Ayahs 5:112–115(1) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حواری اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہنے سے زیادہ جاننے والے تھے وہ یوں کہیں کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے ؟ انہوں نے یوں کہا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے رب سے یہ سوال کرسکے۔
(2) امام حاکم (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) طبرانی اور ابن مردویہ نے عبد الرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ حوارین کے اس قول لفظ آیت ھل یستطیع ربک کے بارے میں پوچھا کہ یہ اس طرح ہے یا لفظ آیت او تستطیع ربک ہے تو انہوں نے فرمایا مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت ھل یستطیع ربک تاء کے ساتھ۔
(3) ابو عبیدہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ھل یستطیع ربک تاء کے ساتھ اور ربک کے نصب کے ساتھ۔
(4) امام ابو عبید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہا انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ھل یستطیع ربک یعنی کیا تو اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ اپنے رب سے سوال کرے۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ھل یستطیع ربک یعنی کیا تیرا رب میری درخواست مان لے گا۔
(6) امام عبد بن حمید نے یحییٰ بن وثاب اور ابو رجاء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ھل یستطیع ربک یا اور رفع کے ساتھ۔
(7) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے کہا کیا تیرا رب تجھ کو عطا کرے گا اگر تو اپنے رب سے سوال کرے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دستر خوان آسمان سے نازل فرمایا جس میں گوشت کے علاوہ سب کھانے تھے۔ ان لوگوں نے اس میں سے کھایا۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت مائدۃ سے مراد ہے دستر خوان اور لفظ آیت وتطمئن یعنی ان کو یقین ہوجائے۔
(9) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا یعنی ہم اس دن کو عید بنا لیں جس میں سے دستر خوان نازل ہو ہم اس کی تعظیم کریں اور ہمارے بعد آنے والے بھی۔
(10) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا کے بارے میں فرمایا یعنی ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ ان کے پیچھے آنے والے یعنی ان کے بعد جو لوگ ہوں گے ان کے لئے بھی عید ہو۔
آسمانی دستر خوان کا نزول
(11) حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمۃ میں اور ابوبکر الشافعی نے اپنے فوائد میں جو نیات کے ساتھ معروف ہیں سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ جب حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے دستر خوان کا سوال کیا تو انہوں نے اس کو بہت ہی ناپسند کیا اور فرمایا قناعت کرو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین میں رزق دیا ہے۔ آسمان سے دستر خوان کا سوال نہ کرو کیونکہ اگر وہ تم پر نازل ہوگیا تو وہ تمہارے رب کی طرف سے نشانی ہوگی۔ قوم ثمود اسی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ جب انہوں نے اپنے نبی سے سوال کیا وہ اس کے ذریعہ امتحان میں ڈالے گئے یہاں تک کہ اسی معجزہ میں ان کی ہلاکت ہوئی۔ حواریوں نے قبول نہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ان پر دستر خوان نازل ہو۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت قالوا نرید ان ناکل منھا وتطمئن قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا ونکون علیھا من الشھدین
جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ انہوں نے (بات ماننے سے) انکار کردیا اور یہی مطالبہ کیا کہ ان کے لئے آپ ضرور دعا کریں تو عیسیٰ کھڑے ہوگئے اور ان کا لباس اتار دیا اور سیاہ بالوں سے بنا ہوا جبہ پہن لیا۔ اور بالوں سے بنی ہوئی عبا بھی پہن لی پھر وضو اور غسل کیا اور اپنی عبادت گاہ میں داخل ہوگئے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا نماز پڑھی۔ جب نماز مکمل کرچکے تو قبلہ رخ کھڑے ہوگئے اپنے قدموں کو سیدھا کیا یہاں تک کہ برابر کر لئے اور ٹخنہ کو ٹخنہ سے ملا دیا اور انگلیوں کو انگلیوں کے برابر کیا اور داہنے ہاتھ کو بائیں پر اپنے سینے پر رکھ لیا اپنی آنکھوں کو بند کرلیا اور اپنے سر کو عاجزی اختیار کرتے ہوئے جھکا لیا۔ پھر رونا شروع کیا ان کے آنسو برابر ان کے رخساروں پر بہتے رہے اور داڑھی کے کناروں سے قطرے (زمین پر) گرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے چہرہ کے گرد خشوع و خصوع کی وجہ سے زمین تر ہوگئی۔ جب یہ دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی لفظ آیت اللھم ربنا انزل علینا مائدہ من السمآء تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا (گویا) یہ مائدہ نصیحت ہوگا۔ آپ کی طرف سے ہمارے لئے لفظ آیت وایۃ منک اور یہ نشانی ہوگی آپ کی طرف سے جو ہمارے اور آپ کے درمیان ہوگی تاکہ ہم اس کو کھائیں۔ لفظ آیت وانت خیر الرازقین (یعنی آپ بہترین رزق دینے والے ہیں)
اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سرخ دستر خوان دو بادلوں کے درمیان نازل فرمایا ایک بادل اس کے اوپر تھا۔ اور دوسرا بادل اس کے نیچے تھا۔ وہ لوگ اس کی طرف ہوا میں دیکھ رہے تھے جو آسمان سے ان کی طرف نیچے آرہا تھا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) رونے لگے خوف سے ان شروط کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے دستر خوان نازل ہونے پر لگائی تھیں کہ وہ عذاب میں مبتلا کریں گے کسی نے بھی ان میں سے انکار کیا اس (دستر خوان) کے نازل ہونے کے بعد۔ اور فرما رہے تھے اے اللہ اس کو رحمت بنا دے اے میرے رب ! اس کو عذاب نہ بنا اے میرے رب کتنی ہی عجیب چیزیں میں نے آپ سے مانگی ہیں اور آپ نے مجھے عطا فرمائی ہیں اے اللہ ہم کو اپنا شکر کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تو اسے عذاب اور سزا کے طور پر نازل فرمائے اے اللہ اس کو سلامت اور عافیت بنا دے اور اس کو فتنہ اس کو عبرت ناک سزا نہ بنا وہ برابر دعا کرتے رہے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دستر خوان آکر ٹھہر گیا حواری اور آپ کے اصحاب اس کے ارد گرد موجود تھے۔ جو تیری عمدہ خوشبو کو پا رہے تھے اس طرح کی خوشبو کبھی نہیں پائی تھی۔ عیسیٰ اور ان کے حواری گرپڑے اللہ کے لئے سجدہ اور شکر کرتے ہوئے جو ان کو رزق عطا فرمایا اس طرح پر ان کو گمان بھی نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظیم قدرت دکھائی جو تعجب اور عزت والی تھی۔
یہودی دیکھنے کے لئے آئے اور انہوں نے عجیب و غریب واقعہ دیکھا جس نے ان کو افسردگی اور غم میں مبتلا کردیا۔ پھر وہ سخت غصہ کے ساتھ لوٹ گئے عیسیٰ اور حواری ان کے ساتھ آئے اور اس دستر خوان کے ارد گرد بیٹھ گئے اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا تھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہم میں سے کون اس رومال کو اس دستر خوان سے ہٹانے کی جرأت رکھتا ہے اور ہم سے کس کو زیادہ اعتماد ہے۔ اس کی ذات کے ساتھ کو اپنے رب کے ہاں اچھے عمل کرنے والا ہے۔ اس کو چاہئے کہ اس سے پردہ ہٹائے اور ہم اس کے رزق میں سے کھاتے ہیں جس نے ہم کو رزق دیا حواریوں نے کہا اے روح اللہ اے کلمۃ اللہ آپ ہی زیادہ لائق ہیں اس کے اور ہم سے زیادہ حقدار ہیں اس سے پردہ ہٹالیں عیسیٰ کھڑے ہوئے۔ نیا وضو فرمایا پھر اپنی عبادت گاہ میں داخل ہوئے اور دو رکعت پڑھیں پھر طویل مدت تک روتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو اس سے پردہ ہٹانے کی اجازت دیجئے اور اس کے لئے اور اس کی قوم کے لئے برکت اور رزق بنا دیجئے پھر لوٹ آئے اور دستر خوان کی طرف بیٹھ گئے رومال کو ہٹایا اور فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ جو بہتر رزق دینے والا ہے اور دستر خوان سے پردہ اٹھا دیا۔ اس میں موٹی تازی بھنی ہوئی مچھلی تھی جس پر بواسیر نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اندر کوئی کانٹا ہے اس سے تیل بہہ رہا ہے اس کے گرد ہر قسم کی سبزیاں ترتیب سے رکھی ہوئی ہیں علاوہ بدبودار سبزیوں کے (جیسے لہسن تھوم وغیرہ) اس کے سر کے پاس سرکہ تھا اس کی دم کے پاس نمک تھا اور ہر سبزی کے ارد گرد پانچ روٹیاں ہیں ان میں سے ایک پر زیتون اور دوسری پر کھجوریں اور تیسری پر پانچ انار ہیں حواریوں کے سردار شمعون نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا یا روح اللہ اور اس کا حکم کیا یہ دنیا کے کھانے میں سے ہے یا جنت کے کھانے میں سے ہے۔ فرمایا اب تمہارے لئے یہ ہے کہ تم عبرت حاصل کرو جو تم نشانیوں میں سے دیکھتے ہو اور تم مسائل کی چھان بین سے بچو، مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے کہ تم کو اس نشانی کے سبب عذاب میں مبتلا نہ کردیا جائے۔ شمعون نے کہا نہیں اسرائیل کے معبود کی قسم میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا اے صدیقہ کے بیٹے عیسیٰ نے فرمایا جو کچھ تم دستر خوان پر دیکھ رہے ہو نہ یہ جنت کے کھانوں میں سے ہے اور نہ دنیا کے کھانوں میں سے ہے یہ وہ چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہوا میں پیدا کیا اپنی قدرت کاملہ سے اس کے لئے فرمایا تو ہوجا اور یہ آنکھ جھپکنے سے گئی اب تم کھاؤ بسم اللہ کے ساتھ ان چیزوں میں سے جو تم نے سوال کیا اپنے رب کی اس پر حمد کرو۔ اللہ تعالیٰ اس سے تمہاری مدد فرمائے گا اور اس میں اضافہ فرمائے گا۔ کیونکہ نئے سرے سے پیدا کرنے والا قدرت رکھنے والا اور قدردانی کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کی روح اور اس کا کلمہ بیشک ہم پسند کرتے ہیں کہ تو اس نشانی میں ایک اور نشانی دکھا۔ عیسیٰ نے فرمایا سبحان اللہ کیا تم کو کافی نہیں ہوا جو تم نے ان نشانی میں سے دیکھا یہاں تک کہ تم نے دوسری نشانی کا سوال کردیا۔ پھر عیسیٰ مچھلی کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا اے مچھلی میرے پاس زندہ ہو کر لوٹ آئے تو پہلے زندہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت سے اس کو پھر زندہ کردیا اس نے حرکت کی اور اللہ کے حکم سے اسی طرح تازہ ہوگئی منہ میں زبان پھیرتی تھی جیسے شیر پھیرتا ہے۔ اس کی آنکھیں گھوم رہی تھیں جن میں چمک تھی۔ اس پر بواسیر لوٹ آئی قوم اس سے ڈر گئی اور پیچھے ہٹ گئی جب عیسیٰ نے اس کو دیکھا فرمایا تمہیں کیا ہوا تم ایک نشانی کا سوال کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ جب تم کو وہ دکھاتا ہے تم اس کو ناپسند کرتے ہو مجھے تم پر خوف ہے کہ تم سزا پاؤ گے ان کے گناہوں کے بدلہ میں جو تم کر رہے ہو اے مچھلی لوٹ جا اللہ کے حکم سے جیسے تو پہلے تھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھنی ہوئی حالت میں ہوگئی جس طرح وہ پہلے تھی۔
انہوں نے عیسیٰ سے کہا اے روح اللہ سب سے پہلے تو اس کو کھا پھر ہم اس سے کھائیں گے عیسیٰ نے فرمایا اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ جس نے اس کا مطالبہ کیا تھا وہی اس کو پہلے کھالے۔ جب حواریوں اور ان کے اصحاب نے دیکھا کہ ان کا نبی اس کو کھانے سے رکا ہوا ہے تو وہ ڈر گئے کہ کہیں اس دستر خوان کے نازل ہونے میں ناراضگی نہ ہو اور اس کے کھانے میں کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے۔ اور وہ اس سے پرہیز کرنے لگے۔ جب عیسیٰ نے اس معاملہ کو دیکھا تو فقراء اور اپاہجوں کو بلایا اور فرمایا کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اپنے نبی کی دعوت کو اور اس اللہ کی حمد کو بیان کرو۔ جس نے اس کو تمہارے لئے اتارا۔ اس کی برکتیں ہوں گی تمہارے لئے اور اس کی سزا ہوگی علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے تم سب لوگ بسم اللہ سے کھانا شروع کرو اور اللہ کی حمد کے ساتھ ختم کرو سب نے ایسا ہی کیا اس میں سے ایک ہزار تین سو مرد اور عورتوں نے کھایا اور ہر ایک ان میں سے پیٹ پھر کر واپس ڈکار لے کرجاتا تھا۔ عیسیٰ اور حواریوں نے دیکھا کہ دستر خوان پر کھانا اسی طرح ہے جس طرح وہ آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اس میں کوئی کمی نہیں آئی پھر وہ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور وہ دیکھ رہے تھے جس اپاہج نے اس میں سے کھانا کھایا وہ تندرست ہوگیا اور ہمیشہ غنی اور صحت مند ہوگیا، جس نے اس میں سے کھایا یہاں تک کہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حواری اور ان کے ساتھی جنہوں نے کھانے سے انکار کردیا تھا۔ ان کو اتنی ندامت ہوئی ان کی پلکوں سے آنسو بہتے رہے اور ان کے دلوں میں حسرت باقی رہی مرنے کے دن تک (راوی نے کہا) اس کے بعد دستر خوان جب نازل ہوا تو نبی اسرائیل ہر طرف سے دوڑے ہوئے آئے اور وہ ایک دوسرے پر بھیڑ کر رہے تھے۔ جو عورتیں بچے بوڑھے صحت مند اور بیمار ایک دوسرے پر گر رہے تھے جب عیسیٰ نے یہ دیکھا تو ان کے درمیان باری مقرر کردی یہ دستر خوان ایک دن آیا تھا دوسرے دن نہ آیا اس حال میں وہ چالیس دن رہے چاشت کے وقت پر دستر خوان نازل ہوتا۔ وہ برابر پڑا رہتا لوگ اس میں سے کھاتے رہتے۔ یہاں تک کہ جب دوپہر ہوجاتی تو دستر خوان اللہ کے حکم سے آسمان کی طرف اٹھ جاتا اور وہ زمین میں اس کے سامنے کی طرف دیکھتے رہتے یہاں تک کہ وہ اس سے اوجھل ہوجاتا اور اپاہجوں کے لئے مختص کردیئے سوائے مالداروں کے کہ ان کو نہ دیا جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا تو اس کے ساتھ مالدار لوگ شک کرنے لگے اور اسے حقیر جاننے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اس کے بارے میں شک کیا اپنے دلوں میں اور لوگوں نے بھی اس میں شک کیا اور اس دستر خوان کے بارے میں صبح اور ناپسندیدہ باتیں کرنے لگے۔ شیطان نے ان سے عہد لیا۔ اور اس نے اپنے وسوسے شک کرنے والوں کے دلوں میں ڈال دیئے یہاں تک کہ انہوں نے عیسیٰ کو کہا ہم کو دستر خوان اور اس کے آسمان سے نازل ہونے پر سچی بات بتایئے اس لئے کہ اس کے بارے میں بہت سے آدمیوں نے شک کیا ہے۔ عیسیٰ نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا ہے۔ اور عیسیٰ کے معبود کی قسم تم نے اپنے نبی سے دستر خوان کا مطالبہ کیا کہ وہ تمہارے لئے اس کو اپنے رب سے طلب کریں جب ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر رحمت اور رزق کی صورت میں نازل فرمایا اور اس میں تم کو نشانیاں اور عبرتیں دکھائیں تو تم نے اس کو جھٹلا دیا اور تم اس میں شک کرنے لگے۔ پس تم کو عذاب کی خوشخبری ہو عیسیٰ کی طرف وحی کی کہ میں پکڑنے والا ہوں جھٹلانے کو اپنی شرط کے مطابق بلاشبہ میں عذاب دینے والا ہوں ان میں سے جس نے انکار کیا دستر خوان کے نازل ہونے کے بعد ایسا عذاب کہ کسی ایک کو بھی جہاں والوں میں سے نہیں دیا جب شام کی شک کرنے والوں نے اور اپنی لیٹنے کی جگہوں میں لپیٹ گئے جبکہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین حالت میں تھے اور امن میں تھے جب آخری رات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جن کی شکل میں مسخ کردیا اور وہ گندگی کو تلاش کر رہے تھے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں صبح کے وقت۔
(12) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں بیان کرتے تھے کہ نبی اسرائیل سے فرمایا کیا تم اللہ کے لئے تیس روزے رکھو گے پھر تم اس سے سوال کرو تو وہ تم کو دیں گے جو تم سوال کرو گے بلاشبہ عامل کا اجر اس پر لازم ہے جس کے لئے اس نے کام کیا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر کہنے لگے اے خیر کے معلم ! تو نے ہم سے کہا کہ عامل کا اجر اس ذات پر ہے جس کے لئے اس نے عمل کیا ؟ اور تو نے ہم کو تیس دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ہم نے ایسا ہی کیا اور ہم کسی کے لئے بھی تیس دن عمل کرتے ہیں تو وہ ہماری اطاعت کرتا ہے (پھر انہوں نے) لفظ آیت ھل تستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السمآء سے لے کر لفظ آیت احدا من العلمین تک فرشتے دستر خوان لے کر ان پر اترنے لگے۔ اس میں سات مچھلیاں اور سات روٹیاں تھیں۔ یہاں تک کہ اس کو ان کے آگے رکھ دیا۔ لوگوں میں سے آخری آدمی نے ایسے میں کھایا جیسے کہ اس میں سے پہلے آدمی نے کھالیا۔ (یعنی اس میں کمی نہ آئی)
(13) امام ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن الانصاری نے کتاب الاضداد میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان سے دستر خوان روٹی اور گوشت نازل ہوا۔ اور حکم دیا گیا کہ نہ خیانت کریں اور نہ کل کے لئے جمع کریں۔ مگر انہوں نے خیانت کی ذخیرہ کیا اور کل کے لئے اٹھالے گئے تو وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردیئے گئے۔
(14) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ایک اور سند کے ساتھ عامر بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ اس کے مثل موقوف روایت ہے ترمذی نے فرمایا اور موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے۔
(15) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عامر بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ ان پر دستر خوان نازل ہوا اس میں جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل تھا۔
(16) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دستر خوان مچھلی تھی یا روٹی تھی۔
(17) امام سفیان بن عیینہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر نبی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ روٹی خراب ہوتی اور نہ گوشت بدبودار ہوتا۔ لیکن انہوں نے کل کے لئے کھانا چھپاکر رکھا تو گوشت بدبودار ہوگیا اور روٹی خراب ہوگئی۔
(18) امام ابن انصاری نے کتاب الاصداد میں ابو عبد الرحمن سلمی ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ان ینزل علینا مائدۃ من السمآء سے مراد روٹی اور مچھلی ہے۔
(19) امام ابن الانباری اور ابو الشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ دستر خوان نازل ہوا اور وہ ایسا کھانا تھا جو جوش مار رہا تھا۔ اور وہ اس میں بیٹھ کر کھاتے تھے۔ انہوں نے ہوا کو خارج کیا تو ایک چیز اٹھا لی گئی پھر انہوں نے سوار ہو کر کھایا پھر انہوں نے ہوا خارج کی تو مکمل اٹھا لیا۔
اللہ تعالیٰ پر اعتماد ضروری ہے
(20) امام ابن الانصاری نے وھب بن عنبر ؓ سے روایت کیا کہ دستر خوان پر چار ہزار بیٹھے تھے پھر انہوں نے اپنی قوم کے کمزور لوگوں کے بارے میں کہا کہ ان لوگوں نے ہمارے کپڑوں کو ہم پر آلودہ کردیا کاش ہم اس (دستر خوان) کے لئے کوئی چبوترہ بنا لیتے اور اس کو اونچا کرلیتے (اور اس پر بیٹھ کر کھاتے تھے تو اچھا تھا اس کے لئے ایک چبوترہ بنایا تو کمزور لوگ اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ جب انہوں نے اللہ عزوجل کے حکم مخالفت کی تو ان سے (دستر خوان) اٹھا لیا گیا۔
(21) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، اور ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں اور ابو الشیخ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ دستر خوان میں مچھلی تھی جس میں ہر کھانے کا ذائقہ تھا۔
(22) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ دستر خوان کے ساتھ جو روٹی نازل ہوئی وہ چاول کی تھی۔
(23) امام ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک دستر خوان عیسیٰ بن مریم اور حواریوں میں نازل ہوا۔ اس میں روٹی اور مچھلی تھی۔ جہاں جاتے اور جب چاہتے اس میں سے کھاتے۔
(24) امام ابن جریر، ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں عکرمہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے دستر خوان کے بارے میں فرمایا ان پر آسمان سے کھانا نازل ہوا تھا۔ جہاں بھی وہ پڑاؤ کرتے۔
(25) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا مائدہ سے مراد وہ کھانا تھا وہیں وہ اترتا جہاں وہ اترتے۔
(26) امام ابن جریر نے اسحاق بن عبیداللہ (رح) سے روایت کیا کہ دستر خوان نازل ہوا عیسیٰ بن مریم پر۔ اس پر سات روٹیاں اور سات مچھلیاں تھیں۔ اس میں سے جتنا چاہتے تھے کھاتے تھے۔ ان میں سے بعض نے اس میں سے چوری کرلی اور کہا شاید کل کو نازل نہ ہو تو (پھر دستر خوان) اٹھا لیا گیا۔
(27) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن الانباری اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جو دستر خوان نازل کیا گیا تھا اس میں جنت کے پھل تھے اور ان کو حکم کیا گیا تھا کہ ان کو نہ چھپائیں نہ خیانت کریں اور نہ کل کے لئے ذخیرہ کریں یہ آزمائش تھی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا اور جب وہ اس میں سے کچھ کرتے تھے تو عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو بتا دیتے تھے۔ (مگر) قوم نے اس میں خیانت کی اس کو چھپایا اور کل کے لئے ذخیرہ بھی کرلیا۔
(28) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ دستر خوان پر ہر چیز اتاری گئی سوائے گوشت کے اور مائدہ سے دستر خوان مراد ہے۔
(29) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن منذر نے میسرہ اور اذان (رح) دونوں حضرات نے فرمایا جب دستر خوان نازل کیا گیا نبی اسرائیل کے لئے تو صاحب ثروت لوگ اس دستر خوان سے کھانوں کے متعلق اختلاف کرنے لگے۔
(30) امام ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس دستر خوان کے بارے میں پوچھا گیا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اسرائیل کے لئے آسمان سے نازل فرمایا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا ہر دن ان پر نازل ہوتا تھا اور اس دستر خوان میں جنت کے پھل ہوتے تھے تو مختلف قسم کے پھلوں میں سے جتنا وہ چاہتے کھاتے اور اس پر چار ہزار آدمی بیٹھا کرتے تھے جب وہ کھالیتے تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس جیسا کھانا بدل دیتے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ اسی طرح رہے۔ (یعنی یہ پھل کھاتے رہے)
(31) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان ینزل علینا مائدۃ من السمآء کے بارے میں فرمایا کہ ایک مثال بیان کی گئی اور ان پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی تھی۔
(32) امام ابو عبید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایسا دستر خوان جس پر کھانا تھا انہوں نے اس کا انکار کیا جب ان پر عذاب کو پیش کیا گیا کہ اگر تم نے کفر کیا تو اس وقت تم پر عذاب آجائے گا۔ تو اس لئے انہوں نے انکار کیا کہ ان پر (دستر خوان) نازل کیا جائے (یعنی ان پر دستر خوان نازل نہ کیا جائے)
(33) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب ان کے لئے کہا گیا لفظ آیت فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ تو (اس پر) انہوں نے کہا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لئے ان پر نازل نہیں ہوا۔
(34) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فانی اعذبہ عذابا لا اعذبہ احدا من العلمین کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جب ؓ انہوں نے دستر خوان کے بارے میں وہ کام کیا جو کیا تو ان کی خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا گیا۔
(35) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فمن یکفر بعد منکم یعنی دستر خوان آنے کے بعد تو فرمایا لفظ آیت فانی اعذبہ عذابا لا اعذبہ احدا من العلمین یعنی میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جیسا کہ میں نے دستر خوان والوں کے علاوہ کسی اور کو ایسا عذاب نہیں دیا ہوگا۔
(36) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن جس کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے مائدہ کا انکار کیا اور منافقوں کو اور فرعون والوں کو ہوگا۔
(37) امام عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت انی منزلھا کی زاء کو تشدید کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 5:116–117(1) امام ترمذی نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر القاء کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ قول نازل فرمایا کہ لفظ آیت واذ قال اللہ عیسیٰ ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ آیت القاء کی یعنی لفظ آیت سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (ساری آیت)
(2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم سے فرمایا لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ان کا ہر جوڑ کا پنے لگا۔ یہاں تک کہ آپ نیچے گرپڑے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے حسن بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ جب (اللہ تعالیٰ نے ان سے) فرمائیں گے لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ تو خوف کی وجہ سے ان کا ہر جوڑ اپنی جگہ سے ہل جائے گا۔
(4) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ کے بارے میں پوچھا گیا یہ کب ہوگا ؟ فرمایا قیامت کے دن کیا تو نے دیکھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم (المائدہ آیت 119)
(5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ کے بارے میں فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا تو نصاری نے کہا جو کہا اور انہوں نے گمان کیا کہ عیسیٰ نے ان کو اس کا حکم فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔ لفظ آیت وقال سبحنک ما یکون لی (سے لے کر) لفظ آیت وانت علی کل شیء شھید تک
(6) امام عبد الرزاق، فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، امام ابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب نے آپس میں بحث کی اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی توثیق دی۔ انہوں نے فرمایا لفظ آیت فقال سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (یعنی تیری ذات پاک ہے مجھ کو یہ حق نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا کہنا کا مجھ کو حق نہیں)
(7) امام ابو الشیخ نے طاؤس کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے رب نے دلیل قائم کی اور عیسیٰ نے اپنے اپنے رب کے پاس دلیل پیش کی اللہ تعالیٰ نے اپنی دلیل میں یوں فرمایا لفظ آیت ءانت قلت للناس (الایۃ)
غیر اللہ کو پوجنے والوں سے باز پرس ہوگی
(8) امام ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب امتوں کو جمع فرمائیں گے اور سب لوگ اپنے اماموں کے ساتھ بلائے جائیں گے اور عیسیٰ کو بلایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ عیسیٰ سے فرمائیں گے۔ لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ تو وہ جواب دیں گے لفظ آیت سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (سے لے کر) لفظ آیت یوم ینفع الصدقین صدقھم تک
(9) امام ابو الشیخ نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (جب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) لفظ آیت واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ تو اور لوگ بھی سن رہے ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) وہ جواب دیں گے جو تم نے دیکھ لیا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے بارے میں بندہ ہونے کا اقرار کریں گے اور وہ جان لے گا عیسیٰ کے بارے میں جو من گھڑت باتیں کرتا تھا کہ وہ جھوٹ کہتا تھا۔
(10) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان اعبدوا اللہ ربی وربکم کے بارے میں فرمایا کہ میرے سردار اور تمہارے سردار۔
(11) امام طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم
(12) امام ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حیان، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر نگہبان تھا) کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے لوگو تم اکٹھے کئے جاؤ گے اللہ کی طرف ننگے بدن، ننگے پاؤں، بغیر ختنہ کئے ہوئے۔ پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فعلین (الانبیاء آیت 104) پھر فرمایا خبردار مخلوق میں سے سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ خبردار ! کچھ لوگ میری امت میں سے لائے جائیں گے ان کو بائیں جانب (یعنی جہنم کی جانب) کے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب میرے ساتھی میرے ساتھی۔ کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی نئی باتیں نکالیں۔ میں اس طرح کہوں گا جیسا کہ نیک بندے نے کہا لفظ آیت وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم کہا جائے گا اسی قوت مرتد ہوگئے تھے جب آپ ان سے جدا ہوئے تھے۔
(13) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت کنت انت الرقیب علیھم میں رقیب کا معنی ہے حفاظت کرنے والا یعنی نگہبان۔
(14) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت کنت انت الرقیب علیھم سے مراد ہے حفاظت کرنے والا بھی نگہبان۔
Ayah 5:118(1) امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، احمد، نسائی، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور ایک آیت پڑھی تو اس کے ساتھ رکوع سجدہ کرتے ہوئے صبح کردی۔ (وہ آیت یہ تھی) لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک جب صبح ہوتی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ برابر اس آیت کو پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا تھا تو وہ مجھ کو دے دی گئی۔ اگر اللہ نے چاہا ہر اس آدمی کو پہنچے گی جس نے شرک نہ کیا ہوگا۔
(2) امام ابن ماجہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک آیت پڑھتے ہوئے (ساری رات) قیام فرمایا اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ (وہ یہ آیت تھی) لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم
(3) امام مسلم، نسائی اور ابن ابی الدنیا نے حسن الظن میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قول کی تلاوت فرمائی (یعنی یہ آیت پڑھی) لفظ آیت رب انھن اضللن کثیرا من الناس فمن تبعنی فانہ منی اور جب عیسیٰ بن مریم نے عرض کیا لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم آپ نے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھایا اور فرمایا اے اللہ میری امت، میری امت کو بخش دے اور رونے لگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور کہو عنقریب آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور ہم تجھ کو ناراض نہیں کریں گے۔
(4) امام ابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات اپنی امت کے لئے شفاعت کرتے ہوئے گزاری اور اس آیت کے ساتھ نماز پڑھتے رہے لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک (آخری آیت تک) اسی سے ساتھ سجدہ کرتے، رکوع کرتے اور اسی کے ساتھ قیام کرتے اور اسی کے ساتھ قعدہ کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
(5) امام ابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ ! آپ نے ساری رات قرآن میں سے ایک آیت کے ساتھ قیام فرمایا حالانکہ آپ کے پاس پورا قرآن موجود تھا۔ اگر ہم میں سے بعض کوئی ایسا کام کرتا تو ہم اس پر ناراض ہوتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنی امت کے لئے دعا کی ہے۔ عرض کیا کیا جواب ملا ؟ آپ نے فرمایا وہ جواب دیا گیا اگر ان میں سے بہت لوگوں کو پتہ چل جائے تو نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔ میں نے عرض کیا کیا میں لوگوں کو خوشخبری دے دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ لوگوں کی طرف یہ خبر پہنچائیں گے تو وہ عبادت سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو آپ نے اس کو آواز دیں لوٹ آ تو وہ لوٹ آئے اور یہ آیت تلاوت کرتے رہے لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم
(6) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک کے بارے میں فرمایا کہ یہ تیرے بندے ہیں اپنی گفتگو کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ لفظ آیت وان تغفرلھم ان میں سے جس کو تو چھوڑے رکھے گا۔ اور اس کی اور اس کی عمر کو لمبا کردے یہاں تک کہ آسمان سے زمین کی طرف اسے اتارا جائے وہ دجال کو قتل کرے پھر وہ اپنی بات کو چھوڑیں اور تیری توحید کی گواہی دیں۔ اور اس بات کا اقرار کریں کہ ہم بندے ہیں لفظ آیت وان تغفر لھم جب وہ اپنی اپنی بات سے لوٹ آئیں تو وہ ان کو بخش دے۔ بیشک تو غالب ہے اور حکمت والا ہے۔
(7) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے لفظ آیت ان تعذبھم فانھم عبادک کے بارے میں فرمایا اگر تو ان کو عذاب دے گا (یعنی) اگر تو ان کو نصرانیت کی حالت میں موت دے گا تو ان پر عذاب ثابت ہوجائے گا۔ بیشک وہ تیرے بندے ہیں۔ لفظ آیت وان تغفرلھم اگر تو ان کو بخش دے کہ تو ان کو نصرانیت سے نکال کر اسلام کی طرف ہدایت دے لفظ آیت فانک انت العزیز الحکیم (بےشک تو عزیز اور حکیم ہے) یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا قوم ہے دنیا میں۔
Ayahs 5:119–120(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم سے مراد ہے کہ اس دن موحدین کو ان کی توحید نفع دے گی۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم یعنی یہ فیصلہ ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کی گزارش کا۔ اور یہ قیامت کے دن کا ہوگا۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ کلام کرنے والے قیامت کے دن کلام کریں گے اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے دشمن ابلیس۔ وہ کہیں گے۔ لفظ آیت ان اللہ وعدکم وعد الحق (سے لے کر) لفظ آیت الا ان دعوتکم فاستجبتم لی (ابراہیم آیت 23) اللہ کا دشمن اس دن سچ کہے گا جبکہ وہ دنیا میں جھوٹا تھا لیکن عیسیٰ کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کی گفتگو کے بارے میں فرمایا (یعنی) لفظ آیت واذقال اللہ یعیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ قال سبحنک ما یکون لی آخر آیت تک (پھر فرمایا) لفظ آیت قال اللہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم وہ سچے تھے دنیا کی زندگی میں اور موت کے بعد۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت للہ ملک السموت والارض وما فیھن : الآیہ
ابو عبد نے فضائل میں ابو الزاھریہ سے روایت ہے کہ عثمان ؓ نے سورة مائدہ کے آخر میں یہ آیت لکھی لفظ آیت للہ ملک السموت والارض واللہ سمیع بصیر
الحمدللہ سورة المائدہ مکمل ہوئی