5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ جاہلیت کے حکم کو چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلہ کرنے والا ان لوگوں کے لئے کون ہے جو یقین کرتے ہیں۔

(1) امام عبد بن حمید نے، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون سے یہودی مراد ہیں۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے مقتول کے بارے میں ہے۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں طاقت والا کمزور کو اور غالب ذلیل کو کھا جاتا ہے۔ فرمایا لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون (کیا پھر یہ لوگ دور جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) (3) امام بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ آدمی ہے وہ جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اپناتا ہے۔ اور کسی آدمی کو ناحق تلاش کرتا ہے تاکہ اس کا خون بہا دے۔ (4) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا حکم دو ہیں ایک حکم اللہ کا ہے اور دوسرا حکم جاہلیت کا ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون (5) امام ابن ابی حاتم نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت کو عالمیت کہا جاتا یہاں تک ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں اس طرح تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے ذکر کو نازل فرمایا۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے تو بلاشبہ وہ ان میں سے ہے، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

یہود و نصاری سے دوستی جائز نہیں (1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے عبادہ بن الولید (رح) سے روایت کیا ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ نے فرمایا جب بنو قینقاع نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی تو عبد اللہ بن سلول نے ان کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا۔ اور ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ عبادہ بن صامت ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت کرتے ہوئے ان کی حمایت سے برأت ظاہر کی۔ عوف بن خزرج کا ایک معاہدہ تھا ان کے ساتھ ان کے معاہدوں میں سے اسی معاہدے کی طرح جو ان کا معاہدہ عبداللہ بن ابی سے تھا اس نے بھی (وہ معاہدہ) ان سے اتار دیا (یعنی ختم کردیا) رسول اللہ ﷺ کی طرف اور کہا میں اللہ اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی لگاتا ہوں۔ اور میں ان کفار اور ان کی دوستی سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ اس صحابی اور عبد اللہ بن ابی کے بارے میں (سورۃ المائدہ) میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض سے لے کر لفظ آیت فان حزب اللہ ھم الغلبون تک۔ (2) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن ابی سلول نے کہا کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر میرا دونوں سے معاہدہ ہے۔ اور مجھے زمانہ کی گردش کا خوف ہے۔ اور (یہ کہہ کر) مرتد ہو کر کافر بن گیا۔ اور عبادہ بن صامت ؓ نے کہا میں قریظہ اور نضیر کی دوستی سے اللہ کی طرف برأت کا اظہار کرتا ہوں اور میں اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی لگاتا ہوں۔ تو (یہ آیت) اللہ تعالیٰ نے اتاری۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء سے لے کر لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم تک یعنی جن کے دلوں میں مرض ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم رکعون یعنی عبادہ بن صامت اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پھر فرمایا لفظ آیت ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء ولکن کثیرا منھم فسقون (3) امام ان مردویہ نے عبادہ بن الولید سے روایت کیا کہ وہ اپنے دادا اور والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت ؓ نے فرمایا یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو یہود کے معاہدے سے آپ کی خدمت میں، میں نے برأت ظاہر کی اور میں نے ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین سے دوستی کی۔ (4) امام ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے عطیہ بن سعد (رح) سے روایت کیا ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ بنو الحارث بن الخرزج میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہودیوں میں سے میری بہت دوستیاں ہیں۔ میں یہود کی دوستی سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بری ہوتا ہوں۔ اور میں اللہ اور اس کے رسول سے دوستی لگاتا ہوں۔ عبداللہ بن ابی نے کہا میں ایک ایسا آدمی ہوں جو زمانہ کی گردش سے ڈرتا ہوں۔ میں اس دوستیوں سے بری نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی سے فرمایا اے ابا حباب بتاؤ تو سہی وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے تو نے عبادہ بن صامت کے برعکس یہودیوں کی دوستی کو ترجیح دی ہے وہ تجھے تو ملی ہے عبادہ کو نہیں ملی فرمایا پھر آگے بڑھو۔ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض سے لے کر لفظ آیت واللہ یعصمک من الناس تک۔ (5) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا جب احد کا واقعہ ہوا تو لوگوں میں سے ایک جماعت پر بہت سخت گزرا۔ اور وہ خوف کرنے لگے کہ ان پر کافر غالب آجائیں گے۔ ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا میں فلاں یہودی کے پاس چلا جاتا ہوں۔ اس سے امان لیتا ہوں اور اس کے ساتھ یہودی بن جاتا ہوں۔ کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ یہودیوں پر احوال بدل نہ جائیں۔ دوسرے نے کہا میں فلاں نصرانی کے ساتھ چلا جاتا ہوں۔ جو شام کی زمین میں ہے۔ میں اس سے امان لیتا ہوں اور اس کے ساتھ نصرانی ہوجاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں (یہ آیت) اتاری اور ان کو منع فرمایا یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض (6) امام ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض (یہ آیت) بنو قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے دھوکہ کیا اور اس معاہدہ کو توڑ دیا جو ان کے اور رسول اللہ کے درمیان تھا جو خط انہوں نے ابو سفیان بن حرب کی طرف لکھا اس میں آپ نے ابوسفیان اور قریش کو دعوت دی تھی تاکہ وہ لوگ ان کے قلعوں میں داخل ہوجائیں۔ نبی ﷺ نے ابو لبابہ بن المنذر کو ان کی طرف بھیجا تاکہ ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار کرلے آئیں۔ جب انہوں نے نیچے اترنے میں ان کی اطاعت کی۔ اور انہوں نے اپنے حلق کی طرف ذبح ہونے کا اشارہ کیا۔ اور طلحہ اور زبیر ؓ دونوں نصاری اور اہل شام کی طرف خط و کتابت کرتے اور مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بدحالی اور فاقہ سے ڈرتے تھے۔ انہوں نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودی کے ساتھ عہد و پیمان کرتے۔ نبی ﷺ کی خبریں ان تک پہنچاتے، ان کے پاس قرض اور نفع کا مطالبہ کرنے تو اس سے منع کردیا گیا۔ (7) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا بنو تغلب کے ذبائح میں سے کھاؤ اور ان کی عورتوں سے نکاح کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم اگر یہ ولایت کے لحاظ سے ان میں سے ہوتے تو یہ ان میں سے ہوتے۔ (8) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ یہ ذبائح کے بارے میں ہے جو شخص کسی قوم کے دین میں داخل ہوگا تو وہ ان میں سے ہوگا۔ نصرانیوں سے نفرت کا اظہار (9) امام ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں عیاض (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ابو موسیٰ اشعری کو حکم فرمایا کہ ان کے پاس سب حساب بھیج دے جو لیا گیا اور جو دیا گیا ہے ایک سال میں۔ ان کا کاتب نصرانی تھا، وہ آپ کی طرف لے آیا۔ حضرت عمر ؓ دیکھ کر خوش ہوئے فرمایا یہ تو بہت اچھا ہے (پھر اس سے فرمایا) کیا تو مسجد میں وہ خط پڑھے گا جو شام سے آیا ہے۔ ابو موسیٰ نے کہا مسجد میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا عمر ؓ نے فرمایا کیا وہ جنبی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ وہ نصرانی ہے۔ تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارتے ہوئے فرمایا اس کو نکال دو ۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض (10) امام عبد بن حمید نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا تم میں سے ہر آدمی کو اس چیز سے بچنا چاہئے کہ وہ یہودی یا نصرانی ہوجائے جبکہ اسے احساس بھی نہ ہو (پھر یہ آیت) تلاوت کی لفظ آیت ومن یتولھم منکم فانہ منھم
Ayahs 5:52–53

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

سو آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دل میں مرض ہے کہ دوڑ کر ان میں گھسے جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ ہم پر کوئی گردش نہ آجائے، سو قریب ہے کہ اللہ فتح کو لے آئے گا یا اپنے پاس سے کسی اور چیز کو۔ پھر اس بات پر نادم ہوں گے جو انہوں نے اپنے نفسوں میں چھپائی۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور اہل ایمان یوں کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خوب مضبوطی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھائیں کہ وہ ضرور تمہارے ساتھ ہیں ان کے اعمال اکارت ہوگئے جس کی وجہ سے نقصان میں پڑنے والے ہوگئے۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض سے مراد عبد اللہ بن ابی جیسے لوگ ہیں۔ (اور فرمایا) لفظ آیت یسارعون یعنی ان کی دوستی میں جلدی کرتے ہیں۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو یہودیوں سے نرم برتاؤ کرتے اور ان کی طرف سے جھگڑتے ہیں۔ جلدی کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان ہاں کے دودھ پلاتے ہیں۔ لفظ آیت یقولون نخشی وہ کہتے ہیں کی ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کبھی حالات یہودیوں کے حق میں ہوں۔ لفظ آیت فعسی اللہ ان یاتی بالفتح قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح کو لے آئیں عام لوگوں پر۔ لفظ آیت او امر من عندہ خاص کر منافقین کے لئے (کہ ان کے پوشیدہ راز ظاہر کردیں) لفظ آیت فیصبحوا یعنی لفظ آیت منافقون علی ما اسررا فی انفسھم جو یہودیوں کے بارے میں اپنی محبت چھپاتے ہوں گے۔ لفظ آیت ندمین اس پر نادم ہوں۔ (3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض میں مرض سے مراد شک ہے۔ لفظ آیت یقولون نخشی ان تصیبنا دائرۃ میں دائرہ سے مراد ہے مشرکین کا غلبہ ہوجائے ان (مسلمان) پر لفظ آیت فعسی اللہ ان یاتی بالفتح یعنی فتح مکہ لفظ آیت او امر من عندہ میں امر سے جزیہ مراد ہے۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن زید اور ابو الشیخ نے قتادہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض سے مراد ہے کہ منافقین میں سے کچھ لوگ یہودیوں سے دوستی لگاتے تھے اور مسلمانوں کو چھوڑ کر یہودیوں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فعسی اللہ ان یاتی بالفتح یعنی فیصلہ (آجائے فتح کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے) لفظ آیت او امر من عندہ فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسھم ندمین (یا کوئی اور خاص بات اپنی طرف سے) پھر یہ منافق اپنے پوشیدہ دلی خیالات پر پیشمان ہوں گے۔ (5) امام ابن سعد، سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے عمرو (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن الزبیر ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا۔ لفظ آیت فعسی اللہ ان یاتی بالفتح او امر من عندہ فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسھم من موادتھم الیھود ومن غمھم الاسلام واھلہ ندمین یعنی ان کے دل چھپائے ہوئے ہیں ان کی دوستیوں کو یہود سے اور ان کا غم اسلام سے اور مسلمانوں سے (ان کے ظاہر ہونے پر) جو لوگ نادم ہوں گے۔ (6) سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے عمرو (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ابن زبیر ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت فعسی اللہ ان یاتی بالفتح او امر من عندہ فیصبحوا الفساق علی ما اسروا فی انفسھم ندمین عمرو (رح) نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ یہ ان کی قرأت تھی یا انہوں نے تفسیر کی۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے سو عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو پیدا فرما دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ وہ مسلمانوں پر نرم دل ہوں گے اور کافروں پر زبردست ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے۔

مرتدین سے قتال (1) امام عبد بن حمید، ابن جریر نے ابن منذر، ابو الشیخ، بیہقی اور ابن عساکر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ لوگوں میں عنقریب مرتد ہوں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دی تو عام عرب اسلام سے مرتد ہوگئے سوائے تین مسجدوں کے اہل مدینہ اہل جواثی (قبیلہ) عبدالقیس میں سے اور مرتد ہونے والوں نے کہا ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ اللہ کی قسم وہ ہمارے مالوں کو غضب کرنا چاہتا ہے۔ اس بارے میں ابوبکر ؓ سے بات کی گئی تاکہ آپ اس نے درگزر کریں اور ان سے کہا گیا کہ یہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمت کو سمجھ جائیں گے۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں دو ایسی چیزوں میں جدائی نہیں کروں گا جن کو اللہ تعالیٰ نے جمع فرمایا۔ اللہ کی قسم اگر انہوں نے ایک رسی کو بھی روک لیا ان چیزوں میں سے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے فرض کیا ہو تو میں ضرور ان سے لڑوں گا اس پر تو اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کے ساتھ جماعتیں بھیج دیئے۔ وہ ان سے لڑے یہاں تک کہ انہوں نے زکوٰۃ کا اقرار کرلیا۔ قتادہ ؓ نے فرمایا ہم یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ یہ آیت ابوبکر اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ آیت کے آخر تک۔ (2) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ سے ابوبکر اور ان کے اصحاب مراد ہیں جب عرب کے لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے تو ابوبکر اور اس کے اصحاب نے جہاد کیا یہاں تک کہ ان کو اسلام کی طرف لوٹا دیا۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، خیثمہ الاتراب لیسی نے فضائل الصحابہ میں اور بیہقی نے دلائل میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے عرب میں سے فرار ہونے والوں کے ساتھ قتل کیا رسول اللہ ﷺ کے بعد اور وہ ابوبکر اور آپ کے ساتھی ہیں۔ (4) امام ابن جریر نے شریح بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ جب لفظ آیت یا یھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ نازل ہوئی تو عمر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ کیا اس سے مراد میں اور میری قوم ہوگی۔ فرمایا بلکہ یہ اور اس کی قوم ہوگی یعنی ابو موسیٰ اشعری۔ (5) امام ابن سعد اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید، حکیم ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، الطبرانی، ابن مردویہ، حاکم (نے اس کی صحیح بھی کہا ہے) اور امام بیہقی نے دلائل میں عیاض اشعری ؓ سے روایت کیا جب (یہ آیت) لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد اس کی قوم ہے۔ اور ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ فرمایا۔ (6) ابو الشیخ، ابن مردویہ اور حاکم نے اپنی جمع لحدیث شعبہ والبیہقی میں لفظ آیت یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ تیری قوم ہے اے ابوموسیٰ یعنی یمن والے۔ (7) ابن ابی حاتم اور حاکم، ابو الشیخ طبرانی نے الاسط میں اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لفظ آیت یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ قوم ہے اہل یمن سے کندہ قبیلہ ہے جو سکون میں ہے پھر تحسیب میں سے ہے۔ (8) بخاری نے تاریخ میں ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ کے بارے میں فرمایا وہ اہل یمن میں سے ایک قوم ہے پھر کندہ جو سکون سے تعلق رکھے۔ (9) امام ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ سے قادسیہ والے مراد ہیں۔ (10) امام بخاری نے قاسم بن مخیمرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عمر ؓ لے پاس آیا انہوں نے مجھے مرحبا کہا پھر (یہ آیت) تلاوت کی لفظ آیت من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ پھر میرے کندھے پر مار کر فرمایا میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ وہ غم میں سے یعنی یمن والے ہوں گے تین مرتبہ فرمایا۔ (11) امام ابو الشیخ نے تاریخ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ سے قوم سبا مراد ہے۔ مرتد ہونے والوں کو دھمکی (12) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ میں وعید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ بلاشبہ جو شخص تم میں سے مرتد ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ بہتر افراد لے آئے گا۔ اور لفظ آیت اذلۃ سے مراد ہے (آپس میں) رحم کرنے والے ہوں گے۔ (13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اذلۃ علی المؤمنین سے مراد ہے نرمی کرنے والے اپنی دین والوں پر لفظ آیت اعزۃ علی الکفرین یعنی سختی کرنے والے ان لوگوں پر جو ان کی مخالفت کرتے ہیں ان کے دین میں۔ (14) امام ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اذلۃ علی المؤمنین آپس میں رحم کرنے والے لفظ آیت اعزۃ علی الکفرین یعنی کافروں پر سختی کرنے والے اور فرمایا لفظ آیت یجا ھدون فی سبیل اللہ یعنی (دشمن سے) جنگ کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (15) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی جب وفات ہوگئی تو عرب کے کئی قبائل مرتد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کو بھیجا اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگاروں کے ساتھ سو انہوں نے قتال کیا یہاں تک کہ ان کو اسلام کی طرف لوٹا دیا یہ تفسیر ہے اس آیت کی۔ قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولا یخافون لومۃ لائم (16) امام ابن منذر، ابن ابی شیبہ، احمد، الطبرانی اور بیہقی نے شعب میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سات چیزوں کا حکم فرمایا مساکین سے محبت کرنا اور یہ کہ میں ان کے قریب ہوں۔ اور میں نہ دیکھوں اپنے سے بلند مرتبہ والے کو اور میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ پر ظلم کریں اور لفظ آیت لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی کثرت کروں وہ عرش کے نیچے خزانہ میں سے ہے۔ اور میں حق بات کہوں اگرچہ وہ کڑوی ہو۔ اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے ڈروں اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ (17) امام احمد نے ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار تم میں سے کوئی لوگوں کے خوف سے حق بات کہنے سے ہرگز نہ رکے جب وہ دیکھے تو اس کی اتباع کرے۔ اس وجہ سے کہ حق بات کہنا اور عظیم ذات کا ذکر کرنا موت کو قریب کرتا ہے اور نہ رزق کو دور کرتا ہے یا کوئی عظیم بات کہے۔ (18) امام احمد اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی ذات کو ہرگز حقیر نہ جانے کہ وہ اس میں اللہ کی حکم کو جانتا ہے جس میں بات ہو رہی ہو اور وہ اس میں کوئی بات نہ کہے لوگوں کے ڈر سے تو اسے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ میں اس بات کا مستحق تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔ (19) امام ابن عساکر نے تاریخ میں سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابوذر، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری اور محمد بن مسلمہ اور چھٹے آدمی نے نبی ﷺ سے بیعت کی۔ اس بات پر کہ ہم اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ مگر چھٹے آدمی نے اس میں بیعت کو ختم کرنا چاہی تو آپ نے اس کی بیعت کو ختم فرما دیا۔ (20) امام بخاری نے تاریخ میں زہری کے طریق سے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اگر تو لوگوں کے کاموں میں سے کسی چیز کا والی بنایا جائے تو پھر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کر۔ (21) امام ابن سعد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ مجھے لگاتار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے یہاں تک کہ دوست کے طور پر میرے لئے کوئی حق نہ چھوڑا۔ (22) امام ابن ابی شیبہ والبخاری، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی فرمایا ہم نے نبی ﷺ سے بیعت کی تنگی اور آسانی خوشی اور ناخوشی میں آپ کا حکم سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کو اپنے اوپر ترجیح دیں گے اور ہم اس کام کے مستحق کے ساتھ جھگڑا نہ کریں گے اور اس بات پر کہ ہم حق بات کہیں گے جہاں بھی ہم ہوں اور اللہ کے حقوق میں کسی ملامت سے نہ ڈریں گے۔
Ayah 5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارا ولی بس اللہ اور اس کا رسول ہے اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اس حال میں کہ وہ رکوع کرنے والے ہیں۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی۔ (2) امام خطیب نے متفق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے انگوٹھی کا صدقہ کیا۔ اس حال میں کہ وہ رکوع میں تھے نبی ﷺ نے سائل سے پوچھا تجھے کس نے یہ انگوٹھی دی ہے ؟ اس نے کہا اس رکوع کرنے والے نے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ (3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ (4) امام طبرانی نے الاوسط میں اور ابن مردویہ نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل حضرت علی ؓ کے پاس کھڑا ہوا اس حال میں کہ وہ نفل نماز میں رکوع کر رہے تھے انہوں نے (نماز میں ہی) اپنی انگوٹھی اتاری اور سائل کو دیدی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ان کو یہ بات بتائی گئی تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم رکعون رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب پر (ان آیات کو) پڑھ کر پھر فرمایا جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ تو اس کا دوست بن جس کا میں دوست ہوں اور تو اس کا دشمن بن جو علی کو دشمن رکھے۔ (5) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا آخر تک رسول اللہ ﷺ پر ان کے گھر میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوگئے آپ مسجد میں تشریف لائے اور کوئی ان میں رکوع کرنے والا تھا، کوئی سجدہ کرنے والا تھا، اور کوئی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا تھا۔ اچانک ایک سائل کو دیکھا پوچھا اے سائل کیا تجھے کسی نے کوئی چیز عطا کی ؟ اس نے کہا نہیں مگر اس رکوع کرنے والے نے یعنی علی بن ابی طالب ؓ نے مجھ کو انگوٹھی دے دی۔ (6) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن عساکر نے سلمہ بن سہل (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ نے انگوٹھی صدقہ کی اس حال میں کہ وہ رکوع کرنے والے تھے۔ تو یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ نازل ہوئی۔ (7) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کی کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے رکوع کرنے کی حالت میں صدقہ کیا ابن جریر نے سدی اور عقبہ بن حکیم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (8) امام ابن مردویہ سے کے طریق سے اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے عبد اللہ بن سلام ؓ اور اہل کتاب میں سے ایک جماعت جو ان کے ساتھ تھی ظہر کے وقت نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے گھر دور ہیں اور ہم کوئی جگہ نہیں پاتے جہاں ہمارے ساتھ کوئی بیٹھے یا ہمارے ساتھ میل جول رکھے۔ سوائے اس مسجد کے جب ہماری قوم نے دیکھا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کی اور ان کا دین ہم نے چھوڑ دیا تو وہ دشمن ہوگئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ ہم ان سے نہیں ملیں گے اور نہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کھانا کھائیں گے۔ یہ چیزیں ہمارے لئے بڑی تکلیف دہ ہیں۔ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف اس بات کی شکایت کر رہے تھے اچانک یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم رکعون نازل ہوئی۔ ظہر کی نماز کے لئے آذان دی گئی۔ تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور (سائل سے) فرمایا تجھے کسی نے کچھ دیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا کس نے ؟ اس نے کہا یہ آدمی جو قیام کی حالت میں ہے پھر آپ نے پوچھا کسی حالت میں اس نے دی ؟ اس نے کہا رکوع کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا اور وہ علی ابن ابی طالب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے لفظ آیت ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (المائدہ) (9) امام طبرانی، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے ابو رافع ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ سوئے ہوئے تھے اور آپ کی طرف وحی کی جارہی تھی۔ اچانک گھر کی ایک جانب میں سانپ تھا۔ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں آپ کے پاس رات گزاروں اور میں نے اس بات کو بھی ناپسند کیا کہ آپ کو جگاؤں اور میں ڈر رہا تھا کہ آپ پر وحی نازل نہ ہو رہی ہو۔ میں سانپ اور نبی ﷺ کے درمیان لیٹ گیا اگر اس (سانپ) کی طرف سے کوئی تکلیف ہوگی تو وہ آپ کے علاوہ مجھے ہوگی میں کچھ دیر ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ جاگ گئے اور یہ فرما رہے تھے لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم رکعون (پھر) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے علی کے لئے اپنی نعمت کو پورا فرمایا اور علی کے لئے خاص طور پر فضل کو تیار کیا۔ حضرت علی ؓ کی سخاوت (10) امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے جب رکوع میں گئے تو ایک سائل گزرا (اس نے سوال کیا) تو آپ نے (اسی حالت میں) اس کو اپنی انگوٹھی عطا فرمادی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ پھر فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لائے اور ان میں علی بن ابی طالب ؓ سب سے پہلے تھے۔ (11) امام حاتم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ (الایۃ) کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص اسلام کے آیا تو اس نے دوستی لگائی اللہ اس کے رسول اور ایمان والوں سے۔ (12) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا کیا اس سے ایمان والے لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے ان سے کہا گیا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ علی ؓ بھی تو ایمان والے لوگوں میں سے ہیں۔ (13) امام ابو نعیم نے عبدالمالک بن ابی سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی (رح) سے اس آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم رکعون کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت محمد ﷺ کے اصحاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ علی کے بارے میں نازل ہوئی فرمایا کہ علی ؓ بھی ان میں سے ہیں۔ (14) امام ابن ابی داؤد نے مصاحف میں جریر بن مغیرہ ؓ سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں تھا۔ لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوۃ یعنی لفظ آیت الذین یقیمون سے پہلے والے داؤ نہیں تھا۔
Ayah 5:56

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی شخص دوست رکھے اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں پر جو ایمان لائے سو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا جو گروہ ہے وہی غالب ہونے والا ہے۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ غالب کون ہے۔ پھر فرمایا (غالب وہ ہے) جو کسی حکومت اور مصیبت سے نہ ڈرے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان کے علاوہ جو دوسرے کافر ہیں ان کو بھی دوست نہ بناؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفاعہ بن زبیر بن تابوت اور سوید بن حارث نے اسلام کا اظہار کیا اور دونوں نے منافقت کی۔ اور مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگ ان سے دوستیاں لگاتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعبا سے لے کر واللہ اعلم بما کانوا یکتمون تک۔ (2) امام ابو عبید اور ابن جریر نے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ یوں پڑھتے تھے۔ لفظ آیت ومن الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں، یہ اس لئے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے۔

(1) امام بیہقی نے دلائل میں الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا نادیتم إلی الصلوۃ اتخذوھا ھزوا ولعبا ذلک بانھم قوم لا یعقلون کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے حکم کو نہیں سمجھتے۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا منادی جب نماز کے لئے اذان دیتا تھا تو مسلمان نماز کی طرف کھڑے ہوجاتے تھے۔ اور یہودی کہتے تھے یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو اور وہ کھڑے نہ ہوئے۔ جب ان کو رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھتے تو ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا نادیتم الی الصلوۃ اتخذوھا ھزوا ولعبا کے بارے میں فرمایا کہ نصاری میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ میں جب اذان دینے والے کو لفظ آیت اشھد ان محمد رسول اللہ کہتا ہوا سنتا تو کہتا اللہ تعالیٰ جھوٹے کو جلا دے۔ ایک رات اس کا خادم آگ کے کر اندر داخل ہوا۔ یہ جاگ رہا تھا اور اس کے گھر والے سو رہے تھے۔ ایک انگارا گرا جس سے گھر جل گیا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر والے سب جل گئے۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن شہاب زہری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اذان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت واذا نادیتم الی الصلوۃ (4) امام عبد الرزاق نے مصنف میں عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب وہ نماز ادا کرنا چاہیں تو کیا کریں تاکہ سب لوگ اس کے ذریعہ نماز کے لئے اکھٹے ہوجائیں تو صحابہ نے ناقوس بجانے کا مشورہ کیا اس درمیان میں عمر بن خطاب ؓ نے ناقوس کے لئے دو لکڑیاں خریدنے کا ارادہ کر رہے تھے اچانک انہوں نے خواب میں دیکھا کہ تم ناقوس نہ بجاؤ بلکہ نماز کے لئے اذان دو ۔ حضرت عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ ان کو وہ بتائیں جو انہوں نے خواب میں دیکھا تھا تو اس کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس وحی آچکی تھی۔ حضرت عمر ؓ کو خوفزدہ کردیا حضرت بلال کی اذان نے نبی ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو فرمایا وحی تجھ سے سبقت لے گئی یہ بات اس وقت کی جب عمر ؓ نے اپنا خواب بیان کیا۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کہ اے اہل کتاب تم ہم سے صرف اس لئے ناراض ہوتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو ہم سے پہلے اتارا گیا، اور ایک یہ بات ہے کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں۔

تمام انبیاء اصول دعوت میں متفق ہیں (1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہودیوں میں سے کچھ لوگ آئے ان میں ابو یاسر بن اخطب، نافع بن ابی نافع، غازی بن عمرو، زید بن خالد، ازار بن ازار اور اسقع تھے۔ ان لوگوں نے سوال کیا کہ وہ کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور فرمایا لفظ آیت وماانزل علینا وما انزل علی ابراھیم واسمعیل واسحق و یعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ والنبیون من ربھم لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون جب عیسیٰ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے ان کی نبوت کا انکار کردیا۔ اور کہنے لگے ہم عیسیٰ پر ایمان نہیں لاتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت قل یاھل الکتب ھل تنقمون منا الا ان امنا باللہ وما انزل الینا سے لے کر لفظ آیت اکثر کم فسقون تک۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

: آپ فرمادیجئے ! کیا میں تمہیں وہ طریقہ بتاؤں جو اللہ کے نزدیک سزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برا ہے۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کردی اور جن پر اللہ غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو اللہ نے بندر اور سور بنا دیا۔ جنہوں نے شیطان کی عبادت کی یہ لوگ جگہ کے اعتبار سے بدترین لوگ ہیں اور سیدھے راستہ سے بہت زیادہ بہکے ہوئے ہیں۔

(1) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” مثوبۃ “ سے مراد ہے بدلہ۔ اچھائی کا بدلہ اور برائی کا بدلہ۔ اور اس کو یوں بھی پڑھا گیا لفظ آیت بشر ثوابا (2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت مثوبۃ عنداللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ثواب ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ وقولہ تعالیٰ لفظ آیت وجعل منھم القردۃ والخنازیر وعبد الطاغوت (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعل منھم القردۃ والخنازیر یعنی یہودیوں میں سے مسخ کئے گئے۔ (4) امام ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے کہا گیا کیا مسخ ہونے سے پہلے بندر اور خنذیر تھے ؟ فرمایا ہاں اور یہ دوسری امتوں میں سے ایک مخلوق ہے جو پیدا کی گئی۔ (5) امام مسلم اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بندر اور خنازیر کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہ انہیں مخلوق میں سے ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخ کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کیا یا سے مسخ کیا تو اس کے لئے نسل نہیں بنائی یہ بندر اور سور پہلے سے تھے۔ (6) امام طیالسی، احمد، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بندر اور سور کے بارے میں پوچھا کیا یہ یہود کی نسل میں سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر لعنت کی ہو اور اسے مسخ کیا ہو پھر اس کی نسل آگے چلی ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ جب اللہ تعالیٰ یہود پر ناراض ہوئے تو اس کو مسخ کردیا پھر ان کو ان کی طرح بنا دیا۔ (7) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سانپ، جن کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے کہ بندر اور سور مسخ شدہ صورتیں ہیں۔ (8) امام ابن جریر، عمر بن کثیر سے روایت کی انہوں نے افلح (رح) سے روایت کیا کہ جو ابو ایوب انصاری ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مسخ بنی اسرائیل میں خنازیر کی صورت میں ہوا۔ ایک عورت جو بنی اسرائیل میں سے تھی اور وہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں سے ایک بستی میں رہتی تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کا بادشاہ بھی تھا۔ اس بستی کے لوگوں نے گمراہی پر اتفاق کیا۔ مگر یہ عورت اسلام پر قائم رہی اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتی رہی یہاں تک کہ جب لوگ اس کے پاس جمع ہوجاتے تو اس عورت کے ہاتھ پر بیعت کرلیتے۔ عورت ان سے کہتی کہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اللہ کے دین کی طرف جہاد کرو اور اس کے لئے اپنی قوم کو بھی بلاؤ۔ تم لوگ نکلو گے تو میں بھی نکلوں گی۔ یہ عورت (اپنے لوگوں کے ساتھ) نکلی تو بادشاہ بھی اپنے حماتیوں کے ساتھ اس عورت کی طرف نکلا۔ اس عورت کے سب ساتھ قتل کردیئے گئے۔ اور وہ عورت اس سے بچ نکلی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی یہاں تک کہ لوگ اس کی طرف جمع ہوگئے۔ جب یہ عورت ان سے راضی ہوگئی تو اس نے ان کو جہاد کا حکم دیا یہ لوگ نکلے اور یہ عورت بھی ان کے ساتھ نکلی مگر سب لوگ قتل کردیئے گئے اور یہ عورت پھر بچ نکلی۔ عورت نے پھر لوگوں کو دعوت دی۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ اس کی طرف جمع ہوگئے۔ ان لوگوں نے اس عورت کی دعوت کو قبول کیا تو اس نے ان کو نکلنے کا حکم دیا یہ لوگ نکلے تو یہ عورت بھی ان کے ساتھ نکلی۔ یہ لوگ بھی سب قتل کردیئے گئے۔ اور یہ عورت پھر بچ نکلی۔ پھر اس عورت نے دعوت دی یہاں تک کہ کچھ لوگ اس کی طرف جمع ہوگئے جنہوں نے اس کی دعوت کو قبول کیا تو اس نے ان کو نکلنے کا حکم دیا تو یہ لوگ نکلے اور عورت بھی ان کے ساتھ نکلی تو سب کو پکڑ لیا گیا یہ عورت پھر بچ نکلی۔ یہ عورت لوٹ آئی اور مایوس بن کر کہتی تھی سبحان اللہ اگر اس دین کے لئے کوئی جماعتیں اور مدد کرنے والا ہوتا تو اسے غلبہ عطا کرتا۔ اس نے غمگین حالت میں رات گزاری تو صبح کو بستی والے خنازیر کی شکل میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی رات میں ان کو مسخ کردیا تھا۔ جب اس عورت نے صبح کی اور جو اس نے دیکھا (تو کہنے لگی) آج میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے دین کے معاملہ کو غلبہ عطا فرمایا ہے۔ راوی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں خنازیر کی شکل میں مسخ ہوتا۔ اس عورت کے ہاتھ پر ہوا۔ (9) ابن ابی الدنیا نے ذم الملا ہی میں عثمان بن عطا سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت، میں زمین، میں دھنس جانا، زلزلہ کا ہونا اور بندر اور سور کی صورت میں مسخ ہونا ہوگا۔ واللہ اعلم (10) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے زہیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا طلحہ ؓ اس حروف کو کیسے پڑھتے تھے یعنی لفظ آیت وعبد الطاغوت ابن ابی لیلی نے اس کی وضاحت کی اور اس کو مخفف کر کے پڑھا۔ (11) امام عبد بن حمید نے عطاء بن السائب (رح) سے روایت کیا کہ ابو عبد الرحمن ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وعبد الطاغوت عین اور باء کے نصب کے ساتھ۔ (12) امام ابن جریر نے ابو جعفر نحوی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے یعنی لفظ آیت وعبد الطاغوت جس طرح وہ کہتے لفظ آیت ضرب اللہ (13) امام ابن جریر نے بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وعابد الطاغوت (14) امام ابن جریر، عبدالرحمن بن ابی حماد کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھ سے بیان کیا امام اعمش نے اور انہوں نے نقل کیا یحییٰ بن وثاب سے کہ وہ یعنی یحییٰ بن وثاب یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وعبد الطاغوت اور وہ عبد کا معنی خدم کرتے تھے۔ عبد الرحمن (رح) نے فرمایا کہ حمزہ (رح) اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور کفر کی ہی حالت میں نکل گئے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جاء وکم قالوا امنا کے بارے میں فرمایا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان کو بتاتے تھے کہ وہ ایمان لانے والے ہیں اور اس دین پر راضی ہونے والے ہیں جس کو آپ لے کر آئے ہیں جبکہ وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے تھے اپنی گمراہی کو اور کفر کے ساتھ داخل ہوتے تھے اور اسی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے باہر نکل جاتے تھے۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جاءوک قالوا امنا وقد دخلوا بالکفر وھم قد خرجوا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ حق کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے داخل ہوتے اور ان کے دل کفر کو چھپائے ہوئے تھے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت وقد دخلوا بالکفر وھم قد خرجوا بہ (3) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ منافقین میں سے یہودی تھے انہی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ کفر کی حالت میں داخل ہوئے اور کفر کی حالت میں نکل گئے۔
Ayahs 5:62–63

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور آپ ان میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے جو گناہ میں اور ظلم اور حرام کھانے میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ یہ واقعی بات ہے کہ وہ اعمال برے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

کیوں نہیں منع کرتے ان کو درویش اور اہل علم گناہ کی باتیں کرنے سے اور حرام کھانے سے، واقعی وہ کرتوت برے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

نہی عن المنکر بھی علماہی کی ذمہ داری ہے (1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودی ہیں پھر فرمایا لفظ آیت لبئس ما کانوا یعملون۔ لولا ینھھم الربنیون والاحبار سے لے کر لفظ آیت لبئس ما کانو یصنعون تک یعنی وہ ایک ہی (جیسا) عمل کرتے تھے۔ پھر فرمایا اللہ نے ان کو منع نہیں کیا جیسے کہ ان لوگوں کو (منع نہیں کیا) جب انہوں نے (برے) عمل کئے۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے احکام میں سے تھا تمہارے آگے (یعنی تم سے پہلے) (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لولا ینھھم الربنیون والاحبار سے فقہاء اور علماء مراد ہیں۔ (4) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لولا ینھھم سے علماء اور بڑے علماء مراد ہیں۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے لفظ آیت لبئس ما کانوا یصنعون کے بارے میں فرمایا کہ فقہاء اور علماء نے انہیں غلط بات کہنے اور حرام کھانے سے نہیں روکا (تو یہ کتنا برا کام کر رہے ہیں) (6) امام ابن ابی حاتم سے روایت ہے کہ علی ؓ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ تم سے پہلے لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور ان کے فقہاء اور علماء نے ان کو نہ روکا۔ جب سرکشی میں بہت بڑھ گئے اور ان کے فقہاء اور علماء نے ان کو نہ روکا تو ان کو عذاب نے پکڑلیا۔ پھر ان کو نیکی کا حکم دیا گیا اور برائی سے روکا گیا۔ اس لئے کہ نیکی کا حکم کرنا اور گناہوں سے روکنا نہ رزق کو حتم کرتا ہے اور نہ موت کو قریب کرتا ہے۔ (7) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی قرآن میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت سخت ڈانٹ والی نہیں ہے یعنی لفظ آیت لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم والعدوان واکلھم السحت لبئس ماکانوا یعملون اسی طرح انہوں نے پڑھا۔ لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت لبئس ماکانوا یعملون لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم والعدوان واکلھم السحت لبئس ماکانوا یصنعون (8) امام ابن مبارک نے زھد میں عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک بن مزاحم سے روایت کیا کہ قرآن میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت میرے نزدیک زیادہ خوف والی نہیں یعنی لفظ آیت لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم والعدوان واکلھم السحت لبئس ماکانوا یصنعون دونوں فریقوں کے لئے برائی کا ذکر ہے۔ (9) امام عبد بن حمید نے سلمہ بن نبی ط کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت لولا ینھھم الربنیون والاحبار میں ربانیون اور احبار سے ان کے فقہاء ان کے قراء اور ان کے علماء مراد ہیں پھر ضحاک فرماتے ہیں کہ مجھ کو کوئی آیت اس آیت سے بڑھ کر ڈرانے والی نہیں۔ (10) امام ابوداؤد، ابن ماجہ نے جریر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایسی قوم جس کے درمیان ایسا آدمی ہو جو بدکاریاں کرتا ہو۔ جبکہ وہ لوگ طاقت رکھتے ہوں کہ اسے روکیں (مگر نہ روکیں) تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب دے گا۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور کہا یہودیوں نے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے، بند ہوئے ان کے ہاتھ، اور ان کے قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ خرچ فرماتا ہے جیسے چاہے، اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ پر نازل کیا گیا، وہ ان میں سے بہت سوں کو سرکشی اور کفر کے زیادہ ہونے کا سبب بن جائے گا، اور ہم نے ڈال دی ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک۔ انہوں نے جب کبھی لڑائی کی آگ جلائی اللہ تعالیٰ نے اسے بجھا دیا اور یہ لوگ فساد کے لئے دوڑتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(1) امام ابن اسحاق و طبرانی نے الکبیر میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک آدمی تھا جس کو نباش بن قیس کہا جاتا تھا اس نے کہا کہ بلاشبہ تیرا رب بخیل ہے خرچ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدھم ولعنوا بما قالوا بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشاء (2) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ فخاص کے بارے میں نازل ہوئی جو یہودیوں کا قبیلہ قینقاع کا سردار تھا۔ (3) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ فخاص یہودی کے بارے میں نازل ہوئی۔ (4) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ سے مراد ہے کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ بخیل ہیں۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ کے بارے میں فرمایا کہ یہودی اس سے یہ مراد نہیں لیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کسی چیز سے بندھا ہوا ہے لیکن وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بخیل ہے روکے رکھتا ہے جو اس کے پاس ہے۔ بڑی بلند ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان باتوں سے جو وہ لوگ کہتے ہیں۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے مروی ہے کہ ضحاک (رح) مغلولہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بخیل ہیں سخی نہیں ہیں (اور فرمایا) لفظ آیت غلت ایدیھم (بلکہ) ان لوگوں کے ہاتھ بند ہیں خرچ کرنے سے اور خیر (کے کام) سے۔ (7) امام دیلمی نے مسند الفردوس میں انس ؓ سے روایت کیا کہ یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا اے میرے رب ! مجھے ان لوگوں میں بنا دیجئے جن میں لوگ نہیں پڑتے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے یحییٰ یہ چیز تو میں نے اپنے لئے بھی خاص نہیں کی۔ تیرے لئے (خاص) کیسے کروں ؟ محکم آیات میں سے پڑھو تم اس میں ( اس بات کو) پاؤ گے (جیسے) لفظ آیت وقالت الیھود عزیز ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ (التوبہ آیت 3) اور انہوں نے کہا لفظ آیت ید اللہ مغلولۃ اور (اس طرح) انہوں نے کہا۔ غیبت کی خبر پر صبر وتحمل (8) امام ابو نعیم الحلیۃ میں جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ جب تجھ کو تیرے بھائی کی طرف سے کوئی چیز پہنچے جو تجھے غمگین کرے تو غم نہ کر اگر کوئی بات ایسے ہی ہے جیسے وہ کہتا ہے تو وہ ایک سزا تھی جو برپا کردی گئی۔ اور اگر بات اس طرح نہیں جیسے اس نے کی تو وہ ایک نیکی تھی جو تو نے نہیں کی۔ ساتھ ہی یہ روایت ذکر کی۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میں آپ سے اس بات کا سوال کرتا ہوں کہ کوئی مجھ کو یاد نہ کرے مگر خیر کے ساتھ۔ فرمایا میں نے اپنی ذات کے لئے بھی ایسا نہیں کیا۔ (9) امام ابو نعیم نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب لوگوں کے کلام کو مجھ سے روک سے اللہ عزوجل نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے ایسا کرتا تو اس کو اپنے لئے (ضرور) کرتا۔ (10) امام ابو نعیم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! لوگوں کی باتوں کو مجھ سے روک سے تو اللہ عزوجل نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے ایسا کرتا تو میں اپنے لئے (ضرور) کرتا۔ وقولہ تعالیٰ لفظ آیت بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشاء (11) امام ابو عبد نے فضائل میں، عبد بن حمید، ابن ابی داؤد اور ابن الانباری دونوں نے مصاحف میں اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ہے لفظ آیت بل یدہ مبسوطتن (12) امام احمد، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، الترمذی، ابن ماجہ اور امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں ہوگا ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ خروج کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ رات دن کی سخاوت اس میں کمی نہیں کرتی۔ تم بتاؤ جو کچھ خروج فرمایا جب سے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا بلا شبہ کچھ بھی کم نہیں ہوا جو کچھ داہنے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ اور اس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑنا ہے (جس کو چاہتا ہے) اوپر اٹھاتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) نیچے گراتا ہے۔ (13) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا کے بارے میں فرمایا۔ ان کو آمادہ کیا اس حسد نے جو (ان کو) محمد ﷺ اور عرب کے بارے میں تھا اس بات پر کہ وہ قرآن کو ترک کریں محمد ﷺ اور اس کے دین کو چھوڑ دیں۔ حالانکہ وہ اس کو اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں۔ یہود و نصاری کے آپس کی دشمنی (14) امام ابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت فرمایا کہ علماء نے ان چیزوں کے بارے میں فرمایا جو انہوں نے یاد کیا اور سیکھا کہ کوئی قوم زمین پر ایسی نہیں ہے جس نے فیصلے کئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے بغیر تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو ڈال دیں گے۔ اور فرمایا کہ یہ بات یہودیوں میں ہے۔ جب انہوں نے فیصلے کئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے بغیر تو (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء إلی یوم القیمۃ یعنی یہود اور نصاری میں، اور فرمایا لفظ آیت کلما او قدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ یعنی محمد ﷺ (کے خلاف) جنگ (کی آگ) کو بھڑکایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بجھا دیا۔ (15) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کلما او قدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ یعنی جب بھی وہ لوگ کسی چیز پر اپنے کام میں اکھٹے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو متفرق کردیا اور ان کی لگائی ہوئی آگ کو بجھا دیا۔ اور ان کے دلوں میں رعب کو ڈال دیا۔ (16) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت کلما او قدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ دشمن یہودی ہیں۔ جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بجھا دیا تو یہودی کو جس ملک میں پائے گا۔ تو وہاں ان کو ذلیل پائے گا۔ جب اسلام آیا تو وہ مجوسیوں کے زیر نگین تھے اور وہ اپنے برے اعمال کی وجہ سے اور ذلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ مبغوض مخلوق ہے۔ (17) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کلما او قدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ یعنی جب بھی ان کمینے لوگوں نے عربوں سے جنگ کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ کو بجھا دیا۔
Ayah 5:65

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتے، اور ہم انہیں ضرور نعمتوں کے باغوں میں داخل کردیتے۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو ان اھل الکتب امنوا وتقفا کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان لاتے اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور بچتیھ ان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مالک بن دینا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت جنت النعیم جنات نعیم سے مراد وہ جنات ہیں جو جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں۔ اور ان میں ایسی لڑکیاں ہیں جن کو جنت کے گلاب کے پھولوں سے پیدا کیا گیا۔ عرض کیا ان میں کون رہے گا تو فرمایا جو لوگ کسی گناہ کا ارادہ کرتے تھے لیکن پھر جب اللہ جل جلالہ کی عظمت کو یاد کرتے تو اس سے رک جاتے۔