3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ پرستوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ‘ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ‘ وہ باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے ۔ ایسے صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔

اس کے بعد قرآن کریم بطور مثال زمانہ ماقبل کے اہل ایمان کی مثال بیان کرتا ہے۔ اس لئے کہ انسانیت کی طویل تاریخ میں ‘ زندگی کی گزرگاہوں میں قافلہ ایمان ہمیشہ رواں دواں رہا ہے ۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنے وعدے ایمان پر سچے رہے ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ داد شجاعت دی ۔ جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوئے تو جزع وفزع نہیں کی ۔ اور اس مقام جہاد میں انہوں نے ایمانی آداب کی سخت پاسداری کی ۔ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے رہے ۔ اور ان کے منہ سے اف تک نہ سنی گئی صرف اللہ سے استغفار کرتے رہے وہ اپنی معمولی غلطیوں کو بھی برا قصور تصور کرتے اور اسے ” اسراف “ سے تعبیر کرتے ۔ وہ اپنے رب سے صرف صبر وثبات کے ذریعہ کفار کے مقابلے میں نصرت طلب کرتے ۔ اور ان کا یہی رویہ تھا جس کی وجہ سے وہ ثواب دارین حاصل کرپائے ۔ یہ ثواب انہیں اس لئے دیا گیا کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہوتے اور جہاد کے مواقف پر احسان اور حسن نیت سے قائم رہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے مثال بن گئے۔ احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کا جو صدمہ ہوا ‘ وہ اس قسم کا پہلا صدمہ تھا ۔ اس سے قبل بدر میں اللہ نے انہیں فتح مندی عطا کی تھی ‘ حالانکہ وہ مخالفین سے کئی گنا کم تھے ۔ اس فتح کے بعد ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ گویا یہ فتح شاید ان کے حق میں ایک تکوینی سنت الٰہی ہے ‘ لیکن احد کا تجربہ ان کے لئے اچانک تھا۔ وہ غیر متوقع ابتلا سے دوچار ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ احد پر قرآن کریم نے طویل ترین تبصرہ کیا ہے۔ اس میں کبھی تو اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور کبھی ان پر سخت نکیر کی گئی ہے ‘ کبھی ان کی بات کی تائید کی گئی اور کسی جگہ انہیں تمثیلات سے سمجھایا گیا ہے ۔ یوں ان کے نفوس کی تربیت کی گئ ہے ‘ ان کے تصورحیات کی تصحیح کی گئی ہے اور انہیں آنے والے معرکوں کے لئے تیار کیا گیا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہ طویل تھی ‘ اور ان کے سامنے مشکل مراحل تھے ‘ بھاری فرائض ان پر عائد ہوتے تھے اور وہ جس عظیم انقلاب کے نمائندے تھے وہ ایک عظیم الشان امر تھا۔ یہاں ان کی جو مثال پیش کی گئی ہے وہ ایک عام مثال ہے ۔ اس مثال میں کسی ایک نبی کی بات نہیں کی گئی ۔ کسی ایک قوم کی بات بھی نہیں کی گئی ‘ بلکہ قافہ ایمان کی بات کی گئی ہے ۔ آداب مؤمنین کی بات کی گئی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ابتلا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر دعوت اور ہر دین میں پیش آتا رہتا ہے ۔ تمام انبیاء کے متبعین تمہارے اسلاف ہیں ۔ اس لئے قافلہ ایمان دراصل ایک ہے اور ایک ہی تسلسل ہے ۔ یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ نظریہ ٔ حیات ایک ہی ہے اور یہ سب کے سب ایک ہی ایمانی فوج کے رجمنٹ ہیں۔ وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ” اس سے پہلے کتنے ہی نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ پرستوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ‘ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور نہ وہ باطل کے آگے سرنگوں ہوئے۔ “ کتنے ہی نبی گزرچکے ہیں جن کے ساتھ اسلامی جماعتیں لڑچ کی ہیں ۔ انہوں نے توکمزوری نہیں دکھائی ۔ ان پر جو مشکلات پڑیں ‘ جو مصائب وشدائد پیش آئے ‘ وہ جس درد والم میں مبتلا ہوئے وہ تم سے کچھ کم نہ تھا لیکن انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ۔ انہوں نے اس جدوجہد کا سلسلہ ختم نہیں کردیا ۔ نہ وہ ان مشکلات کے سامنے جھکے اور نہ دشمنوں کے سامنے جھکے ۔ مومنین کی شان تو ایسی ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ وہ ایمان اور نظریہ حیات کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ …………… ” ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔ “ جن کے نفوس ضعف نہیں دکھاتے ‘ ان کی قوتیں مضحمل نہیں ہوتیں ‘ ان کے عزائم نرم نہیں پڑتے ۔ وہ نہ جھکتے ہیں اور نہ سرنگوں ہوتے ہیں ۔ یہ تعبیر کہ اللہ صابرین کو محبوب رکھتے ہیں نہایت ہی مؤثر تعبیر ہے ۔ اس میں خاص اشارہ پایا جاتا ہے ۔ یہ محبت اور پیغام محبت تمام دردوں اور دکھوں کے لئے مرہم ہے ‘ اس سے تمام زخم مندل ہوجاتے ہیں اور تمام تلخیاں اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ یہاں تو ان سابق اہل ایمان کے ظاہری موقف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ظاہری مشکلات کے مقابلے میں یہ ثابت قدمی اختیار کرتے ہیں ‘ لیکن آنے والی آیت ان کی داخلی کیفیات اور ان کے ایمان و شعور کی تصویر کسی بھی کرتی ہے ۔ دکھایا جاتا ہے کہ وہ جناب باری میں کتنے مودب ہیں ۔ وہ اس خوف کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں جو ان کے نفس پر طاری ہوتا ہے اور جو مدہوش کرنے والا ہوتا ہے ‘ نہایت ہی دہشت ناک ہوتا ہے اور جو نفس انسانی کو پوری طرح گرفت میں لے لیتا ہے ‘ کیونکہ یہ خطرہ اٹل ہوتا ہے لیکن ایسا خوف وخطر بھی ان اہل ایمان کی توجہ الی اللہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ‘ وہ ایسے حالات میں بھی اللہ سے لولگائے رکھتے ہیں ۔ اور ایسے حالات میں بادی النظر میں کسی انسان کا یہی مطالبہ ہوسکتا ہے کہ اے اللہ ہمیں فتح نصیب کر لیکن وہ صرف عفو و درگزر کا سوال یوں کرتے ہیں ‘ یوں وہ گویا ادائیگی فرض میں اپنی کوتاہیوں اور خطاکاریوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کے بعد وہ ثابت قدمی اور دشمنوں پر فتح مندی کی دعا کرتے ہیں۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

ان کی دعا بس یہ تھی اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ‘ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کردے ‘ ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (147) ” ان کی دعا بس یہ تھی کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ‘ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہوگیا ہے ‘ اسے معاف کردے ‘ ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ ان کا سوال کسی دولت ونعمت کے لئے نہ تھا ‘ بلکہ انہوں نے اجروثواب وجزا کا مطالبہ بھی نہیں کیا نہ انہوں نے ثواب دنیا کا مطالبہ کیا اور نہ ہی ثواب آخرت کا ۔ وہ تو جناب باری میں بڑے ادب سے کھڑے تھے ۔ وہ ذات باری کی طرف متوجہ تھے ‘ حالانکہ وہ حالت قتال میں تھے ‘ انہوں نے اس حال میں بھی صرف اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی اور صرف ثابت قدمی کی دعا کی ۔ کفار کے مقابلے میں کامیابی کی دعا کی ۔ یہاں تک کہ وہ یہ نصرت و کامرانی بھی اپنے لئے طلب نہیں کرتے ۔ وہ اس میں بھی کفر کی شکست اور کفار کے لئے مناسب سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ہے جناب باری تعالیٰ کی درگاہ میں احترام وادب جس کے وہ لائق ہے اور جو اہل ایمان کا شیوہ ہے ۔
Ayah 3:148

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

آخرکار اللہ نے ان کو دنیا میں بھی ثواب دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت میں بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک لوگ پسند ہیں ۔

یہ مثال کہ اہل ایمان اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ سب کچھ دے دیا ۔ انہیں وہ کچھ دے دیا جس کی طالب دنیا کبھی تمنا کرسکتا ہے ۔ نیز انہیں وہ سب کچھ بھی دے دیا جس کی تمنا کوئی طالب آخرت کرسکتا ہے ۔ فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الآخِرَةِ …………… ” آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر آخرت کا ثواب بھی دیا۔ “ اب اللہ تعالیٰ شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ محسنین میں سے تھے ‘ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں بہترین ادب کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے بہترین مظاہرہ دوران جہاد کیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اعلان کردیا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جو ہر قسم کے ثواب سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” اللہ کو ایسے ہی نیک لوگ پسند ہیں ۔ “ اس انداز میں پیراگراف ختم ہوتا ہے ‘ جس میں اسلامی تصور حیات کے نہایت ہی اساسی حقائق کو پیش کیا گیا ہے ‘ جن کی وجہ سے پہلی اسلامی جماعت کی بہترین تربیت ہوئی اور جو ہر نسل اور ہر دور میں اٹھنے والی تحریک اور ہر دور کی امت کے لئے سرمایہ بصیرت ہے ۔ اب یہ تبصرہ آگے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے ۔ اس معرکہ کے کچھ اور واقعات سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ ان سے بصیرت افروز نتائج اخذکئے جاسکیں۔ اہل ایمان کی نظریاتی تصحیح ہو ‘ ان کے نفوس کی تربیت ہو انہیں آگاہ کیا جائے کہ اس راہ میں کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ‘ انہیں بتایا جائے کہ ان کے اردگرد سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں ‘ اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ احد میں شکست کی وجہ سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہود کو از سر نو سازشیں کرنے کا موقع مل گیا تھا ‘ اس لئے کہ اس وقت تک اہل مدینہ اہل اسلام کے لئے نیک نیت نہ ہوئے تھے ۔ اس شہر میں ابھی تک مسلمان اجنبی تھے ۔ اس اجنبی تحریک اور اس نئے پودے کے اردگرد جنگ بدر نے رعب اور دبدبے کی ایک باڑ قائم کردی تھی ۔ کیونکہ بدر میں اہل اسلام کو نہایت ہی فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی تھی اور جب احد میں شکست ہوئی تو یہ صورت حال بدل گئی ۔ اسلام کے ان خفیہ دشمنوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے دلی کینہ اور بغض وعناد کا اظہار کرسکیں ۔ اور معاشرے کے اندر زہر آلود پروپیگنڈا کرسکیں ۔ اور جن گھرانوں میں لوگ شہید ہوگئے تھے ‘ یا جن میں لوگ شدید زخمی تھے اور ایک کہرام مچاہوا تھا ان میں اس کے زہر آلودپروپیگنڈے اور سازشوں کے لئے راہ ہموار ہوگئی تھی چناچہ ان لوگوں نے اب کھل کر ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں ۔ آنے والے پیراگرافوں میں اس معرکہ کے اہم واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اس کے بڑے بڑے واقعات قلم بند کئے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کافروں کی پیروی مت کرو ‘ تمہیں فتح حاصل ہوگی اور کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب از سر نو پیدا ہوگا ‘ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ابتدائے معرکہ میں تو تمہیں فتح ہوئی اور یہ میرے وعدے کے مطابق تھی جسے تم نے کمزوری دکھاکر ضائع کیا ‘ آپس میں نزاع اور خلاف کیا ‘ رسول اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ‘ اس کے بعد انہیں اس معرکے کے دونوں رخ زندہ اور متحرک صورت میں بتائے جاتے ہیں ۔ ہزیمت کے بعد افراتفری ‘ پھر اہل ایمان کے لئے تسلی و اطمینان کا سامان اور اہل نفاق کے دلوں میں حسرت ویاس ‘ جن کے خیالات اللہ کے بارے میں اچھے نہ تھے ۔ نیز انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس معرکہ میں واقعات کا رخ شکست کی جانب پھیرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمت کارفرماتھی ‘ نیز یہ کہ موت کا ایک دن متعین ہے اور اس سلسلے میں اہل کفر اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعہ جو گمراہی پھیلا رہے ہیں ان سے بچ کر رہو اور آخر کار تمہیں بہرحال اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ اپنی موت مریں یا شہید ہوں جانا تو ادہر ہی ہے ۔
Ayahs 3:149–150

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشارے پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹاپھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہوجاؤگے۔

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(ان کی باتیں غلط ہیں ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔

آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (149) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “ جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے پاؤں پھر دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ مومن کے لئے دوہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ کفر اور اہل کفر کے ساتھ مسلسل برسر جنگ رہے گا ‘ باطل اور اہل باطل کے ساتھ برسر پیکار رہے گا اور یا پھر الٹے پاؤں پھر کر مرتد ہوجائے گا ۔ نعوذ باللہ منھا۔ ان دونوں راستوں کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ علیحدہ ہو کر غیر جانبدار کھڑا ہوجائے ‘ بین بین رہے اور اپنے موقف پر بھی جما رہے اور اپنے دین کی حفاظت کررہا ہو ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی سوچ میں یہ بات آتی ہو خصوصاً اس معرکے میں شکست کی فضا میں ‘ چوٹ اور زخم کھاکر وہ یہ سوچ رہا ہو کہ مومن کے لئے ممکن ہے کہ وہ غالب قوتوں کے ساتھ اس معرکہ آرائی سے نکل آئے ‘ ان کے ساتھ مصالحت کرے ‘ ان کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دین کی حفاظت بھی کرتا ہو ‘ اس کا عقیدہ اپنی جگہ درست ہو ‘ اس کا ایمان قائم ہو ‘ اس کا وجود بھی قائم رہے لیکن یہ سوچ ایک خطرناک واہمہ ہے اس لئے کہ وہ حق و باطل کے اس معرکے میں جو آگے نہیں بڑھتا وہ لازماً پیچھے کو پلٹتا ہے ۔ اور جو شخص کفر ‘ شر ‘ باطل ‘ گمراہی اور نافرمانی کے خلاف جدوجہد نہیں کرتا وہ لازماً ذلیل و خوار ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرے گا اور کفر ‘ شر ‘ گمراہی ‘ باطل اور نافرمانی میں داخل ہوجائے گا ۔ جسے اس کا ایمان نہ بچاسکے گا ‘ اس کا نظریہ حیات نہ بچاسکے گا ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کفار کی پیروی کررہا ہو ‘ ان کی بات سن رہا ہو اور ان پر اعتماد کررہا ہو تو درحقیقت اس شخص نے اپنے ایمان اور نظریہ حیات کا موقف چھوڑ دیا ہے ۔ وہ روحانی طور پر شکست کھاچکا ہے کیونکہ جب ایک نظریاتی شخص اپنے مخالفین کے سامنے جھکتا ہے تو وہ روحانی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اب وہ ان کی وسوسہ اندازی سے متاثر ہوتا ہے۔ ان سے ہدایات لیتا ہے ۔ یہی تو ہے شکست ۔ اب کسی بھی وقت دوبارہ عقیدہ کفر کی طرف پلٹ سکتا ہے ۔ اسے اس اخری شکست سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ ابتدا میں اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی راہ پر پڑگیا ہے جس کا انجام حسرتناک ہوگا۔ صحیح مومن تو وہ ہوتا ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی قیادت کی وجہ سے اپنے نظریاتی دشمنوں اور اپنی قیادت کے دشمنوں سے بےنیاز ہوجاتا ہے اور جب بھی وہ ان دشمنوں کی طرف کان دھرے گا گویا اس نے الٹے پاؤں سفر کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ ایک فطری حقیقت اور عملی حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اہل ایمان کو آگاہ فرماتے ہیں ‘ متنبہ کرتے ہیں اور پکارتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ…… ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہوجاؤگے ۔ “ اس سے بڑا خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ انسان الٹے پاؤں پھرے اور ایمان کے بعد کفر کی راہ کو از سرنو اختیار کرے ۔ اگر ایمان چلاجائے تو پھر کون فائدہ اس کی کمی کو پورا کرسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ تم کفار کی طرف مائل اس لئے ہوسکتے ہو کہ تم ان سے حمایت کی امید رکھتے ہو گے اور یہ کہ ان کو اس وقت فتح حاصل ہے ۔ یہ بہت بڑا وہم ہے جس میں تم مبتلا ہو ‘ اس لئے اس وہم کو رد کرنے کے لئے اچانک روئے سخن اس طرف مڑتا ہے کہ منبع نصرت وحمایت کہاں ہے بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ……………” حقیقت یہ ہے کہ تمہارا حامی و مددگار صرف اللہ ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ “ مسلمانوں کی ولایت کا مرجع اللہ ہے ۔ وہ اسی سے نصرت طلب کرسکتے ہیں اور جس کا مددگار اللہ ہو تو اسے کسی دوسرے مددگار کی ضرورت کیا رہتی ہے ؟ جس کا ناصر اللہ ہو اسے بندوں کی جانب سے کسی نصرت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے ‘ جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی۔

اس کے بعد مومنین کو تسلی دی جاتی ہے اور انہیں یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ کفار کے دلوں میں تحریک اسلامی کا رعب ڈال دیں گے اور یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور یہ نظریہ شرک کی پشت پر اس دنیا میں نہ قوت ہے نہ قوت دلیل ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے بہت ہی براٹھکانہ تیار کیا گیا ہے۔ سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ ” عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جس کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی ۔ “ یہ وعدہ اللہ جل شانہ کی جانب سے ہے ‘ جو غالب ہے اور قادر مطلق ہے ۔ وہ اہل کفر کے دلوں میں رعب بٹھاسکتا ہے ۔ وہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس معرکے کا انجام کیا ہوگا ‘ وہ ضمانت دیتا ہے کہ اس کے دوست فاتح ہوں گے اور اس کے دشمنوں کو شکست ہوگی ۔ اللہ کا یہ وعدہ ہر اس معرکے کے لئے اب بھی قائم ہے جس میں فریقین معرکہ اہل کفر اور اہل ایمان ہوں۔ جب بھی اہل کفر اہل سے دوچار ہوجاتے ہیں ‘ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا رعب بٹھادیتے ہیں ۔ لیکن اہم بات اور اہم شرط یہ ہے کہ اہل ایمان کے دل میں ایمان کی حقیقت موجود ہو۔ ان کو اللہ کی نصرت کا حقیقی شعور ہو ‘ انہیں پورا پورا یقین ہو کہ اللہ ان کا مددگار ہے اور ان کے دل میں ذرہ برابر شک اس بارے میں نہ ہو کہ اللہ کا لشکر ہی غالب رہتا ہے اور یہ کہ اللہ اپنے معاملات پر پورا کنٹرول رکھتے ہی اور یہ کہ اہل کفر اللہ کو شکست نہیں دے سکتے اور نہ وہ اللہ سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ اور ان کا معاملہ اللہ کے اس وعدے کے ساتھ ہو کہ وہ روبعمل ہوکر رہے گا چاہے ظاہری حالات اس کے خلاف نظر آئیں ‘ اس لئے کہ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا ہوتا ہے اگرچہ ہماری آنکھیں الٹ دیکھ رہی ہوں۔ اہل کفر رعب میں اس لئے آجاتے ہیں کہ ان کا تکیہ صحیح نہیں ہے ۔ ان کا بھروسہ نہ قوت پر ہے اور نہ صاحب قوت پر۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے خداؤں کو شریک کیا ہوا ہے جن کے ہاتھ میں کوئی قوت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ان شریکوں کو کوئی قوت دے کر اپنے ساتھ شریک نہیں کرلیا۔ یہ انداز تعبیر کہ اللہ نے ان پر کوئی ” سلطان “ نہیں اتاری ‘ اپنے اندر گہرامفہوم رکھتی ہے ۔ قرآن میں اس انداز تعبیر کو بار بار اپنایا گیا ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹے الہٰوں کے پاس سلطان نہیں ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ غلط عقائد پر کوئی سلطان نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی تصور ‘ کوئی عقیدہ ‘ کوئی نظریہ ‘ کوئی شخصیت اور کوئی بھی تنظیم ‘ اس قدر موثر ہوتی ہے جس قدر اس کے اندر پوشیدہ قوت اور غلبے کا داعیہ ہوتا ہے ۔ اس اندرونی قوت کی مقدار کے مطابق ہی اس کی جدوجہد قائم اور دائم رہتی ہے ۔ اور اس اندرونی قوت کا دارومدار اس کی اس سچائی کی اس مقدار پر ہوتا ہے جو اس کے اندر موجود ہوتی ہے اور یہ کہ اس قوت اور اس قوت کے اندر کی قدر ہم آہنگی ہے جس قوت اور سچائی پر اللہ نے اس پوری کائنات کو قائم کیا ہے ۔ نیز یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کائنات کے سنن اور نوامیس کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کی قدر ہے ۔ کسی شخص یا ادارے کو اللہ اسی قدر قوت اور سلطان دیتا ہے جس قدر وہ ان نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے ‘ جو اس کائنات میں مؤثر ہیں اور کارفرما ہیں ۔ اگر یہ ہم آہنگی نہیں ہے تو وہ شخص ‘ نظریہ اور ادارہ ‘ بوگس ‘ کھوٹا اور ضعیف اور ختم ہونے والا ہے ‘ چاہے بظاہر وہ بہت ہی قوی نظر آئے ‘ بظاہر وہ جس قدر مزین کیا گیا ہو اور بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آتا ہو۔ مشرکین کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ یہ شرک مختلف الاقسام ہوتی ہے ۔ اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ پہلے اللہ کی خصوصیات میں سے کوئی خصوصیت غیر اللہ کو عطا کرتے ہیں ‘ یا اللہ کے مظاہر میں سے کوئی مظہر غیر اللہ کو دیتے ہیں ۔ ان خصائص میں سے اہم خاصہ خدا اس کا حق قانون سازی ہے ‘ جو وہ اپنے بندوں کی زندگی کے مختلف حالات کے لئے کرتا ہے اور ان اقدار کے تعین کا حق ہے جن کے مطابق لوگوں کو اپنی زندگی کے معاملات ‘ انفرادی اور اجتماعی فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور یہ کہ بندوں پر حق حکمرانی صرف اللہ کو ہے اور یہ صرف اس کا حق ہے کہ وہ اپنے قوانین اور اپنے طے کئے ہوئے حسن وقبح کے معیارات اور پیمانوں کی اطاعت کرائے ۔ اس کے بعد شرک پھر ان شعائر تعبدیہ کے اندر ہوتا ہے جو اللہ کے لئے مخصوص ہوتے ہیں یعنی عبادات۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ خدا جن کو مشرکین اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں اس کے ہاں اس سچائی کی کیا مقدار ہوتی جس پر اللہ نے اس کائنات کو قائم کیا ہے ؟ یہ صرف اللہ ہے جس نے اس کائنات کو حق پر قائم کیا ہے اور تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ اور وہ شریعت اور حسن وقبح کے پیمانے صرف اس سے لیں ۔ اور صرف اس کی عبادت اس طرح کریں جس طرح اس کی عبادت کرنے کا حق ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ‘ بغیر کسی شراکت کے ۔ اس لئے جو نظریہ اصول توحید کے خلاف ہو جس پر یہ کائنات اپنی اساس سے قائم ہے وہ کھوٹا ‘ باطل اور حق کے مخالف ہے۔ اور یہی راز ہے کہ اس کے کمزور اور واہیات ہونے کی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے اندر نہ قوت ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر سلطان ہوتی ہے اور وہ زندگی کے دھارے کو متاثر نہیں کرسکتا ۔ بلکہ اس کے اندر سرے سے زندگی کے بنیادی عناصر (Potentials) نہیں ہوتے ۔ جب تک مشرکین شرک میں مبتلا ہیں (اور شرک ایسا نظریہ ہے جس اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سلطان نہیں ہے) یہ شرک وہ چاہے الٰہوں کی صورت میں کررہے ہوں یا وہ عقائد و تصورات میں کررہے ہوں ‘ تو وہ گویا کمزوری خلا اور وہم پر بھروسہ کررہے ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ ہمیشہ ذلیل وہ خوار اور ضعیف وناتواں رہیں گے اور وہ ہمیشہ مرعوب رہیں گے ‘ جب بھی ان کا سامنا اہل ایمان کے ساتھ ہوا۔ اس لئے کہ اہل ایمان کا بھروسہ ایسی سچائی پہ ہوتا ہے جو پر شوکت اور پر قوت ہوتی ہے ۔ اس وعدے کا مصداق ہمیں ہر وقت نظر آسکتا ہے جب بھی حق و باطل کا آپس میں ٹکراؤ ہو ‘ بارہا ایسا ہوا ہے کہ باطل زاد وعتاد اور کثر سامان جنگ کے ساتھ حق کے مقابلے میں آیا ہے ‘ جبکہ حق غیر مسلح تھا لیکن اس صورت حال کے باوجود باطل خوفزدہ اور مرعوب ہوکر کانپنے لگتا ہے ۔ وہ ہر حرکت اور ہر نعرہ تکبیر کے مقابلے میں تھرتھر کانپتا رہا ہے حالانکہ اس کے ساتھ عظیم مسلح لشکر رہے ہیں ۔ لیکن جونہی ان عظیم لشکروں پر حق جھپٹا ہے باطل دبک گیا ہے ‘ جزع وفزع کرتے ہوئے منتشر ہوگیا ہے۔ اس کی صفوں میں اضطراب پھیل گیا ہے ۔ اگرچہ وہ تعداد اور زاد وعتاد میں بہت زیادہ تھا اور حق اس کے مقابلے میں قلت قلیلہ تھا۔ یوں اس فرمان کی سچائی باربار ثابت ہوئی ہے ۔ سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا…………… ” عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے ‘ جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ “ یہ بات تو دنیا سے متعلق تھی ۔ آخرت میں کیا ہوگا ‘ تو وہاں ان کا انجام نہایت ہی پریشان کن اور برا ہوگا اور ان ظالموں کے لائق حال ہوگا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ……………” ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کے نصیب ہوگی۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اس اصول کا مصداق خود جنگ احد بتاتے ہیں ۔ اس جنگ کی ابتدائی جھڑپ ہی میں مسلمانوں و فیصلہ کن فتح ہوگئی تھی ۔ مشرکین مارے جارہے ‘ یہاں تک کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنا مال غنیمت بھی چھوڑدیا ۔ ان کا علم گر گیا اور کوئی اسے اٹھانے و الا نہ رہا ۔ صرف ایک عورت کو ہمت ہوئی اور اس نے اس علم اٹھالیا ۔ یہ فتح شکست میں صرف اس وقت تبدیل ہوئی جبب تیراندازوں کے دلوں میں ضعف پیدا ہوگیا ۔ وہ مال غنیمت سمیٹنے کے لئے چڑھ دوڑے ۔ آپس میں تنازعہ بھی ہوا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی جو نبی وقت بھی تھے اور ان کے قائد بھی تھے ۔ چناچہ قرآن کریم اس معرکہ کے عروج پر جو واقعات پیش آئے ‘ جو حادثات ہوئے ۔ جن حالات میں ہوئے اور جس طرح ہوتے ہوئے نظرآئے ‘ ان کی توجہ نہایت ہی عجیب اور زندگی اور حرکت سے بھرپور انداز میں ‘ ان واقعات کی طرف مبذول کراتا ہے ذرا غور سے پڑھئے :
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اللہ نے (تائید ونصرت) جو وعدہ تم سے کیا تھا ‘ وہ تو اس نے پورا کردیا ۔ ابتدا میں (اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کررہے تھے ۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا ‘ اور جونہی کہ وہ چیزا للہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کربیٹھے ……اس لئے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیاتا کہ تمہاری آزمائش کرے ۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔

یہاں قرآن مجید نے جنگ کی اسٹیج کے تمام مناظر کو پوری طرح ‘ الفاظ کے ذریعہ منقش کردیا ۔ اس میں فتح اور شکست دونوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں ‘ الفاظ کی صورت میں ایک ریل چلتی نظر آتی ہے ‘ جس میں میدان جنگ کے تمام مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آتے چلے جاتے ہیں ‘ بلکہ دلی خیانت ‘ جسموں کے انداز اور ضمیر کی کھٹک تک صاف نظرآتے ہیں ۔ عبارات کے معانی کو اس طرح منتقل کرتی ہیں گویا ریل ہے جو مناظر دکھا رہی ہے ۔ ہر حرکت میں جدید تصویر ‘ متحرک اور زندہ نظرآتی ہے خصوصاً وہ منظر جب لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بھاگ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں پکار رہے ہیں ‘ لیکن وہ ایک نہیں سنتے ۔ دہشت زدہ ہیں ‘ پریشان ہیں ‘ جنگ چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگنے کے لئے اوپر ہی کی طرف جارہے ہیں ۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ دلی وساوس ، قلبی کیفیات ‘ تاثرات اور خلجان بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اتنی بڑی مقدار میں زندہ ‘ متحرک اور چلتی پھرتی تصاویر اور پھر ان کے اندر کے فیصلے ‘ ہدایات اور بہترین تبصرے اور یہ سب کچھ اسی مختصر سی عبارت میں ۔ یہ ہے قرآن کریم کا منفرد اسلوب بیان اور یہ ہے قرآن کریم کی منفرد طرز تربیت۔ وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ…………… ” اللہ نے نصرت کا جو وعدہ تم سے کیا تھا ‘ وہ تو اس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم انہیں قتل کررہے تھے ۔ “ یہ معرکہ کی ابتدائی تصویر ہے جب مسلمانوں نے مشرکین کو قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ تَحُسُّونَهُمْ سے مراد تخمدونَ حِسَّھُم…………(تم اس کے احساس کو بجھا رہے تھے ) یا تم ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینک رہے تھے ۔ اس سے پہلے کہ مال غنیمت کالالچ انہیں بےراہ کردے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہہ دیا تھا ” تمہیں فتح نصیب ہوگی لیکن اس وقت تک جب تک تم نے صبر کیا ۔ “ چناچہ یہی بات سچی نکلی۔ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز تمہیں اللہ نے دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ‘ تم نے اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ اس لئے کہ تم میں سے بعض لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “ یہ تیراندازوں کے حالات کا جائزہ ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ مال غنیمت کے دھوکے میں آگئے ۔ ان کے اور ان میں سے ان لوگوں کے درمیان نزاع ہوگیا جو رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت کرنا چاہتے تھے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے معصیت اور نافرمانی کا فیصلہ کیا خصوصاً اس وقت جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے فتح مندی کے آثار دیکھ لئے ۔ ان میں دو گروہ بن گئے ۔ ایک گروہ نے مال غنیمت کا ارادہ کرلیا اور دوسرے نے ثواب آخرت کو ترجیح دی ۔ ان کے دلوں کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا۔ اور اسلامی صفوں میں وحدت نہ رہی۔ اور نہ ہی ہدف ایک رہا۔ لالچ نے اخلاص کو مکدر کردیا حالانکہ نظریاتی جنگوں میں خلوص شرط اول ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ نظریاتی جنگ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ جنگ ایک طرف میدان جنگ میں لڑی جاتی ہے اور دوسری طرف خود انسانی ضمیر کے اندر بھی لڑی جاتی ہے اور جب تک ضمیر کے میدان میں فتح حاصل نہ ہو ‘ جنگ کے میدان میں فتح ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے ‘ اس لئے اس میں کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجائیں ۔ جب وہ اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہیں تو اللہ انہیں تب ہی نصرت عطا کرتے ہیں ۔ جب اللہ ان کو چھانٹ کر خالص کردیں اور وہ صرف اسی کے معرکوں میں کامیاب رہتے ہیں حالانکہ وہ باطل کے جھنڈے اٹھا رہے ہوتے ہیں ۔ اس میں بھی حکمت ہوتی ہے ‘ جس کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ حق کا علم بلند کرتے ہیں اور پھر حق کے لئے یکسو نہیں ہوتے ‘ مخلص نہیں ہوتے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ کبھی بھی نصرت عطا نہیں کرتے ۔ ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ ان کی چھانٹی ہوجاتی ہے اور وہ لوگ بالکل ستھرے ہوجاتے ہیں جو اللہ کے لئے کام کرتے ہیں ۔ یہ ہے وہ بات جسے قرآن مجید جماعت مسلمہ پر ان کے موقف کی روشنی میں واضح کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی تلقین پہلی جماعت اسلامی کو اس وقت کی جارہی ہے جب کہ وہ ہزیمت کے تلخ حقائق سے دوچار تھی ‘ اسے دردناک چوٹ لگی ہوئی تھی اور یہ چوٹ اس کے اپنے ڈانواں ڈول موقف کی وجہ سے لگی تھی ۔ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ……………(ابن کثیر ) یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا حال کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘ ان کے دلوں کی بات ظاہر کردی جاتی ہے اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ شکست کیوں ہوئی تاکہ آئندہ اس سے بچیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اپنی حکمت اور تدبیر کا ایک پہلو بھی ان پر واضح فرماتے ہیں ۔ یہ کہ انہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں اور یہ واقعات جو بالکل ظاہری اسباب کی وجہ سے پیش آئے لیکن اللہ کی قدرت دیکھئے ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ……………” تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال کی پشت پر تقدیر کارفرما ہوتی ہے ۔ جب انہوں نے کمزوری دکھائی ‘ آپس میں تنازع کیا ‘ حکم عدولی کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کو پھیر دیا ‘ ان کی طاقت ختم ہوگئی ‘ وہ مشرکین کی آمد کو معلوم نہ کرسکے ‘ تیراندازوں کو گھاٹی سے ہٹادیا۔ میدان میں لڑنے والوں کو بھی پیچھے ہٹادیا ۔ وہ بھاگنے لگے ‘ یہ سب واقعات اس طرح پیش آئے کہ خود ان کے کئے کا نتیجہ تھے۔ لیکن ان ظاہری واقعات کے پیچھے بھی حکمت وتدبیر تھی ‘ وہ یہ کہ اللہ اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے تھے تاکہ سخت ترین حالات ‘ خوف وہراس ‘ قتل وجراح اور ہزیمت وشکست سے دوچار کرکے انہیں آزمایاجائے ۔ اور ان مشکلات کے نتیجے میں ان دلوں کے خفیہ گوشے بھی سامنے آجائیں۔ دل صاف ہوجائیں اور صفوں سے کمزور لوگ دور ہوجائیں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا۔ ہوتاتو یہ ہے واقعات بظاہر اپنے ظاہری اسباب کے نیتجے میں سامنے آتے ہیں لیکن ان ظاہری اسباب کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پیچھے تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اس لئے ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔ ہر واقعہ کے پیچھے سبب ظاہری بھی ہوتا ہے اور اس سبب ظاہری کے پیچھے اللہ کی حکمت وتدبیر بھی کام کررہی ہوتی ہے اور یہ تدبیر لطیف وخبیر کی طرف سے ہوتی ہے ۔ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ……………” اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا۔ “ یعنی اللہ نے تمہاری کمزوری ‘ باہم نزاع اور حکم عدولی کو معاف کردیا ۔ اس طرح تم جو بھاگ نکلے ‘ الٹے پاؤں پھرے ۔ یہ سب کچھ اللہ نے معاف کردیا۔ اور یہ معافی صرف اس کا فضل وکرم ہے ۔ تمہاری بشری کمزوریوں کو اس نے معاف کردیا ‘ نظرانداز کردیا کیونکہ تمہاری نیت بری نہ تھی ‘ تم غلطی پر اصرار نہیں کررہے تھے ۔ کیونکہ تمہاری یہ کمزوری اور یہ غلطی دائرہ ایمان کے اندر ہے ۔ تم اللہ کے سامنے بھی جھکتے ہو اور اپنی قیادت کے احکام کے سامنے بھی سرتسلیم خم کرتے ہو۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ……………” کیونکہ مومنین پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ “ اس کا پہلا فضل تو یہ ہے کہ اس نے انہیں معاف کردیا ۔ جب تک وہ اسلامی نظام پر قائم ہیں اس کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کے خصائص الوہیت وحاکمیت کے مدعی خود نہیں ہوتے ۔ وہ اپنے لئے منہاج حیات ‘ نظام قانون ‘ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے خود وضع نہیں کرتے بلکہ صرف اللہ سے لیتے ہیں ۔ یہ اصول تسلیم کرتے ہوئے اگر ان سے بتقاضائے بشریت ‘ بوجہ کمزوری ‘ بوجہ عارضی جوش اور عارضی خواہشات کوئی غلطی ہوجائے تو وہ معاف ہوسکتی ہے لیکن غلطیوں پر ابتلا کی سزا ضرور دی جاتی ہے تاکہ وہ کھوٹ دور ہو اور وہ کمزوری دور ہو۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا اور رسول تمہارے پیچھے تم کو پکاررہا تھا۔ اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیئے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

اس کے بعد اس شکست کے ایک منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ……………” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش تک تمہیں نہ تھا ‘ اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہا تھا ۔ “ یہ اس لئے یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کے پردہ احساس پر یہ نقش گہرائی کے ساتھ منقش ہوجائے ۔ وہ اپنی جگہ ‘ شرمندگی ‘ حیاء اور پشیمانی محسوس کریں ۔ اس کے اسباب پر غور کریں جو کمزوری ‘ باہم تنازع اور حکم عدولی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی ۔ یہ آیت ان کی جسمانی حرکات اور ان کی نفسیاتی کیفیات کی اس قدر مختصر الفاظ میں نقشہ کشی کرتی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس تصویر میں صاف نظرآتا ہے کہ وہ پہاڑ پر اوپر کی طرف بھاگتے ہوئے چڑھتے ہیں ‘ مرعوب ہوگئے ہیں ‘ دہشت زدہ ہیں اور سخت اضطراب میں ہیں ۔ کوئی کسی کی طرف دیکھتا ہی نہیں ۔ کوئی کسی کی پکار کا جواب نہیں دیتا ۔ رسول ﷺ پکار رہے ہیں تاکہ انہیں مطمئن کردیں کہ آپ زندہ ہیں لیکن وہ نہیں سنتے ، کیونکہ کسی نے یہ پکار دیا تھا کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے ان کے دل متزلزل ہوگئے تھے ۔ ان کے قدم اکھڑگئے تھے ۔ غرض ایک مکمل تصویر کشی ہے لیکن چند الفاظ میں ۔ ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ سے بھاگ کر اور رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑ کر آپ ﷺ کو جو دکھ دیا ‘ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بہت دکھ دیئے ۔ وہ اپنے کئے پر پچھتا رہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑدیا۔ آپ ﷺ کو زخم آئے ‘ لیکن پھر بھی آپ ثابت قدم رہے جبکہ وہ بھاگ گئے تھے ‘ تاکہ تم اس چیز پر حسرت نہ کرو جو چلی گئی ہے اور نہ اس اذیت پر حزن وملال کا اظہار کرو جو اس وجہ سے تمہیں پہنچی ۔ کیونکہ یہ تجربہ جس سے وہ گزرے اور یہ ضربات جو نبی ﷺ کو لگیں وہ ان کے لئے ناقابل برداشت تھیں ۔ ان کو دیکھتے ہوئے وہ خود اپنی تکایف بھول گئے ۔ اور وہ مصائب ان کی نظروں میں کم ہوگئے فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا مَا أَصَابَكُمْ……………” اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دئیے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ “ اور اللہ تو خفیہ باتوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ تمہارے اعمال کی حقیقت اسے اچھی طرح معلوم ہے اور تمہاری تمام حرکات کے پیچھے جو داعیہ ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ “
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ مگر ایک دوسرا گروہ ‘ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنی ذات ہی کی تھی ‘ اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟ “ ان سے کہو (کسی کا حصہ نہیں) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ “ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں ‘ اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ اگر (قیادت) کے اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے ۔ “ ان سے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ “ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ‘ اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔

جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ “ یہ ایک ایسی فضاتھی جس سے رحمت الٰہی کا اظہار ہورہا تھا اور اللہ کے خاص مومن بندوں پر یہ خاص رحمت نازل ہوا کرتی ہے ۔ یہ ایک اونگھ تھی اور خوفزدہ اور پریشان حال مجاہدین پر جب اونگھ آجائے ‘ اگرچہ ایک لحظہ کے لئے کیوں نہ ہو تو وہ ان کے جسم کے اندر ساحرانہ اثر کرتی ہے ‘ اونگھ دور ہوتے ہی وہ تروتازگی محسوس کرتے ہیں ‘ گویا وہ ایک نئی مخلوق ہیں ‘ دلوں پر اطمینان کی حالت طاری ہوجاتی ہے ۔ جسم آرام محسوس کرتا ہے ۔ اس اونگھ کی کیا حقیقت ہے ‘ اس کی حقیقت اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک ہم نہیں کرسکتے ۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے شدید پریشانی کے عالم میں ایسی حالت کو محسوس کیا ہے ۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس میں اللہ اللہ کی رحمت کی شبنم ہے ۔ اور اس قدر معجزانہ کہ ہمارے الفاظ اس کے بیان سے قاصر ہیں ۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ حاکم نے حماد ابن سلمہ کے واسطہ سے ثابت کی روایت حضرت انس ؓ نے ابوطلحہ سے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ” میں نے احد کے دن اپنا سر اٹھایا اور دیکھنے لگا ‘ ہر شخص کا سر ہودج پر جھکا ہوا ہے ۔ اور ایک دوسری روایت ابوطلحہ سے یہ ہے ” ہم احد کے دن میدان جنگ میں تھے ‘ کہ ہم پر ایک خاص اونگھ طاری ہوگئی ۔ میری تلوار گرتی اور میں اسے اٹھاتا ‘ گرتی اور میں دوبارہ اٹھاتا۔ “ ایک گروہ کا حال تو یہ تھا اور دوسرے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ متزلزل الایمان تھا۔ یہ لوگ تھے جنہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی ‘ اسی کو اہمیت دیتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی تک جاہلیت کے تصورات سے نکل کر باہر نہیں آئے تھے ۔ نہ انہوں نے پوری طرح اپنے آپ کو اس تحریک کے سپرد کردیا تھا ‘ نہ وہ پوری طرح تن بتقدیر الٰہی ہوگئے تھے ۔ وہ اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہیں جو چوٹ لگی ہے وہ ان میں چھانٹی کے لئے لگی ہے ‘ آزمائش کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہوا کہ اللہ نے اپنے دوستوں اور حامیوں کو دشمنوں کے حوالے کردیا ہے اور نہ کہیں اللہ نے یہ آخری فیصلہ کردیا ہے کفر ‘ شر اور باطل کو اب آخری غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ اور انہیں اب پورا کنٹرول حاصل ہوگیا ہے ۔ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ ” مگر ایک دوسراگروہ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی ‘ اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سرا سر خلاف حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ” اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ اسلامی نظریہ حیات ‘ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی جان میں ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ تو سب کے سب اللہ کے ہیں اور جب وہ جہاد فی سبیل اللہ کے نکلتے ہیں تو وہ اللہ کے لئے نکلتے ہیں ‘ وہ اللہ کے لئے حرکت میں آتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے جنگ کرتے ہیں ۔ جہاد کے اس عمل میں ان کی ذات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اس میں پھر وہ اپنے آپ کو اللہ کی تقدیر کے سپرد کردیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر ان پر جو حالات بھی لاتی ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں ‘ مکمل تسلیم ورضا کے ساتھ جو بھی ہو سو ہو۔ رہے وہ لوگ جو اپنی ذات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کی سوچ اور ان کے اندازے ان کی اپنی ذات ارد گرد گھومتے ہیں ‘ ان کی سرگرمی اور ان کے تمام اہتمام صرف اپنی ذات کے لئے ہوتے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایمان کی حقیقت ابھی تک جاگزیں ہی نہیں ہوتی ۔ یہ دوسرا طائفہ جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے وہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا ۔ یہاں قرآن کریم نے ان پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا ۔ اس گروہ کے نزدیک ساری اہمیت ان کی ذات کے لئے تھی ۔ وہ نہایت کرب اور پریشانی میں مبتلا تھے ۔ انہیں یہ احساس کھائے جارہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی صلاحتیوں کو ایسے کام میں ضائع کررہے ہیں ‘ جو ان کے ذہن میں واضح نہیں ہے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بغیر ان کی مرضی کے اس معرکے میں شریک ہونے پر مجبور ہوگئے ‘ انہیں اس میں خواہ مخواہ جھونک دیا گیا اس کے باوجود ان کو یہ تلخ چوٹ لگی اور وہ خوامخواہ اس قدر بھاری قیمت ادا کررہے ہیں ‘ قتل ہورہے ہیں ‘ زخمی ہوگئے ہیں اور پریشان کا تو حال نہ پوچھو ۔ یہ لوگ اللہ کی صحیح معرفت سے محروم ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بدگمانیاں کرتے ہیں جس طرح جاہل لوگ کیا کرتے تھے اور سب سے بڑی بدگمانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس معرکہ میں ضائع کررہا ہے ‘ جس کے انتظام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بس انہیں تو یہاں دھکیل کر لایا گیا ہے تاکہ وہ مریں ‘ زخمی ہوں ۔ اللہ تو نہ انہیں بچاتا ہے اور نہ ان کی مدد کرتا ہے۔ اللہ نے انہیں دشمنوں کے لئے لقمہ تر بنادیا ہے ۔ وہ پوچھتے ہیں هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ ” اس کام میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ “ ان کے اس اعتراض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس معرکے کے لئے قیادت نے جو منصوبہ بنایا اس میں ان کی ایک نہ سنی گئی۔ شاید اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کے اندر لڑا جائے اور باہر جاکر لڑنے سے پرہیز کیا جائے لیکن اس کے باوجود وہ عبداللہ ابن ابی کے ساتھ لوٹ نہ گئے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس منصوبے پر مطمئن نہ تھے ۔ اس سے قبل کہ اس سیاق کلام میں ان کی بدگمانیوں کی بات ختم کی جائے ‘ درمیان میں مختصر سا جواب دیا جاتا ہے اور اس میں ان کے اس اعتراض کو رد کردیا جاتا ہے ۔ قُلْ إِنَّ الأمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ……………” کہہ دو کہ اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ “ کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں ہے ‘ نہ ان کا کوئی اختیار اور کسی کا کوئی اختیار ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو یہ حکم دے دیالیسَ لَکَ مِنَ الاَمرِ شَئٌ……………” اس کام میں کوئی اختیار تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ “ لہٰذا اس دین کے تمام معاملات ‘ اس کی خاطر جہاد ‘ اس کے نظام کا قیام ‘ لوگوں کے دلوں کے اندرہدایت داخل کرنا وغیرہ یہ سب کام اللہ کے لئے ہیں ۔ ان اختیارات میں کوئی انسان شریک نہیں ہے ۔ بشر کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے ۔ وہ اپنے وعدہ ایمان کے تقاضے پورے کرے ۔ یہ اب صرف اللہ کا کام ہے کہ اس جدوجہد کے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔ اور وہ کیا نکالتا ہے ۔ اس موقعہ پر اللہ ان کے دل کے اندر ایک چھپی ہوئی کمزوری کو بھی طشت ازبام کردیتے ہیں يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لا يُبْدُونَ لَكَ……………” یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ “ ان کا یہ سوال کہ ” کیا ان کے لئے بھی اس معاملے میں کوئی اختیا رہے ؟ “ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے شعور اور لاشعور میں یہ بات تھی کہ انہیں ایک ایسے کام میں ڈال دیا گیا ہے جس میں وہ از خود نہیں آئے ۔ یہ کہ قیادت کی غلطیوں کی وجہ سے وہ قربانی کا بکرابن گئے ہیں ۔ اگر وہ خود اس معرکے کا نقشہ تیار کرتے تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” ان کی اصل بات یہ ہے کہ اگر قیادت کے اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ یہ ایک وسوسہ ہے ‘ جو اس وقت تک دلوں میں پیدا ہوتا ہے ‘ جب تک وہ نظریہ کے لئے خالص اور یکسو نہیں ہوجاتے ۔ جب ایسے لوگوں کو کسی موقعہ پر شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ جب ان پر مصائب آتے ہیں ‘ جب انہیں ان کے تصور اور توقع سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ‘ جب انہیں ناقابل تصور ناگوار نتائج کا سامنا ہوتا ہے ‘ جب ان کے دل و دماغ میں وہ نظریہ حیات اچھی طرح جاگزیں نہیں ہوجاتا اور جب یہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان پر یہ مصائب محض قیادت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹ پڑے ہیں اور اگر وہ خود منصوبہ بندی کرتے تو بڑی کامیابی ہوتی ۔ غرض جب لوگوں کی ذہنی صورت حال یہ ہوتی تو اس گدلے تصور کے ہوتے ہوئے ایسا شخص یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتے کہ اللہ کی طرف سے یہ آزمائش ہے ۔ ان کے خیال میں ایسی صورت حال میں خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے۔ ہر طرح کا ضیاع ہی ضیاع ہے۔ ایسے تصورات اور وسوسے رکھنے والوں کے خیالات کی درستگی کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نہایت ہی گہری سچائی ان کے سامنے رکھتے ہیں ۔ وہ سچائی موت کی سچائی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ابتلا کے اندر جو حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اس کے بارے میں بھی وضاحت ہوتی ہے ۔ فرماتے ہیں : قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (154) ” ان سے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی ‘ وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے ۔ اللہ اسے آزمالے ۔ اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ‘ اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ “ اگر تم گھروں میں بھی ہوتے اور اسلامی قیادت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ‘ اس معرکے میں نہ کود پڑتے ‘ اور تمام معاملات تم خود اپنی مرضی سے طے کرتے ‘ تو تم میں سے بعض لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنے مقتل کی طرف دوڑے آتے ۔ اس لئے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ اس سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے ۔ ہر شخص کی موت کے لئے ایک جگہ بھی مقرر ہے اور ہر شخص لازماً اس جگہ کی طرف کھنچا آئے گا اور وہاں دم توڑ دے گا ۔ جب موت کا وقت قریب ہوگا تو وہ شخص اپنے پاؤں پر چل کر وہاں پہنچے گا ۔ دوڑتا ہوا آئے گا ۔ کوئی اسے کھینچ کر نہ لائے گا ۔ نہ کوئی اسے اس طرف دھکیلنے والا ہوگا۔ یہ کیا ہی طرز ادا ہے ؟” اپنی جائے آرام کی طرف “ گویا اس کا مقتل نرم بستر ہے ‘ جس پر اس نے آرام کرنا ہے ۔ اس کے قدم وہاں آرام سے لمبے ہوجائیں گے ۔ تمام لوگ ‘ اس دنیا میں اپنی قتل گاہوں اور اپنی آخری آرام کی جگہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور وہ ان مقامات کی طرف بعض اوقات ایسے محرکات کی وجہ سے آتے ہیں جو ان کے لئے ناقابل فہم ہوتے ہیں بلکہ یہ محرکات ان کے لئے ناقابل کنٹرول ہوتے ہیں ۔ یہ محرکات صرف اللہ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور وہی ان کے نتائج کو جانتا ہے ۔ اور اس کا خاص تصرف ہوتا ہے ‘ جس طرح چاہتا ہے وہ سر انجام دیتا ہے ۔ اس لئے اگر ہم اللہ کے مقرر کردہ جائے قرار پر راضی ہوجائیں تو یہ ہمارے لئے روحانی سکون اور نفیساتی اطمینان اور ہمارے ضمیر کے مفاد میں ہوگا۔ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس کے پس پشت جو حکمت کام کررہی ہے وہ یہ ہے لِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ……………” اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے۔ “ اس سے بڑی آزمائش اور کوئی نہیں کہ دلوں کی بات کو ظاہر کردیا جائے ‘ اور جو دلوں کی تہہ میں ہے وہ اوپر آجائے ۔ اس سے کھوٹ اور ریاکاری کو علیحدہ کردیا جائے اور بغیر کسی ملمع کاری اور بغیر کسی کور کے اصل حقیقت سامنے آجائے ۔ یہ بہت بڑی آزمائش ہے ‘ ان باتوں کے لئے جو دل کے خزانے میں پوشیدہ رکھی ہوتی ہیں ۔ حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ ہے تطہیرالقلوب اور تصفیہ القلوب ‘ اس طرح کہ ان میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہ رہے ۔ اس طرح نظریات صحیح ہوکر صاف صورت میں سامنے آجاتے ہیں اور ان میں کوئی نقص اور ملاوٹ نہیں رہتی۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ……………” اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے ۔ “ ذات الصدور سے مراد وہ خفیہ راز ہیں جو دلوں کی تہہ میں ہوتے ہیں اور ہر وقت دل میں ہوتے ہیں جو دل سے جدا نہیں ہوتے اور نہ روشنی میں آتے ہیں ۔ اللہ ان بھیدوں کو بھی خوب جانتا ہے ۔ ان بھیدوں کو اللہ لوگوں پر اس لئے ظاہر کرتا ہے کہ لوگ خود بھی بعض اوقات ان خفیہ باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں یعنی یہ ان کے لاشعور میں ہوتے ہیں ‘ بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انہیں سطح پر لے آتے ہیں ۔