5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ قائم کرتے تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل ہوا ہے ان پر ان کے رب کی طرف سے تو ضرور کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے، ان میں ایک جماعت سیدھی راہ اختیار کرنے والی ہے اور ان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو برے کرتوت کرتے ہیں۔

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو انھم اقاموا التورۃ والانجیل کے بارے میں فرمایا یعنی اگر وہ لوگ قائم کرتے تورات کو اور انجیل کو اور ان کے ساتھ عمل کرتے اور لفظ آیت وما انزل الیھم من ربھم یعنی محمد ﷺ پر اور جو کچھ اتارا گیا اس پر (ایمان لائے) تو لفظ آیت لا کلو امن فوقھم یعنی ہم ان پر بارش بھیجتے (اور) لفظ آیت ومن تحت ارجلھم یعنی ان کے لئے زمین سے (اتنی پیداوار) اگتی میرے رزق میں سے جو ان کو کافی ہوجاتی پھر فرمایا لفظ آیت منھم امۃ مقتصدۃ یعنی اہل کتاب میں سے (کچھ لوگ) مسلمان بھی ہیں۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لاکلوا من فوقھم یعنی ہم ان پر آسمان سے بہت بارش برساتے۔ لفظ آیت ومن تحت ارجلھم یعنی زمین میں بھی اس کی برکتیں نکلتیں۔ (3) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں یعنی یہ لوگ کھاتے اس رزق میں سے جو اس سے نازل ہوتا اور اس رزق میں سے جو زمین سے اگتا۔ (4) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا کلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم یعنی آسمان ان کو اپنی برکتیں عطا کرتا ہے اور زمین ان کو اپنی نباتات عطا کرتی (پھر فرمایا) لفظ آیت منھم امۃ مقتصدۃ یعنی (ان میں ایک معتدل امت ہے) جو اللہ کی کتاب پر ایمان لائے پھر اکثر قوم کی خدمت کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت وکثیر منھم ساء ما یعملون (یعنی ان میں سے اکثر برے اعمال کرنے والے ہیں ) (5) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت امۃ مقتصدۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین میں نہ فسق کیا ہیں۔ اور نہ غلو کیا پھر فرمایا کہ غلو سے مراد رغبت ہے۔ اور فسق سے مراد ہے اس سے کوتاہی کرنا۔ (6) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت امۃ مقتصدۃ سے مراد ہے ایمان لانے والی (امت) (7) امام ابن ابی حاتم نے جبیر بن نفیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب علم اٹھالیا جائے گا میں نے عرض کیا یہ کس طرح ہوگا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں تجھے روئے۔ اے نفیر کے بیٹے ! میں تجھ کو اہل مدینہ میں سے زیادہ سمجھدار جانتا تھا کیا تورات اور انجیل یہودی و نصاری کے ہاتھوں میں نہیں ہے ؟ لیکن ان کتابوں نے ان کو کیا فائدہ دیا جب انہوں نے اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ولو انھم اقاموا التورۃ والانجیل کتاب اللہ کی حفاظت عمل سے ہوگی (8) امام احمد، ابن ماجہ نے ابن ابی الجعد کے طریق سے زیاد بن لبید ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ایک چیز کو بیان فرمایا ہو میں نے عرض کیا اور یہ چیز تو ہماری اولادوں کے چلے جانے کے بعد ہی ہوگی۔ یا رسول اللہ اور کس طرح علم چلا جائے گا کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور ہم اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے۔ قیامت کے دن تک (اسی طرح سلسلہ چلتا رہے گا) آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے ابن ام البید تیری ماں تجھ پر روئے میں تجھ کو مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار آدمی سمجھتا تھا کیا یہ یہود اور انصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے ہیں اور ان دونوں میں جو ہے اس سے نفع نہیں اٹھاتے۔ (9) امام ابن مردویہ نے یعقوب بن زید بن طلحہ کے طریق سے زید بن اسلم سے انہوں نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ (پھر نبی ﷺ نے ان کو یہ بات بیان فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اکہتر فرقوں میں بٹ گئی۔ ان میں سے ستر دوزخ میں جائیں گے اور اس میں سے ایک جنت میں جائے گا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت بہتر فرقوں میں بٹ گئی۔ جن میں سے ایک جنت میں ہوگا اور اکہتر دوزخ میں ہوں گے۔ اور تم ان دونوں امتوں پر ایک فرقہ میں بڑھ کر تہتر ہوگے) ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور بہتر فرقے دوزخ میں جائیں گے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ کون ہوں گے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا جماعت یعقوب بن زید (رح) نے فرمایا کہ علی بن ابی طالب ؓ جب یہ حدیث رسول اللہ ﷺ بیان فرماتے تھے تو اس میں قرآن کی یہ آیت تلاوت فرماتے تھے یعنی لفظ آیت ولو ان اھل الکتب امنوا واتقوا سے لے کر لفظ آیت ساء ما یعملون تک اور یہ آیت بھی تلاوت فرماتے لفظ آیت وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون یعنی محمد ﷺ کی امت۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ! آپ پہنچا دیجئے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچایا، اور لوگوں سے اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا، بیشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راہ نہیں دکھائے گا۔

(1) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام دے کر مجھے مبعوث فرمایا میں تنگ پڑگیا۔ میں نے جان لیا کہ لوگ میری تکذیب کریں گے پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں ضرور پیغام کو پہنچاؤں ورنہ وہ مجھ کو عذاب دے گا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب میں اکیلا ہوں میں کس طرح کروں جبکہ لوگ میرے خلاف متفق ہیں تو یہ آیت لفظ آیت وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ (3) امام ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی غدیر خم کے دن علی بن ابی طالب کے بارے میں۔ (4) امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولی المؤمنین (اور فرمایا) لفظ آیت وان کم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس (5) امام ابن ابی حاتم نے عنترہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے علی ؓ سے کہا کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز جو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں پر ظاہر نہ فرمائی ہو تو انہوں نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے ہم کو کسی کالی چیز کا سفید میں سے وارث نہیں بنایا۔ (یعنی ہمیں آباد میں نے اجاڑ کا وارث نہیں بنایا) ۔ واماقولہ تعالیٰ : لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس (6) امام ابن ابی حاتم اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سی آیت آسمان سے آپ پر زیادہ سخت نازل ہوئی آپ نے فرمایا میں حج کے موقعہ پر منی میں تھا۔ اور عرب کے مشرک لوگ اور دوسرے لوگ حج میں جمع تھے۔ مجھ پر جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور یہ آیت لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس پھر فرمایا کہ میں گھاٹی کے پاس کھڑا ہوا اور آواز دی اے لوگو ! کون میری مدد کرے گا اس بات پر کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں جبکہ تمہارے لئے جنت ہوگی۔ اے لوگو کہو لا الہ الا اللہ اور میں تمہاری طرف رسول ہوں۔ اور تم نجات پا جاؤ گے اور تمہارے لئے جنت ہوگی (یہ کہنا تھا) کہ کوئی مرد یا کوئی عورت اور بچہ ایسا نہیں بچا جس نے مجھ پر مٹی اور پتھر نہ پھینکا ہو۔ اور میرے چہرے پر تھوکتے اور کہتے تھے جھوٹ بولنے والا ہے۔ بےدین ہے۔ (اس دوران) ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا اے محمد ! اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اب تیرے لئے لازم ہے کہ تو ان کے لئے بددعا کر جیسے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے بددعا کی تھی ہلاک ہونے کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ ان کے خلاف میری مدد فرما۔ کہ یہ لوگ میری بات سنیں تیری اطاعت میں۔ آپ کے چچا عباس ؓ آئے اور آپ کو ان سے بچایا اور لوگوں کو آپ سے ہٹایا۔ اعمش (رح) نے کہا اس لئے بنو عباس فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ان کے بارے میں یہ آیت لفظ آیت انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء (القصص آیت 56) نازل ہوئی نبی ﷺ نے ابو طالب کے ایمان کی خواہش کی اور اللہ تعالیٰ نے عباس بن عبد المطلب کے ایمان کو چاہا۔ (7) عبد بن حمید، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی چوکیداری کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ آیت لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو آپ نے قبہ مبارک سے سر نکال کر فرمایا اے لوگو ! چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ (8) امام طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عباس ؓ نبی ﷺ کے چچا ان لوگوں میں سے تھے جو آپ کی چوکیداری کرتے تھے۔ جب یہ آیت لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے چوکیداری ترک فرمادی۔ رسول اللہ ﷺ کی پہریداری (9) امام ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب باہر نکلتے تو ابو طالب آپ کے ساتھ اسی آدمی کو بھیجتے جو آپ کی حفاظت کرتے یہاں تک کہ یہ آیت لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی۔ تو ابو طالب آپ کے ساتھ آدمی بھیجنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے میرے چچا ! اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمادی اب کسی کو میرے ساتھ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ (10) امام طبرانی، ابو الشیخ، ابو نعیم سے دلائل میں ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی نگہداشت کی جاتی تھی اور ابو طالب ہر دن آپ کے ساتھ بنو ہاسم میں سے ایک آدمی بھیجتے تھے جو آپ کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا اے میرے چچا اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمادی ہے۔ اب کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ (11) امام ابو نعیم نے دلائل میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہیں سوتے تھے۔ مگر ہم آپ کے اردگر ہوتے تھے۔ کیونکہ ہم کو خوف تھا کہ کوئی اچانک حملہ نہ کردے یہاں تک کہ آیت العصمہ نازل ہوئی۔ یعنی لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس (12) امام طبرانی اور ابن مردویہ نے عصمہ بن مالک خطمی ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی رات کو چوکیداری کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو ہم نے چوکیداری چھوڑ دی۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو انمار کے خلاف جنگ کی۔ تو نخل کے بالائی علاقہ میں ذات الرفاع میں آپ نے پڑاؤ ڈالا اور اس درمیان کہ آپ کنویں پر اپنی ٹانگوں کو لٹکائے ہوئے بیٹھے تھے کہ غورث بن الحرث نے کہا میں محمد ﷺ کو ضرور قتل کروں گا۔ اس کے ساتھیوں نے کہا تو کیسے ان کو قتل کرے گا ؟ اس نے کہا کہ میں اس نے کہوں گا کہ مجھ کو اپنی تلوار عطا کیجئے۔ جب وہ مجھ کو دے دیں گے تو پھر میں ان کو قتل کردوں گا وہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھ کو اپنی تلوار عطا کیجئے میں اس کو سونگھوں گا۔ آپ ﷺ نے اس کو دیدی تو اس کا ہاتھ کانپنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حائل ہوگئے ہیں تیرے اور اس کام کے درمیان جس کا تو ارادہ رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس (14) امام ابن حبان اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں ساتھی ہوتے تھے۔ تو ہم آپ کے لئے بڑے اور سایہ دار درخت کو چھوڑ دیتے تھے۔ آپ اس کے نیچے نزول فرماتے تھے۔ پس ایک دن آپ ایک درخت کے نیچے نازل ہوئی اور اس میں اپنی تلوار کو لٹکا دیا۔ ایک آدمی آیا اس نے تلوار لے لی اور کہنے لگا (اے محمد) مجھ سے آپ کو کون بچائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھ کو تجھ سے بچائیں گے۔ تلوار نیچے رکھ دو تو تلوار کو رکھ دیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس (15) امام احمد نے جعدہ بن خالد بن الصمۃ الجشمی ؓ سے روایت کی نبی ﷺ لے پاس ایک آدمی آیا آپ سے کہا گیا کہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ آپ کو قتل کردے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مجھ سے ڈرا نہیں اگر تو اس کام کا ارادہ کرتا (تب بھی) اللہ تعالیٰ تجھ کو مجھ پر غلبہ عطا نہ کرتا۔ منجانب اللہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت (16) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کے لئے لوگوں کے مقابلہ میں کافی ہے۔ اور آپ کو ان سے بچائیں گے۔ اور حضور ﷺ کو تبلیغ کا حکم فرمایا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ کہ یہ کہا گیا کہ کاش آپ کوئی صاحب (یعنی چوکیدار) رکھ لیتے۔ تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم جب تک میں لوگوں کے درمیان ہوں اللہ تعالیٰ میری نگہبانی کے ذمہ نہیں چھوڑے گا۔ (17) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) لفظ آیت یا یھا الرسول سے لے کر لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس تک نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری چوکیداری (پہرہ داری) نہ کرو۔ بلاشبہ میرا رب میری حفاظت فرمائے گا۔ (18) امام ابن جریر اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن شفیق ؓ سے روایت کیا کہ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کے پیچھے (حفاظت کے لئے) رہتے تھے۔ جب (یہ آیت) لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس نازل ہوئی تو آپ نے باہر نکل کر فرمایا اے لوگو ! اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے میری حفاظت کرلی ہے۔ (19) امام عبدبن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ برابر آپ کی چوکیداری کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس تو چوکیداری چھوڑ دی گئی۔ جب آپ کو اس بات کی خبر دی گئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرے گا۔ (20) محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی منزل پر اترے تو آپ کے صحابہ ایک سایہ دار درخت آپ کے لئے چن لیتے جس کے نیچے آپ قیلولہ فرماتے۔ ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ کی تلوار لے کر لہرانے لگا۔ پھر کہنے لگا کون آپ کو مجھ سے بچائے گا ؟ فرمایا اللہ ! تو اس دیہاتی کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اور اس سے تلوار گر پڑی راوی کہتا ہے کہ پھر اس نے اپنے سر کو درخت سے مارا یہاں تک کہ اس کا دماغ پھٹ گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس (21) امام ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو قریش سے خوف لاحق رہتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاریں لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس تو آپ (زمین پر) چت لیٹ گئے پھر فرمایا جو چاہے مجھے چھوڑ دے یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ دھرائی۔ (22) امام عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے ربیع بن انس ؓ سے فرمایا کہ نبی ﷺ کے اصحاب ان کی حفاظت کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک (الایۃ) تو آپ ﷺ ان کی طرف نکلے اور فرمایا میری چوکیداری نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے میری حفاظت فرمادی ہے۔
Ayahs 5:68–70

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں ہو یہاں تک کہ توریت کو اور انجیل کو اور اس چیز کو قائم کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی اور ضرور ضرور ان میں سے بہت سوں کی سرکشی کو اور کفر کو وہ مصمون زیادہ کردے گا جو آپ کی طرف نازل کیا گیا، سو آپ کافر قوم پر افسوس نہ کیجئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہیں اور فرقہ صابئین اور نصاری ان میں سے جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف ہم نے رسول بھیجے جب بھی کوئی رسول ان کے پاس ایسا حکم لے کر آیا جو ان کی خواہش کے موافق نہیں تھا تو انہوں نے نبیوں کی ایک جماعت کو جھٹلا دیا اور ایک جماعت کو قتل کردیا۔

یہود کا تورات پر یہ عمل نہیں تھا (1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن حارثہ، سلام بن مشکم، مالک بن الصیف اور رافع بن حرملہ آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب اور اس کے دین پر ہے تو تو ایمان لے کر آ جو ہمارے پاس توراۃ میں سے ہے۔ اور تو اس بات کی گواہی دے کہ وہ بھی اللہ کی جانب سے حق ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن تم نے کتنی باتیں نکال لیں اور جو کچھ اس میں ہے تم نے اس کا انکار کردیا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ تم نے اس میں سے چھپایا جس کا تم حکم دیئے گئے تھے کہ لوگ کو بیان کرو میں نے برأت کردی تمہاری نئی باتوں سے انہوں نے کہا ہم تو اسی کو اپنائیں گے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ بلاشبہ ہم ہدایت اور حق پر ہیں۔ ہم تجھ پر ایمان نہیں لاتے اور ہم تیری تابعداری نہیں کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا لفظ آیت قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم سے لے کر لفظ آیت علی القوم الکفرین تک۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انہوں نے گمان کیا کہ کچھ بھی فتنہ نہ ہوگا پھر وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی پھر ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کو دیکھتا ہے جن کو وہ کرتے ہیں۔

(1) امام ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ سے یہود مراد ہیں۔ (2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ میں فتنہ سے بلا مراد ہے۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ سے مراد ہے کہ قوم نے گمان کیا کہ کوئی آزمائش نہ ہوگی پھر فرمایا لفظ آیت فعموا وصموا یعنی جب کبھی بھی ان پر آزمائش آئی تو وہ اس میں پڑگئے اور اس میں ہلاک ہوگئے۔ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ سے مراد ہے کہ انہوں نے گمان کیا کہ وہ کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کئے جائیں گے تو وہ حق سے اندھے ہوگئے۔
Ayahs 5:72–76

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے حالانکہ مسیح نے فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے، بلاشبہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین معبودوں میں سے ایک معبود ہے حالانکہ ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اگر اس بات سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو ضرور ضرور ان لوگوں کو جو ان میں کفر ہی پر جمے رہیں دردناک عذاب پہنچ جائے گا۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں چاہتے، اور اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے۔

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں سچی ہے، وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھ لیجئے ! ہم کیسے ان کے لئے دلائل بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھئے کہ وہ لوگ کہاں الٹے جا رہے ہیں۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتے، اور اللہ تعالیٰ سننے والا، اور جاننے والا ہے۔

(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا واقعی اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی غیب کو نہیں جانتا اس آدمی نے کہا وہ اللہ تھا۔ جب تک اس نے چاہا زمین میں رہا۔ پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ دوسرے آدمی نے کہا ہم عیسیٰ کو جانتے ہیں اور ہم اس کی ماں کو بھی جانتے ہیں کہ وہ (یعنی عیسیٰ ) اس کے بیٹے ہیں۔ تیسرے آدمی نے کہا میں ایسا نہیں کہتا جیسے تم کہتے ہو۔ ہم کو عیسیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اس کی روح ہے اور اس کا حکم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مریم کی طرف القاء کیا ہم تو وہی کہتے ہیں جیسے انہوں نے اپنی ذات کے لئے کہا۔ میں ڈرتا ہوں کہ تم نے بہت ہی ناروا بات کی یہ لوگ (یعنی چاروں آدمی) لوگوں کے پاس آئے ان لوگوں نے ان میں سے ایک آدمی سے پوچھا۔ تو نے کیا کہا ؟ اس نے کہا میں نے کہا وہ اللہ جو زمین میں رہا۔ جب تک اس نے چاہا۔ پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ جب اس نے خیال کیا تو لوگوں میں سے ایک جماعت نے اس کی تابعداری کی۔ اور یہ لوگ نسطور اور یعقوبیہ ہیں۔ پھر چوتھا آدمی نکلا تو لوگوں نے اس سے پوچھا تو نے کیا کہا ؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اس کی روح اور اس کا کلمہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم کی طرف القاء کیا۔ لوگوں میں سے ایک جماعت نے اس کی تابعداری کی۔ محمد بن کعب نے فرمایا ہر جماعت کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ (سورۃ النساء آیت 156) پھر یہ آیت پڑھیں لفظ آیت وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ولو ان اھل الکتب امنوا سے لے کر لفظ آیت منھم امۃ مقتصدۃ وکثیر منھم ساء ما یعملون (المائدہ آیت 66) تک محمد بن کعب ؓ نے فرمایا کہ یہی امت مقتصدہ ہے جن لوگوں نے کہا کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ ہے اس کا کلمہ ہے اور اس کی روح ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہ السلام) کی طرف القاء کیا۔ نصاری تین خدا مانتے ہیں (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ کے بارے میں فرمایا کہ نصاری کہتے ہیں لفظ آیت ان اللہ ثالث ثلثۃ (یعنی تین خداؤں میں سے ایک ہے) اور وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ّ (3) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تین فرقوں میں بٹ گئے۔ ایک فرقہ نے کہا وہ اللہ ہے دوسرے فرقہ نے کہا وہ اللہ کا بیٹا ہے، تیسرے فرقہ نے کہا وہ اللہ کا بندہ اور اس کی روح ہے اور یہی فرقہ معتدل ہے۔ اور اہل کتاب میں سے یہی لوگ مسلمان ہیں (4) امام ابن ابی اور ابن ابی حاکم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ کے بارے میں فرمایا کہ نصاری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ وہ عیسیٰ اور اس کی ماں ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (المائدہ آیت 116) ابن ابی حاتم نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن بلال دمشقی (رح) سے اور احمد بن ابی الحواری (رح) نے بیان کیا کہ ابو سلیمان دارانی (رح) نے فرمایا اے احمد، اللہ کی قسم ان کی زبانوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی حرکت دیتے ہیں ان کے اس قول لفظ آیت ثالث ثلثۃ (کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس سب کی زبانوں کو گونگا کردیتے۔
Ayahs 5:77–78

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تم اپنے دین میں ناحق کا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے گمراہ ہوچکے ہیں اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے سے بہک گئے۔

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جو لوگ کافر تھے وہ ملعون ہوئے داؤد کی زبان پر اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان پر، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرتے تھے۔

(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نئی نئی باتیں نہ گھڑ لیا کرو۔ (2) امام ابن ابی حاتم سے روایت ہے کہ ابن زید (رح) نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ غلو سے مراد ہے حق کو چھوڑ دینا۔ انہوں نے جو غلبہ کیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کو تجویز کرتے تھے۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن ابس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی تھا جو لوگوں کا حاکم بن گیا اس نے ایک زمانے تک کتاب وسنت پر عمل کیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور وہ کہنے لگا۔ تو اس بات اور اس پر عمل کر رہا ہے جس پر پہلے بھی عمل ہوتا رہا ہے۔ اور اس لئے تیری تعریف نہیں کی جاتی۔ لیکن تو اپنے پاس سے کوئی نیا کام شروع کر۔ اور اس کی طرف بلا اور اس پر لوگوں کو مجبور کر۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک عرصہ ایسا کرنے کے بعد اسے یاد آیا اور اس نے مرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی بادشاہی اور اپنے ملک کو چھوڑ دیا اور اس نے عبادت کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ کئی دن اپنی عبادت میں لگا رہا۔ پھر اس کے پاس کوئی آیا اور اس سے کہا گیا اگر تو توبہ کرے اپنے گناہوں سے جو تو نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان کئے قریب ہے کہ تیری توبہ قبول کرلی جائے۔ لیکن فلاں اور فلاں تیرے راستے (یعنی تیرے دین) میں گمراہ ہوگئے یہاں تک کہ وہ دنیا سے چلے گئے۔ (اس حال میں) کہ وہ گمراہی پر تھے (اب تیرے لئے ان کی ہدایت کیسی ہوگی) اس لئے تیرے لئے کبھی توبہ نہیں ہے۔ ہم نے اس میں اور اس جیسے کے بارے میں یہ آیت سنی ہے لفظ آیت قل یاھل الکتب لا تغلوا فی دینکم غیر الحق ولا تتبعوا اھواء قوم قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا وضلوا عن سواء السبیل کے (4) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تتبعوا اھواء قوم قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا کے بارے میں فرمایا کہ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے پیروکاروں کو بھی گمراہ کیا۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت عن سواء السبیل یعنی سیدھے راستے سے واللہ اعلم
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو برے کام سے نہیں روکتے تھے جو انہوں نے کیا، واقعۃ برے تھے وہ افعال جو وہ کرتے تھے۔

(1) امام عبد الرزاق، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد، الترمذی (نے اس کو حسن بھی کہا ہے) ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ (اے آدمی) اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دے جو (برا) کام کررہا ہے۔ یہ تیرے لئے حلال نہیں۔ پھر اس سے اگلے دن ملاقات کرتا تھا تو اس کا یہ کردار اسے نہ روکتا تھا۔ اس کے ساتھ سے اس کے ساتھ اور اس کے ساتھ بیٹھنے سے جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے ٹکڑا دیئے (یعنی ایک جیسا کردیا) اسی کو فرمایا لفظ آیت لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد (سے لے کر) لفظ آیت فاسقون تک پھر فرمایا ہرگز نہیں اللہ کی قسم تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور ضرور برائی سے روکتے رہو اور ظالم کے ہاتھوں کو ضرور پکڑتے رہو اور حق پر آمادہ کرتے رہو۔ (2) امام عبد بن حمید، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل جب کوئی برا کام کرتے تھے تو ان کے علماء ان کو سرزنش کرتے ہوئے ان کو روکتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے۔ گویا کہ گزشتہ روز انہوں نے کوئی برائی نہ کی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس طرز عمل کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کے دلوں کو بعض سے ٹکرا دیا (یعنی ایک جیسا کردیا) اور انبیاء میں سے ایک نبی کی زبان کے ساتھ ان پر لعنت کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو، برائی سے روکتے رہو اور تم ضرور حق پر آمادہ کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے بعض کے دلوں کو بعض سے ٹکرا دے گا۔ (یعنی ایک جیسا کردیں گے) اور ضرور تم پر لعنت کریں گے جیسے ان پر لعنت کی۔ دین پر قائم رہنے کی تاکید (3) امام عبد بن حمید نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عطیہ کو لے لو جب تک وہ عطیہ ہے جب تمہارے دین سے دور کرنے کے لئے رشوت ہو تو اس کو مت لو۔ اور ہرگز تم اس کو نہ چھوڑو گے کہ تم کو روکے گا اس سے فقرا اور خوف۔ یاجوج کی اولاد آچکی ہے۔ اور اسلام کی چکی عنقریب گھومے گی۔ جہاں قرآن گھومے تم بھی اس طرف گھوم جاؤ۔ (یعنی اس پر عمل کرو) قریب ہے کہ بادشاہ اور قرآن آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑیں اور مختلف حکم دیں۔ عنقریب تم پر ایسے بادشاہ ہوں گے جو تمہارے لئے ایک حکم سے فیصلہ کریں گے جب کہ ان کے لئے اور حکم ہوگا۔ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تم کو گمراہ کردیں گے۔ اور اگر ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تم کو قتل کردیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ہم ان کو پالیں تو ہم کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی اطاعت میں موت بہتر ہے گناہ کی زندگی سے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیل میں جو نقص پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ وہ ان کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور ان کو برائی سے روکتے تھے سرزنش کرتے ہوئے پھر جب ان میں سے ایک اپنے دوست سے ملتا تھا جس پر کل اس نے عیب لگایا تھا تو اس کے ساتھ کھاتا اور پیتا تھا اس طرح گویا کہ اس پر عیب ہی نہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرنے والے اور حد سے گزرنے والے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تم پر ضرور برے لوگوں کو مسلط کردے گا۔ پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے تو تمہاری دعائیں قبول نہ کی جائیں گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو، برائی سے روکتے رہو، اور ظالم کے ہاتھ پکڑے رہو۔ اور حق پر آمادہ کرو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے بعض کے دلوں کو بعض سے ٹکرا دے گا۔ (یعنی ایک جیسا کردیں گے) ۔ (4) ابن راھویہ اور بخاری نے وحدانیات میں ابن السکن، ابن منذر، الباوردی سے معرفۃ الصحابہ میں، الطبرانی، ابو نعیم، ابن مردویہ نے ابن ابزی (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے اللہ کی حمد اور تعریف بیان فرمائی پھر مسلمانوں کی جماعتوں کا ذکر فرمایا اور ان کی اچھی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ جو اپنے ہمسایوں کو تعلیم نہیں دیتے ان کو فقہ نہیں سکھاتے اور ان کو نہیں سمجھاتے نہ ان کو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور نہ برائی سے روکتے ہیں۔ اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو نہ اپنے پڑوسیوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نہ ان سے سمجھ حاصل کرتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دو یا ان سے سیکھو یا ان سے سمجھ حاصل کرو ورنہ میں دنیا میں اسے جلدی سزا دوں گا پھر آپ منبر سے نیچے اترے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نے کہا کہ آپ نے اس سے کون لوگ مراد لئے ہیں، پھر انہوں نے کہا کہ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد اشعری ہیں۔ یعنی ان کے فقہا اور علماء ان کے پڑوسی چشموں والے ظالم اور جاہل ہیں اشعر میں سے ایک جماعت جمع ہو کر نبی ﷺ کے پاس آئی۔ اور عرض کیا مسلمانوں میں سے ایک جماعت کے بارے میں آپ نے خیر کے ساتھ ذکر فرمایا جبکہ ہمارا ذکر برائی کے ساتھ کیا۔ ہمارا کیا قصور ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دو ان کو دین سمجھاؤ ان کو نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو ورنہ ان کو دنیا میں ہی جلدی سزا دوں گا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ، ہم کو ایک سال کی مہلت دیں ایک سال میں ہم تعلیم نہ دیں اور وہ نہ سیکھیں تو ہم کو ایک اور سال کی مہلت دیں پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم ذلک بما عصوا وکانو یعتدون۔ کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد یعنی زبور (میں ان پر لعنت کی گئی) اور عیسیٰ یعنی انجیل میں (ان پر لعنت کی گئی) (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لعن الذین کفروا کے بارے میں فرمایا کہ ان پر یہ نبی کی زبان میں لعنت کی گئی اور محمد ﷺ کے زمانہ میں قرآن میں ان پر لعنت کی گئی۔ (7) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لعن الذین کفروا کے بارے میں فرمایا کہ نبی کے بعد بھی انہوں نے اس فاسقوں کے ساتھ میل جول رکھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے ساتھ ٹکڑا دیا۔ اور وہ لعنت کیئے گئے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر۔ (8) امام ابو عبیدہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو مالک غفاری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اسی آیت کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ داؤد (علیہ السلام) کی زبان پر لعنت کئے گئے۔ اور ان کو بندر بنا دیا گیا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لعنت کئے گئے اور ان کو سور بنا دیا گیا۔ (9) امام عبد بن حمیدا ور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ قتادہ ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے داؤد کی زبان پر اس کے زمانہ میں ان پر لعنت کی اور ان کو ذلیل بندر بنا دیا۔ اور انجیل میں عیسیٰ کی زبان پر ان پر لعنت کی گئی اور ان کو سور بنا دیا گیا۔ (10) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون پوچھا کہ ان میں سے بعض کا کیا قصور تھا انہوں نے کہا یعنی وہ لوگ اس برائی کو نہ روکتے تھے جن کو وہ لوگ کرتے تھے۔ (11) امام ابو الشیخ نے ابو عمرو بن عاص سے روایت کیا ابن زبیر (رح) نے کعب ؓ سے پوچھا اللہ تعالیٰ کی کیا کوئی نشانی ہوتی ہے بندوں میں جب وہ ان پر ناراض ہوتے ہیں۔ فرمایا ہاں۔ ان کو ذلیل کرتے ہیں۔ اس حال میں کہ نہ وہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور نہ برائی سے روکتے ہیں۔ اور قرآن میں ہے لفظ آیت لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل (12) امام دیلمی نے مسند الفردوس میں ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ بنو اسرائیل نے تینتالیس 43 نبیوں کو دن کے اول حصہ میں قتل کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ایک سو بارہ بندے اٹھے۔ انہوں نے ان کو نیکی کا حکم دیا اور ان کو برائی سے روکا تو دن کے آخری حصے میں ان سب کو قتل کردیا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا (اس طرح) ذکر فرمایا کہ لفظ آیت لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل (الایہ) ۔ نہی عن المنکر کے ترک پر سخت عذاب ہوگا (13) امام احمد، ترمذی، (انہوں نے اس کو حسن بھی کہا ہے) اور امام بیہقی نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو۔ اور برائی سے روکتے رہو۔ یا عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے عذاب کو بھیج دیں گے۔ پھر تم دعا کرو گے تو قبول نہ ہوگی۔ (14) امام ابن ماجہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو۔ پہلے اس کے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔ (15) امام مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو چاہئے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے (ان کو سمجھائے) اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو دل سے برا مانے اور یہ ضعیف ایمان ہے۔ (16) امام احمد نے عدی بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو عذاب نہیں دیتے۔ خاص لوگوں کے علم کی وجہ سے یہاں تک کہ جب وہ برے کام کو اپنے درمیان سے دیکھیں حالانکہ اس کو روکنے پر قادر دیکھیں تاکہ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ عام اور خاص کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔ (17) امام خطیب نے مالک کی روایت میں ابو سلمہ سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عام لوگوں کو خاص لوگوں کی وجہ سے عذاب نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وہ برائی کو اپنے درمیان دیکھیں۔ حالانکہ وہ اس بات پر قادر ہوں کہ ان کو روک دیں مگر وہ ان لوگوں کو نہیں روکتے۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے عام اور خاص سب کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔ (18) امام خطیب نے روایت مالک میں ابو سلمہ ؓ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میری امت میں سے کچھ لوگ اپنی قبروں سے بندر اور سور کی شکل میں نکلیں گے۔ انہوں نے نافرمانی کے ساتھ نرمی کی ہوگی اور ان کو روکنے سے خاموشی اختیار کی ہوگی۔ جبکہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے۔ (19) امام حکیم ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب میری امت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی۔ تو اسلام کی ہیبت ان کے قلوب سے نکل جائے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہوجائے گی۔ اور جب آپس میں گالی گلوچ اختیار کریں گے۔ تو اللہ جل شانہ کی نگاہ میں گرجائے گی۔ (20) امام طبرانی ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا کہا یا رسول اللہ ! کیا بستی والے ہلاک ہوں گے۔ جب ان میں نیک لوگ ہوں۔ فرمایا ہاں ! کہا گیا یا رسول اللہ ! (یہ کیسے ہوگا) فرمایا ان کی لاپرواہی اللہ کی نافرمانی میں اور خاموشی (ان کے لئے ہلاکت کا باعث بنے گی) ۔ (21) امام طبرانی نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بنی اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تھا تو منع کرنے والا بطور تعذیر اسے روکتا۔ جب اگلا دن آتا تھا تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا اور پیتا گویا اس نے کل کو کوئی برائی دیکھی ہی نہیں تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کو دیکھا تو اس کے بعض کے دلوں کو بعض کے ساتھ ٹکڑا دیا اور داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ (فرمایا) لفظ آیت ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون اور قسم سے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو اور برائی کرنے والے کا ہاتھ پکڑتے رہو۔ اور حق پر آمادہ کرو اللہ تعالیٰ ضرور تمہارے بعض کے دلوں کو بعض کے ساتھ ٹکڑا دیں گے۔ (یعنی دشمنی پیدا کریں گے) اور تم پر لعنت کریں گے جیسے ان پر لعنت کی۔ (22) امام دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورتیں عورتوں سے اور مرد مردوں سے خواہش پوری کرنے لگے۔ تو ان کو خوشخبری دے دیں سرخ ہوا کی مشرق کی طرف سے بعض کو مسخ کر دے گی اور بعض کو دھنسا دے گی۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا کہ ان لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا واقعۃ برے ہیں وہ افعال جو ان کی جانوں نے آگے بھیجے یہ کہ اللہ ان پر ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں۔

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت لبئس ما قدمت لھم انفسھم سے مراد ہے کہ ان کے نفس ان کو حکم دیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور خرائطی نے مساوی الاخلاق میں، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں (انہوں نے اس کو صعیف بھی کہا ہے) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت تم زنا سے بچو اس سے چھ عذاب ہیں تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ جو دنیا میں ہیں وہ یہ ہیں۔ اس کی طرف (بدکاری کا) اچھا ہونا دائمی فقر اور عمر کا کم ہونا اور تین آخرت میں یہ ہیں۔ اللہ کا ناراض ہونا۔ حساب کا لمبا ہونا اور دوزخ میں ہمیشہ رہنا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی۔ لفظ آیت لبئس ما قدمت لھم انفسھم ان سخط اللہ علیھم وفی العذاب ھم خلدون
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور اس پر جو اتارا گیا ہے نبی کی طرف تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن بہت سے لوگ ان میں سے فرمانبرداری سے خارج ہیں۔

(1) مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ قول نقل کیا ہے کہ لفظ آیت ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء ولکن کثیرا منھم فسقون کا مصداق منافق ہیں۔