Ayah 5:42(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت سمعون للکذب اکلون للسحت سے مراد ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں رشوت لی اور ناحق فیصلہ کیا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ لفظ آیت سمعون للکذب اکلون للسحت سے مراد ہے کہ یہ یہود کے احکام ہیں کہ وہ جھوٹ کو قبول کرتے اور رشوت لیتے تھے۔
(3) امام عبد الرزاق الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت فرمایا سحت سے مراد ہے دین میں رشوت لینا۔ سفیان نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینا۔
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا جو شخص کسی آدمی کی سفارش کرے تاکہ اس سے اس کا ظلم دور ہوجائے یا اس پر حق لوٹ آئے (یعنی اس کو حق مل جائے) پھر اس نے اس کو ہدیہ دیا اور اس نے اس کو قبول کرلیا تو یہ حرام کمائی ہے۔ کہا گیا اے عبد الرحمن کہ ہم فیصلہ کرنے میں رشوت لینے کو حرام کمائی شمار کرتے تھے۔ عبد اللہ نے فرمایا یہ کفر ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے حرام کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد رشوت ہے۔ کہا گیا کہ فیصلہ کرنے میں (رشوت لینا مراد ہے) فرمایا وہ تو کفر ہے پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون۔
(6) امام عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابوالشیخ اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سحت کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینا مراد ہے ؟ فرمایا نہیں لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون یعنی وہ لوگ فاسق ہیں لیکن سحت یہ ہے کہ کوئی آدمی ظلم کے خلاف تجھ سے مدد لے وہ تحفہ دے جسے تو قبول کرلے تو یہ سحت یعنی حرام کمائی ہے۔
(7) امام ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے عرض کیا۔ آپ بتائیے فیصلہ کرنے میں رشوت لینا سحت سے ہے۔ فرمایا نہیں لیکن وہ کفر ہے بلکہ سحت پر یہ ہے کہ ایک آدمی کی بادشاہ کے نزدیک قدرومنزلت ہو کسی آدمی کی بادشاہ کی طرف کوئی حاجت ہو۔ اور وہ اس کی حاجت کو پورا نہ کرے۔ جب تک اسے تحفہ نہ دیا جائے (یہ ہے سحت یعنی حرام کمائی)
حکام کے لئے رشوت لینا حرام ہے
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حکام کا رشوت لینا حرام ہے اور وہ سحت یعنی حرام کمائی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا۔
(9) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ گوشت جو حرام کمائی سے پیدا ہو۔ تو آگ اس کے لئے زیادہ لائق ہے۔ کہا گیا اے رسول اللہ ﷺ سحت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا فیصلہ کرنے میں رشوت لینا۔
(10) امام عبد بن حمید نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کی کہ سحت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد رشوت ہے۔
(11) امام عبد بن حمید نے علی ابن ابی طالب ؓ سے سحت کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا اس سے مراد رشوت ہے۔ ان سے پھر کہا گیا کیا فیصلہ کرنے میں ؟ فرمایا وہ تو کفر ہے۔
(12) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حرام کمائی کے دو دروازے ہیں ان دونوں سے لوگ کھاتے ہیں۔ فیصلہ کرنے میں رشوت اور زانیہ عورت کی مہر۔
(13) امام ابو الشیخ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ سحت کے آٹھ دروازے ہیں۔ سب سے برا سحت حاکم کی رشوت ہے۔ رنڈی عورت کی کمائی، نرکومادہ پر کروانے کی اجرت، مردار کی قیمت، شراب کی قیمت، کتے کی قیمت، پچھنے لگانے کی کمائی اور کاہن کی اجرت۔
(14) امام عبد الرزاق نے طریف (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک قوم کے درمیان اجر کا حساب لگا رہا تھا۔ اور دوسرے الفاظ میں ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان حصے تقسیم کر رہا تھا۔ تو علی ؓ نے اس سے فرمایا کہ بلاشبہ تو حرام کمائی کھا رہا ہے۔
شوقیہ کتے کی قیمت حرام ہے
(15) امام فریابی اور ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ زانیہ عورت کا مہر سحت میں سے ہے اور کتے کی قیمت (حرام ہے) مگر شکاری کتے کی قیمت (حلال ہے) اور کوئی چیز فیصلہ کرنے میں لی جائے۔
(16) امام عبد الرزاق اور مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امراء کو دئیے جانے والے تحائف سحت ہیں۔
(17) امام ابن مردویہ اور دیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ چیزیں حرام کمائی میں سے ہیں حاکم کا رشوت لینا اور یہ سب سے بڑی سحت ہے۔ کتے کی قیمت، نر کو مادہ پر کروانے کی اجرت، رنڈی عورت کا مہر، پچھنے لگوانے والوں کی کمائی اور کاہن کی اجرت۔
(18) امام عبد بن حمید نے طاؤس ؓ سے روایت کیا کہ عمال کو دیئے جانے والے تحائف سحت ہیں۔
(19) امام عبد بن حمید نے یحییٰ بن سعید ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے جب عبد اللہ بن رواحہ ؓ کو خیبر والوں کی طرف بھیجا۔ تو ان لوگوں نے ان کو ایک چادر ہدیہ میں دی۔ فرمایا یہ سحت ہے۔
(20) امام عبد الرزاق، حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت لینے اور رشوت دینے والے پر لعنت کی ہے۔
(21) امام احمد اور بیہقی نے ثوبان ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت لینے والا اور رشوت دینے والے پر اور رائش پر لعنت کی ہے۔ رائش وہ آدمی ہے جو ان دونوں کے درمیان واسطہ بنتا ہے۔ (یعنی رشوت کا لین دین کرتا ہے)
(22) امام حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دس آدمیوں کا والی بنا پھر اس نے ان کے درمیان اس طرح پر فیصلے کئے کہ انہوں نے ان کو پسند کیا یا ناپسند کیا تو وہ اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔ اگر اس نے انصاف کیا رشوت نہیں لی اور ان پر ظلم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو (عذاب سے) آزاد کردیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے علاوہ پر فیصلہ کیا، رشوت لی اور اس میں طرفداری کی تو اس کی بائیں ہاتھ کو داہنے ہاتھ کی طرف باندھ دیا جائیگا۔ پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور وہ اس کی تہہ میں پانچ سو سال تک نہیں پہنچے گا۔
(23) امام ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو حلال کرلیں گے نیند کے ساتھ شراب کو، صدقہ کے ساتھ کمی کو اور ہدیہ کے ساتھ سحت کو اور موعظہ کے ساتھ قتل کو۔ اور وہ بےگناہ لوگوں کو قتل کریں گے تاکہ عام لوگ ان کے لئے مسخر ہوجائیں۔ اس طرح وہ بڑھ جائیں گے گناہ میں۔
(24) امام خطیب نے تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سحت (یعنی حرام کمائی) میں سے یہ ہے : پچھنے لگوانے والی کمائی، کتے کی قیمت، مینڈک کی قیمت، سور کی قیمت، شراب کی قیمت، مردار کی قیمت، خون کی قیمت، نرکومادہ پر کدوانے کی قیمت، نوحہ کرنے والی کی اجرت، گانے والی کی اجرت، کاہن کی اجرت، جادوگر کی اجرت، کھوجی کی اجرت، درندوں کی کھالوں کی قیمت، مردار کی کھالوں کی قیمت، لیکن جب ان کی دیاغت کرلی جائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں اور مورتیاں اور تصویریں بنانے کی اجرت، اور شفارش کرنے پر بدلہ لینا اور غروہ کا انعام۔
(25) امام عبد بن حمید نے عبد اللہ بن شفیق (رح) سے روایت کیا کہ یہ روٹیاں جو معلم لے لیتے ہیں یہ بھی سحت یعنی حرام کمائی میں شامل ہیں۔
(26) امام ابن ابی حاتم، نحاس نے ناسخ میں، طبرانی، حاکم (انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ دو آیتیں ہیں جو اس سورة یعنی مائدہ سے منسوخ کردی گئیں (جیسے) آیۃ القلائد ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا ہے۔ اگر چاہیں تو ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں اگر چاہیں تو ان سے اعراض فرمالیں۔ اور ان کو ان کے احکام کی طرف پھیر دیں۔ اور (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم واحذرھم (المائدہ : آیت 49) پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں ان احکام کے ساتھ جو ہماری کتاب میں ہیں۔
(27) ابو عبیدہ، امام ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم کے بارے میں فرمایا کہ اس کو اس (آیت) لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ نے منسوخ کردیا۔
(28) امام ابن اسحاق اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے اس طرح روایت کیا ہے ابن شہاب (رح) سے روایت کی کہ یہ آیت جو سورة مائدہ میں ہے یعنی لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم رجم کے بارے میں ہے۔
(29) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، ابوالشیخ، ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت جو سورة مائدہ میں ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فاحکم بینھم او اعرض عنھم سے لے کر لفظ آیت المقسطین تک۔ یہ (یہودیوں کے قبیلہ) بنو نضیر اور بنو قریظہ کے دیت کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ اس وجہ سے کہ قبیلہ بنو نضیر اپنے مقتولین کے بارے میں پوری دیت کا مطالبہ کرتے تھے۔ کیونکہ وہ عزت اور مرتبہ میں بڑھے ہوئے تھے اور قبیلہ بنو قریظہ میں آدھی دیت کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ اپنا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حق بات پر آمادہ کیا اور سب کے لئے دیت کو برابر کردیا۔
(30) ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم (اور انہوں نے اس کو صحیح قرار دیا) اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ (یہودیوں کے دو قبیلے) بنو قریظہ اور نضیر تھے۔ نضیر والے عزت اور مرتبہ میں قریظہ سے بڑھے ہوئے تھے۔ جب بنو نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو سو وسق کھجور ادا کی جاتی (دیت میں) اور جب بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو اس کے بدلہ میں (قاتل کو) قتل کردیا جاتا۔ جب رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی تو بنو نضیر کے آدمی نے بنو قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو قاتل دے دو تاکہ ہم اس کو قتل کریں اور انہوں نے کہا ہمارے اور تمہارے درمیان نبی ﷺ فیصلہ فرمائیں گے۔ چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط اور قسط سے مراد جان کے بدلے جان ہے پھر (یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون (المائدہ آیت 50)
(31) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم کے بارے میں فرمایا جس دن یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کے لئے سہولت تھی۔ اگر چاہیں تو فیصلہ فرمائیں اور اگر نہ چاہیں تو فیصلہ نہ فرمائیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت وان تعرض عنھم فلن یضروک شیئا نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ یہ آیت نے لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم (المائدہ 49)
یہود کے مابین قرآن کے مطابق فیصلہ
(32) امام عبد بن حمید اور نحاس نے اپنی ناسخ میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم کے بارے میں فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں اور اگر نہ چاہیں تو فیصلہ نہ فرمائیں۔
(33) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابراہیم اور شعبی رحمۃ اللہ علیہا دونوں سے روایت کی ہے کہ جب اہل کتاب مسلمانوں کے حاکموں میں سے کسی حاکم کے پاس آئیں اگر چاہیں تو ان کے درمیان فیصلہ کردیں۔ اگر چاہیں تو ان سے اعراض کریں اور اگر ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اس حکم کے ساتھ فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔
(34) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اسے اختیار ہوگا (چاہے فیصلہ کرے، چاہے نہ کرے)
(35) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ذمی لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ (اپنا معاملہ) مسلمان حکام کے پاس لے جاتے ہیں تو فرمایا کہ ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کریں۔
(36) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ذمی لوگ جب (اپنا معاملہ) مسلمانوں کے پاس لے جائیں تو مسلمانوں کے حکم کے مطابق ان کا فیصلہ کرے۔
(37) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابو الشیخ اور بیہقی نے ابراہیم تمیمی (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط میں قسط کا معنی رجم ہے۔
(38) امام ابن ابی حاتم نے مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان اللہ یحب المقسطین کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے انصاف کرنے والے قول میں اور فعل میں۔
(39) امام عبد الرزاق نے زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ حقوق اور ان کے میراث کے مسائل میں ان کے علماء کی طرف لوٹا دیئے جائیں۔ ہاں اگر وہ حد میں رغبت کرنے ہوئے آئیں تو اس بارے میں ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق کردیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا لفظ آیت وان حکمت فاحکم بینھم القسط
Ayah 5:43(1) امام ابن مردویہ براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی گزرا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور کوڑے لگائے گئے تھے۔ آپ نے ان لوگوں سے پوچھا اس شخص نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے پوچھا تم اپنی کتاب میں زنا کی کیا سزاپاتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کی سزا تو یہ پاتے ہیں اس کا منہ کالا کرنا اور کوڑے لگانا آپ نے ان سے پوچھا کون تم میں سے سب سے بڑا عالم ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ فلاں بڑا عالم ہے۔ آپ ﷺ نے اس کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا منہ کالا کرنا اور کوڑے مارنا پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قسم کھلائی کہ تم لوگ اپنی کتاب میں زنا کی حد کے بارے میں کیا پاتے ہو ؟ اس نے کہا ہم پاتے ہیں رجم کو لیکن جب ہمارے بڑے لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی تو اپنی قوم کی وجہ سے اس سے محفوظ ہوجاتے ہیں تو رجم کا فیصلہ ہمارے کمزور لوگوں میں واقع ہوجاتا۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم مقرر کرلیتے ہیں ایسی چیز کو جو ان میں سے مناسب ہو یہاں تک کہ اس سزا میں سب برابر ہوجائیں۔ ہو ہم نے منہ کالا کرنا اور کوڑے مارنے کو تجویز کیا۔ (یہ سن کر) نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ بلاشبہ میں پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر دوں گا۔ جبکہ ان لوگوں نے اس کو ضائع کردیا ہے۔ تو آپ ﷺ نے رجم کا حکم فرمایا تو اس کو رجم کردیا گیا۔ راوی نے کہا کہ یہودی اس آدمی پر پل پڑے۔ جس نے نبی ﷺ کو یہ بات بتائی تھی اور اس کو گالیاں دیں۔ اور انہوں نے کہا اگر ہم کو پتہ ہوتا کہ تم یہ بات کہہ دو گے تو ہم تیرے بارے میں نہ کہتے کہ ہم میں سے زیادہ علم رکھنے والا ہے راوی نے کہا پھر اس کے بعد انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کرنا شروع کئے کہ حد زنا کے بارے میں آپ کی طرف کیا حکم نازل ہوا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ یعنی اللہ کی حدود اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دیدی اس حکم کی جو توراۃ میں تھا۔ اور فرمایا لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا سے لے کر لفظ آیت والجروح قصاص تک
(2) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے پاس بیان (یعنی ان کا حکم موجود) تھا۔ اس چیز کے بارے میں جس میں وہ آپس میں جھگڑا کر ہے تھے اپنے مقتول کے حال میں۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ کے بارے میں فرمایا اس میں رجم ہے شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کے لئے۔ اور ایمان لانا محمد ﷺ پر اور ان کی تصدیق کرنا۔ پھر فرمایا لفظ آیت ثم یتولون یعنی پھر وہ حق سے پھرگئے۔ لفظ آیت من بعد ذلک بیان کرنے کے بعد لفظ آیت وما اولئک بالمؤمنین یعنی یہ یہودی ایمان لانے والے نہیں۔
Ayah 5:44(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یعنی ہدایت سے گمراہی سے اور روشنی ہے اندھے پن سے۔ لفظ آیت یحکم بھا النبیون وہ فیصلہ کرتے رہے ان حکموں کے ساتھ جو تورات میں ہیں موسیٰ سے عیسیٰ تک لفظ آیت للذین ھادوا جو ان کے حق میں تھے ان کے خلاف تھے۔ پھر فرمایا صوفیا علماء بھی فیصلہ کرتے رہے۔ لفظ آیت والربنیون والحبار یعنی تورات کے ساتھ لفظ آیت بما استحفظوا من کتب اللہ وہ فیصلہ رجم کا تھا اور محمد ﷺ پر ایمان لانے کا تھا۔ لفظ آیت وکانوا علیہ شھداء فلا تخشوا الناس اور وہ اس پر گواہ تھے محمد ﷺ کے معاملہ میں پھر فرمایا کہ تم محمد ﷺ اور رجم کے حکم کو ظاہر کرو لفظ آیت واخشون اور اس کے چھپانے میں مجھ سے ڈرو۔
علماء وصوفیا کا توراۃ کے مطابق فیصلے
(2) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربنیون والحبار کے بارے میں فرمایا کہ ربانیوں سے فقہاء یہود مراد ہیں اور احبار سے ان کے علماء مراد ہیں پھر فرمایا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم فیصلے کریں گے یہودیوں پر اور ان کے علاوہ دوسرے دین والوں پر۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یحکم بھا النبیون الذین اسلموا کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ اور ان سے پہلے دوسرے انبیاء حق کے مطابق فیصلہ کرتے رہے جو اس توریت میں موجود تھا۔
(4) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والربنیون والحبار سے فقہاء اور علماء مراد ہیں۔
(5) امام ابن جریر سے روایت ہے مجاہد نے لفظ آیت والربنیون سے علماء فقہاء مراد لیے ہے اور ان کا درجہ احبار سے زیادہ تھا۔
(6) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت والربنیون سے فقہاء الیہود مراد ہے۔ اور الاحبار سے علماء مراد ہیں۔
(7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے دو آدمی تھے جو دونوں بھائی تھے۔ ان کو ابن صوریا کے بیٹے کہا جاتا تھا۔ انہوں نے نبی ﷺ کی اتباع کی مگر مسلمان نہیں ہوئے اور انہوں نے آپ سے وعدہ کیا کہ اگر آپ ہم سے تورات میں سے کوئی سوال کریں گے تو ہم آپ کو بتائیں گے۔ ان میں سے ایک فقیر تھا اور دوسرا عالم تھا اور یہ معاملہ کہ جب ایک شریف نے زنا کیا اور ایک مسکین نے زنا کیا تو کیا حکم ہوگا۔ اور کس طرح انہوں نے اس کو تبدیل کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا یہاں کے نبیوں سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے اور والربانیون والاحبار سے مراد صوریا کے دونوں بیٹے ہیں۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت والربنیون سے فقہاء علماء مراد ہیں۔
(9) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت والربنیون کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد مؤمن ہیں اور والاحبار سے مراد قرأ ہیں لفظ آیت کانو علیہ شھداء یعنی ربانیوں اور احبار دونوں گواہ ہیں محمد ﷺ کے لئے اس بات پر کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ اور وہ اللہ کے نبی یعنی محمد ﷺ کہ ان کے پاس یہودی آئے تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔
(10) امام ابن منذر اور ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلا تخشوا الناس واخشون کے بارے میں فرمایا کہ یہ خطاب محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لئے ہے۔
(11) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابن عساکر نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہا گیا کہ ایک راستہ میں ایک درندہ ہے۔ جس نے لوگوں کو روک رکھا ہے۔ ابن عمر ؓ نے اپنی سواری کو ابھارا (تیز چلنے پر) جب اس کی طرف پہنچے تو اپنی سواری کو بٹھایا اور اس درندے کا کان پکڑ کر اس کو نیچے بٹھایا اور فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ ناراض ہوتا ہے۔ ابن آدم پر جس کو ابن آدم خوف زدہ کرتا ہے۔ اگر ابن آدم اللہ کے سوا کسی چیز سے نہ ڈرے تو اس پر اس کے علاوہ کوئی چیز مسلط نہ ہو۔ بعض لوگوں کی جانب سے معاملات انسانوں کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر ابن آدم اللہ کے سوا کسی نے امید نہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اپنے سوا اس کو کسی اور کی طرف سپرد نہیں کرے گا۔
(12) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلا تخشوا الناس سے مراد ہے کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو کہ تمہاری اس چیز کو چھپانے لگو مگر جو تمہاری طرف نازل کی گئی۔ پھر فرمایا لفظ آیت ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا اور اسے چھپا کر تم تھوڑی سی قیمت نہ لو۔
(13) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا کے بارے میں فرمایا یہ کتاب کو (بیچ کر) حرام نہ کھاؤ۔
(14) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ کے بارے میں فرمایا یعنی جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس نے کفر کیا اور جس نے اقرار کرنے کے باوجود اس کے ساتھ فیصلہ نہ کیا تو ظالم اور فاسق ہے۔
(15) سعید بن منصور الفریابی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم (اور حاکم نے تصحیح بھی کی) اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون اور فرمایا لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون پھر فرمایا لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون یعنی وہ کافر ہیں، فاسق ہیں، ظالم ہیں، فاسق ہیں تو یہ کفر دوسرے کفر سے، یہ ظلم عام ظلم سے، یہ فسق عام فسق سے مختلف ہے۔
(16) سعید بن منصور، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون اللہ تعالیٰ نے کافر ظالم اور فاسق کا جو حکم نازل فرمایا وہ یہودیوں کے ساتھ خاص ہے۔
(17) امام ابن جریر نے ابو صالح ؓ سے روایت کیا کہ یہ تینوں آیات جو سورة مائدہ میں ہیں لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون یعنی وہ ظالم ہیں اور فاسق ہیں اہل اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کفار کے متعلق ہیں۔
(18) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون یعنی وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہیں یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔
(19) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابو الشیخ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ یہ آیت بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئیں اور اس امت کے لئے بھی ان کو پسند کیا۔
(20) عبد بن حمید اور ابن جریر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ ہم پر بھی واجب ہے۔ (کہ ہم اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کریں)
(21) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ تینوں آیات سورة مائدہ میں ہیں لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ پہلی آیت اس امت کے بارے میں ہے، دوسری یہودیوں کے بارے میں ہے اور تیسری نصاری کے بارے میں ہے۔
(22) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون سے مراد ہے کہ جو شخص اس کتاب کے ساتھ فیصلہ کرے جو اس نے اپنے ہاتھ میں لکھی اور اللہ کی کتاب کو چھوڑدیا اور یہ گمان کیا کہ یہ کتاب بھی اللہ کی طرف سے ہے تو اس نے کفر کیا۔
(23) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم نے (اس کو صحیح بھی کیا ہے) حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ان آیات کا ذکر کیا گیا لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون یعنی ظالموں اور فاسقوں کے بارے میں۔ ایک آدمی نے کہا کہ یہ تو بنی اسرائیل کے بارے میں ہے۔ حذیفہ ؓ نے فرمایا ہاں۔ تمہارے کتنے اچھے بھائی بنی اسرائیل ہیں تمہارے لئے ہر ایک چیز اچھی ہے اور ان کے لئے ہر چیز کڑوی ہے۔ اللہ کی قسم تم بھی اسی راستہ پر چل رہے ہو۔
(24) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم کتنی اچھی قوم ہو جو میٹھی چیز ہو تو وہ تمہارے لئے ہے اور جو کڑوی ہے وہ اہل کتاب کے لئے گویا آپ کی رائے تھی یہ آیات مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون
(25) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابو مجلز سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون ہاں وہ کافر ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔ پھر ان لوگوں نے کہا لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون (کہ وہ ظالم ہے) فرمایا ہاں پھر لوگوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو اس حکم کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ فرمایا ہاں ٹھیک ہے یہی ان کا دین ہے کہ جس کے ساتھ وہ فیصلہ کرتے ہیں اور یہودی نصرانیوں اور مشرکین کے لئے ہے۔ جو اس حکم کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔
(26) امام عبد بن حمید نے حکیم بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے سعد بن جبیر (رح) سے ان تینوں آیات کے بارے میں پوچھا جو سورة مائدہ میں ہیں۔ یعنی لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون اور لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون اور لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون میں نے عرض کیا کہ قوم نے یہ خیال کیا کہ یہ آیتیں بنی اسرائیل کے بارے میں اتریں ہمارے بارے میں نہیں اتریں تو انہوں نے فرمایا ان سے پہلے اور ان کے بعد کی آیات کو پڑھو۔ میں نے اس آیت کو پڑھا تو فرمایا نہیں۔ بلکہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی پھر میں مقسم سے ملا جو ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے اور ان سے میں نے ان آیت کے بارے میں پوچھا جو سورة مائدہ میں ہیں میں نے کہا قوم نے یہ خیال کیا کہ یہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہوئی ہیں۔ اور ہمارے بارے میں نازل نہیں ہوئیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بنی اسرائیل پر اور ہم پر نازل ہوئیں۔ اور جو نازل ہوا ہم میں اور ان پر تو وہ ہمارے لئے بھی ہے اور ان کے لئے بھی ہے۔ پھر میں علی بن الحسین ؓ کے پاس گیا اور ان آیات کے بارے میں پوچھا فرمایا جو مائدہ میں ہیں اور میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ میں نے ان کے بارے میں سعید بن جبیر اور مقسم سے بھی پوچھا ہے۔ تو انہوں نے پوچھا مقسم نے کیا کہا تو میں نے ان کو بتایا جو اس نے بتایا تھا۔ انہوں نے فرمایا سچ کہا لیکن یہ کفر شرک والا نہیں ہے اور یہ فسق شرک والا فسق نہیں ہے اور یہ ظلم شرک والا ظلم نہیں ہے۔ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے واقعات کے بعد ان کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ سعید بن جبیر نے اپنے بیٹے سے فرمایا تو نے یہ جواب کیسا پایا ؟ میں نے ان کی فضیلت کو پایا تجھ پر اور مقسم پر۔
(27) امام سعید بن منصور نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ان جیسا آدمی نہیں دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ان آیات کے بعد۔
قاضی (جج) بننا خطرناک ہے
(28) امام سعید بن منصور نے ؓ سے روایت کیا کہ ابو درداء ؓ کو قاضی بنا دیا گیا تو میں ان کو صبح کو مبارک بادی دینے کے لئے آیا۔ انہوں نے فرمایا تم مجھے قاضی بننے کی مبارک بادی دیتے ہو حالانکہ مجھے اس گھڑے کے کنارے کھڑا کردیا گیا کہ اس کی گہرائی عدن اور ابین سے بھی دور ہے۔ اگر لوگ جان لیتے کہ قاضی بننے میں کیا ہے تو اس سے اعراض کرتے اور اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے بہت سے اموال کے عوض ذمہ داری لیتے اور اگر لوگ جان لیتے کہ اذان میں کیا (ثواب) ہے تو اس میں رغبت کرتے ہوئے اور اس پر حرص کرتے ہوئے اسے اموال کے بدلے میں حاصل کرتے۔
(29) امام ابن سعد نے یزید بن موھب (رح) سے روایت کیا کہ عثمان نے عبد اللہ بن عمر ؓ کو فرمایا لوگوں کے درمیان فیصلہ کیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں دو کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا۔ اور نہ دو آدمیوں کی امامت کروں گا فرمایا میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا کیونکہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ قاضی تین قسم کے ہیں وہ آدمی جو جہالت کے ساتھ فیصلہ کریں وہ جہنم میں ہے۔ اور وہ آدمی جس نے ظلم کیا ہے اور اس کو مائل کرلیا خواہش نفس نے تو وہ بھی جہنم میں ہوگا۔ اور ایک آدمی نے اجتہاد کیا اور درست فیصلہ کیا۔ تو یہ اس کے لئے کفاف ہوگا۔ یعنی نہ اس کے لئے اجر ہے اور نہ اس پر گناہ ہے۔ پھر (عثمان ؓ) فرمایا بلاشبہ تیرا باپ تو فیصلہ کرتا تھا۔ بلاشبہ میرے باپ کو جب کسی چیز کا اشکال پیش آجاتا تھا تو نبی ﷺ سے پوچھ لیتے تھے۔ اور جب نبی ﷺ کو اشکال ہوتا تو وہ جبرئیل سے پوچھ لیتے اور میں نہیں پاتا کہ جس سے پوچھوں کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا جس نے اللہ سے پناہ مانگی تو اس نے ایسی ذات سے پناہ مانگی جو پناہ مانگے جانے کے لائق ہے۔ عثمان ؓ نے فرمایا کیوں نہیں اور انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ کو عامل بنا دیا جائے پھر انہوں نے ان کو معاف کردیا (اور ان کو قاضی نہیں بنایا) یہ بات کسی اور کو نہ بتانا۔
(30) امام حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں عبد العزیز بن ابی رواد سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں ایک قاضی تھا۔ وہ اپنے اجتہاد سے اس مقام پر پہنچ گیا کہ اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اس کے اور اپنے درمیان ایسی نشانی بنا دے کہ جب وہ حق کے ساتھ فیصلہ نہ کرے وہ اس کو پہچان لے۔ اس سے کہا گیا کہ اپنے گھر میں داخل ہوجا پھر اپنا ہاتھ کو اپنی دیوار کے ساتھ لمبا کر۔ پھر تو دیکھ کہ تیری انگلیاں دیوار میں کہاں تک پہنچتی ہیں تو ایک خط کھینچ دے۔ جب تو مجلس قضا سے کھڑا ہوجائے تو اس خط کی طرف لوٹا آ۔ اپنے ہاتھ کو اس کی طرف لمبا کر جب تو حق پر ہوگا تو بلاشبہ تیرا ہاتھ خط تک پہنچ جائے گا۔ اور اگر تو نے حق میں کوتاہی کی ہوگی تو تیرا ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچے گا۔ اور وہ صبح کو قضا کی طرف جاتا تھا کہ جبکہ وہ مجتہد ہوتا۔ اور وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا تھا۔ جب وہ فارغ ہوتا تو نہ کھاتا، نہ پیتا اور نہ ہی گھر والوں کے لئے کوئی چیز لاتا۔ یہاں تک کہ اس خط کی طرف آتا تھا۔ جب اس کو پہنچ جاتا تو اللہ کی حمد بیان کرتا اور اس چیز تک رسائی حاصل کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے حلال کی ہوتی تھی گھر والے ہوں یا کھانے پینے کی چیز ہو ایک دن جب وہ مجلس قضا میں تھا۔ دو آدمی اس کے پاس اپنی سواری پر آئے اس کے دل میں یہ بات واقع ہوئی کہ دونوں اس کی طرف اپنا جھگڑا لے کر آئے ہیں اور ان میں سے ایک اس کا دوست اور ساتھی تھا۔ اس کے دل میں اس کی محبت کی وجہ سے یہ بات آگئی۔ حق دوست کا ہو اور وہ اپنے دوست کے حق میں فیصلہ کرے۔ جب ان دونوں نے بات کی تو حق اس کے دوست کے خلاف ہوا۔ مگر اس نے اس کے خلاف فیصلہ کردیا۔ جب اپنی مجلس سے اٹھا اور اپنے خط کی طرف گیا جیسے ہر دن جایا کرتا تھا اور خط کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو اچانک وہ خط چھت کی طرف جا چکا تھا اس طرح وہ اس کی طرف نہ پہنچ سکا۔ تو وہ سجدہ میں یہ کہتے ہوئے گرپڑا۔ اے میرے رب، میں نے اس کا ارادہ نہیں کیا تھا اس سے کہا گیا کہ تو نے یہ خیال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تیرے دل کے ظلم پر مطلع نہیں ہوا۔ جب تو نے اس بات کو پسند کیا کہ حق تیرے دوست کے لئے ہو اور اسی کے لئے فیصلہ کرے تو نے اس کا ارادہ کیا اور اس کی پسند کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حق کو اس کے مستحق کی طرف لوٹا دیا۔ اور تو اس کو ناپسند کرتا تھا۔
(31) امام حکیم ترمذی نے لیث ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے انہوں نے ان کو اس حال پر رہنے دیا۔ پھر وہ دونوں آئے تو آپ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا۔ اس بارے میں ان سے پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ دونوں میرے پاس آئے۔ تو میں نے ان میں سے ایک کے لئے جو جذبہ پایا جو اس کے ساتھی کے لئے میں نے نہیں پایا تو میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں ان کے درمیان فیصلہ کروں پھر یہ دونوں آئے تو میں نے کچھ وہی جذبہ پایا۔ جس کو میں نے ناپسند کیا پھر یہ دونوں آئے اور وہ چیز جا چکی تھی تو میں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا۔
Ayah 5:45(1) امام ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب بنو قریظہ نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے رجم کا حکم فرمایا ہے اور وہ اس کو اپنی کتاب میں چھپاتے تھے تو قریظہ اٹھ کھڑے ہوئی اور کہنے لگے اے محمد ﷺ ہمارے اور ہمارے بھائی بنو بضیر کے درمیان فیصلہ کیجئے اور ان کے درمیان ایک قتل کا جھگڑا چل رہا تھا۔ نبی ﷺ کے آنے سے پہلے۔ اور بنو نضیر بنو قریظہ کو اپنی دیتوں سے آدھی دیت دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا بنو قریظہ کا جواب بنو نضیر کے خون کے برابر ہے۔ تو بنو نضیر والے غصہ ہوگئے اور کہنے لگے رجم کے بارے میں ہم آپ کی اطاعت نہیں کرتے۔ اور ہم اپنی حدود کو جاری کریں گے جس پر ہم ہیں۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون (المائدہ 5) اور نازل فرمایا لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس
(2) امام ابن منذر نے ابن جریر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا سے مراد تورات ہے۔
نفس کے بدلے نفس کو قتل کرنا
(3) عبد الرزاق اور ابن منذر نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس یہ حکم ان پر تورات میں لکھا ہوا تھا۔ اور وہ لوگ غلام کے بدلے میں آزاد کو قتل کرتے تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ہم پر یہ فرض کیا گیا ہے کہ نفس کے بدلے نفس ہے۔
(4) امام عبد الرزاق نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ یہ حکم بنی اسرائیل پر فرض کیا گیا ہے اور یہ آیت ہمارے لئے بھی ہیں اور ان کے لئے بھی۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ حکم ان کے لئے خاص ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ان پر اور تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔
(6) امام عبد بن حمید اور ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا سے مراد ہے کہ تورات میں ہے کہ لفظ آیت ان النفس بالنفس پھر فرمایا اس آیت کو نازل کیا گیا جو تم سنتے ہو اہل کتاب کے بارے میں جبکہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور انہوں نے اللہ کی حدود کو معطل کیا۔ اور اس کی کتاب کو چھوڑ دیا اور اس کے رسول کو قتل کیا۔
(7) امام عبد الرزاق حسن ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اس کو قتل کریں گے اور جس نے اس کا عضو کاٹ ڈالے ہم اس کے عضو کاٹ ڈالیں گے۔ تو پھر لوگوں نے یہ بات دہرائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور یہ آیت پڑھی لفظ آیت ان النفس بالنفس الآیۃ
(8) امام بیہقی نے سنن میں ابن شہاب سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس نازل ہوئی تو عورت کے بدلے میں مرد سے قصاص لیا گیا اور ان زخموں پر بھی قصاص لیا گیا جو مرد نے جان بوجھ کر لگائے تھے۔
(9) امام بیہقی نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا آدمی قتل کیا جائے گا عورت کے بدلہ میں جب اس کو قتل کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس
(10) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی اپنی سنن میں لفظ آیت ان النفس بالنفس کے بارے میں فرماتے ہیں جان کو جان کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ لفظ آیت والعین بالعین یعنی آنکھ کے بدلے میں آنکھ پھوڑی جائے گی اور لفظ آیت والانف بالانف یعنی ناک کے بدلے میں ناک کاٹا جائے گا۔ اور لفظ آیت والسن بالسن والجروح قصاص یعنی دانت کے بدلے میں دانت اکھاڑا جائے گا اور زخم کے بدلے میں زخم کا قصاص لیا جائے گا۔ لفظ آیت فمن تصدق یعنی جو اس کو معاف کر دے تو یہ مطلوب کے لئے کفارہ ہے۔
(11) احمد، ابوداؤد، ترمذی، حاکم، (ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا) اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا لفظ آیت وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین یعنی نفس کے نصب اور عین اور مابعد الفاظ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔
دانت کے بدلے دیت دینا
(12) امام ابن سعد، بخاری، احمد، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ربیع ؓ نے ایک بچی کے دو سامنے کے دانت توڑ دیئے۔ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اس (بچی) کے بھائی انس بن نضر نے کہا یا رسول اللہ فلاں کے دو سامنے کے دانت توڑ دیئے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انس اللہ کی کتاب (میں) قصاص ہے۔
(13) امام ابن ابی شیبہ نے عطا ؓ سے روایت کیا کہ زخموں کا قصاص ہے۔ اور امام کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کو مارے یا اس کو قید کرے۔ یہ قصاص کا حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھول کی صورت میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو کوڑے مارنے اور قید کرنے کا حکم فرماتے۔
(14) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ لفظ آیت فمن تصدق بہ میں قول نقل ہے۔
(15) ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا کہ کفارہ مجروح کے لئے ہے۔
(16) امام ابن ابی شیبہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس شخص کے لئے کفارہ ہے جس نے صدقہ کیا۔
(17) امام ابن مردویہ نے انصار میں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فمن تصدق بہ کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا ایک آدمی کسی کا دانت توڑدے یا اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ یا کوئی اور حصہ کاٹ دیا یا اس کے بدن میں زخم کردیا اور پھر وہ اس کو معاف کر دے تو اس زخمی سے اسی کے بقدر اس کی خطاؤں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے زخم کی دیت چوتھائی دیت ہے۔ تو اس کی چوتھائی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اگر ایک تہائی دیت ہے تو ایک تہائی اس کی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اگر ساری دیت ہے تو اس کی ساری خطاؤں کو معاف کردیا جاتا ہے۔
(18) امام بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا ایک آدمی کا دانت توڑ دیا گیا۔ یا اس کا جسم زخمی کردیا گیا۔ تو پھر وہ اس کو معاف کردیتا ہے تو اس کی خطاؤں کو مٹا دیا جائے گا۔ اگر چوتھائی دیت ہے تو چوتھائی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں۔ اگر ایک تہائی دیت ہے تو ایک تہائی خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اگر ساری دیت ہے تو سب کے بدلہ میں سب خطائیں معاف کردی جاتی ہیں۔
(19) امام سعید بن منصور، ابن جریر اور ابن مردویہ نے عدی بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ معاویہ ؓ کے زمانے میں ایک آدمی نے منہ توڑ دیا۔ اس نے اس کو پوری دیت دی تو لوگوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ اس نے دو یتیں دینی چاہیں تو اس نے انکار کردیا۔ اس نے تین دینی چاہیں (تو اس نے انکار کردیا) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ جس نے مکمل یا کچھ قصاص کو معاف کردیا تو اس کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کے اعمال کا کفارہ ہوجائے گا۔
(20) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن جریر نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا قریش کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کا دانت توڑ دیا تو انصارینے قریش کے خلاف سزا کا مطالبہ کیا تو معاویہ ؓ نے فرمایا میں اس کو راضی کروں گا انصاری نے سزا کا اصرار کیا تو معاویہ ؓ نے فرمایا اپنے ساتھی سے نرمی کرو۔ اور ابو داؤد ؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو درداء ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کسی مسلمان کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنیچ جائے۔ پھر وہ اس کو معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کردیتا ہے۔ اور اس سے گناہ معاف کردیتا ہے۔ انصاری نے کہا میں نے معاف کردیا۔
(21) امام بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی کا دانت توڑ دیتا ہے اور اس کو جسم میں زخم کرتا ہے پھر وہ اس کو معاف کردیتا ہے تو اس سے اتنی خطائیں معاف ہوجاتی ہیں جتنی اس کے جسم میں تکلیف پہنچی اگر زخم کی وجہ سے آدھی دیت لازم ہوتی تھی تو آدھے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اگر چوتھائی دیت لازم ہوتی ہے تو چوتھائی گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ اگر ایک تہائی دیت لازم ہوتی ہے تو ایک تہائی گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ اگر ساری دیت لازم ہوتی تھی تو سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
(22) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن جریر نے ابوداؤد ؓ سے روایت کیا فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اس کے جسم میں اور وہ اس کو معاف کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند فرما دیتے ہیں اور اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔ انصاری نے فرمایا میں نے معاف کردیا۔
(23) امام احمد اور نسائی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو آدمی کسی کے جسم میں زخم کر دے اور وہ اس کو معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے برابر اس سے گناہ معاف کردیتے ہیں۔
(24) امام احمد نے صحابہ ؓ سے ایک صحابی ؓ سے روایت کیا جس شخص کو اپنے جسم میں کوئی تکلیف پہنچے پھر وہ اس (تکلیف پہنچانے والے) کو معاف کر دے تو یہ اس کے لئے کفارہ ہوگا۔
(25) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے یونس بن ابی اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجاہد ؓ نے ابواسحق (رح) سے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں پوچھا تو ابو اسحاق (رح) نے کہا اس سے مراد وہ شخص ہے جو معاف کرتا ہے۔ مجاہد نے فرمایا بلکہ وہ زخمی کرنے والا اور گناہ کرنے والا مرد ہے۔
(26) امام فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کفارہ ہے زخمی کرنے والے کے لئے اور معاف کرنے والے کا اجر اللہ پر ہے۔
(27) امام ابن ابی شیبہ نے مجاہد و ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ سے مراد ہے کہ یہ کفارہ ہے زخمی کرنے والے کے لئے۔ اور معاف کرنے والے کا اجر اللہ پر ہے۔
(28) ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کہ یہ کفارہ ہے زخمی کرنے والے کے لئے۔
(29) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کفارہ ہے معاف کرنے والے کے لئے۔
(30) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے بارے میں فرمایا جس نے زخمی کیا اور زخمی کرنے والے کو معاف کردیا گیا تو اب زخمی کرنے والے پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ نہ قصاص ہے، نہ دیت ہے اور نہ ہی زخم کی سزا۔ زخمی کرنے والے کو زخمی نہیں کیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ زخمی ہونے والے نے اس کو معاف کردیا تو یہ کفارہ ہوگا اس کے ظلم سے جس نے ظلم کیا۔
(31) خطیب (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قصاص کو معاف کردیا (یعنی قاتل کو معاف کردیا) تو اس کا ثواب جنت میں ہوگا۔
Ayahs 5:46–47(1) خطیب (رح) نے ابو الشیخ (رح) سے لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد عیسیٰ کو بھیجا۔
(2) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے انبیاء کے آثار کی تابعداری کی یعنی ہم نے انبیاء کے بعد مبعوث کیا۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یوم قفت عیرھم من عیرنا واحتمال الحی فی الصبح فلق
ترجمہ : جس دن اس کے اونٹ ہمارے اونٹوں کے پیچھے چلے اور صبح کے وقت قبیلہ کی مصیبت پھٹنا تھی
(3) امام ابن جریر نے ابن زین (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ سے مراد ہے انجیل والوں میں سے لفظ آیت فاولئک ھم الفسقون یعنی الکاذ بون جھوٹ بولنے والے۔
ابن زید (رح) نے کہا کہ ہر چیز قرآن میں فاسق سے مراد جھوٹا ہے مگر تھوڑا ایسا ہے (جو اس کے خلاف ہے) اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھا لفظ آیت ان جاء کم فاسق بنبا (الحجرات 6) یہاں بھی فاسق سے مراد جھوٹا ہے۔
Ayah 5:48(1) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم کو خبر دی ان اہل کتاب کے بارے میں جو تم سے پہلے تھے اور ان کے برے اعمال کے بارے میں۔ اور ان کے فیصلے کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے بغیر تو اپنے نبی ﷺ اور ایمان والوں کو بلیغ ترین نصیحت فرمائی تاکہ ہر وہ شخص جان لے جو اس حکم سے کسی چیز کا ذمہ دار بنایا گیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ عمل کے سوا اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان جو فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے بغیر بندوں کو نہ کوئی خیر دے سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی تکلیف دور کرسکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ایمان والوں کو بیان فرما دیا اہل کتاب کے (برے) کاموں کو اور ان کے ظلم کو (پھر فرمایا) لفظ آیت وانزلنا الیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔
(2) امام فریابی، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومھیمنا علیہ سے مراد ہے کہ ان کو اس پر امین بنایا گیا۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومھیمنا علیہ میں لفظ آیت المھیمن سے مراد ہے امانت دار اور قرآن اپنے سے پہلی سب کتابوں پر امین ہے۔
(4) امام ابو الشیخ نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومھیمنا علیہ سے مراد ہے کہ وہ (قرآن) امین ہے توراۃ اور انجیل پر یہ ان پر غالب ہے۔ اور وہ اس پر غالب نہیں اور فرمایا محمد ﷺ امین ہیں۔
(5) امام آدم بن ابی ایاس، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت مھیمنا علیہ کے بارے میں فرمایا کہ محمد ﷺ امین (بنائے گئے) ہیں قرآن پر اور لفظ آیت المھیمن سے مراد ہے گواہی دینے والا اپنے سے پہلی کتابوں کی۔
(6) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومھیمنا علیہ سے مراد ہے کہ گواہی دینے والا اپنے سے پہلی کتابوں پر۔
(7) امام ابو الشیخ نے ابوروق (رح) سے روایت کی ہے کہ لفظ آیت ومھیمنا علیہ سے مراد ہے اس کی مخلوق کے اعمال پر گواہی دینے والا
(8) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت فاحکم بینھم بما انزل اللہ یعنی اللہ کی حدود کے ساتھ (ان کے درمیان فیصلہ کیجئے)
(9) عبد بن حمید، سعید بن منصور، الفریابی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت شرعۃ ومنھاجا سے مراد ہے راستہ اور سنت
(10) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ارزق ؓ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت شرعۃ ومنھاجا کے بارے میں فرمایا تو انہوں نے فرمایا کہ شرعہ سے مراد دین ہے اور منھاج سے مراد راستہ ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب کو کہتے ہوئے نہیں سنا۔
لقد نطق المامون الصدق والھدی وبین لنا الاسلام دین اومنھاجا
ترجمہ : تحقیق مامون نے سچی اور ہدایت کی بات کی اور ہمارے لئے بیان کردیا ہے اسلام کو دین اور واضح راستہ کے طور پر
شاعر نے یہاں مامون سے نبی ﷺ کی ذات مراد لی ہے۔
(11) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا کے بارے میں فرمایا دین ایک ہے اور شریعتیں مختلف ہیں۔
(12) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا کے بارے میں فرمایا راستے اور سنتیں مختلف ہیں توراۃ کی شریعت ہے۔ اور انجیل کی شریعت ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے وہ اس سے مختلف ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے لیکن دین ایک ہے جو توحید اور اخلاص ہے جس کو سارے رسول لائے ہیں۔
(13) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن کثیر (رح) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا لفظ آیت ولکن لیبلوکم فی ما اتکم یعنی کتابوں میں سے۔
Ayah 5:49(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کعب بن اسد، عبداللہ بن صوریا اور شاہین بن قیس نے کہا کہ ہم محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں شاید کہ ہم اس کو اس کے دین سے فتنہ میں ڈال دیں یہ لوگ آئے اور کہا اے محمد تو جانتا ہے کہ ہم یہود کے علماء ان کے اشراف اور ان کے سردار ہیں۔ اگر ہم آپ کی تابعداری کرلیں تو یہودی بھی ہماری تابعداری کریں گے۔ اور وہ ہماری مخالفت نہیں کریں گے (لیکن) ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان جھگڑا ہے۔ ہم آپ کی طرف جھگڑا لے کر آئے ہیں ان کے خلاف ہمارے حق پر فیصلہ کرنا تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے۔ آپ ﷺ نے اس سے انکار فرمادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں (یہ آیت) اتاریں لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ سے لے کر لفظ آیت لقوم یوقنون تک۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دیجئے۔ جبکہ پہلے یہ رخصت دی گئی تھی کہ اگر چاہیں تو اس نے اعراض کریں۔ تو اس آیت نے اپنے سے پہلی والی آیت (کے حکم) کو منسوخ کردیا۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس سورة میں سے یہ آیت لفظ آیت فان جاءوک فاحکم بینھم او اعرض عنھم بما انزل اللہ منسوخ ہے۔ فرمایا آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ حکم نازل فرمایا لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ تو رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان کے درمیان اس حکم کے ساتھ فیصلہ کیجئے جو اللہ کی کتاب میں ہے۔
(4) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ کے بارے میں فرمایا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں تو اس سے پہلے کا حکم لفظ آیت فاحکم بینھم اواعرض عنھم منسوخ ہوگیا۔
(5) امام عبدالرزاق نے مصنف میں مسروق (رح) سے روایت کیا کہ اہل کتاب اللہ کی قسم کھایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے لفظ آیت وان احکم بینھم بما انزل اللہ (جبکہ وہ یہ حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب کے درمیان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرو) ۔