5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے جو ان کے لئے حلال کیا گیا ہے، آپ فرما دیجئے حلال کی گئیں تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں، اور جن شکاری جانوروں کو تم نے تعلیم دی اس حال میں کہ تم ان کو سدھانے والے ہو، ان کو سکھاتے ہو اس طریقہ سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھایا سو ان میں سے کھالو جو انہوں نے تمہارے لئے روک لیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔

(1) ابو رافع ؓ سے روایت کی ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ جبرئیل نے اندر آنے میں دیر لگائی آپ نے (دروازہ پر لٹکی ہوئی) چادر کو اٹھایا اور باہر آگئے اور جبرئیل (علیہ السلام) سے فرمایا ہم نے تجھ کو اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے فرمایا ہاں لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا کوئی تصویر ہو صحابہ ؓ نے دیکھا اچانک گھر کے ایک حصہ میں کتے کا چھوٹا بچہ تھا۔ ابو رافع (رح) نے فرمایا مجھے حکم فرمایا کہ مدینہ کے تمام کتوں کو ماردوں میں نے ایسا ہی کیا وہ لوگ آئے اور پوچھا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ان جانوروں میں سے جن کو آپ نے قتل کا حکم دیا ؟ نبی ﷺ خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت یسئلونک ماذا احل لھم قل احل لکم الطیبت وما علمتم من الجوارح مکلبینرسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے کتے کو (شکار کے لئے) بھیجے اور اللہ تعالیٰ کا نام بھی لے اور وہ کتا اس کے کھانے سے رک جائے تو اس کو کھالو جسے کتے نے خود نہ کھایا ہو۔ (2) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے ابو رافع کو کتوں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا انہوں نے کتوں کو مار ڈالا حتیٰ تک کہ عوالی پہنچے۔ تو عاصم بن عدی، سعد بن خیثمہ اور عویم بن ساعدہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ تو (یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت یسئلونک ما ذا احل لھم (3) ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب نبی ﷺ نے کتوں کو قتل کا حکم فرمایا تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس وقت میں سے کیا چیز ہمارے لئے حلال ہے ؟ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت یسئلونک ماذا احل لھم (4) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ عدی بن حاتم اور زید بن المھلھل الطائیین دونوں حضرات نے رسول اللہ سے پوچھا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام فرما دیا پھر ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یسئلونک ماذا احل لھم سدائے ہوئے کتوں سے شکار (5) عبد بن حمید اور ابن جریر نے عامر (رح) سے روایت نقل ہے کہ عدی بن حاتم الطائی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا آپ نہیں جانتے تھے کہ اس کو کیا کہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت سورة مائدہ میں نازل فرمائی لفظ آیت تعلمو نھن مما علمکم اللہ (6) ابن جریر نے عروہ بن زبیر (رح) سے انہوں نے ان لوگوں سے روایت کیا جنہوں نے ان کو بیان کیا کہ دیہاتیوں میں سے ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور وہ آپ سے پوچھ رہا تھا ان چیزوں کے بارے میں کہ جن کو ان پر حرام فرمایا ہے اور جن کو حلال فرمایا۔ تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تیرے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور تجھ پر ناپاک چیزیں حرام ہیں۔ مگر یہ تو محتاج ہوجائے اپنے کھانے کی طرف تو اس سے تھوڑا سا کھالے یہاں تک کہ تو اس سے بےپرواہ ہوجائے۔ اس آدمی نے کہا وہ میری محتاجی کیا ہے جو میرے لئے ایسے کھانوں کو حلال کرتی ہے اور میری غناکشی ہے جو مجھ کو اس سے روکتی ہے نبی ﷺ نے فرمایا جب پیدائش کی امید رکھتا ہو اپنے جانور کے گوشت سے اس کے حمل تک جا پہنچے۔ یا تو مالداری کی امید رکھتا تھا تو اس میں سے کوئی چیز پائے۔ بس کھلا تو اپنے اہل و عیال کو جو مناسب ہو یہاں تک کہ تجھے اس کی ضرورت نہ رہے۔ اس دیہاتی نے کہا میرا اغناء سے کیا مراد ہے جب پاؤں تو اس چیز کو چھوڑ دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا جب تو اپنے اہل و عیال کے پاس دودھ کا بھرا ہوا پیالہ رات کو لے آئے تو بچے اس کھانے میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حرام کردیا ہے لیکن تیرا مال وہ سب تیرے لئے آسانی کا باعث ہے اس میں حرام نہیں ہے۔ (7) امام طبرانی نے صفوان بن امیہ (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ عرفطہ بن نھیک التمیمی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ بلاشبہ میں اور میرے گھر والے رزق دیئے جاتے ہیں اس شکار میں سے اس میں ہمارے لئے حصہ ہے اور برکت ہے۔ لیکن یہ چیز ہم کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کے ذکر سے اور جماعت میں نماز پڑھنے سے اور اس کی طرف ہماری حاجت بھی ہے کیا آپ اس کو ہمارے لئے حلال فرماتے ہیں یا اس کو حرام فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس کو حلال کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا یہ کہنا اچھا عمل ہے لیکن اللہ تعالیٰ زیادہ عذر قبول کرنے والا ہے مجھ سے پہلے جتنے بھی اللہ کے رسول تھے وہ سب کے سب شکار کرتے تھے اور شکار کو طلب کرتے تھے۔ جب تو رزق کی تلاش کی وجہ سے جماعت سے غائب ہو تو جماعت اور جماعت میں شریک لوگوں کی محبت اور اللہ کے ذکر اور ذکر کرنے والوں کی محبت یہی تیرے لئے کافی ہے۔ اور اپنی ذات اور اپنے کنبہ کے لئے حلال کو تلاش کر کیونکہ یہ بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے اور تو جان لے کہ اللہ کی مدد نیک تاجروں کے ساتھ ہے۔ شکاری پرندے اور درندے (8) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ لفظ آیت وما علمتم من الجوارح مکلبین سے مراد ہیں سدھائے ہوئے کتے اور باز اور جوارح سے مراد کتے چیتے اور شکرے اور اس طرح کے اور پرندے لفظ آیت والمکلبین نقصان پہنچانے والے (یعنی شکار کو زخمی کرنے والے) لفظ آیت فکلوا مما امسکن علیکم کھاؤ اس شکار میں سے جس کو وہ قتل کردیں۔ اگر وہ شکار کو مار ڈالے اور ساتھ ہی اس کو کھاجائے تو پھر اس کو مت کھاؤ لفظ آیت واذکرواسم اللہ علیہ یعنی جب تو اپنے شکار کو بھیجے تو بسم اللہ کہہ لے۔ اگر تو بھول جائے تو کوئی حرج نہیں (پھر بھی حلال ہے) (9) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد ؓ سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت من الجوارح مکلبین سے پرندے اور کتے مراد ہیں۔ (10) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ لفظ آیت من الجوارح مکلبین کے بارے میں فرمایا کہ وہ شکار کو مار ڈالیں پھر فرمایا لفظ آیت فکلوا مما امسکن علیکم یعنی جب تو اپنے کتے کو یا اپنے پرندے کو یا اپنے تیر کو چھوڑتا تھا اور اللہ کا نام بھی لیا تھا۔ تو اس نے شکار کو پکڑے رکھا یا اس کو قتل کردیا تو کھالو (یہ حلال ہے) (11) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کیا کہ کسی مسلمان نے کسی مجوسی کا سکھایا ہوا کتا لیا یا اس کے باز کو یا اس کے شکرے کو، ان پرندوں میں سے جن کو مجوسی نے سکھایا تھا۔ وہ مسلمان اس شکاری کو چھوڑتا ہے اور وہ شکار کو پکڑ لے آتا ہے۔ تو فرمایا اس کو نہ کھاؤ اگرچہ اس نے اس پر بسم اللہ بھی پڑھی ہو۔ اس لئے کہ یہ مجوسی کا سدھایا ہوا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت تعلمو نھن مما علمکم اللہ (یعنی جن کو تم نے سکھایا ہو) (12) امام ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ لفظ آیت وما علمتم من الجوارح یعنی ہر ایک شکاری جن کو تم نے سکھایا ہو لفظ آیت تعلمونھن مما علمکم اللہ یعنی تم نے ان کو سکھایا (شکار کو) طلب کرنے کے لئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو سکھایا۔ (13) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ سدھائے ہوئے کتے وہ ہیں کہ جو شکار کو پکڑ کر رکھیں اور (خود) اس کو نہ کھائے تو اس میں سے کھاؤ یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے۔ (14) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب کتا کھالے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنی ذات کے لئے شکار کو روکا ہے۔ (15) امام ابن جریر نے عدی بن حاتم ؓ سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے باز کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا جو شکار وہ تیرے لئے روک دے (خود نہ کھائے) تو اس کو کھالے۔ (16) امام بخاری مسلم نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام بھی لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام بھی لے تو (اس شکار میں سے) کھالو جو وہ تجھ پر روک رکھے (خود نہ کھائے) میں نے کہا اگر وہ شکار کو قتل کردیں آپ نے فرمایا اگر وہ قتل کر دے جب تک اس کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہیں ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو (تو حلال ہے) اس لئے کہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی اور اس کے علاوہ کسی دوسرے پر بسم اللہ نہیں پڑھی تھی۔ (17) امام ابن ابی حاتم نے عدی بن حاتم ؓ سے روایت نقل کی کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم ایسی قوم ہیں جو کتوں اور بازؤں کا شکار کرتے ہیں۔ ہمارے لئے اس میں سے کیا حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے حلال ہے جو فرمایا لفظ آیت وما علمتم من الجوارح مکلبین تعلمونھن مما علمکم اللہ فکلوا مما امسکن علیکم واذکروا سم اللہ علیہ پھر آپ نے فرمایا جو تم نے کتے کو چھوڑا اور اللہ کا نام بھی لیا تو کھاؤ اس میں سے جو وہ تجھ پر روک لے (خود نہ آجائے) میں نے کہا اگر وہ (شکار کو) قتل کر دے فرمایا۔ اگرچہ وہ قتل کر دے جب تک وہ (خود) نہ کھائے یعنی جس کو پکڑ رکھے میں نے کہا ہم ایسی قوم ہیں جو تیر پتھر پھینک کر بھی شکار کرتے ہیں ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ آپ نے فرمایا جو تو نے اللہ کا نام پڑھ کر تیر یا پتھر کو پھینکا اور اس نے جانور کو زخمی کردیا تو اسے کھالے۔ کتے اور باز پر بسم اللہ پڑھنا (18) عبد بن حمید نے علی بن الحکم سے روایت کی ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا آپ بتائیے جب میں اپنے کتے کو چھوڑوں اور اللہ کا نام بھی لوں اور وہ شکار کو مار ڈالے تو کیا اس کو کھا لوں فرمایا ہاں کھالو نافع نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت الا ماذکیتم جبکہ آپ یہ فرماتے ہیں اگر وہ (شکار) قتل کر دے۔ فرمایا افسوس ہے تجھ پر اے ابن ارزق تو بتا اگر وہ بلے کو مار دے اور تو اس کو ذبح بھی کرے کیا اس کا حکم تیری خواہش پر ہوگا۔ اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کونسے کتوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ طحا میں سے نبہان قبیلہ کے خاندان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی افسوس ہے تجھ پر اے ابن ارزق یقیناً یہ تیرے لئے بڑی خبر ہوگی۔ (19) عبد بن حمید نے مکحول سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کتا جو سکھایا ہوا نہ ہو اگر اس نے شکار کو روک لیا اور تو نے اس کو ذبح کرلیا تو اسے کھالے۔ اگر تو اس کو ذبح نہ کرسکے تو نہ کھا۔ (20) عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب کتے نے شکار کا کچھ حصہ کھالیا تو پھر تم نہ کھاؤ اور اگر شکرہ نے کھالیا تو اس کو کھالو کیونکہ کتے کو تو مار سکتا ہے مگر شکرے کو نہیں مار سکتا۔ (21) عبد بن حمید نے عروہ ؓ سے روایت نقل کیا ان سے پوچھا گیا کہ کوا کیا یہ پاکیزہ چیزوں میں سے ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیسے پاکیزہ چیزوں میں سے ہوسکتا ہے جبکہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے فاسق فرمایا ہے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کا کھایا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پاکدامن عورتیں جو مسلمان ہیں اور وہ پاکدامن عورتیں جو ان لوگوں میں سے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہیں۔ جب کہ تم ان کو ان کے مہر دے دو اس طریقہ پر کہ تم پاکدامنی اختیار کرنے والے ہو، خفیہ طریقے پر دوستی کرنے والے نہ ہو۔ اور جو کوئی شخص ایمان کا انکار کر دے تو اس کے اعمال اکارت ہوگئے، اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں ہوگا۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس اور امام بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی کہ لفظ آیت وطعام الذین اوتوالکتب یعنی ان کے ذبائح (اور) لفظ آیت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم یعنی حلال ہیں تمہارے لئے اور لفظ آیت اذا اتیتموھن اجورھن یعنی ان کے مہر لفظ آیت محصنین یعنی ان سے نکاح کرو مہر اور گواہ کے ساتھ لفظ آیت غیر مسفحین اعلانیہ زنا کرنے والی نہ ہوں لفظ آیت ولا متخذی اخدان یعنی چھت پر زنا کرنے والی بھی نہ ہو۔ (2) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم یعنی ان کے ذبائح (حلال ہیں) (3) امام عبد الرزاق نے ابراہیم نخعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت وطعام الذین اوتوا الکتب یعنی ان کے ذبائح (حلال ہیں) (4) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے نقل کیا ہے لفظ آیت والمحصنت من المومنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دو محصنہ حلال کی ہیں مؤمن محصنہ اور اہل کتاب محصنہ (لیکن) ہماری عورتیں ان پر حرام ہیں اور ان کی عورتیں ہمارے لئے حلال ہیں۔ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح (5) امام ابن جریر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور وہ ہمارے عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے۔ (6) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے عمر بن خطاب ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمان نصرانی عورت سے نکاح کرسکتا ہے اور کوئی نصرانی مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔ (7) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہمارے لئے ان کا کھانا اور ان کی عورتیں حلال ہیں۔ (8) امام طبرانی اور امام حاکم نے (اسے صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہود و نصاری کے ذبائح مسلمانوں کے لئے حلال ہیں اس وجہ سے کہ وہ تورات اور انجیل پر ایمان لائے۔ (9) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ لفظ آیت والمحصنت من المومنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب سے اہل کتاب کی آزار عورتیں مراد ہیں۔ (10) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت والمحصنت من المومنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم سے پاکدامن عورتیں مراد ہیں۔ (11) امام عبدالرزاق نے شعبی ؓ نے لفظ آیت والمحصنت من المومنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد پاکدامن اور جنابت کا غسل کرنے والی۔ (12) امام عبد الرزاق اور ابن منذر نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے نقل کیا ہے ان سے مسلمان کا نکاح یہودی یا نصرانی عورت سے کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے فتح مکہ کے زمانہ میں ان سے نکاح کئے تھے کہ ہم نے مسلمان عورتوں کو زیادہ نہیں پایا تھا۔ جب ہم واپس لوٹے تو ہم نے ان کو طلاق دیدی پھر فرمایا ان کی عورتیں ہمارے لئے حلال ہیں اور ہمارے عورتیں ان پر حرام ہیں۔ (13) عبد بن حمید نے میمون بن مھران سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اہل کتاب کی عورتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت والمحصنت من المومنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اور لفظ آیت ولا تنکحوا المشرکت مسلمان عورتیں نکاح کے لئے قابل ترجیح ہیں (14) امام ابن جریر نے حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کیا ایک آدمی اہل کتاب میں سے کسی عورت کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے ؟ فرمایا ہمارا کوئی واسطہ نہیں اہل کتاب سے۔ مسلمان عورتیں بہت ہیں۔ اگر ضروری ایسا ہوجائے تو اس سے وعدہ کرو کہ وہ پاکدامن رہے گی۔ اعلانیہ زنا نہیں کرے گی۔ آدمی نے کہا مسافحہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ایسی عورت کہ مرد اگر عورت کی آنکھ سے اشارہ کرے تو وہ اس کے پیچھے چلی آئے۔ (15) امام عبد بن حمید نے سارہ ؓ سے نقل کیا کہ لفظ آیت ولا متخذی اخدان سے کیا مراد ہے خفیہ دوستی لگانے والے اور ایک ہی محبوبہ عورت سے خفیہ دوستی لگانے والے پھر فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ کچھ مردوں نے کہا کہ کس طرح ہم ان کی عورتوں سے نکاح کریں گے حالانکہ وہ اپنے دین پر ہیں اور ہم اپنے دین پر ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا لفظ آیت ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ (المائدہ آیت 5) اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ کوئی عمل قبول نہیں فرماتے مگر ایمان کے ساتھ۔ (16) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد سے نقل کیا ہے لفظ آیت ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ یعنی اللہ تعالیٰ نے خبر دیدی کہ ایمان ایک مضبوط کڑا ہے اور اس کے بعد کوئی عمل قبول نہیں فرماتے اور اس کے چھوڑنے پر اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردیتا ہے۔ (17) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام قسم کی عورتوں سے منع فرمایا مگر جو ایمان والی اور ہجرت کرنے والی ہوں (وہ ٹھیک ہیں) اور اسلام کے علاوہ ہر دین والی کو حرام قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نماز کی طرف اٹھو تو اپنے مونہوں کو اپنے ہاتھ کی کہنیوں تک دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرلو اور دھولو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک، اور اگر حالت جنابت میں ہو تو اچھی طرح سے پاک ہوجاؤ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو تو تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو پھر تم پانی کو نہ بہاؤ تو ارادہ کرلو پاک مٹی کا سو اس سے اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرلو اللہ ارادہ نہیں فرماتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے لیکن وہ ارادہ فرماتا ہے تاکہ تم کو پاک کرے اور تاکہ تم پر اپنی تعمت پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ علقمہ بن صفوان (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کرتے تھے تو ہم آپ سے باتیں کرتے مگر آپ ہم سے باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہم آپ کو سلام کرتے مگر آپ ہم کو سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے گھر والوں کے پاس آتے وضو فرماتے جیسے نماز کے لئے وضو ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے بات کی لیکن آپ نے ہم سے بات نہیں کی، ہم نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے ہم کو جواب نہیں دیا یہاں تک کہ رخصت والی ایک آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ موزوں پر مسح کرنا (2) امام مسلم، ابو داؤو، ترمذی اور امام نسائی (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ ہر نماز کے وقت وضو فرمایا کرتے تھے جب فتح مکہ کا دن تھا تو آپ نے اپنے موزوں پر مسح فرمایا اور ایک ہی وضو سے نماز ادا فرمائیں۔ حضرت عمر ؓ نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کام کیا جو آپ نے (پہلے) نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا اے عمر ! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔ (3) امام داؤو اور امام ترمذی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لائے پھر آپ کے سامنے کھانا لایا گیا اور صحابہ نے عرض کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں۔ آپ نے فرمایا مجھے وضو کا حکم دیا گیا جب میں نماز کے لئے کھڑ اہوں۔ (4) امام احمد، امام داؤد، ابن جریر، ابن خزیمہ ابن حبان حاکم اور امام بیہقی نے عبد اللہ بن حنظلہ بن الغسیل ؓ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ کو ہر نماز کے لئے وضو کا حکم دیا گیا چاہے پہلے سے وضو ہو یا نہ ہو جب یہ حکم رسول اللہ ﷺ پر مشکل ہوگیا۔ تو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور آپ سے وضو کا حکم اٹھا لیا گیا۔ مگر حدیث کی صورت میں۔ (5) امام ابن جریر اور نحاس (رح) نے ناسخ میں حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی ؓ ہر نماز کے وقت وضو فرماتے تھے اور یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا قمتم پڑھتے تھے۔ (6) امام بیہقی نے سنن میں رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی کو فرمایا جو نماز میں کوتاہی کر رہا تھا۔ بلاشبہ تم میں سے کسی کی نماز مکمل نہیں ہوئی۔ جب تک کہ اچھی طرح وضو نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم فرمایا ہے۔ اپنے چہرے کو دھونے اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھوئے۔ (7) امام مالک، امام شافعی، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے زید بن اسلم اور نحاس (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ اس آیت لفظ آیت اذا قمتم الی الصلوۃ کے معنی ہیں کہ جب تم اٹھولیٹنے کی جگہ سے یعنی نیند سے۔ (8) امام ابن جریر سدی ؓ سے اسی طرح روایت ہے لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ تم کھڑے ہو اس حال میں کہ تم بغیر وضو کے ہو۔ (9) ابن ابی شیبہ عن حسن ؓ نے لفظ آیت فاغسلوا وجوھکم ایدیکم کے بارے میں فرمایا کہ غسل سے مراد گڑنا ہے۔ (10) دار قطنی اور امام بیہقی (رح) نے اپنی سننان میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت نقل کی کہ جب رسول اللہ ﷺ وضو فرماتے تھے تو اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے۔ (11) ابن ابی شیبہ نے طلحہ ؓ سے طلحہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے سرکا اس طرح مسح فرمایا اور حفص نے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر گزارا یہاں تک کہ اپنی گدی کا بھی مسح کیا۔ (12) ابن ابی شیبہ (رح) نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت نقل کی کہ اسے یوں پڑھا لفظ آیت وارجلکم نصب کے ساتھ اور فرماتے تھے اس کا تعلق غسل سے ہے۔ (13) سعید بن منصور، ابن ابو شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منصور، ابن ابی حاتم اور امام نحاس (رح) نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے لفظ آیت وارجلکم نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ (14) سعید بن ابی منذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے۔ علی ؓ نے یوں پڑھا لفظ آیت وارجلکم (نصب کے ساتھ) فرمایا اس کا تعلق غسل سے ہے۔ (15) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر، نحاس نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے یوں پڑھا لفظ آیت وامسحوا برء وسکم وارجلکم نصیب کے ساتھ۔ (16) ابن ابی شیبہ نے عروہ (رح) سے نقل کیا کہ عروہ ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وارجلکم اور فرماتے اور غسل کی طرف راجع ہے۔ (17) عبدالرزاق اور امام طبرانی نے قتادہ (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وارجلکم الی الکعبین اس کا امر لوٹ رہا ہے قدموں کے دھونے کی طرف۔ (18) امام ابن جریر نے ابو عبد الرحمن سے روایت نقل کی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نے یوں پڑھا لفظ آیت وارجلکم الی الکعبین حضرت علی نے اسے سنا وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر رہے تھے۔ اور فرمایا اس کلام میں تقدیم تاخیر ہے۔ (19) سعید بن منصور نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انس ؓ نے یوں پڑھا لفظ آیت وارجلکم (20) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت وامسحوا برء وسکم وارجلکم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مسح مراد ہے۔ (21) امام عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور امام ابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ لوگوں نے انکار کیا (قدموں کے مسح کا) مگر غسل کا (انکار نہیں کیا) اور میں نے اللہ کی کتاب میں مسح کو پایا۔ (22) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ وضو میں دو اعضاء کو دھونے اور دو اعضاء پر مسح کرنے کا حکم ہے۔ (ابن ابی شیبہ نے عکرمہ ؓ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے) (23) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو غسل اور دو مسحے فرض فرمائے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کا ذکر فرمایا تو دو اعضاء کو دھونے کو مسح بنا دیا اور دو اعضاء کے مسح کے معاملہ کو چھوڑ دیا۔ (24) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے حضرت انس نے نقل کیا کہ قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے انس ؓ سے کہا گیا کہ حجاج نے ہم کو خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو دھولو اور اپنے سروں اور اپنے پاؤں کا مسح کرو انسان کے اعضاء سے کوئی بھی حصہ غلاظت کی طرف زیادہ قریب نہیں ہے اس کے قدموں سے پس تم قدموں کے باطن ظاہر اور پنڈلیوں کو دھولو۔ انس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور حجاج نے جھوٹ بولا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت وامسحوا برء وسکم وارجلکم اور انس ؓ جب اپنے قدموں کا مسح فرماتے تو ان کو تر کرلیتے تھے۔ تیمم کا مسح (25) عبد الرزاق ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن جریر نے شعبی (رح) سے نقل کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) قدموں پر مسح کا حکم لے کر نازل ہوئے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیمم میں مسح کیا جاتا ہے اس اعضاء کا جن کا (وضو میں) دھویا جاتا ہے اور وضو میں جن اعضاء کا مسح کیا جاتا ہے ان کو تیمم میں چھوڑ دیا گیا۔ (26) عبد بن حمید، اعمش (رح)، امام نحاس (رح) نے شعبی (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ قرآن مسح کے ساتھ اترا۔ اور سنت جاری ہوئی غسل کے ساتھ۔ (27) عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت نقل کہ ہے کہ علماء لفظ آیت برء وسکم وارجلکم کو مجرور پڑھتے تھے جب کہ وہ پاؤں دھوتے تھے۔ (28) سعید بن منصور نے عبد الرحمن بن ابی لیلی (رح) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پاؤں کو دھویا جائے۔ (29) ابن ابی شیبہ نے حکم (رح) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے قدمین کو دھونے کا طریقہ چلا آرہا ہے۔ (30) ابن جریر نے عطاء (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے کسی کو قدمین پر مسح کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (31) ابن جریر نے انس ؓ سے روایت نقل کی کہ قرآن مسح کے ساتھ نازل ہوا لیکن سنت غسل کے ساتھ ہے۔ (32) طبرانی نے اوسط میں برأ بن عازب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة مائدہ نازل ہونے سے پہلے ہمیشہ موزوں پر مسح فرمایا اور اس کے بعد بھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے اٹھا لیا۔ (33) طبرانی نے اوسط میں ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر اور سعد اور عبد اللہ بن عمر ؓ کے پاس قدموں پر مسح کرنے کا ذکر کیا گیا ہے عمر ؓ نے فرمایا سعد ؓ تجھ سے زیادہ فقیہ ہیں۔ پھر عمر ؓ نے فرمایا اے سعد ہم اس کا انکار نہیں کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسح فرمایا لیکن کیا مسح تھا سورة مائدہ نازل ہوئی۔ کیونکہ اس سورت نے ہر حکم کو محکم کردیا اور یہ سورت کے علاوہ وہ آخری سورت ہے قرآن کی جو نازل ہوئی ابن عباس نے فرمایا (یہ سن کر) کسی نے کچھ نہیں کہا۔ (34) ابو الحسن نے بن صخر نے ہاشمیات میں ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میرے چچا کے بیٹے (یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ پر جبرئیل (علیہ السلام) (یہ آیت) لے کر نازل ہوئے۔ لفظ آیت اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی المرافق اور لفظ آیت وامسحوا برء وسکم کے بارے میں جبرئیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اس کو ان کے درمیان کر دو ۔ (35) امام بخاری، امام مسلم اور بیہقی نے حضرت جریر سے نقل کیا ( اور یہ الفاظ بیہقی کے ہیں) کہ جریر ؓ نے پیشاب کیا پھر وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے مسح کرنے سے روکا ہے جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں کو یہ سورة مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ انہوں نے فرمایا میں سورة مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام لایا تھا۔ (36) عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ نے جریر بن عبد اللہ ؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سورة مائدہ کے نازل ہونے کے بعد آیا اور میں نے آپ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ ( 37) ابن عدی نے بلال ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ موزوں پر مسح کرو۔ (38) ابن جریر نے قاسم بن فضل حدانی (رح) سے روایت نقل ہے کہ ابو جعفر نے فرمایا کہ ٹخنوں میں سے لوگوں نے کہا یہاں انہوں نے فرمایا یہ تو پنڈلی کا سراب ہے۔ لیکن ٹخنے وہ ہیں جہاں جوڑ ہوتا ہے۔ (39) عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے نقل کیا کہ لفظ آیت وان کنتم جنبا فاطھروا سے مراد ہے کہ تم غسل کرلو۔ (40) ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے ایک آدمی عمدہ کپڑے اچھی خوشبو اور عمدہ چہرہ کے ساتھ آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ آپ نے فرمایا وعلیک السلام عرض کیا گیا میں آپ کے قریب ہوجاؤں ؟ فرمایا۔ ہاں ! وہ قریب ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنے گٹھنے رسول اللہ ﷺ کے گٹھنوں سے ملا لئے اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ الحرام کا حج کرنا۔ اور جنابت سے غسل کرنا اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ ہم نے کہا آج کے دن کی طرح ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا اللہ کی قسم گویا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو سکھا رہا ہے۔ (41) عبد بن حمید نے وھب (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ زبور میں لکھا ہوا تھا۔ جو شخص جنابت سے غسل کرے تو وہ میرا سچا بندہ ہے اور جو جنابت سے غسل نہ کرے وہ میرا حقیقی دشمن ہے۔ (42) عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کو احتلام ہوا۔ جبکہ اس کے اعضاء کٹے ہوئے تھے۔ لوگوں نے اس کو غسل دیا تو وہ مرگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غسل کرنے والوں نے اس کو قتل کردیا اللہ ان کو ہلاک کرے۔ لوگوں نے اس کو ضائع کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو ضائع کرے۔ (43) عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ ابن عباس ؓ نے اپنی آنکھیں (بینائی) چلی جانے کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اور انہوں نے ایک جماعت کے افراد کو سنا کہ وہ مجامعت ملامت اور رقت کا ذکر کر رہے تھے۔ اور وہ اس کا معنی نہیں جانتے تھے یعنی ان سب کا معنی ایک یا مختلف ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عرب کے تمام قبائل کی لغت پر نازل فرمایا۔ لوگ جس کے ذکر سے حیا نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عیاں کردیا۔ اور جس کے ذکر سے شرم کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اسے کنایہ کے طور پر ذکر فرمادیا۔ جبکہ عرب کے لوگ اس کے معنی کو خوب جانتے تھے۔ کیونکہ مجامعت ملامت اور رقت اور انگلیوں کو اپنے کانوں میں رکھنا سب کا معنی ایک ہے پھر فرمایا خبردار یہی جماع ہے۔ (44) امام طستی نے مسائل میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت اولمستم النساء کے بارے میں بتائیے فرمایا تم جماع کرو ان عورتوں سے، ہذیل کہتے ہیں کہ ہاتھ سے چھونا مراد ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ پھر فرمایا ہاں کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ تلمس الاحلاس فی منزلہ بیدیہ کالیھودی المصل ترجمہ : وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ گھر میں چادر سے جماع کرتا رہتا ہے جیسے عبادت گزار یہودی۔ ودارعۃ صفر اء بالطیب عندنا للمس التدی ما فی یدالدرع منتق ترجمہ : وہ ہمارے زیورات کو خوشبو لگاتی ہے تاکہ مجلس میں شریک لوگوں کو اپنی قمیض کے ہاتھ سے چھونے سے جس پر خوشبو لگی ہوئی ہو۔ (45) عبد بن حمید نے قتادہ ؓ لفظ آیت فتیمموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ کے بارے میں فرمایا اگر پانی تجھے مشقت میں ڈال دے اور پاک مٹی تجھے بےبس نہ کرے تو رکھ دے اپنی ہتھیلیوں کو پاک مٹی میں پھر ان کو جھاڑ دے اور ان کے ساتھ اپنے ہاتھوں اور اپنے چہرے کا مسح کر۔ جنابت کے غسل اور نماز کے وضو میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اور جس شخص نے پاک مٹی سے تیمم کیا پھر پانی پر قادر ہوگیا تو اس پر اعضاء کا دھونا لازم ہے جبکہ وہ نماز ہوگئی ہے جو اس نے پڑھ لی تھی اور جس کے پاس تھوڑا سا پانی ہو اور خود اس کو پیاس کی وجہ سے ہلاک ہونے کا ڈر ہو تو اس کو چاہئے کہ پاک مٹی سے تیمم کرے اور اپنے پانی کو پی لے۔ اسے یہی حکم دیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو زیادہ قبول کرنے والا ہے۔ حضرت عائشہ کا ہار گم ہو گیا (46) عبد بن حمید، امام بخاری اور امام مسلم نے عائشہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ بیداء کے مقام پر میرا ہا رگر گیا۔ اور ہم مدینہ منورہ میں داخل ہونے والے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو بٹھا دیا اور اپنا سر میری گود میں نیند کرتے ہوئے رکھ دیا۔ ابوبکر آئے اور مجھے ایک سخت مکا مارا اور کہا تو نے لوگوں کو روک دیا میری وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے سر کی جگہ ہونے کی وجہ سے گویا مجھ پر موت طاری تھی جبکہ ابوبکر سخت تکلیف دے رہے تھے اتنے میں رسول اللہ ﷺ بیدار ہوگئے صبح کی نماز کا وقت ہوگیا پانی کو تلاش کیا تو وہ نہ ملا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم اسید بن خضیر ؓ نے فرمایا اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت دے۔ (47) امام عبد الرزاق، امام احمد، عبد بن حمید اور امام ابن ماجہ نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیش کے ابتدائی حصہ کے ساتھ رات کے آخری وقت میں آرام فرمایا آپ کے ساتھ عائشہ ؓ بھی تھیں حضرت عائشہ کا ایک ہار جو ظفار کے نگینوں کا تھا ٹوٹ کر گرگیا ۔ آپ ہار کو ڈھونڈنے کے لئے بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ فجر ہوگئی۔ اور لوگوں کے پاس پانی نہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر پاکیزہ مٹی کے ساتھ پاکی حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی۔ سب مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھوں پر کندھوں تک مسح کیا اپنے ہاتھوں کے اندرونی حصہ سے بغل تل مسح کیا۔ (48) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت من حرج سے مراد ہے تنگی۔ (49) امام مالک، امام مسلم اور ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب مسلمان بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتا ہے۔ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک ہوجاتا ہے۔ (50) ابن مالک نے زھد میں ابن منذر اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں محمد بن کعب القرظی کے طریق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن دار اور انہوں نے حمران سے جو حضرت عثمان ؓ کے آزار کردہ غلام ہیں اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو بندہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے۔ اور وہ نماز کی طرف کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ایک نماز سے لے کر دوسری نماز تک کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ محمد بن کعب قرظی ؓ نے فرمایا کہ میں نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کسی آدمی سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اس کو قرآن میں تلاش کرتا تھا۔ میں نے اس کو ڈھونڈا اور اس کو اس آیت میں پایا۔ لفظ آیت انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخرویتم نعمتہ علیک میں نے پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر کسی نعمت کو پورا نہیں فرماتے یہاں تک کہ ہمارے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں۔ پھر میں نے وہ آیت پڑھی جو سورة مائدہ میں ہے۔ لفظ آیت اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم اور یہاں تک پہنچے لفظ آیت ولکن یرید لیطھرکم ولیتم نعمتہ علیکم میں نے پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ نعمت کو ان پر پورا نہیں فرماتے ہیں یہاں تک ان کے گناہ بخش دیتے ہیں۔ وضو سے گناہ معاف ہوتے ہیں (51) ابن ابی شیبہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مسلمان آدمی وضو کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے کانوں سے، اس کی آنکھوں سے، اس کے ہاتھوں سے اور اس کے پاؤں سے نکل جاتے ہیں اگر وہ بیٹھتا ہے تو بخشا ہوا بیٹھتا ہے۔ (52) طبرانی نے اوسط میں صحیح سند کے ساتھ ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ گرجاتے ہیں۔ اور جب اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ گرجاتے ہیں۔ اور جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بالوں کی جڑوں سے اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو اس کے قدموں سے گناہ گرجاتے ہیں۔ (53) امام احمد اور طبرانی نے سند حسن کے ساتھ ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنے وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور نماز کا ارادہ کرتا ہے اور اپنے ہتھیلیوں کو دھوتا ہے۔ تو ہر گناہ اس کی ہتھیلی سے نیچے گر جاتا ہے۔ اور جب کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھاتا ہے تو اس کی زبان سے اور اس کے ہونٹوں سے ہر گناہ پہلے قطرے کے ساتھ ہی گر جاتا ہے۔ اور جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ہر گناہ جو اس نے اپنے کانوں سے کیا اور اپنی آنکھوں سے کیا پہلے قطرے کے ساتھ ہی گر جاتا ہے۔ اور جب اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتا ہے اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھوتا ہے تو ہر گناہ سے سلامت ہوجاتا ہے۔ اس طرح پر جیسے آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا۔ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درجوں کو بلند فرما دیتے ہیں اور جب وہ بیٹھتا ہے تو گناہوں سے پاک ہو کر بیٹھتا ہے۔ (54) امام احمد اور طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور اپنے ہاتھوں کو اور اپنے چہرے کو دھوئے اور اپنے سر اور اپنے کانوں کا مسح کرے پھر وہ فرض نماز کے لئے کھڑا ہوجائے تو اس کے آج کے دن کے سارے گناہ جو پاؤں کے چلنے سے ہوئے جو ہاتھوں کے پکڑنے سے ہوئے اور جو اس کے کانوں نے سنا اور جو اس کی آنکھوں نے اس کی طرف دیکھا اور جو اس کے دل میں برائی کا خیال پیدا ہوا سب معاف ہوجائیں گے۔ (55) امام طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے اور اپنے منہ کی کلی کرتا ہے اور (پورا) وضو کرتا ہے جیسے حکم دیا گیا۔ تو اس سے وہ تمام گناہ گرجاتے ہیں تاکہ اس دن کے وہ گناہ جو اس نے اپنے منہ سے (بول کر) کئے۔ اور وہ گناہ جو اس کے ہاتھوں نے کئے اور وہ گناہ جن کی طرف چل کر گیا۔ یہاں تک کہ وہ گناہ اس کے اطراف سے نیچے گرجاتے ہیں۔ پھر وہ جب مسجد کی طرف چل کرجاتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے۔ (56) امام طبرانی نے ثعلبہ بن عبادہ ؓ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے یہاں تک کہ پانی اس کی ٹھوڑی سے بہتا ہے پھر اپنے بازؤوں کو دھوتا ہے یہاں تک کہ پانی اس کی کہنیوں سے بہتا ہے۔ پھر اپنے پاؤں کو دھوتا ہے یہاں تک کہ پانی اس کے ٹخنوں سے بہتا ہے پھر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سارے پچھلے گناہ کو معاف کردیتے ہیں۔ وضو میں ہر عضو کے دھونے پر گناہ معاف ہوتا ہے (57) طبرانی نے اوسط میں حسن سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مسلمان نماز کے لئے وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو پانی کے ہر قطرہ سے گناہ نکل جاتا ہے جو اس نے اپنی زبان سے گناہ کئے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے تو پانی کے ہر قطرہ کے ساتھ اس کے وہ گناہ گرجاتے ہیں۔ جس کی بو اس نے ناک سے پائی تھی اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو پانی کے قطرات کے ساتھ وہ گناہ گرجاتے ہیں جن کی طرف اس نے دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اور اپنے ہاتھوں میں سے کسی حصہ کو دھوتا ہے تو وہ پانی کے ہر قطرہ سے گناہ نکل جاتا ہے۔ جن سے اس نے پکڑا تھا اور اپنے بازؤں میں سے کوئی حصہ دھوتا ہے تو پانی کے ہر قطرہ کے ساتھ ہر گناہ نکل جاتا ہے جن کی طرف اپنے قدموں کے ساتھ چل کر گرگیا تھا پھر جب وہ مسجد کی طرف چل کرجاتا ہے تو ہر قدم کے گناہ کے بدلے نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اس کے بدلے گناہ مٹا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ (58) ابن سعد اور ابن ابی شیبہ (رح) نے عمرہ بن عبسہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو آدمی وضو کے قریب جاتا ہے وہ منہ سے کلی کرتا ہے جب پانی گھماتا ہے۔ پھر ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک کو جھاڑتا ہے تو اس کے منہ اور ناک کی خطائیں پانی کے ساتھ گر جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تو اس کے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے چہرہ سے اور اس کی داڑھی کے اطراف سے پانی کے ساتھ پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ پوروں کے اطراف سے گرجاتے ہیں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتا ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم فرمایا تو اس کے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے سر کے بالوں کے اطراف سے پانی کے ساتھ پھر اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تو اس کے گناہ نکل جاتے ہیں۔ اس کے قدموں سے اور اس کی انگلیوں کے اطراف سے پانی کے ساتھ پھر وہ کھڑا ہوتا ہے اور اللہ کی حمد اور اس کی تعریف کرتا ہے جیسے کہ اس کی ذات کے لائق ہے۔ پھر دو رکعت پڑھتا ہے تو وہ اس طرح گناہوں سے نکل جاتا ہے جیسے آج ہی ماں نے اس کو جنا ہے۔ (59) عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے لفظ آیت ولیتم نعمتہ علیکم کے بارے میں فرمایا کہ نعمت کے پورا ہونے سے مراد ہے جنت کا داخلہ کسی بندہ پر نعمت پوری نہیں ہوتی جب تک جنت میں داخل نہ ہو۔ (60) ابن ابی شیبہ، امام احمد بن حمید اور امام بخاری نے ادب المفرد میں امام ترمذی، طبرانی اور بیہقی نے اسماء والصفات میں اور خطیب نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی پر گزرے وہ دعا کر رہا تھا اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تو نے مصیبت کا سوال کیا اس سے چھٹکارے کا سوال کرو۔ اور ایک آدمی پر گزرے تو وہ کہہ رہا تھا اے اللہ میں تجھ سے نعمت کے پورے ہونے کا سوال کرتا ہوں۔ آپ نے پوچھا اے آدم کے بیٹے ! کیا تو جانتا ہے کہ نعمت کا پورا ہونا کیا ہے ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ایسی دعا ہے جو میں نے خیر کی امید رکھتے ہوئے دعا کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نعمت کا پورا ہوتا جنت میں داخل ہونا۔ اور آگ سے چھٹکارا پانا ہے اور ایک آدمی پر گزرے وہ کہہ رہا تھا یا ذوالجلال والاکرام آپ ﷺ نے فرمایا تیری درخواست قبول کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر۔ (61) امام ابن عدی نے ابو مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بندہ پر نعمت پوری نہیں ہوئی مگر جنت کے ساتھ۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہے اور اس پختہ عہد کو یاد کرو جو تم نے اللہ کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کیا ہے جبکہ تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور مانا، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے ان باتوں کو جو سینوں میں ہیں۔

(1) امام ابن جریر اور طبرانی (رح) نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت واذکروا نعمۃ اللہ علیکم ومیثاقہ الذی واثقکم بہ اذقلتم سمعنا واطعنا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو بھیجا اور ان پر کتاب کو اتارا۔ صحابہ ؓ نے کہا ہم نبی ﷺ پر اور کتاب پر ایمان لائے۔ اور ہم نے اقرار کیا ان باتوں کا جو تورات میں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ وعدہ یاد دلایا جس کا انہوں نے اپنے اوپر اقرار کیا تھا اور ان کو وہ وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر مجاہد (رح) سے لفظ آیت واذکروا نعمۃ اللہ علیکم کے بارے میں فرمایا کہ نعم سے مراد اللہ تعالیٰ کے احسانات اور میثاق سے مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ میثاق سے مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنو آدم سے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر کیا۔
Ayahs 5:8–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے لئے پوری پابندی کرنے والے انصاف کے ساتھ شہادت ادا کرنے والے ہوجاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ۔ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرو بیشک اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جنہیں تم کرتے ہو۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ ان کے کئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخ والے ہیں۔

(1) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن کثیر نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا کونوا قومین للہ شھداء بالقسط کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) خیبر کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ ایک دیت کے بارے میں ان کے پاس تشریف لے گئے لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ اس لئے یہ فرمایا لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا (الآیتہ) واللہ اعلم