3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

جواب میں ان کے رب نے فرمایا میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنیوالا نہیں ہوں ۔ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ۔ لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان کے سب قصور معاف کردوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے ۔ “

یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔ اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟ یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات اخذ کئے اور ان کی فطرت نے ان دلائل وآیات حق کو قبول کیا اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے خشوع و خضوع سے بھرپور ‘ سوز وساز میں ڈوبی ہوئی طویل دعا کی ۔ اور اس کے بعد ان کے رب رحیم وکریم کی طرف سے فوراً جواب دعا آیا کیونکہ ان کی دعا نہایت ہی پر خلوص تھی وہ محبت سے بھری تھی ………اب دیکھئے جواب دعا کیا ہے ؟ یہ جواب دعا قبولیت دعاپر مشتمل ہے ‘ اور اس میں اسلامی منہاج حیات کے اصل عناصر ترکیبی کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اور اس کے فرائض بتائے گئے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ……………جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔” میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ “ تم لوگوں کی جانب سے صرف تدبر اور تفکر ہی کافی نہیں ہے ۔ خشوع اور خضوع اور پرسوزدعا ہی کافی نہیں ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوکر گناہوں کی معافی مانگنا ہی کافی نہیں ہے اور صرف نجات اخروی کی طلب ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ عمل ضروری ہے ۔ مثبت عمل کی ضرورت ہے ۔ اور یہ مثبت عمل نتیجہ ہے ۔ اس غوروفکر اور توجہ الی اللہ کا ‘ اس آمادگی اور اس احساس جس کا اظہار اس پر سوز دعا میں ہوگا۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان مثبت عمل پر آمادہ ہو ‘ وہ عمل جسے اسلام اسی طرح عبادت تصور کرتا ہے جس طرح اسلام تفکر اور تدبر کو عبادت سمجھتا ہے ۔ جس طرح اسلام ذکر وفکر ‘ خوف و استغفار اور پر امید توجہ الی اللہ کو عبادت سمجھتا ہے ۔ وہ عمل جسے اسلام تمام عبادات کا ثمرہ قرار دیتا ہے ۔ اور یہ ثمرہ سب کی جانب سے قبول ہوگا ۔ مرد یہ عمل کریں یا عورتیں یہ عمل کریں ۔ اس عمل کے مقابلے میں جنس وصنف کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مرد اور عورت انسانیت میں بالکل مساوی ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے اجزاء اور آباء و اجداد ہیں اور قیامت کے ترازو میں برابر ہیں ۔ اس کے بعد ان اعمال کی تفصیل دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے نظریہ حیات جان ومال کے ساتھ تعلق رکھنے والی کیا ڈیوٹیاں ہیں ۔ نیز ان اعمال کے ذکر سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ؟ اور وہ کیا گراؤنڈ ہے جس کے اوپر یہ نظام تعمیر ہوتا ہے۔ اور اس کے طریق کار کا مزاج کیا ہے اور اس میں کیا کیا رکاوٹیں اور کیا کیا کانٹے ہیں ۔ اور یہ کہ ان مشکلات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کانٹوں کو ایک ایک کرکے چننے کی ضرورت ہے اور اس زمین میں پاک درخت لگانے کے لئے کس کس تیاری کی ضرورت ہے ۔ پھر اسے اس زمین پر تمکنت دینے کے لئے کن کن اقدامات کی ضرورت ہے ، چاہے جس قدر قربانیاں دینی پڑیں ۔ چاہے جس قدر مشکلات کو انگیز کرنا پڑے۔ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لأكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ” لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے ‘ اور میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے ‘ اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور معاف کردوں گا اور انہیں باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ کے پاس ہے ۔ “ اس قرآن نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا اور دعوت فکر دی ‘ ان کے یہی خدوخال تھے ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی ‘ یہی لوگ تھے جن کو محض اپنے نظریہ حیات کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی قصور نہ تھا ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس نظریہ کی خاطر قتال کیا اور مارے گئے ۔ لیکن یہ خدوخال ان تمام لوگوں کے ہونے چاہئیں جو دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ جب بھی کوئی اٹھے اور جہاں بھی کوئی اٹھے ۔ یہی خدوخال ہوں گے ان لوگوں کے جو جاہلیت کے اندر پل رہے ہوں ‘ جو جاہلیت بھی ہو وہ ……جو دشمن کی سر زمین پر پل رہے ہوں جو دشمن بھی ہو وہ اور جو سرزمین بھی ہو وہ ……جو دشمن اقوام کے اندر ہوں ۔ جو قوم بھی ہو وہ اور ان لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے۔ دشمنوں کی نیش رینوی اور ان کی لالچ اور ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے آڑے آرہی ہوں ۔ اور جب وہ قلیل تعداد میں ہوں تو انہیں اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور یہ حالات نہایت ہی ابتدائی دور میں تھے جبکہ وہ مستضعفین تھے۔ اس کے بعد اس پاک پودے نے ذرا قوت پکڑی اور ہر جگہ پر یوں ہی قوت پکڑتا ہے اور باوجود ان اذیتوں کے پکڑتا ہے۔ باوجود ہجرت اور جلاوطنی کے پکڑتا ہے ۔ اس کے بعد یہ قوت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ اس کے اندر مقابلے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنا دفاع کرسکتی ہے ۔ اس مرحلے پر پھر قتال ومقاتلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ دشوار ‘ تلخ اور مشکل جدوجہد ہی دراصل گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور یہ اجزاء اور ثواب دنیا وآخرت کا سبب بھی بنتی ہے ۔ یہ ہے طریق کار ‘ یہ ربانی منہاج کار ہے ۔ جس منہاج زندگی کے لئے اللہ نے یہ طریق کار وضع کیا ہے کہ اسے انسانوں کی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کے لئے انسانی جدوجہد کے ذرائع کو استعمال کیا جائے گا ۔ اسی طریق کے مطابق اور اسی مقدارجہاد کے مطابق جو مومنین اور مجاہدین فی سبیل اللہ ‘ اللہ کی راہ میں خالص اس کی رضاجوئی کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ہے مزاج اس نظام حیات کا ‘ یہ ہیں اس کے عناصر ترکیبی اور یہ ہیں اس کے فرائض ‘ یہ ہے اس منہاج کا طریق تربیت ‘ یہ ہے اس کا طریقہ ہدایت و ارشاد کہ وہ اس کائنات میں غور وفکر کے وجدانی مرحلے سے گزر کر انسان کو مثبت عمل کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ اور یہ عمل اس نظریاتی تاثرات کے مطابق ہوتا ہے اور اسی طرح یہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ جواب دعا میں ارض کفار کے اندر سازوسامان کے بھرے ہوئے بازاروں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اسلامی نظام زندگی کے دشمن اور نافرمان ہیں۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان اس سازوسامان کو وہی وزن دیتا ہے جو فی الحقیقت اس کا اس دنیا کیلئے ہے ۔ اور اسے اپنے لئے فتنہ نہیں بناتا ہے ۔ اور نہ اسے اہل ایمان کے لئے فتنہ بننے کا موقعہ دیتا ہے ۔ کیونکہ ‘ اس لئے کہ اہل ایمان بہت بڑی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ انہیں ہدایت دی جارہی ہے۔ انہیں اپنے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں قتل کیا جارہا ہے اس لئے دنیا کا سازوسامان ان کے لئے فتنہ نہ ہوجائے ۔
Ayahs 3:196–198

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ اللہ کی طرف سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے ۔

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “ لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “ اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔ یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ اس کا نظریہ حیات غالب ہو۔ اللہ کا حکم بلند ہو اور اللہ کے دشمن مقہور اور مغلوب ہوں۔ غرض اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اہل ایمان اس غرض سے بھی بےنیاز ہوجائیں اور اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اور ان کے دل اس سے بھی پاک ہوجائیں کہ یہ مقاصد ان کے لئے پسندیدہ ہوں ‘ اگرچہ یہ صرف ان کی ہی خواہش نہیں ہوتی ۔ یہ عقیدہ کہ جان دینی ہے ‘ وفاداری کرنی ہے اور ادائیگی فرض بجالانا ہے اور بس بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ۔ بغیر اس طلب کے کہ دنیا میں نصرت ‘ غلبہ تمکن فی الارض اور سربلندی حاصل ہو۔ اور ہر چیز کا انتظار دار آخرت میں ہو۔ اور اس کے بعد نصرت بھی آتی ہے ۔ تمکن فی الارض بھی نصیب ہوتا ہے اور دنیا میں اسلام کو سربلندی بھی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہ تمام امور بیعت میں داخل نہیں ہیں ۔ یہ امور سودے میں شامل نہیں ۔ اس سودے میں مومنین نے قیمت کا کوئی حصہ اس دنیا میں وصول نہیں کرنا ۔ یہاں تو صرف ادائیگی فرض ‘ وفائے عہد اور جان دینا ہے اور مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوت اور دعوت کے لئے بیعت اسی اصول پر جاری تھی ۔ یہی سودا وہاں ہورہا تھا ۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کو نصرت ‘ غلبہ اور سربلندی نصیب نہ کی تھی ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے اندر اقتدار کی چابیاں سپرد نہ کی تھیں ۔ نہ انسانیت کی قیادت کا منصب ان کے حوالے کردیا تھا۔ ہاں جب وہ اس معیار کے مطابق مخلص ہوگئے اور اس معیار کے مطابق وفائے عہد کرنے لگے تو انہیں سب کچھ ملا۔ محمد ابن کعب القرظی فرماتے ہیں عبداللہ ابن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عقبہ کی رات کے موقعہ پر (اوس اور خزرج کے نمائندوں کے کے اسی رات بیعت کی اور فیصلہ ہوا کہ آپ ﷺ مدینہ کو ہجرت فرمائیں گے ۔ ) عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ آپ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو شرائط چاہیں عائد کردیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں رب کے لئے تو یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے ۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم لوگ میری حفاظت اسی طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو ۔ “ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ہمیں کیا ملے گا ؟ تو آپ ﷺ نے وسلم نے جواب دیا صرف ” الجنۃ “۔ اس پر انہوں نے ‘ سب کہا اس سودے میں ہم بہت ہی نفع میں رہے ۔ نہ ہم خود اس سودے کو واپس کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم سے اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ “ یہ تھی بات الجنۃ ‘ فقط جنت اس میں ان سے یہ وعدہ نہ تھا کہ انہیں نصرت ‘ عزت ‘ اتحاد ‘ قوت ‘ تمکن فی الارض ‘ قیادت ‘ مال اور دولت یا کوئی اور چیز ملے گی ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں انہیں دی گئیں ۔ لیکن یہ چیزیں سودے سے خارج تھیں …………اس کے باوجود ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس سودے میں کامیاب رہے ۔ اور یہ کہ نہ افاقہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں ۔ انہوں واضح سودا کیا۔ دو بیعت کرنیوالوں کے درمیان یہ سودا ہوا۔ معاملہ ختم ہوا۔ معاہدہ ہوگیا اور اس کے بعد اس میں کوئی سودا بازی نہیں ہوئی ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی تربیت کی جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اس کرہ ارض پر اقتدار کی چابیاں اس کے سپرد ہونی ہیں ۔ زمام اقتدار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور اسے یہ قیادت اس وقت سپرد ہوئی جب وہ ہر قسم کے لالچ سے پاک ہوگئے ‘ ہر قسم کی خواہشات کو انہوں نے لات ماردی ‘ ہر قسم کی خواہشات نفس پر انہوں نے ضبط کیا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی اپنی فطری خواہشات کو ترک کردیا ۔ اسلامی نظام کے قیام کی خواہش کو بھی انہوں نے دبادیا ۔ اور انہوں نے نظریہ حیات کی کامیابی کے لئے سوچنا بند کردیا ۔ جس کے لئے وہ جانیں دے رہے تھے ۔ اس لئے کہ اس عظیم قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کا اہل کوئی ایسا شخص یا جماعت نہیں ہوسکتی جس کے نفس کے اندر کوئی خواہش ہو یا اس کے نفس کے اندر کوئی نفسانیت ہو اور وہ پورا پورا اسلام میں داخل نہ ہوگیا ہو۔
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں ‘ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی ‘ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں ‘ اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔ “

سورت کے مضامین ختم ہونے سے قبل روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف مڑجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مومنین کی طرح صحیح العقیدہ ہیں ۔ اور یہ لوگ قافلہ ایمان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ اسی کے ساتھ جارہے ہیں ۔ اس لئے ان کی جزا بھی وہی ہوگی جو اہل ایمان کی ہوگی ۔ یہ اہل کتاب کے ساتھ اختتامی خطاب ہے ۔ اس سے قبل اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے مختلف مواقف کے بارے میں اس سورت کے ایک بڑے حصے میں بات ہوئی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے اعلیٰ نمونوں کی اس نمائش گاہ اور دعا اور قبولیت دعا کے اس منظر میں اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نمونے اس نمائش میں رکھنے کے قابل ہیں ۔ اس لئے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ صحیح راستے پر گامزن ہوگئے ہیں ۔ وہ صحیح انجام تک آپہنچے ہیں ۔ وہ تمام کتب پر ایمان لے آئے ہیں ۔ (موجودہ اور سابق) وہ اللہ اور اس کے درمیان بلحاظ اطاعت فرق بھی نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کے رسولوں میں سے بھی کسی میں فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے جو ان کی طرف نازل ہوئی اور اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہی اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیت ہے کہ وہ قافلہ ایمانی کی طرف قرب و محبت کی نظروں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ نظریہ کی ایک ہی لائن ہے جو ذات باری کے ساتھ موصول ہے ۔ وہ اسلامی نظریہ حیات کو ایک وحدت سمجھتا ہے ۔ اسے کلی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں اہل کتاب مومنین کی خصوصیات میں سے جس اہم خصوصیت کو ظاہر کیا جارہا ہے وہ ان کی صفت خشوع و خضوع ہے اور ان کی یہ صفت کہ وہ اللہ کی آیات کے بدلے اس دنیا کے ثمن قلیل کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ صفات اس لئے ذکر کی گئیں کہ انہیں دوسرے اہل کتاب کی صفوں سے چھانٹ کر الگ کردیا جائے جن میں یہ دونوں کمزوریاں موجود تھیں ۔ یعنی متکبر بھی تھے اور بےحیا بھی تھے ۔ آیات کو چھپاتے بھی تھے اور ان میں تحریف بھی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی گھٹیا مقصد کے لئے کرتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ وہی وعدہ اجر کیا جاتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ ہے اور یہ اجر دستی طور پر ادا ہوگا کوئی ٹال مٹول نہ ہوگی۔ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………(اللہ تعالیٰ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا ۔ )
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ صبر سے کام لو ‘ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ ‘ حق کی خدمت کے لئے کمربستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ امید ہے فلاح پاؤگے ۔ “

اب آخری ضرب ہے ۔ اللہ کی جانب سے ان لوگوں کو پکار دی جاتی ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ اس میں اس راہ کی مشکلات کا مختصر ترین نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور راستے کی ذمہ داریوں اور شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے۔ عالم بالا سے یہ پکار ‘ اہل ایمان کے لئے ہے ۔ اور اس صفتی نام سے یہ پکار ہے جس صفت نے انہیں ذات باری سے مربوط کیا ہے ۔ وہ ذات جوان مومنین پر یہ ذمہ داریاں ڈال رہی ہے ۔ جو انہیں اس پکار کے اہل بناتی اور جو انہیں ذمہ داریاں اٹھانے کی تربیت دیتی ہے ۔ اور انہیں اس زمین پر بھی اسی طرح مکرم بناتی ہے جس طرح انہیں آسمان پر مکرم بنایا گیا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا……………(اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ ) اور پکار کس لئے ہے ۔ صبر سے کام لو ‘ جرات دکھاؤ ‘ ہر وقت دشمن کے مقابلے کے لئے تیار رہو ‘ اور ہر وقت خوف اللہ کو پیش نظر رکھو………اس پوری سورت میں صبر اور تقویٰ کی باربار تلقین کی گئی ہے ۔ ان کا تذکرہ الگ الگ بھی ہوا ہے اور یکجا بھی ہوا ہے ۔ نیز اس پوری سورت میں یہ دعوت دی گئی ہے کہ راہ حق میں مشکلات برداشت کرو ‘ مجاہدہ کرو ‘ سازشوں کا مقابلہ کرو اور جو لوگ شکست کی طرف بلاتے ہیں اور ہمت شکنی کی باتیں کرتے ہیں ان کی طرف توجہ نہ کرو اور یہاں اس سورت کے آخر میں اس مضمون کو دہرا کر صبر اور مصابرت کی دعوت دی جاتی ہے ۔ اللہ کی راہ میں ہر وقت تیار رہنے اور اللہ خوفی کو اختیار کرنے کی تلقین یہاں بہترین خاتمہ ہے ۔ صبر اس راہ کا بہترین سامان ہے ‘ راہ دعوت اسلامی کا ‘ اس لئے کہ یہ طویل اور پر مشقت راستہ ہے ۔ یہ مشکلات سے پر اور کانٹوں سے اٹاپڑا ہے ۔ جگہ جگہ ابتلاوآزمائش ہے ۔ ہر وقت چوٹ لگنے اور جان کی قربانی کے مواقع ہیں ۔ اور ہر موقع ایسا ہے جس میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسانی خواہشات پر صبر ‘ نفس کے مرغوبات پر صبر ‘ ہر قسم کے لالچوں اور آرزؤں پر صبر ‘ اپنے ضعف اور نقص پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ‘ نفس کی جلد بازی اور افسردگی پر صبر ‘ لوگوں کی خواہشات پر صبر ‘ لوگوں کے ضعف اور کمزوری پر صبر ‘ لوگوں کے جہل اور بری سوچ پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ان کی نخوت اور غرور پر صبر ‘ ان کی چالبازیوں پر صبر ‘ باطل کے غرور پر صبر ‘ کفر کی گندگی پر صبر ‘ شر کے پھیلنے پھولنے پر صبر ‘ شہوت کے غلبے پر صبر ‘ غرور اور کبر کی آگ پر صبر ‘ مددگاروں کی قلت پر صبر ‘ اعانت کننددگان کی قلت پر صبر ‘ راستے کی طوالت پر صبر ‘ کرب اور بےچینی کے اوقات میں شیطانی وسوسوں پر صبر ‘ اور جہاد کی تلخی پر صبر اور ان تمام نفسیاتی تاثرات اور متنوع انفعالات پر صبر………مثلا رنج والم ‘ غیض وغضب ‘ دلی تنگی اور گھٹن ‘ بعض اوقات بھلائی پر بےاعتمادی اور انسانی فطرت کی اصلاح کی ناامیدی وغیرہ………بعض اوقات رنج وملال اور تھکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور انسان پر مایوسی کا غبار چھا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں صبر ہی کام دیتا ہے ۔ پھر جب غلبہ نصیب ہوتا ہے تو انسان کو انتقام پر قدرت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اور اس وقت پھر صبر کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ پھر بعض اوقات مادی سہولیات ملتی ہیں تو ان پر تواضع اور سنجیدگی کرنا ہوتی ہے ۔ بغیر تکبر اور بغیر میلان انتقام اور بغیر اس کے کہ قصاص میں حد سے گزرجائیں………پھر خوشحالی اور بدحالی دونوں میں اللہ سے لولگائے رکھنا ‘ اس کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ نہایت ہی اعتماد اور منکسرالمزاجی کے ساتھ اپنے تمام امور اس کے حوالے کردینا۔ ان سب امور میں صبر کرنا اور ان جیسے دوسرے امور میں صبر کرنا ‘ ایسے امور ہیں جو مسالک راہ حق کو ‘ اس کے اس طویل سفر میں پیش آتے رہتے ہیں ۔ ایسی مشکلات اور ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں ۔ جن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ ان مشکلات کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ۔ ان مشقتوں کا مفہوم کلمات کے جامہ میں نہیں سماتا ۔ اس مفہوم کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جس پر وہ معانی گزرے ہوں اور جس نے اس راہ کی مشقتوں کو انگیز کیا ہو۔ اس نے ان تاثرات کو چکھا ہو اور وہ ان تلخ تجربوں سے خود گزرا ہو۔ وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ انہوں نے ان مذکورہ بالا مشکلات کے اکثر پہلوؤں کی تلخی کو خود چکھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس پکار کو اچھی طرح سمجھ لیا ۔ وہ صبر کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے جس کے بارے میں انہیں تلقین کی جارہی ہے کہ وہ اسی پر گامزن ہوں ۔ اب صبر کے بعد مصابرہ کیا ہے ؟ یہ صبر کا باب مفاعلہ ہے ۔ یعنی صبر میں باہم مقابلہ کرو۔ ان تمام امور میں جن کا ذکر اوپر ہوا ۔ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مصابرت جو اہل ایمان کے صبر کو اپنی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں ۔ یعنی مذکورہ بالاجذبات کے ساتھ مصابرت یا دشمنوں کے ساتھ مصابرت ‘ پس جہاد کے اس طویل سفر میں ان کا صبر ختم نہ ہونے پائے ۔ بلکہ انہیں آخر دم تک اپنے اعداء سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ ان دشمنوں سے انہیں زیادہ صبر والا ہونا چاہئے جو دلوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح شرپسند دشمنوں کے مقابلے میں بھی ۔ گویا اہل ایمان اور ان کے دشمنوں کے درمیان مصابرت کا مقابلہ ہے کہ اس میدان میں کون آگے نکلتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے ہے کہ صبر کا مقابلہ صبر سے کرو ‘ مدافعت کا مقابلہ مدافعت سے کرو ‘ جدوجہد کا مقابلہ جدوجہد سے کرو ‘ اصرارکا مقابلہ اصرار سے کرو ‘ اور آخری مقابلہ یہ ہوگا کہ اہل ایمان مقابلے میں سب سے آگے ہوں گے ۔ اگر باطل اپنے نظریے پر اصرار کرتا ہے صبر کرتا ہے ‘ اور اپنی راہ پر گامزن ہے تو حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ زیادہ مصر ہو ‘ زیادہ صبرناک ہو اور اپنی راہ میں زیادہ جدوجہد کرنے والا ہو۔ اور رابط کیا ہے ۔ جہاد کے مقامات پر مورچے لگانا۔ مورچہ زن ہونا۔ دشمنوں کے حملوں کے خطرناک مقامات پر چوکیاں قائم کرنا ‘ اور اسلامی جماعت ہر وقت دشمن پر نظر رکھتی تھی ۔ کبھی وہ سوتی نہ تھی ‘ اس لئے کہ اس کے ساتھ اس کے دشمنوں نے کبھی مصالحت نہیں کی تھی۔ جب سے اس نے دعوت اسلامی کا بوجھ اٹھانے کا اعلان کیا ۔ اور لوگوں پر اس دعوت کو پیش کیا ‘ تو وہ میدان جنگ اور حالت جنگ میں رہی ہے ۔ کسی جگہ بھی اور کسی دور میں بھی وہ رابطہ جہاد سے مستغنی نہیں رہی ہے ‘ اور آخرالزمان اور قیامت تک یہ پوزیشن ایسی رہے گی۔ دعوت اسلامی لوگوں کے سامنے ایک حقیقت پسندانہ نظام زندگی پیش کرتی ہے ۔ ایسانظام جو ان کے ضمیر کے اندر بھی قائم ہوتا ہے ‘ جو ان کے مال پر بھی حکمران ہوتا ہے ‘ جوان کی زندگی کے تمام امور پر حکمران ہوتا ہے ‘ جو ان کی معیشت پر بھی حکمران ہوتا ہے اور جو ایک منصفانہ اور سیدھا نظام ہوتا ہے ۔ لیکن دنیا کا قانون ہے کہ شر ایسے منصفانہ ‘ عادلانہ اور خیر پر مشتمل سیدھے نظام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرتا ۔ کوئی باطل خیر ‘ عدل اور استواری کو محبوب نہیں رکھتا ‘ اور کوئی ظلم عدل ‘ مساوات اور شرافت کو برداشت نہیں کرتا ۔ اس لئے دعوت اسلامی کی مخالفت میں اصحاب شر ‘ اصحاب باطل اور ظالم کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اسلام کے خلاف تمام گندے اور مفاد پرست اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تاکہ وہ لوگوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں ۔ ظالم اور متکبر بھی اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ظلم اور استکبار سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ اور اس کے مقابلے میں تمام بداخلاق اور بےراہ روی اختیار کرنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ اپنی اخلاقی بےراہ روی اور شہوت رانی کو ترک نہیں کرسکتے ۔ اس لئے ان سب کے ساتھ مسلسل جہاد بہت ضروری ہے ۔ اور ان کے مقابلے میں صبر اور مصابرت فرض عین ہے۔ اس لئے مسلسل چوکیداری اور اسلامی کو سٹ گارڈز کی ضرورت ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ امت مسلمہ کے خلاف کوئی قوت اچانک حملہ آور ہوجائے ‘ جبکہ ایسی قوتیں ہر سرزمین اور ہر نسل میں اس کے خلاف تاک لگائے ہوتی ہیں ۔ یہ ہے اس دعوت کا مزاج ‘ اس کا طریق کار اس کی پالیسی یہ نہیں ہوتی کہ وہ حد سے تجاوز کرے لیکن اس کی یہ پالیسی ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک مستحکم نظام زندگی اور ایک صحت مند منہاج قائم کرے ۔ لیکن دعوت اسلامی کے مقابلے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی قوت اٹھ کھڑی ہوتی ہے جو اس منہاج اور اس نظام کو ناپسند کرتی ہے ۔ اور پھر یہ قوت اس کی راہ میں اپنی پوری قوت لاکر کھڑی ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی مکاری کرتی پھرتی ہے ۔ وہ دعوت اسلامی کی ہر برائی پر خوش ہوتی ہے ‘ جو ہاتھ ‘ دل اور زبان سے دعوت اسلامی کے خلاف مسلسل جدوجہد کراتی ہے ۔ اس لئے تحریک اسلامی کا بھی فرض ہے کہ وہ اس معرکے میں اپنے پورے فرائض اور واجبات کے ساتھ کودے ۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ ہر وقت بیدار رہے اور کسی وقت بھی غافل نہ ہو۔ لیکن ان تمام کاموں میں اللہ ترسی کا ہتھیار اس نے لازماً اپنی کمر کے ساتھ باندھا ہوا ہو۔ کیونکہ تقویٰ ایک بیدار چوکیدار ہے جو دل کے دروازے پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ وہ اسے غافل نہیں ہونے دیتا ۔ وہ اسے ضعیف نہیں ہونے دیتا ۔ اور وہ اسے حدود سے گزرنے بھی نہیں دیتا ۔ اور وہ اسے راہ راست سے بھٹکنے بھی نہیں دیتا۔ اور تقویٰ کے اس بیدار چوکیدار کی ضرورت کا احساس صرف اس شخص ہی کو ہوسکتا ہے جس نے اس راستے کی مشقتوں کو دیکھا ہوتا ہے۔ جس نے متضاد میلانات اور بکثرت اور پے درپے تاثرات کے دباؤ کا مقابلہ کیا ہو۔ مختلف حالات اور مختلف لحظات میں ۔ اس سورت میں تار رباب پر یہ آخری ضرب تھی ۔ جس میں اس قسم کے بیشمار مضراب استعمال کئے گئے ۔ اور یہ ضربات سب کی سب ان تاروں پر لگائی گئیں ہیں جن کا تعلق دعوت اسلامی کی راہ میں عائد ہونے والے فرائض اور واجبات سے تھا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ آخر میں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ اگر تم ہمہ گیر فلاح چاہتے ہو اور مکمل انقلاب چاہتے ہو تو ان فرائض کا بطریق احسن پورا کرنا ضروری ہے ۔ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ……………(امید ہے کہ تم فلاح پاؤگے۔ )