Ayah 3:155اللہ کو ان باتوں کا علم ہے جو ذہن کے اندر تھیں ۔ انہوں نے شکست کھائی اور جب اس غزوہ میں انہیں دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کمزوری دکھائی ‘ پیٹھ دکھائی ‘ کیوں اس لئے کہ انہوں نے اپنے کمانڈر کی نافرمانی کی تھی ۔ اس کی وجہ سے ان کے نفوس متزلزل ہوگئے ۔ اس راہ سے شیطان ان کے دلوں میں داخل ہوگیا اور انہیں لغزش میں ڈال دیا اور یہ لوگ پھسل پڑے ۔ فرماتے ہیں ۔
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
” تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ “
اس سے مراد وہ تیر انداز ہوسکتے ہیں جن کے دل میں مال غنیمت کی لالچ نے جوش مارا تھا ۔ جس طرح ان کے دلوں میں یہ بات بھی آگئی تھی کہ شاید رسول اللہ ﷺ انہیں ان کا حصہ نہ دیں گے۔ یہ وہ بات تھی جو انہوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے کمائی تھی ۔ اور اسی وجہ سے شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کردیا تھا۔
لیکن اپنے عموم کے اعتبار سے وہ نفس انسانی کی اس حالت کی تصویر ہے جب اس سے کسی غلطی کا ظہور اور ارتکاب ہوتا ہے ۔ اسے اپنے اوپر قابو نہیں ہوتا۔ اللہ کے ساتھ اس کا رابطہ کمزور پڑجاتا ہے ۔ اس کی شخصیت کا توازن ختم ہوجاتا ہے ‘ اسے اپنے اوپر کنٹرول نہیں رہتا ۔ اور وہ خلجان اور وسوسوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اللہ سے ختم ہوجاتا ہے اور اسے اللہ کی رضامندی کا بھروسہ نہیں رہتا ۔ یہ مقام ہوتا جہاں شیطان حملہ آور ہوتا ہے ۔ وہ انسان کے نفس کے اندر داخل ہوجاتا ہے ۔ اب یہ ایسے شخص کی نکیل اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس سے لغزشوں پر لغزشیں کرواتا ہے اور یہ نفس اللہ کی پرامن اور مضبوط بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن اللہ پرستوں نے نبیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی انہوں نے کفار کے مقابلے میں سب سے پہلے جس ہتھیار کی توجہ کی وہ استغفار تھا۔ کیونکہ استغفار کے ذریعہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مڑجاتی تھی ۔ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق اس کی وجہ سے مضبوط ہوجاتا ۔ ان کے دلوں میں سے تمام خلجان اور غیر یقینی حالت ختم ہوجاتی ۔ تمام وساوس دور ہوجاتے اور وہ دروازہ بند ہوجاتا جس میں سے شیطان درآتا۔ اور یہ دروازہ ہمیشہ تب کھلتا ہے جب اللہ سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ انسان کی اس کی حمایت اور پناہ گاہ سے باہر نکل آتا ہے اور اس سوراخ سے جب شیطان داخل ہوتا ہے تو وہ ان کے پاؤں کو متزلزل کردیتا ہے ۔ وہ بار بار ڈگمگاتے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ انہیں اللہ کی پناہ گاہ سے بہت دور لے جاکر بےآب وگیاہ صحراء میں سرگرداں کردیتا ہے۔
اللہ بتاتے ہیں کہ میری رحمت ان کے شامل ہوگئی ہے ۔ اس لئے شیطان انہیں مجھ سے کاٹ نہ سکا۔ لہٰذا وہ معاف کردیئے گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اپنا ذاتی تعارف بھی کراتے ہیں کہ وہ غفور ہیں ‘ بخشنے والے ہیں اور بردبار ہیں ۔ غلط کاروں کو راندہ درگاہ نہیں کرتے اور نہ ہی سزادہی میں جلدی کرتے ہیں ۔ جب اللہ نے جان لیا کہ ان کے اندر اللہ کی تلاش کا داعیہ موجود ہے اور وہ اس سے جڑنا چاہتے ہیں اور اس نے جان لیا کہ وہ سرکشی نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی غلامی سے فرار چاہتے ہیں تو وہ پھر اپنی مغفرت سے نوازتا ہے۔
Ayah 3:156اب اس مضمون کا خاتمہ موت وحیات کی حقیقت کے بیان کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں کفار اور منافقین کے خیالات کس قدر کھوٹے ہیں ۔ اہل ایمان کو پکار کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا تصور حیات ‘ ان کے تصور حیات سے بالکل جدا کرلیں ۔ آخر میں مشکلات اور قربانیوں کی ایک مختلف قدر و قیمت بتائی جاتی ہے ۔ فرماتے ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(156) وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ (158)
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچارہوجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ) اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں کی حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ‘ ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤبہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “
اس معرکے کے حالات کے بیان کے دوران آیات کی مناسبت ظاہر ہے ۔ یہ منافقین مدینہ کے اقوال تھے ۔ یہ لوگ اس معرکہ کے آغاز ہی میں لشکر اسلام سے جدا ہوگئے تھے ۔ نیز مدینہ کے مشرکین بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے لیکن ان لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان قرابت کے تعلقات قائم تھے ۔ جنگ احد میں جو لوگ مارے گئے ان کے منافق رشتہ داروں اور مشرک رشتہ داروں کے لئے یہ ایک موضوع بن گیا ‘ ان کو اپنے مسلم رشتہ داروں کے دلوں میں حسرت اور مایوسی پیدا کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اور اس معرکہ میں ان لوگوں کے چلے جانے اور قتل ہوجانے کو یہ مشرک اور منافق ان کے رشتہ داروں میں از سر نو زخم تازہ کرنے کے لئے بار بار استعمال کرتے تھے ۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ اسلامی صفوں پر اس قسم کی باتوں اور پروپیگنڈے سے بہت گہرے اثرات پڑتے تھے اور ان لوگوں نے اس طرح مایوسی اور ہیجان کی فضا پیدا کردی تھی ۔ چناچہ قرآن کریم کو ان کی غلط باتوں ان کے غلط عقائد اور ان کے غلط تصورات کو درست کرنے کے لئے یہاں ان کی تردید کرنا پڑی۔ اس طرح کہ ان کی وہ باتیں خود ان کے گلے پڑگئیں۔
ایک بات کافر یہ کرتے تھے کہ اگر ہمارے ساتھ رہتے یا واپس آجاتے تو وہ نہ مرتے ۔ ان کی اس بات سے یہ بات اچھی طرح سامنے آجاتی ہے کہ ایک شخص جو کسی نظریے کا علم بردار ہوتا ہے اور وہ شخص جس کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا ان دونوں میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔ دونوں کا تصور ‘ ان اصولوں کے بارے میں جن پر زندگی رواں دواں ہے ‘ جس میں مشکلات بھی ہیں اور آسانیاں بھی ہیں ‘ بہت مختلف ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اس کائنات میں اللہ کے تکوینی اصولوں کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر مطمئن ہوتا ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتا اور مانتا ہے کہ اسے وہی کچھ پیش آسکتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا ہے ۔ اور یہ کہ جس دکھ نے اسے پہنچنا ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور جو مصیبت اس پر نہیں آئی ہے وہ آ نہیں سکتی ۔ اس لئے وہ مصیبت پر جزع وفزع نہیں کرتا اور نہ ہی مسرت اور خوشی میں آپے سے باہر ہوتا ہے ۔ اس کے نفس پر نہ اس کا اثر ہوتا ہے اور نہ اس کا ۔ وہ اس بات پر حسرت نہیں کرتا کہ اس نے یہ نہیں کہا اور وہ نہیں کیا تاکہ وہ فلاں مصیبت سے بچ جاتا یا فلاں فلاں مفاد حاصل کرلیتا ۔ جبکہ کام ہوچکا ہوتا ہے اور وقت چلا گیا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ تدبیر وتقدیر اور تجاویز وآراء کا موقعہ ومحل وہ ہوتا ہے جب کوئی واقعہ ابھی تک وقوع پذیر نہیں ہواہوتا ‘ کوئی اقدام اور کوئی حرکت ابھی ہونا ہوتی ہے ۔ جب تدبیر اور مشورہ کے بعد وہ حرکت میں آجاتا ہے تو اس کے جو نتائج بھی نکلتے ہیں وہ بڑے تسلیم ورضا اور اطمینان کے ساتھ انہیں قبول کرتا ہے ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کی یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے اوامر اور مناہی کے مطابق ضروری ہیں ۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی تدبیر کے مطابق ہوا ہے ۔ عین اس کی حکمت کے مطابق ہوا ہے ۔ اور یہ کہ جس طرح ہوا اسی طرح ہونا تھا۔ اگرچہ اس نے اپنی حرکت اور فعل سے اس کے اسباب فراہم کئے ۔ یوں نظریہ عمل اور اس کے نتائج تسلیم کرنے کے درمیان ایک توازن ہوتا ہے ۔ وہ توکل اور مثبت سوچ کے درمیان بھی توازن پیدا کردیتا ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کا ہر اقدام درست ہوتا ہے اور ضمیر مطمئن ہوتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جن کا دل و دماغ نظریہ اور اس نظریہ کے تحت مثبت تصور حیات سے خالی ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ ہوا میں ہوتا ہے ‘ ہمیشہ قلق و پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی ” اگر مگر “” اے کاش “ اور ” اے افسوس “ جیسے الفاظ میں گزرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ‘ جماعت مسلمہ کی تربیت کرتے ہوئے ‘ واقعات احد کی روشنی میں ‘ جن میں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ‘ انہیں اس امر سے شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں کہ ان کا رویہ کہیں ان بےعقیدہ اور بےنظریہ کافروں کی طرح نہ ہوجائے ‘ جو ہر وقت حسرتوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔ جب بھی ان کا کوئی رشتہ دار ‘ کسی سفر پر برائے تجارت اور کاروبار بن جاتا ہے اور وہاں بقضائے الٰہی فوت ہوجاتا ہے یا کبھی کسی معرکے میں شریک ہوتا ہے اور قتل ہوجاتا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ کافروں کی سی باتیں نہ کرو ‘ جن کے عزیز و اقارب اگر سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچار ہوجاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ۔ “ یہ باتیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں ان کی سوچ غلط ہے ۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ اس کائنات کے واقعات کے پیچھے دست قدرت کام کررہا ہے ۔ وہ صرف اس قدر دیکھ سکتے ہیں جس قدر ظاہری اسباب نظر آتے ہیں ۔ وہ صرف ان سطحی حالات کو دیکھ سکتے ہیں جن میں کوئی واقعہ رونما ہوا ‘ یہ محض اس لئے کہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ نہیں ہے ‘ اور وہ اس دست قدرت کو نہیں دیکھ سکتے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔
لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ……………” اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے۔ “ ان کا احساس یہ ہے کہ جو شخص تجارتی مقاصد کے لئے نکلتا ہے اور کسی حادثہ کا شکار ہوجاتا ہے یا کسی معرکے کے لئے نکلتا ہے اور وہاں قتل ہوجاتا ہے ‘ اس کا اصلی سبب گویا اس شخص کا خروج ہے اور یہی غلط احساس ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ حسرت واندوہ میں ہر وقت ڈوبے رہتے ہیں کہ کیوں نہ انہوں نے انہیں اس سفر ‘ اس معرکے کے لئے نکلنے سے منع کیا ؟ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اس کی حقیقی علت اور اصلی سبب تو یہ ہے کہ اس شخص کا وقت آپہنچا تھا ‘ اسے اس کی قتل تک جانا تھا ‘ تقدیر اسے بلارہی تھی ‘ موت وحیات کے بارے میں سنت الٰہیہ نے اپنا کام شروع کردیا تھا ‘ تو وہ اس طرح حسرت واندوہ میں نہ ڈوبتے ۔ وہ اس ابتلا میں صبر و سکون سے رہتے ‘ وہ اس میں راضی برضا اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتے اور کہتے وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ……………” اور تمہاری تمام حرکات پر وہ نگراں ہے۔ “
Ayahs 3:157–158اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “
غرض اللہ کی راہ میں موت اور قتل ہونا ‘ ان شرائط وقیود کے ساتھ ‘ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ان تمام دنیوی مفادات اور مال و منال سے بہتر ہے جسے رات دن لوگ جمع کررہے ہیں ۔ اس عزت واحترام سے بہتر ہے جس کے لئے لوگ کوشاں ہیں ۔ یہ موت اس لئے بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور مغفرت نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ کے میزان حقیقت نما میں یہ بہتر ہے ‘ ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ یہ مغفرت اور یہ رحمت ہی مطلوب مومن ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ موت وحیات کے اس مقام میں لوگوں کو شخصی برتری اور انسانی مقاصد اور سربلندیوں کے حوالے نہیں کرتے ‘ بلکہ انہیں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو اللہ کے ہاں ہے ‘ ان کے دلوں کو رحمت خداوندی سے جوڑا جاتا ہے ، اور رحمت خداوندی کو یونہی دنیا مال ومنال سے زیادہ خیر اور قیمتی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے تمام ممکنہ مقاصد سے ‘ اسے برتر اور قیمتی قراردیا جاتا ہے ۔
سب لوگ لوٹ کر اللہ کی طرف جائیں گے ‘ سب لوگ حشر کے دن اٹھاکر اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ چاہے وہ اپنے بستر پر مریں ‘ چاہے وہ کرہ ارض پر کسی تجارتی سفر میں مریں اور چاہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید ہوں۔ جانا انہوں نے بہرحال اللہ کی طرف ہے ۔ انجام کار انہوں نے وہاں حاضر ہونا ہے ۔ فرق اگر کوئی ہے تو وہ صرف لوگوں کے نقطہ نظر ‘ ان کے مطمح نظر اور طرزعمل میں ہے ۔ رہا واقعی عملی انجام تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ایک مقررہ وقت میں ‘ ایک مقررہ مقام پر ‘ تحریر شدہ تقدیر کے مطابق جو اٹل ہے ‘ ہر شخص کی موت واقع ہوگی ۔ یوں وہ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ‘ اور پھر ایک مقرر وقت قیامت میں وہ حشر کے میدان میں اٹھے گا ۔ وہاں یا وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت پانے والوں میں ہوگا یا وہ غضب الٰہی اور عذاب الٰہی کے چنگل میں جائے گا۔ اس لئے وہ شخص احمق الحمقاء ہے ‘ جو اپنے لئے برا انجام پسند کرتا ہے ‘ جبکہ اسے ہر حال میں مرنا تو ہے ۔
یوں دلوں میں حقیقت موت وحیات بیٹھ جاتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر کا درس دیا جاتا ہے اور یوں قلوب مومنہ تقدیر کے رواں دواں واقعات کو دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تقدیر کے پردے کے پیچھے جو حکمت کارفرماہوتی ہے اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ابتلا میں جو ثواب آخرت ہے اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس پر غزوہ احد کے اہم واقعات یہاں ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جو متعلقہ باتیں تھیں ان پر کلام ختم ہوجاتا ہے۔
اب سیاق کلام ایک نئے مضمون کو جنم لیتا ہے ۔ اس مضمون کا موضوع قائد انقلاب کی شخصیت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی صفات کے بارے میں ‘ حقیقت نبوت کے بارے میں اور امت مسلمہ کی زندگی ذات نبوی اور حقیقت نبوت کے اہم کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اس امت کے ساتھ کس قدر رحیم وکریم ہیں۔ اس موضوع کے ساتھ کچھ اور تاریں بھی ملی ہوئی ہیں کہ جماعت مسلمہ کی تنظیم کے سلسلے میں ربانی طریق کار کیا ہے۔ اور یہ کہ اس تنظیم کی اساس کیا ہے ۔ یعنی کن نظریات پر اسے قائم کیا گیا ہے اور کن حقائق پر وہ استوار ہے ۔ نیز اس تصور حیات کی اہمیت کیا ہے اور تنظیم کے لئے اس ربانی منہاج کی اہمیت کیا ہے اور پھر اس منہاج کا اثر پوری انسانیت پر کیا ہوگا ؟
Ayah 3:159اس پیراگراف کا موضوع اور محور حقیقت نبوت اور ذات نبوی ہے ۔ اور اس محور کے متعلقہ حقائق کو اس میں لیا گیا ہے ۔ اس میں نظر آتا ہے کہ بڑے بڑے اصول چھوٹی چھوٹی عبارتوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اللہ کی رحمت کو مجسم کرکے نبی ﷺ کے اخلاق اور طرز عمل کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ آپ کی ذات کریمہ نہایت ہی مہربان ‘ نہایت ہی رحم دل ‘ نہایت ہی نرم اور نہایت ہی سہل شکل میں پیش کی گئی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ لوگ پروانوں کی طرح ان کے اردگرد جمع ہوتے ہیں ۔ آپ کے اردگرد ہر وقت ایک بڑی تعداد جمع رہتی ہے ۔ پھر اس محفل میں صاف صاف نظر آتا ہے کہ اس جماعت کا قیام جس کے نظام کے تحت ہے وہ اصول شوریٰ پر قائم ہے ۔
حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جماعت باہم مشورہ کرکے فیصلے کرے ‘ اگرچہ اس مشورے کے تحت ہونے والے فیصلوں کے نتائج تلخ ہوں۔ پھر شوریٰ کے اصول کے ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ دانشمندی اور شوریٰ کے ذریعے فیصلے کئے جائیں اور پھر ان پر عمل کیا جائے ۔ اور یہ عمل فیصلہ کن ہو ۔ اور شوریٰ اور عزم کے بعد پھر توکل کرکے کام کیا جائے ۔ جب منصوبہ تیارہوجائے ‘ اس پر شوریٰ ہوجائے اور پھر اس فیصلہ کن عمل اور اس کا اجراء (Execution) شروع ہوجائے اور اس کے لئے ہر قسم کا انتظام ہوجائے ‘ تو پھر توکل علی اللہ کا مرحلہ آتا ہے اور پھر قدرت الٰہیہ اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ پھر مسلمان اپنا کام اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اس لئے کہ تمام امور میں حقیقی فاعل اور حقیقی متصرف تو صرف اللہ کی ذات ہے ۔ حقیقی تصرف اس کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ۔ تمام نتائج اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ ان امور کے ساتھ ساتھ پھر یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت بہت ہی بڑا جرم ہے ۔ اس سے طمع اور لالچ کا اظہار ہوتا ہے۔ جماعت کے اندر افراتفری پیدا ہوتی ہے ۔ اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے جو شخص اللہ کی رضامندی کے لئے کام کرتا ہے اور جو اللہ کی نافرمانی اور غضب کی راہ پر ہے ان دونوں میں بڑا فرق و امتیاز ہے ۔ دونوں کی اقدار اور ترجیحات میں فرق ہوتا ہے ۔ دونوں کے پیمانہ نفع ونقصان میں فرق ہوتا ہے ۔ آخر میں اہل اسلام اور اہل دنیا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت تمہارے لئے بڑی نعمت ہے اور تم پر ایک عظیم احسان ہے اور معمولی اموال غنیمت جس کے لئے تم دوڑتے ہو اس قیمتی اثاثہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ نیز اس عظیم خزانے کے حصول کے لئے وہ مصائب کچھ نہیں جو تم پر آئے ہیں ۔ یہ عظیم دولت تو عظیم قربانی کا تقاضا کرتی ہے ۔
ہدایات ومعانی کی یہ فوج ہے جو چند فقروں اور آیات میں دریا کو کوزے میں بند کرکے پیش کردی گئی ہے ۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
” اے پیغمبر یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بڑے نرم مزاج واقعہ ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ۔ ان کے قصور معاف کردو ‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ اور اہم امور میں ان سے مشورہ کیا کرو ۔ پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “
یہاں روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے ۔ لیکن یہ بات رسول کی قوم کی کچھ کمزوریوں کو سامنے رکھ کر کی جارہی ہے کہ پہلے وہ مدینہ سے باہر نکلنے میں بڑے پرجوش تھے ۔ اس کے بعد ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہوگیا ۔ پورے لشکر کا ایک تہائی حصہ تو جنگ سے پہلے ہی واپس ہوگیا۔ اس کے بعد تیراندازوں نے رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کی ۔ انہوں نے مال غنیمت دیکھ کر کمزوری کا مظاہرہ کیا ۔ پھر جب رسول ﷺ کے قتل کی جھوٹی خبر عام ہوگئی تو یہ لوگ کمزور پڑگئے اور الٹے پاؤں پھرگئے ۔ اور ہزیمت قبول کرلی ۔ رسول ﷺ ایک قلیل تعداد کے ساتھ جم گئے ‘ زخم پر زخم آتے رہے اور ساتھی چھوڑگئے ۔ پھر آپ نیچے سے پکارتے ہیں لیکن وہ بھاگے چلے جارہے تھے اور کسی کی طرف ان کی توجہ ہی نہ ہورہی تھی ۔ اس صورت حال میں روئے سخن آپ ﷺ کی طرف ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور مسلمانوں کو یہ شعور واحساس دیا جاتا ہے کہ ان پر اللہ کا کس قدر عظیم انعام ہے ۔ رسول ﷺ اور مسلمانوں دونوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ مجسم خلق کریم اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ وہ اس کے محور کے اردگرد جمع ہورہے ہیں ۔ اس طرح رسول ﷺ کے دل میں پوشیدہ جذبات رحمت کو جوش میں لایا جاتا ہے اور آپ صبر کرکے ان کی وہ تمام لغزشیں معاف فرماتے ہیں اور دوسری طرف ان کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اس رؤف رحیم نبی کی صورت میں ان پر کس قدر انعام ہوا ہے ۔ اور رسول ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ بھی ان کے لئے عفو و درگزر کا سوال کریں ۔ اور یہ کہ حسب سابق ان کے ساتھ مشورہ کرتے رہیں اور یہ نہ ہو کہ احد میں مشورے کے نتیجے میں جو معرکہ ہوا اور اس میں جو نامطلوب نتائج نکلے ‘ اس کی وجہ سے باہم شوریٰ جیسے اہم کام کو بند کردیں۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ……………” اے پیغمبر یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بہت نرم مزاج واقعہ ہوئے ہو۔ ورنہ اگر تم تنگ خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ۔ “
یہ اللہ کی رحمت تھی جو رسول ﷺ کے بھی شامل حال تھی اور آپ کو ان کے لئے رحیم وشفیق اور نرم خو بنادیا اور خود ان کے لئے بھی رحمت تھی کہ آپ نے بوجہ نرمی مزاج ان سے باز پرس نہ کی ۔ اگر آپ سنگ دل ہوتے ‘ تنگ مزاج ہوتے تو یہ جمعیت منتشر ہوجاتی ‘ لوگوں کے خیالات آپ کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوتے ۔ عوام الناس کو تو ایک پر شفقت بارگاہ درکار ہوتی ہے ‘ جہاں ان کے ساتھ نہایت رعایتی برتاؤ کیا جاتا ہو ‘ جہاں خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا جاتا ہو ‘ جہاں سے انہیں محبت ملتی ہو ‘ جہاں ان کی غلطیوں ‘ کمزوریوں اور نقائص سے درگزر کیا جاتا ہو ۔ جہاں قائد اتنے بڑے دل کا مالک ہو کہ وہ انہیں سب کچھ دے رہا ہو ‘ لیکن ان سے کچھ نہ لے رہا ہو ‘ جہاں قائد اپنے پیروکاروں کی مشکلات اپنے سر لیتا ہو لیکن ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالتاہو ‘ اور جہاں پیروکاروں کو ہمیشہ رعایت ‘ اہمیت ‘ خندہ پیشانی ‘ نرمی اور محبت اور رضامندی ملتی ہو اور رسول اکرم کا دل ایسا ہی دل تھا اور آپ کا برتاؤ لوگوں کے ساتھ بعینہ ایسا تھا۔ کبھی وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی پہ غصہ نہیں ہوئے ‘ کبھی بھی انسانی کمزوری کی وجہ سے آپ نے تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ کبھی آپ نے اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کو ‘ اپنی ذات کے لئے مخصوص نہیں کیا ۔ بلکہ آپ کو جو کچھ بھی ملا آپ نے کھلے ہاتھوں سب کچھ ان پر تقسیم کردیا ۔ غرض آپ کے صبر ‘ حلم ‘ ہمدردی ‘ محبت اور شرافت نے ہمیشہ انہیں ڈھانپے رکھا ۔ اور ان میں سے جس نے بھی رسول ﷺ کے ساتھ یکجا زندگی کے کچھ ایام بسرکئے یا آپ کو محض ایک نظر ہی دیکھ لیا وہ آپ ﷺ کا گرویدہ ہوگیا۔ اس لئے ذات باری نے آپ کو ایک عظیم اور رحیم وکریم شخصیت عطافرمائی تھی ۔ اور یہ سب کچھ آپ ﷺ پر بھی اللہ کی رحمت تھی اور دوسرے پہلو سے آپ کی امت پر بھی کرم تھا۔
اس کرم کو یاد دلاکر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو وہ اصولی بات بتاتے ہیں جس پر آئندہ جماعت مسلمہ کی تنظیم ہونا مطلوب تھی وہ یہ کہفَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ……………” اور ان کے ساتھ الامر میں مشورہ کرو۔ “ یہ ایک قطعی نص ہے اور تاکیدی ہے ۔” ان کے ساتھ الامر میں مشورہ کرو۔ “ اسلام یہ اصول نظام حکومت میں لازم قرار دیتا ہے ۔ اگرچہ اس نظام حکومت میں ہیڈآف اسٹیٹ محمد ﷺ ہوں۔ یہ قطعی نص اس بارے میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی کہ اسلامی نظام مملکت میں شوریٰ ایک اساسی اصول (Principle) ہے۔ اس کے سوا اسلام کا نظام مملکت قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ رہی یہ کہ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہو ‘ شوریٰ کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے ‘ تو یہ ایسے امور ہیں جن کی صورت اور شکل مختلف ہوسکتی ہے۔ ہر علاقے کے حالات کے مطابق مختلف شکل و صورت میں شوریٰ قائم کی جاسکتی ہے ۔ ہر وہ شکل و صورت جس کے ذریعہ شوریٰ کے مقاصد پورے ہوسکیں ۔ یہ نہ ہو کہ محض ایک دکھاوا ہو ۔ جس صورت اور جس شکل میں صحیح اغراض پورے ہوں وہی اسلامی ہوگی۔
یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ جب یہ آیت اتری تھی تو اس سے پہلے مجلس شوریٰ کا انعقاد ہوگیا تھا اور شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے احد کی جنگ لڑی گئی اور جس کے تلخ نتائج برآمد ہوئے ۔ اس شوریٰ کے انعقاد کی وجہ سے پہلا نقصان تو یہ ہوا کہ اسلامی صفوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ‘ آراء مختلف ہوئیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمان مدینہ میں پناہ لیتے ہوئے لڑیں ۔ جب دشمن حملہ کرے تو تنگ گلیوں کے اندر اسے آلیاجائے لیکن اس کے مقابلے میں ایک پرجوش گروہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر میدان میں معرکہ آرائی کی جائے ۔ ان اختلافی آراء ہی کی وجہ سے لشکر اسلام میں تفرقہ ہوگیا اور عبداللہ بن ابی بن السلول کو موقع مل گیا کہ وہ ایک تہائی لشکر کو لے کر واپس ہوجائے ۔ یہ اس وقت ہوا جب دشمن دروازے پر کھڑا تھا۔ یہ ایک بڑا حادثہ تھا ‘ اور اسلامی صفوں میں بظاہر بڑی دراڑ تھی ۔ پھر اس شوریٰ کے نتیجے میں جو فوجی منصوبہ تیار ہوا ‘ وہ عملاً ظاہر ہوگیا کہ وہ کوئی محفوظ جنگی اسکیم نہ تھی ۔ خود جنگی نقطہ نظر سے ۔ اس لئے کہ مدینہ کی دفاعی تاریخ سے یہ منصوبہ مختلف تھا جیسا کہ عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے اس مجلس میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاریخی حقیقت بتائی تھی کہ وہ جب بھی مدینہ کے اندر لڑے ہیں کامیاب رہے ہیں اور غزوہ احزاب میں خود مسلمانوں نے بھی جنگ احد کی اسکیم کی تصحیح کرتے ہوئے مدینہ کے اندر لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ کامیاب بھی رہے ۔ انہوں نے خندق کھودی ۔ دشمن کے مقابلے میں باہر نہ نکلے ۔ اس لئے کہ جنگ احد میں انہوں نے جو تجربہ حاصل کیا تھا اس کا یہی تقاضا تھا۔
خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کے نتائج خطرناک ہوں گے ۔ آپ کے پاس رویائے صادقہ کے ذریعے بھی کچھ اشارات آچکے تھے ۔ آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کے خواب بالکل سچے ہوتے ہیں ۔ آپ نے اس کی یہ تاویل پہلے سے کردی تھی کہ آپ کے خاندان میں سے کوئی شہید ہونے والا ہے اور آپ کے ساتھی بھی شہادت پانے والے ہیں ۔ نیز آپ کے خوابوں کی تعبیر کرتے ہوئے مدینہ کو محفوظ ڈھال قرار دیا تھا۔ ان حالات میں آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ مجلس شوریٰ کے فیصلے کو ویٹو کردیتے لیکن آپ نے بادل ناخواستہ اس فیصلے کو نافذ (Execute) کیا۔ حالانکہ اس کے پیچھے جو مشکلات جو قربانیاں اور جو نقصانات پوشیدہ تھے ‘ انہیں آپ کی پیغمبرانہ بصیرت دیکھ رہی تھی ۔ اس لئے کہ اصول شوریٰ کی بنیاد رکھی جارہی تھی ‘ جماعت کو تعلیم دی جارہی تھی ‘ اور یہ امور ان وقتی خساروں سے زیادہ اہم تھے ۔
حق تو یہ تھا کہ کم ازکم معرکہ احد کے بعد اصول شوریٰ کو ترک کردیا جاتا ۔ کیونکہ اس شوریٰ کی وجہ سے اختلاف ہوئے ‘ اسلامی صفوں میں انتشارپیدا ہوا۔ اور یہ انتشار مشکل حالات میں ہوا۔ اور معرکے کے بعد خوفناک نتائج سامنے آگئے ۔ لیکن اسلام نے ایک امت کو برپا کرنا تھا ‘ اس کی تربیت کرنی تھی ‘ اسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کسی قوم کی بہترین تربیت اور اس کو ایک ہدایت یافتہ بنانے کے لئے صرف اصول شوریٰ پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ اسے شوریٰ کے نتائج برداشت کرنے کے لئے بھی تیار کرنا تھا۔ اس سے غلطیاں سرزد کرانی تھیں ‘ چاہے وہ جس قدر عظیم ہوں تاکہ آئندہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں آگے بڑھے ‘ چاہے یہ نتائج کتنے ہی تلخ ہوں ‘ وہ اپنی تصحیح کرسکے ۔ اور اپنی آراء کے نتائج ‘ اچھے یابرے بھگت سکے ۔ اس لئے کہ جب تک اس سے غلطی سرزد نہ ہوگی ‘ وہ درستی کر ہی نہیں سکتی ۔ اگر کسی نقصان کے نتیجے میں ایک ایسی امت وجود میں آتی ہے ‘ جو تجربہ کار ‘ فہیم اور نتائج کو برداشت کرنے والی ہو تو ان نقصانات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ اور اگر کسی قوم کے نقصانات غلطیوں اور لغزشوں کو محدود کردیا جائے لیکن اسے تجربات سے بھی محروم کردیاجائے تو یہ امت اسی طرح ناتجربہ کار رہے گی جس طرح بچہ ناتجربہ کار رہتا ہے۔ وہ ایک ایک قدم پر نگران کے تحت ہوتا ہے ۔ اس حالت میں بچے کی طرح اس قوم کو مادی نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اور مادی مفادات بھی اسے دستیاب نہیں ہوسکتے ‘ نفسیاتی لحاظ سے اس قوم کو خسارہ ہوتا ہے ‘ اس کے باوجود کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ اس کی تربیت ناقص ہوتی ہے اور عملی زندگی کا اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اور اس کی مثال اس بچے کی سی ہوتی ہے جسے کوئی چیز ہاتھ میں نہیں دی جاتی۔
اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ وہ ایک ایسی قوم تیار کرے جو ایک تجربہ کار قوم ہو۔ اور اس کا منصوبہ یہ تھا کہ اسے بشریت کی ہدایت یافتہ قیادت کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس لئے یہ ضروری تھا کہ یہ امت ایک بالغ امت ہو اور اس کی عملی زندگی میں اسے گرنے پڑنے سے بچانے کے لئے کوئی مددگار نہ دیا جائے تاکہ وہ تجربہ کار ہو۔ اور یہ تجربہ اسے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں حاصل ہو۔ اور آپ کی نگرانی میں ہو۔ اگر ایک بالغ النظر قیادت کی وجہ سے یہ مناسب ہوتاق کہ اب شوریٰ کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور امت کی تربیت ضروری نہ ہوتی اور خطرناک واقعات میں اس کے ساتھ مشورے اور اس کی آراء پر چلنے کی ضرورت نہ ہوتی مثلاً معرکہ احد جیسے مراحل میں ‘ کیونکہ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا ‘ اس وقت امت مسلمہ ایک نوخیز امت تھی ‘ ہر طرف سے خطرات میں گھری ہوئی تھی ‘ دشمن چار سوگھات میں تھے ۔ اس لئے ایسے حالات میں اگر مناسب ہوتا کہ بالغ نظر قیادت سب فیصلے خود کرتی اور اسے حق بھی تھا اور ایسے حالات میں شوریٰ کی ضرورت نہ ہوتی کیونکہ حالات خطرناک تھے ‘ اور پھر اس وقت حضرت محمد ﷺ بھی موجود تھے اور وحی بھی آرہی تھی تو ایسے حالات میں امت کو حق شوریٰ سے محروم کیا جاسکتا تھا ۔ اور خصوصاً ان حالات میں جبکہ احد میں تمام ترتلخ واقعات شوریٰ ہی کی وجہ سے ظاہر ہوئے ‘ حالانکہ اس وقت یہ امت نہایت ہی خطرناک اور ہنگامی حالات سے گزررہی تھی لیکن رسول ﷺ کے وجود مبارک کے باوجود ‘ وحی الٰہی کے آنے اور آتے رہنے کے باوجود ‘ اور اس قسم کے تلخ نتائج شوریٰ ظہور پذیر ہونے کے باوجود اور خطرناک اور ہنگامی حالات موجودہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حق شوریٰ کو ختم نہ فرمایا۔ چاہے جس قدر نقصان ہوجائے ‘ چاہے اسلامی افواج میں جس قدر اختلاف وافتراق پیدا ہوجائے ‘ چاہے اس کے جس قدر تلخ نتائج ظہور پذیر کیوں نہ ہوں ‘ چاہے مدینہ کے اردگرد کے حالات اس نوخیز امت کے لئے بہت خطرناک اور ہنگامی کیوں نہ ہوں ۔ اس لئے کہ یہ تمام امور ایک بالغ اور تجربہ کار امت کے بروئے کار لانے کے مقصد عظیم کے مقابلے میں ضروری واقعات ہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ عملاً امت تجربہ کار ہو ‘ اچھی یا غلط رائے کے نتائج ہضم کرنے کے اہل ہو ۔ کسی رائے اور عمل کے نتائج کا ادراک کرسکتی ہو۔ یہی وجہ ہے اور یہی وجوہات ہیں کہ ایسے حالات میں یہ آیت نازل ہوئی : فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ……………” ان کے قصور معاف کردو ‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ‘ ان کو شریک مشورہ رکھو۔ “
فیصلہ یہ کیا گیا کہ خطرناک ترین حالات میں بھی اس اصول ‘ اصول مشورہ کا بحال رکھنا ضروری ہے ۔ اور احد جیسے حالات میں اور ان کے بعد جیسے حالات میں بھی اس پر عمل ضروری ہوگا۔ اور مقصود یہ تھا کہ آئندہ کے لئے کوئی بہانہ نہ بنائے کہ چونکہ مشورہ کے بعد بعض برے نتائج ظاہر ہوسکتے ہیں اس لئے ہم اس اصول کو ساقط کرتے ہیں ۔ مثلاً احد کے حالات اس کی بہترین مثال ہیں ۔ کہ دشمن دروازے پر دستک دے رہا تھا لیکن مشورہ بھی جاری تھا۔ اس لئے ایک بالغ النظر امت تب ہی پیدا ہوسکتی ہے جب اصول مشورہ لازمی ہو ‘ اور پوری قوم کی بالغ النظری وہ قیمتی مقصد ہے جس کے لئے چھوٹے بڑے خسارے برداشت کئے جاسکتے ہیں ۔
لیکن اسلامی نظام کی سیاسی تصویر اور تشکیل اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک ہم اس آیت کے اگلے حصے پر غور نہ کریں۔ یہ بات عیاں ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ مجلس شوریٰ کے نتیجے ہمیشہ قابل ترجیح اور دانشمندانہ فیصلہ ہوجائے ۔ آخرکارفیصلہ یہی ہوگا کہ کسی ایک بات پر توکل علی اللہ کرکے عمل شروع کردیاجائے۔ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ……………” اور جب کوئی آخری فیصلہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “
شوریٰ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف آراء سامنے آجائیں اور مجلس میں جو آراء پیش ہوں ان سے ایک کو قبول کرلیا جائے ۔ جب کوئی فیصلہ ہوجائے تو اس وقت شوریٰ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور اب فیصلے کے نفاذ (Execution) کا دور شروع ہوجاتا ہے ۔ اور اس تنقیدی مرحلے کے لئے بڑے پختہ عزم اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے ۔ اس مرحلے پر اللہ پر بھروسے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور معاملہ اب اللہ کے ہاں چلا جاتا ہے ۔ اللہ کی تقدیر کے سپرد ہوجاتا ہے ۔ اب یہ اللہ کی مشیئت کا کام ہوتا ہے کہ وہ کیا فیصلہ اور نتائج ظاہر کرتی ہے ۔ جس طرح رسول اکرم ﷺ نے اپنے ربانی انداز میں شوریٰ کا سبق پڑھایا۔ امت کو دکھایا کہ اظہار رائے کا انداز کیا ہوتا ہے اور فیصلے کے بعد اس کے نتائج کو کس طرح برداشت کیا جاتا ہے خصوصاً خطرناک حالات میں ۔ اسی طرح رسول ﷺ نے امت کے فیصلے ‘ کسی شورائی فیصلے کی تنفیذ کے سلسلے میں بھی سبق دیا۔ اور توکل علی اللہ کا انداز بھی سکھایا۔ اور اپنے آپ کو تن بتقدیر اللہ کے حوالے کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ۔ حالانکہ واقعات کے رونما ہونے کا آپ کو اچھی طرح اندازہ تھا۔ واقعات کا رخ آپ کے علم میں تھا لیکن آپ نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کے فیصلے کی تنفیذ فرمادی ۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور زرہ اور خود زیب تن فرمائی ۔ اور آپ کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں ؟ آپ اور آپ کے صحابہ کو کن مصائب اور مشکلات سے دوچار ہونا ہے ۔ یہاں تک کہ جب باہر لڑنے والے پرجوش لوگوں نے دوبارہ مشورہ دیا اور موقعہ فراہم کردیا کہ فیصلے کو بدل دیاجائے اور نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کو پڑھ کر انہوں نے محسوس کرلیا کہ ان کے جوش و خروش نے رسول ﷺ کو باہر لڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ حالانکہ آپ ایسا نہ چاہتے تھے اور انہوں نے دوبارہ اختیار آپ کو دے دیا کہ آپ مدینہ کے اندر لڑیں یا باہرلڑیں تو آپ نے اس پر دوبارہ غور کرنے کے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ انہیں ایک سبق دینا چاہتے تھے ۔ آپ شوریٰ (Parliament) کے فیصلوں کی مثال قائم کرنا چاہتے تھے ۔ یہ چاہتے تھے کہ جب فیصلہ پختہ اور آخری ہوجائے تو پھر دوبارہ غور کے بجائے اس کا نفاذ چاہئے ۔ اللہ پر توکل کرنا چاہئے جو ہو ‘ سو ہو۔ آپ یہ بھی دکھانا چاہتے تھے کہ شوریٰ کا ایک ہی وقت ہوتا ہے ۔ فیصلے کے بعد تردد اور ڈانواں ڈول نہیں ہونا چاہئے ۔ دوبارہ غور کرکے از سر نوفیصلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس لئے کہ اس طرح کوئی بات آخری نہ رہے گی ‘ فیصلے بار بار بدلیں گے اور دوبارہ غور کی اگر مثال قائم ہوجائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہوگا ۔ بس شوریٰ (Parliament) کا فیصلہ ہو اور پھر نفاذ ہو اور توکل علی اللہ ہو اس لئے کہ اسے اللہ پسند کرتا ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ……………” بیشک اللہ تعالیٰ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔ “
اور وہ صفت جسے اللہ پسند کرتے ہیں اور اس صفت سے متصف لوگوں کو محبوب رکھتے ہیں تو اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ صفت ان کے اندر بدرجہ کمال پائی جائے اور وہ اس کے لئے بےحد حریص ہوں بلکہ وہ مومنین کی صفت ممتاز ہونی چاہئے ۔ توکل علی اللہ اور سپردم بتومایہ خویش را ‘ اسلامی تصور حیات اور اسلامی زندگی کا خط توازن ہے ۔ اب معاملہ اس کائنات کی عظیم حقیقت کے سپرد ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ آخری فیصلہ اللہ کے ہاں ہوگا ‘ اب وہ ہوگا جو وہ چاہے ۔
احد کے عظیم تجربات میں سے ایک عظیم تجربہ اور یہ ایک عظیم سبق تھا۔ یہ سبق امت مسلمہ کے لئے ہر اس دور اور ہر زمانے میں ایک قیمتی سرمایہ ہے ۔ یہ صرف ایک دور ہی کی بات نہیں ہے بلکہ ہر دور کے لئے ہے ۔
Ayah 3:160حقیقت توکل کو مزید ذہن نشین کرانے کے لئے اور اس کے اصول کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لئے اگلی آیت میں ذرا تفصیل سے واضح کرکے اس حقیقت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ حقیقی قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ فتح و کامرانی اور شکست اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اگر نصرت چاہتے ہو تو اسی سے چاہو اور اگر شکست سے بچنا چاہتے ہو تو اسی کے آگے گڑگڑاؤ۔ اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ ‘ اسی پر بھروسہ کرو ‘ لیکن پوری تیاری کے بعد ‘ نتائج سے بےفکر ہوجاؤ اور نتائج و عواقب اللہ پر چھوڑ دو ۔
إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
” اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ‘ اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
اس کی وجہ سے ایک مومن کا تصور اس بات سے پاک ہوجاتا ہے کہ کوئی چیز اللہ کے سوا کسی اور سے بھی طلب ہوسکتی ہے ۔ ایک مومن کی سوچ براہ راست اس ذات کے ساتھ پیوست ہوجاتی ہے جو اس کائنات میں حقیقتاً متصرف ہے ۔ اس لئے وہ ان تمام کھوٹے خداؤں اور باطل اسباب سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ان کی حمایت اور نصرت طلب نہیں کرتا ۔ اور وہ اچھے نتائج کے لئے صرف اللہ وحدہٗ پر توکل کرتا ہے ۔ اسی سے توقع کرتا ہے کہ وہ معاملات کو اچھے رخ پر ڈالے گا ‘ اور اپنی حکمت سے درست کرے گا ۔ اس عقیدے کے بعد پھر تقدیر الٰہی کے نتیجے میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسے بڑی فراخ دلی سے قبول کرتا ہے ۔ فکر ونظر کا یہ ‘ وہ توازن ہے جسے انسانی فکر نے ‘ صرف اسلام کے زیر سایہ پایا۔
Ayah 3:161اس کے بعد بات نبوت اور خصائص نبوت کی طرف چلی جاتی ہے تاکہ اس موضوع کے بعد امانت ودیانت کے بارے میں کچھ ہدایات دی جائیں ‘ مثلاً یہ کہ مال غنیمت میں کسی قسم کی بددیانتی اور چوری سخت معیوب چیز ہے ۔ اور یہ کہ جو شخص بھی اجتماعی امانتوں میں بددیانتی کرے گا وہ اس کا حساب دے گا۔ اور ہر شخص کا حق اسے پورا پورا دیا جائے گا۔
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ
” کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرجائے ……اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورابدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
احد کی پہاڑی اور گھاٹی سے تیراندازوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اپنی جگہ اس لئے چھوڑ دی تھی کہ انہیں یہ خوف دامن گیر ہوگیا تھا کہ شاید بعد میں رسول اللہ ﷺ انہیں کوئی حصہ نہ دیں۔ اس طرح جنگ بدر کے اموال غنیمت میں بعض منافقین نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ غنیمت میں سے کچھ چیزیں غائب ہوگئی ہیں ۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ حیا بھی نہ آئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا نام لینے سے تو احتراز کریں۔
اس لئے اس آیت میں یہ حکم اور قاطع فیصلہ آگیا کہ حضرت محمد کیا کوئی نبی بھی ہرگز یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اموال غنیمت میں سے کوئی چیز ادہر ادہر کردے۔ یعنی مال غنیمت میں سے کوئی چیز علیحدہ رکھ لیں اور یہ کہ وہ بعض فوجیوں کو زیادہ حصہ دیں یا غرض وہ کسی طرح کی کوئی خیانت کریں۔ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ……………” نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ مال غنیمت میں کوئی خیانت کرے۔ “
یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ وہ اس کے مزاج اور طبیعت نبوت کے خلاف ہے۔ وہ اس کے اخلاق کے خلاف ہے کہ ایسا کرے۔ گویا ذات نبوت سے اس فعل کا وقوع ہی ممکن نہیں ہے ۔ یہاں یہ نفی حلت اور حرمت کی نفی نہیں ہے۔ اس لئے کہ نبی کی امانت دار ‘ منصف مزاج اور پاک طبیعت اور مزاج ہی کے خلاف ہے کہ اس سے اس قسم کی کوئی بات وقوع پذیر ہو۔ بعض قرأتوں لفظ یَغُلَّ ہے۔ یعنی مجہول کا فیصلہ آیا ہے ۔ یعنی یہ بات جائز نہیں کہ نبی کے ساتھ خیانت کا برتاؤ کیا جائے ۔ اور اس کے متبعین اس سے کوئی چیز چھپائیں ۔ اس صورت میں یہاں اس بات کی ممانعت ہوگی کہ رسول ﷺ کے ساتھ اس کے پیروکار خیانت نہ کریں اور یہ قرأت آیت کے آخری حصے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ حسن بصری (رح) کی تلاوت ایسی ہی تھی ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ جس نے خیانت کی مال غنیمت میں یا اور حکومتی اموال میں تو ان کا انجام یہ ہوگا۔
مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور جو خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
امام احمد نے ‘ سفیان ‘ زہری ‘ عروہ ‘ ابواحمد ساعدی کی روایت نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن لتبیہ نامی کو زکوٰۃ کا تحصلیدار مقرر فرمایا۔ وہ جب واپس آیا تو کہا یہ مال آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ اس پر رسول ﷺ ممبرپر کھڑے ہوئے اور یہ تقریر فرمائی :” ان تحصیلداروں کا کیا حال ہے کہ ہم انہیں کام پر لگاتے ہیں اور واپس آکر وہ کہتا ہے کہ یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا اور انتطار کرتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا یا نہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو شخص بھی اس مال سے کوئی چیز لے گا ‘ قیامت کے دن وہ اس کے کاندھے پر ہوگی ۔ اونٹ ہوگا اور وہ آواز دے رہا ہوگا ‘ گائے ہوگی اور وہ آواز دے رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو بھی وہ ممیا رہی ہوگی ۔ (بخاری مسلم)
اور امام احمد نے اپنی سند کے ذریعہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ایک دن ہم میں کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے غلول (غنیمت میں سے چوری) کا ذکر کیا ۔ اسے عظیم امر قرار دیا اور اسے بہت ہی بڑا گناہ قراردیا۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملے جو آئے اور اس کے کندھوں پر اونٹ ہو اور وہ کہے کہ اے رسول اللہ میری مدد کرو اور میں اسے یہ جواب دوں کہ میں تمہارے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں پوری طرح پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے ایسے شخص کو بھی نہ ملوں جس کے کندھوں پر گھوڑا ہو ‘ جو ہنہنارہاہو اور وہ شخص مجھ سے کہے رسول اللہ ﷺ میری امداد کرو اور میں اسے جواب دوں میں تمہارے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں تمہیں پوری طرح تبلیغ کردی تھی اور میں تم میں سے ایسے شخص کو بھی نہ ملوں جس کے کندھوں پر کوئی بےزبان جانور ہو اور وہ کہے رسول اللہ میری امداد کرو اور میں اسے بھی یہ جواب دوں کہ میں اللہ کے ہاں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ میں نے تمہیں پوری طرح تبلیغ کردی تھی ۔ (بخاری مسلم روایت ابوحیان)
امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عدی ابن عمیرہ الکندی سے روایت کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے لوگو ! تم میں سے کوئی شخص ہمارے لئے عامل مقرر ہو اور اس نے اس سے ایک سوئی چرائی یا اس سے زیادہ تو وہ چور ہے اور قیامت کے دن وہ اسے لے کر آئے گا۔ “ اس پر انصار میں سے کالے رنگ کا ایک شخص اٹھا (مجاہد کہتے ہیں کہ وہ سعد ابن عبادہ تھے گویا میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں ) اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اپنے منصب سے مستعفی ہوتا ہوں آپ اپنا کام سنبھالئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوگیا ہے ؟ تو اس نے رسول ﷺ سے کہا میں نے آپ کو یہ اور یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور میں یہ بات اب بھی کہتا ہوں : جسے ہم نے کسی ڈیوٹی پر لگایا تو اس کو چاہئے کہ وہ کم ہو یا زیادہ لے کر آئے ۔ اسے جو کچھ دیا جائے وہ لے لے ۔ اور جو نہ دیا جائے ‘ رک جائے ۔ (مسلم ابوداؤد)
قرآن کریم کی اس آیت اور ان احادیث نے جماعت مسلمہ کی تربیت میں ایک عظیم کردار ادا کیا ۔ یہاں تک کہ اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ۔ ایک ایسا گروہ تیار ہوا ‘ جو نہایت ہی ایمانتدار ‘ دیانتدار اور اموال حکومت کے بارے میں اس قدر محتاط تھا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ۔ اور پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسی جماعت تیار نہیں ہوئی ۔ یوں ہوتا کہ ایک عام مسلمان کے ہاتھ میں مال غنیمت میں سے ایک نہایت ہی قیمتی سامان پڑتا اسے کسی نے دیکھا ہی نہ ہوتا اور وہ اسے لاکر امیر کے حوالے کردیتا۔ اور اس کا نفس اسے ‘ اس کے بارے میں کسی طرح بھی بدراہ نہ کرسکتا تھا ۔ محض اس ڈر سے کہ قیامت کے دن اس کی ملاقات نبی ﷺ سے ہو اور اس کی حالت یہ ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اور یہ کہ وہ قیامت کے دن شرمندہ نہ ہو ۔ جس سے اسے نبی ﷺ نے واضح طور پر خبردار کردیا ہے ۔ غرض مسلمانوں کی زندگی یوں تھی کہ فکرآخرت اور خوف آخرت ان کی زندگی کا عملی جزوہوا کرتے تھے ۔ اس کے اس احساس کا حصہ ہوا کرتے تھے اور ان کے تقویٰ ‘ اللہ خوفی اور غایت درجہ احتیاط کا راز ہی یہی تھا ۔ آخرت کا تصور ان کی زندگی میں ایک زندہ تصور تھا ‘ خوابیدہ نہ تھا۔ وہ ایک وعدہ فردانہ تھا۔ وہ ان کے یقین کا حصہ تھا جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی ۔ وہ یہ یقین کرتے تھے کہ ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی ظلم نہ ہوگا۔
ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب مسلمان مدائن میں اترے تو انہوں نے مال غنیمت جمع کیا ۔ ایک شخص آیا اور اس کے پاس کوئی چیز تھی اور اس نے اسے خزانچی کے حوالے کیا۔ اس کے ساتھیوں نے کہا ہم نے اس قدر قیمتی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔ ہمارے پاس جو بھی سامان جمع ہوا ‘ وہ اس قدر قیمتی نہیں ہے جس قدر یہ قیمتی چیز ہے ۔ تو انہوں نے سوال کیا کہ کیا تم نے اس سے کچھ لیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا ہے اور اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو میں یہ تمہیں لاکر نہ دیتا۔ تب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ یہ ایک غیر معمولی شخص ہے ۔ خزانچی کے ساتھیوں نے پوچھا تمہارا تعارف کیا ہے ؟ تو اس نے کہا میں اپنا تعارف اس لئے نہیں کرتا کہ تم میری تعریف کرتے پھروگے اور نہ دوسرے لوگوں کو بتاؤں گا کہ وہ میرے اس عمل کی تعریفیں کرتے پھریں ‘ میں صرف اللہ کی تعریف کروں گا اور اس کے ثواب کا امیدوار رہوں گا ۔ ان لوگوں نے اس کا پیچھا کیا اور جب وہ اپنے ساتھیوں میں پہنچا تو انہوں نے دیانت کہا کہ وہ ثابت بن عبدقیس ہے ۔ (طبری ج 4 ۔ ص 16)
حضرت عمر کے دور میں جب اموال غنیمت لائے گئے ‘ جنگ قادسیہ کے بعد کا واقعہ ہے تو ان میں کسریٰ کا وہ تاج بھی تھا جسے وہ ایوان شاہی میں بیٹھ کر پہنتا تھا ۔ یہ بہت ہی قیمتی تھا ۔ حضرت عمر نے اسے دیکھا اور کہا کہ قابل قدر ہیں وہ فوجی جنہوں نے اسے خزانہ میں جمع کیا اور کہا :” جس قوم نے یہ تاج لاکر اپنے امیر کو دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ حد درجہ کے امین ہیں۔ “
یہ تھی مسلمانوں کی اسلامی تربیت ‘ یہ اس قدر عجیب و غریب معلوم ہوتی ہے کہ اس کی داستانیں افسانے معلوم ہوتے ہیں ۔
اب اموال غنیمت اور اموال غنیمت کے اندر خیانت کی اس بحث کے بعد قرآن کریم اسی مناسبت سے اخلاقی قدروں کا ذکر کرتا ہے۔
” بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضاپر چلنے والا ہو ‘ وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو ‘ جو بدترین ٹھکانہ ہے ۔ اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظررکھتا ہے ۔ “
Ayah 3:162یہ وہ دوررس تبدیلی ہے جس کے سائے میں ‘ تربیت پانے والوں کی نظروں میں اموال غنیمت کی کوئی حیثیت نہیں ‘ اس دنیا کے بارے میں سوچنا ہی حقیر ہوجاتا ہے اور قرآن منہاج تربیت کے خطوط میں سے ایک خط ہے ۔ یہ عجیب نقوش ہیں جن پر یہ منہاج انسانی دلوں کی تربیت کرتا ہے۔ ان کی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں ‘ ان کے افق ہی بدل جاتے ہیں ۔ اس لئے وہ دوسرے میدانوں کو چھوڑ کر زندگی کے اصل ہدف کی طرف آگے بڑھتے ہیں۔
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ……………” بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضاپر چلنے والا ہو ‘ وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو ‘ جو بدترین ٹھکانہ ہے ۔ “
یہ ہیں حقیقی اقدار ۔ یہ ہے میدان جس میں امید ہونی چاہئے ۔ یہ ہے وہ میدان جس میں کام ہونا چاہئے اور یہ ہے وہ فیلڈ جس میں کمائی یا خسارے کی بات ہونی چاہئے ۔ اور کس قدر وسیع خلیج ہے اس شخص کے درمیان جو رضامندی باری تعالیٰ کا طلبگار ہو اور اس میں کامیاب بھی ہو اور اس شخص کے درمیان جو راہ غضب پر ہو اور اس میں گھر بھی چکاہو اور جہنم کا مستحق ہوگیا ہو جویقیناً بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔
Ayah 3:163یہ بھی ایک مقام ہے اور وہ بھی ایک مقام ہے اور ان دونوں مقامات کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ……………” یہ درجے ہیں اللہ کے نزدیک۔ “ ہر شخص اپنے مقام تک استحقاق کی بناپر پہنچتا ہے ۔ اس لئے اس معاملے میں نہ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی ہے اور نہ بےجا محبت اور طرفداری ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ……………” اور اللہ اپنے بندوں کے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ “