3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) سے نسبت رکھنے کا حق سب سے زیادہ اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اس کی نسبت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں۔ “

پس وہ لوگ جو حضرت ابراہیم کی زندگی میں ان کے پیرو رہے ‘ اور ان کے نظام اور طریقے پر چلے ‘ اور انہوں نے ان کے احکام کے مطابق فیصلے کیے تو وہی ان کے دوست تھے ۔ پھر یہ نبی ان کے دوست ہیں جو اللہ کی شہادت کے مطابق ان کے دین پر ہیں وہ ان کے دوست ہیں ‘ اس کے بعد وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوست ہیں جو اس نبی پر ایمان لائے ۔ اور وہ اپنے نظام زندگی اور طریقہ حیات میں ان کے ہم رنگ ہوگئے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ” اللہ صرف ان کا حامی اور مددگا رہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہی لوگ اللہ کی پارٹی کے ہیں ‘ یہی لوگ اللہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایک ہی خاندان ہیں ۔ یہ ایک امت ہیں ‘ چاہے صدیاں گزرجائیں ‘ زمانے گزرجائیں ‘ زمین اور وطن کے فاصلے طویل کیوں نہ ہوں ‘ نسل اور قوم مختلف کیوں نہ ہو ‘ خاندان اور قبائل مختلف کیوں نہ ہوں ‘ یہ ایک ہیں ‘ ایک رہیں گے۔ انسانی اجتماع کی یہ سب سے ترقی یافتہ شکل ہے جو حضرت انسان کے لئے موزوں ترین ہے ، اور یہی صورت اسے حیوانوں کے ریوڑ سے ممتاز کرتی ہے۔ دوسری جانب مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں سے یہ سوسائٹی سب سے عام اور بلاقید ہے ۔ اس لئے کہ اس اجتماعی نظام کی اساس جس شرط کے ساتھ مشروط ہے وہ شرط اختیار ہے ۔ انسان کے بس میں ہے کہ وہ اس شرط کو پوری کردے ۔ وہ شرط نظریاتی ہے اور ہر شخص کسی بھی نظرئیے کو اپنانے میں آزاد اور مختار ہے ۔ جب کوئی شخص اپنی نسل تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگرچہ ہم اجتماعی نظام کی اساس کسی نسل پر رکھ دیں تو کوئی شخص بہرحال اس نسل میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ اگرچہ اجتماعیت کو قومیت کی اساس پر استوار کریں تو پھر کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگر ہم اجتماعی نظام رنگ پر رکھیں تو کوئی بھی شخص اپنا رنگ نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر ہم زبان کی اساس پر اجتماعی نظام استوار کریں تو کوئی شخص اپنی زبان بھی نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر نظام طبقات پر مبنی ہو ‘ تو طبقہ بدلنا بھی آسانی سے ممکن نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض اوقات طبقات بھی ناقابل تبدیل ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان میں اچھوت وغیرہ ‘ یہی وجہ ہے تمام دوسری سوسائٹیوں میں بعض طبقات کی راہ میں پردے حائل ہوتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کا ممبر نہیں بن سکتے ۔ صرف نظریاتی اساس پر تشکیل پانے والی سوسائٹی اس عیب سے خالی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ نظریاتی سوسائٹی میں کوئی نظریہ اپنانے نہ اپنانے کا معاملہ ایک فرد کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ بغیر اس کے اس کی اصلیت بدلے ‘ اس کی زبان بدلے ‘ اس کا طبقہ بدلے ‘ یا وصف بدلے جس کی اساس ‘ اس کا پردہ اس میں شامل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نظریاتی سوسائٹی میں انسان کے مقام اور اس کے اکرام میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور اس کا نظریہ اجتماع ان عناصر کی اساس پر ہوتا ہے جو انسانی عناصر ہیں ۔ ان پر نہیں جو جانوروں کو باہم اکٹھا کرتے ہیں ۔ اب انسان کے لئے صرف دوراستے ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نظریہ اجتماع کے مطابق وہ روحانی اور نظریاتی اساسوں پر جمع ہو اور انسانوں کی طرح رہے اور یا پھر حیوانوں کے ایک ریوڑ اور گلے کی طرح ہم جنس ‘ جو اکٹھے ہوں یا ایسے مویشی اکٹھے ہوں جن کی چراگاہ ایک ہے ۔ اور ان حدود وقیود کے اندر رہیں جو ان مویشیوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اب امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس جدل وجدال اور بحث ومباحثے کے پس منظر میں اہل کتاب کا اصل منصوبہ کیا ہے ؟ اس لئے اہل کتاب کی مکاریوں ‘ ان کی خفیہ تدبیروں اور دین کے ساتھ اس کھیل کا بھانڈا امت مسلمہ کے سامنے بھرے چورا ہے میں پھوڑا جاتا ہے وہ ستر پاش پاش کردیا جاتا ہے جس کے پیچھے چھپ کر یہ لوگ گھناؤنا کھیل کھیلا کرتے تھے اور انہیں جماعت مسلمہ کے سامنے صاف ننگا کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔
Ayahs 3:69–70

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے ‘ حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ؟

اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔
Ayah 3:71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو ؟

اس مقام پر اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سختی سے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنے اس مشکوک اور کمزور موقف پر ذرا نظر ثانی کریں۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ؟ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی اور آج بھی اہل کتاب حق اور سچائی کا مشاہدہ کررہے ہیں اور واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ دین ‘ دین حق ہے ۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جو اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی کتابوں میں رسول آخرالزمان ﷺ کی بابت بشارتیں اور اشارے موجود ہیں ‘ ان میں سے بعض ایسے تھے جو ان اشارات کے بارے میں بالصراحت بتلاتے تھے ۔ اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ وہ ان بشارتوں کی بناء پر شہادت حق بھی دیتے تھے لیکن بعض دوسرے ایسے تھے کہ وہ اگرچہ اپنی کتابوں سے کچھ نہ جانتے تھے لیکن رسول اکرم ﷺ اور آپ کے دین کو دیکھ کر واضح طور یقین کئے ہوئے تھے کہ یہ دین ‘ دین حق ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کفر پر کمربستہ تھے ۔ اس لئے نہیں کہ دلیل وبرہان میں کوئی کمی تھی بلکہ محض خواہشات نفسانیہ ‘ ذاتی مصلحتوں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر وہ کفر کررہے تھے ۔ قرآن کریم اہل کتاب کہہ کر انہیں کو پکارتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی اس صفت اہل کتاب کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اللہ کی اس کتاب جدید کو سینہ سے لگائیں۔ ایک بار پھر اللہ انہیں پکارتے ہیں تاکہ انہیں ان کے اس فعل پر اچھا شرمندہ کریں کہ وہ حق پر باطل کا رنگ چڑھاتے ہیں ‘ حق کو چھپاتے ہیں ‘ حق کو ضائع کرتے ہیں ‘ اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کرتے ہیں اور یہ ان کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ یہ ان کی نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت …………اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے اہل کتاب پر جو تنقید فرمائی ہے ‘ اس پر وہ اس وقت سے لے کر آج تک قائم ہیں ۔ پوری اسلامی تاریخ میں ان کا کردار یہی رہا ہے۔ سب سے پہلے اس کا آغاز یہودیوں نے کیا اور یہودیوں کے بعد یہی منصب صلیبیوں نے سنبھال لیا ۔ اور اس پوری تاریخ میں انہوں نے اسلامی علوم میں بعض ایسے افکار شامل کردئیے کہ ان کی تنقیح صرف قرآن کریم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے تمام اسلامی علوم میں حق کے ساتھ باطل ملادیا ہے ۔ ہاں ان کی ان خفیہ سازشوں سے صرف قرآن کریم محفوظ رہا ہے اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ابدالابد تک وہ قرآن کریم کو محفوظ رکھے گا ۔ انہوں نے تاریخ اسلامی میں دسیسہ کاری کی ۔ اسلامی تاریخ کے واقعات میں ملاوٹ کی ۔ انہوں نے ذخیرہ احادیث کے اندر احادیث گھڑ کر جعلی احادیث ملانے کی کوشش کی ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے اس کے مقابلے کے لئے بعض ایسے رجال پیدا کئے جنہوں نے اس میدان میں داد تحقیق دی اور ذخیرہ احادیث کو ان کی جعل سازیوں سے پاک کیا ۔ الا یہ کہ انسان کے محدود جدوجہد کی وجہ سے کوئی چیز بچ گئی ۔ لیکن وہ شاذ اور محدود ہوگئی ۔ انہوں نے قرآن کے ذخیرہ تفاسیر میں بھی ملمع کاری کی اور اسے ایک ایسا صحرائے بےآب وگیا بنادیا جس میں سے انسان کے لئے نشان راہ پانا مشکل ہوگیا ۔ انہوں نے اسلام کے بعض لیڈروں میں اپنے آدمی داخل کئے ۔ سینکڑوں لوگ ایسے تھے جو مسلمان بن کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ اور آج دیکھئے کہ مستشرقین اور مستشرقین کے شاگردوں کی شکل میں اور بیسیوں ایسے لیڈر ہیں جو یہودیوں اور صلیبیوں نے ہمارے لئے لیڈر بنائے تاکہ وہ اس نام نہاد عالم اسلام میں یہودیوں اور صلیبیوں کے مفادات کا تحفظ کریں ۔ اس لئے کہ اسلام کے یہ دشمن اگر کھل کر آئیں تو وہ یہ مفادات حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ سازشیں مسلسل روبعمل ہیں ۔ اور آج بھی اگر ہم ان میں سے کوئی جائے پناہ حاصل کرسکتے ہیں تو وہ صرف قرآن کے دامن میں حاصل کرسکتے ہیں ‘ جو محفوظ ترین کتاب ہے۔ اس قرآن کو اگر ہم اس تاریخی کشمکش میں اپنا مشیر بنالیں تو ہمیں محفوظ پناہ مل سکتی ہے ۔ قرآن کریم یہاں ان لوگوں کی بعض کوششوں کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے جو انہوں نے جماعت مسلمہ کو اپنے دین سے بدراہ کرنے کی خاطر کی تھیں ۔ اور یہ کام وہ حسب عادت نہایت ہی مکارانہ اور ذلیلانہ طریقہ کار کے مطابق کرتے تھے ۔ فرماتے ہیں۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے ‘ اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کردو ۔ شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں ۔

کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص پکڑلیا ہوگا۔ یا یہ کہ خود مرتد ہونے والے شک میں پڑگئے کہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کدھر جائیں اور ان کو کسی حال میں ثابت حاصل نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب کی جانب سے یہ دھوکہ آج تک جاری ہے ۔ ہاں اس کی شکل و صورت اور طور طریقے حالات زمانہ کے مطابقت سے بدل گئے ہیں ۔ ہاں آج کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب ان پرانی سازشوں پر ملمع کاری کرکے اہل اسلام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے تمام دشمنوں نے اسی پرانے اسلوب پر کچھ جدید طریقے وضع کئے ہیں اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اب ان لوگوں نے عالم اسلام میں اساتذہ ‘ فلاسفہ ‘ محققین اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی ایک جرار فوج چھوڑی ہوئی ہے ۔ یہ سب لوگ درپردہ ان دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں ۔ پھر ان دشمنوں نے ہمارے مصنفین ‘ شعراء ‘ فن کاروں اور صحافیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بعض تو مسلمانوں کے علماء ہیں ۔ ایجنٹ کی اس فوج کا کام صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ اور اس کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرے ۔ کبھی وہ علم وادب کے دروازے سے کام کرتے ہیں ۔ کبھی وہ صحافی اور فنکار کے روپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی اصول حیات کی قدر و قیمت کم کرنے ‘ اسلامی نظریہ حیات کا مزاح اڑانے ‘ اسلامی اصولوں اور نصوص میں ایسی تاویلیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں ‘ جن تاویلوں کے وہ نصوص متحمل ہی نہیں ہوسکتے ۔ یہ مسلسل ڈھول پیٹتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات رجعت پسندی ہے ۔ اور وہ ہر وقت اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات کو ترک کردیا جائے ۔ اور اسے انسان کی عملی زندگی سے خارج کردیاجائے ۔ گویا کہ انسانی زندگی کو اس سے خطرہ ہے اور اس کو زندگی سے خطرہ ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے شعور اور طرز عمل میں ایسے تصورات اور ایسی روایات اور ایسے اصول کو رواج دیتے ہیں جو اسلامی تصورات کے متضاد ہوتے ہیں اور جن سے اسلامی طرز عمل اور اسلامی روایات کی خوش شکست وریخت ہوتی ہے ۔ یہ ایجنٹ ان جدیدجاہلی تصورات کو مسلمانوں کے نظریات میں جس قدر جاذب بناتے ہیں ۔ اسی قدر ایمانی روایات کا حلیہ بگاڑتے ہیں ۔ مزید برآں یہ کہ یہ ایجنٹ جنسیت کو ہر قید وبند سے آزاد کرتے ہیں ۔ اور اساسوں کو بنیاد سے اکھاڑ تے ہیں ۔ جن کے اوپر پاکیزہ اخلاق استوار ہوتے ہیں اور معاشرے کو اس گندگی کے اندر گراتے ہیں جسے وہ جگہ جگہ پھیلاتے پھرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایجنٹ اسلامی تاریخ کا بعینہ اسی طرح حلیہ بگاڑتے ہیں ‘ جس طرح انہوں نے اپنی کتب سماوی کا حلیہ بگاڑا اور اس میں تحریف کی ۔ لیکن آپ حیران ہوں گے یہ ایجنٹ ان سب کارناموں کے ساتھ پھر بھی مسلمان ہیں ! کیوں مسلمان نہ ہوں ‘ کیا ان کے نام مسلمانوں کی طرح نہیں ؟ اور وہ ان ناموں کے ساتھ ساتھ روز دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار واقرار بھی کرتے ہیں لیکن وہ مذکورہ بالا کارنامے کرکے گویا شام کے وقت وہ اسلام کا انکار کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ ایجنٹ وہ کردار ادا کرتے ہیں جو پرانے اہل کتاب کرتے تھے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دور قدیم اور آج کے ماحول اور طریقہ واردات میں قدرے فرق ہے۔
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو ‘ اے نبی ان سے کہہ دو کہ اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اسی کی دین کہ کسی کو وہی کچھ دیا جائے گا جو کبھی تم کو دیا گیا تھا۔ یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لئے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے ۔ “ اے نبی ! ان سے کہو کہ فضل وشرف اللہ کے اختیار میں ہے ‘ جسے چاہے عطا فرمائے ۔ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔

اہل کتاب آپس میں طے کرتے تھے کہ تم لوگ دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار کرو اور شام تک اعلان کردو کہ ہم نے اسلام کا اعلان کیا تھا لیکن اب ہم نے اسے ترک کردیا ہے ۔ تاکہ اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہوجائے اور وہ بھی اسلام سے لوٹ آئیں ۔ لیکن یہ بات راز میں رہے ۔ اس کا افشا بھی نہ کرو اور اپنے دین والوں کے علاوہ کسی اور اس راز سے خبردار بھی نہ کرو ۔ وَلا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ……………” اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات پر اعتماد نہ کرو ۔ “ فعل ” اسلام “ کا فاصلہ اگر لام متعدی ہو تو اس کا مفہوم اعتبار اور اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی اعتمادصرف اس پر کرو جو تمہارے دین کو ماننے والا ہے ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں صرف اپنے ہم مذہب لوگوں کے سامنے اپنے بھید کھولو۔ مسلمانوں کو ان باتوں کی خبر نہ ہونے پائے ۔ آج صہیونیت اور صلیبیت کے ساتھیوں کا طرز بھی یہی ہے ۔ یہ لوگ آپس میں ایک بات میں باہم مفاہمت کرلیتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے بسمل کو موقعہ پاتے ہی قتل کردیا جائے ۔ اس کے لئے ایسے مواقع شاید میسر نہ ہوں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے ان ایجنٹوں کے درمیان اس جو مکمل مفاہمت پائی جاتی ہے وہ پھر نہ پائی جائے ۔ لیکن یہ مفاہمت ایک طرف ایک (کلائنٹ ) (Client) کے درمیان ہے اور دوسری جانب اس کے ایجنٹ کے درمیان ہے ۔ اس میں یہ موکلین بعض اوقات پنے ایجنٹ کو اپنے اصل راز بھی بتادیتے ہیں ۔ جبکہ انہیں یقین ہو کہ وہ ان رازوں کو افشاء نہ کریں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو دوسرے روپ میں ظاہر کرتے ہیں اور اس رنگ میں نہیں آتے جس میں انہوں نے ان سازشوں کو تیار کیا ہوتا ہے۔ ان ایجنٹوں کے لئے پہلے سے حالات درست کرکے ماحول کو ان کے لئے سازگار بنادیا جاتا ہے ۔ تمام سہولتیں انہیں مہیا کردی جاتی ہیں ۔ اور جو لوگ اس کرہ ارض پر اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ نظروں سے اوجھل ہیں یا معاشروں میں دھتکارے ہوئے ہیں ۔ اس لئے وہ کہتے ہیں ولا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ…………… اور اپنا راز انہی لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ “ یہاں آکر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ اعلان کردیں کہ ہدایت تو سرف اللہ وحدہ کی ہدایت ہے ۔ اور جو شخص اللہ کی ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کبھی بھی ہدایت پا نہیں سکتا ۔ کسی صورت میں بھی اور کسی طریقے سے بھی قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ ” اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ۔ “ اور یہ فیصلہ ان کے اس قول کے جواب میں آتا ہے ۔” اہل ایمان پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ ‘ اور شام کے وقت اس کا انکار کردو ‘ امید ہے کہ اس طرح وہ پلٹ آئیں ۔ “ مسلمانوں کو ان کے اس مذموم منصوبے کے روبعمل آنے کے خلاف متنبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو گویا وہ دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ اس لئے ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے ۔ اور یہ مکار جو تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ خالص کفر ہے ۔ اور یہ فیصلہ بیچ میں آتا ہے ۔ یعنی بطور جملہ ” معترضہ “ ابھی تک اہل کتاب کی بات ختم نہیں ہوتی ۔ أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْاور یہ کہ کوئی دوسرا اس بات کو جان لے جو تمہیں معلوم ہے اور وہ تمہارے رب کے ہاں تمہارے خلاف حجت پیش کریں۔ “ یہ فقرہ ان کے اس موقف پر دلیل ہے کہ ” اور اپنا راز انہیں لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ یہ لوگ اس بغض اور حسد میں مبتلا تھے کہ کسی دوسرے شخص کو بھی اسی طرح نبوت اور کتاب سے سرفراز کیا جائے جس طرح تم نبوت اور کتاب سے سرفراز ہوئے تھے ‘ انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ اہل اسلام کو دین اور اسلام پر اطمینان نصیب نہ ہوجائے ۔ اور وہ اس حقیقت پر مطلع نہ ہوجائیں جسے اہل کتاب نے چھپارکھا ہے ۔ حالانکہ وہ اسے جانتے ہیں اور نیز قیامت کے دن مسلمان اللہ کے ہاں اسے اہل کتاب کے پاس بطور حجت پیش نہ کردیں ۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا گویا مسلمانوں کی اس قولی شہادت کے سواء اللہ انہیں سزا نہ دے گا۔ یہ ایک ایسا تصو رہے جو اللہ کی ذات وصفات پر صحیح ایمان کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتا ۔ نہ اس قسم کے تصورات ان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتے ہیں جن کو اللہ کی ذات اور صفات ‘ نبوت اور رسالت اور ایمان پر مبنی افکار وفرائض کا صحیح علم حاصل ہو۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور رسول کریم ﷺ کو اس بات کی طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ انہیں آگاہ کردیں کہ یہ تو اللہ کا فضل وکرم ہے اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کسی قوم کو کتاب ونبوت سے نواز دے ۔ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (73) يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ” اے نبی ان سے کہو کہ ” فضل وشرف اللہ کے اختیار میں ہے ‘ جسے چاہے عطا فرمائے ۔ “ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے ‘ اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔ “ اللہ کی مشیئت نے اب فیصلہ کرلیا ہے اب نبوت اور رسالت سے اہل کتاب کے سوا دوسرے لوگوں کو سرفرازکردے ‘ خصوصاًجبکہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے مواعید کی مخالفت کرتے چلے جائیں ‘ جوان کے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ذمہ داری ان پر ڈالی تھی اسے بھی توڑتے چلے جائیں ‘ جو امانت اللہ نے ان کے سپرد کی تھی اس میں خیانت کرتے چلے جائیں ‘ وہ اپنی کتاب کے احکام اور اپنے دین کے قوانین کو توڑتے چلے جائیں ۔ اور پھر اگر کوئی انہیں دعوت دے کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو وہ انکار کردیں ‘ اور ان کے ان سب کارناموں کی وجہ سے انسانوں کی قیادت اور راہنمائی اسلامی نظام زندگی ‘ اسلا می قائدین اور قرآن کریم کی راہنمائی سے آزاد ہوجائے ‘ یہی وہ مقام تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے قیادت واپس لے لی اور اس بات امانت کو امت مسلمہ کے سپرد کردیا ۔ اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل اور احسان تھا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ………… ” اللہ بڑی وسعت والا اور خبردار ہے۔ “ اور يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ…………” وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے۔ “ اس کا فضل وکرم بڑا وسیع ہے ۔ اور اس کا علم بھی بڑا وسیع ہے ‘ اس لئے وہ اس جگہ کو بھی خوب جانتا ہے ہے ۔ جہاں اس کی رحمت نازل ہو۔ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ…………” اس کا فضل بہت بڑا ہے ۔ “ اور کسی قوم کے لئے اس سے بڑا اور فضل کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اسے ایک کتاب کی صورت میں ہدایت دے ۔ اور کسی کو وہ اس سے بڑی کیا خیر و برکت عطاء کرے کہ ان کو رسالت عطا کردے اور اس سے بڑی رحمت کا اور کیا مظاہرہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قوم میں رسول بھیج دے ۔
Ayah 3:74

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔ “

جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔ آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے طرز عمل میں کس قدر تناقص پایا جاتا ہے ۔ اور قطعی طور پر بتادیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا دین یعنی اسلام کن صحیح اور سچے اقدار پر استوار ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے اندر باہمی معاملات میں کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا ‘ اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ۔ امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی موأخذہ نہیں ہے۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے ۔

جو اہل کتاب اس وقت اہل ایمان اور جماعت مسلمہ کے مقابلے میں اترے ہوئے تھے اور بحث و تکرار کررہے تھے ‘ ان کے بارے میں قرآن کریم کا تبصرہ نہایت ہی منصفانہ سچائی پر مبنی ہے ۔ اور ان کے اوصاف بےکم وکاست بیان کئے گئے ہیں ۔ اور جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں ‘ آج تک اہل کتاب کا یہی حال ہے ۔ غرض اہل کتاب اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو دشمنی کررہے تھے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف وہ جس قدر گہری اور مذموم سازشیں کررہے تھے اور جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف وہ جس قدر شدید شر و فساد کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ ان سب حقائق کے باوجود ان میں سے جو لوگ اچھے تھے نہ ان کے فضائل چھپاتا ہے اور نہ ان کے بیان میں کمی کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اس وقت وہ اہل اسلام کے ساتھ مقابلہ ومناظرہ کی حالت میں تھے ۔ اس لئے قرآن مجید کہتا ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں لوگوں کے عظیم حقوق بھی آجائیں تو وہ انہیں تلف نہیں کرتے ۔ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ……………” اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کرے گا۔ “ لیکن ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پرلے درجے کے خائن ‘ لالچی ‘ اور ملمع کار ہیں جو کسی کا حق نہیں لوٹاتے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی حقیر کیوں نہ ہوں ‘ ہاں صرف وہ اس صورت میں ادا کریں گے کہ تم ان سے اصرار سے مطالبہ کرو اور ان کے سر پر سوار ہوجاؤ اور یہ حق مارنے کے لئے وہ ایک ایسا فلسفہ بھی گڑھتے ہیں جس میں سوچے سمجھے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادانہ کرے گا الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوارہوجاؤ ‘ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ” امیوں (غیر یہودیوں کے معاملے میں ) ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی۔ “ اور یہ بھی یہودیوں کی ایک خاص صفت ہے ۔ صرف یہودی یہ بات کہتے تھے ۔ ان کے ہاں اخلاق وآداب کے مختلف پیمانے تھے ۔ امانت ودیانت تو صرف ایک یہودی اور دوسری یہودی کے درمیان معاملات کے لئے ہے ۔ رہے غیر یہودی جنہیں وہ امی کہتے تھے ۔ اور ان سے مراد ان کی صرف عربوں ہی سے تھی ۔ تو ان کے اموال تلف کرنے اور ناجائز ہڑپ کرجانے میں وہ کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے ۔ وہ بڑی بےتکلفی کے ساتھ غیر یہود کے ساتھ دھوکہ ‘ فریب ‘ ملمع کاری ‘ استحصال جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے ۔ بغیر کسی جھجھک کے وہ ان کے خلاف اوچھے ہتھیار استعمال کرتے اور مذموم حرکات کا ارتکاب کرتے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کا خدا اور ان کا دین انہیں اس بات کا حکم دیتا ہے۔ لیکن دراصل وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کسی فحش بات کا حکم نہیں دیتا ۔ مثلاً یہ کہ وہ کسی گروہ کو حکم دے کہ وہ دوسرے گروہ کی دولت ناجائز اور ظالمانہ طور پرکھائے ۔ اور اس کے ساتھ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی نہ کرے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے ۔ اور ان کو بغیر کسی کراہیت اور حرج کے نقصان پہنچاتا چلاجائے ۔ لیکن وہ یہودی تھے ۔ وہ یہودی جنہوں نے انسانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی کو اپنا دین بنارکھا ہے۔ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ……………” وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘ جانتے ہوئے۔ “
Ayahs 3:76–77

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہوگی ؟ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور ہر برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا ‘ کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ‘ تو ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ‘ اللہ قیامت کے روز ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا ۔ بلکہ ان کے لئے تو سخت دردناک سزا ہے۔ “

اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔ یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔ یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی توجہ نہ کرے گا اور ان کی کوئی رو رعایت نہ ہوگی ۔ یوں ادا کیا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کے ساتھ بات کرے گا ‘ نہ ان کی طرف نظر اٹھاکر دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا ۔ یہ وہ انداز ہے جو بالعموم نظر انداز کرنے کے لئے عام لوگوں کے درمیان متعارف ہے ۔ قرآن کریم نے اس تصویری انداز بیان کو اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان کی رسوائی کی ایک زندہ اور وجدانی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے ۔ یہ زندہ اور وجدانی پیرایہ اظہار محض تجریدی انداز بیان سے زیادہ دلنشین ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا پیرایہ اظہار ‘ بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ۔ ذرا آگے بڑھئے اور دیکھئے اہل کتاب کے کچھ اور نمونے ‘ ایک نمونہ ان گمراہ کنندگان کا ہے جو خود کتاب اللہ کو لوگوں کی گمراہی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر چالاکی سے بات کرتے ہیں اور مراد کچھ سے کچھ بن جاتی ہے ۔ وہ آیات کتاب میں ایسی توڑپھوڑ کرتے ہیں جس سے مراد اور مفہوم ان کی متعینہ خواہشات کے مطابق ہوجاتا ہے اور اس توڑ اور پھوڑ کے بدلے میں ایک حقیر فیس وصول کرتے ہیں ۔ اور اس فیس کا تعلق اس دنیا کے حقیر مقاصد کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو تحریفات اور تاویلات کرتے تھے منجملہ ان میں سے وہ عقائد تھے ‘ جو انہوں نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں گھڑرکھے تھے ۔ اور وہ عقائد اہل کنیسا اور حکام وقت کے مفید مطلب تھے ۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اسی طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے۔ حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔

جب اہل دین اخلاقی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ دینی حقائق میں ملاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ کام وہ علمائے دین کے لباس میں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم یہاں اہل کتاب میں ایک گروہ کے جو حالات بیان کررہا ہے ‘ ان سے ہم اپنے زمانے میں اچھی طرح واقف ہیں ‘ اہل کتاب نصوص کتاب میں تاویلات کرتے تھے ۔ زبان کے ہیر پھیر سے مفہوم تبدیل کرتے تھے ۔ اور اس طرح وہ طے شدہ نتائج اخذ کرتے تھے ۔ اور ان کا یقین یہ ہوتا تھا کہ کتاب اللہ کا مفہوم یہی ہے ۔ اور یہی مفہوم ارادہ الٰہی کا اظہار ہے ۔ حالانکہ جو نتائج وہ اخذ کرتے تھے وہ اصول دین سے متصادم تھے ۔ ان کو یہ اعتماد تھا اکثر سامعین ان پڑھ اور بےعلم ہیں اور وہ ان کے خودساختہ نتائج اور آیات کے حقیقی مفہوم کے درمیان کوئی فرق اور امتیاز نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ ان کے نتائج جعلی اور جھوٹے تھے اور ان نتائج تک وہ آیات کو زبردستی کھینچ کر لاتے تھے ۔ اہل کتاب کا یہ نمونہ ہمارے دور میں بعض دینی راہنماؤں میں پوری طرح پایا جاتا ہے ‘ جو بطور ظلم اپنے آپ کو دین کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔ جو دین میں تحریف کرتے ہیں ۔ اور جو اپنی خواہشات نفسانیہ میں سے مزاح بناتے ہیں ۔ وہ اپنے کاندھوں پر آیات الٰہی کو اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں اور جہاں بھی انہیں کوئی مفاد نظرآئے اسی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ‘ جہاں بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی بھی مفاد ملتا ہے ۔ ان آیات کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرتے ہیں ۔ غرض آیات الٰہی کو اٹھائے یہ لوگ اغراض دنیاوی کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں ۔ اور پھر ان آیات کی گردن توڑ کر اور انہیں خوب مروڑ کر ان مفادات پر فٹ کرتے ہیں ۔ وہ الفاظ کے مفہوم میں ایسی تبدیلی کرتے ہیں کہ وہ ان کے مقاصد اور رجحانات سے موافق ہوجائیں ۔ اگرچہ یہ رجحانات دین کے اساسی تصورات اور اصول دین کے ساتھ متصادم ہوں ۔ وہ اس میدان میں سہ گانہ جدوجہد کرتے ہیں اور ہر قسم کی بہتان تراشی کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر وقت اسی گھات میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کسی طرح قرآن مجید کے کسی لفظ کا وہ مفہوم نکال لیں جو ان کی خواہشات نفسانیہ کے مطابق ہو ‘ اور جس سے یہ رائج اور صاید خواہشات ثابت ہوجائیں ۔ وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ ” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ قرآن کریم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کا جو حال بیان کیا ہے ‘ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس میں ہر وہ قوم مبتلا ہوجاتی ہے جو دین کا کام ایسے لوگوں کے سپرد کردیتی ہے جو نام نہاد دیندار ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک دین اس قدر ارزاں ہوجاتا ہے کہ اس کی قدر و قیمت ان کی اغراض دنیاوی میں سے ادنی کے غرض کے برابر بھی نہیں ہوتی ۔ اور ان کی ذمہ داری کی حس اس قدر مانگ پڑجاتی ہے کہ ان کا دل اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بھی نہیں چوکتا۔ وہ لوگوں اور بندوں کی چاپلوسی کی خاطر آیات الٰہی میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ اور اپنی غیر صحت مندخواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ اللہ کے دین میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اس خطرناک مقام سے آگاہ کرتے ہیں جہاں قدم پھسل جاتے ہیں اور جس کی وجہ سے بنی اسرائیل نے اپنے مقام قیادت کو کھودیا۔ ان آیات کے مجموعی تاثر کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ گروہ کتاب اللہ میں سے مجازی تعبیرات پر مشتمل بعض جملے تلاش کرلیتا تھا اور پھر ان آیات کو توڑ مروڑ کر ان سے ایسے معانی نکال لیتا تھا ‘ جن کی متحمل وہ آیات نہ تھیں ۔ یوں وہ اپنی تاویلات کے ذریعہ عجیب معانی نکالتے اور ان پڑھ لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہ مفاہم کتاب اللہ کے مدلولات ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ان کے ایجاد کردہ تھے ۔ وہ لوگوں سے کہتے یہ ہے وہ بات جو اللہ نے کہی ہے ۔ حالانکہ اللہ نے تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہوتی ۔ ان تاویلات کا مقصد اور ہدف یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کردیں ‘۔ یعنی تین اقنوم باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ‘ تین بھی اور ایک بھی اور وہ ایک اللہ ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے تصور سے پاک ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایسے کلمات روایت کرتے تھے جو ان کے مزعومات کی تائید کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان تحریفات اور تاویلات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندے کو نبوت کے لئے چن لے اور اس کو یہ عظیم منصب عطاکردے اور وہ بندہ لوگوں کو حکم دے کہ وہ اسے الٰہ بنالیں ۔ فرشتوں کو الٰہ بنالیں ۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔
Ayahs 3:79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی انسان کا کام یہ نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ ‘ وہ تو یہی کہے گا کہ سچے ربانی بنو ‘ جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنالو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جبکہ تم مسلم ہو۔

حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس لئے علم کتاب اور تدریس کا یہ تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی ہو ‘ پس نبی کیسے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ نبیوں اور فرشتوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیں ۔ اس لئے کہ نبی اسلام لانے کے بعد لوگوں کو کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔ حالانکہ اس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پانے کے بعد گمراہ کردے ۔ وہ اسلام کی طرف ان کا قائد ہے ‘ اسلام سے نکالنے کے لئے ان کا قائد نہیں ہے۔ اس فارمولے کے مطابق وہ بات محال ہوجاتی ہے ۔ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نیز ان کا یہ جھوٹ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تمام آیات وروایات جو وہ پڑھتے ہیں اللہ اور رسول کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ جو بات کہتے ہیں اس کی حیثیت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور وہ دعویٰ بےاعتبار ہوجاتا ہے جسے وہ بابار اسلامی صفوف میں شبہات اور خلجان پیدا کرنے کے لئے دہراتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے انہیں اچھی طرح ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ جماعت مسلمہ کے سامنے کھلے میدان میں ننگے ہوگئے ہیں ۔ ان لوگوں کی مثال بھی بعینہ ان اہل کتاب جیسی ہے جو علم دین کے مدعی ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے بالتفصیل بیان کر آئے ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان کے سامنے پیش کی جائیں ۔ کیونکہ یہ لوگ بھی قرآنی نصوص کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اللہ کے سوا کئی ارباب قائم کر رکھے ہیں اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ آیات کو توڑ موڑ کر ان سے وہ مفاہیم نکالیں جو خود انہوں نے گھڑرکھے ہیں ۔ وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ ” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ اس کے بعد تمام رسولوں اور رسالتوں کے قافلہ ایمانی کے درمیان ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے حوالے سے ‘ ایک مضبوط رابطے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام لوگ اس عہد کو توڑنے والے اور فاسق قرار پاتے ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اللہ سے کئے ہوئے عہد سے منحرف ہوتے ہیں ‘ بلکہ وہ اس پوری کائنات کے ناموس اعظم سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔
Ayah 3:81

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ آج ہم نے تمہیں کتاب و حکمت و دانش سے نوازا ہے ‘ کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس ‘ اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ‘ تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی ۔ “ یہ ارشاد فرماکر اللہ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو ‘ اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو۔ “ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں ‘ اللہ نے فرمایا۔ اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ‘

اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی خوفناک اور پختہ معاہدہ لیا ‘ اور اس معاہدے پر وہ خود گواہ بن گیا اور اپنے تمام نبیوں کو اس پر گواہ بنایا یہ معاہدہ تمام رسولوں سے لیا گیا تھا ۔ مضمون یہ تھا کہ جس رسول کو بھی کتاب و حکمت دی جائے اس کا فرض یہ ہوگا کہ وہ اس کے بعد آنیوالے رسول کی تائید کردے اگر بعد میں آنے والا رسول خود اس کی تعلیمات کی توثیق وتائید کررہا ہو ۔ تائید کے ساتھ سابقہ رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی نصرت کرے اور اس کی شریعت کی اطاعت کرے ۔ یہ معاہدہ اللہ اور ہر رسول کے مابین طے پایا تھا۔ قران کریم نے تاریخ انسانی کے طویل ترین دفتر کو لپیٹ کر تمام رسولوں کو ایک جگہ جمع کردیا ۔ وہ ایک ہی منظر میں سب جمع ہیں ۔ اللہ جل شانہ ان کو ایک ساتھ خطاب فرما رہے ہیں تو کیا انہوں نے اس معاہدے کا اقرار کرلیا اور اللہ کی بھاری ذمہ داری کو قبول کرلیا ۔ اللہ تعالیٰ سوال فرماتے ہیں قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي……………” کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟ “ وہ سب جواب دیتے ہیں ۔ قَالُوا أَقْرَرْنَا……………” ہم اقرار کرتے ہیں۔ “…………پس رب ذوالجلال اس معاہدے پر خود بھی گواہ بن جاتے ہیں اور ان کو بھی گواہ بناتے ہیں ۔ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ……………” فرمایا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ “ یہ ایک عظیم اور دہشت انگیز منظر ‘ جس کی تصویر کشی قرآن کرتا ہے ‘ اسے دیکھ کر دل کانپ اٹھتے ہیں ‘ اس منظر میں تمام انبیاء ورسل جناب باری میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ معززین ارض کا یہ قافلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ‘ ایک دوسرے پر تکیہ لگائے کھڑا ہے اور سب کے سب لوگ عالم بالا کی ربانی ہدایت کے منتظر ہیں ۔ یہ سب اسی حقیقت اور سچائی کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک ہے اور جس کے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ پوری انسانیت کی تعمیر اس کی اساس پر کی جائے جس میں کوئی انحراف نہ ہو ‘ کوئی دوئی نہ ہو ‘ کوئی تعارض نہ ہو اور کوئی تصادم نہ ہو ‘ اس سچائی کے نمائندے وہ لوگ ہیں جو لوگوں میں سے برگزیدہ ہیں ۔ ان میں سے ہر برگزیدہ اس سچائی کو دوسرے برگزیدہ کی طرف منتقل کرتا چلاآیا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی ذات کو بھی آنیوالے مختار کی طرف منتقل کرتا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ نبی کی ذات اس کی اپنی نہیں ہوتی ہے ۔ نہ اس مہم میں اس کا کوئی ذاتی مقصد یاخواہش ہوتی ہے ‘ نہ نبی ذاتی اور شخصی عزت و تکریم کے لئے کام کرتا ہے وہ تو بندہ مختار ہوتا ہے اور ایک ذمہ دار مبلغ ہوتا ہے۔ یہ ذات باری ہی ہے جو مختلف ادوار میں مختلف نسلوں کی طرف دعوت اسلامی کو منتقل کرتا چلا آتا ہے اور مختاران رسل اسے جس طرح چاہتے ہیں چلاتے ہیں ۔ دین کے اس تصور اور اللہ کے ساتھ اس سلسلے میں طے ہونے والے اس عہد کے نتیجے میں اللہ کا دین خالص ہوجاتا ہے ۔ اس میں کوئی ذاتی عصبیت نہیں داخل ہوتی ۔ یعنی رسول کی ذات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ رسول کی قوم کا اس دین پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس کے پیروکاروں اور ان کے خاندانوں کے مخفی اثرات سے بھی یہ دین پاک وصاف ہوتا ہے۔ اسی طرح متبعین کی ذات اور ان کی قوم قبیلے کی شخصیت کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ دین اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں ہر معاملہ اللہ کے اختیار میں ہوتا ہے ‘ دین بھی ایک اور اللہ بھی ایک ‘ اور اسی ایک دین کو لیکر انسانیے کی تاریخ میں قافلہ رسل بھی ایک ‘ جو نہایت ہی معزز اور ممتاز قافلہ ہے ۔ اس حقیقت کے سائے میں ہمارے سامنے اب وہ لوگ کھل کر آجاتے ہیں جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں ۔ یہ لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے ۔ اور پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ان کا کہنایہ ہے کہ وہ اپنے دین کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے ‘ حالانکہ خود ان کے دین کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نبی آخرالزماں پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت اور تائید کے لئے اٹھیں ۔ لیکن یہ لوگ محض تعصب کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لاتے ۔ اس لئے کہ یہ دین ان تک جن رسولوں نے پہنچایا ہے ان سے تو اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی پختہ عہد لیا ہے اور انہوں نے اپنے رب کے ساتھ یہ عہد باندھا ہے اور یہ عہد برسرعام اور اجلاس میں طے پایا کہ وہ نبی آخرالزمان کی نصرت کریں گے ۔ اس لئے جو لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے وہ درحقیقت فاسق اور بدکار ہیں ۔ وہ عہد شکن ہیں ۔ وہ اس کائنات کے اسی نظام کو توڑنے والے ہیں ۔ جو اپنے رب کا فرماں بردار ہے ‘ جو ناموس قدرت کا مطیع فرمان ہے ۔ اس لئے کہ یہی ناموس اس پوری کائنات کا مدبر ہے ۔ اور یہ پوری کائنات اس کی مشیئت پر چل رہی ہے ۔
Ayah 3:82

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھرجائے وہی فاسق ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی اطاعت سے صرف فاسق ہی منہ موڑسکتا ہے اور اللہ کے اس دین سے وہی شخص منہ موڑ سکتا ہے جو شاذ اور مردود ہو ‘ وہ اس کائنات کے پورے طبیعی نظام میں شاذ ہوگا اور مردود ہوگا اور اس پوری تابع فرمان کائنات میں بھی فساد کنندہ ‘ اور شر انگیز ہوگا۔ اللہ کا دین ایک ہے ‘ سب رسول ایک دین لے کر آئے ‘ سب نے اس پر پختہ معاہدہ کیا ۔ اللہ کا عہد بھی ایک ہے ‘ جس کے فریق تمام رسول ہیں ۔ لہٰذا اس دین پر ایمان لانا ‘ اس رسول پر ایمان لانا اور اتباع کرنا ‘ اس رسول کی نصرت کرنا اور اسلامی نظام قائم کرنا اور تمام دوسرے نظاموں کا مقابلہ کرنا دراصل اس عہد کی وفاداری ہے ۔ اس لئے جس شخص نے بھی دین اسلام سے روگردانی کی گویا اس نے اللہ کے تمام ادیان سے منہ موڑا ۔ اور اس نے اللہ کے عام عہدوں کو توڑا…………اس لئے کہ وہ اسلام جس سے اس کرہ ارض پے اسلامی نظام کا قیام مطلوب ہو ‘ اس کا اتباع اور اس کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ ‘ دراصل اس پوری کائنات کا اسلام اور ناموس قدرت ہے ۔ یہ اسلام اس کائنات کے ہر زندہ چرند پرند کا اسلام ہے ۔