5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

کعبہ جو احترام والا گھر ہے اللہ نے اسے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے اور رحمت والے مہینے کو اور ہدی کے جانوروں کو اور ان کے گلے میں جو پٹے پڑے ہوئے ہوں ان سب کو لوگوں کے قائم رہنے کا ذریعہ بنایا ہے یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ بلا شبہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں سے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کعبہ اس لئے نام رکھا گیا کہ یہ مربع (شکل میں بنا ہوا) ہے۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اس کے مربع شکل ہونے کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کعبہ کے لوگوں کے دین کو قائم رکھنے والا اور ان کے حج کی نشانی بنا دیا۔ (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں فرمایا اس کے قیام کے معنی یہ ہے کہ (جو آدمی) اس کی طرف رخ کرتا ہے وہ محفوظ ہوجاتا ہے۔ (5) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قیما للناس میں قیام کو قوام نقل کیا ہے یعنی یہ لوگوں کا سہارا ہے۔ (6) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قیما للناس میں قیام کا معنی ہے صلاح یعنی یہ ان کے دین کی صلاح کا باعث ہے۔ (7) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قیما للناس یعنی ان کے دامن کی قوت کا باعث ہے۔ (8) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قیما للناس سے مراد ہے کہ ان کے دین کی عظمت کا باعث ہے۔ (9) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ سب لوگوں میں بادشاہ تھے جو ان کے بعض کو بعض سے ظلم و زیادتی سے روکتے لیکن عرب میں کوئی بادشاہ نہیں تھا جو ان کے بعض کو بعض سے ظلما و زیادتی سے روکتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بیت الحرام کو ان کے لئے سہارا بنایا جو لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکتا اور فرماتا لفظ آیت والشھر الحرام اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو حرمت والے مہینوں اور قلادوں کے ذریعے بھی محفوظ رکھتا۔ ایک آدمی اپنے باپ کے قاتل سے یا اپنے چچا کے بیٹے کے قاتل کو ملتا تو اس سے تعرض نہیں کرتا اور یہ سب کا سب منسوخ کردیا گیا۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت الحرام اور شہر الحرام کو لوگوں کے لئے سہارا بنایا کہ اس کے ذریعے دور جاہلیت میں امن حاصل کرتے ہیں جب وہ بیت اللہ شریف حرم کی حدور اور حرمت والے مہینوں میں ملتے تو ان کو ایک دوسرے سے کچھ ڈر نہ ہوتا۔ دور جاہلیت میں حرم میں احترام (11) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس والشھر الحرام والھدی والقلائد کے بارے میں فرمایا کہ وہ رکاوٹیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت میں لوگون کے درمیان باقی رکھا تھا (جیسے) اگر ایک آدمی جتنا بھی جرم کرلیتا پھر وہ حرم شریف کی پناہ لے لیتا تو اس کو کوئی نہ پہنچتا اور نہ اس کے قریب کوئی آتا اور اگر کوئی حرمت والے مہینے میں اپنے باپ کے قاتل سے بھی ملاقات کرتا تو اس سے کوئی تعارض نہ کرتا اور نہ اس کے قریب آتا۔ اور اگر کوئی آدمی پٹہ ڈالے ہوئے کسی ہدی کے جانور سے ملتا اگرچہ وہ بھوک کی وجہ سے آکاس بیل کھائے ہوتا تو پھر بھی اس سے کوئی تعارض نہ کرتا اور نہ اس کے قریب جاتا اور جب کوئی آدمی بیت اللہ کا ارادہ کرتا تو بالوں سے بنا ہوا ایک پٹہ گلے میں ڈال لیتا تو وہ اس کو بچا لیتا اور لوگوں کو اس سے روک دیتا جب وہ کوئی دوسرے علاقہ کے سفر کا ارادہ کرتا تو اذخر یا سمر کا قلادہ بنا لیتا تو (قلادہ) اس کو لوگوں سے محفوظ رکھتا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ جاتا یہ وہ رکاوٹیں تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے درمیان باقی رکھا تھا۔ (12) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت لفظ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس کی تلاوت کی اور فرمایا کہ لوگ برابر دین پر ہوں گے۔ جب تک وہ بیت اللہ کا حج اور قبلہ کا استقبال کرتے رہیں گے۔ (13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان چار چیزوں کو لوگوں کے لئے قیام بنایا۔ اور ان کے لئے معاملات کا سہارا ہیں۔ (14) امام ابن ابی حاتم جعفر بن محمد (رح) سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت قیما للناس سے مراد ہے کہ خاص طور پر لوگ ان چیزوں کی تعظیم کریں۔ (15) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قیما للناس سے مراد ہے کہ یہ ان کے قبلہ کی علامت اور امن بنایا جس میں امن سے رہتے ہیں۔ (16) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قیما للناس سے امن مراد ہے۔ (17) امام ابو الشیخ نے عبید اللہ بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا جو سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے۔ کہا کعبہ کو قیامت کے دن لوگوں کے لئے رکھا جائے گا۔ جو لوگوں کو ان کے اعمال کی خبر دے گا۔ (18) امام ابو الشیخ نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جاہلیت والوں میں سے جب احرام باندھتا۔ تو بالوں کا ایک پٹہ گلے میں ڈال لیتا تو اس سے کوئی آدمی تعرض نہ کرتا۔ جب وہ حج کرتا اور حج کو پورا کرلیتا اذخر گھاس کا پٹہ ڈال لیتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس والشھر الحرام (19) امام ابو الشیخ نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب یہ لوگ عظمت والے مہینہ میں داخل ہوتے تو ہتھیار کو رکھ دیتے اور ایک دوسرے کے پاس چلے جاتے۔ (20) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے زمانہ میں عرب لوگوں کے لئے ان کے درمیان یہ چیزیں رکھ دیں کہ جس کے ذریعہ وہ زندگی گزارتے۔ جو آدمی اس میں سے یا کسی ایک کی حرمت کو پامال کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ڈھیل نہ دیتے۔ یہاں تک کہ بعد اس کے فرمایا لفظ آیت ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم ما فی السموت و ما فی الارض یعنی تاکہ وہ جان لیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کچھ آسمانوں میں لوگ جو کچھ زمین میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم
Ayahs 5:98–99

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

تم جان لو ! کہ بلاشبہ اللہ سخت عذاب والا ہے اور اللہ بلاشبہ بخشنے والا مہربان ہے۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول اللہ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔

(1) جسن ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کو جب وصال کا وقت قریب ہوا تو فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سہولت والی آیت کو سختی والی آیت کے ساتھ ملا کر ذکر فرماتے ہے تاکہ مؤمن رغبت کرنے والا اور ڈرنے والا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر ناحق کی تمنا کرے اور نہ ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالے۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ خبیث اور طیب برابر نہیں ہیں اگرچہ اے مخاطب ! تجھے خبیث کی کثرت بھلی معلوم ہوتی ہو۔ سو اے عقل والو ! اللہ سے ڈرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا خبیث سے مراد مشرک اور طیب سے مراد مؤمن ہے۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حلال کا ایک درہم میں صدقہ کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے دو لاکھ حرام کے صدقہ کرنے سے اگر تم چاہو تو اللہ کی کتاب پڑھ لو لفظ آیت قل لا یستوی الخبیث والطیب (3) امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ہم سے بیان کیا کہ یونس بن عبد الاعلی نے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا ابن رہب نے اس سے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمن اسکندرانی (رح) نے بیان فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) کی طرف ان کے بعض عمال نے لکھا اور انہوں نے اس میں یہ ذکر کیا کہ خراج کم اکٹھا ہوا ہے۔ عمر بن عبد العزیز نے ان کی طرف لکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت لا یستوی الخبیث والطیب ولو اعجبک کثرۃ الخبیث اگر تو طاقت رکھے عدل، اصلاح اور احسان کرنے کی جہاں تم سے پہلے ظلم فسق، فجور اور سرکش ہوئی نہیں تو ایسا کر۔ قوت تو اللہ کے پاس ہے۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یاولی الالباب کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے لئے سمجھ ہو یا عقل ہو۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جس وقت قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تمہارے لئے ظاہر کردی جائیں گی اللہ نے ان کے بارے میں معافی دے دی اور اللہ بخشنے والا اور حلم والا ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

ایسی ہی باتیں تم سے پہلے بھی لوگ پوچھ چکے ہیں، پھر جلد ہی وہ ان کے منکر ہوگئے۔

بےموقع سوالات کی ممانعت (1) امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں نے اس جیسا کبھی نہیں سنا ایک آدمی نے کہا میرا باپ کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے قتادہ ؓ کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یہاں تک کہ سوالوں سے آپ کو گھیر لیا۔ ایک دن آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا تم مجھ سے آج کے دن جس چیز کے بارے میں پوچھو گے تو میں تم کو اس کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب یہ بات صحابہ نے سن لی تو انہوں نے گمان کیا کہ ہمارے لئے کوئی خاص حکم آچکا ہے۔ میں دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہر آدمی نے اپنے کپڑے کو اپنے سر کے ساتھ لپیٹ لیا اور رو رہا ہے۔ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے اور اسے غیر باپ کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ عمر بن خطاب ؓ نے (یہ حال دیکھ کر) فرمایا ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور ہم پناہ مانگتے ہیں برے فتنے سے۔ (یہ سن کر) نبی ﷺ نے فرمایا میں نے آج جیسی خیر اور شر میں کبھی نہیں دیکھی۔ بلاشبہ جنت اور دوزخ میرے لئے جسم مثال کی صورت میں پیش کی گئی۔ یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو اس دیوار کے پیچھے دیکھا۔ قتادہ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو وہ سب کچھ دکھاتا ہے۔ جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سناتا ہے جو تم نہیں سن سکتے راوی نے کہا ان پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء (الآیہ) قتادہ نے فرمایا کہ ابی بن کعب کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کفرین (3) امام بخاری، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ مذاق کرتے ہوئے سوال کرتے تھے۔ ایک آدمی نے کہا میرا باپ کون ہے ؟ دوسرے آدمی نے کہا میری اونٹنی گم ہوگئی۔ کہاں ہے ؟ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء یہاں تک کہ پوری آیت سے فارغ ہوگئے۔ بے جا سوال کر کے علماء کا وقت ضائع کرنا گناہ ہے (4) امام ابن جریر نے ابن عون (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ سے سوال کیا جو ابن عباس کے غلام تھے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا ایک دن نبی ﷺ صحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا آج کے دن تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرو گے تو میں تم کو خبر دوں گا۔ ایک آدمی کھڑا ہوا مسلمانوں نے اس دن اس کا کھڑے ہونا ناپسند کیا اس نے کہا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (5) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے طاؤس سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے کہا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ فلاں ہے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن غصہ ہوئے اور خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا مجھ سے سوال کرو جو تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے تو میں تم کو بتاؤں گا۔ قریش کے قبیلہ بنی سہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ جس کو عبد اللہ بن حذافہ کہا جاتا تھا اور وہ اس میں مطعون کیا جاتا تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ فلاں ہے۔ اس کو اس کے باپ کے نام سے پکارو (یہ دیکھ کر) حضرت عمر ؓ نے آپ کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دے کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر۔ آپ کے نبی ہونے پر اور قرآن کے امام ہونے پر ہم کو معاف کر دیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرما دیں گے۔ عمر ؓ برابر اس بات کو کہتے رہے یہاں تک کہ آپ راضی ہوگئے۔ اس دن آپ نے فرمایا اور اولاد خاوند کے لئے ہے۔ اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔ اور اس پر (یہ آیت) اتری لفظ آیت قد سالھا قوم من قبلکم (7) امام فریابی، ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ تھا یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ ان کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا میرے آباؤ اجداد کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا آگ میں دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔ اور اس نے کہا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں۔ یا رسول اللہ ہم جاہلیت اور شرک کے زمانے سے نئے نئے آئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کون ہیں۔ تو آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء (8) امام ابن حبان نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض فرمایا ہے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا ہر سال کے لئے یا رسول اللہ ؟ آپ اس سے خاموش ہوگئے یہاں تک کہ اس نے تین بار سوال کو لوٹایا پھر آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہوجاتا۔ اور اگر فرض ہوجاتا تو تم اس کو قائم نہ کرسکتے۔ مجھ کو چھوڑ دو جو کچھ میں نے تمہارے لئے چھوڑا ہے۔ تم سے پہلے لوگ اپنے کثرت سوال اور ان کے اپنے نبیوں کے ساتھ تکرار کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تم کو کسی چیز سے منع کروں تو اس سے رک جاؤ۔ اور جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔ اور یہ بات ذکر کی گئی کہ سورت مائدہ کی یہ آیت یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ (9) امام ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو اللہ نے تم پر حج کو فرض کردیا ہے۔ عکاتہ بن محصن الاسدی اٹھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہر سال میں (حج فرض ہے) فرمایا خبردار اگر میں ہاں کر دوں تو ہر سال حج فرض ہوجائے۔ اگر تم پر فرض ہوجاتا تو تم اس کو چھوڑ دیتے تو تم گمراہ ہوجاتے۔ تم مجھ سے خاموش ہوجاؤ جب تک میں تم سے کچھ نہ کہوں۔ تم سے پہلے لوگ سوال کرنے اور اپنے نبیوں سے تکرار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اتارا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم آخری آیت تک۔ (10) امام ابن جریر، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کردیا ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اور کہا ہر سال میں (حج فرض ہے ؟ ) آپ نے لمبی خاموشی اختیار فرمائی پھر آپ نے بات کی اور فرمایا سائل کون ہے ؟ اس نے کہا میں ہوں آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے تجھے کون بچاتا کہ اگر میں نعم کہہ دیتا اللہ کی قسم اگر میں نعم کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہوجاتا۔ اگر فرض ہوجاتا تو تم چھوڑ بیٹھتے۔ اور اگر تم چھوڑ بیٹھتے تو تم کفر کرتے خبردار تم سے پہلے لوگوں کو ان لوگوں نے ہلاک کیا جو سوال کر کے لوگوں کو مصیبت میں ڈالتے رہے۔ اللہ کی قسم اگر میں زمین کی ہر چیز تمہارے لئے حلال کردوں اور حرام کر دوں تم پر اس میں سے اونٹ کے پاؤں کی جگہ تو تم اس میں واقع ہوجاتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء آخر آیت تک۔ (11) امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کردیا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ہر سال ؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نعم کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہوجاتا اور اگر واجب ہوجاتا تو تم اس کی طاقت نہ رکھتے اور اگر تم اس کو چھوڑ دیتے تو تم کفر کرتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء (12) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا میرا باپ کہاں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جہنم میں۔ پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ حج ہر سال ہے ؟ رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے اور آپ گھر میں داخل ہوگئے آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا تم جو سوال کرو گے میں تم کو اس کا جواب دوں گا۔ پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نعم کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا پھر تم انکار کردیتے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اتارا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء (13) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، دار قطنی، ابن مردویہ، حاکم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت وللہ علی الناس حج البیت (آل عمران آیت 97) تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ خاموش رہے صحابہ ؓ نے کہا کیا ہر سال میں (حج ہے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میں نعم کہتا تو (حج کرنا) واجب ہوجاتا تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم (14) امام ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب حج کی آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے لوگوں میں اس کا اعلان کیا اور فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ پس حج کرو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ایک سال یا ہر سال ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ایک سال اگر میں ہر سال کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہوجاتا اگر واجب ہوجاتا تو تم انکار کردیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء (الآیہ) حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے (15) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں اعلان کیا اور فرمایا اے میری قوم تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ نبی اسلم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال میں ؟ تو آپ ﷺ سخت غصہ ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نعم کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہوجاتا، یہ ہر سال فرض ہوجاتا تو تم طاقت نہ رکھتے بلکہ اس کا تم انکار کردیتے تم مجھے کچھ نہ کہا کرو جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں۔ تو تم اس کو کرلو اور جب میں تم کو کسی چیز سے روک لوں تو اس سے رک جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منع فرمایا کہ وہ اس قسم کے سوال نہ کریں جیسے نصاری نے دستر خوان کا سوال کیا تھا۔ پھر کافر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء یعنی جب قرآن نازل ہو اور اس میں سختی ہو تو یہ تم کو برا لگے گا لیکن تم انتظار کرو۔ جب قرآن نازل ہو رہا ہو۔ تو تم جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے تم اس کا بیان پالو گے۔ (16) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا ذکر فرمایا تو کہا گیا یا رسول اللہ کیا وہ ہر سال فرض ہے ؟ فرمایا نہیں اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال تم پر فرض ہوجاتا اور اگر (وہ ہر سال) واجب ہو جاتاتو تم اس کی طاقت نہیں رکھتے اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے اس کا انکار کردیتے۔ پھر فرمایا مجھ سے سوال کرو۔ میری اس مجلس میں کوئی آدمی کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا تو میں اسے اس کا جواب دوں گا۔ اگرچہ تم مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں سوال کرو۔ آپ ﷺ کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا میرا باپ کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ بن قیس ہے۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں اور ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں اس کے غصہ سے اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ (17) امام ابن منذر نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ سوال کرتے ہیں ایسی چیز کے بارے میں جو ان کے لئے حلال تھی مگر وہ برابر سوال کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ وہ ان پر حرام کردی جاتی۔ جب وہ ان پر حرام کردی گئی تو وہ اس میں جا پڑے۔ (18) امام شافعی، احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد اور ابن منذر نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مسلمان جرم کے لحاظ سے وہ ہے کہ اس نے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو ان پر حرام نہ تھی۔ پھر اس کے پوچھنے کی وجہ سے حرام کردی گئی۔ (19) ابن جریر، ابن منذر اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی) ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ کے لئے حدود مقرر ہیں اس سے تجاوز نہ کرو۔ اور تمہارے لئے فرائض مقرر فرمائے ان کو ضائع نہ کرو کچھ چیزوں کو حرام فرمایا ان کو پامال نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا غیر نسیان میں لیکن یہ رحمت ہے اس کی طرف سے تمہارے لئے اس کو قبول کرو اور اس کے بارے میں جستجو نہ کرو۔ (20) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے خصیف کے طریق سے مجاہد (رح) سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآئ کے بارے میں فرمایا یعنی بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حام کے بارے میں سوال کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ اس کے بعد فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہیں بتایا اس طرح سے اور نہ اس طرح سے اور عکرمہ نے فرمایا کہ وہ لوگ ان سے پوچھتے تھے آیات کے بارے میں تو ان کو اس سے منع کردیا گیا پھر فرمایا لفظ آیت قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کفرین میں نے کہا مجاہد نے ابن عباس سے اس کے خلاف مجھ سے بیان فرمایا تو تم کو یہ کہنے کا کیا حق ہے ؟ تو عکرمہ ؓ نے کہا اس کو لے لو۔ (21) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عبد الکریم کے طریق سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہی صحابی ہے جس نے نبی ﷺ سے سوال کیا تھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بحیرہ اور سائبہ کے بارے میں سوال کیا تھا اور مقسم نے کہا یہ ان امتوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنے انبیاء سے آیات کے بارے میں سوال کیا تھا۔ (22) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء کے بارے میں فرمایا ہمیشہ سے سوال کی زیادتی ناپسند کی جاتی ہے۔ (23) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت تبدلکم تاء کے رفع اور دال کے نصب کے ساتھ۔ (24) امام ابو الشیخ نے عبد الملک بن ابی جمعہ ازدی (رح) سے روایت کی انہوں نے کہا میں حضرت حسن سے بھنگی کی کمائی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اس چیز کے بارے میں تو نہ پوچھ اگر تمہارے گھروں میں (کوڑا) چھوڑ دیا جائے تو تم پر تنگی ہوجائے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم (25) امام احمد، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں وقوف عرفہ کیا اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھاتے ہوئے اپنے اونٹ پر۔ آپ نے فرمای اے لوگو ! علم کو لے لو پہلے اس سے کہ وہ اٹھا لیا جائے یا اس کو قبض کرلیا جائے۔ راوی نے کہا کہ ہم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد یعنی لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ہم نے ایک دیہاتی کو آگے کیا ہم نے سوال کے بدلہ میں اس کو ایک چادر دی اس نے اسے عمامہ بنا لیا یہاں تک کہ میں نے چادر کا کنارہ اس کے دائیں کندھے پر دیکھا ہم نے اس سے کہا رسول اللہ ﷺ سے سوال کر کس طرح یہ علم اٹھا لیا جائے گا جب کہ یہ قرآن ہمارے درمیان ہے۔ ہم نے اس کو سیکھا اور ہم نے اپنی عورتوں اپنی اولاد اور اپنے خادموں کو سکھایا ؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ تھا۔ آپ نے فرمایا کیا یہود و نصاری کے پاس مصاحت نہیں ہیں۔ اب ان کی یہ حالت ہوگئی کہ اس میں سے ایک حرف کے ساتھ بھی ان کا تعلق نہیں۔ ان چیزوں میں سے جو کہ ان کے انبیاء لائے تھے۔ خبردار کہ علم کے چلے جانے کا مطلب یہ ہے کہ علم والے چلے جائیں۔ (26) امام احمد، ابن ابی حاتم اور طبرانی اور بیہقی نے ابو مالک اشعری (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس تھا جب یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ہم سوال کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا بلاشبہ اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ہیں۔ ان پر نبی اور شہداء رشک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے قریب اور ان کے بیٹھنے کی جگہ پر قیامت کے دن دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ وہ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ اللہ کے بندوں میں سے ایسے بندے ہیں جو مختلف شہروں سے مختلف قبیلوں سے (ایک جگہ جمع ہوتے ہیں) ان کے درمیان نہ رشتہ داری ہوگی کہ وہ اس کے ذریعہ آپس میں وابستہ ہوں نہ ان کے درمیان دنیاوی تعلق ہوں گے جن کا وہ ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے ہوں وہ ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو روشن بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے موتیوں کے منبر بنا دیں گے اپنے سامنے لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے۔ لوگ ڈر رہے ہوں گے اور وہ نہیں ڈریں گے۔ عسقلان کے ستر شہداء (27) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مالک بن بحینہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبرستان میں مدفون لوگوں پر تین مرتبہ برکت کی دعا کی اور یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ہوا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم کے (یہ سن کر) صحابہ ؓ چپ ہوگئے۔ ابوبکر کھڑے ہوئے اور عائشہ ؓ کے پاس آکر فرمایا کہ نبی ﷺ نے مقبرہ والوں پر برکت کی دعا کی ہے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا (رسول اللہ ﷺ سے) عرض کیا گیا مقبرہ والوں پر آپ نے برکت کی دعا کی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ مقبرہ عسقلان میں سے ہے اس مٰن ستر ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے۔ (28) امام محمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلوۃ میں اور خرائطی سے مکارم الاخلاق میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے آپ کی سواری آپ کو آگے لے گئی پھر میری سواری آپ کی سواری سے مل گئی۔ یہاں تک کہ میرے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے مل گئے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ سے ایک ایسے کام کے بارے میں سوال کرنے کا ارادہ کرتا ہوں مگر یہ آیت سوال کرنے سے منع کرتی ہے۔ یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم آپ نے فرمایا معاذ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا وہ کون سا عمل ہے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے بچا لے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو نے بڑی چیز کے بارے میں سوال کیا جبکہ وہ چیز چھوٹی سی ہے وہ یہ عمل ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا پھر فرمایا خبردار میں تجھ کو خبر نہ دوں اس کام کی جڑ اور اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے بارے میں ؟ رائس الامر سے مراد، اسلام ہے۔ اور اس کا ستون نماز ہے۔ اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر فرمایا روزہ ڈھال ہے۔ اور صدقہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ رات کا قیام کرنا ہے اور یہ آیت پڑھی لفظ آیت تتجا فی جنوبھم عن المضاجع سے لے کر آخری آیت تک، پھر فرمایا میں تم کو خبر نہ دوں کونسی چیز لوگوں پر غالب ہے۔ پھر آپ نے اپنی زبان کو نکالا اور اس کو اپنی دونوں انگلیوں کے درمیان پکڑا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہر وہ بات جو ہم بولتے ہیں ہم پر لکھی جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے لوگ جہنم میں اپنی کھیتی سے منہ کے بل گرتے ہیں۔ جب تو اسے روکے رکھے گا تو بلاشبہ تو برابر سلامت رہے گا۔ جب تو کوئی بات کرے گا تو تیرے خلاف لکھا جائے گا یا تیرے حق میں لکھا جائے گا۔
Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے مقرر نہیں فرمایا نہ کوئی بحیرہ اور نہ کوئی سائبہ اور نہ کوئی وصیلہ اور نہ کوئی حام، لیکن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں اکثر وہ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور رسول کی طرف، تو کہتے ہیں کہ ہمیں وہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا باپ دادوں کے پیچھے چلیں گے اگرچہ ان کے باپ دادے کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور ہدایت پر نہ ہوں۔

سائبہ وصیلہ اور حام کی حرمت (1) امام بخاری، مسلم، عبدالرزاق، عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کا دودھ بتوں کے لئے روکا جاتا تھا اور لوگوں میں سے اس کو نہ دوہتا تھا۔ اور سائبہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جسے لوگ اپنے بیوی کے لئے مختص کرلیتے اور ان پر کوئی چیز نہ لادی جاتی اور ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمر بن عامر خزاعی کو دیکھا جو دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹے پھر رہا تھا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے اونٹنی کو سائبہ کیا تھا۔ ابن المسیب (رح) نے فرمایا وصیلہ اس با کرہ اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی جفتی سے بچہ جنے اور دوسری دفعہ میں مؤنث جنے وہ اپنے بتوں کے لئے مختص کردیتے۔ اگر ایک دوسری کے ساتھ جا ملتی جن کے درمیان مذکر نہ ہوتا۔ حامی نر اونٹ کو کہتے ہیں جو مقرر کردہ جفتی کرتا جب اس کی مقرر کردہ جفتیاں پوری ہوجاتیں اسے بتوں کے لئے چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی بوجھ نہ لادتے اسے حامی کہتے۔ (2) امام احمد، عبد بن حمید، حکیم ترمذی سے نوادار الاصول میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پرانے کپڑوں میں آیا آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! فرمایا کون سا مال ہے ؟ میں نے کہا ہر قسم کا مال ہے۔ اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام (سب کچھ ہے) آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ تجھ کو مال دیتا ہے تو وہ تجھے دیکھتا بھی ہے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اچھے کپڑے پہن) پھر فرمایا تیری اونٹنی صحیح سالم کان والے بچے جنتی ہے ؟ میں نے کہا ہاں پھر فرمایا اسی طرح بچے دیتے ہیں۔ پھر فرمایا شاید کہ تو استرا لے کر ان میں سے بعض کے کان کاٹ دیتا ہوگا اور کہتا ہوگا یہ بحیرہ ہے بعض کے کان کاٹتا ہوگا اور کہتا ہوگا کہ یہ صرم ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کر، ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتا ہے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام ابو الألحوص نے فرمایا بحیرہ سے مراد مادہ جانور ہے کہ اس کے کان کاٹے ہوں اور اسکی بیٹی یا اس کے خاندان کا کوئی اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے تھے اس کی اون سے، اس کی ریشم سے اس کے بالوں سے اور نہ اس کے دودھ سے۔ جب وہ جانور مرجاتا تو اس میں سب شریک ہوجاتے اور سائبہ وہ مادہ جانور ہے جس کو اپنے بتوں کے لئے خاص کردیتے۔ اور وصیلہ سے مراد وہ بکری ہے جو چھ دفعہ بچے دیتی اور ساتویں دفعہ ایک بچہ جنتی۔ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ وصیلہ ہوگئی ہے وہ اسے ذبح نہ کرتے نہ اسے مارا جاتا اور نہ ہی اسے حوض سے روکا جاتا۔ اور جب وہ مرجاتی تو سب اس میں برابر کے شریک ہوتے۔ اور حام وہ اونٹ ہے جب اس کی صلب سے دس بچے ہوجاتے اور سب جفتی کے قابل ہوجاتے تو کہتے کہ اس نے اپنی پیٹھ کو محفوظ کرلیا اور اس کو حام کہتے تھے۔ اس کی اون سے نفع نہیں اٹھاتے تھے نہ اس کو ذبح کرتے تھے اور نہ اس کی پیٹھ پر سوار ہوتے تھے جب وہ مرجاتی تو اس میں سب برابر کے شریک ہوتے تھے۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جب پانچ بچے جن لیتی تو پانچویں کی طرف دیکھتے اگر وہ نر ہوتا تو اس کو ذبح کردیتے اور اس کو صرف مرد کھاتے سوائے عورتوں کے اگر وہ مادہ ہوتی تو اس کے کانوں کو چیر دیتے اور کہتے کہ یہ بحیرہ ہے۔ وہ سائبہ وہ اونٹنی ہے جس کو وہ لوگ اپنے جانوروں میں سے اپنے بتوں کے لئے مختص کردیتے تھے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ اس کا دودھ پیتے اور نہ اس کی اون سے نفع اٹھاتے اور نہ اس پر کوئی چیز لادتے اور وصیلہ وہ بکری ہے کہ جب وہ سات بچے جن لیتی تو ساتویں کو دیکھتے اگر وہ نر یا مادہ مردہ حالت میں ہوتی تو اس میں صرف مرد شریک ہوتے سوائے عورتوں کے اور اگر وہ مادہ ہوتی تو وہ زندہ چھوڑ دیتے۔ اور اگر نر اور مادہ دونوں اس کے پیٹ میں سے پیدا ہوتے تو ان دونوں کو زندہ چھوڑ دیتے۔ اور کہتے کہ اس بہن نے اس کو وصیلہ بنا دیا ہے اور اسے ہمارے اوپر حرام کردیا اور حام وہ نر اونٹ ہوتا تھا کہ جب اس کی اولاد سے اولاد ہوتی۔ تو کہتے کہ اس بچے نے اس کی پشت کو حامی بنا دیا ہے۔ اس پر کوئی چیز نہ لادتے اس کی اون سے نفع نہ اٹھاتے اور نہ کسی چراگاہ سے اس کو روکتے اور نہ کسی حوض سے روکتے کہ جس سے وہ پانی پیتا۔ اگرچہ حوض اس کے مالک کے علاوہ کسی اور کا ہوتا۔ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ما جعل اللہ من بحیرۃ کے بارے میں فرمایا کہ بحیرہ ایک اونٹنی ہے جب وہ پانچ بچے دیتی تو وہ پانچویں بچے کو دیکھتا اگر وہ عیب دار نہیں ہے تو اس کے کان چیر دیتا۔ اس کے بال نہ کاٹتا اور نہ ہی اس کا دودھ چکھتا تو یہ بحیرہ ہوگئی۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت ولا سائبۃ آدمی اپنے مال میں سے جس کو چاہتا اس کو بتوں کے لئے مختص کردیتا۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت ولا وصیلۃ وہ بکری جو ساتواں بچہ جنتی تو وہ ساتویں کی طرف دیکھتا اگر وہ نر ہے تو ذبح کردیتا۔ اور اگر وہ مادہ ہوگئی تو چھوڑ دیتا۔ اور اگر اس کے پیٹ میں دو بچے ہوتے نر اور مادہ اور وہ دونوں کو جنتی تو کہتے کہ یہ مل گئی اپنے بھائی سے تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے کسی کو ذبح نہ کرتے یہ وصیلہ تھی۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت ولا حام کسی آدمی کا کوئی نر اونٹ ہوتا تھا۔ اور جب وہ دس مرتبہ جفتی کردیتا تو کہا جاتا یہ حام ہے تو اس کو کھلا چھوڑ دیتے۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ما جعل اللہ من بحیرۃ کے بارے میں فرمایا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جاہلیت کے لوگ جس کو حرام کردیتے تھے۔ اس کے اون اور اس کے گوشت کو اور اس کے دودھ کو عورتوں پر حرام کردیتے مگر مردوں کے لئے حلال ہوتا جب وہ مذکر اور مؤنث بچہ جنتی تو اپنی حالت میں رہتی اگر وہ اونٹنی مرجاتی تو اس کے گوشت کھانے میں مرد اور عورت سب شریک ہوتے۔ جب (وہ اونٹ) جفتی کرتا بحیرہ کی اولاد میں سے تو وہ حامی ہوجاتا اور وہ سائبہ بکری میں بھی اسی طرح ہوتی۔ مگر ایک بچے سے لے کر چھ بچوں تک جنتی تو ایسے ہی رہتی اور جب ساتویں مرتبہ میں بچہ جنتی نر یا مادہ دو نر تو ان کو ذبح کر کے کھا جاتے ان کے مرد سوائے ان کی عورتوں کے اور اگر نر اور مادہ اکھٹے پیدا ہوتے تو یہ وصیلہ تھی۔ مادہ کی وجہ سے نر کو ذبح کرنا چھوڑ دیتے اور اگر یہ دونوں مادہ ہوتیں تو بھی دونوں کو چھوڑ دیتے۔ بلی کو ظلما باندھنے کی وجہ سے جہنم میں جلنا (6) امام ابن منذر نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ تو آپ ہٹ گئے اپنے قبلہ سے چہرہ مبارک کو پھیرلیا اور آپ نے اللہ کے ساتھ پناہ مانگی۔ پھر آپ اپنے قبلہ سے قریب ہوگئے حتیٰ کے ہم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا ہم نے کہا اے اللہ کے نبی ! آج آپ نے اپنی نماز میں کچھ ایسا کام کیا جو آپ (پہلے) نہ کرتے تھے آپ نے فرمایا ہاں ! میرے اس مقام پر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے دوزخ میں وہ چیز دیکھی جو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور میں نے اس میں حمیرہ بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ دیا تھا اور اس کو نہ کھلایا، نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔ یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مرگئی اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا جو دوزخ میں آنتوں کو گھسیٹ رہا تھا۔ یہ وہ آدمی ہے جس نے جانوروں کو سائبہ بنایا اور بحیرہ بنایا اور بتوں کو نصب کیا اور اسماعیل کے دین کو تبدیل کردیا۔ اور میں نے اس میں عمران الغفاری کو دیکھا اس کے ساتھ محجنہ بھی تھا جس کے ساتھ وہ حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا۔ راوی نے کہا کہ میرے لئے آپ نے چوتھے آدمی کا نام بھی لیا جس کو میں بھول گیا۔ میں نے جنت کو دیکھا میں نے اس کی مثل نہیں دیکھا جو اس میں ہے۔ میں نے اس میں ایک خوشہ لینا چاہا تاکہ میں اس کو تم کو دکھاؤں مگر میرے اور اس کے درمیان کسی چیز کو حائل کردیا گیا صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی نے کہا اس میں سے ایک کیسا دانہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ وہ بڑا ڈول ہے۔ محمد بن اسحاق (رح) نے فرمایا میں نے چوتھے آدمی کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا وہ آدمی جس نے رسول اللہ ﷺ کے دو دانت اکھیڑ دیئے تھے۔ (7) امام بخاری اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا بعض حصہ بعض کو کھائے جاتا ہے۔ اور میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو دوزخ میں گھسیٹ رہا ہے۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے سب سے پہلے جانوروں کو سائبہ بنایا۔ (8) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن مردویہ، الحاکم (اور انہوں نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثم بن الجون کے لئے یہ فرماتے ہوئے سنا اے اکثم ! مجھ پر آگ کو پیش کیا گیا۔ میں نے اس میں عمر بن لحی بن قمع بن خندف کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو دوزخ کی آگ میں گھسیٹ رہا تھا اور میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو تجھ سے زیادہ اس کے مشابہ ہو اور نہ کسی ایسے آدمی کو دیکھا جو اس سے بڑھ کر تیرے مشابہ ہو۔ اکثم نے کہا مجھے ڈر ہے کہ اس کی مشابہت مجھ کو تکلیف نہ دے یا رسول اللہ آپ نے فرمایا نہیں بلاشبہ تو مؤمن ہے اور وہ کافر ہے۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے ابراہیم کے دین کو تبدیل کیا یا بحیرہ بنایا سائبہ کو سائبہ بنایا اور حامی کو حامی بنایا۔ (9) امام احمد، عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے سب سے پہلے جانوروں کو سائبہ بنایا اور بتوں کی عبادت کی وہ ابو خراعہ بن عامر تھا اور میں نے اس کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی آنتوں کو دوزخ کی آگ میں گھسیٹ رہا ہے۔ شرک کی بنیاد کس نے ڈالی (10) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن جریر نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں خوب جانتا ہوں اس آدمی کو جس نے سب سے پہلے جانوروں کو سائبہ بنایا اور بت کو نصب کیا۔ اور جس نے سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کو تبدیل کیا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ کون ہے ؟ یا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ عمرو بن لحی جو بنو کعب کا بھائی ہے۔ میں نے اس کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی آنتوں کو دوزخ میں گھسیٹ رہا ہے۔ دوزخ والے اس کی آنتوں کی بدبو سے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اور بلاشبہ میں خوب جانتا ہوں جس نے جانوروں کو بحیرہ بنایا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا بنو مدلج میں سے ایک آدمی ہے، اس کی دو اونٹنیاں تھیں اس نے دونوں کے کان کاٹ دیئے۔ ان کے دودھ اور پٹھوں کو حرام کرلیا۔ اور کہا یہ دونوں اللہ کے لئے ہے۔ پھر ان کی طرف ضرورت پڑی۔ تو ان کا دودھ پینے لگا اور ان پر سوار ہونے لگا۔ فرمایا میں نے اس کو دوزخ میں دیکھا ہے کہ وہ دونوں اونٹنیاں اپنے مونہوں سے اس کو کاٹ رہی ہیں اور اپنے پاؤں سے روند رہی ہیں۔ (11) امام احمد اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کیا ہے) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان ہم ظہر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور لوگ آپ کے پیچھے صفوں میں تھے۔ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے کوئی چیز پائی۔ اس کو پکڑنے لگے ہیں۔ پھر آپ پیچھے ہٹ گئے لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے پھر دوسری مرتبہ آپ پیچھے ہٹ گئے اور لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میں نے آج آپ کو ایسا کام کرتے دیکھا ہے جو آپ نماز میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا مجھ پر جنت پیش کی گئی۔ اس خوبصورتی اور تازگی کے ساتھ جو اس میں تھی میں نے انگور میں سے ایک گچھا لینا چاہا اگر میں اس کو لے لیتا تو اس میں سے آسمان اور زمین کے درمیان ساری مخلوق کھاتی اگر اسے کھاتے تو اس میں کمی نہ کرسکتے۔ لیکن میرے اور اس کے درمیان (کوئی چیز) حائل ہوگئی۔ (پھر) مجھ پر دوزخ پیش کی گئی۔ جب میں نے اس کی لو کی لپٹ کو پایا تو اس سے پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثر عورتوں کو دیکھا (کیونکہ) اگر ان کو امین بنایا جائے تو اس راز کو افشا کردیتی ہیں۔ اگر سوال کریں تو اصرار کرتی ہیں۔ اگر ان سے سوال کیا جائے تو بخل کرتی ہیں۔ جب ان کو دیا جائے تو شکر ادا نہیں کرتی ہیں اور میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی آنتوں کو گھسیٹ رہا ہے۔ اور میں نے سعید بن اکثم خزاعی کو اس کے مشابہ دیکھا۔ سعید نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ میرے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں اس کے ساتھ میری مشابہت پر۔ آپ نے فرمایا نہیں (کوئی خوف نہیں) تو مؤمن ہے اور وہ کافر ہے۔ وہ پہلا آدمی ہے جس نے عربوں کو بتوں کی عبادت پر آمادہ کیا۔ (12) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب واکثرھم لا یعقلون کے بارے میں فرمایا کہ وہ شیطان کے حرام کردینے کو نہیں سمجھتے جس نے ان پر (یہ چیزیں) حرام کیں۔ (13) امام ابو الشیخ نے محمد بن ابی موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آباؤ اجداد نے ایسا کیا کہ وہ مرگئے انہوں نے اپنے بیٹوں کو پالا اور انہوں نے گمان کیا کہ اللہ نے ایسا کیا ہے (لیکن) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب واکثرھم لا یعقلون آباؤاجداد (پھر ان کے) آباؤ اجداد اللہ تعالیٰ پر انہوں نے جھوٹ باندھا۔ اور ان کے اکثر بیٹے اس بات کو نہیں سمجھتے وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا۔ (14) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن ابی موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب کے بارے میں فرمایا کہ یہ اہل کتاب ہیں لفظ آیت واکثرھم لا یعقلون سے مراد بتوں کی پوجا کرنے والے ہیں۔ (15) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب واکثرھم لا یعقلون سے وہ لوگ مراد ہیں جو نہیں سمجھتے تھے وہ پیروکار تھے۔ اور جنہوں نے یہ جھوٹا بہتان باندھا تھا وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے (اللہ پر) جھوٹ باندھا ہے۔