Ayahs 5:87–88حلال چیزوں کو حرام قرار دینا سخت گناہ ہے
(1) امام ترمذی (اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن عدی نے الکامل میں، الطبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ جب میں گوشت کھاتا ہوں۔ تو میری طبیعت میں عورتوں کے انتشار پیدا ہوجاتا ہے اور مجھے شہوت پکڑ لیتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا۔ اس پر (یہ آیت) لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت صحابہ کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عضو تناسل کو کاٹ دیں اور دنیا کی شہوت کو ترک کردیں۔ اور زمین میں اس طرح سیاحت کریں۔ جس طرح راھب سیاحت کرتے ہیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی تو ان کو بلا بھیجا اور ان سے فرمایا کیا تم نے یہ بات کی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں نبی ﷺ نے فرمایا میں روزے رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جس نے میری نسبت کو اپنایا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نسبت کو چھوڑ دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابو داؤد نے مراسیل میں اور ابن جریر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم (یہ آیت) عثمان بن مظعون اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ انہوں نے اپنی جانوں پر بہت سی حلال چیزوں اور عورتوں کو حرام کرلیا تھا۔ اور ان میں سے بعض لوگوں نے اپنے عضو تناسل کو بھی کاٹنے کا ارادہ کیا تھا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
سنت کی پیروی نجات کی کنجی ہے
(4) امام بخاری اور مسلم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی ازواج سے آپ کے تنہائی کے معاملات کے بارے میں پوچھا یہ سن کر ان میں سے بعض نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ اور بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور بعض نے کہا میں بستر میں نہیں سوؤں گا۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کو کہ ان میں سے ایک اس طرح اور اس طرح کہتا ہے۔ میں روزہ بھی رکھتا ہوں۔ اور افطار بھی کرتا ہوں۔ سو بھی جاتا ہوں اور (عبادت کے لئے) کھڑا بھی ہوجاتا ہوں۔ اور گوشت بھی کھاتا ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(5) امام بخاری، مسلم، ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن ابی حاتم، ابن حبان اور بیہقی نے اپنی سنن میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے کہا کیا ہم خصی نہ ہوجائیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کام سے منع فرمایا۔ اور ہم کو اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے کے عوض ایک مدت کے لئے نکاح کرلیں۔ پھر عبد اللہ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین
(6) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے خصی ہونے اور گوشت اور عورتوں کو ترک کرنے کا ارادہ کیا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین
(7) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ سے نبی ﷺ کے اصحاب کی جماعت میں سے ایک آدمی تھے۔ ان کے بعض ساتھیوں نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ دوسرے نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا تیسرے نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا۔ چوتھے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا افطار نہیں کروں گا۔ اللہ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(8) امام ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم سے مراد ہے کہ (بعض) لوگوں نے خوشبو اور گوشت کو حرام کرلیا تھا۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔
(9) امام عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ دنیا کو چھوڑ دیں گے۔ اور عورتوں کو بھی چھوڑ کر رہبانیت اختیار کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر ان کے بارے میں سخت گفتگو کی پھر فرمایا تم سے پہلے لوگ بھی اس سختی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب انہوں نے اپنے آپ پر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں ان کی باقیات میں ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ حج کرو عمرہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے استعفاف طلب کرو وہ تم کو استقامت عطا فرمائے گا۔ ان کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(10) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم (یہ آیت) نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ان میں علی بن ابی طالب ؓ اور عثمان بن مظعون ؓ تھے۔
(11) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم کے بارے میں ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عورتوں اور گوشت کو چھوڑ دیا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے لئے گرجا گھروں میں عمارتیں بنا لیں۔ یہ بات جب رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا میرے دین میں نہیں ہے عورتوں اور گوشت کو چھوڑنا۔ اور گرجا گھروں میں عبادت کرنا اور ہم کو یہ بھی خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تین آدمیوں نے اتفاق کیا ان میں سے ایک نے کہا میں ساری رات قیام کروں گا اور نہیں سوؤں گا۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ دن کو روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا میں عورتوں کے پاس نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف ایک آدمی کو بھیج کر (ان کو بلوایا) پھر (ان سے) فرمایا کیا تم نے فلاں فلاں چیز پر اتفاق کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ اور ہمارا خیر کے علاوہ کوئی ارادہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لیکن میں تو رات کو عبادت کرتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ عورتوں کے پاس بھی آتا ہوں۔ پس جو شخص میرے طریقے سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں اور بعض روایت میں الفاظ اس طرح سے ہیں جس نے تیرے طریقے سے اعراض کیا وہ تیری امت میں سے نہیں ہے۔ اور وہ شخص سیدھے راستے سے گمراہ ہوا۔
(12) امام ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے ابو عبید الرحمن ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں تو تم کو حکم نہیں دیتا کہ تم درویش اور راہب بن جاؤ۔
رھبانیت کی ممانعت
(13) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن تشریف فرما تھے کہ کچھ لوگوں کا ذکر ہوا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور اس کو خوب خبر دی۔ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا جو دس تھے۔ ان میں علی بن ابی طالب ؓ اور عثمان بن مظعون ؓ بھی تھے کہ ہم (عبادت کا) حق ادا کرنے والے نہ ہوں گے جب تک کہ ہم کوئی (نیا) کام شروع نہ کریں۔ نصاری نے اپنے آپ پر (کچھ چیزیں) حرام کی تھی ہم بھی اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔ تو ان کے بعض نے گوشت اور چربی کا کھانا حرام کردیا اور بعض نے نیند کو حرام کرلیا۔ اور بعض نے عورتوں کو حرام کردیا۔ اور عثمان بن مظعون ؓ ان میں سے تھے جنہوں نے عورتوں کو حرام کرلیا کہ وہ اپنی بیوی کے قریب نہ ہوتے تھے۔ اور نہ وہ ان کے قریب ہوتی تھیں۔ ان کی بیوی عائشہ ؓ کے پاس آئی۔ جس کو حولاء کہا جاتا تھا۔ عائشہ ؓ اور دوسری ازواج مطہرات جو عائشہ ؓ کے اردگرد بیٹھی ہوتی تھیں۔ اس عورت سے کہا۔ اے حولاء تیرا کیا حال ہے۔ رنگ بدلا ہوا، نہ کنگھی کرتی ہے، نہ خوشبو لگاتی ہے۔ اس نے کہا میں کس لئے خوشبو لگاؤں اور کنگھی کروں۔ جبکہ میرا خاوند میرے پاس نہیں آتا اور اس نے میرا پردہ نہیں ہٹایا اتنی مدت سے۔ ازواج مطہرات اس کی بات سننے لگیں۔ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے تو وہ ہنس رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کیوں ہنس رہی ہو ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ حولاء ہے میں نے اس کا حال پوچھا۔ تو اس نے کہا میرے خاوند نے اتنے عرصہ سے مجھ سے کپڑا نہیں اٹھایا اتنی مدت سے، آپ نے اس کو بلوایا اور اس سے فرمایا اے عثمان تیرا کیا حال ہے۔ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کو اللہ کے لئے چھوڑ دیا ہے تاکہ میں اس کی عبادت کرسکوں۔ اور اس کی حمد کرسکوں اور سب واقعہ بیان فرمایا۔ اور عثمان ؓ نے ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنی شرم گاہ کو کاٹ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ تو رجوع کرلے اور اپنی بیوی سے جماع کر۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میں روزے سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا افطار کر۔ اور افطار کر کے اپنی بیوی کے پاس آجا۔ حولاء عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سرمہ لگایا ہوا تھا کنگھی کی ہوئی تھی اور خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ عائشہ ؓ ہنس پڑی اور کہا حولاء تجھے کیا ہوا۔ اس نے کہا کہ گزشتہ روز وہ میرے پاس آگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا حال ہے قوموں کا جنہوں نے عورتوں کو کھانے کو اور نیند کو حرام کرلیا خبردار میں سوتا بھی ہوں اور عبادت کے لئے کھڑا بھی ہوتا ہوں۔ افطار کرتا ہوں۔ اور روزے بھی رکھتا ہوں۔ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا۔ وہ مجھ سے نہیں تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا عثمان ؓ سے فرمایا اپنی شرم گاہ کو نہ کاٹو۔ کیونکہ یہ حد سے گزرنا ہے۔ اور ان کو حکم فرمایا کہ اپنی قسموں کا کفارہ ادا کریں جنہوں نے قسمیں اٹھائیں تھیں۔ لفظ آیت لا یوخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم (المائدہ آیت 89) (یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں فرماتا)
(14) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مردوں نے ارادہ کیا ان میں سے عثمان بن مظعون عبد اللہ بن عمرو بھی تھے کہ وہ دنیا میں آسائشوں سے الگ تھلک ہوجائیں اور اپنے آپ کو خصی کرلیں اور ٹاٹ کا لباس پہنیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم اور وہ آیت جو اس کے بعد ہے۔
(15) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابوالشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون علی بن ابی طالب، ابن مسعود، مقداد بن اسود اور سالم مولی ابی حذیفہ اور قدامہ ؓ نے دنیا سے قطع تعلق اختیار کرلی۔ اور گھروں میں بیٹھ گئے عورتوں کو چھوڑ دیا ٹاٹ کا لباس پہن لیا۔ اور عمدہ کھانوں اور عمدہ لباس کو حرام کرلیا۔ انہوں نے وہ کھانا کھانے اور وہی لباس پہننے کا ارادہ کیا اور سیاحت کرنے والی بنی اسرائیل میں سے استعمال کرتے تھے۔ اور انہوں نے خصی ہونے کا ارادہ کیا اور رات کو عبادت کرنے اور دن کو روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا تم میں تمہاری جانوں کا بھی حق ہے۔ تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے۔ تمہاری بیوی کا بھی حق ہے۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو۔ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے طریقہ کو چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا اے اللہ ہم نے سچ مان لیا۔ اور ہم نے تابعداری کی جو آپ نے رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا۔
(16) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ جن میں عثمان بن مظعون بھی تھے انہوں نے گوشت اور عورتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور استرے لے لئے تاکہ اپنی شرمگاہیں کاٹ دیں تاکہ اس نے شہوت ختم ہوجائے۔ اور اپنے رب کی عبادت کے لئے فارغ ہوجائیں نبی ﷺ کو اس بات کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا تم نے کیا ارادہ کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم چاہتے تھے کہ اپنی شہوت کو ختم کرلیں تاکہ اپنے رب کی عبادت کے لئے فارغ ہوجائیں۔ اور لوگوں سے بےنیاز ہوجائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن میں اپنے دین میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں عورتوں سے نکاح کروں ان لوگوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا سے لے کر لفظ آیت واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون تک نازل فرمائی انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اپنی قسموں کا کیا کریں جو ہم نے اس پر قسمیں کھائی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان (المائدہ آیت 89)
(17) امام ابن مردویہ نے حسن عربی (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے شہوات کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(18) امام ابو الشیخ نے ابن جریر کے طریق سے مغیرہ بن عثمان ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون، علی، ابن مسعود، مقداد اور عمار ؓ نے اپنے آپ کو خصی کرنے اور گوشت حرام کرنے اور ٹاٹ کا لباس پہننے کا ارادہ کیا۔ نبی ﷺ عثمان بن مظعون کے پاس تشریف لائے اور اس بارے میں ان سے پوچھا۔ عرض کیا کچھ تو ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ کپڑے بھی پہنتا ہوں، نہ عورتوں سے الگ ہوا اور نہ میں نے رہبانیت اختیار کی۔ لیکن میں تو دین حنیف لایا ہوں جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا۔ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ بن جریج نے کہا یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
عبد اللہ بن رواحہ ؓ کی قسم
(19) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن رواحہ ؓ کے ہاں ان کے خاندان میں سے ایک مہمان آیا جبکہ حضرت عبد اللہ نبی ﷺ کے پاس گئے ہوئے تھے جب عبداللہ اپنے گھر لوٹے تو ان کو دیکھا کہ مہمانوں نے ان کا انتظار میں کھانا نہیں کھایا۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میری وجہ سے تو نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا (کھانا) مجھ پر حرام ہے۔ ان کی بیوی نے کہا یہ کھانا مجھ پر بھی حرام ہے۔ مہمان نے کہا مجھ پر بھی حرام ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو اپنے ہاتھ کو (کھانے میں) رکھ دیا اور فرمایا کھاؤ اللہ کے نام کے ساتھ پھر نبی ﷺ کی خدمت میں جا کر ان کو (سارے واقعہ کی) خبر دی نبی ﷺ نے فرمایا تو نے درست چیز پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(20) امام عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم حرام کی ان کی طرف تجاوز نہ کرو۔
(21) امام عبد بن حمید نے مغیرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم ؓ سے اس آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو یہاں پر اس چیز کو حرام کردیتا ہے۔ ان چیزوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں۔
(22) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا وہ آدمی جو قسم اٹھا لیتا ہے کہ میں اپنی بیوی سے نہیں ملوں گا۔ یا بعض ایسی چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے جو اللہ نے حلال فرمائیں تو وہ اس کام کو کرلیتا ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرتا ہے۔
(23) امام ابن سعد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے چند طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ معقل بن مقرن ؓ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے بستر کو اپنے اوپر ایک سال کے لئے حرام کرلیا ہے۔ انہوں نے فرمایا اپنے بستر پر سو جا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم آخر آیت تک۔
(24) امام بخاری، ترمذی، دار قطنی نے ابو حجیفہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے سلمان (رح) اور ابو الدرداء کے درمیان مواخاۃ قائم فرمائی چناچہ سلمان نے ام الدرداء کو بہت خستہ حالت میں دیکھا۔ اس نے کہا تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا تیرے بھائی ابوالدرداء ؓ کو دنیا میں کوئی حاجت نہیں۔ ابو الدرداء آئے تو انہوں نے ان کے لئے کھانا تیار کیا۔ انہوں نے کہا میں روزہ سے ہوں۔ سلمان نے فرمایا میں نہیں کھاؤں گا۔ جب تک کہ تو نہیں کھائے گا۔ تو ابو الدرداء نے کھانا کھایا۔ جب رات ہوئی تو ابو الدرداء عبادت کے لئے کھڑے ہوگئے۔ سلمان ؓ نے کہا سو جاؤ۔ تو وہ سو گئے لیکن پھر کھڑے ہوگئے پھر انہوں نے کہا سو جاؤ جب آخری رات ہوئی تو سلمان نے فرمایا اب کھڑے ہوجاؤ تو دونوں نے نماز (تہجد) پڑھی سلمان نے اس سے فرمایا۔ تیرے رب کے لئے تیرے اوپر حق ہے تیری جان کو تیرے اوپر حق ہے۔ تیری بیوی کا تیرے اوپر حق ہے اور ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرو۔ یہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کو ساری بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا سلمان نے سچ کہا۔
صوم داؤدی کی اجازت
(25) امام بخاری، مسلم، ابو داؤد اور نسائی نے عبد اللہ بن عمر بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے بتایا گیا ہے کہ تو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات بھر قیام کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بات ایسے ہی ہے آپ نے فرمایا ایسا مت کرو روزہ رکھو اور افطار بھی کرو رات کو عبادت بھی کرو اور نیند بھی کیا کرو کیونکہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔ تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اور تجھ کو یہ کافی ہے کہ تو ہر تین ماہ روزہ رکھ لیا کر اس لئے کہ تیرے لئے ہر نیکی پر دس گناہ ثواب ملے گا۔ تو اس طرح یہ تیرے لئے تمام زمانے کے روزے ہوجائیں گے۔ میں نے عرض کیا میں زیادہ قوت پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا پھر اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) والے روزے رکھ، اس پر زیادہ نہ کر، میں نے کہا اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے کون سے روزے تھے ؟ آپ نے فرمایا آدھا زمانہ (یعنی ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھ لیتے تھے)
(26) امام عبدالرزاق نے مصنف میں سعید بن مسیب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک جماعت ان میں علی بن ابی طالب اور عبید اللہ بن عمر ؓ بھی تھے۔ انہوں نے جب عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی اور گھروں میں بیٹھ گئے۔ اور خصی ہونے کا ارادہ کیا اور یہ سب لوگ رات بھر قیام کرتے اور دن بھر روزہ رکھنے پر جمع ہوگئے۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کو بلوا کر فرمایا میں نماز بھی پڑھتا ہوں، سفر بھی جاتا ہوں۔ روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جو شخص میرے طریقے سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(27) امام عبد الرزاق اور طبرانی سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون (رح) کی بیوی میرے پاس آئی اس کا نام خولہ بنت حکیم تھا ان کی خستہ حالت تھی۔ میں نے ان سے پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میرا خاوند رات بھی قیام کرتا ہے دن بھر روزہ رکھتا ہے۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ نبی ﷺ عثمان سے ملے اور فرمایا اے عثمان رہبانیت ہمارے اوپر فرض نہیں کی گئی۔ کیا تیرے لئے مجھ میں اسوہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سے زیادہ اس کے حدود کی حفاظت کرنے والا ہوں۔
(28) امام عبد الرزاق نے ابو قلابہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دنیا سے علیحدگی اختیار کی وہ ہم میں سے نہیں
(29) امام ابن سعد نے ابن شہاب (رح) سے روایت کی ہے کہ عثمان بن مظعون ؓ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو خصی کرلیں اور عبادت کے لئے زمین میں سیاحت کیا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا میرے اندر تیرے لئے اسوہ نہیں ہے ؟ میں اپنی بیویوں کے پاس جاتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، میری امت کا خصی ہونا روزہ رکھنا ہے۔ میری امت میں وہ شخص نہیں ہے جس نے خصی کیا یا خصی ہوا۔
(30) امام ابن سعد نے ابو بردہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے پاس آئی انہوں نے اس کو بری حالت میں دیکھا اور اس سے پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا ہمارے لئے اس میں سے کوئی چیز نہیں (یعنی میرے شوہر سے میرا کوئی حق نہیں) رات بھر وہ قیام کرتا ہے۔ دن بھر روزہ رکھتا ہے۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے یہ بات ان کو بتائی۔ آپ نے عثمان ؓ سے ملاقات فرمائی اور فرمایا اے عثمان بن مظعون ! کیا تیرے لئے مجھ میں اسوہ (یعنی نمونہ عمل) نہیں ہے۔ اس نے عرض کیا کیا معاملہ ہے۔ فرمایا کہ تو دن بھرروزہ رکھتا ہے۔ اور رات بھر عبادت کرتا رہتا ہے۔ اس نے عرض کیا میں اسی طرح کرتا ہوں فرمایا اس طرح نہ کر، تیری آنکھ کے لئے بھی تجھ پر حق ہے۔ تیرے جسم کے لئے بھی تجھ پر حق ہے۔ تیری بیوی کے لئے بھی تجھ پر حق ہے۔ نماز بھی پڑھ اور سو بھی جا۔ روزہ رکھ اور افطار بھی کر۔ (اس کے بعد) (عثمان بن مظعون کی بیوی) ان کے پاس عطر لگا کر آئی گویا کہ وہ دلہن تھی۔ ہم نے اس سے کہا ذرا خیال رکھو اس نے کہا ہمارے ساتھ بھی وہ سلوک ہو جو لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
(31) امام ابن سعد نے ابو قلابہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ سے ایک کمرہ بنایا تاکہ اس میں اللہ کی عبادت کریں۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو۔ آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور کمرے کے دروازے کے دونوں کو اڑوں کو پکڑ کر فرمایا جس میں حضرت عثمان موجود تھے اے عثمان ! اللہ تعالیٰ نے مجھ کو رہبانیت کا حکم دے کر نہیں بھیجا۔ (دو یا تین مرتبہ آپ نے فرمایا) بلاشبہ بہترین دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک سیدھا اور آسان دین ہے۔
(32) امام طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ کی بیوی خوبصورت تھی۔ عطر لگانے والی پسندیدہ لباس اور پسندیدہ شکل بنانے والی تھی اپنے شوہر کے لئے۔ عائشہ ؓ نے اس کو دیکھا خستہ حال میں تھی۔ عائشہ ؓ نے فرمایا یہ تیرا کیا حال ہے۔ اس نے کہا نبی ﷺ کے اصحاب میں سے علی بن ابی طالب، عبداللہ بن رواحہ اور عثمان بن مظعون ؓ تھے۔ ان لوگوں نے عبادت کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔ اور عورتوں کو چھوڑ دیا۔ گوشت کھانا چھوڑ دیا، دن بھر روزہ رکھتے رات بھر قیام کرتے ہیں۔ جب کہ اس نے مجھ سے علیحدگی اختیار کرلی تو میں نے ناپسند کیا کہ میں اس کو اپنا (اچھا) حال دکھاؤں۔ نبی ﷺ تشریف لائے عائشہ نے ان کو بتایا۔ نبی ﷺ نے اپنا جوتا مبارک بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سے شہادت کی انگلی سے اٹھایا۔ پھر جلدی جلدی چل کر ان کے پاس تشریف لائے۔ ان سے ان کے حال کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا ہم نے خیر کا ارادہ کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں سیدھا اور آسان دین دیکر بھیجا گیا ہوں۔ اور میں اس کے ساتھ نہیں بھیجا گیا جو بدعت ہے۔ خبردار بلاشبہ (سابقہ) قوموں میں رہبانیت کو شروع کیا وہ ان پر فرض کردی گئی اور وہ اس کا حق ادا نہیں کرسکے خبردار گوشت کھاؤ، عورتوں کے پاس آؤ، روزہ رکھو اور نہ بھی رکھو نماز پڑھو اور سو بھی جاؤ میں اس کا حکم دیا گیا ہوں۔
(33) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کو عورت کا خرچہ اٹھانے کی طاقت ہو یا جو عورت سے جماع کرنے پر قادر ہو۔ تو اس کو چاہئے کہ نکاح کرلے۔ کیونکہ وہ آنکھ کو جھکانے والی ہے۔ اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والی ہے۔ اور جو شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہو (یعنی محتاج وناداری) تو اس کو چاہئے وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کو خصی بنا دے گا۔ یعنی اس کو شہوت کو کم کر دے گا۔
(34) امام عبد الرزاق نے عثمان بن مظعون ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ایک نوجوان کے پاس سے گزر رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا جو شخص تم میں سے طاقت رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ نکاح کرلے۔ کیونکہ یہ آنکھوں کو جھکانے والی اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والی ہے۔ اور جو شخص اس کی طاقت نہ رکھے تو اس کو چاہئے کہ وہ روزے رکھے۔ کیونکہ یہ شہوت کو کم کر دے گا۔
(35) امام عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ اگر دنیا سے میرے لئے صرف ایک دن باقی ہو تو میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ اس میں بھی میرے لئے بیوی ہو۔
(36) امام عبد الرزاق نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے فرمایا کیا تو نے شادی کی ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا تو تو احمق ہے یا تو تاجر ہے۔
نکاح اعتدال میں مسنون ہے
(37) امام عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ نے ابراہیم بن میسرہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو طاؤس (رح) نے فرمایا تم ضرور نکاح کرو یا میں تم کو وہ بات ضرور کہوں گا جو حضرت عمر ؓ نے ابو الزوائد کو فرمائی تھی کہ تجھ کو نکاح سے کوئی چیز نہیں روکتی مگر عجز یا فجور۔
(38) امام عبد الرزاق نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ مجرد یعنی کنوارے (مردوں یا عورتوں) کی مثال اس درخت کی ہے جو کسی جنگل میں ہو اور جس کو ہوائیں کبھی اس طرف کبھی اس طرف گھماتی ہیں۔
(39) امام عبد الرزاق نے سعید بن ہلال ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا نکاح کرو تاکہ تمہاری کثرت ہوجائے بلاشبہ میں قیامت کے دن تہماری وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔
(40) امام ابن سعد، ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون کے اس ارادے کو کہ وہ عورتوں سے نکاح نہ کریں گے رد کردیا اگر آپ ان کو اجازت دیتے ہیں تو ہم خصی ہوجاتے۔
(41) امام ابن سعد اور بیہقی نے شعب الایمان میں عائشہ بنت قدامہ بن مظعون کے طریق سے اور وہ اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے اپنی بھائی عثمان بن مظعون ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جہاد میں مجھ پر مجرد رہنا بہت بھاری گزرتا ہے۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھ کو خصی ہونے کے بارے میں اجازت دیتے ہیں تاکہ میں خصی ہوجاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اے ابن مظعون ! تجھ پر روزے رکھنا لازم ہے کیونکہ وہ منی کو سکھانے والا ہے (یعنی شہوت کو کم کردیتے ہیں) ۔
(42) امام احمد نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے الگ رہنے سے منع فرمایا۔
(43) امام ابن ابی شیبہ نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے عورتوں سے الگ رہنے سے منع فرمایا۔
(44) امام احمد، البخاری، مسلم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کی بیویوں سے ان کی چھپی ہوئی عبادت کے بارے میں پوچھا (اس کے جواب میں) ان میں سے بعض نے کہا۔ میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ اور ان کے بعض نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور اس کے بعض نے کہا میں بستر میں نہیں سوؤں گا۔ اور ان کے بعض نے کہا میں روزہ رکھوں گا۔ اور افطار نہیں کروں گا۔ آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا جنہوں نے اس طرح اور اس طرح کہا۔ لیکن میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں، میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، میں عورتون سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جو شخص میرے طریقے سے نے رغبتی کرے گا تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(45) امام عبد الرزاق اور بیہقی نے سنن میں عبید اللہ بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص میری فطرت کو پسند کرے اس کو چاہئے کہ میرے طریقے کو اختیار کرے اور میرا طریقہ نکاح کرنا ہے۔
(46) امام بیہقی نے سنن میں میمون اور ابی مغلس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص خوشحال ہو اس کو چاہئے کہ وہ نکاح کرے جو شخص نکاح نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں۔
(47) امام عبد الرزاق نے ایوب ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے طریقہ کو اختیار کیا وہ مجھ سے ہے اور میرا طریقہ نکاح کرنا ہے۔
شادی نہ کرنے والا شیطان کا بھائی
(48) امام عبد الرزاق اور احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جس کو عکاف بن بشیر تمیمی کہا جاتا تھا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تیری بیوی ہے۔ اس نے کہا نہیں پھر آپ نے پوچھا اور کوئی باندھی بھی نہیں ہے ؟ عرض کیا نہیں پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تو خوشحال ہے ؟ میں نے کہا ہاں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تب تو تو شیطان کے بھائیوں میں سے ہے۔ اگر تو نصاری میں سے ہوتا تو ان کے راہبوں میں سے ہوتا کیونکہ ہماری سنت میں نکاح کرنا ہے۔ تمہارے برے لوگ تمہارے بغیر بیویوں والے ہیں تم میں سے سب سے زیادہ ذلت والی موت اس کی ہوتی ہے جو بیوی کے بغیر زندگی بسر کرتے ہیں کیا شیطان سے تم کھیلتے ہو شیطان کے لئے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے نیک لوگوں میں مگر شادی شدہ لوگ کہ یہ لوگ پاکیزہ ہوتے ہیں اور فحش گوئی سے محفوظ بھی ہوتے ہیں۔ افسوس ہے تجھ پر اے عکاف یہی لوگ ساتھ ہوں گے۔ ایوب کے داؤد کے، یوسف کے اور کرسف کے بشیر بن عطیہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کرسف کون ہے ؟ فرمایا وہ ایک آدمی تھا جو سمندر کے ساحلوں میں سے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ کی عبادت کرتا رہا۔ دن بھر روزہ رکھتا اور رات بھر قیام کرتا تھا۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات کے ساتھ کفر کیا ایک عورت کے سبب جس پر وہ عاشق ہوگیا تھا۔ اپنے رب کی عبادت کو چھوڑ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی عمل کی وجہ سے اپنی رحمت میں لے لیا اور نظر کرم فرماتے ہوئے اس کی توبہ قبول فرمائی (پھر آپ نے فرمایا) اے عکاف شادی کرلے ورنہ تو متذبذب لوگوں میں سے ہوئے گا۔
(49) بیہقی نے شعب الایمان میں عطیہ بن یسر سے روایت کیا انہوں نے کہا کہ عکاف بن وداعہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا اے عکاف کیا تیری بیوی ہے اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تیری باندی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا اور تو تندرست اور خوشحال ہے۔ اس نے کہا ہاں الحمد للہ تو آپ نے فرمایا پھر تو اس وقت شیاطین میں سے ہے۔ یا تو نصاری کے راہبوں میں سے ہوجایا تو ہم میں سے ہوجا۔ اور تو (وہ کام) کر جسے ہم کرتے ہیں۔ اور ہماری سنت میں ہے نکاح کرنا۔ تم میں سے سب سے ذلت والی موت اس کی ہوگی جو تنہائی زندگی بسر کرتا ہے۔ کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو۔ شیطان کا صالحین کے بارے میں سب سے مؤثر ہتھیار عورتیں ہیں۔ مگر وہ صالح جو شادی شدہ ہوتے ہیں، پاکیزہ ہوتے ہیں۔ اے عکاف تجھ پر افسوس ہے تو شادی کرلے کیونکہ یہ عورتیں داؤد (علیہ السلام) ، ایوب (علیہ السلام) ، یوسف علیہ السلم اور کرسف والیاں ہیں۔ عطیہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کرسف کون تھا ؟ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا سمندروں کے ساحلوں میں سے ایک ساحل پر دن بھر روزہ رکھتا رات کو قیام کرتا، نہ چھوڑتا تھا نماز کو اور نہ روزے کو پھر اس کے بعد اس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کردیا۔ ایک عورت پر عاشق ہونے کے سبب سے۔ اور اپنے رب کی عبادت کو چھوڑ بیٹھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے سابقہ عمل کی وجہ سے دامن رحمت میں لے لیا۔ اور اس کی توبہ کو قبول فرمایا افسوس ہے تجھ پر تو شادی کرلے ورنہ تو تذبذبین میں سے ہوجائے گا۔
(50) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور امام بیہقی نے ابو نجیح (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی خوشحال ہو۔ تو اس کو چاہئے کہ وہ کام کرلے جو نکاح نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(51) سعید بن منصور اور بیہقی نے ابو نجیح (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگرچہ اس کے پاس مال ہو آپ نے فرمایا اگرچہ وہ مال کی وجہ سے غنی ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا وہ عورت مسکین ہے۔ مسکین ہے اور مسکین ہے جس کا خاوند نہ ہو۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ غنی ہو اور مال کی کثرت والی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ وہ ایسی ہو۔
امام بیہقی نے کہا ابو نجیح کا نام بسار تھا۔ یہ عبداللہ بن ابی نجیح کا والد تھا اور حدیث مرسل ہے۔
(52) سعید بن منصور، احمد اور بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو نکاح کرنے کا حکم فرماتے تھے اور ہم کو عورتوں سے علیحدہ رہنے سے سخت منع فرماتے تھے۔ اور فرماتے تھے ایسی عورت سے نکاح کرو محبت کرنے والی ہو اور بہت بچے جننے والی ہو۔ اس لئے کہ میں قیامت کے دن انبیاء پر تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔
(53) امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ نکاح کرتا ہے تو اس نے اپنا آدھا دین مکمل کرلیا۔ تو اس کو چاہئے کہ اب آدھے دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔
(54) امام بیہقی نے ایک اور سند سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نیک عورت عطا فرمائیں تو (گویا) انہوں نے اس کے آدھے دین میں اس کی مدد فرمائی۔ اب اس کو چاہئے کہ وہ باقی آدھے (دین) میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
بنی اسرائیل کا ایک عابد
(55) امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں سے ایک عبادت کرنے والا آدمی تھا۔ اور وہ اپنی غار میں گوشہ نشین تھا۔ بنی اسرائیل اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے۔ اس درمیان کہ یہ لوگ اپنے نبی کے پاس تھے اچانک ان لوگوں نے اس کا ذکر کیا اور اس پر اس کی تعریف کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ وہ اس طرح ہوتا جیسا تم کہتے ہو۔ اگر وہ سنت میں سے ایک کو چھوڑنے والا نہ ہوتا اور وہ ہے نکاح کرنا۔
(56) امام ابن سعد اور ابن ابی شیبہ نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ میری شادی کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو وصیت فرمائی کہ میں اللہ تعالیٰ سے مجرد ہونے کی حالت میں ملاقات نہ کروں۔
(57) امام ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ معاذ ؓ نے اس مرض میں فرمایا جس میں ان کی موت ہوئی کہ میری شادی کرو۔ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے مجرد ہونے کی حالت میں ملاقات کروں۔
(58) امام ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کی کہ آدمی کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے۔ اس میں زیادتی مت کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے۔
Ayah 5:89(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ جب یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم نازل ہوئی تو قوم میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے عورتوں کو اور گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنی قسموں کا کیا کریں جو ہم نے اس پر کھائی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم
(2) امام ابو الشیخ نے یعلی بن مسلم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے پہلے والی آیت پڑھ میں نے پوچھا یعنی لفظ آیت یا یھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم (سے لے کر) لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم تک فرمایا لفظ آیت اللغو سے مراد ہے تو اس چیز کو حرام کرے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے حلال کیا ہے اور اس کے مشابہ اور کسی چیز کو حرام کرے۔ تو اپنی قسم کی طرف سے کفارہ دے دے اور گناہ کا ارتکاب نہ کرے تو یہ لغو ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں فرمائیں گے (پھر فرمایا) لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان یعنی اگر تم اس پر مرگیا تو اس کے ذریعہ پکڑا جائے گا۔
(3) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو کسی حلال چیز پر قسم کھاتا ہے کہ وہ اس کو حرام کردے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم یعنی اس کو چھوڑ دے اور اپنی قسم کی طرف سے کفارہ دے دے (پھر فرمایا) لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان یعنی جب قسم پر تو قائم رہے (اس پر مواخذہ ہوگا)
(4) امام عبد بن حمید نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم سے وہ آدمی مراد ہیں جنہوں نے آپس میں خریدوفروخت کی۔ ان میں سے ایک کہتا ہے اللہ کی قسم میں تجھ کو اس قیمت کے ساتھ نہیں بیچوں گا۔ اور دوسرا کہتا ہے اللہ کی قسم میں اس قیمت کے بدلے تجھ سے نہیں خریدوں گا۔
(5) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابراہیں (رح) سے روایت کیا کہ لغو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی بات کو قسم کے ساتھ ملاتا ہے۔ کہ اللہ کی قسم تو ضرور آئے گا۔ اللہ کی قسم تو ضرور کھائے گا۔ اللہ کی قسم تو ضرور پئے گا اور اس طرح ان چیزوں سے وہ قسم کا ارادہ نہیں کرتا۔ اور نہ وہ اس کے ذریعہ چمٹا رہتا ہے تو یہ یمین لغو ہے۔ اس پر کفارہ نہیں ہے۔
قسم کی تین قسمیں ہیں
(6) امام عبد بن حمید نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ قسمیں تین قسم کی ہیں۔ ایک قسم جس کا کفارہ دیا جاتا ہے اور ایک قسم وہ قسم جس کا کفارہ نہیں دیا جاتا۔ اور ایک وہ قسم ہے جس پر مواخذہ نہیں ہوتا اب وہ قسم جس کا کفارہ دیا جاتا ہے (جسے) ایک آدمی قطع رحمی پر یا اللہ کی نافرمانی پر قسم اٹھایا ہے۔ تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اور وہ قسم کہ جس پر کفارہ ادا نہیں کیا جاتا کہ آدمی قسم اٹھاتا ہے جھوٹ پر جان بوجھ کر۔ تو وہ اس کا کفارہ نہیں دے گا اور وہ قسم جس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا وہ ہے کہ ایک آدمی کسی چیز پر قسم اٹھاتا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچا ہے تو یہ لغو ہے۔ اور اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ واللہ اعلم
(7) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لغو سے مراد خطاء ہے اگر تو کسی چیز پر قسم کھاتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اس طرح ہوگی جسے تو نے اس پر قسم کھائی مگر وہ اس طرح نہ ہوئی تو اس بارے میں تیرے لئے درگزر کیا جائے گا اور اس میں تیرے اوپر کوئی کفارہ نہیں پڑتا پھر فرمایا لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان (لیکن) اور جس میں تو گناہ کا ارادہ کرے تو اس میں تیرے اوپر کفارہ ہوگا۔
(8) امام ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان سے مراد ہے یعنی جس کا تم ارادہ کرو۔
(9) امام عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان یعنی کوئی آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے یہ سمجھتے ہوئے کہ معاملہ اس طرح ہے اس طرح نہ تھا۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان یعنی وہ چاہتے ہوئے غلط قسم اٹھائے۔ اس پر اس کا مواخذہ ہوگا۔
(10) امام ابو الشیخ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ لغو وہ قسم ہے جو بات کرتے ہوئے جھگڑتے ہیں۔ مذاق میں اور دل لگی میں اٹھاتے ہیں کہ اس پر دل سے پکا ارادہ نہیں ہوتا (اس پر کوئی کفارہ نہیں) کفارہ اس قسم میں ہے کہ جب وہ کسی معاملہ میں ارادہ سے قسم اٹھاتا ہے۔ غصہ کی حالت میں یا غصہ میں نہ ہو اور وہ کہے کہ وہ ایسا ضرور کرے گا یا ایسا نہیں کرے گا۔ یہ وہ قسم ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کفارہ کو فرض فرمایا ہے۔
وقولہ تعالیٰ لفظ آیت فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین
(11) امام ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور کے ساتھ کفارہ دیا اور لوگوں کو اس کا حکم فرمایا۔ جو شخص اس کو نہ پائے تو وہ آدھا صاع گیہوں کے ساتھ کفارہ دے۔
(12) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قسم کا کفارہ ایک مد گندم دیا کرتے تھے۔
(13) امام ابن مردویہ نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ ہم قسم کا کفارہ اس مد کے ساتھ دیتے تھے کہ جس کے ساتھ (غلہ وغیرہ کو) ناپا جاتا ہے۔
قسم کھانے کے بعد توڑ کر کفارہ دینا
(14) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا میں نے قسم اٹھائی کہ میں لوگوں کو نہیں دوں گا۔ پھر میرے لئے بات ظاہر ہوئی کہ میں ان کو دوں۔ تو میں نے وہی مسکینوں کو کھانا دیا (اس طرح پر) کہ ہر مسکین کو جو میں سے ایک صاع دیا۔ یا ایک صاع کھجور میں سے یا آدھا صاع گیہوں میں ہے۔
(15) امام عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ قسم کا کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (اس طرح پر) کہ ہر مسکین کو آدھا صاع گیہوں میں دیا جاتا ہے۔
(16) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قسم کا کفارہ میں آدھا صاع ہے، گیہوں میں سے دیا جاتا ہے۔
(17) امام عبد بن منصور، عبد بن حمید، اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی طعام کا ذکر کیا ہے وہ آدھا صاع گندم ہے کفارہ یمین یا کوئی اور صورت ہو۔
(18) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قسم کے کفارہ میں ہر مسکین کے لئے ایک عدد گیہوں ہوتا ہے۔
(19) عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ قسم کا کفارہ میں ہر مسکین کے لئے ایک عدد گیہوں ہے۔
(20) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ قسم کے کفارہ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں مسکینوں کو کھلانا ہے یا ہر مسکین کے لئے گیہوں میں سے ایک مد ہے۔
(21) امام ابن منذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں ایک ایک مد لازم ہوتا ہے۔ قسم کا کفارہ، ظہار کا کفارہ اور روزے کا کفارہ۔
(22) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین کے بارے میں فرمایا کہ قسم اٹھانے والا ان کو دن اور رات کا کھانا کھلائے۔ اگر تو چاہے تو روٹی اور گوشت یا روٹی اور تیل یا روتی اور گھی یا روٹی اور کھجور دے۔
(23) امام ابن ابی شیبہ اور عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ قسم کا کفارہ میں صرف ایک دفعہ کھانا کھلانا ہے۔
(24) امام ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کی کہ قسم کا کفارہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ دو روٹی اور ہڈی والا گوشت ہر مسکین کے لئے ہے۔
(25) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے سفیان ثوری سے انہوں نے جابر (رح) سے روایت کیا ہے کہ شعبی (رح) سے کہا گیا (کیا قسم کا کفارہ میں) ایک مسکین کو بار بار دیتا ہوں تو انہوں نے فرمایا مگر دس مسکینوں کے سوا جائز نہیں۔
(26) امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے یہ کہ ایک ہی مسکین کو دس مرتبہ کھلا دیا جائے قسم کے کفارہ میں۔
(27) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم سے مراد ہے کہ تم اپنی تنگدستی اور خوشحالی کے مطابق اپنے گھر والوں کو جو کھانا کھلاتے ہو اس کے مطابق قسم کے کفارہ میں کھانا کھلاؤ۔
(28) امام ابن ماجہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے اہل و عیال کو وہ کھانا کھلاتا جس میں فراخی ہوتی اور ایک آدمی کھانا کھلاتا جس میں تنگی ہوتی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم
(29) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنے اہل و عیال کو کھانا کھلاتا جو بہت اچھا ہوتا اور دوسرا کھانا کھلاتا جو اس سے درجہ میں کم ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم کہ کھانا نہ تو اعلیٰ ہو اور نہ ہی ادنی ہو (یعنی درمیانی قسم کا کھانا ہونا چھاہئے) ۔
(30) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم سے مراد ہے کہ درمیانی قسم میں سے جو ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہیں۔ روٹی اور کھجور یا روٹی اور تیل یا روٹی اور گھی اور افضل کھانے میں سے جو ہم ان کو کھلاتے ہیں وہ روٹی اور گوشت ہے۔
(31) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ افضل کھانا روٹی اور گوشت ہے اور اوسط کھانا روٹی اور گھی ہے اور گھٹیا کھانا روٹی اور کھجور ہے۔
(32) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اہل مدینہ آزاد کو فضیلت دیتے تھے غلام پر اور بڑے کو چھوٹے پر اور وہ کہتے تھے کہ چھوٹے کو اس کی حیثیت اور بڑے کو اس کی حیثیت پر (کھانا دو ) تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم تو ان کے درمیانی کھانے کا حکم دیا گیا نہ کہ اعلیٰ قسم کا کھانا دینے کا حکم دیا گیا۔
(33) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من اوسط سے مراد ہے اعدل (یعنی درمیانی کھانا)
(34) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من اوسط سے مراد ہے امثل یعنی عمدہ
(35) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من اوسط ما تطعمون اھلیکم یعنی ان کے خوراک اور غلہ ایک صاع ہے ہر چیز میں سے سوائے گیہوں کے (جو آدھا صاع ہے)
(36) امام عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز جس میں مسکین کے لئے کھانا لازم کیا گیا وہ مد ہے۔ جو اہل مکہ والے کے برابر ہو۔
(37) امام طبرانی اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لفظ آیت او کسوتھم کے بارے میں فرمایا کہ ایک چغہ ہے ہر مسکین کے لئے۔
(38) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ لفظ آیت او کسوتھم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ چغہ ہے۔
(39) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم سے مراد ہر مسکین کے لئے ایک چغہ ہے۔ یا بڑی چادر ہے۔
(40) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم یعنی ہر انسان کے لئے ایک ایک کپڑا اور ان دنوں کسوہ سے مراد چغہ لیا جاتا تھا۔
(41) امام ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کسوہ سے مراد ہے کپڑا یا تہبند ہے۔
(42) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم سے مراد ہے قمیض یا چادر یا تہبند اور فرمایا قسم کے کفارہ میں یہ کپڑا جائز ہے سوائے لنگوٹ یا ٹوپی کے کہ وہ جائز نہیں۔
(43) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم میں ادنی کپڑا ہے اور اعلی جو تو چاہے۔
کفارہ قسم میں دس جوڑا دینا
(44) امام عبد الرزاق اور ابو الشیخ نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم سے تہبند اور پگڑی مراد ہے۔
(45) امام ابو الشیخ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ پاجامہ اور ٹوپی کو (کفارہ کے) بدلہ میں جائز نہیں ہے۔
(46) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت او کسوتھم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر ایک وفد تمہارے امیر کے پاس آجائے اور وہ ان کو ایک ایک ٹوپی پہنا دے تو تم کہو گے کہ ٹوپی کو کپڑا پہنا دیا گیا (اس لئے ٹوپی بھی کپڑا پہنانے میں شمار ہوگی)
(47) امام ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی پر ہر قسم کا کفارہ ہو تو وہ پانچ مسکینوں کو کپڑا پہنائے اور پانچ کو کھانا کھلا دے کیا یہ جائز ہے۔
(48) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اطعام عشرۃ مسکین من اوسط پھر سعید نے فرمایا لفظ آیت او کسوتھم فی الطعام یعنی ان کو کپڑا پہنائے یا کھانا کھلائے۔
(49) امام ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ واما قولہ تعالیٰ لفظ آیت او تحریر رقبۃ یعنی کفارے میں کسی اندھے یا اپاہج غلام کو آزاد کرنا جائز نہیں۔
(50) امام ابو الشیخ نے فضالہ بن عبید ؓ سے روایت کیا کہ (جب) غلام آزاد کرنا واجب ہو تو والدالزنا غلام آزاد کرنا جائز ہے۔
(51) امام ابو الشیخ نے عطا بن ابی رباح سے روایت کیا کہ چھوٹے غلام کو آزاد کرنا بھی جائز ہے۔
(52) امام ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ کفارہ میں بھی کافر غلام کو آزاد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔
(53) امام ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ وہ کفارہ میں ولدالزنا کو آزاد کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے اور یہودی یا نصرانی غلام کو قسم کے کفارہ میں آزاد کرنا جائز سمجھتے تھے۔
واماقولہ تعالیٰ لفظ آیت فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام
(54) امام ابن جریر اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کفارہ الیمین کی آیات کے بارے میں فرمایا اس کو اختیار ہے ان تین چیزوں میں الاول فالاول کے تحت اور اگر ان میں سے کسی چیز کو نہ پائے تو لگاتار تین دن کے روزے ہیں۔
(55) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب کفارات کی آیت نازل ہوئی تو حذیفہ ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ! کیا ہم کو اختیار ہے ؟ فرمایا تجھے اختیار ہے۔ اگر چاہے تو غلام آزاد کر اگر چاہے تو کپڑا پہنا۔ اگر چاہے تو کھانا کھلا جو یہ نہ پائے تو تین دن کے لگاتار رورے رکھ لے۔
(56) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جس کے پاس دو درہم ہوں تو اس پر لازم ہے کہ کفارہ میں کھانا کھلائے۔
(57) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جس کے پاس پچاس درہم ہوں تو وہ ان لوگوں میں سے ہوگیا جس نے پا لیا تو اس پر کھانا کھلانا واجب ہے۔ اور اگر اس سے کم ہو تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے نہیں پایا اور وہ روزہ رکھے۔
(58) امام ابو الشیخ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اگر قسم اٹھانے والے کے پاس بیس درہم ہیں تو اس پر کفارہ میں کھانا کھلانا لازم ہے۔
(59) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی داؤد نے مصاحف میں ابن منذر، الحاکم (اور اس کو صحیح قرار دیا) اور بیہقی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات
(60) امام مالک اور بیہقی نے حمید بن قیس المکی (رح) سے روایت کیا کہ مجاہد (رح) کے ساتھ طواف کرتا تھا ایک آدمی نے کفارہ کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ لگاتار رکھتے ہیں ؟ حمید نے کہا میں نے جواب دیا نہیں مجاہد (رح) نے میرے سینہ میں ہاتھ مارا پھر فرمایا ابی بن کعب کی قرأت میں لفظ آیت متتابعات کے الفاظ ہیں۔
(61) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن الانباء، ابو الشیخ اور بیہقی نے چند طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات سفیان (رح) نے فرمایا میں نے ربیع بن خیثم (رح) کے مصحف میں دیکھا تو اس میں یہ تھا (یعنی) لفظ آیت فمن لم یجد من ذلک شیئا فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات
(62) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ قرآن میں جہاں بھی صیام کا لفظ ہوتا تو وہ متتابعات ساتھ پڑھتے تھے۔
(63) امام ابو عبید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات
(64) امام عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) نے فرمایا قرآن میں جہاں بھی روزہ کا ذکر ہے وہ لگاتار ہے۔ مگر قضا رمضان کے روزے کیونکہ وہ دوسرے دنوں سے گنتی ہے (یعنی دوسرے سے گنتی پوری کرے)
(65) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ قسم کے تین دن کے روزوں میں فاصلہ نہیں کرتے تھے (یعنی لگاتار رکھتے تھے)
(66) امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ قسم کے کفارہ کے روزہ میں کہا کرتے تھے کہ وہ ان کو لگاتار رکھے اگر کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو اس کی جگہ دوسرے دن روزہ رکھے۔
(67) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ذلک سے مراد ہے کہ جو کفارہ کے بارے میں ذکر کیا گیا لفظ آیت ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم یعنی پکے ارادے سے قسم کھانا لفظ آیت واحفظوا ایمانکم یعنی جھوٹی قسم کھانے کا پکا ارادہ نہ کرو لفظ آیت کذلک یعنی اس طرح لفظ آیت یبین اللہ لکم ایتہ یعنی جو کچھ ذکر کیا گیا کفارہ میں سے لفظ آیت لعلکم تشکرون یعنی جو قسم کا کفارہ کا ارادہ رکھے ایک دن یا دو دن پھر کھانے کو پالے تو اس کو چاہئے کہ کھانا کھلا دے اور اپنے روزہ کو نفلی بنا دے۔
(68) امام عبد الرزاق، بخاری، ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ جب قسم کھاتے تو اسے نہ توڑتے یہاں تک کہ کفارہ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ فرماتے تھے میں قسم اٹھاؤں گا اگر میں اس کے علاوہ دوسری چیز کو بہتر خیال کرتا ہوں تو میں وہ کرلیتا ہوں جو بہتر ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول کرلیتا ہوں۔
(69) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے ملک یمین (یعنی غلام یا باندی) پر قسم کھائی کہ وہ اس کو ضرور مارے گا تو اس کا کفارہ نہ مارنا ہے۔ اور کفارہ کے ساتھ نیکی بھی ہوگی۔
(70) امام ابو الشیخ نے جبیر بن معطم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ دس ہزار درہم دیئے اور کہا اس قبلہ کے رب کی قسم اگر میں قسم اٹھاتا ہوں تو سچی قسم اٹھاتا ہوں۔ بلاشبہ یہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ میں اپنی قسم کا فدیہ دیتا ہوں۔
(71) امام ابوالشیخ نے ابو نجیح (رح) سے روایت کیا کہ اہل بیت (مکہ کے رہنے والوں) میں سے کچھ لوگوں نے بیت اللہ کے پاس قتل کے بارے میں قسم کھائی۔ پچاس آدمی قسم کھانے والے تھے گویا کہ انہوں نے جھوٹ پر قسم کھائی پھر وہ نکلے یہاں تک کہ جب وہ بعض راستے میں تھے۔ تو انہوں نے ایک چٹان کے نیچے قیلولہ کیا۔ ابھی وہ اس چٹان کے نیچے قیلولہ کر رہے تھے کہ اچانک وہ چٹان اس پر سرک پڑی وہ تیزی سے اس کے نیچے سے نکلے وہ چٹان پچاس ٹکڑوں میں پھٹ گئی اور ہر ایک ٹکڑے نے ایک آدمی کو قتل کردیا۔