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے تھے ‘ اس نے تم کو اس سے بچالیا۔ “
آیت میں ” تمہارے دل جوڑ دیئے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ دل کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ باہم انسانی رابطے اور شعور دلوں کی ایک گٹھڑی میں باہم ملاکر ‘ جوڑ دیا گیا ‘ اور وہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد اور میثاق کی رسی کے ساتھ باندھ دیا گیا ۔ اس طرح اس آیت میں مسلمانوں کی اس وقت کی تصویر کو جامہ الفاظ پہنایا گیا ہے بلکہ ان کی صورتحال ایک زندہ اور متحرک منظر میں نظر آرہی ہے کہ وہ وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ……………” اور تم آگے سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر تھے ۔ “ اور صورت حال یوں تھی کہ تم گرنے ہی والے تھے اچانک اللہ کے دست قدرت نے تمہیں بچالیا ۔ گویا اللہ کا ہاتھ محسوس اور شاہد ہے ۔ اللہ کی رسی محسوس طور پر نظر آتی ہے ۔ اور انتہائی خطرے کی صورت حال سے قوم بال بال بچ جاتی ہے ۔ یہ ایک زندہ ‘ متحرک نظارہ ہے ۔ اس منظر کو دیکھنے والوں کے دل دھڑک رہے ہیں اور خطرہ سامنے موجود ہے ۔ صدیوں اور نسلوں کے بعد گویا آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔
محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ یہ آیت اوس اور خزرج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک یہودی ایک ایسی محفل کے پاس سے گزرا جس میں اوس اور خرزج کے لوگ بھائیوں کی طرح بیٹھے ہوئے تھے ‘ اسے یہ بات بہت ہی شاق گزری ۔ اس پر اس نے ایک شخص بھیجا اور اسے کہا کہ جنگ بعاث میں ان کے درمیان جو واقعات ہوئے تھے ذرا اس محفل میں ان کا تذکرہ کرے اور یہ شخص اور ان کی محفلوں میں ان واقعات کا اپنے انداز میں تذکرہ کرتارہا ۔ اس طرح لوگ ایک دوسرے کے خلاف گرم ہوگئے ۔ ایک دوسرے کو غضبناک نظروں سے دیکھنے لگے ۔ ایک دوسرے کے اندر انہوں نے جذبہ انتقام بھڑکایا ۔ اپنے اپنے جھنڈے اٹھالئے ‘ اسلحہ طلب ہوگیا اور مقام ” حرہ “ دوبارہ جنگ کے لئے تقریباً طے ہوگیا ۔ اس بات کی اطلاع رسول ﷺ ہو ہوگئی ۔ رسول ﷺ ان کے پاس آئے ‘ انہیں ٹھنڈا کیا اور فرمایا :” کیا تم دوبارہ جاہلیت کی طرف دعوت دیتے ہو اور میں تمہارے درمیان ہوں۔ “ اس کے بعد آپ نے ان پر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ اس پر انہیں سخت ندامت ہوئی ۔ فوراً ان کے درمیان صلح ہوگئی ۔ انہوں نے باہم معانقہ کیا اور اسلحے پھینک دئیے ‘ اللہ ان سے راضی ہو۔
جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حقیقت واضح فرمائی تو وہ راہ ہدایت پر آگئے ۔ اور ان کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بات سچی ہوگئی ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ……………” اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تم پر روشن کرتا ہے تاکہ ان نشانیوں میں سے تمہاری فلاح کا سیدھا راستہ نظرآئے ۔ “
مسلمان ایک دو سے سے محبت کرتے تھے ‘ اللہ کے نظام پر قائم تھے اور تمام انسانیت کی قیادت کرنے کی راہ پر گامزن تھے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور یہودی یہ سعی کررہے تھے کہ اس رسی کو کاٹ دیں ۔ یہودیوں کی ان مسلسل سازشوں کا یہ ایک نمونہ ہے ‘ جو وہ مسلسل جماعت مسلمہ کے خلاف کرتے رہے رہتے ہیں ۔ اور یہ سازشیں وہ ہمیشہ اس وقت کرنے لگتے ہیں جب مسلمان اللہ کی رسی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلامی نظام زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور ان کی یہ کوششیں کامیاب ہی اس لئے ہوتی ہیں کہ مسلمان اہل کتاب کی پیروی شروع کردیتے ہیں اور ان کی یہ ریشہ دوانیاں اس قدر گہری چال پر مبنی ہوتی ہیں کہ قریب تھا کہ وہ دور اول کے مسلمانوں کو بھی باہم دست گریباں کردیں اور انہیں اسلام سے پھیر کر دوبارہ کفر کے حالات میں داخل کردیں۔ اور ان کے درمیان رابطہ پیدا کرنے والی اللہ کی مضبوط رسی کو کاٹ دیں ‘ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے بھائی ہوگئے تھے اور متفق اور مجتمع ہوگئے تھے ۔ آیت کا یہ ٹکڑا اس آیت اور اس سے قبل کی آیات کے درمیان ربط کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہو یا نہ ہو ‘ آیت بہرحال اس واقعہ کے مقابلہ میں ایک عام صورت حال کو بیان کررہی ہے ۔ کیونکہ اس کے سیاق اور سباق یہ بتا رہے ہیں کہ اس وقت یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے اور ان کے اندر تفریق پیدا کرنے میں ایک زبردست تحریک مسلسل چل رہی تھی ۔ وہ اپنے تمام وسائل کو کام میں لاکر اسلامی صفوں میں فتنہ انگیزیاں اور تفرقہ برپا کرنے کی کوشش میں ہر وقت لگے رہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں کو بار بار تنبیہ کرتا ہے کہ یہودیوں اور اہل کتاب کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہیں ‘ وہ ان کے درمیان شکوک و شبہات اور نفاق کے بیج بو رہے ہیں اور ان کے اندر فکری انتشار کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں ۔ ہر دور میں یہودیوں کا مسلمانوں کے حوالے سے یہی طرزعمل ہے ۔ آج بھی وہ یہی کچھ کررہے ہیں اور کل بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ‘ ہر اسلامی سوسائٹی اور ہر زمانے میں ۔
Ayah 3:104سوال یہ ہے کہ ان یہودی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان دوآسامیوں (Bases) پر استوار ہوکر پھر امت مسلمہ کا منشور اور ہدف کیا ہے ؟ اس کا فریضہ ‘ فریضہ اقامت دین ہے ۔ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے ۔ حق کو باطل پر غالب کرنا ہے ‘ معروف کو منکر پر غالب کرنا ہے ‘ خیر کو پھیلانا ہے اور شر کو روکنا ہے ۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے ‘ اپنی نظروں کے سامنے ‘ اپنے خاص منہاج کے مطابق اس امت کو برپا کیا ہے ۔ اس نصب العین کا تعین ان الفاظ میں کیا جاتا ہے۔
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
” تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ‘ بھلائی کا حکم دیں ‘ اور برائیوں سے روکیں اور جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ۔ “ بس یہ ضروری ہوا کہ ایسی جماعت ہر وقت موجود ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دے ‘ معروف کا حکم دے اور منکر سے منع کرے ۔ ان کے اندر ایک ایسا اقتدار ‘ ایک ایسی قوت ضرور ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے ۔ یہ بات کہ ایک ایسا اقتدار یا ایسا مقتدر اعلیٰ ضروری ہے جو یہ کام کرے ‘ اس پر یہ آیت بصراحت دلالت کرتی ہے ۔ یعنی دعوت الی الخیر ہر وقت ہو اور یہ بات ہر کوئی کرسکتا ہے ‘ لیکن یہاں تو ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ بھی وارد ہیں ۔ اگر دعوت اسلامی بغیر اقتدار اعلیٰ کے ممکن العمل بھی ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بغیر اقتدار اعلیٰ کے حصول کے ممکن نہیں ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے صحیح اسلامی تصور حیات یہی ہے کہ ایسا قتدار اعلیٰ ضروری ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے ۔ یہ اقتدار اعلیٰ دعوت الی الخیر کے نصب العین پر قائم ہوگا ۔ اور اس کا مقصد دفعیہ شر ہوگا ۔ یہ اقتدار اعلیٰ ایسا ہوگا جو مکمل اتحاد واتفاق کے نتیجے میں حاصل ہوگا ‘ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے نتیجے میں اور اخوت اسلامی کے قیام کے بعد ہوگا ۔ یعنی یہ اقتدار اعلیٰ ‘ یا مملکت یا سلطنت ان دوبنیادوں پر قائم ہوگی یعنی اتحاد اور اخوت اور اس کا نصب العین انسانی زندگی میں اسلامی نظام حیات کا قیام ہوگا۔ اور اس اقتدار اعلیٰ کا قیام اس طرح ہوگا کہ اس نظام کی طرف جو خیر ہی خیر ہے ‘ عام لوگوں کو دعوت دی جائے گی ۔ لوگوں کو اس سے متعارف کرایا جائے گا کہ اس کی نظام کی حقیقت کیا ہے ۔ انہیں یہ بتایا جائے گا کہ اسلامی نظام اقتدار اعلیٰ کا خواہاں ہے تاکہ وہ معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے ۔ اور لوگ اس کی اطاعت کریں یا وہ اپنی اطاعت کروائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَا اَرسَلنَا مِن رَّسُولٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذنِ اللّٰہِ……………” ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ‘ وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ “ اس لئے یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صرف وعظ و ارشاد اور تبلیغ بیان جاری ہو ۔ یہ تو اسلامی نظام کا ایک حصہ اور جزء ہے ۔ اس کا دوسرا اہم جزء یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرے ۔ اور انسانی زندگی میں معروف کو رائج کرے ۔ اور منکر کا قلع قمع کرے ۔ اور اس ” جماعت ممتازہ “ کو بھی بچائے رکھے کہ ہر کس وناکس اس امت کو اپنی خواہشات ‘ اپنی مرغوبات اور شہوات کے بھینٹ نہ چڑھاسکے ۔ اور اسے اپنی ذاتی مصلحتوں کی خاطر استعمال نہ کرسکے ۔ اور معاشرہ کے اندر نیکی اور بھلائی پر مبنی اخلاق کو کوئی اپنی خاص رائے اور اپنے مخصوص تصورات کے تحت تباہ نہ کرسکے ‘ اگرچہ وہ سمجھتا ہو کہ وہ جو کچھ کررہا ہے وہ معروف اور درست ہے۔
یہی وجہ ہے دعوت الی الخیر ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔ خصوصاً جب اس کے مزاج پر غور کریں اور دیکھیں کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات کے ساتھ متصادم ہے ۔ وہ بعض لوگوں کی ذاتی مصلحتوں اور مفادات کے ساتھ ٹکراتا ہے ‘ بعض لوگوں کے غرور اور کبریائی پر اس کی زد پڑتی ہے ‘ بعض غاصب جابروں اور زبردستی مسلط ہونے والے حکام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ‘ بعض گرے ہوئے طبقات جن میں ترقی اور بلندی کا داعیہ ہی نہیں ہے ‘ وہ اسے مصیبت سمجھتے ہیں ‘ بعض اس قدر کامل ہوں کہ اس کی مشقتیں برداشت کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں ‘ بعض ظالم طبقات ہوں جس کے ساتھ عدل لگانہ کھاتا ہو۔ بعض ایسے گم کردہ راہ اور کجرو ہوں کہ انہیں صراط مستقیم اچھا ہی نہ لگتا ہو ‘ اور ان میں سے بعض ایسے بھی موجود ہوں جو منکر کو پسند کرتے ہوں اور معروف کے دشمن ہوں……حالانکہ انسانیت اور امت مسلمہ صرف اس وقت فلاح پاسکتی ہے کہ اس میں خیر غالب ہو ‘ معروف ہو معروف سمجھا جاتا ہو ‘ منکر کو منکر سمجھا جاتا ہو ‘ اور ان تمام امور کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ ہو جس میں خیر غالب ہو اور وہ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کا فریضہ ادا کرتاہو ۔ اور پھر اپنے اوامر اور نواہی کو منوانے کی قوت بھی رکھتا ہو۔
لہٰذا ایک ایسی جماعت کا قیام ازحد ضروری ہے جس کی بنیاد پر ان دو ستونوں پر ہو ‘ اللہ پر ایمان اور اخوت اسلامی تاکہ وہ اپنی قوت ایمانی ‘ قوت خدا خوفی اور باہم الفت اور محبت اور اتفاق و اتحاد کی قوت کے بل بوتے پر وہ فریضہ ادا کرسکے جس کے لئے اسے اٹھایا گیا ہو ‘ اس لئے کہ جماعت مسلمہ کو جو نصب العین دیا گیا ہے اور جو فریضہ اس پر عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان دوخصوصیات کے بغیر اس میں عہدہ برآ نہیں ہوسکتی اور نہ کامیاب وکامران ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ……………” یہی لوگ فلاح پائیں گے ۔ “
غرض اس قسم کی جماعت کا قیام اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ یہ اسلامی نظام کی ذاتی ضرورت ہے ۔ یہ جماعت وہ ماحول فراہم کرے گی جس کے اندر اسلامی نظام سانس لے گا ‘ زندہ ہوگا اور ایک حقیقت کے روپ میں نمودار ہوگا ۔ یہ ماحول بھلائی کا ماحول ہوگا ‘ باہم متعاون ومتکافل ہوگا ‘ اور اس میں دعوت الی الخیر کا چرچا ہوگا۔ اس میں بھلائی ‘ نیکی ‘ سچائی ‘ انصاف معروف ہوں گے ۔ شر ‘ رذالت ‘ باطل اور ظلم اس میں منکر تصور ہوں گے ۔ اس ماحول میں بھلائی آسان ہوگی اور برائی کا ارتکاب مشکل ہوگا۔ اس میں بھلائی پر عمل پیرا ہونے میں اس قدر مشقت نہ کرنا ہوگی جس قدر برائی پر مشقت ہوگی ۔ اس میں حق باطل کے مقابلے میں طاقتور ہوگا۔ اس میں ظلم کے مقابلے میں عدل سے زیادہ نفع ہوگا ‘ اس میں بھلائی کرنے والے کو معاونین بسہولت دستیاب ہوں گے ۔ اور اس میں برائی کا ارتکاب کرنے والے مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا ‘ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی کا قیام ضروری ہے ‘ جس میں سچائی اور بھلائی بلاجدوجہد نشوونما پاسکے ۔ اس کے لئے اس کا پورا ماحول اور اس کا ہر فرد اس میں معاون ہوگا اور جس میں باطل اور شر کی نشو ونما کی راہ میں بےحد مشکلات اور رکاوٹیں ہوں گی ‘ اس لئے کہ پورا ماحول اس کے لئے ساز گار نہ ہوگا۔
اسلام کا تصور کائنات ، اس کا تصور حیات ‘ اس کا تصور اقتدار ‘ اس کا تصور اعمال ‘ اس کا تصور واقعات ‘ اس کا تصور اشیاء اور افراد تمام دوسرے جاہلی تصورات سے ‘ اپنی اساس اور نوعیت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ اس لئے اسلام کے اس وسیع تصور حیات کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے ایک ماحول ہو ‘ جس میں یہ تصور حیات پھلے پھولے اور اس میں اس کی اپنی اقدار حیات پروان چڑھیں ۔ لہٰذا اسلام کے جاہلی ماحول سے جدا ایک عمدہ ماحول کی ضرورت ہے اور اسے ایک جاہلی معاشرے کے سوا اس کا اپنا معاشرہ درکا رہے ۔
یہ ماحول اور یہ معاشرہ اسلامی تصور حیات کے لئے ہو جس میں یہ تصور زندہ رہے اور یہ ماحول بھی اس کے لئے زندہ ہو ‘ اس ماحول میں یہ تصور پھلے پھولے ‘ اور آزادی کے ساتھ وہ اس ماحول میں سانس لے سکے ‘ اس میں ذاتی ترقی کرسکے ‘ اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ‘ نہ داخلی رکاوٹیں جو اس کی راہ میں مشکلات پیدا کریں اور نہ خارجی رکاوٹیں جو مزاحمت کریں ۔ اور اگر ایسی رکاوٹیں کسی وقت وجود میں آجائیں تو دعوت اسلامی ان کا مقابلہ کرے ‘ اس لئے کہ یہ دعوت الی الخیر ہے ‘ دعوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے ۔ اور جب اس قسم کی کوئی قاہرانہ قوت دعوت اسلامی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے تو اس معاشرے میں اس کی مدافعت کرنے والے موجود ہوں اور یہ لوگ اسلامی نظام کے محافظین ہوں۔
یہ ماحول اسلامی جماعت کی صورت میں فراہم ہوتا ہے اور یہ جماعت دوبنیادوں پر قائم ہوتی ہے ۔ ایمان باللہ اور اخوت اسلامی ۔ ایمان باللہ اس لئے ضروری ہے تاکہ اس کا تصور کائنات ، تصور حیات ‘ اس کی اقدار ‘ تصور اعمال اور تصور اشخاص واشیاء میں مطابقت ہو۔ یہ تمام تصورات ایک ہی پیمانے کے مطابق ہوں اور ایک ہی منبع سے ماخوذ ہوں ‘ انہی کے مطابق زندگی کے تمام مسائل حل کئے جائیں اور پوری زندگی کے فیصلے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی شریعت کے مطابق ہوں ۔ اور وہ جماعت محبت کے ساتھ اس قیادت کی پیروی کرے جو اسلامی نظام حیات کے مطابق قائم ہو ۔ وہ اسلامی اخوت پر قائم ہو۔ اس کی تشکیل محبت اور باہم تعاون وتکافل کے اصولوں پر ہو ‘ یہ ایسے اصول ہیں جن کے سایہ میں خود غرضی اور لالچ ختم ہوجاتی ہے اور ایثار اور قربانی کے جذبات دوچند ہوجاتے ہیں ‘ لوگ بڑی سہولت اور آزادی سے اور بڑی گرمجوشی سے ایثار کرتے ہیں اور نہایت ہی اطمینان ‘ خوشی اور اعتماد کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
غرض مدینہ طیبہ میں پہلی اسلامی جماعت انہی دواصولوں پر قائم ہوئی تھی ‘ اس کا ایمان باللہ نہایت ہی پختہ تھا جو معرفت الٰہی پر مبنی تھا۔ معرفت الٰہی کی وجہ سے صفات باری کا پرتو ان کے ضمیروں پر پڑگیا ‘ خدا خوفی ‘ خدا کی نگرانی کا شعور ‘ مسلسل بیداری ‘ ذات باری کا احساس اس جماعت کے اندر اس ھد تک پہنچا ہوا تھا کہ جس کی نظیر تاریخ انسانی میں بڑی نادر ہے ۔ اور معرفت کردگار کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور میٹھی محبت کے پیکر تھے ۔ معاشی لحاظ سے باہم معاون متکافل اور گہری اور سچی ہمدردی رکھتے تھے ۔ اور وہ اس میدان میں اس قدر اونچے مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ اگر انہوں نے یہ معیار عملاً پیش نہ کیا ہوتا تو وہ محض خواب ہی خواب ہوتا ۔ غرض مہاجرین اور انصار کے درمیان برادری اور مواخات کا قصہ تو ایک حقیقت تھا ‘ لیکن وہ اس قدر ممتاز اور بلند معیار کا تھا کہ آج بھی وہ محض افسانہ نظر آتا ہے ‘ حالانکہ وہ حقیقت تھی ۔ اور وہ قصہ اس سرزمین پر بطور واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ محیر العقول اور افسانہ نظر آتا تھا ۔ غرض اس قسم کے ایمان اور اس قسم کی اخوت اور بھائی چارے پر ہر دور میں اسلامی نظام قائم ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ سیاق کلام میں مکرر ‘ جماعت مسلمہ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ تفرقے اور بےجا اختلاف سے باز رہیں ۔ ان سے پہلے جن لوگوں کو اس امانت کے اٹھانے کے لئے منتخب کیا گیا تھا ‘ اور جنہوں نے تفرقہ بازی کی تھی اور انجام کار وہ جس طرح تباہ وبرباد ہوئے تھے ‘ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ اعزاز چھین لیا تھا اور جماعت مسلمہ کے سپرد کردیا تھا ‘ اس لئے وہ باہم جڑے ہوئے تھے ۔ نیز ان لوگوں کا جو برا انجام قیامت میں ہونے والا ہے وہ مستزاد ہے ‘ کہ جس دن کچھ چہرے سیاہ ہوں گے اور کچھ سفید ہوں گے اور یہ لوگ سیاہ چہروں والے ہوں گے ۔
Ayahs 3:105–107یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔
ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن اس حالت میں بھی وہ معاف نہیں ہیں ۔ اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیئے گئے ‘ بلکہ انہیں مزید رلایا جاتا ہے اور ملامت کی جاتی ہے۔
” نعمت ایمان پانے کے بعد تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ “
” رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ “
یوں جماعت مسلمہ کے ضمیر کی گہرائیوں میں تفرقہ اور اختلاف کے برے نتائج کا خوف بیٹھ جاتا ہے ۔ اور وہ جان لیتے ہیں کہ ایمان اور محبت والفت اللہ کا کس قدر عظیم انعام واکرام ہے۔ اور اس منظر میں جماعت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے کہ اہل کتاب جنہوں نے تفرقہ کیا وہ کس قدر بھیانک انجام سے دوچار ہوئے ‘ جن کی اطاعت سے جماعت مسلمہ کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اسی بھیانک انجام سے دوچار ہوکر عذاب الیم میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ جس دن بعض چہرے سفید اور ہشاش بشاش ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ وکبیدہ خاطر ہوں گے ۔
اور اب ان دونوں فریقوں کی تصویر کشی اور انجام بتادینے کے بعد قرآن کریم اس پوری بحث پر اپنے مخصوص انداز میں اختتامی کلمات کہتا ہے ۔ یہ کلمات انہی خطوط پر ہیں جن پر اس سورت کے مضامین جارہے ہیں ۔ یعنی یہ کہ وحی الٰہی سچائی اور دانائی پر مبنی ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن جزاء و سزاء ایک سنجیدہ امر ہے ‘ اللہ کے احکام دنیا وآخرت میں عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں ۔ اور یہ کہ جو کچھ زمین میں ہے اور آسمان میں ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے ۔ اور تمام امور کا فیصلہ آخر کار اس کے سامنے ہونے والا ہے۔