3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا : مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے ۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا :” مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ “ اس کا خیال یہ تھا کہ میرا بچہ لڑکا ہوگا۔ اور گرجوں میں جن بچوں کی نذر دی جاتی تھی وہ بالعموم لڑکے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ ہیکل کی خدمت کریں ۔ اور وہ صرف عبادت کے لئے وقف ہوجائیں اور دنیا سے کٹ جائیں ۔ لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ بچہ لڑکی ہے ۔ اس لئے وہ گڑگڑا کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہایت ہی متأسفانہ انداز میں کہتی ہے ۔ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى……………” میرے رب ‘ میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ۔ “ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ……………” اور جو کچھ اس نے جنا ‘ اس کا علم تو اللہ کو بہرحال تھا۔ “ لیکن وہ یہ الفاظ اس لئے کہتی ہے کہ وہ خود متوجہ الی اللہ ہے اور ہدیہ پیش کرتی ہے ۔ گویا وہ ان الفاظ سے اللہ کے ہاں معذرت پیش کررہی ہے ۔ کہ اگر لڑکا ہوتا تو وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرتا ۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى……………” اور لڑکا ‘ لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ “ یعنی جس مقصد کے لئے نذر مانی گئی ہے ‘ اس مقصد کے لئے تو لڑکا ہی موزوں ہوتا ہے۔ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ……………” میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ “ ” یہاں جس انداز سے بات ہورہی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زوجہ عمران اللہ تعالیٰ سے آمنے سامنے بات کررہی ہیں ‘ گو تخلیہ میں بات ہورہی ہے ‘ دل کی پوری بات بتائی جارہی ہے ۔ صاف صاف بتائی جارہی ہے ۔ اور اپنا پورا اثاثہ پیش کیا جارہا ہے ۔ براہ راست خدمت اقدس میں ‘ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے تعلق باللہ کا یہی حال ہوتا ہے ۔ محبت ‘ قرب اور براہ راست رابطہ اپنے رب کے ساتھ سادہ الفاظ میں اخلاص کے ساتھ ہمکلامی ‘ جس میں نہ تکلف ہے اور نہ پیچیدگی ہے ۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جس طرح رب ان کے بالکل قریب ہے ۔ ان سے محبت کرتا ہے ‘ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ “ یہ وہ آخری بات ہے جو ایک ماں اپنے بچے کی نذر پیش کرنے بعد الوداعی طور پر کہتی ہے ۔ اور اسے اپنے رب کی حمایت اور اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے شیطان مردود سے پناہ مانگتی ہے ………اور یہ باتیں خلوص قلب کا مظہر ہیں ‘ وبطیب خاطر یہ نذر دے رہی ہے اور اپنی محبوب اولاد کے لئے وہ جو تحفظ طلب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اسے شیطان مردود سے بچائے۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

“ آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کرلیا ‘ اسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنادیا………زکریا جس اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا ۔ پوچھتا مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا۔ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا……………” آخرکار اللہ نے اس کی لڑکی کو قبول کرلیا اور اسے اچھی لڑکی بناکر اٹھایا۔ “ مال کے دل میں اخلاص اور للّٰہیت کو جذبہ موجزن تھا ‘ یہ اس کا صلہ تھا ‘ یہ ایک خالص نذر تھی جو صرف اللہ کے لئے تھی ‘ اور یہ اسے درحقیقت آنیوالے دور میں نفخ روح کے لئے تیار کرنا تھا ۔ کلمۃ اللہ کے حمل کے لئے اسے تیار کرنا تھا ۔ تاکہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق العادت ولادت کے لئے تیار ہو جس کی کوئی مثال اس سے قبل موجود نہ تھی ۔ وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا……………” ذکریا کو اس کا سرپرست بنادیا گیا۔ “ وہ اس کے ولی اور ذمہ دار قرارپائے ۔ اس دور میں حضرت زکریا ہیکل کے صدر نشین تھے ۔ اور وہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھے ۔ اور ہیکل سلیمانی کی مجاوری اور انتظام ان کی اولاد کے ہاتھ میں چلا آرہا تھا ۔ یوں حضرت مریم کی نشوونما اور تربیت کا بابرکت سلسلہ شروع ہوا ۔ اللہ تعالیٰ اسی نوخیز راہبہ کے لئے اپنے فیض خاص سے رزق کا خصوصی انتظام فرماتے تھے۔ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” زکریاجب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا ‘ تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا ۔ پوچھتا ‘ مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ قوہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “ ہم ان تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ یہ رزق کیسا تھا ‘ جس طرح کہ مختلف روایات وارد ہیں ‘ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ وہ رزق بڑا بابرکت تھا ۔ آپ کے ماحول میں برکت تھی اور ہر طرف سے وہ چیزیں مہیا ہورہی تھیں جن پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس قدر وافر رزق ہوتا تھا کہ ان کا کفیل بھی حیران رہ جاتا ۔ حالانکہ وہ نبی تھا ۔ وہ ان فیوض وبرکات کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھتا کہ یہ کیسے اور کہاں سے ؟ لیکن حضرت مریم ایک مومن صادق کی طرح بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ جواب دیتیں اور اللہ کے انعامات کا اعتراف کرتیں ۔ اللہ کے کرم کا اقرار کرکے معاملہ اس کے حوالے کردیتیں۔ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے ۔ “ یہ وہ کلمات ہیں ‘ جو بتاتے ہیں کہ بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ اور کس طرح بندگان عالی مقام اپنے ان رازوں کو راز ہی رہنے دیتے ہیں جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہوتے ہیں ۔ اور بات میں اس راز کے بارے میں بڑی تواضع اور کسر نفسی سے بات کرتے ہیں ۔ اس کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ یہاں حضرت مریم کے ہاں فراہمی رزق کے سلسلے میں غیر معمولی صورت حال دکھائی گئی اور جس پر حضرت زکریا نبی وقت کو بھی تعجب ہوا ۔ وہ آئندہ آنے والے زیادہ عجائبات قدرت کے لئے بطور تمہیدذکر ہوئے ۔ جن میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی ولادت شامل ہے ۔ اس مقام پر (مریم جیسی اولاد اور اس کے پاس وافر رزق ) کو دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں امید کی کرن پھوٹی ‘ آپ کی اولاد نہ تھی ‘ یہ ایک فطری خواہش تھی ‘ جو ہر انسان کے دل میں دسر قدرت نے ودیعت کی ہوئی ہوتی ہے۔ یعنی اولاد صالح کی زبردست خواہش ۔ تاکہ انسان کی ذات تسلسل میں رہے ۔ اور اس کے بعد اس کا کوئی جانشین ہو ‘ یہ وہ خواہش ہے جو بڑے بڑے عبادت گزاروں اور زاہدوں کے دل میں بھی موجزن رہتی ہے ۔ ان لوگوں کے دل میں بھی جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت کے لئے وقف کرلیا ہوتا ہے۔ اور جو ہیکل کی خدمت کے لئے وقف ہوچکے ہوتے ہیں ۔ یہ وہ فطرت ہے جس اللہ نے لوگوں کی تخلیق کی ہے ۔ اور یہ اس گہری حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس جہاں میں زندگی کا تسلسل جاری ہے اور وہ دن رات چوگنی ترقی کررہی ہے ۔ اس مقام پر حضرت زکریا (علیہ السلام) سامنے آتے ہیں ۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطاکر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے

یوں ہم اپنے آپ کو ایک غیر معمولی واقعہ کے سامنے پاتے ہیں ۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔ اور وہ ان سلسلہ اسباب ومسببات کی قید وبند سے آزاد ہے ۔ جنہیں آگے پیچھے دیکھنے کا انسان عادی ہے ۔ اور جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں تخلف ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو واقعات وحادثات اس قانون کے حدود وقیود کے اندر نہیں ہوتے یہ انسان ان کے بارے میں شاکی رہتا ہے ۔ اور جب وہ اس بات سے عاجز ہوں کہ اس کی تکذیب کردیں جب ان کے لئے ایسے واقعات کو جھٹلاناممکن نہ رہے کیونکہ وہ واقعات ہوتے ہیں تو وہ ان واقعات کے اوپر قصے اور کہانیوں کے خول چڑھادیتے ہیں ۔ دیکھئے زکریا شیخ اور معمر آدمی ہیں اور ان کی بیوی ان کے معمر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی میں بھی بانجھ رہی ہیں ۔ اس بوڑھے کے دل میں اولاد کی خواہش جوش میں آتی ہے ۔ جو ایک فطری خواہش ہے ۔ وہ مریم جیسی نیک اور خوبصورت بچی کو دیکھتے ہیں ‘ جسے وافر مقدار میں رزق دیا گیا ہے ۔ وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات کرتے ہیں ۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ انہیں بھی ایسی ہی پاک اولاد عطا ہو۔ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ” یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ” پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے ۔ “…………اس پرسوز اور پرکیف دعا کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ فوراً قبول ہوئی اور اب یہ اولاد اور یہ قبولیت زمان ومکان کی قید سے ماوراء تھی ۔ عام معتادطریقے سے نظام ہٹ گیا ۔ اس لئے کہ اصل سبب تو مشیئت الٰہی ہے ۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

جواب میں فرشتوں نے آواز دی ‘ جب وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھے یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا ۔ اس میں سرداری اور بزرگی کی شان ہوگی ۔ کمال درجے کا ضابطہ ہوگا ۔ نبوت سے سرفراز ہوگا ۔ اور صالحین میں شمار ہوگا۔ “

وہ دعا جو دل سے نکلی اور پاک دل سے نکلی وہ قبول ہوگئی ۔ اس لیے کہ اس دعا میں امید صرف اس ذات سے تھی جو دعا سنتا ہے۔ اور جس وقت چاہے اسے قبولیت کا جامہ پہناسکتا ہے ۔ فرشتوں نے زکریا کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیدی ۔ اس کا نام بھی ولادت سے پہلے یحییٰ رکھ دیا گیا۔ اور صفت واخلاق بھی قبل از وقت بتادئیے گئے ۔ وہ اچھا سردار ہوگا ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کو اچھی طرح قابو میں رکھنے والا ہوگا ۔ اور اس نے اپنے رجحانات اور میلانات کی لگام اچھی طرح تھام لی ہوگی ۔ وہ مومن ومصدق ہوگا اور اس کے پاس اللہ کا جو فرمان آئے گا اس کی تائید کرنے والا ہوگا۔ نبی صالح ہوگا اور قافلہ صلحاء کا رکن ہوگا۔ بہرحال یہ دعا قبول ہوگئی ۔ اور اس کی راہ میں وہ معمولی صورت حال حائل نہ ہوسکی جسے انسان روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں ۔ اور اسے ایک اٹل قانون سمجھتے ہیں ۔ اور پھر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ کی مشیئت بھی اسی قانون کی پابند ہے ۔ انسان جن امور کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قانون ہے اور اس سے انحراف ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک نسبتی امر ہے ۔ یہ کوئی آخری مشاہدہ نہیں ہوتا ۔ انسان کی عمر محدود ہے ۔ اور اس کا علم محدود ہے ۔ انسانی عقل طبیعات کے حدود کے اندر محدود ہے ۔ وہ اللہ کے انتہائی قانون تک رسائی بھی نہیں پاسکتی ۔ نہ وہ حقیقت مطلقہ کا ادراک کرسکتی ہے ۔ کیا انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ذر انسان بن کر رہے ۔ کیا اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ” ابار قدر خودبش اس “ کے مطابق اپنی حدود میں رہے اور اس وادی بےکنار میں بغیر کسی راہنمائے باخبر کے داخل ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ ممکنات اور مستحیلات کی وادی بےکراں ہے ۔ تعجب ہے کہ انسان اللہ کی مشیئت کے لئے وہ دائرہ تجویز کرتا ہے جو خود اس کے تجربے میں ہو اور جو اس کے علم قلیل کا دائرہ ہے۔ دعائے پر سوز کی یہ قبولیت خود حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے بھی تعجب خیر تھی ‘ بہرحال حضرت زکریا بھی تو انسان ہی تھے ۔ چناچہ ان کے دل میں بھی یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ دیکھیں کہ یہ خارق العادۃ واقعہ کیسے ظہور پذیر ہوگا ‘ حالانکہ انسان کا روز مرہ کا مشاہدہ اس کے خلاف ہے ۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا ۔ پروردگار ! بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا۔ میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میر بیوی بانجھ ہے کہا ‘ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “

” زکریا نے کہا پروردگار ‘ بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا۔ میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میر بیوی بانجھ ہے ۔ “ اس کا جواب بڑی سادگی اور بڑی آسانی سے دیدیا جاتا ہے بات اپنی جگہ تک آجاتی ہے ۔ اور ایسی حقیقت کو پیش کردیا جاتا ہے جس کے فہم میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور جس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ……………” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ یہی طریقہ ہے ‘ جو فی الحقیقت روبعمل ہے ۔ رات دن دہرایا جاتا ہے ۔ اللہ کی مشیئت کام کرتی رہتی ہے ۔ اللہ کے کام روز وشب یونہی ہوتے ہیں ۔ لیکن لوگ ان واقعات پر اچھی طرح غور نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کی اس کاریگری کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غور نہیں کرتے ۔ اور حقائق کو ذہن نشین نہیں کرتے ۔ یونہی بسہولت ‘ بہ روانی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اس میں اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ زکریا کو بیٹا دیدے ۔ اگرچہ وہ بوڑھا ہوگیا ہو اور اس کی عورت بانجھ ہوگئی ہو ۔ بوڑھا ہونا اور بانجھ ہونا تو انسانوں کا مشاہدہ ہے ۔ جس پر وہ اپنے لئے قواعد بناتے ہیں ۔ اس لئے اپنے لئے ضابطہ بناتے ہیں ۔ رہے اللہ تعالیٰ تو وہ انسانی ذہن کے قوانین وقیاسات کے پابند کیسے ہوگئے ۔ وہ تو جس طرح چاہے تجربات کو پھیر دے ۔ اس کی مشیئت تو ہر قید سے آزاد ہے ۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

عرض کیا مالک ! پھر کوئی نشان میرے لئے مقرر فرمادے۔ “ کہاَ نشان یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات نہ کروگے ۔ “ (نہ کرسکوگے) اس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا۔ “

لیکن حضرت زکریا کا را ہوار شوق سرپٹ دوڑ رہا تھا ‘ بہرحال وہ بھی انسان تھے اچانک خوشخبری سن کر پریشان ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے اس اعجوبے کے ظہور کے لئے کوئی علامت مقرر فرمادیں تاکہ وہ مطمئن ہوکر انتظار کریں ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً……………” میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے ۔ “………اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے حقیقی اطمینان کا انتظام فرماتے ہیں ۔ خود انہیں ان کی روز مرہ معمولات کے دائرے سے ذرا باہر لایا جاتا ہے ۔ قرار دیا جاتا ہے کہ علامت یہ ہوگی کہ تین دن کے لئے تیری زبان بند ہوجائے گی ‘ وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ بات نہ کرسکیں گے ۔ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اللہ کا ذکر کریں گے اور اس کی تسبیح وتہلیل کریں گے ۔ قَالَ آيَتُكَ أَلا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلا رَمْزًا وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالإبْكَارِ ” کہا :” نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سواء کوئی بات نہ کرسکوگے ۔ اس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا ۔ “………یہاں قرآن مجید خاموش ہوجاتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ عملاً ایسا ہوا ۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زبان بند ہوگئی۔ اور وہ تمام روز مرہ کی زندگی سے نکل آئے ۔ لوگوں کی روز مرہ زندگی کا قانون بھی معطل ہوگیا۔ دیکھو اس کی یہی زبان تھی جو زور سے چلتی تھی ۔ آج بند ہے ۔ لوگوں سے بات بند ہے اور اللہ سے مناجات جاری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب وہ کس قانون فطرت پر جارہے ہیں ؟ وہ قانون یہ ہے کہ الٰہ مطلق کی مشیئت ہر قید وبند سے آزاد ہے ۔ اگر ہم اپنی زندگی میں یہ اصول تسلیم نہ کریں گے تو پھر ان خوارق عادت معاملات کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں ۔ ہم اس بوڑھے اور عمر رسیدہ عورت کے ہاں اولاد کی پیدائش کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں۔ یہ خارق عادت واقعہ یہاں اس لئے بیان کیا گیا کہ آگے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا اصل خارق واقعہ بیان کیا جائے ۔ جس کی وجہ سے بیشمار شبہات اور ناقابل یقین نظریات وجود میں آگئے تھے ۔ پیدائش مسیح (علیہ السلام) دراصل اللہ کی تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے سلسلہ واقعات میں سے ایک واقعہ تھا ۔ یہاں سے پیدائش مسیح کا واقعہ شروع کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حضرت مریم کو اس روذح کی قبولیت کے لئے ‘ عبادت اور رجوع الی اللہ کے ذریعہ پاک کیا جاتا ہے۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لئے چن لیا ۔

یہ برگزیدگی کیا تھی ؟ وہ یہ کہ اللہ براہ راست اس کے اندر اپنی ایک روح ڈالنے والے تھے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت آدم کے جسد خاکی میں سب سے پہلے روح ڈالی تھی ۔ اور پھر یہ خارق العادۃ واقعہ پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا اپنے خاص طریقے کے مطابق ‘ فی الواقع یہ تاریخ انسانیت کی ایک منفرد برگزیدگی ہے ۔ اور بلاشبہ ایک عظیم واقعہ ہے ………لیکن آج تک اس عظیم واقعہ کا انسانیت کو صحیح علم نہ تھا ۔ یہاں صفائی کی طرف اشارہ کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بارے میں یہودی جو شبہات پھیلاتے تھے اور جو رکیک حملے کرتے تھے ‘ وہ قابل مذمت ہیں ۔ وہ حضرت مریم کی پاکیزگی میں شکوک و شبہات پھیلاتے تھے اور ان کی دلیل یہ تھی کہ آج تک تاریخ انسانیت میں ایسی خارق العادۃ پیدائش کا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ اس لئے یہ یہودی (اللہ انہیں غارت کرے) کہتے تھے کہ اس واقعہ کے پیچھے کوئی ناپسندیدہ راز ہے۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی عظمت کا کیا مقام ہے ‘ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا منبع صافی کس قدر بلند اور قابل اعتماد ہے ۔ رسول ﷺ پر اہل کتاب ‘ بشمول نصاریٰ قسم قسم کے الزامات عائدکر رہے تھے ۔ آپ کی تکذیب کررہے تھے ۔ آپ کے دشمن تھے اور جدل وجدال پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے ۔ اسلام کی حقانیت کے خلاف شبہات پھیلاتے تھے ۔ لیکن دیکھئے وہ اپنے رب کی جانب سے یہ پیغام لاتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی حقیقت یہ ہے اور یہ کہ وہ تمام دنیا کی عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں ۔ یوں اسلام حضرت مریم کے مقام کو بلند آفاق تک اونچا کردیتا ہے ۔ لیکن موقعہ ومحل ایسا ہے کہ حضرت مریم کے پیروکار آپ کے ساتھ بحث ومناظرہ کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کی تعظیم کو آپ کے لئے جواز بناتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان نہ لائیں ۔ اور حضرت محمد ﷺ کے دین کی تکذیب کریں۔ کیا سچائی ہے یہ ‘ کس قدر عظمت ہے یہ اسلام کی ‘ اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ رسول ﷺ سچے ہیں اور ایک سچے منبع سے فیض یاب ہیں ۔ آپ پر وحی لانے والے بھی سچے ہیں ۔ وہ سچائی سے اپنے رب سے لیتے ہیں ۔ وہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جو سچائی پاتے ہیں اس کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اگر آپ اللہ کے سچے رسول نہ ہوتے تو وہ ان حالات میں اپنے دشمنوں کے متعلق اس سچائی کا اظہار نہ کرتے ۔
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ ‘ اس کے آگے سربسجود ہو اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں اس کے ساتھ تو بھی جھک جا۔ “

يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ……………” اے مریم ! رب کی تابع فرمان بن کر رہ ‘ اس کے آگے سر بسجود ہو ‘ اور جو بندے اس کے سامنے جھکنے والے ہیں ‘ ان کے ساتھ تو بھی جھک ۔ “………یعنی خضوع وخشوع اختیار کر ‘ اللہ کی طاعت و عبادت میں مصروف رہ ‘ اور ایسی زندگی بسر کر جو اللہ سے جڑی ہوئی ہو اور یہ سب کچھ عظیم ذمہ داری ادا کرنے کے لئے ‘ جو آنے والی ہے۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

اے محمد ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں ‘ ورنہ تم اس وقت وہاں موجود نہ تھے ۔ جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لئے اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔ “

یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب ہیکل کے خدام کے درمیان یہ تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ان میں سے کون اس کا سرپرست ہو ‘ جب اس کی ماں اسے لیکر ہیکل میں آئیں۔ وہ اسی وقت چھوٹی بچی تھی ۔ ماں اس لئے لائی تھی کہ وہ اپنی نذر پوری کرے اور جو عہد اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے۔ اسے پورا کرے ۔ اس آیت میں ایسے واقعہ کا ذکر ہے جو عہد قدیم میں مذکور نہیں ہے اور نہ عہد جدید میں مذکور ہے یعنی ان نسخوں میں جو آج کل مروج ہیں ‘ لیکن یہ بات ایسی تھی جو احبار اور رہبان کے درمیان معروف تھی ۔ یعنی خدام کا قلمیں پھینکنے کا واقعہ اس دور میں مشہور واقعہ تھا۔ اور یہ اس لئے تھا کہ کون اس کی کفالت کرے ۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کی تفصیلات نہیں دی ہیں ۔ اور شاید اس لئے کہ سامعین قرآن کے نزدیک یہ واقعہ مشہور ومعروف ہوگا۔ یا یہ کہ قرآن کریم نے واقعہ بتادیا اور اس سے زیادہ تفصیلات بتانے کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ واقعہ ہی یہ اسی قدر ہوگا۔ مثلاً انہوں نے کفالت کے لئے کوئی ایسا طریقہ طے کرلیا ہوگا۔ یعنی قلمیں پھینک کر یہ معلوم کرتے ہوں گے کہ کفالت کس کے حصے میں آئے۔ جیسا کہ آج کل قرعہ اندازی میں ہوتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی قلمیں نہر اردن میں پھینکیں ‘ تو سب قلمیں موجوں کے ساتھ بہہ گئیں مگر زکریا کی قلم اپنی جگہ ٹھہری رہی اور یہ ان کے درمیان علامت تھی کہ کفالت کس کے حصے میں آئے ۔ بہرحال یہ سب واقعات پردہ غیب میں تھے ۔ اس وقت نبی ﷺ حاضر نہ تھے ۔ نیز رسول ﷺ کے علم تک بھی یہ بات نہ پہنچی تھی ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات اہل ہیکل کے خفیہ رازوں میں سے ہو جسے عوام کے لئے شائع کرنا منع ہو ‘ اور قرآن نے اس کا افشا کرکے ‘ اس وقت کے علمائے اہل کتاب کو بتایا کہ حضرت محمد ﷺ رسول صادق ہیں اور قرآن کریم وحی الٰہی پر مبنی ہے ۔ کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب آئے بھی مناظرہ کے لئے تھے ۔ اگر ان کے ہاں یہ واقعہ نہ ہوتا تو کہتے کہ ایسا کوئی واقعہ ہی سرے سے نہیں ہوا۔ اب یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ شروع ہوتا ہے ۔ لوگوں کے معمولات کے مطابق یہ عظیم اعجوبہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی معمول کے مطابق مشیئت کی جو شان ہوتی ہے وہ اس کے خلاف ہے۔
Ayahs 3:45–46

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ دنیا وآخرت میں معزز ہوگا ‘ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا ۔

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔

حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی پاکیزگی ‘ اپنی یکسوئی اور اپنی پیہم عبادت گزاری کی وجہ سے اس بات کی اہل ہوئیں کہ وہ اس کے اس فعل کو قبول کرسکیں اور اس عظیم واقعہ کے لئے تیار ہوسکیں ۔ اور دیکھئے اب وہ تیار ہیں اور اب ملائکہ ان کے ساتھ ہمکلام ہورہے ہیں ۔ انہیں اطلاع دی جاتی ہے ۔ إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ” اور جب فرشتوں نے کہا ” اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح بن مریم ہوگا۔ دنیا وآخرت میں معزز ہوگا ‘ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا ۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔ “ اس آیت میں بات پوری طرح کھول کر انہیں بشارت دی گئی ہے ۔ یہ بشارت اللہ کے کلام (فرمان) سے متعلق ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ نحو کے اعتبار سے لفظ مسیح کلمہ کا بدل یعنی کلمہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اب اس تعبیر کلام کے بعد کوئی بات ہی نہیں رہتی ………یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار امور ‘ اصل غیبی امور ہیں اور ان کی ماہیت تک رسائی پوری طرح ممکن نہیں ہوتی ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ امور ان متشابہات میں سے ہوں ‘ جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں کہا گیا : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ” وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دوطرح کی آیات درج ہیں ‘ ایک محکمات ‘ جو کتاب کی اصل بنیادیں ہیں اور دوسری متشابہات ‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ‘ وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معنی پہنانے کی توثیق کرتے ہیں ۔ “………لیکن اس معاملے کا سمجھنا بہت ہی آسان ہے اگر ہم اسے اللہ ترسی کے ساتھ سمجھنا چاہیں ۔ اور اللہ کی کاریگری اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہمارے ذہن میں ہوں اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ اللہ کی مشیئت اور حدود وقیود سے آزد ہے جو اس نے اس جہاں رانی کے لئے خود وضع کئے ہیں ۔ اللہ نے جب چاہا تو اس نے مٹی سے آدم کو پیدا کیا ‘ اب تخلیق آدم براہ راست مٹی سے ہوئی اور مٹی میں نفخ روح ہواہو یا ابتدائی جرثومہ پیدا کیا گیا ہو اور وہ وجود آدم پر منتج ہوا۔ میں یہاں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ تخلیق آدم مجسمے سے ہوئی یا جرثومے سے ۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں میں وہ راز راز ہی رہتا ہے ۔ جسے ہم رازحیات کہتے ہیں ۔ وہ راز جس نے پہلی مخلوق کو حیات عطا کی ۔ یا جس طرح آدم کے پہلے مجسمے میں روح ڈالی گئی یا جرثومے میں ڈالی دونوں صورتوں میں یہ ایک عظیم اعجاز اور معجزہ ہے ۔ اس لئے کہ جرثومہ زندہ ہو یا پورے انسان کی زندگی میں یکدم روح ڈال دی جائے ۔ دونوں صورتیں معجزہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کہاں سے آئی ؟ کیسے آئی ؟ بہرحال ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ زندگی مٹی اور ان تمام مردہ عناصر سے علیحدہ کوئی چیز ہے ۔ یہ ایک زائد چیز ہے ۔ یہ عناصر سے علیحدہ ایک حقیقت ہے ۔ اس کے کچھ آثار ہیں ۔ اس کی کچھ علامات ہیں جو مٹی یا دوسرے عناصر کے اندر موجود نہیں ہیں ۔ نہ دوسرے مردہ مادیات میں موجود ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ راز یعنی حیات کی اصلیت کیا ہے ؟ یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے ہم صرف یہ کہہ دیں کہ ہم نہیں جانتے ۔ جیسا کہ آج کل مادہ پرست عاجز آکر یہ کہہ جاتے ہیں لیکن ان کی اس بات کو نہ کوئی عقلمند آدمی اہمیت دیتا ہے نہ کوئی عالم اسے تسلیم کرتا ہے۔ اس راز کو ہم اس حقیقت کے باوجود نہیں جانتے کہ ہم نے راز حیات کے پانے کے سلسلے میں آج تک انتہائی کوششیں کیں لیکن وہ راز ہم نہ پاسکے ۔ اس لئے کہ ہم نے اس راز کو معروف مادی ذرائع سے پانے کی کوششیں کیں ۔ اور وہ اکارت گئیں ۔ ہم نے زندگی کو موت کے جنگل سے چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ۔………ہم نہیں جانتے لیکن اللہ جس نے موت وحیات کی تخلیق کی وہ تو جانتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ” اس نے اپنی روح اس میں پھونک دی “ اور اس کا اظہار اس نے لفظ کُن فَیَکُونُ سے کیا ۔ یعنی ” ہوجا “ پس ہوگیا۔ اب یہ نفخ روح کیا ہے ؟ کس طرح حالت موت پر یہ نفخ روح ہوتی ہے اور وہ حالت حیات میں بدل جاتی ہے اور یہ راز لطیف راز فہم سے باہر رہتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ وہ ماہیت وکیفیت ہے جس کا ادراک عقل بشری کے دائرہ قدرت سے باہر ہے ۔ کیونکہ یہ اس کی شان اور مقام سے باہر ہے ۔ اسے یہ قدرت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اس کا ادراک کرسکے ۔ اس کے کاسہ سر میں یہ سمندروں جیسی حقیقت سماہی نہیں سکتی ؟ اس لئے انسان کا ایک اپنا مقصد تخلیق ہے ۔ اس کے یہاں کچھ فرائض ہیں ۔ یعنی فریضہ خلافت فی الارض اس کے لئے اسے اس راز سے آگاہی ضروری نہیں ہے ۔ وہ یہاں حیات وموت کے کاروبار کے لئے نہیں پیدا کیا گیا تاکہ اسے حیات کی ماہیت بنائی جائے ۔ اسے نفخ روح کی کیفیت سے آگاہ کیا جائے اور زندگی کی یہ پہلی سیڑھی پر اس زندگی کا اتصال ذات آدم سے کیسے ہوا ؟ جب ان میں زندگی کاست ڈالا گیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ جب انہوں نے حضرت آدم میں اپنی روح پھونکی تو اس کی وجہ سے حضرت آدم کو یہ اعزاز حاصل ہوا یہاں تک کہ ان کو ملائکہ پر بھی فوقیت دی گئی ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ اعزاز اور یہ حیات جرثومے اور میکر بادت کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے ۔ یہی وہ نفخ روح ہے جس کی وجہ سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر انسان ایک ایسی جنس ہے ۔ اس کی تخلیق خاص طور پر علیحدہ ہوئی ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا معتبر اور مکرم مقام ہے ۔ جو دوسری زندہ چیزوں کو حاصل نہیں ہے۔ بہرحال یہاں ہمارا موضوع تخلیق انسان نہیں ہے ۔ سیاق کلام میں کچھ دیر کے لئے ہم نے اسی نکتے پر اس لئے روشنی ڈالی ہے کہ بعض اوقات ایک قاری کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کہ انسان کی پیدائش اس طریقے پر کیسے ممکن ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں راز حیات سے ہمیں آگاہ فرماتے ہیں ۔ اگرچہ ہم اس کی ماہیت نہیں پاسکتے ۔ اگرچہ ہم مردہ میں نفخ روح کی کیفیت کا ادراک نہیں کرسکتے لیکن راز حیات کو تو سمجھ سکتے ہیں …………حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے پھر پیدائش انسانیت کے لئے ایک طبعی راہ متعین کردی ۔ یعنی میاں بیوی کے ملاپ کے نتیجے میں قافلہ انسانیت رواں دواں ہوا۔ یعنی بیوی کے پیدا کردے انڈے کے ساتھ مرد کے جرثومے کے ملاپ یوں گود ہری ہوئیں ‘ نسلیں چلیں جس طرح یہ انڈہ زندہ ہے ۔ اس طرح یہ جرثومہ بھی زندہ ہے ۔ دونوں متحرک ہیں۔ قافلہ حیات اس شاہراہ پر چل پڑا اور لوگ اس کے عادی ہوگئے ۔ اب ایک مقام ایسا آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیش پا افتادہ راستے کو بدل دیا ۔ مروجہ اصل ایک محدود وقت کے لئے معطل کردیا گیا۔ ایک فرد کے بارے میں اس قاعدے کو معطل کردیا اور ایک مثال ایسی پیدا کردی گئی جو آدم (علیہ السلام) کی شکل میں ہو۔ اگرچہ بتمامہ اس جیسی نہ ہو ۔ یہاں اب صرف عورت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وہی روح اس عورت میں پھونک دی جاتی ہے جس کی ابتدائی تخلیق ہوئی ۔ اور اس عورت کے رحم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے ۔ یہاں لاہوتی سوالات پیدا ہوئے ۔ کیا یہ نفخ کلمہ ہے ؟ کیا کلمہ ارادے کے متوجہ ہونے کا نام ہے ؟ کیا کلمہ کن ہے ؟ جو کبھی حقیقت ہوتا ہے اور کبھی محض توجہ ارادہ سے کنایہ ہوتا ہے۔ کیا کلمہ خود حضرت عیسیٰ ہیں یاکلمہ وہ ہے جس سے وہ وجود میں آئے ؟…………یہ تمام مباحث ایسے ہیں جن سے شبہات ہی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ان مباحث کے نتیجے میں یقین حاصل نہیں ہوتا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ایک زندگی ایسی وجود میں لانی تھی جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ اس نے اپنے بےقید ارادے کے ذریعے اسے وجود بخشا ۔ اس زندگی میں اپنی جانب سے ایک روح پیدا کی ۔ ہمیں اس روح کے آثار تو نظر آتے ہیں لیکن ہم اس کی ماہیت اور کیفیت ادراک سے قاصر ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس سے قاصر رہیں ۔ اس لئے کہ اس ادراک کی وجہ سے ہماری اس قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا جو ہمیں اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے ۔ یہ معاملہ ‘ اس صورت میں بہت سہولت کے ساتھ سمجھاجاسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا…………غرض ملائکہ نے حضرت مریم کو بشارت دی ۔ اس بشارت میں اللہ کی جانب سے فرمان آنا تھا ‘ اس فرمان کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم بتایا گیا۔ ان کی نوع ‘ ونسب کا بھی ذکر کردیا گیا ۔ نسب نامہ مان کی طرف راجع ہوا۔ بشارت میں ان کی صفات اور اللہ کے ہاں ان کے لئے رتبہ بلند کا ذکر کیا گیا ۔ دنیا وآخرت میں ان کی وجاہت کا ذکر بھی ہوا اور یہ اعلان بھی ہوا کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ اور یہ ذکر بھی ہوا کہ پیدا ہوتے ہی اس سے معجزات کا ظہور شروع ہوگا۔” گہوارے “ ہی میں لوگوں سے باتیں شروع کردے گا ۔ یعنی جوانی میں بھی بات کرے گا ۔ اور اس کی صفات میں سے اہم صفت یہ ہوگی کہ وہ قافلہ صالحین میں سے ہوگا۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

یہ سن کر مریم بولی : پروردگار ‘ میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ “ جواب ملا۔ ایسا ہی ہوگا ‘ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔

مریم کنواری تھیں ‘ اس کی زندگی پاکیزہ تھی ‘ اس کی سوچ بابت ولادت ایسی ہی تھی جس طرح ماحول میں وہ دیکھ رہی تھی ‘ اس نے اس بشارت کو اسی طرح لیاجس طرح ایک جوان لڑکی اسے سمجھ سکتی ہے ‘ وہ فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئیں ‘ استدعا کی کہ یہ معملہ ان کے فہم کے لئے ناقابل حل ہے ۔ اس کی عقل حیران ہے ۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ……………” میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا ‘ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ “………اس کا انہیں فوراً جواب دیا گیا ‘ اس جواب میں انہیں ایک سادہ سی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جسے انسان روز مرہ زندگی میں سلسلہ اسباب ومسببات کے ساتھ عادی ہوجانے کی وجہ ‘ بھول چکا ہے ۔ اس لئے کہ اس کے ذرائع علم قلیل ہیں ۔ اور وہ اپنے محدود دائرے عادت کے اندر بند رہتا ہے۔ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ……………” وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ ‘ اس معاملے کو ابتدائے آفرینش کی حقیقت سے وابستہ کرتے ہیں تو تعجب ختم ہوجاتا ہے ۔ حیرانی جاتی رہتی ہے۔ دل مطمئن ہوجاتا ہے ۔ اور انسان خود اپنے آپ سے تعجب کے ساتھ پوچھنے لگتا ہے کہ تمہیں اس قدر سادہ اور صاف بات پر تعجب کیسے ہوگیا۔ جو نہایت فطری اور قریب الفہم ہے ۔ اس طرح قرآن کریم ‘ اسلامی تصور ‘ کو اس قدر سادگی اور فطری انداز میں ‘ ایسے عظیم حقائق تک بھی پھیلا دیتا ہے۔ فطری انداز میں ‘ قریب الفہم انداز میں اور وہ شبہات جنہیں فلسفیانہ جذبات مزید الجھاتے تھے ۔ اسلام انہیں صاف کر کرے دلوں میں بٹھا دیتا ہے ۔ اور وہ عقل کے بھی قریب آجاتے ہیں۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

(فرشتوں نے پھر اپنے سلسلہ کلام میں کہا ) اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا ‘ تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا ۔

اس کے بعد اس بشارت کی مزید تفاصیل بتائی جاتی ہیں ‘ جس کی پیدائش کے لئے حضرت مریم کو منتخب کیا گیا اور جو بےمثال طریقے سے روبعمل آرہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نئے آنے والے کی سیرت اور کردار کیا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ کی آئندہ تاریخ بتائی جاتی ہے ۔ اب بشارت اور تاریخ مستقل ساتھ ساتھ جاری ہیں تو یا بشارت بھی ہورہی اور ساتھ ہی تاریخ بھی چلتی پھرتی ہے۔ یہ قرآن کریم کا اپنا اسلوب کلام ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ……………” اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا اور تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا۔ “ کتاب سے کبھی مراد کتابت بھی ہوتی ہے اور کبھی اس سے مرد تورات اور انجیل بھی ہوتی ہے ۔ اس صورت میں تورات اور انجیل کا عطف کتاب پر عطف بیان ہوگا۔ حکمت انسان کے ذہن میں ایسے ملکہ کا نام ہے جس کے ذریعہ وہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ جس کلے ذریعہ انسان صحیح اور برے کی تمیز کرسکتا ہے ۔ اور صحیح کا اتباع کرسکتا ہے ۔ اور یہ حکمت اور ملکہ دراصل خیر کثیر ہے ۔ تورات بھی حضرت عیسیٰ کی کتاب تھی جس طرح انجیل ان کی کتاب تھی ‘ تورات اس دین کی اساس تھی جو وہ لیکر آئے تھے ۔ انجیل دراصل اسی دین کا ایک تکملہ تھا ‘ اس کے ذریعہ تورات کی اصل روح کا احیاء مطلوب تھا ‘ وہ روح جو یہودیوں سے ختم ہوگئی تھی ۔ ان کے دل اس روح سے خالی ہوگئے تھے ۔ وہ لوگ جو مسیحیت پر بحث کرتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی کہ حضرت مسیح کے دین کی اصل تورات ہے ۔ اس میں وہ نظام شریعت ہے جس پر معاشرے کا نظام قائم ہے ۔ انجیل نے اس میں بہت سی کمی بیشی کی ہے ۔ وہی انجیل بذات خود تو وہ صرف احیائے دین کی ایک جدوجہد تھی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ ظاہری نصوص سے پیچھے جاکر انسان کے ضمیر اور اس کی روح کو پاک کیا جائے ۔ اور وہ تحریک احیائے روح کیا تھی جس کی وجہ سے معاشرے نے آپ کے خلاف سازش کی تھی ۔ وہ اور جس کے لئے آپ جدوجہد کرتے رہے تھے وہ یہ تھی :
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لیکر آیا ہوں ۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں ۔ اور اس میں پھونک مارتا ہوں ۔ وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مردے کو زندہ کرتا ہوں ۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو ۔ اس میں تمہارے لئے کافی نشانی ہے ۔ اگر تم ایمان لانیوالے ہو۔ “

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی ۔ اس لئے کہ آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ‘ اور جس میں بنی سرائیل کی زندگی کی تنظیم کے لئے شریعت موجود تھی ۔ اور جس میں باہم معاملات اور اجتماعی تنظیم کے امور طے ہوئے تھے ۔ وہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی تھی ‘ ہاں اس پر انجیل کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ اور مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں روحانی پاکیزگی پیدا کی جائے اور ان کا ضمیر جاگ اٹھے اور قلب روشن ہو۔ اور وہ معجزہ جس کی بابت اللہ نے ان کی والدہ حضرت مریم کو بشارت دی تھی کہ وہ معجزہ ان کے پاس ہوگا ۔ اور جس کے ساتھ اس نے بنی اسرائیل سے عملاً مباحثہ کیا وہ بھی یہی معجزہ احیاء تھا۔ یعنی مردہ چیز میں پھونک مار کر روح ڈال دینا ‘ اور کسی چیز کا زندہ ہوجانا ‘ اور مردہ انسانوں کو از سر نو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو نظر عطا کیا جانا۔ اور کوڑھی کا تندرست ہونا اور غیب کی خبریں دینا مثلاً یہ کہ بنی اسرائیل نے کیا کھایا ہے اور کیا گھروں میں ذخیرہ کیا ہے ۔ جیسا کہ یہ اشیاء نظروں سے اوجھل ہوں………یہاں آیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی جن معجزات کا اظہار ہوا ہے۔ اور جن کی بشارت حضرت مریم کو دی گئی تھی اور جن کا اظہار پھر بعد میں حضرت عیسیٰ کی زبان سے بھی ہوا۔ یہاں آیت میں باربار اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ یہ سب معجزات کا جو اظہار ہوا ‘ اور جو عملاً بنی اسرائیل کے سامنے پیش بھی ہوئے ۔ یہ سب معجزات اللہ کی جانب سے تھے اور اللہ کے اذن سے تھے ۔ ہر معجزے کے بعد اذن اللہ کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ محض اس احتیاط کی خاطر کوئی انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذاتی کمال نہ سمجھے ۔ ان تمام معجزات کا تعلق یا تو زندگی کی تخلیق سے ہے اور یا جس مخلوق سے زندگی نکل جائے ۔ اس میں دوبارہ زندگی لوٹانے سے ہے ۔ یا انسانی صحت کے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کہ خود بقائے حیات کا ایک ذریعہ ہے ۔ یا پھر ان معاملات کو دیکھنے سے جو بظاہر نظروں سے اوجھل ہوں ۔ ان تمام معجزات کا تعلق اپنی حقیقت کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے غیر معمولی تولد کے معجزے سے ہے ۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو اس طریقے سے وجود بخشا جس کی کوئی مثال ماسوائے حضرت آدم کے اور نہ تھی ۔ اگر اللہ اپنی مخلوقات میں سے ایک مخلوق کے ہاتھ پر اس قسم کے معجزات کا اظہار فرماسکتے ہیں تو وہ بذات خود اس طریقے پر معجزے کے طور پر خود حضرت عیسیٰ کو کیوں پیدا نہیں کرسکتے ۔ اس لئے نہ ان شبہات کا کوئی جواز ہے جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں پھیلائے گئے ‘ نہ ان کہانیوں کی ضرورت ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بارے میں خود عیسائیوں نے تصنیف کیں۔ اس لئے کہ جب معاملہ اللہ کی مشئیت کا ہوجائے تو پھر کوئی استحالہ نہیں رہتا ۔ اور خود انسانی عادت اللہ پر کوئی پابندی عائد نہیں کرسکتی ۔
Ayahs 3:50–51

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور میں تعلیم وہدایت کی تصدیق کرنیوالا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے ۔ اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بعض ان چیزوں کو حلال کردو جو تم پر حرام کی گئیں ہیں ۔ دیکھو ‘ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانیاں لیکر آیا ہوں۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ‘ لہٰذا تم اس کی بندگی اختیار کرو ‘ یہی سیدھا راستہ ہے ۔ “

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ خاتمہ ہے ۔ یعنی یہ تھی وہ دعوت جو آپ نے بنی اسرائیل کو دی ۔ اس میں انہی بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو ہمیشہ اللہ کے دین کے اصل نکات رہے ہیں ۔ اور جن کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جن کی بہت ہی اہمیت ہے ۔ خصوصاًجبکہ ان حقائق کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دہرایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی ولادت ہی وجہ نزاع تھی اور یہ نزاعات اس لئے پیدا ہوگئے تھے کہ لوگوں نے دین اور رسولوں کی حقیقت پر غور نہ کیا ۔ یعنی یہ کہ رسول بھی ایک ہیں اور ان کا دین بھی ایک ہے ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” اور میں اس کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے موجود ہیں ۔ اور اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ “ یہاں وہ سچا مذہب بیان کیا جاتا ہے جو مسیحیت کا اصل مذہب تھا ۔ پس تو راقت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی اس میں وہ دین برحق پوری طرح موجود تھا ۔ اور اس میں وہ پوری شریعت موجود تھی جو اجتماعی زندگی کو بہترین طور پر منظم کرتی تھی ۔ یعنی اس دور کی ضروریات کے مطابق اور اس وقت بنی اسرائیل کے جو حالات تھے ۔ ان کی نسبت سے اور اس نقطہ نظر سے کہ اس وقت وہ انسانوں کے ایک خاص گروہ کے لئے ایک خاص نظام زندگی تھا ۔ اور حضرت مسیح اپنی رسالت میں اسی تورات پر اعتماد فرماتے تھے ۔ آپ نے تورات کی تصدیق کی ۔ ہاں اس میں بعض حرام چیزوں کو حلال کردیا گیا اور وہ چیزیں ان پر حرام بھی بطور سزا دی گئی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض گناہوں اور بعض بداعمالیوں کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان کی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو بھی حرام کردیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر رحم فرمایا اور وہ بعض اشیاء جو حرام کردی گئی تھیں انہوں دوبارہ حلال کردیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کا یہ حقیقی مزاج ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی بذریعہ قانون سازی منظم کرتا ہے ۔ دین کا مزاج صرف تہذیب اخلاق نہیں ہوتا ۔ نہ دین انسان کے تصورات اور اس کے وجدان و شعور کو درست کرنے پر اکتفا کرتا ہے ۔ نہ دین کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کچھ عبادات تجویز کردے اور وہ ان مراسم عبودیت کے عابد بن کر بیٹھ جائیں ۔ ایسے جزوی مسائل ہی پر اکتفاء کرنے والا دین ‘ اپنے اصل معنوں میں دین نہیں ہوتا ۔ دین تو صرف وہ ہوتا ہے جو پوری زندگی کا نظام ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ ہو ۔ اور جو انسانوں کی زندگی کو اللہ کی منہاج کے مطابق استوار کرے ۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ ایمانی عقائد ‘ مراسم عبودیت ‘ اخلاقی قدریں اگر دین سے علیحدہ کردی جائیں تو اس صورت میں دین صرف فقہ بن جاتا ہے ۔ اور پھر وہ انسانی زندگی میں صحیح طرح کام نہیں کرتا ۔ پھر یہ بات دینی مزاج کے خلاف ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ حادثہ ہے جو مسیحیت کے ساتھ پیش آیا کہ بعض تاریخی اسباب کی وجہ سے ‘ اور پھر اس وجہ سے بھی کہ وہ ایک محدود وقت کے لئے نازل ہوئی تھی ‘ اور وہ حضرت محمد ﷺ کی آخری نبوت کے لئے بطور تمہید آئی تھی ۔ مسیحیت کی روحانی تعلیمات سے نظام شریعت علیحدہ ہوگیا ۔ وہ تاریخی اسباب یہ تھے کہ یہودیوں اور مسیح (علیہ السلام) کے درمیان سخت عداوت پیدا ہوگئی ۔ آپ کے بعد آپ کے انصار اور یہودیوں کے درمیان بھی سخت عداوت رہی ۔ جس کی وجہ سے یہ شریعت تورات بھی ایک محدود قوم اور محدود وقت کے لئے تھی اور حضرت عیسیٰ کی اخلاقی تعلیمات بھی ۔ تاکہ اللہ کے نظام قدرت میں طے شدہ منصوبے کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی آخری اور جامع شریعت نازل ہو اور ہمیشہ کے لئے پوری انسانیت کے لئے شریعت ہو۔ بہرحال صورتحال یہ ہوگئی کہ مسیحیت ایک ایسا تناور درخت بن گئی جن میں نظام شریعت نہ تھا۔ اس لئے وہ ہمیشہ ان اقوام کی اجتماعی زندگی کنٹرول کرنے سے عاجز رہی جن اقوام نے کبھی اسے قبول کیا ۔ اس لئے کہ اجتماعی زندگی کی راہنمائی کے لئے ایک ایسا تصور حیات ضروری ہے جو زندگی کے ہر شعبے کی وضاحت کرتا ہو ‘ وہ یہ بتاتا ہو کہ اس پوری کائنات میں انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ۔ اس کے اندر ایک مضبوط نظام عبادت ہو ‘ اور ایک اچھا اخلاقی اور روحانی نظام بھی رکھتا ہو ‘ اور اس کے بعد اس کے پاس ایک بہترین اجتماعی قانونی نظام ہو اور یہ اخلاقی اور قانونی نظام اس کے اصل تصور حیات سے ماخوذ ہو۔ اگر دین ان عناصر ترکیبی سے مرکب ہو تب وہ اجتماعی زندگی کو منظم کرسکتا ہے۔ اس وقت انسان کو حکمت دین بھی سمجھ میں آتی ہے اور وہ پھر انسانی نظام کی ضمانت دیتا ہے۔ غرض جب مسیحیت کی اخلاقی تعلیمات شریعت سے جدا ہوگئیں تو پھر مسیحیت اس قابل نہ رہی کہ وہ مکمل نظام حیات بن جائے۔ اس لئے لوگوں کی زندگی میں اخلاقی قدروں اور اجتماعی قدروں کے درمیان مکمل جدائی واقع ہوگئی ۔ اور ان کے اخلاق اور ان کے اعمال کے درمیان اتحاد نہ رہا ۔ اس طرح ان کا اجتماعی نظام ایک فطری نظام نہ رہا جو ان کی اخلاقی قدروں سے ہم آہنگ ہو ۔ اس لئے عیسائیوں کا اجتماعی نظام ہمیشہ یا تو ہوا میں معلق رہا ‘ روحانی دنیا اس کا کوئی تعلق نہ رہا اگر وہ چلا بھی تو وہ ایک لولا لنگڑا نظام تھا۔ تاریخ انسانی کے اندر جب انسانیت اس صورت حال سے دوچار ہوئی تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک عظیم حادثہ تھا ۔ یہ بہت ہی تباہ کن حادثہ تھا ۔ یہ ایک ایسا عظیم واقعہ تھا جس کی وجہ سے انسانیت کے لئے بدبختی کے چشمے پھوٹے ۔ انسانی حیرانی اور پریشانی کا شکار ہوئے ۔ ان پر اخلاقی بےراہ روی کا سیلاب آیا۔ اور ایسی ایسی مصیبتیں آئیں جن میں لادین مادی اجتماعی نظام آج تک گرفتار ہے اور آج یورپ اس کی مثال ہے ۔ چاہے اب یہ نظام ان ممالک میں ہو ‘ جن کا مسیحیت کے ساتھ ابھی تک تعلق ہو ۔ اس لئے کہ مسیحیت میں سرے سے کوئی اجتماعی نظام ہی نہیں ہے ۔ یا ان ممالک میں ہو جہاں سے مسیحیت ختم ہوگئی ہے ۔ بہر حال دونوں ممالک کے درمیان کوئی زیادہ امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے کہ مسیحیت جس طرح اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا ‘ اور جس طرح ہر وہ نظام جس پر دین کا اطلاق ہوتا ہے ‘ ایک ایسا نظام تھا جس میں زندگی کے لئے ایک مکمل شریعت اور نظام و قانون موجود تھا ۔ جو عقیدہ توحید پر مبنی تھا ۔ اور جو ان اخلاقی تصورات پر قائم تھا جو اس عقیدے سے ماخوذ تھے ۔ اس لئے موجودہ مسیحیت کو اس لئے مسیحیت نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں وہ پورا نظام زندگی موجود نہیں ہے جو حضرت مسیح نے پیش کیا ۔ بلکہ مسیحیت سرے سے دین ہی نہ ہوگی ۔ غرض ان عناصر ترکیبی کے سوا زندگی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہوسکتا جو مکمل بھی ہو ‘ جو نفس انسانی کی پوری ضروریات کے لئے بھی کافی ہو ‘ جو انسان کی عملی زندگی کے مسائل کے حل کرتا ہو اور جو حیات انسانی کا وثیق رابطہ اپنے رب کے ساتھ قائم کردے ۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کی تفسیروں اور مفہومات میں سے ایک مفہوم ہے ‘ آپ فرماتے ہیں : وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” میں تصدیق کرتا ہوں تورات کے اس حصے کی جو میرے سامنے موجود ہے اور تمہارے لئے بعض ان چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں جو تم پر حرام قرار دی گئی ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اس منصب کے اظہار کا استدلال توحید الٰہی سے کرتے ہیں جو اسلام میں پہلی عظیم حقیقت ہے ‘ فرماتے ہیں وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (50)إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ ” دیکھو ‘ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارے بھی ‘ لہٰذا تم اس کی بندگی اختیار کرو ‘ یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ یہاں آپ اس نظریاتی تصور حیات کو پیش فرماتے ہیں جس پر اللہ کا دین قائم ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے جو معجزات پیش کئے ہیں وہ میں نے اپنی طرف سے نہیں پیش کئے ۔ بذات خودتو وہ ایک بشر ہیں وہ ایسے معجزات کیسے صادر کرسکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے معجزات ہیں اور میری دعوت خدا خوفی اور اطاعت کے اساسی اصولوں پر قائم ہے ۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ اللہ جس طرح میرا رب ہے اسی طرح تمہارا رب ہے ۔ اور یہ کہ وہ بذات خود رب نہیں ہیں بلکہ عبد ہیں ۔ اس لئے بندگی اور عبادت رب واحد کی کی جائے کیونکہ عبادت اس کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ اس کے بعد ان تمام باتوں کا اظہار یعنی یہ کہ رب واحد ہے ۔ اسی کی بندگی ہوگی ‘ رسول اور اس کے لائے ہوئے نظام حیات کی اطاعت ہوگی ۔ یہ تو ہے صراط مستقیم اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ بےراہی ‘ گمراہی اور انحراف ہے۔ ملائکہ کی جانب سے حضرت مریم کو بشارت ‘ پھر آنے والے نبی کی صفات ‘ اس کی رسالت ‘ اس کے معجزات اور کلمات کے تذکرے کے بعد اب اس قصے میں اچانک وہ منظر آتا ہے جب حضرت عیسیٰ محسوس کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کفر اور انکار پر تک گئے ہیں ‘ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے اللہ کے دین کی نشر و اشاعت اور اس کے قیام کے لئے ایک عام اپیل کی جاتی ہے۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا : کون ہے اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں ‘ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں ۔

یہاں سیاق قصہ میں ایک بہت بڑا خلا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی ۔ نہ یہ مذکور ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ قوم کے سامنے آئی اور اس نے گہوارے میں ان سے باتیں کیں ‘ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ جوان ہوکر انہوں نے تبلیغ رسالت شروع کی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کو جن معجزات کے بارے میں بشارت دی گئی تھی وہ ان کے ہاتھ دکھائے گئے (جب کہ یہ سورت مریم میں مذکور ہے۔ ) اس قسم کے گیپ قرآنی قصوں میں بار بار آتے ہیں ‘ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ تکرار نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ قرآن کریم میں قصص کے صرف وہی حصے دیئے جاتے ہیں جن کا تعلق اس سورت موضوع کلام سے ہوتا ہے باقی کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں ۔ غرض ‘ معجزات پیش کرنے اور تبلیغ شروع کرنے کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا کہ یہ لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں ‘ حالانکہ ایسے معجزات کا صدور کسی انسان سے ممکن نہ تھا ۔ اور جن سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان معجزات کے پس منظر میں صرف اللہ کی ذات کام کررہی ہے ۔ اللہ کی قوتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مؤید ہیں ۔ اور پھر ان امور کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ حضرت مسیح اس لئے بھی تشریف لائے تھے کہ بنی اسرائیل پر ان کی نادانیوں کی وجہ سے ‘ جو چیزیں بطور سزا حرام کردی گئیں تھیں انہیں حلال کردیں ‘ تاکہ ان پر تخفیف ہوجائے اور قیود اور بوجھ اتر جائیں۔ تو ایسے موقع پر آپ نے فرمایا قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ” کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہے ۔ “ یعنی کون ہے جو دعوت دین ‘ اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں میری معاونت کرتا ہے ۔ کون ہے جو میرے ساتھ اللہ تک پہنچنے کے سلسلے میں مددگار ہوتا ہے تاکہ میں اپنے فرئض اچھی طرح ادا کرسکوں …………یہ تحریک دعوت دین کا طریق کار ہا ہے ۔ کہ ہر داعی کے لئے انصار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ جو اس کی دعوت کے علم اٹھاکر چلتے ہیں ‘ جو اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس دعوت کو مسلسل پھیلاتے ہیں اور پھر اس صاحب دعوت کی وفات یا چلے جانے کے بعد اسے لیکر اٹھتے ہیں تو قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں ‘ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔ “ حواریوں نے اسلام کا ذکر ان معنوں میں کیا ‘ جن کا تعلق دین کی حقیقت سے ہے ۔ اور انہوں نے پھر اپنے اسلام پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گواہ بنایا اور اللہ کی مدد کے لئے تیار ہوگئے ۔ یعنی اللہ کے رسول کی نصرت ‘ دین اسلام کی نصرت اور اسلامی نظام حیات کی نصرت کے لئے وہ تیار ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ اس معاملے میں براہ راست اللہ سے بھی اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اس لئے آپ بھی اس بات کے گواہ رہیں ۔