5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اسے یاد کرو، جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا سو اس نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

ایک دیہاتی کا آپ ﷺ پر تلوار اٹھانا (1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور امام بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ ایک منزل پر اترے لوگ چھوٹے درختوں کے نیچے متفرق ہوگئے۔ ان کے نیچے سایہ لے رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اپنا اسلحہ ایک درخت کے ساتھ لٹکا دیا ایک دیہاتی آپ کی تلوار کی طرف آیا اور اس کو لے لہرانے لگا۔ پھر وہ نبی ﷺ پر متوجہ ہو کر کہنے لگا۔ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ۔ دیہاتی نے دو مرتبہ کہا کہ مجھ سے کون بچائے گا ؟ اور نبی ﷺ فرماتے رہے۔ اللہ (بچائے گا) پھر دیہاتی نے تلوار کو میان میں رکھ دیا۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو بلایا۔ اور اس دیہاتی کے طرز عمل کے بارے میں ان کو بتایا (کہ اس نے اس طرح مجھ پر تلوار اٹھائی) اور وہ دیہاتی بھی آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور یہ بھی وہ کہتے تھے کہ عرب میں سے ایک قوم نے غفلت میں نبی ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس دیہاتی کو بھیجا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم (2) امام حاکم نے حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے اور اس کی تصحیح بھی کی کہ رسول اللہ ﷺ نے محارب خصفہ سے نحل کے مقام پر لڑائی کی کافروں نے مسلمانوں سے غفلت میں دیکھا۔ تو ان میں سے ایک آدمی جس کو غوث بن حارث کہا جاتا ہے آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سر پر کھڑا ہوگیا۔ اور کہنے لگا کون تجھ کو بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ۔ اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ نبی ﷺ نے اٹھا لی اور فرمایا (اب) کون تجھ کو بچائے گا ؟ اس نے کہا بہترین تلوار اٹھانے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ سے نہیں لڑوں گا۔ اور اس قوم کا ساتھ بھی نہیں دوں گا۔ جو آپ سے لڑے۔ آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا۔ میں تمہارے پاس لوگوں میں بہترین آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔ جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے خوف کی نماز پڑھائی۔ دو جماعتوں میں تھے ایک جماعت دشمن کے آگے تھی اور ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جماعت دشمنوں کے سامنے چلی گئی ان کی جگہ پر وہ جماعت رک گئی جو دشمن کے سامنے تھی۔ یہ لوگ آئے اور رات کو بھی رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ صحابہ کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور نبی ﷺ کی چار رکعت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد (3) ابن اسحاق اور ابو نعیم نے دلائل میں حسن (رح) کے طریق سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی قبیلہ بنو محارب میں سے جس کو غوث بن حارث کہا جاتا تھا اس نے اپنی قوم سے کہا میں تمہارے لئے محمد ﷺ کو قتل کر دوں ؟ لوگوں نے اس سے کہا تو کس طرح قتل کرے گا۔ تو اس نے کہا میں غفلت میں ان کے پاس جاؤں گا۔ یہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا آپ تشریف فرما تھے اور آپ کی تلوار آپ کی گود میں تھی کہنے لگے یا محمد میں آپ کی تلوار کو دیکھ سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (دیکھ لے) اس نے تلوار کو لیا اس کو (میان سے) نکال لیا اور حرکت دینے لگا اور حملہ کرنے کا ارادہ کرنے لگا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا کہنے لگا اے محمد تو مجھ سے نہیں ڈرتا حالانکہ میرے ہاتھ میں تلوار ہے پھر اس نے وہ تلوار رسول اللہ ﷺ کو واپس کردی۔ (اس پر یہ آیت) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ (4) ابو نعیم نے دلائل میں عطاء (رح) کے طریق سے اور امام ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ عمرو بن امیہ ضمری جب معونہ سے واپس لوٹا تو دو آدمی بنو کلب میں سے اس کو ملے جو رسول اللہ ﷺ سے امان لئے ہوئے تھے۔ اس نے ان دونوں کو قتل کردیا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی امان میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ ابو بکر، عمر اور علی ؓ بھی تھے۔ بنو نضیر والوں نے آپ سے ملاقات کی اور کہنے لگے مرحبا اے ابو القاسم ! آپ کس لئے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایک آدمی نے میرے صحابہ میں سے بنو کلاب کے دو آدمیوں کو قتل کردیا ان دونوں کے ساتھ میری امان تھی۔ قبیلہ والوں نے مجھ سے ان دونوں کی دیت طلب کی ہے میں نے تم سے مدد لینے کا ارادہ کیا ہے۔ کہنے لگے ہاں (ٹھیک ہے) آپ تشریف رکھیں ہم آپ کے لئے پیسے جمع کرتے ہیں آپ قلعہ کے نیچے بیٹھ گئے اور ابو بکر، عمر اور علی ؓ بھی۔ بنو نضیر نے مشورہ کیا کہ آپ پر ایک پتھر گرا دیں۔ جبرئیل تشریف لائے اور ان کے ارادے سے آپ کو مطلع فرمایا آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم (5) ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے اس طرح روایت کیا ہے عروہ ؓ سے بھی روایت نقل ہے اور اس میں یہ زیادہ ہے کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کو جلا وطنی کا حکم فرمایا جب انہوں نے (آپ کو قتل کرنے کا) ارادہ کیا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے گھر سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہاں جائیں آپ نے فرمایا حشر کی طرف۔ (6) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن منذر نے عاصم بن عمرو بن قتادہ اور عبد اللہ بن ابی بکر دونوں حضرات سے یہ روایت نقل کہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو نضیر کے پاس عامریین کی دیت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لئے تشریف لے گئے۔ جن کو عمرو بن امیہ ضرر (رح) نے قتل کردیا تھا۔ جب آپ ان کے پاس آئے تو ان کے بعض لوگوں نے تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کیا اور انہوں نے (آپس میں) کہا تم ہرگز محمد کو اس سے زیادہ قریب نہ پاؤ گے جتنا اب ہیں۔ ایک آدمی کو حکم کرو کہ وہ اس گھر کی چھت پر چڑھ کر ان کے اوپر ایک پتھر گرا دے تاکہ ہم اس سے آرام پائیں۔ عمر بن حجاش بن کعب نے کہا میں (اس کام کے لئے حاضر ہوں) نبی ﷺ کے پاس یہ خبر آئی (وحی کے ذریعہ) تو آپ وہاں سے چل دئیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں (یہ آیت) اتاری اور اس کے بارے میں جو اس نے اور اس کی قوم نے ارادہ کیا تھا۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم (7) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہودی ہیں نبی ﷺ ان کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور آپ کے صحابہ ؓ اس کی دیوار کے پیچھے تھے۔ ان سے ایک دیت کے بارے میں مدد طلب فرما رہے تھے۔ پھر آپ ان کے پاس سے کھڑے ہوگئے کیونکہ انہوں نے آپس میں ان کے قتل کرنے کا مشورہ کیا تھا۔ آپ الٹے پاؤں چل رہے تھے سامنے ہوتے ہوئے تاکہ ان کی طرف دیکھتے رہیں۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک ایک آدمی کو بلایا یہاں تک کہ وہ دیت آپ کی طرف لے کر آگئے۔ یہود کی شرارت وعدہ خلافی (8) ابن جریر نے یزید بن زیاد ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ بنو نضیر کے پاس ایک دیت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لئے تشریف لائے آپ کے ساتھ ابو بکر، عمر اور علی ؓ بھی تھے۔ آپ نے (ان سے) فرمایا میری مدد کرو ایک دیت کے بارے میں جو مجھ کو پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہاں اے ابوالقاسم آپ ہمارے پاس آئے ہیں اور اپنی حاجت کا آپ نے سوال کیا ہے۔ آپ تشریف رکھیں یہاں تک کہ ہم آپ کو کھانا کھلائیں اور وہ چیز ہم آپ کو پیش کریں۔ جس کا آپ نے ہم سے سوال کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے۔ حسین بن أخطب آیا اور جس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہم اس کو (یعنی محمد ﷺ اپنے سے زیادہ قریب دیکھتے ہو آپ اس پر ایک پتھر گرا دو اور اس کو قتل کر دو اور تم برائی کو پھر کبھی نہیں دیکھو گے۔ (نعوذباللہ) ۔ اور اپنی ایک بڑی چکی کے پاس آئے تاکہ اس کو آپ پر گرا دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو روک دیا۔ یہاں تک کہ جبرئیل آپ کے پاس تشریف لائے تو آپ ان کے درمیان سے کھڑے ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ اتارا لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم الایہ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خبر دی جو انہوں نے ارادہ کیا تھا۔ (9) عبد بن حمید، ابن جریر نے سعد کے طریق سے اور انہوں نے ابو مالک سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کیا۔ (10) ابن جریر اور ابن منذر عکرمہ ؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے منذر بن عمر (رح) کو بھیجا (العقبہ کے نقیب تھے) انصار اور مہاجرین کے تیس سواروں کے ساتھ غطفان کی طرف یہ سوار بنو غطفان سے عامر کے چشموں میں سے ایک چشمہ پر ملے ایک دوسرے سے لڑے منذر بن عمر اور اس کے ساتھی قتل کر دئیے گئے مگر تین آدمی بچ گئے جو گم شدہ اونٹنی کی طلب میں (باہر گئے ہوئے) تھے دن کو کسی سے خوف زدہ نہیں کیا۔ مگر پرندے جو آسمان کی فضا میں اڑ رہے تھے ان کی چونچوں سے جما ہوا خون گر رہا تھا۔ (یہ دیکھ کر) ان لوگوں نے کہا ہمارے ساتھی قتل کر دئیے گئے رحمن کی قسم ان میں سے ایک آدمی چلا اور ایک آدمی سے ملا دونوں ایک دوسرے کو ضرب لگانے لگے جب اس آدمی کو ایک ضرب لگی تو اس نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی پھر اپنی آنکھوں کو اٹھایا۔ اور کہا اللہ اکبر رب العالمین کی قسم جنت ہے وہ اس کی گردن پکڑ لی تاکہ وہ مرجائے اس کے دونوں ساتھی چلے اور بنو سلیم میں سے دو آدمیوں میں سے انہوں نے ان دونوں کو بنو عامر کی طرف منسوب کرتے ہوئے ان کو قتل کردیا حالانکہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان معاہدہ تھا ان کی قوم کے لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان دونوں کی دیت کا مطالبہ کیا نبی ﷺ چلے اور آپ کے ساتھ ابو بکر، عمر، عثمان علی طلحہ زبیر اور عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے۔ یہاں تک کہ بنو نضیر کے پاس پہنچے ان دونوں کی دیت کے بارے میں ان سے مدد کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں ہم مدد کریں گے۔ یہود نے باہم اتفاق کیا (خفیہ طور پر کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کو قتل کردینے کا) انہوں نے کھانا پکانے کا حیلہ کیا۔ جب جبرئیل آپ کے پاس اس سازش کی خبر لائے جو یہودیوں نے دھوکہ کا ارادہ کیا تھا۔ آپ (جلدی) سے چلے گئے۔ پھر علی کو واپس بھیجا اور فرمایا اپنی اس جگہ رہو جو کوئی میرے صحابہ میں سے تیرے پاس سے گزرے اور وہ میرے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ آپ مدینہ کی طرف چلے گئے ہیں آپ ﷺ سے جا کر ملو۔ حضرت علی ؓ کے پاس جو لوگ گزرتے تھے تو وہ ان کو وہی کہتے تھے جس کا نبی ﷺ نے حکم فرمایا یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی علی کے پاس آیا پھر صحابہ کے پیچھے ہو لئے۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (11) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا کہ یہودیوں میں سے ایک قوم نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے لئے کھانا تیار کیا تاکہ ان سب کو قتل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے حکم فرمایا کہ وہ بھی کھانے کو نہیں گئے۔ (12) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی اور آپ بطن نخل کے مقام پر دوسرے غزوہ میں تھے بنو ثعلبہ اور بنو محارب نے ارادہ کیا کہ دھوکہ سے قتل کردیا جائے اللہ تعالیٰ نے اس پروگرام پر مطلع فرمادیا۔ ہم کو یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ ایک آدمی آپ کو قتل کرنے کے کئے آگے بڑھا۔ وہ اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی تلوار رکھی ہوئی تھی اس نے کہا میں اس کو لے لوں یا رسول اللہ ! فرمایا لے لو اس نے پھر کہا کیا میں تلوار سونت لوں فرمایا ہاں سونت لو اور کہنے لگا مجھ سے تم کو کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھ کو تم سے بچائے گا۔ نبی ﷺ کے اصحاب ؓ نے اس کو دھمکایا اس کو سخت ڈانٹا تو اس نے تلوار کو میان میں رکھ دیا۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو کوچ کرنے کا حکم فرمایا تو اس وقت آپ پر خوف کی نماز کا حکم نازل ہوا۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نمائندے بھیجے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور ان کی مدد کرو، اور اللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو میں ضرور تمہارے گناہوں کا کفارہ کروں گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی سو اس کے بعد تم میں سے جو شخص کفر اختیار کرے وہ راہ راست سے دور جا پڑا۔

(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت نقل کی ہے لفظ آیت ولقد اخذ اللہ میثاق نبی اسرائیل کے بارے میں فرمایا اللہ نے ان سے پکے وعدے لئے کہ وہ خالص اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں گے فرمایا لفظ آیت وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا یعنی اس طرح ہم نے ان میں سے بارہ نقیب بنائے اور ان کو ان پر اس بات کا ضامن بنایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان وعدوں پر وفا کریں گے۔ ان سے وعدہ لئے تھے۔ نبی اسرائیل کے لئے بارہ چشمے پھوٹنا (2) عبد بن حمید ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت نقل ہے کہ لفظ آیت اثنی عشر نقیبا سے مراد ہے کہ بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں ایسے لوگ ہوتے جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے جبارین کی طرف بھیجا۔ انہوں نے اس حال میں بتایا کہ ان جیالوں میں سے ایک کی بغل میں دو دو نقیب آجاتے ہیں اور ان کے انگوروں کا ایک گچھا پانچ آدمی اٹھاتے ہیں اور انار کے ایک حصے سے جب دانے نکالے جائیں تو چار یا پانچ آدمی داخل ہوسکتے ہیں وہ نقیب لوٹ آئے ہر ایک ان میں سے روکتا تھا اپنے قبیلہ کو ان کے ساتھ قتال کرنے سے مگر ہوشع بن نون کالب بن باقیہ نے قبیلوں کو جبارین سے لڑنے کا حکم دیا ان کے قبیلوں نے ان کی نافرمانی کی اور دوسرے کی اطاعت کی یہی دو نقیب تھے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا بنو اسرائیل چالیس سال تک ریگستان میں سرگرداں پھرتے رہے۔ صبح کرتے تھے جہاں سے شام کو چلتے تھے۔ اور شام کرتے تھے جہاں سے صبح کو چلتے تھے۔ موسیٰ نے پتھر کو مارا ہر قبیلہ کے لئے ایک چشمہ تھا یہ ایک پتھر تھا جس کو وہ اپنے ساتھ اٹھاتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے گدھو پیو ! اللہ تعالیٰ نے اس کو منع کردیا ان کو برا بھلا کہنے سے اور فرمایا وہ میری مخلوق ہے ان کو گدھا نہ بناؤ اور سبط، بنو فلاں کے ہر خاندان کو کہتے ہیں۔ (3) ابن جریر (رح) نے سدی سے نقل کیا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اریحاء کی طرف چلنے کا حکم فرمایا اور یہ بیت المقدس کی زمین ہے۔ یہ لوگ چلے یہاں تک کہ اس کے قریب ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے نبی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے بارہ نقیب بھیجے یہ لوگ اس ارادہ سے چلے کہ جباروں کی خبر لے آئیں جبارین میں سے ایک آدمی کی ان سے ملاقات ہوئی جس کو عاج کہا جاتا تھا۔ اس نے ان بارہ آدمیوں کو اپنے نیفے میں ڈال لیا حالانکہ اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا بھی تھا ان کو لے کر وہ اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ ان لوگوں کی طرف دیکھ جو ہم سے لڑنے کا ارادہ کرتے ہیں اور ان کو اس کے آگے پھینک دیا اور کہا میں ان کو اپنے پاؤں سے پیس ڈالوں اس کی بیوی نے کہا بلکہ ان کو چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنی قوم کو جا کر بتائیں جو کچھ انہوں نے دیکھا اس نے ایسے ہی کیا جب یہ لوگ اپنی قوم کی طرف گئے تو ان کے بعض نے کہا اے قوم اگر تم نے بنی اسرائیل کو اس قوم کی خبر دی تو وہ اللہ کے نبی سے پھرجائیں گے۔ لیکن تم اس کو چھپالو (ان کو نہ بتاؤ) پھر جب وہ لوٹے تو ان میں سے دس آدمیوں نے وعدہ توڑ دیا اور ہر ایک نے ان میں سے اپنے بھائی کو اور اپنی ماں کو بتادیا جو کچھ انہوں نے عاج سے دیکھا تھا۔ لیکن ان میں سے دو آدمیوں نے چھپائے رکھا۔ یہ دونوں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کو سارا حال بتایا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا (4) امام عبد بن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے نقل کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا کے بارے میں فرمایا کہ ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی کو گمراہ بنایا جو اپنی قوم پر گواہی دینے والا تھا۔ (5) امام ابن جریر نے ربیع (رح) سے نقل کیا کہ لفظ آیت النقباء سے مراد ہے امانت دار (6) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قول لفظ آیت اثنی عشر نقیبا کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ بارہ وزیر تھے جو اس کے بعد انبیاء بنے پوچھا کیا عرب کے لوگ (اس معنی سے) واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے سنا وانی بحق قائل لسراتھا مقالۃ نصح لا یضیع نقیبھا ترجمہ : اور یقیناً میں حق کی تقسیم اس کے سرداروں کو نصیحت کی بات کہنے والا ہوں اخلاص کی بات کو ان کے وزیر پر ضایع نہیں کرتے۔ (7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت اثنی عشر نقیبا کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ بنی اسرائیل میں ہے موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کو بھیجا تاکہ وہ شہر کی طرف دیکھیں (کہ وہاں کے کیا حالات ہیں) وہ ایک دانہ ان کے پھلوں میں سے لے آئے اس کو دیکھ کر بنی اسرائیل فتنہ میں پڑگئے اور انہوں نے کہا ہم لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اور تیرا رب جا کر لڑے (ہم تو یہیں بیٹھے ہیں) (8) ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں میں سے دس آدمی اگر میری تصدیق کردیں اور مجھ پر ایمان لے آئیں اور میری تابعداری کرلیں تو ہر یہودی اسلام لے آئے گا ! کعب بن اشرف بارہ افراد کے برابر تھا۔ اور اس کی تصدیق سورة مائدہ میں ہے لفظ آیت وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا (9) امام احمد اور حاکم نے ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ ان سے پوچھا گیا اس رات کے کتنے خلیفے بادشاہ بنیں گے۔ تو انہوں نے فرمایا ہم نے اس اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا بارہ بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح (10) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان بارہ نقیبوں سے فرمایا آج کے دن جاؤ اور مجھے ان کے بارے میں بیان کرو اور جو کچھ ان کو حکم فرمایا اور تم خوفزدہ نہ بنو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معکم (تمہارے ساتھ ہیں) (11) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لفظ آیت وعزرتموھم سے مراد ہے تم ان کی مدد کرو۔ (12) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعزرتموھم سے مراد ہے تم ان کی مدد کرو۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ تعزیر اور توقیر کے معنی مدد کرنا اور اطاعت کرنا ہے۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

سو ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو ملعون قرار دے دیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت بنا دیا وہ کلمات کو ان کے مواقع سے بدل دیتے ہیں اور وہ اس نصیحت کا بہت بڑا حصہ بھول گئے جو انہیں ذکر کی گئی تھی۔ اور آپ برابر ان کی طرف سے کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے باستثناء تھوڑے سے لوگوں کے، سو آپ انہیں معاف فرمائیے اور درگزر کیجئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوبی کا معاملہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فبما نقضھم میثاقھم سے وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات والوں سے لیا لیکن انہوں نے اس کو توڑ دیا۔ (2) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا شعبہ نے لفظ آیت فما نقضھم کے بارے میں فرمایا یعنی ان کو توڑنے کی وجہ سے (وعدہ کو ) (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے لفظ آیت فبما نقضھم میثاقھم لعنھم کے بارے میں فرمایا کہ وعدہ توڑنے سے بچو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس میں وعید اور وعدہ کو ذکر فرمایا اور اس کو قرآن میں سے کئی آیتوں میں ذکر فرمایا بطور مقدمہ کے بطور نصیحت کے اور بطور حجت کے اور یہ بات مسلم ہے سمجھ والوں عقل والوں اور علم والوں کے نزدیک کہ اس عظمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑا قرار دیدیا ہم کسی ایسے گناہ کو نہیں جاتے جس میں وعدہ تو کرنے سے بڑھ کر اس وعید رکھی گئی جو۔ (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت یحرفون الکلم عن مواضعہ کے بارے میں فرمایا یعنی انہوں نے اللہ کی حدود کو تورات میں (بدل ڈالا) اور کہتے ہیں اگر محمد ﷺ تم کو حکم دیں اس دین کے ساتھ جن پر تم ہو تو اس کو قبول کرلینا اور اگر وہ تمہاری مخالفت کریں تو (اس سے) بچ جانا۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ونسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کتاب کو بھول گئے۔ اللہ کے احکام کو بھلانا قابل مذمت ہے (6) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ونسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کتاب کو بھول گئے۔ (7) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ونسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب کو بھول گئے جب ان پر نازل کی گئی۔ (8) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ونسوا حظا سے مراد ہے کہ وہ انہوں نے ایک حصے کو چھوڑ دیا۔ (9) امام ابن جریر، حسن (رح) نے لفظ آیت ونسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا اور ان لطائف کو چھوڑ دیا کہ جن کے ساتھ ہی اعمال قبول ہوتے ہیں۔ (10) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو بھلا دیا اور اس وعدہ کو بھی جو وعدہ ان کی طرف لیا گیا تھا۔ اور اس حکم کو بھی جو ان کو دیا گیا تھا۔ اور انہوں نے اپنے فرائض کو بھلا دیا اور اس کی حدود معطل کردیا اور اس کے رسولوں کو قتل کیا اور اس کی کتاب کو پھینک دیا۔ (11) امام ابن مبارک اور احمد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا میرا گمان ہے کہ انسان علم کو بھول جاتا ہے جس کو وہ جانتا تھا۔ اس گناہ کی وجہ سے جو وہ کرتا ہے۔ (12) امام عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم سے مراد یہودی ہے یعنی ان کی ان جیسی خیانوں پر آپ مطلع ہوتے رہیں گے جیسے خیانت انہوں نے اس وقت کی جب آپ انسان کے باغ میں ان کے پاس تشریف لے گئے۔ (13) امام عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت میں انہوں نے لفظ آیت ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم کے بارے میں قتادہ سے کہ اللہ تعالیٰ مطلع فرماتے رہیں گے۔ ان کی خیانت پر، جھوٹ پر اور گناہوں پر اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت فاعف عنھم واصفح کا معنی یہ ہے کہ اس دن ان کو ان سے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اس کو معاف کر دو اور ان سے درگزر کرو۔ پھر یہ حکم برأۃ والی آیت سے منسوخ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لفظ آیت قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر (سورۃ توبہ 29)
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں ان سے ہم نے پختہ عہد لیا سو وہ اس چیز کا بڑا حصہ بھول گئے جس کے ذریعہ ان کو نصیحت کی گئی سو ہم نے قیامت کے دن تک ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو ڈال دیا اور عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں جتلا دے گا جو کام وہ کیا کرتے تھے۔

(1) امام عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ومن الذین قالوا انا نصری کے بارے میں فرمایا یہ لوگ ایک بستی میں تھے جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا۔ عیسیٰ بن مریم وہاں تشریف لے جاتے تھے۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن الذین قالوا انا نصری کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بستی تھی جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا عیسیٰ وہاں تشریف لے گئے یہ ایسا ہی نام ہے جو خود انہوں نے اپنے لئے رکھا تھا حالانکہ ان کو اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول لفظ آیت میثاقھم فنسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب کو بھول گئے اپنے درمیان اور اللہ کے عہد (کو بھول گئے) جو ان سے عہد لیا گیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم (کو بھول گئے) جو ان کو حکم دیا گیا تھا۔ اور اپنے فرائض کو انہوں نے ضائع کیا پھر فرمایا لفظ آیت فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ یعنی ان کے درمیان اللہ تعالیٰ نے دشمنی اور بغض ڈال دیا تھا۔ ان کے برے اعمال کی وجہ سے اور اگر قوم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور حکم پر کار بند رہتی ہو نہ آپس میں متفرق ہوتے اور نہ آپس میں بغض رکھتے۔ (3) امام ابو عبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابراہیم (رح) سے روایت ہے لفظ آیت فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ یعنی ان کے بعض لوگوں نے بعض کو اکسایا جھگڑوں پر اور آپس میں جنگ و جدل پر دین کے بارے میں (4) عبد بن حمید اور ابن جریر نے ابراہیم سے اس آیت کے بارے میں فرمایا میرے نزدیک اس آیت میں اغرار کا معنی مختلف خواہشات ہیں۔ (5) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف (یہ حکم) بھیجا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو تھوڑی قیمت کے بدلے نہ بیچیں اور حکمت کو سکھاؤ اور اس پر معاوضہ نہ لو۔ مگر تھوڑے لوگوں کے علاوہ اس پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ انہوں نے حکم میں رشوت لی اور حدود سے تجاوز کیا۔ (اس نے) یہود کے بارے میں فرمایا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا۔ لفظ آیت فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ
Ayahs 5:15–17

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تحقیق آیا تمہارے پاس ہمارا رسول جو تم سے بہت سی ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن کو تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سے چیزوں سے درگزر کرتا ہے، بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور ایک ایسی کتاب آئی ہے جو واضح بیان کرنے والی ہے۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو سلامتی کے راستے بتاتا ہے جو اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں اور ان کو اپنے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور انہیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

البتہ تحقیق انہوں نے کفر کیا جنہوں نے یوں کہا کہ بیشک اللہ مسیح ابن مریم ہے، آپ فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ کو اور جو کچھ بھی زمین میں ہے ان سب کو ہلاک فرمانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ سے بچائے اور اللہ ہی کے لیے ہے ملک آسمانوں کا اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

(1) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) نے فرمایا کہ جب سموئل بن صوریا نے یہ بتلایا کہ نبی ﷺ نے رجم کے بارے میں سچ فرمایا ہے جو ان کی کتاب میں موجود ہے اور اس نے کہا ہم اس (حکم) کو چھپاتے تھے تو وہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب اور وہ سفید رنگ کا نوجوان تھا لمبے قد کا فدک والوں میں ہے۔ توراۃ اور قرآن کریم کی مشترکہ باتیں (2) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت یبین لکم کثیرا یعنی بہت باتوں کو تمہارے لئے محمد ﷺ نے بیان فرمایا جو ہمارے رسول ہیں ان لوگوں میں سے تم لوگوں سے چھپاتے ہو۔ اور ان کو تم بیان نہیں کرتے ہو ان چیزوں میں سے جو تمہاری کتابوں میں اور ان چیزوں میں سے جن کو وہ اپنی کتاب سے چھپاتے تھے۔ ان کو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے لئے بیان فرمایا اور وہ شادی شدہ زنا کرنے والوں کو رحم کرنے کا حکم تھا۔ (3) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کی کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے تاکہ ان سے رحم کے بارے میں سوال کریں کہ حضور ﷺ نے اس کو ذات کا واسطہ دیا جس نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا اور وہ ذات جس نے ان پر طور پہاڑ اٹھایا تھا وعدہ لینے کے لئے جو ان سے لیا گیا۔ کیا تم رحم کو اپنی کتاب میں پاتے ہو ابن صوریا نے کہا جب ہمارے اندر (زنا کے واقعات) کثرت سے ہونے لگے تو ہم سو کوڑے مارنے لگے اور ہم نے سروں کو مونڈ دیا تو آپ نے ان پر رجم کا فیصلہ فرما دیا۔ اور (اس پر) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت یاھل الکتب سے لے کر لفظ آیت الی صراط مستقیم تک (4) امام ابن الضریس والنسائی وابن جریر وابن ابی حاکم والحاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کیا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس نے رجم کا انکار کیا گویا اس نے قرآن کا اس طرح انکار کیا کہ اسے پتہ ہی نہ چلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخلفون من الکتب فرمایا کہ رجم کرنا انہی چیزوں میں سے تھا جن کو وہ چھپاتے تھے (5) امام عبد بن حمید سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ویعفوا عن کثیر کے بارے میں فرمایا کہ وہ قوم کے گناہ کو معاف کرتا ہے محمد ﷺ انہیں مٹانے کے لئے تشریف لائے اگر وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں تو آپ ان سے درگزر فرماتے۔ (6) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے لفظ آیت یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم کے بارے میں فرمایا اللہ کا وہ راستہ جس کو اس نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا اور ان کو اس کی طرف بلایا۔ اور اسی کے ساتھ رہے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے اسلام اور اللہ تعالیٰ کسی کا کوئی عمل قبول نہیں فرمائے گا مگر اس (اسلام) کے ساتھ یہودیت کے ساتھ نصرانیت کے ساتھ اور مجوسیت کے ساتھ (واللہ تعالیٰ اعلم)
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود و نصاریٰ نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں آپ فرما دیجئے کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کے سبب کیوں عذاب دے گا ؟ بلکہ تم اس کی مخلوق میں سے بشر ہو وہ بخشے گا جس کو چاہے اور عذاب دے گا جس کو چاہے اور اللہ تعالیٰ ہی کا ملک ہے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابن ابی، بحری بن عمرو اور شاس بن عدی کے پاس آئے ان سے آپ نے بات کی اور انہوں نے آپ سے بات کی اور ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے اے محمد ہم کو مت ڈرائیے اللہ کی قسم ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں جیسے نصاری کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحباوہ سے آخری آیت تک (واللہ اعلم) قولہ تعالیٰ لفظ آیت قل فلم یعذبکم ایک عورت کا اپنے بچے سے محبت کا ذکر (2) امام احمد نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ گزرے جبکہ ایک بچہ راستہ میں تھا۔ جب اس بچے کی ماں نے ان لوگوں کو دیکھا تو خوف کرنے لگی کہ ایسا نہ ہو کہ میرے بچے کو روند ڈالیں۔ وہ جلدی جلدی دوڑتی ہوئی آئی اور کہہ رہی تھی میرا بیٹا میرا بیٹا اور ماں نے اس کو اٹھا لیا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈالے گی۔ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ کبھی اپنے محبوب کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ (3) امام احمد نے الزھد میں حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو عذاب میں نہیں ڈالتا لیکن اس کو دنیا کی آزمائش میں ڈالتا ہے۔ (4) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی ہے کہ لفظ آیت یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء سے مراد ہے اللہ تعالیٰ جس کو دنیا میں چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور پھر اس کو بخش دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اس کو کفر پر مارتے ہیں پھر اس کو عذاب دیتے ہیں۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو ایسے وقت میں تمہارے لئے بیان کرتا ہے جبکہ رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا تاکہ تم یوں نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا نہیں آیا، سو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی ہے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ ان کو اس سے رغبت دلائی اور ان کو ڈرایا تو انہوں نے انکار کردیا تو معاذ بن جبل، سعد بن عتادہ اور عقبہ بن وہب ؓ نے ان سے کہا اے یہود کی جماعت اللہ سے ڈرو، اللہ کی قسم تم البتہ جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں تم ہم کو ان کے آ نے سے پہلے بتلایا کرتے تھے اور ہم کو ان کی صفات بیان کیا کرتے تھے۔ رافع بن حریملہ اور وھب بن یہود نے کہا ہم نے تم کو کوئی بات نہیں کہی۔ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے بعد کوئی کتاب نہیں اتاری۔ اور نہ کسی بشر اور نذیر کو ان کے بعد بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں سے لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل کے بارے میں فرمایا وہ محمد ﷺ ہیں جو حق کو لے کر آئے تو حق اور باطل کو امتیاز کیا اس میں بیان ہے نور ہدایت اور عظمت ہے۔ اور بچاؤ سے امید کے لئے جو اس کو پکڑے اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان فترہ کا عرصہ (یعنی درمیانی) چھ سو سال تھا جو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چاہا۔ (3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے معمر کے طریق سے قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ لفظ آیت علی فترۃ من الرسل یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان پانچ سو ساٹھ سال کا عرصہ تھا۔ معمر اور کلبی نے کہا کہ پانچ سو چالیس سال کا عرصہ تھا۔ (4) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کی کہ فترۃ کا عرصہ پانچ سو سال تھا۔ (5) امام ابن جریر نے صحاک (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ اور محمد ﷺ کے درمیان کا زمانہ چار سو تیس سال سے کچھ اوپر تھا۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمہیں عطا فرمائی جبکہ اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔

(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت واذقال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں نبی بنایا اور تم کو مالک بنایا لوگوں کی گردنوں کا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو نے شک اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ (2) امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذقال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا کے بارے میں فرمایا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے نبی اسرائیل پہلے لوگ تھے کہ ان کے لئے خادم بنائے گئے بنو آدم میں سے اور دوسرے لوگوں کے مالک بنے۔ (3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلکم ملوکا کہ ان کو خادموں کا مالک بنایا گیا۔ یعنی پہلے لوگ تھے جو خادموں کے مالک بنے۔ (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلکم ملوکا کہ جب کوئی آدمی بنی اسرائیل میں سے بیوی خادم اور گھر رکھتا تو اس کو بادشاہ کہا جاتا۔ (5) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت وجعلکم ملوکا سے بیوی خادم اور گھر مراد ہے۔ (6) امام الفریابی، ابن جریر، ابن منذر، حاکم (اس کو صحیح بھی کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت اذجعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا کہ تم کو بیوی اور خادمہ کا مالک بنایا لفظ آیت واتکم مالم یوت احدا من العلمین اور عالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے دور میں تھے۔ (7) امام ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں سے جب کسی کے پاس خادم، سواری اور عورت ہوتی تو اس کو بادشاہ کہا جاتا۔ (8) امام ابن جریر اور زبیر بن بکار نے موفقیات سے زید بن اسلم (رح) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے لئے گھر اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے۔ (9) امام ابو داؤد نے مراسیل میں زید ابن اسلم (رح) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس گھر اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے۔ (10) امام ابو داؤد نے مراسیل میں زید بن اسلم (رح) سے روایت کہ ہے کہ لفظ آیت وجعلکم ملوکا کے بارے میں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوی گھر اور خادم (جس کے پاس ہو وہ بادشاہ ہے) (11) امام سعید بن منصور اور ابن جریر نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کی ہے کہ ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کیا ہم فقراء مہاجرین میں نہیں ہیں فرمایا کیا تیری بیوی نہیں جس کے پاس تو جاتا اس نے کہا ہاں بیوی ہے (پھر فرمایا) کیا تیرے پاس رہائش کی جگہ نہیں جس میں تو رہتا اس نے کہا ہاں۔ فرمایا پھر تو اغنیاء میں سے ہے اس نے کہا میرے لئے ایک خادم بھی ہے فرمایا پھر تو بادشاہوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (12) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلکم ملوکا سے کیا مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے لئے بیویاں اور خادم اور گھر بنائے پھر فرمایا لفظ آیت واتکم ما لم یوت احدا من العلمین یعنی بند ترنجبین پتھر اور بادل (سایہ کرتا تھا) (13) امام ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا لفظ آیت وجعلکم ملوکا جس سے مراد سواری خادم اور گھر ہے۔ (14) امام ابن جریر نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت واتکم مالم یوت احدا من العلمین کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ترنجبین اور بٹیریں (ان کو عطا فرمائیں جو کسی اور کو نہیں دی گئیں)
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میرے قوم ! مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور پیچھے واپس مت لوٹو ورنہ نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔

(1) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت الارض المقدسۃ سے مراد ہے برکت والی۔ (2) امام ابن منذر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کہ وہ زمین جو عریش کے درمیان سے لے کر فرات تک ہے۔ (3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت الارض المقدسۃ سے شام کی (کی زمین) مراد ہے۔ (4) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت التی کتب اللہ لکم یعنی اللہ تعالیٰ تم کو اس کا حکم فرماتے ہیں۔ (5) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم اس طرح دیا جس طرح ان کو زکوٰۃ کا حج کا اور عمرہ کا حکم دیا۔
Ayahs 5:22–23

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! یہ واقعی بات ہے کہ اس سر زمین میں بڑے زبردست لوگ ہیں، اور بیشک اس بستی میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک لوگ نہ نکل جائیں گے۔ سو اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوجائیں گے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

دو آدمیوں نے کہا جو ڈرنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا تھا کہ تم لوگ ان پر دروازے سے داخل ہوجاؤ۔ سو جب تم اس میں داخل ہو گے تو بلاشبہ تم غلبہ پانے والے ہو گے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔

(1) امام ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے لفظ آیت ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ان کے ایسے جسم اور ایسی صورتیں تھیں کہ ان کے علاوہ کسی کی نہیں تھیں۔ (2) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت قالوا یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم سے زیادہ لمبے تھے جسم کے لحاظ سے اور سخت قوت والے تھے۔ (3) امام ابن عبد الحکم نے فتوح مصر میں ابو ضمرہ (رح) سے روایت کیا موسیٰ کی قوم سے ستر آدمیوں نے عمالیق میں سے ایک آدمی کے موزوں کے نیچے سایہ حاصل کیا۔ (4) امام بیہقی نے شعب الایمان میں زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے انہیں دکھایا گیا کہ بچو اور اس کے بچے ہوتے ہوئے دیکھے گئے عمالقہ میں سے ایک آدمی کی آنکھ سے گھڑے میں۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک لاٹھی لی اور اس میں سے کسی چیز کو ناپا پھر زمین میں اندازہ لگایا پچاس یا پچپن (ذراع) کا پھر فرمایا اس طرح عمالیق لمبے تھے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ کو جبارین کے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چل دئیے اس طرح پر کہ یہاں تک کہ شہر سے قریب اترے اور وہ شہر ریحا تھا۔ ان کی طرف بارہ لوگوں کو بھیجا ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی روانہ کیا تاکہ وہ اس قوم کی خبر کے آئیں وہ شہر میں داخل ہوئے تو عمالقہ کی ہیئت جسم اور عظمت کا عجیب معاملہ دیکھا۔ ان کے ایک باغ میں داخل ہوگئے۔ باغ والا آیا تاکہ وہ اپنے باغ کا پھل کو جمع کرنا شروع کیا۔ ان لوگوں کے نشانات اس نے دیکھے تو ان کے پیچھے لگ گیا ان میں سے جب بھی کسی کو پایا تو اس کو پکڑ لیا اور اس کو اپنی آستین کے ساتھ پھل کے ساتھ رکھ لیا اور ان کو اپنے بادشاہ کے پاس لے گیا اور اس کے سامنے ان کو پھینک دیا۔ بادشاہ نے کہا تم نے ہمارے شان و شوکت اور ہمارے معاملہ کو دیکھ لیا تم چلے جاؤ اپنے صاحب کو جا کر بتادو یہ لوگ موسیٰ کی طرف لوٹے اور ان کے معاملے میں جو کچھ دیکھا تھا وہ ان کو بتادیا۔ موسیٰ نے فرمایا اس حل کو ہم سے چھپائے رکھو۔ ایک آدمی نے اپنے والد کو اپنے دوست کو بتایا شروع کیا اور کہتا تھا کہ میری طرف سے چھپائے رکھو۔ مگر یہ بات ان کے لشکر میں پھیل گئی۔ اور ان میں کسی نے نہیں چھپایا مگر دو آدمیوں نے یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے اور یہ وہی دو حضرات ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت قال رجلن من الذین یحافون جبارین کے شہر میں داخلہ (7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ادخلوا الارض المقدسۃ کے بارے میں فرمایا کہ یہ جبارین کا شہر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم وہاں پہنچی تو ان میں سے بارہ آدمیوں کو بھیجا اور یہی وہ لقب تھے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ یہ ان کی خبر لے آئیں۔ یہ لوگ چلے اور جبارین میں سے ایک آدمی سے ملے اس نے ان سب کو اپنے کپڑے میں اٹھا لیا۔ ان کو اٹھا کر شہر میں لے آیا۔ اور اپنی قوم میں گرائے اس پر وہ لوگ اکٹھے ہوگئے۔ ان لوگوں نے کہا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم موسیٰ کی قوم میں سے ہیں ہم کو تمہاری خبر لینے کے لئے بھیجا ہے انہوں نے ان کو انگور میں سے ایک دانہ دیا۔ جو ایک آدمی کو کافی ہوگیا۔ اور انہوں نے ان سے کہا موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے پاس جاؤ اور ان سے کہنا ان کے پھلوں کا اندازہ کرلو۔ جب وہ لوگ آئے تو کہنے لگے اے موسیٰ لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا قعدون (المائدہ 24) اور کہا لفظ آیت قال رجلن من الذین یخافون انعم اللہ علیھما جو لوگ ان میں خوف خدا رکھتے تھے۔ دونوں شہر کے لوگوں میں سے تھے جو اسلام لا چکے تھے۔ اور انہوں نے موسیٰ کی تابعداری کی تھی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا لفظ آیت ادخلوا علیھم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غلبون (تم ان پر دروازہ سے داخل ہوجاؤ جب تم ان پر داخل ہوگئے تو تم غالب ہوجاؤ) (8) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال رجلن سے مراد یوشع بن نون اور کالب ہیں۔ امام عبد بن حمید نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال رجلن میں رجلان سے مراد کالب اور یوشع بن النون تھے موسیٰ کے نوجوان ساتھی تھے۔ (10) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابی منذر قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے لفظ آیت من الذین یخافون انعم اللہ علیھما کے بارے میں فرمایا کہ بعض قرأت میں لفظ آیت یخافون انعم اللہ علیھما (11) امام ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یخافون یاء کہ ضمہ کے ساتھ۔ (12) امام ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کی کہ یہ دونوں دشمن قوم میں سے تھے پھر وہ بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی بن گئے۔ (13) امام حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت رجلن من الذین یخافون یاء کے رفع کے ساتھ ہے۔ (14) عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کی وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت من الذین یخافون یاء کے نصب کے ساتھ لفظ آیت یخافون میں (15) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کی لفظ آیت قال رجلن من الذین یخافون انعم اللہ علیھما یعنی انعام فرمایا ساتھ ہدایت کے پس دونوں ہدایت والے ہوگئے۔ دونوں دین موسیٰ پر تھے اور دونوں جبارین کے شہر میں رہتے تھے۔ (16) امام ابن جریر نے سہل بن علی (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت قال رجلن من الذین یخافون انعم اللہ علیھما سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر خوف کے ساتھ انعام کیا۔ (17) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت قال رجلن من الذین یخافون انعم اللہ علیھما کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں نصیبوں میں سے تھے۔ اور دوسرا قول لفظ آیت ادخلوا علیھم الباب کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ جبارین کی بستی ہے۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم ہرگز کبھی بھی اس میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ اس میں موجود ہیں لہٰذا تو اور تیرا رب دونوں جائیں پھر دونوں جنگ کرلیں بیشک ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

(1) امام احمد النسائی اور ابن حبان نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو مسلمانوں سے مشورہ فرمایا اس میں عمر ؓ نے اشارہ کیا پھر ان سے مشورہ طلب کیا تو انصار سے کہا اے انصار کی جماعت کہ رسول اللہ ﷺ خاص کر تمہارا ارادہ رکھتے ہیں (کہ تمہاری کیا رائے ہے) اس پر انصار نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے جیسا بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر ان کے جگر کے ٹکڑوں کو برک الغماد تک لے جائیں ہم آپ کی اتباع کریں گے۔ (2) امام احمد اور ابن مردویہ نے عتبہ بن عبد السلمی سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم جہاد نہیں کرو گے ؟ سب نے کہا کیوں نہیں اور ہم ایسا نہیں کریں گے جیسے کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ کو کہا تھا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون لیکن آپ اور آپ کا رب جا کر لڑنے لگیں ہم آپ کے ساتھ لڑنے والے ہوں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے بےوفائی کا ذکر (3) امام احمد نے طارق بن شہاب سے روایت کیا اور انہوں نے مقدار ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے بدر کے دن رسول اللہ ﷺ سے فرمایا یا رسول اللہ ! ہم ایسا نہیں کریں گے جیسے بنو اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون لیکن آپ اور آپ کا رب جا کر لڑے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑنے والے ہوں گے۔ اگر میں اس کے مقام پر ہوتا۔ (4) امام بخاری، الحاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مقداد بن اسود کو اپنے مقام کہ کاش ہم دوسرے مقام محبوب ہوتا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ آپ مشرکین کے خلاف بلا رہے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسے بنو اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون لیکن ہم لڑیں گے آپ کی دائیں طرف سے آپ کی بائیں طرف سے، آپ کے آگے سے، آپ کے پیچھے سے، میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو اس بات سے چمک اٹھا اور آپ اس بات سے خوش ہو رہے تھے۔ (5) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ بات ذکر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا حدیبیہ کے دن جب مشرکین نے ہدی کے جانوروں کو روک دیا تھا اور ان کے بعد ان کو عمرہ کی ادائیگی کے درمیان حائل ہوگئے تھے کہ میں اپنی ہدی کو لے جاؤں گا۔ اور اس کو بیت اللہ کے پاس ذبح کروں گا۔ مقداد بن اسود ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم بنی اسرائیل کی جماعت کی طرح نہیں ہوں گے جب انہوں نے اپنے نبیوں سے کہا تھا کہ لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! بیشک میرے بس میں صرف میری جان اور میرا بھائی ہے، لہٰذا ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان فیصلہ فرما دیجئے۔

(1) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی ہے کہ موسیٰ غصہ ہوئے جب قوم نے ان سے کہا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون تو ان پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت فقال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین اور یہ جلد بازی تھی جو موسیٰ نے (اس بددعا کرنے میں) جلد بازی فرمائی اور جب ان کو میدان میں سزا ملی (کہ چالیس سال تک اس میں گھومتے رہے) تو موسیٰ (اس پر) نادم ہوگئے جب نادم ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی فرمائی۔ اور فرمایا لفظ آیت فلا تاس علی القوم الفسقین کہ اس قوم پر غم نہ کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے فاسقین کا نام دیا ہے۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت فافرق بیننا وبین القوم الفسقین کے بارے میں فرمایا کہ ہمارے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دیں۔