Ayah 3:127اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ ہی اس فتح کے نتیجے میں مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ دست قدرت اپنے بعض اشخاص کو حرکت میں لاتا ہے ۔ پھر خود ان کی تائید کرتا ہے تاکہ اللہ کے پیش نظر جو حکمتیں ہوں ان کا ظہور ہو اور جو مقاصد ہوں وہ بروئے کار لائے جائیں ۔
لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا……………” تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے۔ “ وہ قتل ہوں اور ان کی افرادی قوت کم ہو ‘ ان کی اراضی ان ہاتھوں سے نکلے اور ان کا رقبہ کم ہوتا جائے۔ یا ان کی جابرانہ حکومت کا دائرہ تنگ ہوجائے۔ ان کی دولت میں بوجہ مال غنیمت کمی آجائے اور ہزیمت اور شکست کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں میں کمی آجائے۔
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ……………” یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں ۔ “ یعنی ذلیل ہوکر ہزیمت اٹھائیں اور اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر لوٹیں جبکہ وہ دبے ہوئے ہوں۔
Ayah 3:128أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی
صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ کفر کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ‘ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نیز وہ اس اصلاحی نظام حیات کے مقابلے میں اتر کر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں جو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی صورت میں دنیا میں نافذ ہونے کے لئے آیا ہے ۔ غرض وہ سب مظالم اس میں شامل ہیں جو کفر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کی راہ کو مسدود کیا جاتا ہے ۔
بہرحال یہ سب پروگرام حکمت الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس آیت کی رو سے خود رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بھی اس پروگرام میں دخل انداز ہونے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ اور ان امور میں فیصلے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فیصلے ذات باری کے شایان شان ہیں ۔ ان میں ذات باری منفرد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔
یوں اہل ایمان کی ذات فتح و کامرانی کے ساتھ اس منظر سے باہر آجاتی ہے ۔ وہ خود فتح و کامرانی کے اسباب کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اس کے نتائج میں ان کا کوئی دخل نہیں رہتا ۔ یوں وہ اس کبر و غرور سے محفوظ رہتے ہیں جو فاتحین کے دلوں میں بالعموم پیدا ہوجاتا ہے ‘ نیز وہ سخت گیری ‘ غرور اور احساس برتری سے بھی مامون ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر فاتحین پھولے نہیں سماتے اور ان کے روح اور طرز عمل غیر متوازن ہوتے ہیں ۔ چناچہ اہل ایمان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں ۔ اختیارات تو سب کے سب اللہ کے پاس ہیں ۔
غرض لوگ مطیع فرمان ہوں یا نافرمان ہوں ان سب کے امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے ‘ خواہ وہ اچھے لوگ ہوں یا برے ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ۔ یہ ہے تحریک اسلامی کی حقیقت اور یہ ہے اس میں لوگوں کا مقام چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ہوں۔ اس میدان میں خود رسول اکرم ﷺ اور اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اور نتائج اللہ پر چھوڑدیں ۔ وہ اپنے کئے پر صرف اللہ سے اجر کے طلب گار ہوں ‘ وہ انہیں پورا پورا اجردے گا اور ان کا والی اور مددگار ہوگا۔
یہ آیت کہ ” فیصلے کے اختیارات میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے “ اس لئے بھی یہاں لائی گئی ہے کہ آنے والی آیت میں بعض لوگوں کی یہ بات نقل ہونے والی ہے ۔ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ……………” اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ (154 : 3) اور یہ کہ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” اگر اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ (157 : 3) اور یہ آیت دراصل ان مزعومات کا پیشگی جواب ہے کہ جی ہاں اختیارات الٰہیہ میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ نہ فتح کسی کے اختیار میں ہے نہ شکست ۔ تمہارا کام صرف اطاعت امر ہے ‘ ادائے فرض ہے اور مکمل وفاداری ہے ۔ یہی امور تم سے مطلوب ہیں ۔ ان کے بعد نتائج کیا نکلتے ہیں تو بس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ان میں کسی کا دخل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی دخل نہیں ہے ۔ یہ وہ اصلی حقیقت جو اسلامی تصور حیات کے پیش نظر ہے اور اسے نفس انسانی کی گہرائیوں میں جاگزیں ہونا چاہئے اور اسے واقعات ‘ حالات اور افراد کار سے بھی برتر اور بلند ہونا چاہئے ۔
واقعہ بدر کی یہ یاد دہانی اور اسلامی تصور حیات کے ان اساسی حقائق کا اختتامیہ اس عام حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ آخر کار فتح وہزیمت دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکیمانہ پالیسی کے تابع ہوتی ہیں اور یہاں آکر اس بیان کے خاتمہ پر ‘ اس سے بھی زیادہ عمومی حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات میں اللہ کا امر جاری وساری ہے ۔ اس لئے جسے وہ چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔
Ayah 3:129غرض یہ امور اللہ کی مشیئت کے تابع ہیں جو بےقید ہے اور جو اس کی بےقید شہنشاہیت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے معاملات میں بےقید متصرف ہے ۔ جس طرح کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک لاشریک ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ان میں سے کسی کی جانب داری کرتا ہے نہ مغفرت میں اور نہ سزادہی میں ۔ بندوں کے درمیان وہ فیصلے حکمت اور عدل کے ساتھ کرتا ہے اور حکمت اور عدالت کے ساتھ ساتھ اس کی صفات رحمت اور عفو بھی اپنا کام کرتی ہیں ‘ اس لئے کہ عفو و درگزر ہی اس کے شایان شان ہے ۔
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ……………” وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ “ بندوں کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں ‘ وہ ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت سے فیض یاب ہوسکتے ہیں ‘ ہر وقت لوٹ سکتے ہیں ‘ باز آسکتے ہیں ‘ اس لئے کہ تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ فرائض جو اس نے عائد کئے ہیں ان کی ادائیگی اور فرائض سے آگے کے معاملات کو ترک کرنا ‘ یہ اس کی حکمت اور مشیئت کی وجہ سے ہے ‘ جس پر کوئی قید وبند نہیں ہے۔ اور اس کی حکمت اور مشیئت اسباب ووسائل کے پیچھے کام کرتی ہے۔
اس سے قبل کہ سیاق کلام معرکہ احد کے مرکزی واقعات کے بیان کا آغاز کرے ‘ ان واقعات کے نتائج ریکارڈ کرے ‘ اور واقعات کی تفصیلات کا ذکر کرے ۔ یہاں اس عظیم معرکہ کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں ‘ جس کا ذکر ہم نے اس بحث کے آغاز میں کیا ہے ۔ وہ عظیم معرکہ وہ ہے جو انسانی نفیسات کے میدان میں برپا تھا اور ہے جو پوری انسانی زندگی کی سطح پر جاری وساری ہے ۔ اس سلسلے میں یہاں سودخوری اور سودی کاروبار کے بارے میں بات کی جاتی ہے ۔ یہاں اللہ خوفی ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے متعلق بات کی جاتی ہے ۔ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سہولت اور مشکلات کے ہر دور میں انفاق فی سبیل اللہ پر عمل کیا جائے ۔ اسلامی نظام معیشت کے کریمانہ نظام معاونت اور اس کے مقابلے میں سود کی ملعون نظام معیشت کا ذکر ‘ غصہ پی جانا ‘ لوگوں سے عفو و درگزر کرنا اور جماعت مسلمہ کے اندر بھلائی کی اشاعت ‘ گناہوں سے معافی کی طلب گاری اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر عدم اصرار کے مباحث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 3:130–131یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے رائج کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدایات انسانی زندگی کی بوقلمونیوں کے درمیان اس ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سعی انسانی کے آخری نتائج میں اس ربط کے اثرات بھی بیان کئے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کر آئے ہیں ۔
اسلامی نظام زندگی نفس انسانی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیتا ہے ‘ وہ جماعت مسلمہ کی زندگی کو پوری طرح منظم کرتا ہے ۔ وہ اس کے درمیان بخرے بخرے کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا ۔ اس لئے وہ میدان کارزر کے لئے سازوسامان بھی تیار کرتا ہے اور افراد کار کے اندر صلاحیت جنگ بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ اہل ایمان کے دلوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔ ان کے ذہنوں کی تطہیر کرتا ہے ‘ انسان کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہوائے نفس اور جسمانی خواہشات پر قابو پاسکیں ۔ جماعت مسلمہ کے اندر محبت ‘ ملنساری پیدا کی جاتی ہے اور یہ تمام اوصاف ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ جب ہم ان تمام خصوصیات پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اور ان ہدایات میں سے ہر ایک کی تفسیر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام اوصاف وہدایات کا جماعت مسلمہ کی عملی زندگی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اور یہ اوصاف میدان جنگ اور میدان حیات دونوں میں جماعت مسلمہ کی تقدیر کے ساتھ مربوط ہیں ۔
سود اور سودی نظام معیشت پر بحث فی ظلال القرآن پارہ سوئم میں تفصیل کے بیان ہوچکی ہے ۔ اس لئے یہاں ہم اس پوری بحث کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ لیکن یہاں اضعاف مضاعفہ کے الفاظ پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ اس لئے کہ ہمارے زمانے کے بعض لوگ ان الفاظ کی آڑ لے کر یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اضعاف مضاعفہ ہے ۔ رہا وہ سود جو چار فیصد ہو ‘ پانچ فیصد ہو ‘ سات فی صد ہو ‘ نوفی صد ہو تو وہ اضعاف مضاعفہ نہیں ہے ‘ لہٰذا وہ حرام نہیں ہے ۔
اس کی تردید میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اضعاف مضاعفہ کی قید دراصل نزول قرآن کے وقت موجود واقعی صورتحال کا اظہار کرتی ہے ‘ یہ قید اس حکم کو محدود اور مشروط نہیں کرتی ۔ سورة بقرہ میں جو آیت وارد ہے وہ قطعی ہے ۔ اور ربا کی ہر صورت کو حرام قرار دیتی ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی قید وحد نہیں ہے ۔ وہاں یہ الفاظ نہیں وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا……………” سود میں سے جو کچھ باقی ہے اسے چھوڑدو۔ “ چاہے وہ سود جس شرح سے بھی ہو۔ “
اس اصولی بحث کے بعد اب ہم بتائیں گے کہ ربا کے ساتھ اس صفت اضعاف مضاعفہ کی قید کیوں عائد کی گئی ہے ؟ صرف یہ کہ یہ صفت سودی نظام کی تاریخ کی طرف اشارہ کررہی ہے جس میں سودی کاروبار دوچند چہار چند شرح سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سود کی شرح جو بھی ہو سود کے تباہ کن نظام کے ساتھ یہ صفت اضعاف مضاعفہ ایک لازم صفت ہے ۔
سودی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں پوری دولت کی گردش اس نظام کے مطابق شروع ہوتی ہے ‘ اس لئے سودی کاروبار میں سرگرمیاں سود مفرد کی طرح سادہ سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس گردش کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں مال کی منتقلی بار بار ہوتی رہتی ‘ اس لئے وہ سود مرکب میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ اس لئے بار بار سودی چارج کی وجہ سے بالآخر سود کی رقم کئی گنا ہوجاتی ہے ۔ اور وہ بلاجدال اضعافاً مضاعفہ بن جاتی ہے ۔ اس لئے اپنے مزاج کے اعتبار سے سودی نظام میں دولت دوگنی چوگنی بنتی جاتی ہے۔ اس لئے اضعاف مضاعفہ کا اطلاق اس صورت حال کے اندر منحصر نہ ہوگا جو نزول قرآن کے وقت عرب سوسائٹی میں مروج تھی بلکہ ہر دور میں ہر قسم کے سودی نظام کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دوگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔
اور جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں تفصیلات دی ہیں ‘ اس نظام کی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی نفسیات اور اخلاق پوری طرح بگاڑ دیتا ہے ۔ نیز یہ نظام ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال کو بھی پوری طرح خراب کردیتا ہے ۔ اس لئے اس سودی نظام کے اثرات امت کی اجتماعی زندگی پر پڑتے ہیں اور امت کے انجام پر اس کے اثرات ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں ذکر کیا ہے۔
اسلام جس وقت امت مسلمہ کی تخلیق کررہا تھا ‘ وہ اس امت کے لئے ایک اخلاقی اور نفسیاتی نظام حیات کی بنیاد بھی رکھ رہا تھا ‘ وہ اس نئی امت کی سیاسی اور اقتصادی زندگی کو بھی صحت مندانہ اصولوں پر استوار کررہا تھا ‘ اس سلسلے میں اس نئی امت کو معرکے درپیش ہوئے اور ان کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ تاریخ اسلام کے معروف ومشہور واقعات ہیں ‘ اس لئے جنگی واقعات کے درمیان میں اچانک حرمت ربا کا ذکر بھی قابل فہم ہے اس لئے کہ اسلامی نظام حیات ایک جامع اور حکیمانہ نظام ہے ۔ نیز ربا کی ممانعت کے بعد یہ کہنا کہ اللہ سے ڈرو اور یہ امید رکھو کہ تم پر رحم کیا جائے گا اور پھر یہ کہنا کہ اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ‘ یہ دونوں باتیں بھی اس نقطہ نظر سے قابل فہم ہوجاتی ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے ڈرتا ہو اور اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ ہرگز سود نہیں کھاسکتا ‘ نیز جس شخص کے دل میں عذاب جہنم کا خوف ہو ‘ وہ بھی ہر گز سود خور نہیں ہوسکتا ۔ بالفاظ دیگر جو شخص بھی ایمان رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کافروں کی لائن سے نکالنا پسند کرتا ہو وہ کبھی سود خور نہیں ہوسکتا ۔ ایمان صرف خالی خولی باتوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام حیات کے قیام اور پوری زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگنے کے لئے ایمان کو ہر اول دستہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات محال ہے کہ ایمان اور سودی نظام ایک جگہ جمع ہوجائیں جہاں سودی نظام قائم ہوگا ‘ وہ سوسائٹی پوری کی پوری دین اسلام سے خارج تصور ہوگی اور اس کا انجام اس آگ میں ہوگا جسے فی الحقیقت کافروں کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ اس مسئلے میں جو بھی بحث کی جائے وہ غیر ضروری بحث ہوگی ‘ اس لئے کہ اس آیت میں پہلے سودی کاروبار کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے بعد اہل ایمان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور اس حکم پر عمل کریں اور اس آگ سے بچیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ یہ مضمون اس نہج پر بےمقصد نہیں لایا گیا نہ اتفاقیہ طور پر اس طرح بیان کردیا گیا ہے ۔ یہ سب ہدایات بامقصد ہیں ‘ بطور تاکید لائی گئی ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں اس حقیقت کو اسی مفہوم میں بٹھانا مقصود ہے ۔
انہیں یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر وہ سودی کاروبار ترک کردیں گے تو وہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ کامیابی صرف اللہ کے تقویٰ کے نتیجے میں مل سکتی ہے ۔ تقویٰ کا طبعی انجام فلاح ہے۔ اور فلاح اس لئے کہ انسانوں کی زندگی میں اسلامی نظام قائم کیا جائے ۔ پارہ سوئم میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ اس منحوس سودی نظام نے انسانی معاشروں کو کس طرح تباہ کیا ہے ۔ اور پوری انسانیت کو اس نظام نے کن کن مصائب میں مبتلا کئے رکھا ہے ۔ مناسب ہے کہ پارہ سوئم میں دی گئی مباحث کو ایک بار پھر ذہن نشین کرلیاجائے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اسلامی نقطہ نظر سے فلاح کا تصور کیا ہے اور یہ کہ کس طرح فلاح اس بات پر موقوف ہے کہ ہم اس خبیث سودی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔
Ayah 3:132اس کے بعد یہ آخری تاکید کی جاتی ہے وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ……………” اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کی امید ہوسکے ۔ “ یہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا عام حکم ہے ‘ اور اس طاعت عامہ پر اللہ کے رحم کو موقوف کیا گیا ہے لیکن سودی کاروبار کی ممانعت کے بعد بطور نتیجہ اس رحمت خداوندی کا ذکر خالی از حکمت نہیں ہے۔ اس میں ایک خاص مفہوم اور اشارہ بھی مطلوب ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی ایسے معاشرے میں جس کی اقتصادیات سودی نظام پر استوار ہوں قطعاً اللہ اور رسول کی اطاعت ممکن نہیں رہتی ۔ نیز اس دل میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کا جذبہ ہی نہیں رہتا جو سود کھاتا ہو ‘ چاہے وہ کسی بھی شکل اور کسی بھی صورت میں ہو ‘ اس طرح نہی عن الربا کا یہ نتیجہ اور تعقیب بھی ایک طرح کی مزید تاکید مزید ہے کہ اس منحوس نظام کو ختم کردیاجائے۔
یہاں اطاعت اللہ اور اطاعت رسول ﷺ کی اس تاکید کا تعلق کاروبار ربا کے علاوہ جنگ احد کے ان واقعات کے ساتھ بھی ہے جن میں رسول ﷺ کے واضح احکام کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ اشارہ یہ مقصود ہے کہ فلاح صرف اس صورت میں نصیب ہوسکتی ہے کہ تم لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ‘ صرف یہی جائے امید ہے اور یہی راہ نجات ہے ۔
اس سے قبل سورة بقرہ پارہ سوئم میں جہاں ہم نے سودی نظام پر بحث کی تھی ہم نے بتایا تھا کہ ذکر ربا کے ساتھ ساتھ وہ انفاق فی سبیل اللہ اور فضیلت صدقہ کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ اجتماعی نظام میں یہ دونوں باہم مقابل سمتیں ہیں ‘ جن سے دو علیحدہ علیحدہ نظام ہائے اقتصاد کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ ایک سودی اقتصادی نظام ہے اور دوسرا باہم تعاون پر مبنی نظام اقتصاد ہے ۔ چناچہ یہاں بھی جب ربا سے بحث کی گئی تو اس کے ساتھ ہی ہر حال میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب بھی دی گئی ۔ چناچہ ربا کی ممانعت اور اس آگ سے ڈرانے کے بعد جو اہل کفر کے لئے تیار کی گئی ہے اور لوگوں کو اللہ خوفی کی دعوت دینے اور انہیں ہر وقت رحمت خداوندی کے امیدوار رہنے کے ساتھ ساتھ انہیں دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر چلیں ۔ وہ بھاگے بھاگے ان جنتوں میں داخل ہوں جو آسمانوں اور زمینوں کی وسعتوں سے بھی زیادہ وسیع ہیں اور جنہیں اہل تقویٰ کے لئے تیار کیا گیا ہے اور متقین کے اوصاف میں سے پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو خوشحالی اور بدحالی دونوں حالتوں میں مال خرچ کرتے ہیں ۔ “ اس لئے یہ لوگ ان لوگوں کے فریق مخالف ہیں جو سودی نظام کھاتے ہیں اور اس کے ذریعہ دوچند چہار چند رقم بٹورتے ہیں ۔ اس کے بعد پھر متقین کی اور صفات بیان کی جاتی ہیں ۔ پوری آیت یہ ہے :
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (134) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135)
” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف لے جاتی ہے جس کی وسعت زمین وآسمانوں جیسی ہے ‘ اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوشحال جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں ۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاًاللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہے ………… اور وہ دیدہ دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “
Ayah 3:133اس آیت کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں ان عبادات کو بالکل محسوس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کچھ لوگ ہیں جو کسی انعامی مقابلے میں ایک مقررہ ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ……………” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی مغفرت کی طرف جاتی ہے ‘ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ……………” دوڑ کر چلو اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔ “ دوڑو ! وہ ہے جنت وہاں ہے مغفرت ! أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ……………” جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ “
اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو بدحالی اور خوشحالی دونوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ “
یعنی وہ انفاق پر ہر وقت ثابت قدمی سے عمل پیرا ہیں ‘ وہ اپنی روش پر رواں دواں ہیں ‘ نہ خوشحالی میں آپے سے باہر ہوتے ہیں اور نہ بدحالی میں نہج سے پیچھے ہٹتے ہیں ۔ خوشحالی انہیں مغرور کرکے غافل نہیں بنادیتی اور بدحالی ان کی گوشمالی کرکے انہیں ان کا نصب العین بھلا نہیں دیتی ۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ وہ حرص وہ آذ سے آزاد ہوچکے ہوتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا شعور رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ کا خوف ہر وقت زندہ رہتا ہے ۔ نفس انسانی جو اپنے مزاج کے اعتبار سے بخیل ہوتا ہے اور جس کے اندر دولت کی طبعی محبت ہوتی ہے ‘ اسے ہر وقت انفاق فی سبیل اللہ پر قائم رکھنے کے لئے ایک قوی تر جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ جذبہ مال کی محبت سے قوی تر ہونا چاہئے ۔ تاکہ وہ حرص وآز کے فطری بندھن کو توڑ سکے ۔ اور یہ جذبہ صرف اللہ خوف کا جذبہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اور یہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور گہرا شعور ہوتا جس کے ساتھ روح اونچی پرواز کرتی ہے ۔ وہ خالص ہوجاتی ہے اور قید وبند سے آزاد ہوجاتی ہے ۔
Ayah 3:134معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں اس صفت کی طرف یہاں اشارہ ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے ۔ اس معرکے کے دوران بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید کی جاتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ داروں پر بھی تنقید کی جاتی ہے جو انفاق فی سبیل اللہ سے کنی کتراتے ہیں ۔ اس نکتہ کی تفصیلات نصوص کی تفسیر کے دوران بیان ہوں گی۔ معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں انفاق کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ اور یہاں اس کا بار بار ذکر اس لئے ہوا کہ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دعوت اسلامی کے بعض کارکنوں کا موقف اس کا متقاضی تھا۔
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ……………” جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ “ غرض اللہ خوفی اس میدان میں بھی اپنے ثرات دکھاتی ہے۔ بعینہ وہی اسباب اور وہی اثرات جو انفاق کے لئے تھے ‘ غصہ ایک ایسا بطعی انفعال ہے جس کے انسانی خون میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ گویا وہ انسان کے عام فطری رد عمل کی ایک قسم ہے بلکہ وہ انسان کی ایک طبعی ضرورت ہے ۔ اور اس فطری ردعمل کو انسان صرف اس روحانی قوت کے ذریعہ ہی قابو میں لاسکتا ہے جو نور تقویٰ کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوتی ہے ۔ یہ قوت غضبی اس وقت رام ہوتی ہے جب انسان روحانی قوت سے مسلح ہو اور اس کی نظریں ذاتی ضروریات اور ذاتی دفاع سے بلند ہوکر ایک اعلیٰ انسانی افق پر مرکوز ہوں۔
ہاں غصہ پی جانا تو پہلا مرحلہ ہے اور یہ کافی نہیں ہے ۔ بلکہ بعض اوقات انسان غصہ تو پی جاتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے دل میں جوش انتقام ولولہ پیدا کرتا ہے ۔ ظاہری غصہ ٹھنڈ اہو کر خفیہ حسد کو جنم لیتا ہے ۔ اور گہری دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور اس صورت میں یہ غیض وغضب جو ظاہری ردعمل ہوتے ہیں ‘ بمقابلہ کینہ اور بغض نسبتاً زیادہ اچھے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعد میں فرماتے ہیں کہ غیظ وغضب کے نتیجے میں حس اور بغض پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ اس کے بعد عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور غلطیوں کو معاف کردینا چاہئے ۔ غصہ کو اگر دل میں چھپالیا جائے تو اس سے دلوں میں پردے پڑجاتے ہیں بلکہ دلوں کے اندرکینہ کی آگ سلگنے لگتی ہے ۔ انسانی ضمیر دخان آلود ہوجاتا ہے ۔ جب انسان دل وجان سے معاف کردیتا ہے اور درگزر کردیتا ہے تو یہ پردہ دلوں سے ہٹ جاتا ہے اور انسان کی روح نور کی فضاؤں میں پرواز کرتی ہے ۔ دل ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور انسانی ضمیر کو امن و سکون نصیب ہوتا ہے ۔
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ “ کیسے نیک لوگ ‘ وہ جو بدحالی اور خوشحالی میں اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ وہ نیک ہیں ۔ جو لوگ غصہ پی جانے کے بعد لوگوں کو معف کردیتے اور درگزر کرتے ہیں وہ نیک لوگ ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اللہ محبوب رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے لفظ محبت کا استعمال نہایت ہی خوبصورت ‘ دل لگتا اور ضوپاش ہے ۔ اور اس شریفانہ اور منور ماحول کے ساتھ خوب ہم آہنگ ہے ۔
نیکی اور نیکوکاروں کے ساتھ اس اعلان محبت سے ‘ اہل ایمان کے دلوں میں نیکی سے سرچشمے پھوٹتے ہیں ‘ اور یہ سوتے مومن سے مومن تک منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان دلوں میں نیکی کے لئے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ صرف پرتاثیر ادا ہی نہیں ہے بلکہ یہ زور دار انداز تعبیر اپنے پیچھے ایک عظیم حقیقت بھی رکھتی ہے ۔
وہ جماعت جسے اللہ محبوب رکھتا ہے اور وہ اللہ کو محبوب رکھتی ہے جس کے اندر عفو و درگزر عام ہے۔ جس کے اندر کینہ اور حسد نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو دوسرے سے پیوستہ اور وابستہ ہے۔ اس کے افراد بھائی بھائی ہیں ۔ یہ قوی اور متین جماعت ہے ۔ اس لئے وہ اپنی اندرونی زندگی میں بھی متحد اور یکجا ہے اور میدان کارزار میں بھی بنیان مرصوص ہے ۔ اس لئے عفو و درگزر کا یہ مضمون بعنوان کارزار سے بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:135اسی مناسبت سے اہل ایمان کی ایک دوسری صفت کو بھی لیا جاتا ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
” جن کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو………اور دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت کس قدر کشادہ دل ہے ‘ اللہ لوگوں کو صرف اس وقت کشادہ دلی اور باہم برداشت کی دعوت دیتا ہے جب وہ خود ان کے ساتھ نہایت ہی فیاضی کا سلوک کرتا ہے اور اس کی انہیں اطلاع بھی دے دیتا ہے ‘ تاکہ وہ اپنے اندر فیاضی کا ذوق پیدا کریں اور نور خدا سے شمع روشن کریں اور اونچے اخلاق سیکھیں ۔ متقین اہل ایمان میں سے بلند مرتبت لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن دین اسلام کی بےمثال فیاضی ہے یہ دین ان لوگوں کو بھی متقین شمار کرتا ہے ” جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی فحش کام سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔ “ اور گناہوں سے ” فحش “ کام اسلامی نقطہ نظر سے بدترین گناہ اور بڑے گناہوں میں سے ہے لیکن یہ اس دین کی کشادہ دلی اور فیاضی ہے کہ وہ فحاشی جیسے گھناؤنے گناہ کے ارتکاب کرنے والے کو بھی راندہ درگاہ نہیں بناتا ۔ اور اس پر رحمت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے ۔ نہ یہ دین ایسے لوگوں کو دوسرے درجے کے مسلمان قرار دیتا ہے ‘ بلکہ ان کو بھی متقین کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں اس مرتبے پر فائز کرنے کے لئے صرف ایک شرط ان پر عائد کی جاتی ہے اور اس شرط سے بھی اس دین کا مزاج اور اس کا رجحان اچھی طرح معلوم ہوتا ہے ۔ وہ شرط یہ ہے کہ ارتکاب معصیت کے بعد معاً وہ اللہ کو یاد کرلیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگ لیں اور یہ کہ وہ اس گاہ پر اصرار نہ کریں حالانکہ وہ جانتے ہوں کہ وہ جو چھ کررہے ہیں وہ ایک معصیت ہے ۔ اور یہ کہ وہ معصیت میں بےشرمی اور بےباکی کے ساتھ غرق نہ ہوجائیں بالفاظ دیگر وہ اللہ کی بندگی کے دائرے کے اندر رہیں اور آخر کار اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں ۔ یوں وہ اللہ کی پناہ میں رہیں ۔ وہ اس کے عفو و درگزر اور فضل وکرم کے دائرے کے اندر ہی رہیں ۔
دین اسلام کو معلوم تھا کہ انسان کمزوریوں کا پتلا ہے ‘ بعض اوقات ان بشری کمزوریوں کی وجہ اس سے فحاشی کا ارتکاب بھی ہوجاتا ہے ۔ بعض اوقات گوشت و پوست کے جسمانی میلانات جوش میں آتے ہیں اور وہ حیوانی تقاضوں کے تحت جسمانی خواہشات اور میلانات کی سطح تک اتر آتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ جسمانی میلانات ‘ خواہشات اور رجحانات کی گرمی اور دباؤ میں اللہ جل شانہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر بھی مجبور ہوجاتا ہے ۔ دین اسلام انسان کی اس فطری کمزوری کو مدنظر رکھتا ہے ‘ اس لئے اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کرتا ۔ اور جب انسان ان خطاؤں کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کا ارتکاب کرے تو یہ دین اسے فوراً ہی رحمت خداوندی سے مار نہیں بھگاتا ‘ خصوصاً جبکہ وہ فحاشی کا ارتکاب کرے یا کسی گناہ کبیرہ میں پڑجائے ۔ اس کے دل میں شمع ایمان روشن ہے تو وہ اس کی دستگیری کے لئے کافی ہے ۔ اگر اس کے دل میں ایمان کے سوتے خشک نہیں ہوئے اور اس کا رشتہ تعلق باللہ بالکل کٹ نہیں گیا تو اس کے دل میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ وہ انسان ہے غلطی کا پتلا ہے اور اس کا رب غفور ورحیم ہے ۔ اس لئے یہ انسان ضعیف اور خطاکار پرامید رہتا ہے اور بخیر و عافیت رہتا ہے اور اس دنیا میں اس کا سفر بند نہیں ہوتا۔ وہ ایک مضبوط رسی تھامے ہوئے ہوتا ہے اور اس کا سرا اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہیں جاتا ۔ اس کی انسانی کمزوریاں اسے چاہے کس قدر گرائیں ‘ جب تک شمع ایمان اس کے دل میں روشن ہے ‘ وہ منزل مقصود پالے گا ۔ جب تک وہ اس مضبوط رسی کو تھامے ہوئے ہے وہ راہ راست پر آہی جائے گا ۔ جب تک وہ اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اس کے دل میں خوف اللہ پایا جاتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور اللہ کی بندگی کا اقرار کرتا ہے اور اس کی نافرمانی اکڑ کر نہیں کرتا تو وہ راہ راست پر آسکتا ہے۔
یہ دین اس مخلوق کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا اگرچہ یہ ضعیف مخلوق وقتی طور پر گمراہی کے گڑھے میں کیوں نہ گرجائے ۔ یہ دین اس خطاؤں کے پتلے انسان کو کسی غیر آباد صحراء میں بےیارومددگار نہیں چھوڑتا ۔ وہ اسے اپنے انجام کے بارے میں مایوس وپریشان بھی نہیں چھوڑتا ۔ اسے ہر وقت مغفرت کی امید دلائی جاتی ہے ۔ اس کی راہنمائی کی جاتی ہے ۔ اس کے کانپتے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے ۔ اس کے ڈگمگاتے قدم مستحکم اور ثابت ہوجاتے ہیں ۔ اسے شمع امید عطا کی جاتی جس میں وہ اپنی راہ پالیتا ہے اور یوں وہ محفوظ اور ماموں جائے قرار تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور پر امن سرحد میں داخل ہوجاتا ہے۔
اس دین کا مطالبہ انسان سے صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ اس کے قلب سے ایمان کے سوتے خشک نہ ہوگئے ہوں۔ اس کی روحانی دنیا تاریک نہ ہوگئی ہو اور اس نے اپنے خالق حقیقی کو بھلانہ دیا ہو ۔ وہ اللہ کو یاد کررہا ہو اور اس کی روح میں وہ راہنما مینار نور موجود ہو اور اس کے دل میں اس کے ضمیر کی آواز حدی خواں ہو اور اس کی زمین میں ایمان کا نم باقی ہو تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے دل میں شمع ایمان دوبارہ روشن ہو ‘ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوبارہ امن و سکون کے خطیرہ میں لوٹ آئے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے کشت زار دل میں دوبارہ ایمان کی تخم ریزی ہوسکے۔
ایک واضح مثال آپ کو بھی درپیش ہوگی ۔ تمہارا خطاکار بچہ اگر یہ یقین رکھتا ہو کہ جس غلطی کا ارتکاب اس سے ہوچکا ہے اس پر اب گھر میں ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو وہ پیچھے نہیں دیکھے گا اور بھاگتا ہی رہے گا اور مزید بےراہ روی اختیار کرے گا ۔ اور کبھی گھر کو واپس نہ آئے گا ۔ لیکن اگر ڈنڈے کے ساتھ ساتھ گھر میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے والاپر شفقت ہاتھ بھی ہو جو معذرت پر اس کی اس کمزوری سے صرف نظر کرتاہو اور اسے تھپکی دیتا ہو اور جب وہ معافی مانگے تو اس کی معافی قبول ہوتی ہو تو اس صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ وہ واپس گھرآجائے۔
اسلام اس ضعیف اور خطاکار انسان کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتا ہے ۔ خالق کو معلوم ہے کہ انسان کی شخصیت میں اگر ایک طرف ضعف اور کمزوری ہے تو دوسری جانب اس میں کچھ صلاحیت بھی ہے۔ ایک جانب اگر اس پر مادیت کا بوجھ لدا ہوا ہے تو دوسری جانب کے اس کے اندر روحانیت کی سبک رفتاری بھی ہے ۔ ایک طرف اس کی ذات میں اگر نفوس حیوانی کے میلانات ہیں تو دوسری جانب اس کے اندر ربانی رجحانات بھی ودیعت کئے گئے ہیں ۔ اس جب بھی وہ حیوانی گندگیوں میں مبتلا ہوکر نیچے گرتا ہے تو دست قدرت اس کی دستگیری کرتا ہے اور اسے اوپر کی جانب اٹھاتا ہے اور پھسلنے پر اس کو تھپکی دے کر دوبارہ اسے کھڑا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر رواں ہو ‘ بشرطیکہ اس کے دل میں اللہ کی یاد ہو اور وہ اپنے خالق کو بالکل بھول نہ چکا ہو ۔ اور وہ جان بوجھ کر غلطی پر نہ اڑجائے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ” جو شخص استغفار کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ غلطی پر مصر نہیں ہے اگرچہ وہ دن میں ستر مرتبہ ایسا کرے۔ (روایت ابوداؤد ‘ ترمذی اور بزار ۔ اس نے اپنی سند میں عثمان ابن واقد کی روایت سے نقل کیا ہے ۔ اگرچہ اس کی سند میں ایک نامعلوم صحابی ہیں لیکن ابن کثیر نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے ” حدیث حسن “ )
ہاں توبہ کو دروازہ کھلا رکھ کر اسلام بہرحال بےراہ روی میں لوگوں کو آزاد نہیں چھوڑتا ۔ اور نہ غلط کار اور گمراہیوں کے گڑھے میں گرنے والوں کو قابل تعریف سمجھتا ہے ۔ اور نہ اس گندگی کو حسن سے تعبیر کرتا ہے ‘ جس طرح نام نہاد ” واقعیت پسندی “ کے پیروکار کرتے ہیں ‘ ہاں اسلام صرف لغزش اور انسان کی فطری کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے تاکہ انسان کے اندر مایوسی پیدا نہ ہو اور شمع امید روشن رہے ۔ اس طرح اسلام شرم وحیاء کے انفعالات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انسانی کوتاہیوں پر اللہ کی جانب سے مغفرت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا اور کن ہے جو مغفرت کرسکے ۔ اسلام گناہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا البتہ اگر کوئی شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ وہ استغفار کے لئے آمادہ تو کرتا ہے لیکن وہ گناہوں کے ارتکاب میں لاپرواہی کی اجازت بھی نہیں دیتا ۔ نہ مسلسل خطاکاری کرنے اور اسے شعار بنانے کی اجازت دیتا ہے ‘ اس لئے کہ جو لوگ ارتکاب جرم کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور مسلسل گناہ پر گناہ کئے جارہے ہیں تو وہ حدود سے نکل گئے ہیں ۔ اس کے سامنے دیواریں حائل ہوگئی ہیں۔
یوں اسلام ‘ اس انسانیت کو پکارتا ہے کہ وہ بلند افق کو نصب العین بنائے ‘ لیکن اس دعوت کی پکار کے ساتھ اس پر رحمت اور شفقت کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کی طاقت حدود کیا ہیں ۔ اس لئے اسلام ‘ انسان کے لئے ‘ امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے ۔ اور انسان کی طاقت جہاں تک ساتھ دیتی ہے وہ اسے آگے بڑھاتا ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب ” اسلام اور عالمی سلامتی “ کی فصل ” ضمیر کی سلامتی “ )
Ayah 3:136ارتکاب معصیت سے استغفار کرکے وہ محض منفی کام نہیں کررہے ‘ اور نہ وہ خوشحالی اور بدحالی میں انفاق کرکے محض منفی کام کررہے ہیں یا غصہ پی کر اور لوگوں سے عفو و درگزر کرکے وہ محض منفی کام کررہے ہیں ‘ بلکہ وہ مثبت کام بھی کرتے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں ‘ اس لئے ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ ایسے باغات میں رہیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور مغفرت کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے محبت کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ۔ یہاں ان کے نفس کی گہرائیوں میں بھی عمل ہے اور ظاہری زندگی میں بھی عمل ہے ۔ دونوں عمل ہیں ‘ دونوں میں حرکت ہے اور دونوں میں ترقی ہے ۔
یہ تمام صفات جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور سیاق کلام میں آگے جس معرکہ کارزار کا ذکر ہونے والا ہے ‘ ان دونوں کے درمیان ایک خاص مناسبت ہے ۔ جس طرح سودی معیشت یا باہمی تعاون کے اسلامی نظام معیشت کا تعلق میدان جہاد کے معرکے سے تھا اور اسلامی جماعت کے شب وروز اس سے متاثر ہوئے تھے ‘ اسی طرح ان نفسیاتی خصوصیات اور اجتماعی اوصاف کے اثرات بھی جماعت مسلمہ پر پڑتے تھے ۔ ہم نے اس موضوع پر بات کا آغاز کرتے وقت اس طرف اشارہ کیا ہے ۔ مثلاً کنجوسی پر فتح یاب ہونا ‘ غصے پر قابوپانا ‘ ارتکاب معصیت کے مقابلے میں ضبط کرنا ‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘ اس کی جانب مغفرت کا طلب گار ہونا اور اس کی رضامندی کو نصب العین بنالینا ایسی فتوحات ہیں جو معرکہ کارزار میں دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے اشد ضروری ہیں ۔ یہ لوگ دشمنان اسلام اس لئے تو تھے کیونکہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیا تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تو تھے کہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیاء تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تھے کہ وہ اپنی ذات ‘ اپنی خواہشات اور اپنے نظام زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام ‘ اس کی شریعت اور اس کے پسندیدہ نظام زندگی کے تابع نہ تھے ۔ یہی تو ان کے ساتھ عداوت کی وجہ تھی اور یہی تو میدان کشمکش تھا ۔ اور اسی وجہ سے ان کے خلاف جہاد شروع کیا گیا تھا ۔ ان اسباب کے علاوہ مسلمانوں کی معرکہ آرائی اور عمل جہاد کے کوئی اسباب نہ تھے اور نہ اب ہیں ۔ ایک مسلم کی عداوت بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی معرکہ آرائی بھی فی سبیل اللہ ہے ‘ اس کا جہاد بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی درج بالا تمام ہدایات اور ان کے بعد آنے والے معرکہ کارزار کے بیان کے درمیان مکمل مناسبت ہے ۔ نیز ان باتوں کا ان حالات سے بھی تعلق تھا جن میں یہ معرکہ درپیش پوا۔ مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی ‘ مال غنیمت جمع کرنے کا لالچ ‘ اور اس کی وجہ سے رسول ﷺ کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرنا ۔ عبداللہ ابن ابی اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے محض انا کی خاطر لشکر اسلام سے علیحدہ ہوجانا ۔ اور جیسا کہ سیاق کلام میں یہ بات واضح ہوگی کہ بعض لوگوں نے بڑی بری غلطیوں کا ارتکاب کیا ۔ نیز ان لوگوں کے نظریات اور تصورات میں بھی جھول اس لئے تھی کہ وہ ہر امر کو اللہ اور رسول کی طرف نہ لوٹاتے تھے اور بعض لوگ مایوس ہوکر یہ سوالات کرتے تھے کہ آیا ہماری اس تحریک کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا ؟ اور بعض لوگوں کے یہ خیالات تھے کہ ہماری کوئی حیثیت ہوتی تو یہاں یوں نہ مارے جاتے وغیرہ۔
قرآن کریم ان تمام حالات سے بحث کرتا ہے ۔ ایک ایک کرکے ‘ بعض امور کی وضاحت کی جاتی ہے ‘ بعض امور کے بارے میں وہ آخری فیصلے کردیتا ہے ۔ ان حقائق کے بارے میں وہ نفس انسانی کو چٹکی بھر کر جگاتا ہے ‘ اس کے اندر جوش پیدا کرتا ہے اور ان حقائق کو حیات انسانی کے اندر زندہ کردیتا ہے ۔ اور یہ کام قرآن کریم اپنے منفرد طریقہ کار کے مطابق کرتا ہے جس کے نمونے سیاق کلام کے اندر جابجا ملیں گے ۔
غرض اس مضمون کے تیسرے فقرے مین اب معرکہ کے واقعات کا آغاز ہوجاتا ہے لیکن ان واقعات کے اندر بھی اسلامی تصور حیات کے بنیادی حقائق ذہن نشین کرائے گئے ہیں ۔ رہے واقعات معرکہ تو انہیں محض محور اور مدار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ حقائق ان واقعات کے اردگرد گھومتے ہیں ۔
اس پیراگراف کے آغاز میں اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت جاریہ ہے اور اس سنت کا تعلق ان اقوام سے ہے جو حق کو جھٹلاتی ہیں ۔ اس اصول اور سنت کے ذکر کا مقصد یہ بات مسلمانوں کے گوش گزار کرنا ہے کہ اس معرکے میں انہیں جو شکست ہوگی یہ ایک عارضی بات ہے اور یہ اس کائنات میں اللہ کی مستقل سنت نہیں ہے ۔ یہ عارضی شکست بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی ۔ اس کے بعد انہیں تلقین کی جاتی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور اس سرزمین پر بذریعہ قوت ایمان اپنے آپ کو سربلند رکھیں ۔ اگر اس معرکے میں انہیں شکست ہوئی ہے اور انہوں نے زخم کھائے ہیں تو اس سے قبل ایسے معرکے میں اہل شرک نے زخم کھائے تھے اور انہیں شکست ہوئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی گہری حکمت کارفرماتھی اور جس کا بیان ان کے سامنے کھل کر آجائے گا ۔ یہ حکمت کہ اہل اسلام کی صفوں میں سے کھوٹے لوگوں کو علیحدہ کردیاجائے ‘ ان کے دلوں سے کھوٹ نکال دیا جائے ‘ اور شہداء اسلام کی ایک ایسی مثال تیار کی جائے جو اپنے نظریہ حیات کے لئے جان دینے والے ہوں اور مسلمان موت کا مقابلہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کریں ۔ جبکہ اس سے قبل وہ راہ حق میں تمنائے موت اپنے دلوں میں لئے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے وعدوں اور اپنی آرزوؤں کو حقیقت کے ترازو میں تول کر دیکھیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کفر کو صفحہ ہستی سے مٹادیں اور کافروں کے مقابلے میں ایک منظم اسلامی جماعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں ۔ چناچہ ان پورے واقعات کی تہہ میں ایک بلند حکمت پوشیدہ تھی چاہے یہ واقعات فتح ہوں یا حادثات شکست ہوں ۔ فرماتے ہیں
Ayah 3:137اس غزوہ میں مسلمانوں نے سخت چوٹ کھائی تھی ۔ وہ ایک بڑی تعداد میں قتل ہوئے تھے اور انہیں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ۔ انہیں عظیم روحانی اور جسمانی اذیت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے ستر صحابی قتل ہوگئے تھے ‘ رسول کریم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے تھے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا۔ آپ ﷺ کو مشرکین نے گھیرے میں لے کر تنگ کیا اور صحابہ کرام کو گہرے زخم آئے ۔ اس شکت کی وجہ سے اہل اسلام سخت جھنجھوڑ دیئے گئے ۔ اس لئے یہ ایک ایسا صدمہ تھا جو جنگ بدر کی عجیب فتح کے بعد شاید بالکل ہی غیر متوقع تھا ۔ یہاں تک کہ جب اہل اسلام کو یہ حادثہ پیش آیا تو وہ بےساختہ کہنے لگے ‘ یہ سب کچھ کیسے ہوا ‘ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایسے حالات سے دوچار ہوسکتے ہیں ؟
یہاں قرآن کریم اہل ایمان کو اس کرہ ارض پر سنت الٰہی کی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ یہاں انہیں وہ اصول یاد دلایا جاتا ہے جس کے مطابق اس کرہ ارض پر واقعات کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ یہ واقعات بالکل انوکھے نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اس کائنات میں انسانی زندگی کے لئے جو نوامیس فطرت وضع کئے گئے ہیں ‘ یہاں زندگی ان کے مطابق چل رہی ہے ۔ ان سے تخلف بالکل ممکن نہیں ہے اور نہ یہاں واقعات اتفاقیہ بغیر کسی اصول کے وقوع پذیر ہوتے ہیں جبکہ یہ واقعات نوامیس فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں ‘ اگر وہ ان نوامیس فطرت کو پڑھیں ‘ ان کے مغز تک پہنچیں تو انہیں بآسانی وہ حکمت معلوم ہوجائے گی جو ان واقعات کی پش پر تھی ‘ اور پھر انہیں وہ مقاصد بھی واشگاف طور پر نظر آجائیں جو ان واقعات کی تہہ میں پنہاں تھے ۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ وہ نظام کس قدر پختہ ہے جس کے مطابق یہ واقعات واحداث ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ نیز ان کی تہہ میں جو حکمت پوشیدہ تھی اس کے بارے میں بھی انہیں اچھی طرح اطمینان ہوجائے اور وہ اچھی طرح معلوم کرلیں کہ گزشتہ واقعات کی روشنی میں ان کے لئے آئندہ لائن کیا ہے ۔ اب اس روشنی کے آجانے کے بعد وہ یہ توقع کریں گے کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لئے ایسے واقعات ہونے چاہئیں اور انہیں فتح اور نصرت حاصل ہونی چاہئے ۔ بغیر اس کے کہ وہ فتح ونصرت کا سامان مہیا کریں ‘ جن میں سے پہلا سبب اللہ اور رسول اللہ اطاعت امر ہے۔
وہ سنت الٰہیہ کیا ہے جس کی طرف سیاق کلام انہیں یہاں متوجہ کررہا ہے ؟ وہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے پوری انسانی تاریخ میں حق کو جھٹلایا ہے اور یہ کہ دنیا میں لوگوں کے شب وروز بدلتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کی روح خالص ہوجائے ۔ ان کی قوت صبر کو آزمایا جاتا ہے اور یہ آزمائش مصائب وشدائد کے پہاڑ توڑ کر کی جاتی ہے ۔ اور یہ کہ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں آخر کار انہیں فتح نصیب ہوتی ہے اور جو لوگ کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔
ان آیات میں سنن الٰہیہ کے بیان کے درمیان اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ مشکلات کو انگیز کریں ‘ شدید حالات میں ایک دوسرے کے غم خوار ہوں اور انہیں جو چوٹ لگی ہے ‘ اس پر صبر کریں ‘ اس لئے کہ چوٹ صرف انہیں نہیں آئی بلکہ ان کے دشمنوں نے بھی تو ان کے برابر چوٹ کھائی حالانکہ مومنین ان کے مقابلے میں بلند نظریات کے حاملین ہیں ۔ وہ ان کے مقابلے میں راہ ہدایت پر ہیں اور ان کے مقابلے میں ان کا نظام زندگی زیادہ بہتر ہے ۔ اور ان مشکلات کے بعد انجام کار فتح و کامرانی بھی اہل ایمان کو نصیب ہونے والی ہے ۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (137) هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ
” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں ‘ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو) جھٹلایا ۔ یہ لوگوں کے لئے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “
قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ انسانیت کے حاضر کو اس کے ماضی کے ساتھ جو ڑدیتا ہے ۔ اور ماضی اور حال کو باہم مربوط کرکے انسانیت کے مستقبل کی فکر کرتا ہے ۔ عرب معاشرہ جو قرآن کے مخاطبین اول تھے ان کی زندگی کوئی زندگی نہ تھی ‘ ان کے ہاں کوئی علمی ذخیرہ نہ تھا اور اسلام سے پہلے ان کے ہاں سرمایہ تجربات بھی نہ تھا ‘ تاکہ تحریک اسلامی ان کے سامنے خود ان کے ذخیرہ ثقافت سے کوئی مکمل نمونہ پیش کرتا ۔ یہ تو اسلام اور اسلام کی کتاب قرآن تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا کہ اس نے عربوں کو حیات جدید سے نوازا اور ان کو ایک ایسی امت کی شکل دی جس نے ادوار مابعد میں پوری دنیا کی قیادت کی۔
وہ قبائلی نظام معاشرت جس کے سایہ میں عرب زندگی گزار رہے تھے ‘ یہ اس قابل ہی نہ تھا کہ وہ ان کی فکر کو اس قدر وسعت دے دیتا کہ وہ جزیرۃ العرب کی زندگی کے واقعات کو کوئی منطقی ربط دے دیتے چہ جائیکہ وہ اس کرہ ارض میں بسنے والی تمام انسانیت اور اس کے حادثات اور واقعات کے درمیان کوئی منطقی ربط تلاش کرتے اور پورے کرہ ارض کے اندر پیش آنے والے عالمی واقعات اور اس کائنات کے اندر جاری نوامیس فطرت اور ان کے مطابق جاری وساری انسانی زندگی کے اندر ربط کی تلاش کی بارے میں تو وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے ۔
قرآن کریم اور اسلام کے نتیجے میں عربوں کے اندر جو علمی اور ثقافتی انقلاب رونماہوا ‘ وہ ایک دور رس انقلاب ہے ‘ یہ کوئی ایسا انقلاب نہ تھا کہ کسی معاشرے کے اندر تدریج کے ساتھ علمی وثقافتی ترقی کی وجہ سے رونما ہوا اور نہ یہ انقلاب اس وقت کی رائج اور چلتی ہوئی زندگی کے تقاضوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے رونما ہوا۔ بلکہ یہ عظیم انقلاب خالص اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں رونماہوا بلکہ یہ عقیدہ ان کے لئے یہ تحفہ لایا اور انہیں اٹھاکر اسلامی نظریہ حیات کی سطح تک بلند کیا ۔ اور یہ سب کام اس نظریہ حیات نے صرف ربع صدی کے قلیل عرصہ میں سر انجام دیا ۔ جبکہ عربوں کے ارد گرد بسنے والی ترقی یافتہ اور علمی سرمایہ سے مسلح اقوام افکار عالیہ کے اس مقام تک صدیوں بعد پہنچ پائیں اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد ان اقوام نے معلوم کیا کہ اس کائنات کے اندر کچھ قوانین فطرت عمل پیرا ہیں اور یہ ان اٹل فطری نوامیس کے تحت چل رہی ہیں اور جب انہوں نے ان قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کو دریافت کرلیا تو وہ اس حقیقت تک پھر بھی نہ پہنچ سکیں کہ ان اٹل قوانین کے اوپر ایک اٹل مشیئت الٰہیہ بھی ہے جو ان قوانین فطرت کی قید میں بھی مقید نہیں ہے ۔ اور قوانین فطرت کے بعد بھی تمام امور کے اندر اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ رہی امت مسلمہ تو اس نے روز اول سے اس کا یقین حاصل کرلیا تھا۔ اس کائنات کے بارے میں اس کا تصور بہت وسیع ہوگیا تھا ‘ اور اس کے احساس اور شعور کے اندر قوانین فطرت کے ثبات اور اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے اندر ایک توازن قائم ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ اس کی عملی زندگی تو قوانین فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم تھی لیکن اس کے بعد اسے یہ اطمینان بھی حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت بھی بےقید ہے ۔ فرماتے ہیں :
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ……………” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں “ ان ادوار میں نوامیس فطرت کے مطابق رونما ہوئے تو تمہارے دور میں بھی ایسے ہی واقعات رونما ہوں گے ۔ اس لئے امم سابقہ کی تاریخ میں تمہاری جیسی صورتحال سے جو اقوام دوچار تھیں اور ان کے سامنے کچھ حقائق رونما ہوئے تو ایسے ہی نتائج کے لئے تم بھی تیار رہو۔
فَسِيرُوا فِي الأرْضِ……………” زمین میں چل پھر کر دیکھ لو “ اس لئے کہ پورا کرہ ارض ایک سیارہ ہے ۔ اس سیارے میں انسانی زندگی رواں دواں ہے ۔ یہ کرہ ارض اور اس کے اندر زندگی ایک کھلی کتاب ہے ۔ بصارت اور بصیرت دونوں کے لئے اس میں وافر سامان موجود ہے ۔
فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ……………” دیکھ لو کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو ) جھٹلایا۔ “ یہ وہ انجام ہے جس کے آثار کرہ ارض پر ہر جگہ قابل مشاہد ہیں ۔ نیز ان کی تاریخ میں وہ آثار و شواہد بعد میں آنے والوں نے ریکارڈ کردیئے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان سنن وسیر کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ہاں نقل کیا ہے ۔ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر ان کا ذکر ہے اور بعض جگہ واقعات کی جگہ ‘ ان کا زمانہ اور واقعات کے اشخاص اور کرداروں کا تذکرہ بھی تفصیل سے کیا ہے ۔ جبکہ بعض جگہ صرف اشارات سے کام لیا گیا ہے اور زمان ومکان کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مجملاً واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں بھی ایک اجمالی اشارہ اس انسانی تاریخ کی طرف کیا گیا ہے اور اس سے ایک مجمل اور مجرد طریقہ نکالا گیا ہے ‘ وہ یہ کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام کل ہوا تھا وہی انجام آج بھی مکذبین کے لئے طے ہوچکا ہے ۔ اور کل بھی ان کا یہی انجام ہوگا۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ اپنے انجام کے بارے میں مطمئن اور یکسو ہوجائے اور اس بات سے متنبہ ہوجائے کہ وہ مکذبین کے ساتھ پھسل نہ جائے ۔ اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جن میں اس یقین دہانی کی ضرورت تھی نیز ایسے حالات بھی موجود تھے جن میں مسلمانوں کو لغزش کھانے سے ہوشیار کرنے کی ضرورت تھی ۔ اور آنے والے سیاق کلام میں ان حالات پر تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے ۔