Ayah 3:179یہاں یہ آیت قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ اللہ کی شان یہ نہیں ہے ‘ اس کی الوہیت کا تقاضا یہ نہیں ہے اور اس کی کائنات میں مروجہ سنت یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں منافقین کو اسی طرح چھپے ہوئے چھوڑدے ۔ حالت یہ ہے کہ منافقین بس دعوائے ایمان کریں ‘ اسلام کا اظہار کریں اور اسلامی صفوں میں چھپے رہیں حالانکہ ان کے دل ایمان کی تروتازگی سے خالی ہوں ‘ اور ان میں اسلام کی روح سرے سے نہ ہو۔ اس امت کو اللہ نے اس لئے برپا کیا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک عظیم کردار ادا کرے ۔ ایک عظیم نظام زندگی کا علم لے کر اٹھے ‘ اس زمین پر ایک منفرد صورت حال پیدا کردے ۔ ایک جدید نظام وجود میں آجائے ۔ اس مشن اور عظیم نصب العین کا تقاضایہ تھا کہ وہ پوری یکسوئی ‘ پوری صفائی اور پوری تمیز کے ساتھ اس نصب العین کو پختہ طریقے سے پکڑے اور یہ تقاضا بھی تھا کہ اس کی صفوں کے اندر کوئی خلل اور کوئی کمزوری نہ ہو ‘ اس کی بنیادوں میں کوئی کمزوری نہ ہو اور مختصر الفاظ میں یوں کہ ان مقاصد کا تقاضا تھا کہ یہ امت اس قدر عظیم ہو جس قدر اس کا یہ نصب العین عظیم ہے ۔ جس نصب العین اور جس ٹارگٹ تک اسے اس کائنات میں پہنچنا ہے ۔ اور آخرت کا بلند مقام و مرتبہ تو بہرحال ان کے لئے اللہ نے تیار کیا ہوا ہے ۔
ان سب باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی صف ہر وقت جاگتی رہے تاکہ اس سے خبیث عناصر نکل جائیں ۔ وہ کارکنوں پر اس قدر دباؤ رکھے کہ جو اینٹ کچی ہو ‘ وہ پہلے دن ہی بیٹھ جائے ۔ اور ان پر ہر وقت روشنی پڑتی رہے تاکہ اندرونی کمزوریاں اور ضمیر کے اندر برے خیالات کی تطہیر ہوتی رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی ان کی صفوں کو صاف کرنے کے لئے ان کی امداد فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ لائق نہ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کی صفوں میں ایسے ناپاک لوگوں کو رہنے دے ۔
نیز اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو غائبانہ باتوں کا براہ راست علم دے دے ۔ اس لئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ کے شایان شان ہے ۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جس پر انہیں پیدا کیا گیا ہے ‘ اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ غیبی اطلاعات کا ادراک کرسکیں ۔ انسانی جسم کی مشینری جو ان کے اندر تخلیق ہوئی ہے وہ اس اسکیم کے مطابق تیار ہی نہیں کی گئی کہ وہ غائبانہ امور کا ادراک کرسکے ۔ الا یہ کہ کوئی خاص مقدار اللہ کسی کو دے دے ۔ اور یہ بھی خصوصی حکمت کے تحت ہوا کرتا ہے یعنی اس قدر جس قدر اس دنیا میں ان کی خلافت فی الارض کے مقاصد کے لئے ضروری ہو۔ اور اس مقصد یعنی انسان کے وظیفہ خلافت فی الارض کے لئے علم غیب کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی اس موجودہ مشینری پر علم غیب کے دروازے کھول دے تو یہ مشینری ختم ہوکر رہ جائے ‘ اس لئے کہ وہ علوم غیب کے اخذ کے لئے سرے سے تیار ہی نہیں ہے ۔ صرف اس قدر غیب کا علم اسے درکار ہوتا ہے جس میں اس کی روح کاملاپ اس کے خالق کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا وجود ‘ وجود کائنات سے مل جاتا ہے ۔ علم غیب پر اطلاع پانے کا کم سے کم نقصان تو یہ ہوگا وہ ہاتھ پاؤں ہلانا چھوڑدے گا ‘ ہر وقت ان نتائج کے بارے میں سوچتا رہے گا جو واقع ہونے والے ہیں ‘ اور وہ اس زمین میں کسی قسم کی ترقی کے لئے سوچ بھی نہ سکے گا۔
یہی وجہ ہے کہ یہ بات اللہ کی شایان شان نہ تھی کہ وہ لوگوں کو علم غیب کی اطلاع دے دے اور نہ یہ اس حکمت اور اسکیم کے مطابق تھی جس کے مطابق وہ اس زمین کو چلارہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ پس اللہ خبیث کو طیب سے کیسے جدا کرتا ہے ؟ اور اس کی سنت اور اس کی شان اس تطہیر کے عمل میں کس طرح کام کرتی ہے ؟ اور کس طرح اسے چھانٹ کر رکھ دیتی ہے ؟ وہ کس طرح غبار اور دھند کو دور کرتا ہے ؟ کس طرح منافقین کو الگ کرکے اسلامی صفوں کو پاک کرتا ہے تاکہ مسلمان اس کرہ ارض پر اپنا کردار ادا کرسکیں جس کے لئے مسلمانوں کو بطور امت برپا کیا گیا ہے ۔
وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ…………” اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کھرے کو کھوٹے سے اس طرح جدا کرتا ہے کہ اس نے رسولوں کو بھیجا ‘ کوئی ان پر ایمان لایا اور کسی نے ان سے انکار کیا ۔ اور رسالت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے سلسلہ جہاد فرض کیا گیا۔ اور جہاد کے اندر لوگوں کو آزمائشوں میں ڈال کر آزمایا گیا ‘ ان تمام اقدامات سے شان الٰہی ظہور میں آتی ہے ۔ یوں اللہ کی سنت کام کرتی ہے اور یوں کھراکھوٹے سے الگ ہوجاتا ہے ۔ دلوں کی تطہیر ہوجاتی ہے ‘ نفوس پاک ہوجاتے ہیں اور اللہ کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ظاہر ہوتا ہے۔
اس طرح اللہ کی حکمت کے ایک حصے سے پردہ اٹھتا ہے ۔ یہ حکمت زندگی میں حقیقت بن کر ظاہر ہوتی ہے ۔ اور یہ حکمت ایک مضبوط بنیاد پر ‘ کھلے بندوں ‘ روشن ستارے کی طرح زمین پر استقرار حاصل کرتی ہے……اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے جو روشن ہوتی ہے ‘ جو واضح ہوتی ہے ‘ جو سادہ اور قابل فہم ہوتی ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے اندر حقیقی ایمان پیدا کریں اور پھر اس حقیقی ایمان کے تقاضے پورے کریں اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ آخرت میں ایک فضل عظیم ہے جوان کا منتظر ہے۔
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اگر تم ایمان لاؤ اور خدا ترسی کی روش پر چلو تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔ “……واقعات احد کے بیان اور اس کے بعد ان واقعات پر تبصروں اور تنقیدوں کے بیان کے بعد یہ بہترین ہدایت اور مشورہ ہے جو اہل ایمان کو دیا گیا ہے ۔
جنگ احد کے بارے میں قرآن کریم نے جو تبصرہ کیا ہے ‘ اس میں بعض نہایت ہی اہم اور عظیم حقائق کی نشان دہی کی گئی ہے ۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ان تمام حقائق کو گنوادیا جائے اور یہاں ان کے بارے میں پوری تفصیلات دی جاسکیں ‘ لیکن مناسب ہے کہ ان حقائق میں سے جو زیادہ عمومی اور شامل اور زیادہ ظاہر ہیں ان کی طرف اشارہ کردیاجائے تاکہ ان اشارات پر وہ تمام واقعات قیاس کرلئے جائیں جو اس غزوہ میں پیش ہوئے ‘ جیسا کہ قرآن کریم نے انہیں عبرت کے طور پیش کیا ہے۔
1۔ اس معرکے اور اس پر ہونے والے اس طویل تبصرے نے ایک بنیادی حقیقت کا بالکل کھول کر بیان کردیا ہے کہ یہ دین جو درحقیقت انسانوں کے لئے ایک نظام زندگی ہے ‘ اس کا اصل مزاج کیا ہے اور وہ انسانوں کی زندگیوں کے اندر کس طرح کام کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی اساسی اور سادہ اور قابل فہم حقیقت ہے لیکن بسا اوقات اسے بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے یا ابتداءً ہی اس کا ادراک نہیں کیا جاتا اور اس کے بھول جانے اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اس دین کی فہم میں فاش غلطیاں کی جاتی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اس دین کی حقیقت کے سمجھنے میں بھی غلطی کی جاتی ہے بلکہ اس تاریخ کو سمجھنے میں غلطی کی جاتی ہے اور انسانی زندگی میں اس نے جو کردار ادا کیا یا کرتا ہے یا آئندہ کرے گا اس کے سمجھنے میں بھی نہایت ہی فاش غلطی ہوتی ہے۔
ہم میں بعض لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ دین اسلام جو انسانی زندگی کے لئے اللہ کا تجویز کردہ نظام ہے ‘ اسے معجزانہ طور پر کام کرنا چاہئے ۔ اس میں اس کے انسانی مزاج ‘ اس کی فطری قوت اور کسی وقت میں موجود مادی صورت حال کا کوئی لحاظ نہ رکھاجائے ‘ چاہے انسان ترقی کے کسی درجے میں ہوں ‘ اور جس معاشرے اور ماحول میں بھی ہوں۔
جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اسلام اس معجزانہ اور ساحرانہ انداز میں کام نہیں کرتا بلکہ اسلام لوگوں کی بشری طاقت کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ انسانی محدود قوت اور انسان کی اصل بنیادی صورت حال باہم دگر مل کر کام کرتے ہیں ۔ بعض اوقات انسان اور اس وقت کی موجود صورت حالات اسلامی نظام سے واضح طور پر متاثر ہوجاتے ہیں ‘ اور یا یہ دونوں مل کر لوگوں کی جانب سے اسلام کی جانب ردعمل کو متاثر کرتے ہیں ۔ بعض اوقات ان دونوں کے اثرات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے لوگ کیچڑ کی طرح بھاری ہوکر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ان کی نظروں میں لالچ ‘ لذت اور شہوت اس قدر اہم ہوجاتی ہے کہ وہ اسلام کے پیغام کو قبول کرنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے اور لوگ اسلامی سمت میں نہیں چلتے ۔ جب یہ لوگ ایسی صورت حال دیکھتے ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ صورتحال ایسے لوگوں کی توقعات کے خلاف ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ دین اللہ کی جانب سے ہوتا ہے……اور بعض اوقات وہ اس بات میں شبہ کرنے لگتے ہیں کہ آیا یہ دین فی الواقعہ لوگوں کے لئے کوئی مکمل نظام حیات ہے بھی اور اس سے بھی آگے بڑھ کر بعض لوگ سرے سے اس دین کی حقانیت پر شک کرنے لگتے ہیں۔
فکر وعمل کی ان غلطیوں کی بنیاد صرف ایک غلطی پر ہے ۔ وہ یہ کہ ایسے لوگوں نے اس دین کے مزاج ہی کو نہیں سمجھا ۔ اس کے طریقہ کار ہی کو نہیں سمجھا ‘ یا وہ اس حقیقت کو سمجھ کر بھول گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین انسانی زندگی کے لئے ایک منہاج ہے۔ اور اس کا انسانی زندگی کے اندر قیام خالص انسانی جدوجہد پر موقوف کیا گیا ہے ۔ اور اس جدوجہد کو انسانی طاقت کے اندر محدود کیا گیا ہے۔ اور اس دین پر عمل پیرا ہونے کا آغاز وہاں سے کیا جاتا ہے جہاں انسان اپنی مادی زندگی کی ترقی کے مدارج میں سے جد درجے میں موجود ہو ‘ یہ دین انہیں جہاں پاتا ہے وہاں سے لے کر آگے چلتا ہے ۔ اور انہیں اپنے آخری انجام تک پہنچاتا ہے ۔ اور یہ سب کام انسان کی طاقت اور وسعت کے حدود میں کیا جاتا ہے ۔ اور وہاں تک وہ انہیں آگے بڑھاتا ہے جس قدر ان کے اندر طاقت اور وسعت ہو اور جہاں تک وہ پہنچ سکتے ہوں اور پہنچنے کی صلاحیت اپنے اندررکھتے ہوں ۔
اس کام میں اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک لحظہ بھی اس کام سے غفلت نہیں کرتا۔ کسی منصوبے میں غفلت نہیں کرتا ۔ کسی اقدام میں غفلت نہیں کرتا ۔ اور فطرت انسانی کے مطابق کام کرتا ہے ‘ انسانی طاقت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرتا ہے ۔ انسان مادی اعتبار سے جہاں تک ترقی یافتہ ہو اس کے مطابق کام کرتا ہے ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اسے اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں تک وہ ابھی تک نہیں پہنچ پایا تھا اور تاریخ انسانی میں انسان کے وضع کردہ تمام نظامہائے زندگی کے ادوار میں سے کسی دور میں بھی نہیں پہنچ پایا تھا۔ اسلام نے اپنے یہ کمالات عملاً اس وقت دکھائے جب کبھی بھی ایک مختصر وقت کے لئے اسے نافذ کیا گیا اور آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرکے دکھائے گا بشرطیکہ کوشش اس کے نفاذ کی ‘ کی جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا آغاز اس دین کے مزاج کو نہ سمجھنے یا سمجھ کر اسے بھلادینے کی وجہ سے ہوا جس طرح ہم نے کیا ۔ اور ہم نے نفاذ دین کے لئے معجزانہ اور ساحرانہ انقلاب کا انتظار شروع کردیا ‘ جو انسانی صورت حال کے مناسب نہیں ہے ‘ جس سے فطرت انسانی بدل جاتی ہے ‘ اور جس سے اسلام کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اور یہ طریقہ کار اس کی فطرت حقیقی سے لگا نہیں کھاتا ۔ اس کی استعداد اور اس کے رجحانات کے بھی خلاف ہے اور جو انسان کے مادی حالات کے بھی خلاف ہیں۔
کیا اسلام من جانب اللہ نہیں ہے ؟ کیا وہ ایسی قوت قادرہ کی طرف سے ارسال کردہ نہیں ہے جسے کوئی قوت عاجز نہیں کرسکتی ؟ تو پھر اسلام کے نفاذ کو کیوں انسانی طاقت کے حدود پر موقوف کردیا گیا اور کیوں اسے انسانی جدوجہد کا محتاج کیا گیا ہے ؟ پھر کیوں ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اس کے لئے کام کریں اور وہ ہمیشہ غالب ہی ہوں ؟ کیوں اسلامی لوگ ہمیشہ کامیاب نہیں رہتے ؟ انسان کی خواہشات نفسانیہ ‘ اس کا مزاج اور اس کی مادی صورت حال کیوں اس پر غالب آجاتی ہیں اور کبھی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اہل حق شکست فاش کھاتے ہیں حالانکہ وہ اہل حق ہوتے ہیں ؟
یہ تمام سوالات جیسا کہ ہم نے بیان کیا حقیقی سوالات ہیں اور یہ اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم نے اس دین کے اصل مزاج ہی کو نہیں سمجھا ہے باوجود اس کے کہ اس دین کا مزاج اور اس کا طریق کار نہایت ہی سادہ ہیں یا ہم نے انہیں سمجھتے ہوئے بھلادیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور وہ انسانی فطرت کو بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔ چاہے وہ فطرت انسانی کو اس دین کے ذریعہ بدلے یا اس کے لئے کوئی اور طریق کار اختیار کرے اور وہ اس بات پر بھی قادر تھا کہ ابتدائے آفرینش سے انسان کو کسی دوسری فطرت پر پیدا کرتا ۔ لیکن اس کی مشیئت یہ تھی کہ وہ انسان کو اس کی موجودہ فطرت پر ہی پیدا کرے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ انسان کو ذی ارادہ بنائے اور اس کے اندر ہدایت وضلالت قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ اور اس کی مشیئت یہ بھی تھی کہ ہدایت کو ‘ انسان کی جدوجہد اور اس کی جانب سے طلب ہدایت اور اس کی استعداد قبولیت پر موقوف کردیا جائے ۔ پھر اللہ کی مشیئت نے چاہا کہ انسانی فطرت ہمیشہ کام کرتی رہے اور اسے کسی صورت میں مٹایانہ جاسکے ‘ نہ تبدیل کیا جاسکے اور نہ معطل کیا جاسکے اور اس کی مشیئت یہ بھی تھی کہ اسلامی نظام زندگی کو اس کرہ ارض پر بذریعہ انسانی جدوجہد قائم کیا جائے اور انسانی طاقت اور وسعت کے حدود کے اندر قائم کیا جائے ۔ اور یہ بھی مشیئت الٰہی کا ایک حصہ تھا کہ انسان کو وہی کچھ ملے جس قدر وہ اپنی وسعت کے مطابق جدوجہد کرے ۔ اس کی زندگی کے شب وروز کے مطابق اور جو صورت حال فی الواقعہ موجود ہو اس کے دائرے میں۔
انسانوں میں سے کسی کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ پوچھے اللہ نے ایسا کیوں چاہا ۔ جب تک انسان بندہ اور خدا الٰہ ہے اس لئے کہ انسان کے پاس اس کائنات کے نظام کا کلی علم نہیں ہے اور نہ اس علم تک کبھی انسان کے پہنچنے کا امکان ہے ۔ نہ انسان کو یہ علم دستیاب ہو سکتا کہ اس کائنات کے ہر موجود کے حوالے سے نظام کائنات کے تقاضے کیا ہیں اور یہ کہ انسان کی موجودہ فطرت کی منصوبہ بندی اور تشکیل کے پیچھے کیا کیا حکمت کارفرما ہے ۔ اس لئے ایسے مقامات پر ایک سچا مسلمان یہ سوال کر ہی نہیں سکتا کہ کیوں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایک سنجیدہ ملحد بھی یہ سوال نہیں کرسکتا کیوں ؟ مومن تو اس لئے نہیں کرسکتا کہ اسے بارگاہ الٰہ میں بڑا باادب ہونا چاہئے اس لئے کہ اس کا دل ذات باری کی حقیقت اور اس کی صفات سے واقف ہوتا ہے اور اسے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ انسانی ادراک کا یہ میدان عمل ہی نہیں ہے ۔ اور کافر اس لئے یہ سوال نہیں کرتا کہ وہ سرے سے خدا کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ اگر سے ذات باری کی معرفت ہوتی تو وہ اس کی ذات وصفات کا اعتراف کرلیتا ۔ الوہیت کے تقاضوں کو جانتا۔
ہاں بعض ایسے لوگ جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور اخلاقی لحاظ سے گرے ہوئے ہوتے ہیں وہ ایسے سوالات کرتے ہیں ۔ وہ نہ سنجیدہ اور سچے مسلم ہوتے ہیں اور نہ ہی سنجیدہ اور سچے کافر ہوتے ہیں ۔ اس لئے اس سوال میں زیادہ دلچسپی لینا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی اسے سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہئے ۔
کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک جاہل شخص ذات باری کے متعلق سوال کرتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے جاہل کے سوال کا جواب براہ راست نہ دینا چاہئے ۔ اسے صرف اللہ کی الوہیت کی حقیقت بتادینا چاہئے ‘ تو اگر وہ اسے پالے تو مومن ہے اور اگر نہ پاسکے تو کافر ہے ۔ بس ایسے جاہل کے ساتھ بات یہاں ختم ہوجاتی ہے ۔ ورنہ یہ شخص بحث برائے بحث کررہا ہوگا۔
اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو یہ سوال اٹھانے کا حق ہی نہیں ہے کہ اللہ نے حضرت انسان کو اس کی اس موجودیہ فطرت کے مطابق کیوں پیدا کیا ؟ کیوں اس کی یہ فطرت کام کرتی رہتی ہے ‘ اسے مٹایا نہیں جاسکتا ۔ اس میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ۔ اسے معطل نہیں کیا جاسکتا اور پھر کیوں اللہ نے اسلامی نظام زندگی کے قیام کو انسانی جدوجہد پر موقوف کیا اور انسانی طاقت کے اندر جدوجہد کو ضروری قراردیا۔
ہر انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے ۔ وہ دیکھے کہ انسانی فطرت انسانی ماحول کے اندر کس طرح کام کرتی ہے۔ پھر وہ انسانی تاریخ کا مطالعہ اس فطری انداز میں کرے ۔ اس طرح ایک تو وہ تاریخی واقعات کے حقیقی اسباب کو سمجھے گا اور دوسرے یہ کہ اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ تاریخ کا رخ کس طرح موڑا جاسکتا ہے ۔
یہ نظام زندگی جسے ہم اسلام کہتے ہیں ‘ جس طرح اسے حضرت محمد ﷺ نے پیش فرمایا ‘ اس زمین پر ‘ ان لوگوں کی دنیا میں ‘ صرف اس بناپر جاری وساری اور قائم نہیں ہوسکتا کہ بس وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ۔ اور یہ صرف مجرد ” تبلیغ “ اور ” بیان “ سے بھی نافذ نہیں ہوسکتا ۔ اور یہ اس طرح بھی نافذ نہیں ہوسکتا کہ اسے اللہ تعالیٰ ناموس فطرت اور قوانین قدرت کی طرح نافذ کردے ‘ جو اس نے آسمانوں کی گردش ‘ ستاروں کی رفتار اور طبیعی اسباب پر طبیعی نتائج مرتب کئے جانے والے کے سلسلے میں جاری کئے ہوئے ہیں ۔ بلکہ اس کے لئے یہ منہاج رکھا گیا ہے کہ اسے ایک انسانی جماعت لے کر اٹھے ‘ جو سب سے پہلے اس پر اچھی طرح ایمان رکھتی ہو ‘ پھر خود اس پر پوری طرح عمل پیرا ہو اور اپنی طاقت کے مطابق اسے زندگی کا وظیفہ اور نصب العین قرار دے ۔ پھر دوسروں کے دلوں میں اس ایمان کی منتقلی اور ان کی زندگیوں میں اس نظام کے قیام کے لئے یہ جماعت جدوجہد کرتی ہو ‘ اور اس قدر جدوجہد کرے کہ اس سلسلے میں وہ اپنی پوری طاقت لگادے ۔ وہ انسانی کمزوریوں کے خلاف جہاد کرے وہ انسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرے اور وہ اپنے نفس کی جہالت اور دوسرے نفوس کی جہالت کے خلاف جہاد کرے ۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ جہاد کرے جو انسانی کمزوریوں ‘ خواہشات نفسانیہ اور جہالت کی وجہ سے اس نظام زندگی کی راہ روکے کھڑے ہیں اور اس نظام زندگی کو اس حد تک قائم کردے جس حد تک انسانی مزاج اور طاقت اسے برداشت کرسکتے ہیں اور وہ انسانوں کو اس مقام سے پکڑے جس مقام پر وہ درجہ ترقی کے حوالے سے عملاً موجود ہوں۔ وہ ان انسانوں کے حقیقی حالات زندگی کو نظر انداز نہ کرے ۔ نیز وہ لوگوں کے حقیقی حالات کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہ کرے اور ان حالات اور تقاضوں کے مطابق اس نظام کو چلائے ۔ لوگوں کی یہ جماعت پہلے خود اپنے نفس پر فتح حاصل کرے ‘ اور پھر کبھی وہ اپنے ماحول کے لوگوں پر فتح حاصل کرے اور کبھی یوں ہو کہ وہ اپنے نفس اور اپنے ماحول کے لوگوں سے شکست کھاجائے ۔ یہ بات اس کی جدوجہد کے عین مطابق ہو۔ ان عملی طریقہ ہائے کار کے عین مطابق ہو ‘ جو اس جماعت نے اختیار کئے یا جس قدر اسے اختیار کرنے کی توفیق ہوئی ۔ پھر اس جماعت کے لئے ہر چیز سے پہلے ‘ ہر جدوجہد سے پہلے اور ہر وسیلہ واسلوب سے پہلے ایک دوسرا بنیادی عنصر بھی ضروری ہے ‘ وہ یہ کہ یہ جماعت اس نصب العین کے ساتھ کس قدر مخلص ہے اور وہ کس قدر اپنی ذات کے اندر اسے نافذ کررہی ہے ۔ اور یہ کہ اس نظام کے نازل کرنے والے اللہ کے ساتھ اس کا تعلق کس قدر ہے ؟ اسے اس پر کس قدر اعتماد ہے اور اسے اس پر کس قدر توکل اور بھروسہ ہے ؟
یہ ہے اس دین کی اصل حقیقت اور یہ ہے اس کا طریق نفاذ اور یہ ہے اس کی تحریک کا منصوبہ ۔ اور یہی وہ بات ہے جسے اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اچھی طرح سمجھانا چاہتے ہیں ۔ واقعہ جنگ احد کے تمام واقعات کے بیان ‘ ان واقعات پر آنے والے تبصروں کا پورا ماحصل یہی ہے ۔
اب یہ کہ احد کے موقعہ پر اسلامی جماعت نے جب مکمل اسلام کو ‘ جس میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے احکام شامل تھے ‘ اپنے نفسوں میں عملی شکل پیش کرنے میں قدرے قصور کیا ‘ اور بعض مواقف پر اس نے بعض عملی اقدامات کرنے میں کوتاہی کی ‘ اور جب اس نے اس مذکورہ بالا عظیم اساسی حقیقت کو سمجھنے میں کوتاہی کی اور اس نے یہ خیال کیا کہ ہم تو بہرحال کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ یہ دین اور یہ نظام اللہ کی طرف سے ہے اور اس بنا پر اس نے اپنے تصرفات اور تدابیر کو نظر انداز کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہزیمت سے دوچار کردیا تاکہ وہ ذرا تلخ تجربات کا مزہ بھی چکھ لے ۔ چناچہ اس تجربے کے بعد قرآن مجید نے ان کی اس غلط فہمی کو اپنے تبصرے کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔
أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
” اور جب تم پر وہ مصیبت آئی جس کے دوگنا تمہارے ہاتھوں سے ان پر آئی تھی تو تم نے کہا یہ کیسے ؟ اے پیغمبر کہہ دو کہ یہ خود تمہارے اپنے نفوس کی وجہ سے ہے ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “
جیسا کہ اس سے قبل سیاق کلام میں کہہ آئے ہیں ‘ اللہ اہل ایمان کو اس مقام پر چھوڑ نہیں دیتے بلکہ انہیں اللہ کی تقدیر کے ساتھ پیوستہ فرماتے ہیں جو ان اسباب اور نتائج کی پشت پر کام کررہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس ابتلا کی پشت پر اللہ کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے لئے بھلائی چاہتے ہیں ‘ رہی ابتلا تو یہ تو ان پر ان کے اپنے تصرفات اور اسباب ظاہری کی وجہ سے آتی ہے۔
یہ فیصلہ کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام ‘ انسانی جدوجہد پر چھوڑدیا گیا ہے اور اس پر ان انسانی اقدامات کا اثر ہوتا ہے جو وہ اس کے حوالے سے کرتے ہیں ۔ اس میں انسان کے لئے بہت بڑی بھلائی ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں فساد کے بجائے اصلاح چاہتا ہے ۔ اسے معطل کرنا نہیں چاہتا ۔ وہ انسانی فطرت کی اصلاح اس طرح چاہتا ہے کہ وہ اسے بیدار کرتا ہے اور اسے اعتدال پر لاتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ کسی دل میں ایمان اس وقت تک مکمل اور پورا نہیں ہوسکتا جب تک یہ شخص اسلام کے حوالے سے لوگوں کا مقابلہ نہیں کرتا۔ یہ جہاد وہ سب سے پہلے تبلیغ اور بیان کے ذریعہ کرے گا ۔ اس کے بعد وہ مجاہدہ ہاتھ سے کرے گا جب کہ مخالف اسلام قوت زبردستی راہ ہدایت کو مسدود کررہی ہے۔ اس سلسلے میں اس مومن پر ابتلا کا دور بھی آسکتا ہے جس میں اسے صبر سے کام لینا ہوگا ‘ تکالیف برداشت کرنا ہوں گی ‘ ہزیمت اٹھانی ہوگی اور اس پر صبر کرنا ہوگا۔ اگر فتح نصیب ہو تو سنجیدہ رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ فتح کے وقت صبر اور سنجیدگی بہ نسبت شکست کے زیادہ مشکل ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ دل صاف ہوجائے ‘ صفوف کے اندر سے کچا عنصر چھٹ جائے ‘ جماعت اپنی صحیح راہ پر گامزن ہوجائے اور اپنی سیدھی راہ پر اوپر کی طرف چڑھتی جائے اور اس تمام سرگرمی میں متوکل علی اللہ ہو۔
اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ جب تک قلب مسلم ایمان کے معاملے میں لوگوں کے مقابلے میں مجاہدہ اور جہاد نہیں کرے گا ان کے دلوں میں حقیقت ایمان کا بیٹھنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ مقابلہ اور مجاہدہ سے قبل اس نے اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرلیا ہوگا۔ اور اس جہاد کے بعد اس کے سامنے ایمان کے وہ آفاق کھلیں گے جو اس کے سامنے کبھی نہیں کھل سکتے جب تک وہ بیٹھا ہواہو ‘ پرامن زندگی گزارنے کا عادی ہو اور ہر کسی کے ساتھ مسالمت کررہا ہو اور ہر حال میں نباہ رہا ہو۔ جب وہ جہاد شروع کرے گا تو اسے لوگوں کے اندر حقائق نظر آئیں گے ‘ زندگی کے اندر کچھ حقائق اس پر روشن ہوں گے جو ہرگز اس پر روشن نہیں ہوسکتے تھے جب تک وہ مجاہدہ فی سبیل اللہ نہیں شروع کرتا ۔ اس جہاد فی سبیل اللہ ہی کے نتیجے میں اس کا نفس ‘ اس کا شعور ‘ اس کے تصورات ‘ اس کی عادات ‘ اس کا مزاج ‘ اس کے تاثرات اور اس کی قوت قبولیت حق اس مقام تک پہنچ جائیں گے جہاں تک اس کے بغیر وہ ہرگز نہ پہنچ سکتا تھا۔ غرض جہاد کا یہ شاق اور تلخ تجربہ انسان کو کندن بنا دیتا ہے۔
اسی طرح کسی جماعت مسلمہ کے اندر بھی ایمان کی حقیقت اس وقت تک مکمل اور مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک وہ تجربہ ‘ امتحان اور ابتلا میں نہ پڑے ۔ اور جب تک اس کا ہر فرد اپنی قوت کی حقیقت سے واقف نہ ہو۔ جب تک اس فرد کو اپنے نصب العین کا پتہ نہ ہو ۔ اسی طرح اس جماعت کو بھی اپنی تمام اینٹوں کا پتہ نہ ہو جن سے وہ بنی ہے ۔ یوں کہ ہر اینٹ کس قدر بوجھ سہار سکتی ہے اور یہ کہ مشکل اور ٹکر کے وقت وہ اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر پیوست ہیں ۔
یہ تھی وہ حکمت جس کو اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو سمجھانا چاہتے تھے ‘ اور یہ حکمت اس کو تربیت کے اس کورس میں اسے سمجھائی گئی جو میدان احد میں اسے دیا گیا۔ اور اس کے بعد پھر واقعات احد پر اس سورت میں جو تبصرہ کیا گیا ‘ اس میں بھی اسی حکمت کو اسے سمجھایا گیا۔ جبکہ ظاہری اسباب شکست کے بیان کے بعد اللہ نے فرمایا :” جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ‘ اور اس لئے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون ہیں ۔ “ اور دوسری جگہ فرمایا ” اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا ۔ “ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں اللہ کی حکمت اور تقدیر کی طرف حوالے کرتا ہے ‘ یعنی ان اسباب کی پشت پر جو تقدیر اور حکمت تھی ۔ چناچہ انہیں ایمان کی اس عظیم حقیقت اور سچائی کی طرف موڑتا ہے جو اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک وہ نفس انسانی کے اندر بیٹھ نہیں جاتی ۔ فرماتے :” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے فریق مخالف کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی راستی کے گواہ ہیں کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور وہ آزمائش کے ذریعہ مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کرنا چاہتا تھا۔ “
تو گویا یہ اب اللہ کی تقدیر ہے ‘ اس کی تدبیر ہے اور اس کی حکمت ہے ‘ جو ان اسباب کی پس پشت کام کررہی ہے ‘ ان واقعات کے پیچھے کام کررہی ہے ۔ اور ان تمام اشخاص اور ان کی تمام حرکات کے پیچھے حقیقی موثر ہے ۔ اور یہی اسلام کا کامل اور شامل اور جامع تصور ہے ۔ اور یہ تصور ان واقعات کے نتیجے میں انسانی ذہن میں بیٹھ جاتا ہے ۔ اور پھر ان واقعات پر جو تبصرہ کیا گیا ہے ‘ اس میں بھی اس کی طرف واضح اشارات موجود ہیں ۔
2۔ اس معرکے کے واقعات اور ان تبصروں کے ذریعہ ایک دوسری حقیقت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے ۔ یعنی نفس انسانی ‘ فطرت انسانی ‘ انسانی جدوجہد کے مزاج ‘ اور ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان میں فریضہ اقامت دین کے حصول کے امکانات ……حقیقت یہ ہے کہ نفس انسانی کامل نہیں ہے اور یہ اپنی حقیقت واقعیہ کے اعتبار سے کامل نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ارتقاء اور ترقی کے اہل بھی ہے اور وہ اس میدان میں ترقی و کمال کی انتہاؤں کو چھوسکتا ہے ‘ جو انتہاء اور حد اس کے لئے مقرر کردی گئی ہے ۔
دیکھئے ہم انسانی جماعتوں میں سے ایک جماعت کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ اور یہ جماعت اپنی حقیقی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ یہ جماعت گروہ صحابہ کی صورت میں ہے ‘ جس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ……………(تم سب سے بہترین امت ہو ‘ جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ) اور یہ خیر امت رسول اکرم ﷺ کے صحابہ تھے ۔ یہ تمام انسانیت کی روح اور زمین کا نمک تھے۔ لیکن اس جماعت صحابہ کا جو مطالعہ اس سورت میں پیش کیا گیا ہے ” تم میں سے جو لوگ مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے ان کی لغزش کا سبب یہ ہے کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادیئے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ “ اور بعض دوسرے صحابہ کے بارے میں ہے ” مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور کام میں باہم اختلاف کیا ‘ اور جو نہی کہ وہ چیز تمہیں دکھائی دی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے تو تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کربیٹھے ۔ اس لئے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ……………” اور دراصل تمہاری اس لغزش کو اللہ نے معاف کردیا۔ “……انہی کے بارے میں قرآن کہتا ہے ” جب تم میں دوگروہوں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ کمزوری دکھائیں اور اللہ تو ان کا مددگار تھا ‘ اللہ ہی پر اہل ایمان کو توکل کرنا چاہئے ۔ “ انہی حضرات میں سے بعض لوگ شکست کھاتے ہیں اور وہ کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور ان کی ہزیمت کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا۔ اور رسول تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا ۔ اس وقت تمہاری ‘ اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیئے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ “
جنگ بدر کے شرکاء سب کے سب مومن اور مسلم تھے ۔ لیکن یہ اسلام کا ابتدائی دور تھا ۔ اس وقت جماعت کی تربیت اور تشکیل ہورہی تھی ۔ لیکن وہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے میں سنجیدہ اور سچے تھے ۔ انہوں نے اپنا تمام معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا۔ اللہ کی راہنمائی پر راضی ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اس نظام زندگی کے آگے سرتسلیم خم کرلیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنے جوار رحمت سے دھتکار نہ دیا ۔ ان پر رحم فرمایا اور انہیں معاف کردیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ کو بھی حکم دیا کہ وہ انہیں معاف کردیں ۔ اور ان کے لئے مغفرت طلب کریں ۔ اور اللہ نے رسول ﷺ کو یہ حکم بھی دیا کہ آپ ﷺ ان سے مشورہ بھی لازماً کریں ۔ باوجود اس کے کہ ان سے غلطیاں ہوئیں ‘ باوجود اس کے کہ مشورے کے نتیجے میں ‘ احد میں نقصان ہوا۔ اللہ نے انہیں اپنے معاملات اور تصرفات کے نتائج کا مزہ چکھنے دیا۔ اور انہیں ایسے سخت اور تلخ ابتلا میں ڈالا ۔ لیکن ان غلطیوں کے باوجود انہیں اسلامی صفوں سے باہر نکال کر نہیں پھینک دیا ۔ اور یہ حکم صادر نہیں کیا :” جاؤ تم اس کام کے لئے فٹ نہیں ہو ‘ کیونکہ تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ تم سے کمزوریاں سرزد ہوئیں اور تم نے غلطیاں کیں۔ “ بلکہ اسلام نے ان کی غلطیوں اور کمزوریوں کو قبول کرلیا ۔ اس ابتلا میں ڈال کر ان کی تربیت کی ۔ اس کے بعد ان کی غلطیوں پر مزید تبصرہ کرکے مزید تربیت کی ۔ اور اس کے بعد نصیحت کرکے اور ہدایات دے کر مزید تربیت کی ۔ اور یہ نصیحت اور یہ وعظ بھی نہایت ہی مشفقانہ انداز میں عفو و درگزر کے ساتھ کیا ۔ جس طرح ایک بزرگ اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے ۔ وہ آگ سے جلائے جاتے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آگ جلاتی ہے اور تاکہ وہ ہوشیار ہوجائیں ۔ اللہ نے ان کے ضعف کو ان پر آشکارا کیا اور ان کے دلوں کی خفیہ سوچوں سے بھی انہیں آگاہ کردیا ۔ اس لئے نہیں کہ انہیں شرمندہ کیا جائے ‘ یا ذلیل کیا جائے ‘ یا حقیر سمجھاجائے یا یہ کہ انہیں مجبور کیا جائے اور ان پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے ‘ بلکہ اس لئے کہ ان کے ہاتھ پکڑے جائیں ‘ انہیں ہدایت دی جائے ۔ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کی جائے اور وہ اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھیں اور کبھی بھی مایوس نہ ہوں جب تک وہ اللہ کی مضبوط رسی کو تھامے ہوئے ہیں ۔
اس تربیت کے بعد وہ اپنے اصل مقام پر آگئے ۔ اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے اور ان کے اندر وہ رنگ پیدا ہوگیا جو احد کے معرکہ کے آغاز میں تھا ۔ آج ہزیمت اور چوٹ لگنے پر ایک ہی رات گزری ہے ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعاقب کے لئے نکل رہے ہیں ۔ آج نہ ان کے دل میں ڈر تھا نہ تردد تھا۔ آج وہ ڈرانے والوں کی باتوں کو خاطر ہی میں نہ لارہے تھے ‘ جو انہیں ان الفاظ میں ڈرا رہے تھے :
الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف فوجیں جمع ہوئی ہیں ‘ ان سے ڈرو ۔ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “
اور اس کے بعد جب افراد جماعت بڑے اور بالغ ہوتے گئے تو ان کا معاملہ بھی بدلتا گیا اور ان کا محاسبہ اس طرح کیا جانے لگا جس طرح بڑے اور بالغ افراد کا کیا جاتا ہے ۔ لیکن ابتداء میں ان کی تربیت اسی طرح تھی جس طرح بچوں کی تربیت کی جاتی ہے ۔ جو شخص غزوہ تبوک کے حالات پڑھے گا (سورت برأت میں) چند افراد اس غزوے سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ رسول ﷺ نے ان کا سخت محاسبہ کیا ۔ یہ بہت ہی سخت محاسبہ تھا ۔ اس سے احد اور تبوک کی پالیسی کے درمیان واضح فرق نظرآئے گا اس لئے کہ اب جماعت تربیتی لحاظ سے بہت ہی آگے جاچکی تھی ۔ لیکن جب یہی لوگ احد میں تھے ‘ تو ان سے نرمی کی گئی ۔ اس لئے کہ اب تبوک کے معاملے میں وہ تربیت کے آخری مرحلے میں تھے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ تھے تو انسان ۔ پھر بھی ان میں انسانی کمزوری تھی ‘ غلطی ہوگئی ‘ لیکن ان کے اندر غلطی کا اعتراف اور توبہ کا داعیہ موجود تھا ‘ آخرکار معافی ہوئی ۔
غرض اسلامی زندگی کے اندر انسان کی بششریت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسے تبدیل نہیں کیا جاتا ‘ اسے معطل نہیں کیا جاتا اس پر اس قدر بوجھ نہیں ڈالا جاتا کہ اس کی طاقت سے باہر ہو۔ اگرچہ اسلامی نظام زندگی اسے اس دنیا میں اس مقام بلند تک پہنچاتا ہے جو اس کے لئے مقدر ہو۔
اسلام کا یہ طرز عمل اس نقطہ نظر سے بہت ہی اہم ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ امید کی کرن سے نوازتا ہے تاکہ وہ سعی برائے کمال جاری رکھے اور آگے بڑھے ۔ لیکن اسلامی نظام زندگی کے سایے میں ‘ یہ جماعت جس مقام بلند تک پہنچی وہ اس گرے ہوئے مقام سے اپنے سفر کا آغاز کرکے پہنچی جس میں وہ اس وقت پڑی تھی ‘ جب اسلام آیا راستے میں اس سے لغزشیں ہوتی رہیں ‘ اس لئے کہ راستہ دشوار گزار تھا ‘ اور وہ جماعت بہرحال ایک انسانی جماعت تھی اور ایک نہایت ہی پسماندہ سوسائٹی سے اٹھی تھی جو جاہلیت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ ہر لحاظ سے پسماندہ تھی جب کہ ہم نے اس کے نمونے تشریح آیات کے وقت پیش کئے ۔ اسلام کی اس پالیسی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کو اس مقام بلندتک پہنچنے کی امید سے مالا مال کردیتا ہے ۔ اگرچہ کسی معاشرے کے موجودہ حالات بد سے بدتر ہوں ۔ پھر اس پسماندہ سوسائٹی سے امت کو اٹھاکر اسلام اس قدر ترقی دیتا ہے کہ اس کی مثال آج تک پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ابھی تک اس مثال کو دہرایا نہیں جاسکا حالانکہ یہ کوئی معجزانہ انقلاب نہ تھا ‘ جواب ناقابل اعادہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جو اسلامی زندگی کے تحت رونما ہوا ‘ جو انسانی جدوجہد کے نتیجے میں رونما ہوا۔ انسانی طاقت کے حدود کے اندر رونما ہوا ۔ آج بھی یہ انقلاب اسی انسانی طاقت کے بل بوتے پر برپا کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ انقلاب ممکن ہے ۔
غرض اسلامی زندگی پر سوسائٹی کو وہاں لیتا ہے جہاں وہ موجود ہوتی ہے اور جہاں تک وہ مادی ترقی کرچکی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اسے مزید ترقی دیتا ہے جب کہ اس نے عربوں کی جاہلیت زدہ پسماندہ سوسائٹی کے ساتھ کیا جو نہایت ہی ابتدائی مدارج پہ تھی ۔ نہایت گری ہوئی اور اس سوسائٹی کو اسلام نے نہایت ہی ایک مختصر عرصے میں جو ربع صدی سے بھی کم تھا ‘ اوج کمال تک پہنچایا۔
لیکن اس کے لئے واحد شرط ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی انسانی سوسائٹی اپنی نکیل اس نظام کے ہاتھ میں دے دے ۔ اس پر ایمان لائے ‘ اس کے آگے سرتسلیم خم کردے ۔ وہ اسے اصول حیات بنادے ‘ وہ اسے اپنی تحریک کا شعار بنادے ‘ اور اس طویل اور دشوار گزار سفر میں اس کے ساتھ ہم قدم ہوجائے ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
Ayah 3:180درس 28 ایک نظر میں
یہاں تک معرکہ احد کا بیان ختم ہوجاتا ہے لیکن جماعت مسلمہ اور اس کے اردگرد نواح میں پھیلے ہوئے دشمنان اسلام کے ساتھ معرکہ آرائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی ۔ خصوصاً یہودیوں نے مباحثے اور مجادلے شروع کر رکھے تھے ‘ تشکیک اور بےچینی پیدا کرنا ‘ سازشیں اور کینہ پروری اور گھات میں بیٹھ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرنا ۔ اس معرکے کے اردگرد یہ اس سورت کے اکثر مباحث پھیلے ہوئے ہیں اور گھومتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ نے قبیلہ بنی قینقاع کو مدینہ کے قرب و جوار سے جلاوطن کردیا تھا کیونکہ غزوہ بدر کے بعد وہ سخت بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی تھی اور جو عہد و پیمان ان کے ساتھ ہوئے تھے ان کو وہ کھلے بندوں توڑتے تھے ۔ یہ عہد ان کے ساتھ رسول ﷺ کے مدینہ طیبہ میں ہجرت کرنے کے متصلاً بعد ہوئے تھے ۔ اور اس وقت ہوئے تھے کہ اوس وکذرج کی اکثریت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوگئی تھی ۔ لیکن مدینہ کے اردگرد بنی النضیر ‘ بنوقریظہ ابھی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہودی اور ان کے علاوہ جزیرۃ العرب کے دوسرے یہودی بھی موجود تھے ۔ یہ سب لوگ باہم مراسلت کرتے تھے ‘ فوجیں جمع کررہے تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ رابطے قائم کررہے تھے اور مدینہ اور مدینہ کے اردگرد کے کفار کے ساتھ اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ کے روابط قائم تھے ۔ اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔
قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (12) قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ (13)
” تمہارے لئے ان دوگروہوں میں نشان عبرت تھا ‘ جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔ (مگر نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ “
جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اللہ کی جانب سے آیا ہوایہ ڈراوا پہنچایا ‘ جو اس لئے نازل ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تھیں وہ تمام سرگرمیاں جو وہ ان دنوں دکھا رہے تھے اور جس غصے کا اظہار ان کی جانب سے ہورہا ہے اور بدر کے بعد تو وہ مسلسل سازشوں میں لگے ہوئے تھے تو انہوں نے اس ڈراوے کو بہت ہی برے اور حقارت آمیز طریقے سے رد کردیا ۔ انہوں نے کہا :” محمد ! اپنے آپ کو غرور میں نہ ڈالو ‘ تم نے بیشک قریش کے بعض لوگوں کو قتل کردیا ۔ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے ۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم نے کبھی ہم سے جنگ لڑی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم لوگ کچھ ہیں ۔ یقیناً تم ہم جیسے لوگ نہ پاؤگے ۔ “ اس جواب کے بعد وہ سازشوں میں شریک ہوگئے ۔ اس سورت میں ان کی سازشوں کے کچھ رنگ نقل کئے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے جو عہد و پیمان کیا تھا ‘ اسے انہوں نے توڑدیا ۔ رسول ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا ۔ چناچہ وہ رسول ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ رسول ﷺ نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کرکے ” اذرعات “ بھیج دیا ۔ یہودیوں کے مدینہ میں صرف دو گروہ رہ گئے بنوقریظہ اور بنو النضیر جو عہد کی پابندی بظاہر کررہے تھے لیکن خفیہ طور پر یہ بھی سازشوں ‘ مکاریوں ‘ دھوکہ بازی ‘ فتنہ بازی اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے ۔ غرض یہ لوگ وہ تمام کام کرنے لگے جو یہود اپنی پوری تاریخ میں بڑی مہارت سے کرتے آئے ہیں ۔ اور کتاب اللہ میں اسے بالکل تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پوری کرہ ارض کی آبادی کو ان سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس زمین پر یہ ایک ملعون قوم ہے ۔
اس سبق میں بنی اسرائیل کے بعض اقوال وافعال کو لیا گیا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ وہ بارگاہ رب العزت میں بھی بےادبی کرنے پر اتر آئے تھے ۔ مسلمانوں کے ساتھ برا رویہ تو ان کے لئے کوئی بات ہی نہ تھی ۔ یہ لوگ میثاق مدینہ کے مطابق اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے تھے جو معاہدہ انہوں نے خود نبی ﷺ کے ساتھ کیا تھا ‘ وہ کہتے تھے اِنَّ اللّٰہَ فَقِیرٌوَّنَحنُ اَغنَیَآءُ……………” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ “
اس سبق میں یہودیوں کے وہ واہی دلائل بھی ملیں گے جو وہ دعوت اسلامی کے خلاف پیش کیا کرتے تھے ‘ جب بھی یہ دعوت انہیں دی جاتی ۔ یہ دلائل سب کے سب جھوٹے ہوتے اور تاریخی اعتبار سے بھی ان کی کوئی اصل نہ ہوتی ۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی بھی خلاف ورزی کررہے تھے ۔ وہ عہد یہ تھا کہ وہ اللہ کے احکام اور سچائی کو بیان کریں گے اور کبھی نہیں چھپائیں گے ۔ انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا ‘ پس پشت ڈال دیا تھا اور اس کے بدلے انہوں نے مالی فوائد حاصل کئے ۔ اپنے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ حالانکہ یہ پیغمبر ان کے پاس خارق عادت معجزات حسب الطلب ظاہر کرچکے تھے ۔ نیز وہ پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ آئے تھے مگر ان یہودیوں نے ان کو مسترد کردیا۔
یہودیوں کے ان شرمناک اقوال وافعال کے ذکر کی وجہ سے ‘ انبیاء کے ساتھ ان کے برتاؤ اور بارگاہ باری تعالیٰ میں ان کی گستاخیوں کے اظہار بیان کی وجہ سے ‘ مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودی اس نوخیز جماعت مسلمہ کے دشمن ہوگئے تھے ۔ نیز اس سبق میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہودیوں اور مشرکین کی سازشوں اور ایذا رسانیوں سے مسلمانوں کو کس قدر تکلیف ہورہی ہے ۔ ان امور کا ذکر جماعت مسلمہ کی تربیت کے لئے یہاں نہایت ہی ضروری تھا ۔ تاکہ وہ اپنے ماحول سے علی وجہ البصیرت خبردار ہوں کہ ان کے اردگرد جو لوگ رہ رہے ہیں وہ کون ہیں۔ تاکہ اہل ایمان کو اس سرزمین کے حالات اچھی طرح معلوم ہوجائیں جس میں وہ کام کررہے ہیں ۔ نیز یہ کہ ان کی راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں ‘ کہاں کہاں ان کے لئے دام زیر زمین بچھے ہیں ۔ اور اس راہ میں ان کے لئے کیا کیا مصائب تیار ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں یہودی مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ وہ ان عداوتوں سے کم خطرناک تھیں جو مکہ کے مشرکین مسلمانوں کے ساتھ روا رکھتے تھے۔ غالباً مسلمانوں کے خلاف پوری تاریخ اسلام میں جو سازشیں ہوتی ہیں وہ یہودی کرتے رہے ہیں ۔ ہمیشہ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے خطرناک رہے ہیں ۔
اس اثر آفریں سبق میں پے درپے اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ کون سی اقدار ہیں جو دائمی ہیں اور کون سی اقدار زائل ہونے والی ہیں ۔ اس لئے کہ اس دنیا میں زندگی کی ایک محدود وقت کے لئے ہے ۔ ہر نفس ایک دن موت سے ہمکنار ہونے والا ہے ۔ اصل جزء تو آخرت میں ملے گی ۔ اصل کمائی اور خسارے کا پتہ تو وہاں لگے گا ۔ وہاں جو شخص آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب رہا۔ اور دنیا تو ایسے ساز و سامان سے اٹی پڑی ہے جو ہر وقت دھوکے میں ڈال سکتا ہے ۔ اور یہ ہمارے اموال ‘ ہماری جانیں ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے اذیت تمہیں پہنچتی رہے گی۔ صرف صبر ‘ اللہ خوفی اور اسلام پر پختگی سے عمل ہی تمہیں آگ سے بچاسکتا ہے اور یوں ان سازشوں سے بھی بچاجاسکتا ہے۔
مدینہ کی پہلی جماعت کو جو ہدایات دی گئی ہیں ‘ وہ آج بھی ہمارے لئے تازہ ہدایات ہیں ۔ کل بھی ہمارے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ جو لوگ اسلام کو ازسر نو قائم کرنا چاہتے ہیں اور جو لوگ اسلامی زندگی کا قیام چاہتے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ان کے دشمنوں کا وہی مزاج ہے جو مدینہ کے دشمنوں کا تھا۔ یہ دشمن وہی مشرکین اور اہل کتاب کے ملحدین ہیں ۔ آج یہودی عالمین صہیونیت کی شکل میں آئے ہیں ۔ عیسائی عالمی صلیب کی شکل میں ہیں ۔ اور عالمی کمیونزم کی شکل میں ہیں ۔ آج بھی تحریک اسلامی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں جو مشکلات ہیں ‘ جو دام رکھے ہوئے ہیں ‘ ان کے وہی قربانیاں ہیں ‘ وہی اذیتیں ہیں اور وہی ابتلاء ہیں ۔ لیکن تم اپنی نظر آخرت پر رکھو ۔ مالی اور جانی نقصانات برداشت کرنے پڑیں گے ۔ لیکن تمہیں پہلی جماعت اسلامی کی طرح آج بھی وہی سبق یاد کرنا ہوگا۔” آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے ۔ اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ‘ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ رہی یہ دنیا ‘ تو یہ محض ایک ظاہر فریب دینے والی چیز ہے ……مسلمانو ! تمہیں مال اور جان دونوں آزمائشیں پیش آکر رہیں گی ‘ اور تم ابھی اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے ۔ اگر ان سب حالات میں صبر اور اللہ ترسی کی روش قائم ہوئے تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ “
غرض قرآن وہی قرآن ہے جو تھا ‘ اس کی حیثیت وہی ہے کہ یہ اس امت کے لئے دائمی ہدایات پر مشتمل کتاب ہے ۔ یہ اس امت کا حدی خواں اور رہبر ورہنما ہے۔ یہ اس کے لئے قابل اعتمادقائد ہے……لیکن اس کے دشمن بھی وہی دشمن ہیں ‘ جو تھے اور انقلاب کی راہ بھی وہی ہے جو تھی ۔
اس مجموعہ آیات میں پہلی آیت کے بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے کہ اس میں بخیلوں سے مراد کون لوگ ہیں اور یہ کہ بخل کے فعل مذموم سے کن لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ؟ اور یہ کہ قیامت میں ان کا انجام یہ ہوگا لیکن جس مقام پر یہ آیت ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق بعد میں آنے والی آیات سے ہے جو یہودیوں کے بارے میں وارد ہیں ‘ اس لئے کہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ لے آئیں جسے آگ جلادے ۔ “
اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں ہے جنہیں اس وقت یہ دعوت دی جارہی تھی کہ وہ میثاق مدینہ کے مطابق جن مالی ذمہ داریوں کے پابند ہیں ‘ انہیں وہ ادا کریں ۔ اور یہ دعوت بھی انہیں دی گئی تھی کہ وہ نبی آخرالزمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور اللہ کی راہ میں انفاق کریں۔
چناچہ یہ تہدید آمیز ڈراوا نازل ہوا ‘ اور اس کے بعد یہودیوں کی ان کٹ حجتی دلائل کو رد کیا گیا جو وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کرتے تھے ۔ ان دلائل میں نہایت ہی گستاخانہ طرز ادب اختیار کرتے تھے اور یہ بےادبی دراصل وہ اپنے رب کی کرتے تھے ۔ یہودیوں کو تہدید آمیز تنبیہ کے رسول اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے ‘ کہ ٹھیک ہے کہ یہ یہود آپ کی تکذیب کررہے ہیں لیکن آپ سے قبل جو رسول گزرے ہیں اس کے ساتھ بہ نسبت آپ کے سخت رویہ ان کی اقوام نے اختیار کیا تھا۔ ان رسولوں میں سے انبیاء بنی اسرائیل بھی تھے جو ان کے پاس باقاعدہ دلائل لے کر آئے تھے ‘ انہوں نے حسب طلب معجزات بھی پیش کئے جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل میں مشہو رہے۔
اس آیت کا مفہوم عام ہے ۔ اس سے یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جو میثاق مدینہ کے تحت عائد ہونے والی مالی ذمہ داریوں میں بخل سے کام لیتے تھے اور دوسرے لوگ بھی اس کے مدلول میں شامل ہیں جو اپنے دئیے سے خرچ نہیں کرتے اور بخل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بخل ان کے لئے خیر ہے کہ ان کے مال اس سے محفوظ ہوتے ہیں اور انفاق کی وجہ سے یہ اموال جاتے ہیں۔
یہ آیت انہیں اس قسم کے جھوٹے حساب و کتاب سے منع کرتی ہے ‘ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ جمع کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور یہ طوق آگے سے بنے گا ۔ یہ ایک نہایت خوفناک تہدید ہے ۔ انداز تعبیر اس طرح ہے کہ اس میں بخل کو زیادہ بدشکل کرکے پیش کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور وہ پھر بھی بخل کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مال میں بخل نہیں کررہے بلکہ اللہ کے دئیے میں بخل کرتے ہیں ۔ وہ جب اس دنیا میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ نہ ان کے ہم قبیلہ لوگوں کے پاس کچھ تھا ۔ تو اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور ان کو سب کچھ دے دیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ خود اس کے دئیے میں سے اسے کچھ دیں تو انہوں نے اللہ کے فضل وکرم کو یاد نہ کیا اور تھوڑا سا واپس دینے میں بھی بخیلی کی ۔ وہ یہ گمان کرنے لگے کہ یہ ذخیرہ اندوزی ان کے لئے مفید ہوگی حالانکہ یہ ان کے لئے سخت مضر ہے بلکہ شرمناک قسم کی مضرت ہے ۔ اس لئے کہ وہ بہرحال اس جہاں سے جانے والے ہیں ۔ اس مال اور دولت کو چھوڑنے والے ہیں ۔ بعد کے لوگوں کے لئے اور آخرکار اللہ ہی وارث ہوگا۔ اس لئے کہ ” اللہ ہی کے لئے میراث ہے آسمانوں اور زمین کی ۔ “ تو پھر یہ سونا اور جمع شدہ دولت تو نہایت ہی تھوڑے عرصے کے لئے رہتی ہے ۔ اس کے بعد سب کی سب اللہ کی طرف لوٹتی ہے ۔ اور ان کے کھاتے میں تو وہی کچھ ہے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کیا ۔ اس کا اجر ان کو پورا پورا ملے گا اور صرف اس صورت میں وہ آگ سے طوق سے بچ سکتے جب وہ اپنی زائد دولت اللہ راہ مین خرچ کردیں۔
اس کے بعد یہودیوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے ۔ جن کے ہاتھوں میں دولت تھی ۔ یہ دولت انہیں اللہ نے دی تھی۔ اور یہ سمجھنے لگے اپنے آپ کو غنی اور اللہ سے مستغنی کہ انہیں اللہ کی جانب سے کسی اجر اور صلے کی حاجت نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں دوچند سہ چند ثواب کی ضرورت ہے جو اللہ ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جسے اللہ اپنا فضل کہتا ہے اور ان لوگوں کی جانب سے قرضہ سے تعبیر کرتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے ایک ذلیل شخص کی حیثیت سے یہ جواب دیا کہ اللہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ہم سے ہمارا مال قرض مانگتے ہیں اور پھر ہمیں دوگنا کردیتے ہیں ‘ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ ربا سے منع کرتے ہیں اور اضعاف مضاعفہ کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ان کی یہ بات الفاظ کا کھیل ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی رذیل اور بےادب اور گستاخ لوگ ہیں۔
Ayah 3:181اللہ کی ذات کے بارے میں بدترین خیالات یہودیوں کی تحریف شدہ کتب کے اندر بھی درج ہیں ۔ لیکن قرآن نے ان کا جو قول نقل کیا ہے یہ ان کا ذات باری کے متعلق نہایت گھٹیا تصور ہے……………” وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اسے لکھ لیں گے ۔ “ تاکہ ان کا محاسبہ کیا جاسکے ۔ ان کی یہ بات یونہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے گی اور نہ ہی اسے مہمل اور لغو بات سمجھ کر چھوڑدیاجائے گا ۔ ان کی اس گستاخی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے سابق کرتوتوں کا ایک حصہ بھی یہاں ذکر کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ان کے ہم قوم ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ یہ سابقہ گناہ ان کے کھاتے میں اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت بدستور وہی ہے ۔ وہ اسی طرح نافرمان اور خطاکار تھے ۔
وَقَتْلَهُمُ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ……………” وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ “……بنی اسرائیل کی تاریخ نے قتل انبیاء کے اس مکروہ کام کے واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور ان کا آخری کارنامہ وہ تھا جس میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی ۔ وہ تو اب بھی بہرحال یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دلوادی تھی اور اس عظیم جرم پر وہ فخر کرتے ہیں۔
وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ……………” ہم ان سے کہیں گے کہ چکھو آگ میں جلنے کا عذاب۔ “ لفظ حریق یعنی جلنا اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس عذاب کی خوفناکی نظروں میں آجائے ۔ اور یہ بات ذہن میں آجائے کہ یہ عذاب پاتے وقت آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں گے ‘ اور وہ اپنا کام ہولناک انداز میں کررہے ہوں گے ۔ آگ میں خوفناک جوش ہوگا۔ یہ اس لئے کہ ان کا یہ فعل بھی اسی قدر مکروہ ہے ۔ انبیاء کو قتل کردینا اور بغیر کسی جواز کے قتل کردینا اور پھر وہ جو بات کررہے ہیں وہ بھی بہت ہی گھٹیا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور وہ غنی ہیں۔
Ayah 3:182ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ……………” یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ “ پوری جزاء جس میں نہ ظلم ہے اور نہ ہی کوئی سنگدلی ہے۔
وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلامٍ لِلْعَبِيدِ……………” اللہ اپنے بندوں کے لئے ظالم نہیں ہے ۔ “ یہاں بندوں کے لئے عبید کا لفظ استعمال کرنے سے انسان کی اصل حیثیت بتادی گئی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں غلاموں کا غلام ہے ۔ اور پھر بھی اگر وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر بےادبی کرتا ہے اور بندہ اور غلام ہوکر وہ کہتا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں تو یہ کس قدر گستاخی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انبیاء کے قتل جیسا شنیع کام ۔
یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں پھر یہی قاتلین انبیاء بھی ہیں ۔ ان کا مزید کارنامہ دیکھو کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ پر اس لئے ایمان نہیں رکھتے کہ ہمیں خود اللہ نے یہ کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نبی پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ کرے جسے عالم غیب سے آگ آکر معجزانہ طور اسے کھانہ لے ۔ جس طرح انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض کے ہاتھوں اس قسم کے معجزے کا اظہار ہوا تھا ۔ اور جب تک محمد ﷺ کوئی اس قسم کا معجزہ نہ دکھائیں گے وہ چونکہ اللہ کے ساتھ عہد کرچکے ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لاسکتے ۔