5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں شیطان کے کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

شراب اور جوئے کی حرمت (1) امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کی شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ (جب مدینہ منورہ میں) تشریف لائے تو وہ لوگ شراب پیتے تھے اور جوا سے مال کھاتے تھے ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر (سورۃ بقرۃ 912) لوگوں نے کہا ہم پر حرام نہیں کی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ شراب پیتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا دن بھی آیا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی کو انہوں نے مغرب کی نماز میں امام بنایا تو قرآت میں اس سے (غلطی ہوئی نشہ کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اس میں ان کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون (النساء آیت 24) لوگ پیتے رہتے تھے یہاں تک کہ ان میں سے ایک نماز کو آتا تھا۔ اور وہ شام کو شراب پیتے والا ہوتا تھا تو اس سے بھی زیادہ سخت آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک صحابہ ؓ نے فرمایا اے ہمارے رب ! ہم نے (پینا) ختم کردیا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ اللہ کے راستے میں شہید کردیئے گئے اور وہ اپنے بستروں پر مرے جو شراب پیا کرتے تھے۔ اور جوا کا مال کھایا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کو گندگی اور شیطان کے عمل میں سے بناتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح آیت کے آخر تک اور نبی ﷺ نے فرمایا اگر ان پر حرام ہوتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے۔ جیسے کہ تم نے چھوڑ دیا ہے۔ (2) امام طیالسی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ شراب کے بارے میں تین آیات نازل ہوئی پہلی آیت جو نازل ہوئی یعنی لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر (بقرہ آیت 19) کہا گیا شراب حرام کردی گئی صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کو چھوڑ دیجئے کہ ہم اس سے نفع اٹھائیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو آپ ان سے خاموش رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النساء 43) کہا گیا شراب حرام کردی گئی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اس کی نماز کے قریب نہ پئیں گے۔ آپ ﷺ ان سے خاموش رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر (الآیۃ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شراب حرام کردی گئی۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور نحاس نے ناسخ میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ شراب کی حرمت کی آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ انصار میں سے ایک آدمی نے کھانا پکایا پھر ہم کو بلایا (دعوت دی) تو لوگ آگئے، انہوں نے کھایا اور پیا اور شراب پی۔ یہاں تک کہ شراب سے نشہ ہوگیا۔ یہ واقعہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔ پھر آپس میں فخر کرنے لگے۔ انصار نے کہا انصار بہتر ہیں اور قریش نے کہا قریش بہتر ہیں۔ ایک آدمی جھکا اور اس نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر میرے ناک پر ماری اور اس کو توڑ دیا۔ (اس لئے سعد ٹوٹی ہوئی ناک والے تھے) ۔ سعد ؓ نے فرمایا میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور یہ واقعہ ان کو بتایا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر آخر آیت تک۔ ّ (4) امام ابن جریر، ابن شہاب کے طریق نے سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے شراب حرام ہوئی۔ (اس وجہ سے) کہ سعد بن ابی وقاص ؓ اور اس کے ساتھیوں نے شراب پی کر آپس میں لڑائی کی اور انہوں نے سعد ؓ کی ناک توڑ دی تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت انما الخمر والمیسر (5) امام طبرانی نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ میرے بارے میں تین آیات اللہ کی کتاب میں نازل ہوئیں شراب کا حرام ہونا نازل ہوا۔ میں ایک آدمی کے ساتھ مل کر شراب پی رہا تھا، میں نے اس کا مقابلہ کیا اور اس نے میرا مقابلہ کیا، میں نے اس پر شور وغل کیا اور میں نے اس کے سر کو زخمی کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون اور میرے بارے میں یہ آیت لفظ آیت ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا بھی نازل ہوئی۔ اور لفظ آیت حملتہ امہ کرھا سے آخر تک اور (یہ آیت) نازل ہوئی یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجوئکم صدقۃ (مجادلۃ آیت 12) پھر میں جو آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ تو البتہ بخیل ہے۔ تو یہ دوسری آیت نازل ہوئی لفظ آیت ءاشفقتم ان تقدموا شراب کے برے اثرات (6) امام عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ، الحاکم (نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن مردویہ اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انصار کے قبائل میں سے دو قبیلوں کے بارے میں شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ انہوں نے شراب پی۔ جب قوم مدہوش ہوئی وہ ایک دوسرے سے فضول مذاق کرنے لگے۔ جب نشہ اتر گیا تو ان میں سے کوئی اپنے چہرے پر، اپنے سر پر اور اپنی داڑھی پر مذاق کا اثر دیکھنے لگا۔ تو کہنے لگا میرے ساتھ اس فلاں بھائی نے ایسا کیا اور یہ بھائی آپس میں ایسے تھے کہ ان کے دلوں میں کوئی کینہ نہ تھا۔ اللہ کی قسم اگر وہ میرے ساتھ مہربان ہوتا تو میرے ساتھ یہ نہ کرتا۔ یہاں تک کہ کینہ ان کے دلوں میں پیدا ہونے لگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک نازل فرمائی۔ تکلیف کرنے والے لوگوں نے کہا۔ یہ ناپاک ہے۔ اور یہ فلاں کے پیٹ میں تھی جو بدر کے دن قتل کردیا گیا اور یہ فلاں کے پیٹ میں تھی جو احد کے دن قتل کردیئے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا (7) امام ابن جریر نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان ہم بیٹھے ہوئے شراب پی رہے تھے ہم اعلانیہ شراب پیا کرتے تھے اچانک میں اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ اس سے پہلے شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر سے لے کر لفظ آیت انتم منتھون تک میں اپنے ساتھیوں کی طرف آیا اور میں نے ان پر قرآت پڑھی اور بعض لوگوں کے ہاتھوں میں شراب تھی اور بعض پی چکے تھے اور بعض کے برتنوں میں باقی تھی۔ اور فرمایا کہ (بعض کے) برتن ان کے اوپر والے ہونٹ کے نیچے تھے جس طرح حجام کرتا ہے۔ پھر انہوں نے گرادیا جو کچھ ان کے شراب پینے کے برتنوں میں باقی تھا۔ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم باز آگئے۔ (8) امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ اے مدینہ والو ! اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں اشارہ حکم دیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ شاید اس کے بارے میں عنقریب کوئی واضح حکم نازل ہوگا۔ پھر کھڑے ہو کر فرمایا اے مدینہ والو ! اللہ تعالیٰ نے میرے پاس شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل فرما دیا ہے۔ پس جو شخص ہم میں سے اس آیت کو لکھے اور اس کے پاس اس میں سے کوئی ہو تو اس کو مت پیئے۔ (9) امام ابن جریر نے عبد الرحمن بن سابط (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ عثمان بن مظعون ؓ نے جاہلیت کے زمانے میں شراب کو حرام کیا تھا۔ اور فرمایا میں ایسی کوئی چیز نہیں پیؤں گا جو میری عقل کو لے جائے۔ اور مجھ پر وہ شخص ہنسے گا جو مجھ سے ادنی ہے۔ اور مجھے اس بات پر ابھارے گا کہ میں اپنی معزز عورتوں کے ساتھ اپنی خواہش پوری کروں۔ جب کہ میں ارادہ نہیں کرتا۔ تو یہ آیت سورة مائدہ میں شراب کے بارے میں نازل ہوئی۔ مجھ پر ایک آدمی گزرا اور کہا شراب حرام کردی گئی اور یہ آیت تلاوت کی حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے کہا یہ ہلاک ہو میری بصیرت پہلے سے ہی اس میں واضح تھی۔ (10) امام ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس (سورۃ بقرہ) میں نازل ہوئی تو کچھ لوگ اسے پیتے رہے اللہ تعالیٰ کی اس بات منافع الناس کی وجہ سے اور ایک جماعت نے اس کو چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ کی اس آیت لفظ آیت اثم کبیر کی وجہ سے، ان میں عثمان بن مظعون ؓ بھی تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت لفظ آیت لا تقربوا لصلوۃ وانتم سکری سورة النساء میں نازل ہوئی تو ایک جماعت نے اس کو چھوڑ دیا۔ اور ایک جماعت اسے پیتی رہی۔ دن کو نماز کے اوقات میں اس کو چھوڑ دیتے تھے اور رات کو اس کو پیتے تھے۔ یہاں تک (یہ آیت) لفظ آیت انما الخمر والمیسر سورة مائدہ میں نازل ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے شراب تجھے ملا دیا گیا ہے جوئے سے، بتوں سے اور تیروں سے تو دور ہوجا۔ لوگوں نے بھی چھوڑ دیا البتہ کچھ لوگوں کے دلوں میں شراب کے بارے میں وسوسے تھے۔ لوگ شراب کے مشکیزے کے ساتھ سے گزرتے تو اس کو پھاڑ دیا جاتا تو اس کے پاس سے اس کے مالک گزرتے اور کہتے تھے ہم تھے اس مقام سے عزت دیا کرتے تھے اور انہوں نے کہا شراب سے زیادہ سختی کے ساتھ کوئی چیز مجھ پر حرام نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے دوست سے ملاقات کرتا اور اس سے کہتا ہے میرے دل میں ایک کھٹکا ہے۔ تو اس کا دوست اس سے کہتا ہے شاید کہ تو شراب کو یاد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے ہاں تو وہ کہتا ہے میرے دل میں بھی وہی بات ہے جو تیرے دل میں ہے۔ یہاں تک کہ اس کا ذکر ایک قوم نے کیا اور وہ سب اس بارے میں جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا ہم کس طرھ اس بارے میں بات کریں حالانکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ اور انہوں نے خوف کیا کہ ان کے بارے میں کوئی (حکم) نازل نہ ہوجائے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے دلوں میں ایک دلیل بھی تیار کی تھی اور کہنے لگے آپ بتایئے حمزہ بن عبدالمطلب مصعب بن عمیر اور عبداللہ بن نجش ؓ کے بارے میں یہ لوگ جنت میں نہیں ہیں آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کیا یہ لوگ اس حال میں دنیا سے نہیں گئے کہ یہ لوگ شراب پیتے تھے اور ہم پر وہ چیز حرام کردی گئی۔ یہ لوگ جنت میں داخل ہوگئے حالانکہ وہ اس کے پیتے تھے آپ نے فرمایا جو تم نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس کو سن لیا۔ اگر وہ چاہیں گے تو تم کو جواب دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغض فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون انہوں نے کہا ہم باز آگئے اور ان لوگون کے بارے میں نازل فرمایا جنہوں نے خمزہ اور اس کے ساتھیوں کا ذکر کیا یعنی لفظ آیت لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا (11) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر میسر سے سارے جوئے مراد ہیں۔ اور کہا کہ اس آیت لفظ آیت فیھما اثم کبیر و منافع للناس میں اللہ تعالیٰ نے شراب میں رخصت بیان فرمائی اور اس کو حرام نہیں فرمایا اور یہ اس دن ان کے لئے حلال تھی۔ پھر انہوں نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی جو اس سے سخت تھی۔ فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری تو اس کا نشہ حرام کردیا گیا پھر یہ آیت اتاری جو مائدہ میں ہے لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک تو اس کا حرام ہونا اس آیت میں ثابت ہوگیا اس کا تھوڑا بھی اور اس کا زیادہ بھی جو اس میں سے نشہ لائے یا جو نشہ نہ لائے (سب کو حرام قرار دیا گیا) (12) امام عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے شراب کے حرام ہونے کے بارے میں سورة بقرہ کی (یہ آیت) نازل ہوئی یعنی لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر تو بعض لوگوں نے کہا ہم اس کو پئیں گے۔ اس کے منافع کی وجہ سے جو اس میں ہے۔ دوسروں نے کہا اس چیز میں کوئی چیز (منافع) نہیں جس میں گناہ ہو پھر (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النساء آیت 42) تو بعض لوگوں نے کہا کہ ہم اس کو پئیں گے اس حال میں کہ ہم بیٹھے رہیں گے اپنے گھروں میں۔ دوسروں نے کہا اس چیز میں کوئی چیز نہیں جو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔ تو یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر نازل ہوئی پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کردیا تو وہ رک گئے۔ (13) عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری (النساء آیت 43) کے بارے میں فرمایا کہ قوم اس کو پیتی تھی یہاں تک کہ جب نماز حاضر ہوتی تو اس سے رک جاتے۔ اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ شراب کو حرام قرار دینے میں قریب آچکے ہیں پھر اس کو حرام فرمادیا سورة مائدہ میں غزوہ احزاب کے بعد اور اس حقیقت کے آگاہ کیا گیا یہ شراب لوگوں کو بیوقوف بنا دیتی ہے، مالوں کو ضائع کردیتی ہے اور غافل کردیتی ہے اللہ کے ذکر سے اور نماز سے۔ (14) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فھل انتم منتھون (کے نازل ہونے کے بعد) لوگ شراب کے پیتے سے رک گئے۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام کردیا۔ پس جس شخص کے پاس شراب ہو نہ اس کو پیئے اور نہ اس کو بیچے۔ تو مسلمان ایک زمانہ تک شراب کی بوگلیوں میں پاتے رہے۔ کیونکہ مسلمان نے بہت زیادہ شراب گرا دی تھی۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں دشمنی اور بغض واقع کردے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے سو کیا تم باز آنے والے ہو۔

شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے (15) امام ابو الشیخ، ابن مردویہ نے (اس کی تصحیح کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شرابی کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہاتھوں سے جوتوں سے اور ڈنڈوں سے مارا جاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا کاش ہم اس کے لئے ایک خاص سزا مقرر کرلیتے۔ (تو اچھا تھا) تو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جو اسے مارا کرتے تھے اس کی طرف وہ مائل ہوئے۔ ابوبکر چالیس کوڑے لگاتے تھے یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے ان کے بعد اسی طرح چالیس کوڑے لگائے۔ یہاں تک کہ اولین مہاجرین میں سے ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ انہوں نے کوڑے لگانے کا حکم فرمایا۔ اس نے کہا مجھے آپ کیوں کوڑے لگاتے ہیں۔ میرے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب مانع ہے ؟ عمر ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں تو کہاں پاتا ہے کہ میں تجھے کوڑے نہ لگاؤں۔ اس نے کہا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ لفظ آیت لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ کا فرمان ہے لفظ آیت ثم اتقوا واحسنوا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر، احد اور خندق میں حاضر ہوا۔ عمر ؓ سے فرمایا کیا تم اسے جواب نہیں دو گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت نازل ہوئیں۔ گزرے ہوئے لوگوں کے ساتھ معذرت بطور حجت نازل ہوئی کیونکہ وہ فوت ہوگئے شراب کے حرام ہونے سے پہلے اور یہ حجت اس طرح ہے بعد والے لوگوں کے لئے۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے لفظ آیت انما الخمر والمیسر والانصاب (المائدہ 90) یہاں تک کہ آخری آیت پر پہنچے وہ ہے لفظ آیت الذین امنوا وعملوا الصلحت ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا میں سے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شراب کے پینے سے منع فرمایا۔ عمر ؓ نے فرمایا تمہاری کیا رائے ہے ؟ علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا ہماری یہی رائے ہے۔ اس نے شراب پی تو نشہ ہوگیا اور جب نشہ ہوا تو بکواس کرنے لگا اور جب بکواس کی تو بہتان لگایا۔ بہتان لگانے والے پر اسی کوڑے ہونے چاہئیں۔ تو عمر ؓ نے حکم فرمایا اور اس کو اسی کوڑے لگائے گئے۔ (16) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے انہوں نے ابو طلحہ ام انس کے شوہر سے روایت کیا کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آواز لگانے والے کو بھیجا جو آواز لگا رہا تھا۔ خبردار ! شراب حرام کردی گئی۔ اس کو نہ بیچو اگر کسی کے پاس کچھ ہو تو اس کو گرا دے۔ ابو طلحہ نے کہا اے لڑکے ان مشکیزوں کے بند کھول دے اس نے اس کو کھول دیا۔ اور اس کو بہا دیا اور ہماری شراب ان دنوں پکی اور کچی کھجور کی ہوتی تھی۔ تمام لوگوں نے بھی شراب بہا دی۔ یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں چلنا مشکل ہوگیا۔ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد شراب کو بہا دیا (17) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم اپنا کھانا کھا کر اس پر شراب پیتے تھے۔ ہمارے پاس نبی ﷺ کی طرف سے فلاں آدمی آیا اور اس نے کہا شراب پی رہے ہو حالانکہ اس کے بارے میں (حکم) نازل ہوچکا ہے۔ ہم نے کہا تم کیا سمجھتے ہو ؟ اس نے کہا ہاں میں نے ابھی ابھی نبی ﷺ سے سنا ہے اور میں ان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں، ہم کھڑے ہوگئے اور جو کچھ برتنوں میں تھا اسے بہا دیا۔ (18) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ابو طلحہ ؓ کے پاس یتیم کا مال تھا۔ اس نے اس مال سے شراب خرید لی جب شراب حرام ہوگئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کیا میں اس کو سرکہ بنا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس کو بہا دو ۔ (19) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام فردیا (ان دنوں) مدینہ منورہ میں صرف کھجور کی شراب بنائی جاتی تھی۔ (20) امام ابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ میں اپنے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کے پاس آیا۔ جبکہ شراب ان کے سامنے پڑی ہوئی تھی تو میں نے اپنا پاؤں شراب (کے برتن) کو مارا اور میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے۔ اور ان کی شراب ان دنوں کچی اور پکی کھجور سے بنائی جاتی تھی۔ (21) امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ شراب پیتے تھے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جو سورة بقرہ میں ہے اور اس آیت کے بعد جو سورة النساء میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة مائدہ میں ہے۔ تو ان لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ (22) امام مسلم، ابو یعلی اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کے بارے میں حکم دیا ہے کہ جس کے پاس اس میں سے کچھ ہو تو اس کو چاہئے کہ اس کو بیچ سے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرلے۔ ہم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام کردیا ہے۔ جس شخص تک یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس اس میں سے کچھ ہو تو نہ اس کو پیئے۔ راوی نے کہا جس کے پاس کوئی چیز تھی تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے مدینہ طیبہ کے راستے میں بہا دیا۔ (23) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شراب اس کی تھوڑی مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں حرام کردی گئی۔ اور نشہ لانے والی ہر پیتے والی چیز بھی حرام کردی گئی۔ (24) امام ابن مردویہ نے وہب بن کیسان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا کہ شراب کب حرام ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا غزوہ احد کے بعد جب ہم غزوہ کے لئے نکلے تھے تو ہم نے صبح شراب پی تھی۔ (25) امام ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ جس دن شراب حرام کردی گئی ان دنوں شراب کھجور اور کشمش سے بنائی جاتی تھی۔ (26) امام ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال ہوتا تو وہ شراب خرید لیتا وہ اس شراب کو ان کے لئے خریدتا اور بیچتا پھر مال محفوظ کرلیتا اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی۔ تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی اس کے علاوہ ان کا کوئی مال نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہا دو تو اس نے بہا دیا۔ (27) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ شراب کو حرام کردیا گیا اور مدینہ میں اس میں سے کوئی چیز باقی نہ رہی اور اس دن شراب حقیر چیز تھی۔ (28) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جس دن شراب حرام کردی گئی اور مدینہ میں شراب حقیر چیز تھی۔ (29) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے سنن میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت جو قرآن میں ہے یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون تورات میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ حق کو نازل فرماتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ باطل کو مٹا دیں اور اس کے ساتھ کھیل کو، ناچ گانا، بجانا، بانسری بجانا، دف طنبورہ شعر و شراب باطل کردیا۔ اس شخص کے لئے جو اس کی خواہش کرے۔ اور میرے رب نے قسم اٹھائی کہ جو بندہ حرام ہونے کے بعد اس کو پیئے گا تو میں اس کو قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا۔ اور جو اس کو چھوڑ دے گا اس کے حرام ہونے کے بعد تو تھی اسے اپنی بارگاہ اقدس میں سیراب کروں گا۔ (30) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خمر کو حرام کیا اور ہر نشے ہونے والی چیز حرام ہے۔ (31) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خمر کو حرام کیا اور مدینہ منورہ میں خشک انگور کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی، اور ڈرتے رہو، سو اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔

یتیم کی شراب کو بھی بہا دیا (32) امام احمد، ابو یعلی، ابن ابی داؤد اور ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة مائدہ میں ہے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا کہ یہ شراب ایک یتیم کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہا دو ۔ (33) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ شراب کو حرام کردیا گیا جبکہ وہ اس وقت مٹکوں میں تیار کی جاتی تھی۔ (34) امام ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ شراب کا حرام ہونا نازل ہوا تو اس وقت ہماری شراب خشک انگور اور کھجور کی ہوتی تھی تو ہم نے ان دونوں کو انڈیل دیا۔ (35) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کھجور سے شراب ہے، شہد سے شراب ہے، کشمش سے شراب ہے، انگور سے شراب ہے، گیہوں سے شراب (بنتی) ہے۔ اور میں تم کو ہر نشہ لانے والی چیز سے منع کرتا ہوں۔ (36) امام ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر نازل ہوئی اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فیھما اثم کبیر کی وجہ سے ایک قوم نے اس کو ناپسند کیا (اور چھوڑ دیا) اور ایک قوم اس کو پیتی رہی اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت و منافع للناس کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ (یہ آیت) لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوہ وانتم سکری نازل ہوئی۔ تو انہوں نے اس کو نماز کے وقت میں چھوڑ دیا۔ اور نماز کے وقت کے علاوہ اس کو پینے لگے۔ یہاں تک کہ (یہ آیت) لفظ آیت انما الخمر والمیسر نازل ہوئی عمر ؓ نے فرمایا۔ تو برباد ہو تجھے جوئے کے ساتھ ملا دیا گیا۔ (37) امام ابن جریر نے شعبی (رح) سے نقل فرمایا شراب کے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں۔ لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر اس آیت کی وجہ سے لوگون نے شراب کو چھوڑ دیا۔ پھر (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا تو (کچھ لوگوں نے) پیا۔ پھر دو آیتیں مائدہ میں نازل ہوگئیں لفظ آیت انما الخمر والمیسر سے ایک لفظ آیت فھل انتم منتھون تک۔ (38) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر نازل ہوئی۔ تو لوگ برابر پیتے رہے یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف کے کھانا تیار کیا۔ ان کے ساتھی نے ہم کو دعوت دی۔ جبکہ علی بن ابی طالب ؓ لفظ آیت قل یایھا الکفرون تلاوت فرماتے تھے لیکن اس کو نہ سمجھ سکے تو اللہ تعالیٰ نے سورة النساء کی آیت نازل فرمائی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون شراب کے بارے میں (لیکن شراب) حلال رہی۔ وہ لوگ صبح کی نماز کے بعد اس کو پی لیتے تھے۔ دن کے بلند ہونے تک اور وہ ظہر کی نماز میں جب کھڑے ہوتے تھے تو ٹھیک ہوتے تھے۔ (نشہ اتر چکا ہوتا تھا) پھر اس کو عشاء کی نماز تک نہ پیتے تھے۔ پھر وہ فجر کی نماز میں کھڑے ہوتے تھے جبکہ وہ نشے سے خالی ہوتے وہ برابر اس کو پیتے رہے یہاں تک کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے کھانا تیار کیا۔ ان کے ساتھی نے انصار کے ایک آدمی کو بلایا جس نے ان کے لئے اونٹ کے سر کو بھونا اور پھر ان کو کھانے کی دعوت دی۔ جب ان لوگوں نے کھایا اور شراب پی تو نشہ ہوگیا اور باتیں کرنے لگے۔ سعد نے کوئی بات کی تو اس سے انصاری غضب ناک ہوگیا۔ اور اس نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر سعد کی ناک کو توڑ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے شراب کا پہلا حکم نسخ کردیا اور اس کی حرمت کا حکم نازل فرمایا۔ یعنی لفظ آیت انما الخمر والمیسر سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک۔ (39) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے خمر کی حرمت نازل فرمائی۔ غزوۂ احزاب کے بعد اور عرب کے لئے ان دنوں اس سے (بڑھ کر) کوئی پسندیدہ چیز نہ تھی۔ (40) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے ربیع (رح) سے فرمایا کہ جب سورة بقرہ والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا رب شراب کی حرمت کے بارے میں قریب ہی حکم نازل فرمانے والے ہیں پھر سورة مائدہ کی آیت نازل ہوئی تو اس وقت شراب حرام کردی گئی۔ (41) امام ابن منذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ چار آیتیں شراب کی حرمت کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ان میں سے پہلی سورة بقرہ میں نازل ہوئی۔ پھر دوسری آیت نازل ہوئی لفظ آیت من ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا (النحل 67) پھر وہ آیت نازل ہوئی جو سورة نساء میں ہے اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ اچانک آپ کے پیچھے نشہ آور گانے لگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورة نساء والی آیت کو اتارا لفظ آیت لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری تو لوگوں کی ایک جماعت اس کو پیتی رہی اور دوسری جماعت نے اس کو چھوڑ دیا پھر چوتھی آیت سورة مائدہ میں نازل ہوئی۔ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا اے ہمارے رب ہم رک گئے (شراب پینے پلانے سے) (42) امام ابن جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ لوگ شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے۔ انہوں نے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت یسئلونک عن الخمر اوالمیسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس واثمھما اکثر من نفعھما تو ان لوگوں نے کہا یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں رخصت آئی ہے۔ وہ جوا کا مال کھاتے اور شراب پیتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے یہاں تک کہ ایک آدمی نے مغرب کی نماز پڑھی۔ وہ سورة کافرون کی قرأت کرنے لگا۔ لفظ آیت قل یایھا الکفرون لا اعبد ما تعبدون ولا انتم عبدون ما اعبد اس کو صحیح طور پر نہ پڑھا سکا۔ اس کو پتہ نہ چلا کہ اس نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے سورة نساء والی آیت نازل فرمائی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری تو لوگوں نے نماز کے اوقات میں پینا چھوڑ دیا۔ تو وہ لوگ اس حال میں نماز میں آتے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اسی طرح کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی لفظ آیت انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک تو لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم اس سے رک گئے ( شراب پینے سے) (43) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ شراب پینے والا (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے بتوں کی عبادت کرنے والے کی طرح ملاقات کرے گا۔ پھر (یہ آیت) لفظ آیت انما الخمر والمیسر پڑھی۔ ہر نشہ اور چیز حرام ہے (44) امام احمد اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے۔ شراب کو، جوا کو، شطرنج کو جوار باجرہ کی شراب کو اور ہر نشہ والی چیز کو حرام فرما دیا ہے۔ (45) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ شراب کو، جوا کو، اور شطرنج کو اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (46) امام بخاری اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی اور ان دنوں مدینہ منورہ میں پانچ شرابیں ہوتی تھیں۔ اس میں انگور کی شراب نہیں تھی۔ (47) بخاری و مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب کی خریدو فروخت، بتون کی قربانیوں، مردار اور خنزیرحرام کردیا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں مردار کی چربی کے بارے میں کہ اس کے ساتھ کشتیوں اور چمڑوں کو تیل لگاتے ہیں اور مردار کی چربی سے لوگ روشنی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ حرام نہیں ہے۔ پھر اسی موقع پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی کو حرام فرما دیا تو انہوں نے پگھلایا اور بیچ دیا اور اس کے پیسے کھا گئے۔ (48) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دوس قبیلہ کا ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس شراب کا ایک مشکیزہ آپ کو ہدیہ دینے کے لئے آیا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے بعد اس کو حرام کردیا ہے۔ دوسی اپنے ساتھ والے آدمی پر متوجہ ہوا۔ جو اس کے ساتھ تھا اور اس کے بیچنے کا اس کو حکم دیا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پینے کو اس کو بیچنے کو اور اس کے پیسے کھانے کو حرام کردیا ہے۔ تو آپ نے اس مشکیزہ کو بہا دینے کا حکم دیا اس کو بہا دیا گیا یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہا۔ (49) امام ابن مردویہ نے تمیم داری سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہر سال شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ دیا کرتا تھا جب شراب کی حرمت والا سال تھا وہ ایک مشکیزہ لے آیا۔ جب آپ نے اس کی طرف دیکھا تو ہنس پڑے اور فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں ہوا کہ شراب کو حرام کردیا گیا ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اس کو بیچ دیں اور اس سے نفع اٹھائیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے اللہ تعالیٰ نے ان پر گائے اور بکری کی چربی کو حرام کردیا تھا انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچ دیا اور پیسے کھا گئے (حالانکہ) شراب کی قیمت اور اس کا بیچنا حرام ہے۔ (50) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابو عوانہ طحاوی، ابن ابی حاتم، ابن حیان، دارقطنی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا اما بعد جس دن شراب کی حرمت نازل ہوئی وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جو سے، شہد سے، اور شراب وہ ہے جو عقل کو خراب کردے۔ (51) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہ نبی ذیں پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھیں۔ کھجور سے، کشمش سے، شہد سے، جس سے تجھے نشہ ہوجائے پھر تیرا نشہ ختم ہوجائے وہ شراب ہے۔ (52) امام شافعی، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر نشہ والی چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ (53) امام حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا) جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا خشک انگور اور کھجور سے جب نبیذ بنائی جائے وہ تو واقعی شراب ہے۔ (54) امام ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، نحاس نے ناسخ میں اور حاکم نے (صحیح بھی کہا ہے) اور امام حاکم کا تعقب بھی کیا ہے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گندم جو خشک انگور اور شہد سے بنائی گئی شراب ہوتی ہے اور میں تم کو ہر نشہ لانے والی چیز سے منع کرتا ہوں۔ (55) امام حاکم نے (اور صحیح بھی قرار دیا ہے) مریم بنت طارق ؓ سے روایت کیا کہ میں ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھی۔ ہم نے حج کیا اور ہم عائشہ ؓ کے پاس آئیں تو عورتوں نے برتنوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ تو عائشہ ؓ نے فرمایا ان برتنوں کے بارے میں پوچھتی ہو جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو۔ اور شر لانے والی چیزوں سے بچتی رہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اگرچہ اس کو نشہ لائے وہ پانی جو اس کو محبوب ہوا سے چاہئے کہ وہ اس سے بچتے رہیں۔ (56) امام ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن منذر، اور نحاس نے ناسخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا شراب ان دو درختوں سے (بنتی) ہے کھجور اور انگور۔ (57) امام ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں حسن ؓ سے نقل فرمایا کرتے تھے المیسر سے جو امراد ہے۔ (58) امام بیہقی نے سنن میں نافع سے روایت کی ہے ابن عمر ؓ سے فرمایا کرتے تھے میسر سے جوا مراد ہے۔ (59) امام احمد بن حمید اور بیہقی نے سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جوا جیسے فارس کے لوگوں کے چوسر کے پانسے اور عربوں کے تیر ہیں اور یہ سب جوا ہے۔ (60) امام بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میسر سے مراد ہر قسم کا جوا ہے حتی کہ اخروٹ جس سے بچے کھیلتے ہیں۔ (61) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ان نشان زدہ پانسوں سے بچو کہ جن کے ساتھ بھڑکا جاتا ہے کیونکہ یہ جوا میں سے ہے۔ (62) امام ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان نشان زدہ پانسون سے بچو۔ جن کے ساتھ روکا جاتا ہے کیونکہ وہ جوا ہی ہے۔ (63) امام احمد، ابن ابی حاتم نے ذم الملاہی میں، ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان نشان زدہ کھلونوں سے بچو جو روکتے ہیں۔ کیونکہ یہ عجمیوں کا جوا ہے۔ (64) امام وکیع، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان نشان زدہ پانسوں سے بچو جو روکتے ہیں کیونکہ وہ عجمی لوگوں کا جوا ہے۔ (65) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت فرمایا۔ ہر جوا میسر میں سے ہے۔ یہاں تک کہ بچے اخروٹ اور پانسوں سے کھیلتے ہیں۔ (66) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ چوسر اور شطرنج جوا میں سے ہے۔ (67) امام عبد بن حمید نے علی ؓ سے روایت کیا کہ شطرنج عجمی لوگوں کا جوا ہے۔ (68) امام ابن ابی حاتم نے قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ چوسر کے بارے میں پوچھا گیا یہ جوا میں سے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کردے۔ وہ جوا ہے۔ (69) امام عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں اور بیہقی نے الشعب میں قاسم (رح) سے روایت کیا ہے کہا گیا ہے یہ نرد جس کو تم ناپسند کرتے ہو اور شطرنج کا کیا حال ہے ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کردے وہ جوا ہے۔ (70) امام عبد بن حمید، ابن ابی الدنیانے ذم الملاہی میں ابوالشیخ اور بیہقی نے شعب میں ربیعہ بن کلثوم (رح) سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ ابن زبیر ؓ نے ہم کو خطبہ دیا اور فرمایا اے مکہ والو مجھے کچھ لوگوں کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں جس کو نرد شیر کہا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے لفظ آیت یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر سے لے کر لفظ آیت فھل انتم منتھون تک۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ اس کے ساتھ کھیلنے والا اگر میرے پاس لایا گیا تو میں اس کے بالوں میں اور اس کی کھال میں اس کو سزا دوں گا۔ اور میں اس کا سامان پکڑ کر اس کو دوں گا جو اس کو میرے پاس لائے گا۔ (71) امام ابن ابی شیبہ، اور ابن ابی الدنیا نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص نرد شیر کے ساتھ کھیلا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (72) امام احمد نے ابو عبد الرحمن خطمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ اس شخص کی مثال جو نرد سے کھیلتا ہے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے۔ اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور حیض کے خون سے وضو کرتا ہے۔ پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کردیتا ہے۔ (73) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نرد سے کھیلنے والا جوئے کے طور پر سور کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے اور اس کے ساتھ بغیر جوئے کے کھیلنے والا سور کی چربی سے تیل لگانے کی طرح ہے۔ (74) امام ابن ابی الدنیا نے مجاہد (رح) سے روایت کیا نرد کے ساتھ کھیلنے والا شرط کے طور پر جوئے میں سے ہے۔ اور اس کے ساتھ (بغیر شرط کے) کھیلنے والا ایسے ہے جیسے اپنے ہاتھ کو سور کے خون میں ڈبونے والا۔ اور اس کے پاس بیٹھنے والا ایسا ہے جیسے اس کی کھال اتارنے کی جگہ میں بیٹھنے والا۔ اور اس کو حکم دیا جائے کہ وہ اس (خون) میں سے وضو کرلے اور چوسر یعنی نرد اور شطرنج کے برابر ہے۔ (75) امام ابن ابی الدنیا نے یحییٰ بن ابی کثیر ؓ سے روایت کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو نرد سے کھیل رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لہو ولعب کرنے والے دل اور ہاتھ عمل کرنے والے اور لغو کلام کرنے والی زبانیں۔ (76) امام ابن ابی الدنیا نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نرد عجمی لوگوں کا جوا ہے۔ (77) امام ابن ابی الدنیا نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ شطرنج، نرد میں سے ہے۔ ہم کو یہ بات ابن عباس ؓ سے پہنچی ہے کہ وہ ایک یتیم کے مال کے والی بنے۔ تو آپ ؓ نے نرد کو جلا دیا۔ (78) امام ابن ابی الدنیا نے عبید اللہ بن عمیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن عمر ؓ سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ نرد سے بھی بری چیز ہے۔ (79) امام ابن ابی الدنیا نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ مجوسیوں کا عمل ہے اس کے ساتھ مت کھیلو۔ (80) امام ابن ابی الدنیا نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ اہل شام میں سے ایک آدمی کو دیکھا گیا کہ وہ ہر دن ہر مؤمن کے لئے بارہ مرتبہ مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ مگر شطرنج والوں کے لئے نہیں کرتا۔