Ayah 3:83یہ ہے کہ اسلام اور سرتسلیم خم کرنے کی ایک گہری شکل ‘ ایک ایسی شکل و صورت جو تکوینی ہے جو انسان کے شعور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے انسانی ضمیر میں اللہ خوفی پیدا ہوتی ہے ۔ ایک عظیم قانون قدرت کی صورت جو قہاروجبار ہے ۔ جو تمام کائنات کی مردہ اور زندہ چیزوں کو ایک ہی سنت الٰہیہ اور شریعت الٰہیہ کے تابع فرمان بناتی ہے ۔ اور جس کے مطابق دونوں کا مال اور انجام ایک ہے ۔ یہ ہے اسلام وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ……………” اور سب نے اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ “…………لہٰذا یہ سب چیزیں آخرکار لازماً اسی اللہ کو پلٹ کرجائیں گی جو سب کو گھیرے ہوئے ہیں ‘ سب کا مدبر ہے اور نہایت ہی جلال و عظمت کا مالک ہے اور اس انجام سے کوئی راہ فرار نہیں ہے ۔
اگر انسان اپنی کامیابی اور سعادت چاہتا ہے ‘ اگر وہ راحت اور اطمینان چاہتا ہے ‘ اگر وہ اطمینان قلب اور صلاح حال چاہتا ہے تو اس کے لئے ماسوائے اس کے کوئی اور راہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی طرف رجوع کرے ۔ اپنی ذات میں بھی ‘ اپنے نظام زندگی میں بھی اور اپنے اجتماعی نظام میں بھی تاکہ اسکی زندگی اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے ۔ اور اس فطرت کائنات کے برخلاف اپنے لئے کوئی علیحدہ نظام زندگی وضع کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ اس لئے کہ اس کا یہ خود ساختہ نظام ‘ نظام کائنات کے ساتھ متضاد ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے ۔ اور یہ انسان طوعاً وکرہاً اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند ہے ۔ وہ نظام جو اس کے تصور اور شعور میں ہے ‘ جو اس کی عملی زندگی اور اس کے باہمی تعلقات میں ہے ‘ جو اس کی تمام جدوجہد اور سرگرمیوں میں ہے ۔ جب اس کائناتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے درمیان کوئی تصادم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ جب انسان کائناتی قوتوں کے ساتھ تصادم کی راہ لیتا ہے تو وہ پاش پاش ہوجاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کا وجود نہیں مٹتا تو وہ کم ازکم فریضہ خلافت کی ادائیگی کے قابل نہیں رہتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار کیا ہے ۔ اور اگر وہ قوانین قدرت اور کائناتی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ‘ جو خود اسے اور اس کے گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ خواہ زندہ ہوں یا غیر زندہ تو اس صورت میں وہ تمام اسراکائنات کا رازدان ہوگا ‘ وہ اس کی قوتوں کو مسخر کردے گا ان سے مفاد حاصل کرے گا اور اسی طرح وہ راحت ‘ آرام اور سکون حاصل کرے گا ۔ اور بےچینی ‘ قلق اور خوف سے نجات ملے گی ۔ مثلاکائنات کا مفاد یوں ہوگا کہ ایک کائناتی قوت کو جلانے اور تخریب کے لئے استعمال کرنے کے بجائے وہ کھانے پکانے ‘ گرمی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرے گا ۔ اور اس سے روشنی حاصل کرے گا۔
انسانی مزاج اپنی اصلیت کے اعتبار سے ان کائناتی قوتوں اور نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ انسان کا وجدان اسی طرح اپنے رب کی اطاعت چاہتا ہے جس طرح اس کائنات کی پوری زندہ اور غیر زندہ اشیاء اس کے سامنے سربسجود ہیں ۔ جب ایک انسان قوانین فطرت کے خلاف راہ اختیار کرتا ہے۔ تو وہ صرف نظام فطرت کے خلاف ہی نہیں جاتا بلکہ وہ خود ان نوامیس طبیعت کے بھی خلاف جاتا ہے جو اس کے نفس کے اندر موجود جاری وساری ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت پریشان ‘ شکستہ حیران اور بےچین نظرآتا ہے ۔ اور اس کی زندگی اسی طرح برباد ہوجاتی ہے جس طرح آج کا ایک گمراہ ‘ بےراہ رو انسان کی زندگی ہوتی ہے ۔ اور جسے ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ حالانکہ آج کے انسان نے علمی میدان میں بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں اور وہ مادی ترقی کے بام عروج پر ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانیت ایک انتہائی تلخ روحانی خلا میں مبتلا ہے ۔ اور یہ ایک ایسا خلا ہے جسے فطرت انسان بھول نہیں سکتی ۔ یعنی انسانیت ذوق یقین سے محروم ہے ۔ اس کی زندگی اسلامی نظام سے محروم ہے ‘ اس لئے کہ یہی نظام زندگی ‘ ان مادی ترقیات اور قوانین فطرت کے درمیان توازن پیدا کرسکتا ہے جس میں انسان کی تگ ودو اور قوانین فطرت کی رفتار ایک سمت میں ہوجاتی ہے ۔
انسانیت اس وقت جھلس دینے والی تپتی دھوپ میں سرگردان ہے اور وہ اسلامی نظام زندگی کی گھنی چھاؤں سے محروم ہے جس میں کو خوشگوار زندگی بسر کرسکے ۔ اور شر و فساد سے اسے نجات ملے جس میں وہ محض اس لئے گرفتار ہے کہ وہ اسلام کے شاہراہ مستقیم اور جادہ مانوس سے ہٹ گئی ہے ۔ اس دشوار گزار راستے اور حیرانی و پریشانی ‘ قلق وبے چینی اور اضطراب وگمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ وہ ہر وقت بھوک ‘ افلاس اور روحانی خلا اور محرومیت کے احساس کا شکار ہے ۔ اور اسی صورت حال سے اس نے فرار کا یہی ایک راستہ پایا ہے ۔ کہ حشیش ‘ چرس اور ہیروئن جیسی منکرات اور تباہ کن ذرائع اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یہ جنونی سرعت ‘ احمقانہ حرکات ‘ اخلاقی بےراہ روی سے اس خلاکو بھرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ناکام ہے ۔ اور یہ صورت حال باوجود اس بےپناہ مادی ترقی ‘ بےحد و حساب پیداوار اور ساری زندگی کی بےپناہ سہولیات کے باوجود جوں کی توں ہے ۔ بلکہ اس قلق اور اس حیرانی اور ان پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اور اسی نسبت سے ہورہا ہے جس نسبت سے مادی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیاوی سہولیات اور آسائشوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
یہ خوفناک اور تلخ خلا ‘ انسانیت کو ایک خوفناک بھوت کی طرف بھگارہا ہے ۔ لیکن بھاگتے بھاگتے وہ جس مقام تک بھی پہنچتی ہے ‘ ہر جگہ یہ بھوت اس کے پیچھے کھڑا نظرآتا ہے ‘ آج جو شخص بھی مغرب کے مالدار اور ترقی یافتہ دور میں جاتا ہے اس کے احساسات میں پہلا تاثر یہ بیٹھتا ہے کہ یہ سب لوگ بھاگ رہے ہیں ۔ کوئی بھوت ہے جو انہیں بھگارہا ہے اور اس سے بھاگ رہے ہیں ‘ بلکہ وہ خود اپنی ذات اور اپنے سائے سے بھاگ رہے ہیں ۔ اس شخص پر بہت جلد یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان مادی ترقیات نے اور حسی لذتیت نے ان لوگوں کو گندے کیچڑ میں لت پت کردیا ہے ۔ وہ بیشمار نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ان کے اعصاب شل ہوگئے ۔ وہ بےراہ روی کے ہیجان میں مبتلا ہیں اور اپنی اس روحانی کمی کو منکرات ‘ منشیات اور دوسری مہلک اشیاء کے استعمال سے پورا کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ جنوں کی حد تک جرائم پیشہ ہوگئے ہیں اور ان کی زندگی ہر قسم کے شریفانہ تصور سے خالی ہے ۔
ان لوگوں نے اپنی شخصیت ہی کو گم کردیا ہے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اپنے وجود کا اصل مقصد ہی بھلادیا ہے ۔ وہ روحانی سعادت سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے اسلامی زندگی کو کم کردیا ہے ۔ جو انسان کی روحانی اور جسمانی زندگی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرکے اسے ان روحانی امراض سے نجات دیتا ہے جس میں مبتلا ہیں ۔ اور وہ اس خلجان میں مبتلا اس لئے ہیں کہ وہ معرفت خداوندی سے محروم ہیں جس کی طرف انہوں نے لوٹنا ہے۔
صرف تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے ہی نہیں ‘ بلکہ حقیقی نفس الامری کے اعتبار سے امت مسلمہ ہی وہ امت ہے جس نے اس عہد کو اچھی طرح اپنالیا ہے ‘ جو اللہ اور اس کے نبیوں کے درمیان طے پایا تھا ‘ صرف اس امت نے اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ اللہ کا دین ایک ہے اور اس کا نازل کردہ نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اور وہ قافلہ انبیائے کرام بھی ایک ہے جنہوں نے تاریخ میں ہمیشہ اسی واحد دین کو پیش کیا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نبی آخرالزماں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرے یعنی یہ کہ یہ امت تمام نبیوں پر ایمان لاتی ہے ‘ وہ تمام رسل کا احترام کرتی ہے ۔ وہ دین اسلام کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ دین جس کے سوا کوئی دوسرا دین اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا۔
Ayahs 3:84–85یہ ہے اسلامی تصور حیات ‘ جو بہت وسیع ہے اور اس میں تمام سابقہ رسالتیں شامل ہیں اور اسلامی نظام کے جھنڈے تلے وہ تمام رسول جمع ہیں جنہوں نے کبھی بھی رسالت خداوندی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ اسلامی نظام کی اساس عقیدہ توحید پر ہے اور اس کے تصور کے مطابق تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہے یعنی ذات باری اور ذات باری ‘ اور تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔ پھر اس کتاب پر ایمان لانے کا حکم ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی اور پھر ان کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے قبل دوسرے انبیاء پر نازل ہوئیں ۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ…………… ” اور ہم اس کے مسلم ہیں۔ “ ان الفاظ سے اسلام کا ان الفاظ میں اقرار کرنا اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔ پہلے یہ کہا گیا کہ اسلام کا مفہوم سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ہے اور خشوع و خضوع ہے۔ حکم کا اتباع ہے اور اسلامی نظام ‘ اسلامی طریقہ کار اور اسلامی ناموس کی اطاعت ہے ۔ اور یہ مفہومات پہلی آیت أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ” اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی سازی چیزیں چار وناچار اللہ ہی کے تابع فرمان ہیں ۔ (مسلم ہیں) اور اس کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ “ سے اخذ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ اس کائنات کی تکوینی اشیاء کے اسلام کا صرف یہی مفہوم ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ مطیع فرمان ہوتی ہیں ‘ وہ نظام کائناتی کے تابع ہوتی ہیں اور ضابطہ تکوینی کے اندر جکڑی ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مناسب موقعہ پر اسلام کے اس خاص مفہوم کو واضح فرماتے ہیں کہ اسلام عملی نظام کا نام ہے تاکہ لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اسلام صرف زبانی اقرار یا صرف تصدیق کا نام ہے جو دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بعد اس ایمان وتصدیق کے عملی اثرات کا وجود میں آناضروری نہیں ہے مثلاً اسلامی نظام زندگی کی اطاعت اور انسانی زندگی میں اس نظام کے قیام کے عملی جدوجہد ………غرض آنے والی عمومی توضیح اور بیان سے پہلے یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے جس پر قدرے غور ضروری ہے اور جس میں بتاکید کہا گیا ہے۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ……………” جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور طریقہ بطور دین اسلام اختیار کرے گا ‘ اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا ۔ “
ان آیات کے بعد ‘ جو مسلسل لفظ اسلام کے مفہوم کی توضیح کرتی ہیں ‘ اب اسلام کے مفہوم میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ ان آیات میں تحریف کی جاسکتی ہے نہ توڑ پھوڑ کیا جاسکتا ہے نہ اسلام کا اب کوئی اور مفہوم بیان کیا جاسکتا ہے ۔ جس کا علم قرآن کو نہ ہو ۔ اسلام بہرحال وہی اسلام ہے جس کی اطاعت یہ پوری کائنات کررہی ہے اس نظام کی صورت میں جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔
یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام صرف شہادتین کے اقرار تک محدود ہوجائے اور شہادتین کے تلفظ واقرار کے بعد اس پر وہ مفہوم اور وہ حقیقت منتج نہ ہو ‘ جو اسلام کے مفہوم میں داخل ہے ۔ یعنی ذات باری وحدہ لاشرک ہے اور ذات باری وحدہ قیوم ہے ‘ نظام کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ ہم نے اس کی بندگی کرنی ہے اور اس سے ہدایت اخذ کرنی ہے ۔ اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ہم نے ان کی اطاعت کرنا ہے ۔ اس نظام کو قبول کرنا ہے جسے وہ لے کر آئے ہیں ۔ اس شریعت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے ۔ جسے وہ لے کر آئے ہیں اور اپنے تمام فیصلے اس کتاب کے مطابق کرنے ہیں جسے وہ لے کر آئے ہیں۔
اسی طرح اسلام اس حد تک بھی محدود نہیں ہے کہ ایک انسان دل میں تصدیق کرلے کہ اللہ ایک ہے وہ غیب پر بھی ایمان لائے ‘ قیامت کو بھی مانے ‘ الہ کی کتابوں اور رسول کو بھی برحق تسلیم کرے ‘ بغیر اس کے کہ اس تصدیق کے بعد کوئی عملی مفہوم بھی زندگی میں ظاہر ہو ۔ اور وہ حقیقت نفس الامری وجود میں آئے جیسا کہ اوپر ہم نے تفصیل بیان کی ۔
پھر اسلام محض عبادات اور شعائر بندگی تک بھی محدود نہ ہوگا ‘ نہ مراقبے اور ذکر اذکار تک محدود ہوگا ‘ یا محض اخلاقی اور روحانی اصلاح کے کسی نظام تک بھی محدود نہ ہوگا۔ بغیر اس کے یہ تمام امور ایک منظم نظام حیات کی عملی شکل میں ظاہر نہ ہوں ‘ جس کی اساس خدائی تعلیمات پر ہو ‘ جس میں دل بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ مراسم عبودیت اور شعائر بھی اللہ اکیلے کے لئے ہوں ‘ تصور اور ذکر و اذکار بھی اللہ کے لئے ہوں ‘ اس میں خدا خوفی کے ذریعہ اصلاح قلوب ہو اور لوگوں کو رشد وہدایت دی جاتی ہو ‘ اس لئے کہ جب تک ایک پاک وصاف اور چمکتا دمکتا اجتماعی نظام قائم نہ ہوگا اس وقت تک ان تمام امور کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہ ہوں گے ۔
یہ ہے اسلام جیسا کہ اللہ کو مطلوب ہے ‘ اسلام کا مفہوم وہ نہیں جسے لوگوں کی مختلف نسلوں میں سے ایک تہی دامن نسل اپنی خواہشات نفسانیہ کے دباؤ کے تحت چاہتی ہے ۔ اور نہ اسلام کا مفہوم وہ ہے ‘ جو اسلام کے دشمن اسے پہنانا چاہتے ہیں۔ جو اسلام کے خلاف مورچہ زن ہیں اور مسلمانوں میں انہوں نے ان تحریفات کے لئے اپنے ایجنٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو جگہ جگہ کام کررہے ہیں ۔
بس اب جبکہ لوگوں پر اسلام کا مفہوم واضح ہوگیا ‘ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسلام کو اس مفہوم میں قبول کرنا نہیں چاہتے جس طرح اللہ چاہتے ہیں ‘ محض اس لئے کہ جانتے ہوئے وہ محض اپنی خواہشات نفسانیہ کے تحت ایسا کرتے ہیں تو یقیناً ایسے لوگ آخرت میں سخت گھاٹے میں ہوں گے ۔ اللہ نہ انہیں راہ راست پر لائے گا اور نہ ہی عذاب سے نجات دے گا۔
Ayahs 3:86–88یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔
Ayah 3:89رہے وہ لوگ جو توبہ نہیں کرتے اور نہ باز آتے ہیں وہ لوگ جو اپنے کفریہ رویے پر اصرار کرتے ہیں اور کفر میں آگے ہی بڑھتے ہی اور جو لوگ کفر ہی کی پناہ میں رہتے یہاں تک کہ وقت دیا ہوا ختم ہوجائے اور اختیار اور رد و قبول کی میعاد چلی جائے اور وہ وقت آپہنچے جس میں جزا اور سزا کا عمل شروع ہوجائے تو اس قسم کے لوگوں کے لئے نہ رجوع کا کوئی مقام ہے اور نہ توبہ کرنے کا وقت ہے نہ انہیں نجات ملے گی ۔ انہیں ان کا کوئی عمل فائدہ نہ دے گا اگرچہ انہوں نے دنیا میں اس قدر سونا خرچ کیا ہو جس سے دنیا بھر جاتی ہو۔ اگرچہ یہ عمل انہوں نے خیر و برکت سمجھ کر کیا ہو ‘ جب تک یہ عمل اللہ کے حوالے سے نہ کیا گیا ہو ۔ اس لئے ایسے اعمال اللہ کے ہاں نہ پہنچیں گے اور نہ وہ اعمال اللہ کے لئے ہوں گے ۔ وقت ختم ہونے کے بعد اگر وہ پوری دنیا بھر کر کفارہ ادا کریں تب بھی وہ قبول نہ ہوگا۔ وہ عذاب قیامت سے نہ بچ سکیں گے ۔ اس لئے کہ میعاد ختم اور دروازے بند ہوچکتے ہیں۔
Ayahs 3:90–91یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔
اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔
Ayah 3:92امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق ابن عبداللہ ابن ابی طلحہ سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں انہوں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا انصار مدینہ میں ابوطلحہ بہت ہی مالدار تھے ۔ اور ان کو ان کی دولت سے محبوب ترین ایک کنواں تھا جسے ” حاء “ کہتے تھے ۔ یہ مسجد نبوی کے بالمقابل تھا ۔ رسول ﷺ اس کنویں پر جایا کرتے تھے ۔ اور اس کا پاک وصاف پانی پیا کرتے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ تو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ اور میرا محبوب مال تو ” حاء “ کنواں ہے ۔ اور وہ میری طرف سے صدقہ ہے ۔ میں اس کا ثواب اور عنداللہ اس کی جزاء چاہتا ہوں ۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واہ واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش اور قیمتی مال ہے۔ یہ تو نفع بخش مال ہے۔ میں نے سن لیا لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اسے اقرباء کے درمیان تقسیم کردیں تو ابوطلحہ نے کہا : تو اللہ کے رسول ﷺ آپ ایسا ہی کردیں۔ تو رسول ﷺ نے اسے اس کے قرباء اور چچازادوں کے درمیان تقسیم کردیا ۔ (روایت مسلم و بخاری)
مسلم بخاری نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ خیبر میں مجھے جو حصہ ملا ہے ‘ اس سے اچھی جائیداد مجھے کبھی نہیں ملی تو اس کے بارے میں آپ کیا مشورہ دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اصل جائیداد اپنے پاس رہنے دو پیداوار سبیل اللہ کردو۔ “
اسی راستے پر صحابہ کرام ؓ میں سے اکثر ایک دوسرے سے آگے بڑھے ‘ یوں وہ اپنے رب سے بھلائی کی تلاش میں اس آیت پر لبیک کہتے رہے ۔ اس دور میں جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی طرف ہدایت دی ۔ اللہ کی آواز پر لبیک کہہ کر انہوں نے مال اور دولت کی غلامی سے اپنے آپ کو رہائی دلائی ۔ دلی بخل اور کنجوسی سے نجات پائی اور ذاتی لالچ سے پاک ہوئے ۔ اور یوں اس مقام بلند تک جاپہنچے جو نہایت بلند ‘ نہایت ہی روشن ‘ چمکدار تھا ‘ آزاد ‘ ہلکے پھلے ہر قید وبند سے نکلے ہوئے۔
پارہ چہارم ایک نظر میں
یہ پارہ سورة آل عمران کے آخری حصہ اور سورة نساء کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ یعنی آیت وَالمُحصَنَاتُ مِنَ النِّسَآءِ……………تک سورة آل عمران کا آخری حصہ چار اجزاء پر مشتمل ہے ‘ جو سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ‘ جن کے بارے میں ہم سورة آل عمران پر تبصرہ کرتے وقت بحث کر آئے ہیں ۔ یعنی پارہ سوئم میں ۔ یہاں اس بحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہاں تبصرہ دیکھا جاسکتا ہے۔
یہاں مختصراً یہ جان لینا چاہئے کہ سورة آل عمران کے ان چار اجزاء میں پہلا ان مکالمات پر مشتمل ہے جو مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں ‘ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان ہوئے ۔ یہ مکالمات اس تاریخی پس منظر میں ہوئے جس کے بارے میں ہم آغاز صورت میں وقت کا تعین کرچکے ہیں ۔ یہ مکالمات رمضان 2 ھ کے بعد ماہ شوال 3 ھ کے بعد تک کے دور میں ہوئے ۔ اس سے پہلے سورة آل عمران ‘ تقریباً اس عظیم الشان معرکہ پر تبصرہ ہے ۔ ان تبصروں کے ذریعہ اسلامی تصور حیات کی ماہیت ‘ دین کی حقیقت ‘ اسلام کی حقیقت اور اس نظام کی حقیقت بیان کی گئی ہے جو اسلام نے پیش کیا ‘ اور اسلام سے قبل تمام رسولوں نے اس نظام کو پیش کیا ۔ ان تبصروں میں اہل کتاب کی حقیقت اور ان کے موقف کو بھی واضح کیا گیا ‘ جو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دینی امور میں مجادلہ کیا کرتے تھے ‘ اور آپ کے صحابہ کرام کے ساتھ بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے ۔ یہ واضح کیا گیا کہ اہل کتاب دین اسلام سے کس قدر دور جاچکے ہیں ‘ اور یہ کہ مدینہ میں وہ جماعت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ اس سورت میں اس کا بھی انکشاف کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ ان کی ان سازشوں کے پس پردہ کیا کیا خفیہ محرکات کام کررہے ہیں ۔ ان تمام امور پر روشنی ڈال کر اسلامی جماعت کو ان سب معاملات کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک عظیم خطرے سے دوچار ہے ۔ اسے غفلت نہ کرنا چاہئے اور ان امور میں دشمن کی کوئی بات تسلیم نہیں کرنا چاہئے ۔
آیات کا دوسرا ٹکڑا جو اس سورت کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے ‘ وہ ایک دوسرے معرکے پر محیط ہے ۔ یہ معرکہ صرف مکر و فریب اور زبانی جدل و مباحثہ پر ہی موقوف نہیں بلکہ یہ معرکہ تیر وسنان ہے اور ضرب وحرب پر مشتمل ہے ۔ یعنی غزوہ احد ‘ اس کے واقعات ‘ اس میں پیش آنے والے واقعات کے اسباب ونتائج ‘ غزوہ احد پر یہ تبصرہ اس مخصوص اسلوب میں ہے جو قرآن مجید کا شاہکار اور اس کا اعجاز ہے ‘ یہ آیات اس معرکہ کے اختتام پر نازل ہوئیں ‘ اس لئے ان میں بھی اسلامی تصور حیات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اور اس معرکے کے حوادث کے حوالے سے اسلامی جماعت کی تربیت کا سامان فراہم کیا گیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے نقطہ نظرت سے اس معرکے میں جو غلطیاں ہوئیں یعنی اسلامی صفوں میں جو انتشار پیدا ہوا اور بعض وہ اقدامات جو اضطراب اور پریشانی کا باعث ہوئے ۔ ان واقعات کی وجہ سے ان حالات میں قرآن کریم نے جماعت مسلمہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہے ‘ اور اس راہ میں جو مشکلات پیش آئیں انہیں انگیز کرے اور وہ مقام اور مرتبہ حاصل کرے جو اس امانت عظمیٰ کے شایان شان ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے سپرد کی ہے اور اللہ نے اس امت کو یہ نظام دے کر جس اعزاز پر فائز کیا ہے اور جس عظیم فریضہ کے سر انجام دینے کے لئے منتخب کیا ہے ‘ اس پر وہ اللہ کا شکر بجالائے۔
تیسرے حصے میں روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اور اہل کتاب کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ معاہدات کو ایک ایک کرکے توڑ رہے ہیں ‘ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ مدینہ طیبہ میں تشریف لاتے ہی طے کئے تھے ۔ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ انہوں نے صحیح اسلامی تصور حیات سے انحراف کرلیا ہے اور یہ کہ انہوں نے ‘ اپنی پوری تاریخ میں ‘ مختلف اوقات میں اپنے انبیاء کے مقابلے میں مسلسل جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فکر وعمل میں اہل کتاب کی پیروی نہ کریں اور راہ حق میں انہیں جو جانی اور مالی نقصانات پیش آرہے ہیں ‘ ان پر صبر کریں اور ہر حال میں اپنے دشمنوں سے ہرگز متاثر نہ ہوں ۔
حصہ چہارم میں بتایا گیا ہے کہ صحیح اہل ایمان کے نزدیک اپنے رب کے ساتھ تعلق کی کیا نوعیت ہوتی ہے ‘ جب وہ اس کائنات میں باری تعالیٰ کی آیات ونشانات پر غور کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایمان باللہ راسخ ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنے رب اور رب کائنات کی طرف بڑے خشوع اور خضوع کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا رب ان کی ایسی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف کرکے انہیں اجر عظیم عطا کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں اہل کفر کے حالات یہ ہیں کہ انہیں صرف اس دنیا کا متاع قلیل دیا گیا ۔ یعنی اس کرہ ارض پر اور یہ کہ آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو ان کے لئے تیار ہے اور نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ اس سورت کا خاتمہ اس پکار پر ہوتا ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو صبر کرنے ‘ مشکلات برداشت کرنے ‘ باہم متحد ہوکر دشمنوں کے مقابلے میں چوکنا ہونے ‘ اور ہر وقت اللہ کا خوف دل میں رکھنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ تاکہ وہ اس دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔
یہ چار اسباق جو باہم مربوط ہیں اور ایک ہی سلسلہ کلام میں پارہ سوئم میں بیان کئے ہوئے ہیں مضامین کا تکملہ ہیں اور انہی خطوط پر آگے بڑھ رہے ہیں جن کے بارے میں ہم پارہ سوئم کے آغاز ہی میں تفصیلاً بحث کر آئے ہیں اور مزید تفصیلات اس وقت بیان ہوں گی جب ہم ان پر تفصیلاً بحث کریں گے اور آیات کی تفسیر بیان کریں گے ۔
اس پارے کا دوسرا حصہ سورة نساء کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ اس پر بحث سورٔ نساء کے ابتدائیہ میں ہوگی ‘ انشاء اللہ اور اللہ ہی ہے جو توفیق اور ہمت دینے والا ہے۔
سبق 26 ایک نظر میں
اس سبق میں ‘ اہل کتاب کے ساتھ ‘ جدل ومناظرے کا یہ معرکہ اپنی انتہاؤں کو پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ آیات وفد اہل نجران کے مباحثے کے ضمن میں نہیں آتیں جیسا کہ روایات میں بھی ذکر آتا ہے ‘ لیکن پنے مضمون اور مفہوم کے اعتبار سے یہ ان آیات کے ساتھ ملتی جلتی ہیں اور انہی کا تکملہ ہیں جو وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ موضوع وہی ہے ‘ اگرچہ روئے سخن خاص یہودیوں کی طرف ہے۔ اور بتادیا گیا کہ وہ مدینہ کے اہل ایمان کے خلاف کیا کیا خفیہ سازشیں ‘ کس کس طرح کررہے ہیں ۔ یہ مجادلہ مکمل بائیکاٹ اور مکمل علیحدگی پر منتہی ہوتا ہے اور پھر روئے سخن ‘ اس سبق میں تھوڑی دیر ہی میں اہل اسلام کی طرف پھرجاتا ہے اور صرف انہیں مخاطب کیا جاتا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا نظام زندگی کیا ہے ‘ اس کے فرائض کیا ہیں ‘ بعینہ اس طرح جس طرح سورة بقرہ میں بنی اسرائیل کے ساتھ مکالمہ ختم کرنے کے بعد امت مسلمہ کو مخاطب کیا گیا تھا ۔ اس لحاظ سے ان دونوں سورتوں میں مکمل مماثلت پائی جاتی ہے ۔
اس سبق کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ نبی اسرائیل پہ کھانے پینے کی ہر چیز حلال تھی ۔ ہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بعض اشیاء سے پرہیز کرتے ہوئے ‘ انہیں اپنے لئے ممنوع قرار دیا تھا ۔ یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے کہ جب توراۃ نازل ہوئی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے ہاں محرمات طعام کی جو فہرست مروج تھی ‘ اسلام نے ان اشیاء میں سے بعض کا استعمال چونکہ جائز قرار دے دیا تھا ‘ اس لئے یہودیوں کو اس پر سخت اعتراض تھا ۔ حالانکہ یہ اشیاء صرف یہودیوں کے لئے حرام قرار دی گئی تھیں اور یہ بھی اس لئے کہ وہ نافرمانیاں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان پر یہ چیزیں حرام کرکے انہیں سزا دی گئی تھی ۔
اس کے بعد تحویل قبلہ پر وہ جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا بھی جواب دیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے سورة بقرہ میں ایک طویل بحث ہوچکی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ بیت ابراہیم (علیہ السلام) ہے ۔ اور یہ پہلا گھر ہے جو اس کرہ ارض پر صرف اللہ کی عبادت اور بندگی کے لئے بنایا گیا ۔ اس لئے جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہونے کے مدعی ہیں ‘ ان کی جانب سے بیت ابراہیم (علیہ السلام) کو قبلہ قرار دینے کی مخالفت ناقابل فہم ہے۔
اس کے بعد اہل کتاب کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے ہیں ‘ اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ اختیار کرنے سے روکتے ہیں ۔ وہ صحیح اور صراط مستقیم چھوڑ کر ٹیڑھے راستوں پر بھٹک رہے ہیں ۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ گمراہی اسلامی نظام زندگی پر بھی چھاجائے ‘ حالانکہ وہ حق کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں ‘ اور وہ بیخبر نہیں ہیں ۔
ایسے حالات میں قرآن کریم اچانک اہل کتاب کو چھوڑ کر امت مسلمہ کو مخاطب کرتا ہے اور انہیں زور دار الفاظ میں متنبہ کرتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی اطاعت نہ کریں کیونکہ ان کی اطاعت عین کفر ہے۔ اور اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ عین اسی وقت کفر اختیار کریں جب نبی ان کے سامنے اللہ کی کتاب پیش کررہا ہو ‘ اور رسول اللہ ان میں موجود ہوں اور انہیں اس کتاب کی تعلیم بنفس نفیس دے رہے ہوں ‘ وہ ان کا تزکیہ کرتے ہوئے انہیں اللہ خوفی کی تعلیم دے رہے ہوں ‘ اور انہیں یہ تلقین کررہے ہوں کہ وہ اسلام پر اپنی زندگی میں جمے رہیں اور اسی حالت میں اسلام میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔ رسول اللہ اور کتاب اللہ انہیں یاد دلارہی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو جوڑا ‘ یہ اس کی بڑی نعمت تھی کہ اس نے ‘ اسلام کے جھنڈے تلے ‘ ان کی صفوں کو یکجا کیا ۔ حالانکہ اس سے قبل ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے تھے ‘ اور باہم برسر پیکار تھے ۔ بلکہ وہ آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اور اس میں گرنے ہی والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بچایا اور یہ نجات انہیں اسلامی نظام زندگی کے سبب ملی۔ پھر یہ کتاب تمہیں کتاب تمہیں حکم دیتی ہے کہ تم ایک ایسی امت کی شکل اختیار کرو جس کا مشن اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی طرف بلانا اور برائی سے منع کرنا ہو ‘ اور نصب العین کے محافظ رہیں کہ تم نے اسلامی نظام زندگی کو بروئے کار لانا ہے ۔ پھر تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ تم اہل کتاب کی وسوسہ اندازیوں اور دسیسہ کاریوں پر کان ہی نہ دھرو کیونکہ یہ لوگ تمہاری صفوں کے اندر ہیں ‘ وہ تمہارے اندر اختلافات ڈال کر تمہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں ۔ جس طرح وہ خود ان ہی کے اختلافات کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں تباہی سے دوچار ہوئے ۔ روایات میں قرآن کریم کے اس انتباہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے کہ اوس اور خزرج کے درمیان یہودیوں نے اختلاف پیدا کرکے ایک عظیم فتنے کے بیج بودئیے تھے ۔
اس کے بعد قرآن کریم امت مسلمہ کو یاد دلاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر اس کا مقام ومنصب کیا ہے ؟ حضرت انسان کی زندگی کے ڈرامے میں امت مسلمہ نے کیا کردار ادا کرنا ہے۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
” تم تو وہ خیر امت ہو جسے تمام لوگوں کی خاطر برپا کیا گیا ہے ‘ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور اللہ پر ایمان لاؤ۔ “ یوں اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کرتا ہے کہ تمہارا مشن کیا ہے ؟ اور تمہاری سوسائٹی کا رنگ ڈھنگ کیا ہونا چاہئے۔
اس کے بعد مسلمانوں کے دشمن کی ذرا خبر لی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اہل اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے ‘ نہ ہی وہ مسلمانوں پر غلبہ پاسکتے ہیں ‘ ایسا غلبہ جو مکمل بھی ہو اور دائمی بھی ہو ‘ ہاں وہ یہ کرسکتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی جدوجہد کے دوران انہیں اذیت دے سکتے ہیں ‘ البتہ مسلمان اگر اسلامی نظام زندگی اور اپنے منہاج پر قائم رہے تو اللہ کی نصرت انہیں حاصل رہے گی ۔ ان دشمنان خدا پر اللہ تعالیٰ نے ذلت مسلط کردی ہے ۔ وہ ہمیشہ حالت مسکینی میں رہیں گے ۔ اللہ کا غضب ان کو گھیرے رہے گا ۔ اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہوگا کہ انہوں نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ معاصی کا ارتکاب کیا ۔ ناحق اپنے نبیوں تک کو قتل کیا ۔ اہل کتاب میں سے بہر حال ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ ایمان لے آئے اور انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں اہل اسلام کا منہاج اپنایا۔ اور نیکی اور بھلائی کے پھیلانے کا مشن ان کا نصب العین بن گیا۔ ایسے لوگ بہرحال صالحین میں سے ہیں ۔ ہاں جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنایا ‘ اسلام کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا ‘ تو وہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے ماخوذ ہوں گے ‘ ان کی دولت انہیں کوئی نفع نہ دے گی ‘ ان کی اولاد انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی ۔ اور انجام کار انہیں ایک عظیم تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سبق کا خاتمہ اہل ایمان کو اس بات کا خوف دلانے پر ہوتا ہے کہ وہ ایمانداروں کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کوئی خفیہ دوستی قائم نہ کریں۔ اس لئے کہ یہ دوسرے لوگ اپنے دلوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف بغض وعداوت چھپائے ہوئے ہیں ۔ ان کی باتوں سے اہل اسلام کے خلاف بغض وعداوت ٹپکتی ہے ۔ اور ان کے دلوں کے اندر اہل اسلام کے خلاف جو لاوا پک رہا ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے ۔ انتہائی غصے اور نفرت کی وجہ سے وہ اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں اور اہل اسلام پر اگر کوئی آفت ومصیبت آتی ہے تو یہ نہایت ہی خوش ہوتے ہیں اور اگر اہل اسلام کے لئے کوئی کامیابی ظہور پذیر ہوتی ہے تو وہ بہت کبیدہ خاطر ہوجاتے ہیں ۔ ان توضیحات کے آخر میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان کانگہبان اور محافظ ہے ۔ اگر وہ صبر سے کام لیں اور اللہ خوفی کا رویہ اختیار کریں تو اللہ ان کے دشمنوں کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام کردے گا ۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعمَلُونَ مُحِیطٌ……………” جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر حاوی ہے۔ “
یہ طویل توضیحات اور متنوع اشارے ‘ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس دور میں جماعت مسلمہ اور اہل ایمان کی صفوں میں اہل کتاب کس طرح گھسے ہوئے تھے اور کیا کیا سازشیں کررہے تھے ۔ اور بےچینیاں پھیلا رہے تھے ۔ اور یہ کہ اس سبق نے اس وقت بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی ۔ نیز یہاں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو کس قدر مضبوط راہنمائی کی ضرورت تھی ‘ تاکہ وہ اپنے اور جاہلیت کے کامریڈوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وروابط کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اسلامی نظریہ حیات اور جاہلیت کے درمیان ایک قطعی امتیاز پیدا کردیا جائے ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کے بعد آئندہ نسلوں کے لئے بھی یہ ہدایت اور توضیح کام آئے ۔ اور آنے والی نسلوں کو متنبہ کردیا جائے کہ ان کے موروثی دشمن کون ہیں ؟ یہ ایسے دشمن ہیں کہ وہ نئے نئے روپ اور نئے نئے وسائل لے کر میدان میں آتے ہیں لیکن ہیں وہ ایک ہی۔
Ayah 3:93یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ ہر قسم ‘ شبہ اور ہر دلیل ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے تھے ‘ اور ہر طرح کا حیلہ اور مکر و فریب کام میں لاتے تھے تاکہ وہ رسالت محمدیہ کی صحت میں کوئی شبہ پیدا کردیں۔ تحریک اسلامی میں فکری بحران پیدا کردیں اور لوگوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کردیں ۔ چناچہ یہ لوگ ہر وقت شکوک و شبہات پھیلاتے پھرتے تھے ۔ جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ توراۃ کی تصدیق کرتا ہے تو انہیں یہ اعتراض کرنے کا موقعہ ملا اگر قرآن کریم توراۃ کا مصداق ہے تو پھر اس کا جواز کیا ہے کہ وہ بعض چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں اونٹوں کا گوشت اور دودھ کی مثال پیش کی ۔ کیونکہ چیزیں بنی اسرائیل پر حرام تھیں ۔ اگرچہ اونٹ اور اس کے دودھ کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں تھیں جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے حلال کردیا تھا۔
یہاں قرآن کریم ان کی توجہ اس تاریخی حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے جسے وہ جان بوجھ کر نظر انداز کررہے تھے ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ قرآن کریم کے اس دعویٰ میں تشکیک پیدا کریں کہ وہ توراۃ کا مصدق ہے ۔ دلیل یہ دیتے کہ بعض ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا جو نبی اسرائیل پر حرام تھیں ‘ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ کھانے کی وہ ساری چیزیں جو شریعت محمدیہ میں حلال ہیں ‘ وہ بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں ‘ البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے بنی اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ یہ اسرائیل حضرت یعقوب ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہوئے تھے ‘ اور انہوں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر وہ تندرست ہوگئے تو وہ بطور نفل اونٹ کا گوشت کھانا ترک کردیں گے ۔ اونٹ کا دودھ نہ پئیں گے اور یہ دونوں چیزیں انہیں بہت پسند تھیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی منت اور نذر کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل میں یہ سنت یعقوبی چل پڑی اور انہوں نے بھی ان چیزوں کو حرام کرلیا جو ان کے باپ نے حرام کی تھیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بعض دوسری چیزیں بطور سزا بھی حرام کردی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان محرمات کی طرف سورت انعام کی آیات (146) میں اشارہ کیا گیا ہے۔
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے ‘ اور گائے اور بکری کی چربی بھی ‘ بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے اس کی سرکشی کی سزا نہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔ “ جبکہ اس تحریم سے قبل یہ چیزیں ان کے لئے حلال تھیں ۔
ان کی تردید کرکے اللہ تعالیٰ انہیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں اصل الاصول یہ ہے کہ وہ جائز ہیں ‘ اور بنی اسرائیل پر بعض چیزیں ان کے مخصوص حالات کے پیش نظر حرام کی گئی ہیں ‘ اس لئے اگر ان میں سے بعض چیزوں کے استعمال کو مسلمانوں کے لئے حلال قرار دے دیا گیا تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ حلال تھیں ۔ اس لئے اس حلت سے قرآن کریم اور شریعت الٰہیہ کی صحت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔
اس موقعہ پر قرآن کریم انہیں چیلنج دیتا ہے کہ لائیں وہ توراۃ اور اسے پڑھیں اور بچشم خود دیکھ لیں کہ ان چیزوں کی حرمت کے اسباب صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ یہ اسباب عام نوعیت کے نہیں ہیں ۔ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو توراۃ لے آؤ ‘ پرھ کر بتاؤ۔ “
اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ان میں سے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ظالم ہیں ۔ وہ نہ سچائی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ‘ نہ خود اپنے آپ کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اور نہ انسانیت کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ۔ اور ظالموں کی سزا بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ اس لئے یہاں قرآن کریم اس پر اکتفاء کرتا ہے کہ انہیں ظالم کہہ دے کیونکہ ظلم کے ساتھ ہی ان کے ظالم کا انجام متعین ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ افتراء اللہ تعالیٰ پر باندھ رہے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے دربار میں حاضر ہونے والے ہیں ۔ وہاں وہ کیا جواب دیں گے ؟
Ayah 3:94اہل کتاب کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض تحویل قبلہ پر بھی تھا ‘ یہ اعتراض بھی وہ بار بار دہراتے تھے ۔ یہ اعتراض اس لئے پیدا ہوا تھا کہ رسول ﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ طیبہ میں آپ سولہ ‘ سترہ یا اٹھارہ مہینوں تک نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے تھے ۔ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے ‘ سورة بقرہ میں ‘ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی تھی ‘ اور یہ بتایا گیا تھا کہ خانہ کعبہ دراصل حقیقی اور اصلی قبلہ تھا ‘ اور بیت المقدس کو عارضی طور پر ‘ بعض مصلحتوں کے تحت ‘ قبلہ قراردیا گیا تھا ‘ جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اپنی جگہ کردی تھی ‘ لیکن اس اظہار حقیقت کے باوجود یہودی باربار اسی اعتراض کو دہراتے رہتے تھے ۔ یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ اہل ایمان کے دلوں میں فکری انتشار اور تشکیک پیدا کی جائے اور ایک واضح حقیقت کے اندر التباس پیدا کیا جائے ۔ یہ کام آج ہمارے دور میں بھی ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ہر موضوع کے بارے میں دشمنان دین کی جانب سے بڑے منظم طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ از سر نو ان کے شبہات اور تلبیسات کی تردید فرماتے ہیں ۔
Ayahs 3:95–96یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” پس ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا ۔ “ یہودیوں کا زعم یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ یہ ہے دین ابراہیمی کی حقیقت ۔ اور وہ دین یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے نفرت کی جائے ۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار دومرتبہ کیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ حنیف تھے ۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔ اور یہود کا حال یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں ۔
اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ روب قبلہ ہونا دین کے اصولوں میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کی پرستش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور اسے ابتدائے تعمیر سے صرف اس مقصد کے لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ وہ طواف کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے مخصوص رہے ۔ نیز یہ ایک متبرک مقام ہے ‘ اور وہ اس مفہوم میں جائے ہدایت ہے کہ یہاں ملت ابراہیمی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اور اس میں وہ واضح علامات ہیں کہ یہ ابراہیم کی جائے قیام ہے ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تاریخی پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے ۔ یہ خانہ کعبہ کے ساتھ متصل تھا۔ مگر خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے اسے قدرے ہٹایا ‘ تاکہ طواف کرنے والوں کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف نہ ہو جو اس کے پاس نفل ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اہل اسلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کے پاس نماز پڑھیں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى…………… ” اور حضرت ابراہیم کے مقام کو جائے نماز بناؤ۔ “
اس گھر کے فضائل میں سے ایک بات یہاں بتائی جاتی ہے کہ اس گھر میں جو شخص داخل ہوا وہ پر امن رہے گا ۔ اس لئے یہ گھر ہر اس شخص کے لئے امن کی جگہ ہے جو یہاں داخل ہوجائے ۔ اور یہ حیثیت اس کرہ ارض پر کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت اس وقت سے چلی آرہی ہے جب اسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا ۔ یہاں عربوں کے دور جاہلیت میں بھی اسے یہ حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ وہ بالعموم دی ابراہیمی سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح خالص موحد نہ رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق اس برے دور میں بھی یہ احترام ومقام اسے حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” ایک شخص اگر دوسرے کو قتل کردیتا تو تو ایک اونی کپڑا اپنی گردن کے اردگرد لپیٹ لیتا ۔ اس حالت میں اسے اگر مقتول کا وارث بھی ملتا تو وہ اسے خانہ کعبہ میں کچھ نہ کہتا اور اس کے نکلنے کا انتظار کرتا ۔ “ غرض اس بیت اللہ کو اس وقت بھی یہ اعزاز حاصل تھا جب اس کے ارد گرد کے لوگ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اہل عرب پر اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرماتے ہیںأَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ……………” ہم نے ایک پرامن حرم بنادیا حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لے جاتے ہیں ۔ “ (6729 :)
اور بھی خانہ کعبہ کے احترام کی ایک وجہ ہے کہ کے حدود کے اندر شکار کرنا حرام ہے اور وہاں پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے نکالنا بھی ممنوع ہے ۔ نیز وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی ممنوع ہے ۔ صحیحین نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے (الفاظ مسلم کے ہیں ) کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا ” اس شہر کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ اس وقت سے جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئی ہوئی حرمت کی وجہ سے یہ تاروز قیامت حرام ہے ۔ اس میں مجھ سے پہلے کسی کے لئے جنگ کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا ۔ میرے لئے بھی صرف دن کے ایک تھوڑے سے وقت کے لئے جائز کیا گیا ۔ لہٰذا وہ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی اس حرمت کی وجہ سے تا روز قیامت حرام ہوگا۔ اس کی جھاڑیوں کو نہ کاٹاجائے گا ‘ اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا ‘ وہاں کسی گم شدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے ‘ الایہ کہ معلوم ہو کہ کس کی ہے ‘ اور اس کی گھاس کو نہ کاٹا جائے گا ……“
یہ ہے وہ خانہ خدا جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے چنا ہے ۔ اور یہ اس کا وہ گھر ہے ‘ جسے اس نے یہ شرافت عطا کی ۔ اس کرہ ارض پر یہ وہ پہلا گھر ہے جو صرف عبادت کے لئے بنایا گیا ہے ۔ یہ ان کے باپ حضرت ابراہیم کا گھر ہے اور اس کے اندر ایسی علامات اور شواہد موجود ہیں جو اس بات پر گواہ ہیں کہ اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا۔ اسلام بھی ملت ابراہیمی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ‘ سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہے کہ مسلمان اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ جو زمین میں جائے امن ہے ‘ اس میں لوگوں کے لئے سامان ہدایت ہے اور دین اسلام کا یہ ایک مرکز ہے۔
چناچہ یہاں طے کردیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض کردیا ہے ۔ بشرطیکہ کسی کی استطاعت ہو اور اگر استطاعت کے باوجود کوئی حج نہ کرے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کرے گا۔
Ayah 3:97یہاں انداز تعبیر قابل توجہ ہے ‘ فرضیت حج نہایت ہی عموم اور شمول پر مشتمل ہے ۔ اس کے لئے علی الناس ” تمام لوگوں پر “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ‘ اس میں پہلا اشارہ تو یہ ہے کہ یہ حج ان یہودیوں پر بھی فرض کیا گیا ہے جو اس وقت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مناظرہ اور محاربہ کررہے ہیں کہ کیوں مسلمانوں نے اس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خود اہل کتاب سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھر کا حج کریں ۔ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ یہ ان کے باپ ابراہیم کا تعمیر کردہ ہے اور پھر اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے اللہ کا اور جو صرف اس کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے اعتراض کرنے والے یہودی اپنے فرائض سے انحراف کررہے ہیں ‘ یہ تقصیر ہیں اور اللہ کی معصیت کررہے ہیں ۔ اور اس عمومیت میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام لوگوں سے مطالبہ یہ ہے کہ اس دین کا اقرار کرلیں اور اس دین کے فرائض اور شعائر ادا کریں ۔ اور وہ بھی خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوں اور حج کریں جس طرح اہل ایمان کررہے ہیں ۔ اور اگر یہ سب لوگ ایسا نہ کریں گے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ اگرچہ وہ زبانی طور پر یہ دعویٰ کریں کہ وہ اس دین پر ہیں اور اللہ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے ‘ اسے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ سب لوگ ایمان لائیں یا سب لوگ حج کے لئے جائیں ۔ حج میں تو ان کے لئے مصلحت ہے ‘ صرف ان کی فلاح ہے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی عبادت کریں۔
حج پوری عمر میں ایک بار فرض ہے اور یہ فرض اس وقت عائد ہوجاتا ہے جب انسان کو اس کی استطاعت ہوجائے ‘ جس میں ذاتی صحت ‘ سفر کا امکان اور راستوں کا امن وامان شامل ہے ۔ اس کی فرضیت کے وقت میں اختلاف ہے ۔ وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ یہ آیات 9 ہجری میں نازل ہوئیں جسے عام الوفود کہا جاتا ہے ‘ اور اس سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں یا ان کی رائے یہ ہے کہ 9 ہجری میں حج فرض ہوا ہے ۔ اس کا استدلال اس سے بھی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے 9 ہجری کے بعد ہی حج فرمایا ۔ اس سے قبل جلد دوئم میں تحویل قبلہ فیصلہ سے بحث کرتے ہوئے ہم نے یہ کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حج کی تاخیر اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ حج کی فرضیت ہی بعد میں ہوئی ۔ ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بعض مصروفیات اور مخصوص حالات کی وجہ سے حج مؤخر فرمایا ہو۔ مثلاً یہ کہ مشرکین حج کے موقعہ ننگے ہوکر حج کرتے تھے ‘ اور یہ حرکت وہ فتح مکہ کے بعد تک کرتے رہے ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے لوگوں کے ساتھ اختلاط کو ناپسند فرمایا ہو اور جب 9 ہجری میں سورت براءۃ نازل ہوئی اور مشرکین کے لئے طواف کعبہ حرام قرار دے دیا گیا تو اس کے اگلے سال بعد رسول ﷺ نے خود حج ادا فرمایا۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ حج اس سے پہلے فرض ہوچکا ہو۔ اور یہ سورت ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی ہو مثلاً غزوہ احد کے قریب۔
بہرحال جس وقت بھی حج فرض ہوا ہو ‘ اس کی فرضیت اسی نص قاطع کے ذریعے ہوئی ہے ۔ یعنی حج ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو راستے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ حج مسلمانوں کا ایک سالانہ اجتماع ہے ‘ وہ اس گھر کے پاس جمع ہوتے ہیں ‘ جہاں سے دعوت اسلامی کا آغاز ہوا ‘ جہاں سے ان کے باپ حضرت ابراہیم کی ملت کا بھی آغاز ہوا ‘ اور جسے حضرت ابراہیم نے اللہ کی عبادت کے لئے پہلا گھر قرار دیا ۔ اس لئے حج ایک نہایت ہی بامقصد اجتماع ہے ‘ اس کی کچھ خاص یادیں ہیں اور ان تمام یادوں کا محور یہ بات ہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ رابطہ خاص پیدا ہوا ‘ انسان کی روح اللہ کی پکار پر لبیک کہے ‘ اس لئے کہ اس روح کی وجہ سے انسان ، انسان بنا ہے ۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس پر تمام انسانوں کو جمع ہونا چاہئے اور وہ ہر سال اس گھر میں جمع ہوں جہاں سے کبھی خالص ” انسانی روحانی اجتماع “ کی دعوت کا آغاز ہوا تھا اور یہ دعوت خالص انسانی بنیادوں پر تھی ۔
Ayah 3:98یہ تہدید اور اس قسم کا ڈراوا اس سورت میں اور ایسی ہی دوسری سورتوں میں باربار آیا ہے ۔ اس کا پہلا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو اپنے موقف کی اصلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا مومن اور بڑا دیندار ظاہر کرتے ہیں ‘ جبکہ فی الحقیقت وہ اہل کفر میں سے ہیں ‘ کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے جو شخص اللہ کے کسی بھی جزء کا انکار کرے گا ‘ گویا وہ سب کتاب کا انکار کرے گا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود ان کے پاس محفوظ کتاب پر ایمان لائے ہوتے تو وہ لازماً ہر آنے والے رسول پر نازل ہونے والی ہدایات پر ایمان لائے ہوتے ۔ اس لئے کہ دین کی حقیقت ایک ہے ۔ جو شخص بھی اس حقیقت کو پالے وہ ان تمام رسولوں پر ایمان لائے گا جو بعد میں آئیں اور ان سے بیعت لیں ۔ یہ ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس سے چاہئے کہ وہ کانپ اٹھیں اور انہیں ان کی عاقبت کے بارے میں شک لاحق ہوجائے اور وہ اپنے انجام کی فکر کریں ۔
اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ جماعت مسلمہ میں سے بعض لوگ جو اہل کتاب سے ان کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے تھے ‘ ان کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں کہ اللہ خود اہل کتاب کی حقیقت ان کے سامنے کھول کر بیان فرماتے ہیں اور ان پر صریحاً کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ‘ اس لئے اس کے بعد کسی کے لئے کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ اہل کتاب غلط ہیں اور اہل اسلام سچے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں۔ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ ان تمام حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو۔ “ اور وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ……………” تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔ “ یہ ایک خوفناک تنبیہ ہے ۔ جب ایک انسان اس بات کو محسوس کرلے کہ اس کے اعمال پر اللہ گواہ ہے اور یہ کہ وہ اس کے اعمال سے غافل نہیں ہے اور عمل بھی کیسا ؟ خالص کفر ‘ خالص دھوکہ ‘ خالص فساد اور خالص گمراہ کرنا تو اس کے دل میں خوف کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ریکارڈ پر لاتے ہیں کہ وہ جس حق کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہوئے لوگوں کو اس ھق سے دور روکتے ہیں ۔ جبکہ وہ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ……… ” حالانکہ تم اس پر گواہ ہو ۔ “ یعنی انہیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ وہ جس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں وہ حق ہے اور وہ جس بات سے عوام الناس کو روکتے ہیں اس میں ان کی بھلائی ہے ۔ اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابل نفرت ہے ۔ اس لئے ایسے کردار والے کسی شخص پر نہ تو کوئی اعتماد کرنا مناسب ہے اور نہ ایسے شخص کا ہمنشین ہونا مناسب ہے ۔ ایسے شخص کا صحیح علاج یہ ہے کہ اس کے ساتھ پوری طرح نفرت کا مظاہرہ کیا جائے اور اس پر بھرپور تنقید کی جائے۔