Ayah 3:53یہ جو انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی ‘ اور اللہ کے ساتھ بھی یہ وعدہ کیا ‘ اس میں ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے ۔ مومن کا ابتدائی عہد صرف اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب ایک رسول کسی پیغام کو اہل ایمان تک پہنچا دیتا ہے تو پھر اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے اور اب مومن کی بیعت اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے ۔ اور جب رسول اس دنیا سے چلاجائے تب بھی یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری مومن کے گلے میں پڑی رہتی ہے ۔ اور اس بیعت میں ‘ معاہدہ ذمہ داری میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے ۔ اس لئے ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں ہے جو انسان کے ضمیر میں ہوتا ہے بلکہ اتباع کا نام ہے اور رسول کے نظام کی اطاعت بھی ضروری ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کے ارد گرد اس پوری سورت کے مضامین گھوم رہے ہیں ۔ اس سورت میں اس مضمون کو مختلف طریقوں سے مکرر بیان کیا گیا ہے۔
یہاں حواریوں کے کلام میں ایک اہم جملہ ہے فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ……………” آپ ہمارے نام گواہی دینے والوں میں لکھ دیں۔ “ سوال یہ ہے کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں اور کس بات کے وہ گواہ ہیں ؟
درحقیقت ایک شخص جو ایمان لاکر مسلم بن جاتا ہے اور اللہ کے دین کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اس دین کے بارے میں شہادت دے ۔ وہ گواہی دے کہ اس دین کا یہ حق ہے کہ یہ قائم ودوائم رہے ۔ وہ ایسی شہادت دے کہ اس دین میں انسانوں کی جو بھلائی ہے وہ اس کی شہادت ہے ۔ اور یہ مومن اس وقت تک شہادت نہیں دے سکتا جب تک وہ اپنے نفس اپنے اخلاق اور اپنی پوری زندگی کو اس دین کی جیتی جاگتی تصویر نہ بنالے ۔ وہ ایسی تصویر بنائے کہ لوگ اسے دیکھتے ہی ایک مثال سمجھیں اور اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی اگر دین کی یہ صورت ہے تو یہ دین اس بات کا مستحق ہے ۔ کہ وہ زندہ رہے۔ اور یہ کہ یہ دین اس پوری کائنات میں تمام نظاموں اور طریقوں اور سوسائٹیوں کے مقابلے میں افضل اور بہتر ہے۔
ظاہر ہے کہ کوئی شخص یہ شہادت اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک وہ اس دین کو اپنے لئے ضابطہ ٔ حیات نہ بنالے ۔ جب تک وہ اسے اجتماعی نظام نہ بنالے ۔ اور جب تک وہ اسے اپنے اور اپنی قوم کے لئے نظام قانون نہ بنالے ۔ اور جب تک اس کے گرد ایسا معاشرہ قائم نہ ہوجائے جو اس نظام حیات کے مطابق اپنی زندگی کے معاملات کو چلاتا ہو ۔ جو ایک خدائی نظام اور مضبوط نظام ہے ۔ نیز یہ شہادت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ مومن اس نظام حیات کے قائم کرنے کے لئے جہاد شروع نہیں کرتا ۔ اور جب تک وہ اس جہاد میں زندگی پر موت کو ترجیح نہیں دیتا یعنی اس معاشرے کے خلاف جس میں انسانی زندگیوں پر اسلامی نظام رائج نہ ہو اور یہ اس بات کی شہادت ہوگی کہ اقامت دین کا فریضہ خود اس کی زندگی سے بھی عزیز تر ہے ۔ حالانکہ زندگی کی وہ تمام چیزوں کے لئے ایک عزیز متاع ہوتی ہے ۔ اس لئے اس کو شہید کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ شہادت دیتا ہے ۔
یہاں ان حواریوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں ایسے گواہوں میں لکھ دے ‘ ہم دین کے لئے شہادت دیں گے ۔ یعنی وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ایسی توفیق دے کہ ہماری زندگی دین مسیحی کا زندہ نمونہ بن جائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کو وجود میں لانے کے لئے جہاد کریں جس میں یہ دین قائم ہو ۔ اگر انہوں نے اس کا حق ادا کردیا تو گویا انہوں نے اس دین کے حق کی شہادت دیدی کہ یہ دین سچا دین ہے ۔
میں یہاں یہ بات کہوں گا کہ آج جو شخص بھی اپنے لئے ایمان اور اسلام کا دعویدار ہے وہ ذرا اس دعا پر غور کرے ۔ یہ ہے اصلی اسلام ‘ جس طرح حواریوں نے اسے سمجھا ۔ جس طرح حقیقی مسلمانوں کے دل میں بھی یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہے ۔ اور جو شخص دین کے لئے شہادت نہ دے گا اور اسے چھپا کر رکھے گا تو اس کا دل گناہ گار ہے ۔ یاد رہے کہ جو شخص اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی میں اسلام کے خلاف روش اختیار کرتا ہے ‘ جو شخص اسلام پر یقین رکھتا ہے لیکن اسلامی فرائض علی الاعلان ادا نہیں کرتا ‘ اور اسلامی نظام حیات کو عملاً قائم کرنے کے لئے جدوجہد نہیں کرتا ۔ وہ یہ کام یا اپنی پرامن زندگی کے لئے کرتا ہے یا اپنی زندگی کو دین اسلام کی زندگی پر فوقیت دیتا ہے تو اس نے یقیناً شہادت حق دینے میں سخت کوتاہی کی یا اس نے اسلام کے خلاف دوسرے نظاموں کے حق میں شہادت دی ۔ یہ ایسی شہادت ہے جو دوسروں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتی ہے اس لئے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اہل اسلام اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں ۔ اور اس شخص کا انجام عظیم بربادی ہے جو اپنے اس دعوے کی بناپر کہ وہ مسلم ہے تمام لوگوں کو اسلام سے روکتا ہے ۔ حالانکہ وہ دین کا مومن نہیں ہوتا بلکہ دین سے روکنے والا ہوتا ہے (اس موضوع پر استاد مودودی نے اپنی کتاب شہادت حق میں جو قیمتی بحث کی ہے اسے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ سید قطب) ۔ اب بنی اسرائیل کے ساتھ قصہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری حصہ آتا ہے۔
Ayah 3:54وہ مکاری جو یہودیوں نے اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کی وہ عظیم مکاری تھی ‘ اس کا تانا بانا بہت طویل و عریض تھا۔ جس طرح اناجیل میں مذکور ہے کہ انہوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے منگیتر یوسف نجار کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے ۔ حالانکہ وہ پاک دامن تھیں اور ابھی یوسف کے ساتھ ان کی شادی نہ ہوئی تھی ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ۔ شغز اور اس کے بعد انہوں نے رومی حکمران بیلاطس کے پاس ان کے خلاف شکایات کیں اور کہا کہ وہ لوگوں کو رومی حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارتا ہے۔ اور یہ کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور عوام الناس کے عقائد خراب کررہا ہے ۔ چناچہ بیلاطس نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا کہ وہ خود اسے جو سزا دینا چاہیں دیدیں ‘ اس لئے کہ وہ اگرچہ ایک بت پرست تھا مگر یہ جانتا تھا کہ ایک ایسے شخص کو کس طرح سزا دے جس پر اس کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔ یہ تھیں ان کی سازشیں بلکہ یہ ان سازشوں کا ایک حصہ تھا۔
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ……………” وہ اس کے خلاف خفیہ تدبیریں کرنے لگے اور اللہ نے ان کے خلاف خفیہ تدبیر کی ‘ اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے ۔ “
اللہ کی تدبیر اور یہودیوں کی تدبیر کے درمیان صرف ایک مشاکلت لفظی ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے یہودیوں کی تدبیر مکر ہے اور اللہ کا جواب تدبیر ہے اور مکر کا مفہوم بھی تدبیر کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں لفظ مکر اپنے لئے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس سے اللہ ان کے مکر کی حقارت کا اظہار فرمائیں ۔ اس لئے کہ ان کا مقابلہ اللہ سے کیسے ہوسکتا ہے ۔ وہ کہاں اور اللہ کہاں ان کا مکر کیا اور اس کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر دونوں میں کیا مقابلہ ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا یا سولی چڑھانا چاہتے تھے ۔ لیکن اللہ نے انہیں صحیح سلامت اپنے ہاں بلالیا ‘ اور انہیں ان کفار اور ان کے گندے ماحول سے پاک کرلیا ۔ یعنی دور کردیا ‘ اور اس کے بعد انہیں یہ عزت دی گئی کہ وہ لوگ ان کے ماننے والے ہیں قیامت تک ان لوگوں کے مقابلے میں برتر رہیں گے جو ان کی تعلیمات کے ساتھ کفر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح اللہ نے چاہا ایسا ہی ہوا ۔ اور اللہ نے مکاروں کے مکر کے بخئیے ادھیڑ دیئے۔
Ayahs 3:55–57آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔
اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔
اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔
جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
Ayah 3:58اس اختتامیہ میں سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ رسول ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی ہے وہ حق ہے ۔
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَليْكَ مِنَ الآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ……………” یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہارے سنا رہے ہیں ۔ “ یہ قصے اور قرآنی ہدایات ‘ سب کی سب اللہ کی وحی پر مبنی ہیں اور خود اللہ انہیں پڑھ کر نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پرھ کر سناتے ہیں ۔ انداز بیان ایسا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل ہے ۔ جب خود اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں ۔ اللہ دانا و حکیم ہیں انسانی زندگی اور نفس کے حوالے سے اونچے حقائق اس کے پاس ہیں ۔ اور وہ اس نے ایک خاص طریقے اور خاص اسلوب کے ساتھ وہاں ودیعت کئے ہیں ۔ وہی بتاسکتا ہے کہ فطرت کے ساتھ ہمکلامی کا طریقہ کیا ہے ۔ اور فطرت انسانی تک رسائی کا اسلوب کیا ہے۔ اور یہ حکمت اس انداز میں بتائی جاتی ہے جس کی کوئی سابق نظیر نہیں ہے ۔ یعنی اس تمام انسانی حکمت کے ریکارڈ میں جس کا مصدر اور منبع اللہ نہ ہو ۔
Ayah 3:59اس کے بعد یہ اختتامیہ حقیقت مسیح کا فیصلہ کردیتا ہے ‘ فیصلہ کن انداز میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ارادہ ہی ہر چیز کا خالق ہے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ اللہ کے ہاں تخلیق کا عمل صرف یہ ہے ۔
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ……………” اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے بنایا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔ “
حضرت عیسیٰ کی ولادت اس اعتبار سے کہ وہ پیدائش انسانی کے عام ڈگر سے ہٹ کر ہے ضرور تعجب انگیز ہے ۔ لیکن جب اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے حوالے سے دیکھاجائے ‘ تو اس میں کوئی انوکھی چیز نظر نہیں آتی ۔ پیدائش مسیح کے معاملے میں اہل کتاب کے درمیان جو بحث ومناظرہ اور جدل وجدال جاری تھا ۔ اور اس سلسلے میں وہ عجیب و غریب قصے کہانیاں گھڑ رہے تھے ۔ طلسماتی ماحول پیدا کررہے تھے کہ وہ ایک عجیب بات ہے ۔ محض اس لئے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ یہی اہل کتاب اپنی کتابوں میں صبح وشام یہ تلاوت کرتے تھے کہ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور اس ڈھانچے میں پھر اللہ نے روح پھونکی اور اس سے بطور انسان آدم زندہ ہوگیا ۔ اور وہ حضرت آدم کے بارے میں اس قسم کے قصے کہانیاں نہ گھڑتے تھے ۔ اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتے تھے ۔ وہ آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ سوچتے تھے کہ ان کی بھی ایک لاہوتی طبیعت ہے ۔ اس لئے کہ جس عناصر سے آدم انسان بن کر آئے وہی عناصر ہیں جن سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بن باپ پیدا ہوکر آئے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) میں اپنی روح پھونکی ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھی روح ڈالی ۔ اور اس کا طریقہ کار ایک کلمہ کن سے مکمل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور جو اس نے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ فیکون ہوگیا۔
یہ حقیقت کس قدر سادہ ہے حقیقت آدم بھی یہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ بلکہ تمام مخلوقات کی تخلیق کی بس یہی حقیقت ہے ۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ذہن انسانی میں بسہولت اور بوضاحت آجاتی ہے ۔ تعجب تو اس پر ہے کہ ان واقعات کے بارے میں یہ طویل مجادلہ اور مباحثہ کیوں ہوتا رہا ۔ حالانکہ یہ واقعہ اللہ کی سنت کبریٰ کے مطابق تھا ۔ جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ۔ یعنی تخلیق کرنا اور دوبارہ اٹھانا۔
دراصل یہ ہے انداز اس ذکر حکیم کا ‘ یہ ذکر فطرت انسانی کو فطری منطق سے خطاب کرتا ہے ۔ جو واقعی عملی ‘ سادہ ہوتی ہے ۔ اس حکیمانہ انداز کلام کی وجہ سے دنیا کے پیچیدہ ترین مشکل ترین فلسفی مسائل بھی اسے سہل نظر آتے ہیں جیسے روز مرہ کے معمولات۔
سیاق کلام جب اس واضح فیصلے تک پہنچ جاتا ہے ۔ تو روئے سخن اب رسول اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ اپنے سچے موقف پر قائم رہیں ۔ جس کی تلاوت آپ کے سامنے کی جارہی ہے اور جسے آپ کے حس و شعور میں بٹھایا جارہا ہے جس طرح اہل ایمان کے حس و شعور میں اسے مضبوط طرح جاگزیں کیا جارہا ہے اس لئے کہ اہل ایمان میں سے بعض افراد پر اہل کتاب کے شبہات اثر ڈال رہے تھے اور عجیب انداز میں تلبیس کرکے اہل ایمان کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔
Ayah 3:60فرماتے ہیں : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ……………” تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو ‘ جو اس میں شک کرتے ہیں “…………رسول ﷺ نہ تو شک کرتے تھے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی خلجان تھا۔ ان پر جو کلام نازل ہوتا تھا وہ اسے من جانب اللہ سمجھتے تھے ۔ ایک لحظہ کے لئے بھی شک ان کے قریب نہیں آیا۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ آپ اس ہدایت پر جم جائیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دشمنوں نے اس دور میں اہل ایمان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا تھا ‘ اور وہ اس سازش میں امت مسلمہ کے بعض افراد کو پھانس رہے تھے ۔ امت مسلمہ کے خلاف یہ سازشیں آج بھی ہورہی ہیں اور ہر دور میں ہوتی رہتی ہیں ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ ان دھوکہ بازوں اور جھوٹوں کے مقابلے میں محتاط رہے۔ اس لئے کہ امت کے اس قسم کے دشمن ہر دور میں نیاجال لے کر آتے ہیں ۔
غرض پیدائش مسیح کا مسئلہ حل ہوگیا۔ حقیقت واضح ہوگئی ‘ اب اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ وہ اب ان لوگوں کے ساتھ یہ مجادلہ اور مناظرہ ختم کردیں اس لئے کہ مسئلہ واضح ہوگیا ‘ سچائی واضح طور پر سامنے آگئی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب آخری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو مباہلے کی دعوت دی جائے
Ayah 3:61اس کے بعد اس موضوع پر رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ مباحثہ کرتے تھے ‘ رسول ﷺ نے بھرے مجمعے میں انہیں دعوت مباہلہ دی ۔ یعنی سب آجائیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے ۔ اس چیلنج کے انجام سے وہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا موقف سچا ہے ۔ لیکن جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلام اس لئے قبول نہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل تھا ۔ نیز یہ لوگ ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے تھے اور اس دور میں اہل کنیسہ کو اپنی سوسائٹی میں مکمل اقتدار حاصل تھا اور اس کے ساتھ ان کے بڑے مفادات وابستہ تھے ۔ اس سوسائٹی میں وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہ بات نہ تھی کہ جو لوگ دین اسلام سے اعراض کررہے تھے ان کے سامنے کوئی دلیل نہ پیش کی گئی تھی بلکہ ان کے بعض مفادات ایسے تھے جنہیں وہ نہ چھوڑ سکتے تھے ‘ کچھ ایسی نفسیاتی خواہشات میں وہ گھرے ہوئے تھے جن پر وہ یہ نہ کرسکتے تھے ۔ حالانکہ سچائی واضح ہوگئی تھی اور اس میں کوئی شک وشبہ نہ رہا تھا۔
دعوت مباہلہ کے بعد اب اس اختتامیہ میں حقیقت وحی ‘ حکمت قصص فی القرآن ‘ اور حقیقت توحید کا بیان کیا جاتا ہے۔ شاید یہ آیات دعوت مباہلہ سے مجادلین کے انکار کے بعد اتری ہوں ۔ اور ان لوگوں کو سخت دہمکی دی جاتی ہے جو اللہ کی اس زمین پر محض برائے فی سبیل اللہ فسادیہ مجادلے کرتے ہیں ۔
Ayahs 3:62–63ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔
اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔
اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔
Ayah 3:64یہی وجہ ہے کہ اس تہدید اور توبیخ کے بعد سیاق کلام میں اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے نظریے کی طرف اٹھ آئیں جو فریقین کے درمیان یکساں ہے ۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی ‘ اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ اور ایک دوسرے کو رب نہ بنانا ۔ اگر وہ یہ صورت نہیں اپناتے تو پھر ہماری راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں ۔ اس کے بعد نہ ملاپ ہوسکتا ہے اور نہ مکالمہ ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
” کہو اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے ۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں ۔ “
اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک منصفانہ دعوت ہے ۔ ایسی دعوت ہے جس میں رسول ﷺ ان پر کسی قسم کی کوئی فضیلت و برتری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اور نہ اہل اسلام اس میں کسی قسم کی برتری چاہتے ہیں ۔ ایک یکساں موقف جس کے سامنے سب کے سب برابری کی پوزیشن میں کھڑے ہوں گے ۔ کوئی کسی پر برتری نہ چاہے گا ۔ کوئی کسی دوسرے کو اپنا غلام نہ بنائے گا ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے جس سے صرف بدفطرت اور مفسد ہی انکار کرسکتا ہے ۔ جو یہ نہیں چاہتا کہ حق کے سامنے جھک جائے ۔
یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ نہ کسی بشر کو ‘ نہ کسی پتھر کو ‘ اللہ کی طرف ایسی دعوت کہ جس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو ۔ نہ نبی کا غلام ہو ‘ نہ رسول کا غلام ہو ‘ بلکہ سب اللہ کے بندے اور غلام ہوں ۔ نبی اور رسول تو وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے تبلیغ دین کے لئے چن لیا ہوتا ہے۔ اس لئے نہیں منتخب کیا ہوتا کہ وہ اللہ کے ساتھ الوہیت یا ربوبیت میں شریک بن جائیں۔
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو پھر صاف کہہ دو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یعنی اگر وہ اس بات سے انکار کردیں کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور اس بات سے انکار کردیں کہ بندگی صرف اللہ کے لئے ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ۔ یہ دو ایسے مظاہر ہیں جن سے اللہ کی نسبت سے بندے کے موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔ تو اگر اس نظریئے سے وہ منہ موڑیں تو تم اس کے مطابق اپنے اسلام کا اعلان کردو ۔ یہاں مسلمانوں اور ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب مانتے ہیں ‘ ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے ‘ جس سے اس بات کی فیصلہ کن وضاحت ہوجاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ” المُسْلِمُونَ “ کون ہیں ‘ مسلمون وہ ہیں جو صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں اور ساتھ ساتھ باہم ایک دوسرے کو بھی اپنا رب بنائیں ۔ یہ ہے مسلمانوں کی خصوصیت جو انہیں تمام ملتوں اور تمام مکاتب فکر سے جدا کرتی ہے ۔ اور ان کے نظام زندگی کو تمام نظامہائے زندگی سے جدا اور ممتاز کرتی ہے ۔ اب اگر ان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے تو وہ مسلمان ہیں اور اگر ان میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی تو وہ مسلمان نہیں چاہے جس قدر وہ دعویٰ کریں اپنے مسلمان ہونے کا ۔
اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان بندے کی غلامی سے مطلقاً آزاد ہوجائے اور اسلامی زندگی وہ واحد نظام زندگی ہے جو کسی انسان کو اس ہمہ گیر آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض میں جس قدر نظام ہائے حیات رائج ہیں ان میں بعض دوسرے لوگوں کو اپنا رب تسلیم کئے ہوئے ہیں ۔ دنیا کی بہترین سے بہترین جمہوریتوں میں بدترین سے بدترین آمریتوں میں یہ صورت حال ہے ۔ ربوبیت کا پہلا خاصہ یہ ہے کہ لوگ اس رب کی بندگی کریں ۔ اور وہ رب لوگوں کے لئے اجتماعی نظم ‘ طرز زندگی ‘ ضابطے ‘ قوانین اور نیک وبد کے پیمانے وضع کرے ۔ اور اس وقت دنیا میں جس قدر نظامہائے زندگی رائج ہیں ان میں یہ حق بعض افراد کو حاصل ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں یہ حق لوگوں کے کسی مجموعے کو حاصل ہوتا ہے ۔ لوگوں کا یہ گروہ جو دوسروں کے لئے قوانین وضع کرتا ‘ نیک وبد کے پیمانے وضع کرتا ہے اور ان کے لئے فکر اور فلسفہ وضع کرتا ہے یہی وہ گروہ ہے جو اپنے آپ کو اس زمین پر رب بناتا ہے ۔ یہی مفہوم ہے اس آیت کا تم میں سے بعض بعض کو رب نہ بناؤ۔ ان لوگوں کے متبعین ان کو ربوبیت اور الوہیت کا مقام عطا کرتے ہیں اور پھر اللہ کے سوا ان کی بندگی کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ان کے سامنے رکوع و سجود نہ کرتے ہوں ‘ اس لئے بندگی ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ۔
صرف اسلامی نظام وہ نظام ہے ‘ جس میں انسان کے گلے سے غیر اللہ کی غلامی کا یہ جوأ اترتا ہے ۔ اور وہ مکمل طور پر آزاد ہوجاتا ہے ۔ وہ اس قدر آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے تصور حیات ‘ اپنے لئے اجتماعی نظم ونسق ‘ اپنے لئے نظام زندگی اور طریقہ حیات اور اپنے نیک وبد کے پیمانے صرف اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ اور اس کی حیثیت بعینہ وہی ہوتی ہے جو اس کرہ ارض پر کسی بھی دوسرے انسان کی ہوتی ہے ۔ پس زید دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ من کل الوجوہ مساوی ہوجاتا ہے ۔ تمام لوگ ایک سطح پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تمام لوگوں کی نظریں ایک ہی مالک کی طرف اٹھی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اور ان میں کوئی بھی ایک دوسرے کا مالک نہیں ہوتا ۔
اسی اور فقط اسی معنی میں اسلام اللہ کا دین ہے ۔ اور یہی دین ہے جسے تمام رسل لے کر آئے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اسی مفہوم میں مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کریں۔ اور لوگوں کے ظلم سے انہیں نکال کر اللہ کے انصاف کے اندر داخل کریں ۔ پس اگر کوئی اس مفہوم کے مطابق اسلام سے منہ پھیرے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کے مطابق مسلم نہیں رہتا ۔ چاہے تاویل کرنے والے کس قدر تاویلیں کرلیں ۔ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے والے جس قدر گمراہ کریں بات یہی ہے ۔
اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلامُ……………” اللہ کے نزدیک معتبر دین صرف اسلام ہے۔ “
Ayah 3:65درس 25 ایک نظر میں
سورت کا یہ حصہ بھی انہیں خطوط پر چلتا ہے ‘ جس پر ابتداء ً یہ سورت چلی آرہی ہے ۔ یعنی اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان برپا معرکہ آرائی ‘ یعنی فریقین کے درمیان نظریاتی جنگ ‘ اور دشمنان دین اور دین اسلام کے خلاف جو حیلہ سازی ومکاری یعنی جو فریب کاری اور دھوکہ بازی ‘ جو کذب وافتراء اور مختلف قسم کی سازشیں اور تدابیر اختیار کرکے حق و باطل میں ہر وقت التباس پیدا کرتے تھے ۔ شکوک و شبہات پھیلاتے تھے ۔ اور جس طرح اس امت کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے اور جس طرح وہ بلا ناغہ مسلسل کام کررہے تھے ۔ ان کا ازالہ اور جواب ‘ اور اس حصے میں مسلمانوں کو سمجھایا جارہا تھا کہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ اس طرح کریں کہ جس حق پر قائم ہیں اس پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں اور یہ یقین پیدا کریں کہ ان کے دشمن باطل موقف پر کھڑے ہیں۔ نیز اس سورت میں متنبہ کیا گیا تھا کہ دشمن تمہارے بارے میں کیا کیا منصوبے بناتے ہیں ۔ آخر میں پھر ان دشمنوں کی تشریح بھی کردی گئی تھی ۔ اور بتایا گیا تھا کہ ان کا مزاج ‘ ان کے اخلاق ‘ ان کے اعمال اور ان کی نیتیں کیسی ہیں ۔ اور یہ باتیں کھول کر جماعت مسلمہ کے سامنے رکھدی گئیں تاکہ وہ اپنے دشمنوں کو اچھی طرح جان لے ۔ اور وہ جس علم ومعرفت کا دعویٰ کرتے تھے ۔ اس کی قلعی بھی کھول دی گئی تھی ۔ اور پھر جن مسلمانوں کو وہ دھوکہ دے رہے ‘ ان کا اعتماد ان پر سے اٹھادیا تھا۔ انہیں ان سے متنفر کیا گیا ۔ اور ان کی مکاریوں کو طشت ازبام کردیا گیا تھا کہ وہ نہ کسی کو دھوکہ دے سکیں اور نہ طمع کاری کرسکیں ۔ یہ تھے مضامین پہلے سبق کے ۔
لیکن اس سبق میں بھی اہل کتاب یعنی یہود نصاری کے ساتھ بحث ہے ‘ لیکن یہاں بتایا گیا ہے کہ خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا موقف اور نظریہ تو بادی النظر میں غلط ہے ۔ یہودی سمجھتے تھے ‘ کہ وہ یہودی تھے ‘ عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ وہ عیسائی تھے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودیت اور نصرانیت دونوں کے وجود میں آنے سے بھی پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے ۔ وہ تورات وانجیل کے نزول سے بھی پہلے تشریف لائے تھے ۔ لہٰذا ان کے بارے میں اس قسم کے دعوے کرنا محض وہم ہے ۔ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو دین حنیف پر تھے ۔ جو سیدھے راستے کا نام ہے ۔ اور ان کے دوست اور پیروکار کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہیں جو اس طریقے پر ہوں ۔ اور اللہ بھی اہل ایمان کا دوست ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان لوگوں کے بارے میں یہ دعوے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو اور دوست ہیں باطل قرار پاتے ہیں ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کے بارے میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اہل اسلام تمام رسولوں کو برحق تسلیم کرتے ہیں إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ……………” ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ اور اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ (68 : 3)
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب یہ مجادلہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس میں پردہ راز کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کے معاملے میں گمراہ کردیں ‘ ان کے عقائد میں شبہات پید اکئے جائیں ۔ چناچہ اس سلسلے میں ان کی گوشمالی کی جاتی ہے ۔
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ (70) يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
” اے اہل کتاب کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ‘ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “
اس کے بعد جماعت مسلمہ کو ان سازشوں کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ جو سازشیں وہ اہل ایمان کے عقائد ‘ ان کے اعتماد اور ان کے اطمینان کے خلاف وہ خفیہ طور پر کرتے تھے ۔ اور نہایت ہی مکاری سے کام لیتے تھے اور وہ اسکیم یہ تھی کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام کا اعلان کریں گے اور شام کو پھر واپس اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ اس کا مقصدیہ تھا کہ اہل اسلام میں سے جو لوگ ثابت قدم نہیں ہیں ان کے دل میں یہ خلجان ڈالدیں کہ اہل کتاب صبح مسلمان ہوئے اور شام کو انہوں نے کفر کیوں اختیار کرلیا ‘ اور ظاہر ہے کہ ہر جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ثابت قدم نہیں ہوتے ۔ خصوصاً جبکہ ان کے نزدیک اہل کتاب کتب اور ادیان کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے ۔
وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
” اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو ‘ شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں۔ “ یہ ان کا نہایت ہی مذموم منصوبہ تھا ۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے ‘ اہل کتاب کے اجتماعی اخلاق کیا ہیں اور یہ کہ معاہدات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر کیا ہے۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کی امانت ودیانت مسلم ہے ۔ لیکن ان میں اکثر ایسے ہیں ان میں دیانت نام کو نہیں ہے ۔ اور انہوں نے اپنی اس بددیانتی اور بدعملی سے اپنے مذہبی عقائد میں سے بعض دلائل تلاش کرلئے تھے ۔ حالانکہ اہل کتاب کا اصل دین ایک برحق دین ان باتوں کے ساتھ ان کے دین کا کوئی تعلق نہ تھا۔
وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
” اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے ‘ کہ اگر تم اس کے اعتمادپر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دیدو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا ‘ اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں اس پر بھروسہ کرو وہ ادا نہ کرے گا۔ الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ۔
یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر کیا ہے ۔ یہ کہاں سے اٹھتا ہے اور یہ کہ اس کا تعلق کس طرح اللہ خوفی کے ساتھ ہوتا ہے۔
بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (76)إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خلاق لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
” جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا ۔ وہ اللہ کا محبوب بنے گا ۔ کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے عہد اور قسموں کو تھوڑی قیمت دے کر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اللہ قیامت کے روز ان سے بات کرے گا ‘ اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا ۔ بلکہ ان کے لئے تو سخت دردناک سزا ہے۔ “
یہ سبق آگے بڑھتا ہے اور اب اس میں اہل کتاب کی ایک کج روی کو منظر عام پر لایا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دین کے معاملے میں جھوٹ تک بولنے میں کس قدر بیباک ہیں۔ اور یہ کام وہ دنیاوی مفادات اور نہایت ہی کم قیمت مفادات کے لئے کرتے ہیں ۔
وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
” اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ ‘ جو کچھ وہ پڑ رھے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے ۔ حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں ‘ یہ خدا کی طرف سے ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا۔ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ “
اور منجملہ اور امور کے ‘ جو وہ اپنی چالاکی سے کتاب میں داخل کرتے تھے ‘ ایک یہ بات تھی کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) الٰہ ہیں اور یہ کہ روح القدس بھی الٰہ ہیں۔ چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نہ کوئی ایسی آیت لے کر آئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے ان لوگوں کو ایسے عقائد رکھنے کا کوئی حکم دیا ہے۔
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ (79) وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (80)
” کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کی بجائے تم میرے بندے بن جاؤ ‘ وہ تو یہی کہے گا کہہ سچے ربانی ہوجاؤ۔ جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے ہو اور پڑھاتے ہو ۔ وہ تم سے ہرگز نہ کہے گا کہ فرشتوں کو اپنا رب بنالو ‘ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جبکہ تم مسلم ہو۔ “
اور اس مضمون کی مناسبت یہاں مسلسل دنیا میں بھیجے جانے والے انبیاء کے باہمی تعلق اور تعاون کے سلسلے میں لیے جانے والے اقرار کو بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر سابق نبی یہ میراث آنے والے کے سپرد کرے گا اور اس کی مدد کرے گا۔
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ (81)
” اور یاد کرو ‘ اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ ” آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے ‘ کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے ‘ جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ۔ تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی۔ “ یہ ارشاد فرماکر اللہ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو “ انہوں نے کہا ہاں ‘ ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا ! اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ “
یہی وجہ ہے اہل کتاب پر یہ بات فرض ہوجاتی ہے کہ وہ نبی آخرالزمان پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں ۔ لیکن ان کا وطیرہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے نہ ان وعدوں کی پابندی کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے اور نہ ان معاہدوں کی جو انہوں نے سابقہ رسولوں کے ساتھ کئے ۔
ان مقدمات کا فطری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین یعنی دین اسلام کے سوا کوئی اور دین اپنے لئے تلاش کرتا ہے ۔ تو گویا وہ پوری کائنات کے نظام قدرت سے بغاوت کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے اس کا ارادہ کیا ہے ۔
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
” کیا یہ لوگ اللہ کے دین کا طریقہ چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار وناچار اللہ ہی کے تابع ہیں (مسلم ہیں ) اور اس کی طرف سب کو پلٹنا ہے ۔ “ پس وہ لوگ جو اسلام سے خارج ہوتے ہیں ‘ ان کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو اسلامی نظام کی مکمل اطاعت نہیں کرتے ‘ ان کا معاملہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قدر نافرمان ہیں اللہ کے اس تکوینی نظام سے بھی خارج ہیں۔
یہاں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو اللہ وحدہ کے دین پر ثابت قدمی کا اعلان کردیں اور دین ان ہدایات کے اندر ہے جو رسول ﷺ اللہ کی جانب سے لے کر آئے اور آپ سے قبل دوسرے رسول لے کر آئے اور اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ انسانوں کی جانب سے صرف اسی دین کو قبول کرے گا۔
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ……………” اور جو شخص بھی اسلام کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے گا تو یہ اس کی جانب سے قبول نہ کی جائے گی اور آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ “
اب جو لوگ اس دین پر ایمان نہیں لاتے تو ان کے لئے ہدایت پانے کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کے لئے اللہ کی پکڑ سے بچنے کی کوئی امید ہے ۔ الا یہ کہ وہ توبہ کریں ۔ رہے وہ لوگ جو کفر کی حالت میں اس دنیا سے چلے جائیں تو انہیں وہ تمام مال و دولت کچھ فائدہ نہ دے گی جو انہوں نے بھلائی کی راہ میں خرچ کی ۔ اور اگر وہ اپنے اس کفر کا اس کرہ ارض کو بھر کر سونا ادا کریں تو بھی یہ فدیہ قبول نہ ہوگا۔
اللہ کی راہ میں خرچ اور قربانی کے اس مقام پر اہل اسلام کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ اپنے مال و دولت سے اللہ کی راہ میں وہ چیزیں خرچ کریں جو انہیں پسند ہیں ۔
لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوا مِمَّاتُحِبُّونَ وَمَاتُنفِقُوامِن شَیئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیمٌ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی وہ چیز خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو ۔ اور جو کچھ تم خرچ کروگے اللہ اس سے بیخبر نہ ہوگا۔ “
غرض اس مختصر حصے میں ‘ اس قدر عظیم حقائق اور بیشمار ہدایات جمع کردی گئی ہیں ۔ اور یہ اس عظیم معرکہ میں ایک مختصر جملہ ہے جو اس پوری سورت میں برپا ہے ۔ اور اس کے فریق امت مسلمہ اور اس کے دشمنان ہیں۔ اور یہ معرکہ صدیوں سے یونہی برپا ہے ۔ آج بھی امت معرکہ میں اسباب اور وسائل بالکل مختلف استعمال ہورہے ہیں ‘ لیکن لائن آج بھی وہی ہے لیکن آج یہ معرکہ طویل خطوط پر ہے۔
محمد بن اسحاق ‘ محمد سعید بن جبیر ‘ یا عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا نجران کے نصاریٰ اور یہودیوں کے احبار رسول ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور فرمایا آپ سے مباحثہ شروع کردیا ‘ احبار نے کہا ابراہیم یہودی تھا ‘ نصاریٰ نے کہا وہ نصرانی تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ……………” اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ “ چاہے ان آیات کا شان نزول یہ ہو یا نہ ہو ‘ بہرحال آیات بظاہر اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ اہل کتاب کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کا یہ تنازعہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تھا یا رسول ﷺ کی موجودگی میں وہ آپس میں جھگڑتے تھے اور ان کے جھگڑے کے پس منظر میں یہ نظریہ کارفرما تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ ان کی اولاد میں نبوت رہے گی تو اس طرح وہ یہ فضیلت اور ہدایت اپنے نام الاٹ کرانا چاہتے تھے ۔ یہ تھا ان اصل مقصد ‘ دوسرے یہ کہ وہ اس طرح رسول ﷺ کے اس دعویٰ کی تکذیب کرنا چاہتے تھے کہ رسول ﷺ اور آپ کی امت دین حنیف کے پیروکار ہیں اور حنفیت اولیٰ کے وارث ہیں ۔ نیز اس طرح وہ مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنا چاہتے تھے ۔ یا کم ازکم بعض اہل اسلام میں وہ شک ڈالنا چاہتے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ ان کی سخت ترین الفاظ میں تردید فرماتے ہیں اور ان کی خوس فہمی کو طشت ازبام کرتے ہیں ‘ جو کسی علمی دلیل پر مبنی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات سے بھی پہلے گزرے ہیں اور انجیل سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی ہوں ‘ لہٰذا یہ دعویٰ مکمل طور پر خلاف عقل ہے ۔ صرف پیغمبروں کی تاریخ پر اچٹتی نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا دعویٰ باطل ہے۔
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالإنْجِيلُ إِلا مِنْ بَعْدِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ
” اہل کتاب تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو ؟ تورات اور انجیل تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہیں ۔ پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ “
Ayah 3:66انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مباحثہ کیا ‘ پھر انہوں نے بعض فقہی موضوعات پر بھی مجادلہ کیا ‘ اور جب انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو انہوں نے روگردانی کی ۔ یہ دونوں موضوعات ایسے تھے ‘ جن کے بارے میں انہیں کچھ علم تھا۔ رہے وہ معاملات جو تمہارے وجود سے پہلے ہیں ‘ تمہاری کتابوں سے پہلے ہیں ۔ تمہارے اس دین سے پہلے ہیں جن پر تمہارا ایمان ہے ۔ تو اس بارے میں تمہارے پاس نہ علم ہے اور نہ سند ہے۔ اگرچہ ہماری سند ہو ‘ لہٰذا ان موضوعات پر تمہارا مباحثہ کرنا صرف بحث برائے بحث ہوگا۔ وہ محض تیر تکے چلانا ہوگا۔ کوئی بامقصد کام نہ ہوگا ۔ بلکہ محض مطلب براری اور نفس پرستی ہوگی ۔ اور جن لوگوں کا حال یہ ہو وہ ہرگز قابل اعتبار نہ ہوں گے بلکہ ایسے لوگوں سے بات نہ کرنا مناسب ہے اور نہ ان کی بات پر کان دھرنا مناسب ہے ۔
Ayah 3:67ان حضرات کی بحث و تکرار کا پول کھولنے کے بعد اور اس بحث کی حیثیت ختم کردینے کے بعد اور انہیں مکمل طور پر ناقابل اعتبار کردینے کے بعد ‘ اب اللہ تعالیٰ وہ اصل حقیقت بیان فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ انسانی میں بہت زیادہ قدیم واقعات کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جو دین نازل فرمایا گیا تھا ‘ اس کی حقیقت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ بہرحال قاطع ہے ۔ اللہ کے فیصلے کے بعد کسی کے لئے کوئی بات کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ الایہ کہ کوئی ہر صورت میں ‘ بغیر کسی دلیل وبرہان کے ‘ مجادلہ پر اتر آیاہو مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
” ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا ‘ نہ عیسائی بلکہ وہ ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “ یوں ‘ اس سے پہلے اشارۃً بات کی گئی تھی کہ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے ‘ اس لئے کہ تورات وانجیل بعد میں نازل ہوئی ۔ یہاں اس کی تصریح کردی گئی ہے کہ وہ یہودی اور نصرانی نہیں تھے بلکہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور وہ اسلام کے سوا کسی اور ملت کی طرف مائل نہ تھے ۔ اس لئے کہ وہ مسلم تھے ۔ اور مسلم بھی ان معنوں میں تھے ‘ جن کی تفصیل ہم نے اس سے پہلے بیان کردی ہے وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ “ یہ فقرہ سابقہ فقرے کی تاکید مزید ہے کہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور اس لئے کہ مسلم حنیف جو بھی ہو وہ مشرک نہیں ہوتا۔ اب حنیف مسلم کے بعدیہ کہنا کہ وہ مشرک نہ تھے اس میں چند لطیف اشارے مقصود ہیں ۔
پہلا اشارہ یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جن کے اندر عقائد کا انحراف اس حد تک پہنچ گیا ہے وہ در حقیقت مشرک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ابراہیم نہ یہودی ہوسکتا ہے اور نہ نصرانی ‘ بلکہ وہ مسلم حنیف ہی ہے۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ اسلام ایک علیحدہ حقیقت ہے اور شرک بالکل ایک الگ چیز ہے ۔ ان دونوں کا ایک جگہ اکٹھ کبھی نہیں ہوسکتا ۔ اسلام مطلق توحیدکانام ہے اور توحید بھی از ہمہ جہت وباہمہ خصوصیات وباہمہ مقتضیات اس لئے اسلام شرک کے کسی رنگ کے ساتھ لگا نہیں کھاتا۔
اس میں تیسرا اشارہ یہ مطلوب ہے کہ مشرکین قریش اپنے آپ کو حنیفی اور دین ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو سمجھتے تھے ۔ اور وہ خانہ کعبہ کے خادم اور مجاور تھے ۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ وہ تو مسلم حنیف تھے ۔ اور تم مشرکین ہو وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “
جب ابراہیم (علیہ السلام) مسلم حنیف تھے اور مشرک نہ تھے تو یہود ونصاریٰ یا مشرکین میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان کے وارث ہیں ۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ ابراہیم کے دین کے والی ہیں حالانکہ وہ اس دین سے بہت ہی دور جاچکے ہیں ۔ عقیدہ اور نظریہ وہ رابطہ ہے جس پر لوگ اسلام میں باہم جمع ہوتے ہیں ۔ جبکہ ہم نسب ‘ ہم قوم ‘ ہم جنس اور ہم وطن ہوکر بھی لوگ دوسرے سے دور ہوتے ہیں ۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوں اور جب اسلامی نظریہ حیات کی اس مضبوط اساس پر اہل ایمان جمع ہوتے ہیں تو پھر ان کی نظر میں انسان وہ ہوتا ہے جو روحانی اعتبار سے انسان ہو۔ یعنی انسان اس وجہ سے ممتاز ہے کہ اس کے جسم میں اللہ نے ایک پاک روح ڈالی ہے ۔ چناچہ اس کا صحیح اکٹھ بھی عقیدے کی اساس ہو سکتا ہے جو اس کی روح کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ انسان کا اجتماعی نظام ان اساسوں پر قائم نہیں ہوتا جس پر مویشیوں کا اکٹھ ہوتا ہے ۔ مثلاً ای جگہ چرنے والے مویشی ‘ ایک جنس کے مویشی ‘ ایک چراگاہ والے مویشی ایک ہی باڑے میں اور اہل زندان میں روکے ہوئے مویشی باہم مل کر رہتے ہیں ۔ اسلامی نقطہ نظر سے ایک فرد اور دوسرے فرد ‘ ایک گروہ اور دوسرے گروہ ‘ ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان ماسوائے عقیدہ اور نظریہ حیات کے اور کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مومن دوسرے مومن سے محبت کرتا ہے ‘ ایک مسلم گروہ کو دوسرے مسلم گروہ سے محبت ہوتی ہے ۔ ایک اسلامی جماعت کا دوسرے اسلامی جماعت سے تعلق ہوتا ہے اور مسلم نسلوں کا دوسری مسلم نسلوں سے تعلق ہوتا ہے اور اس کی راہ میں زمان ومکان کی حدود حائل نہیں ہوسکتیں۔ اس تعلق کی راہ میں خون اور نسب کے فاصلے حائل نہیں ہوسکتے ۔ قوم اور علاقے کے فاصلے حائل نہیں ہوتے ۔ وہ باہم نظریاتی دوست ہوتے ہیں ۔ صرف نظریہ کی اساس پر اور ان سب کے اوپر پھر ذات باری سب کی دوست ہوتی ہے ۔