5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو یہ سرزمین ان لوگوں پر چالیس سال تک حرام رہے گی۔ زمین میں حیران پھرتے رہیں گے سو آپ نافرمان قوم پر رنج نہ کیجئے۔

(1) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فانھا محرمۃ علیھم یعنی یہ شہروں پر پیشہ کے لئے حرام کردیا گیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت یتیھون فی الارض سے مراد کہ وہ چالیس سال تک اس صحراء میں بھٹکتے رہے۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ آدمیوں کو بطور جاسوس بھیجا ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی تھا تاکہ قوم کے بارے میں خبر لے آئیں (ان میں سے) دس نے اپنی قوم کو بزدل بنایا اور اس میں داخل ہوتا ناپسند کیا۔ لیکن یوشع بن نون اور ان کے ساتھی نے داخل ہونے کا حکم دیا اور اللہ کے حکم پر قائم رہے اور انہوں نے اپنی قوم کو اس بارے میں رغبت دی اور اس بارے میں ان کو خبر دی کہ وہ ضرور غالب ہوں گے یہاں تک کہ دوسرے افراد نے کہا لفظ آیت انا ھھنا قعدون جب قوم اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے سے بزدل ہوگئے اور اپنے رب کے حکم کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ وہ کنوؤں کا پانی پیتے رہے کسی بستی یا شہر میں نہیں جاسکتے تھے۔ اور اس کا راستہ نہیں پاتے تھے اور نہ اس پر قادر ہوتے تھے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ان پر بستیاں حرام کردی گئیں تھیں۔ وہ کسی بستی میں نہیں جاسکتے تھے اور نہ اس پر قدرت رکھتے تھے۔ کنوؤں کے اردگرد چالیس سال تک پھرتے رہے اور اطوار سے مراد ہیں اور ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ موسیٰ چالیس سال میں وفات پا گئے اور ان میں سے کوئی بھی بیت المقدس میں داخل نہیں ہوا۔ مگر ان کی اولادیں اور وہ دونوں آدمی جنہوں نے (داخل ہونے کے لئے) کہا تھا۔ بنی اسرائیل میدان تیہ میں چالیس سال رہے (4) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا چالیس سال تک وہ لوگ حیران سرگردان پھرتے رہے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی میدان تیہ میں وفات ہوگئی۔ وہ بھی فوت ہوگئے جن کی عمر چالیس سال سے اوپر تھی۔ جب چالیس سال گزر گئے تو یوشع بن نون نے ان کو ہمت دلائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آپ ہی بنی اسرائیل کے معاملات چلا رہے تھے۔ اور یہ وہی آدمی ہے جس کو کہا گیا تھا کہ آج کا دن جمعہ کا دن ہے تو بنی اسرائیل نے مقدس شہر کو فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا تو ان کو خوف ہوا کہ اگر ہفتہ کی رات داخل ہوگئی تو لوگ ہفتہ کے دن میں داخل ہوجائیں گے۔ انہوں نے سورج کو آواز دی کہ بلاشبہ میں بھی مامور ہوں اور تو بھی مامور ہے۔ تو وہ ٹھہر گیا۔ انہوں نے اس (مال) کو آگ کے قریب کیا اگر آگ نہ آئی تو انہوں نے فرمایا تمہارے اندر کوئی خیانت ہے اور قبیلوں کے سرداروں کو بلایا جو بارہ آدمی تھے۔ ان سے بیعت لی ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا۔ تو فرمایا خیانت تیرے پاس ہے اس کو نکال دے اس نے سونے کا ایک بیل کا سر نکالا۔ اس کی دو آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے تو اس کو قربانی میں پیش کئے جانے والے مال کے ساتھ رکھ دیا۔ آگ آئی اور اس کو کھا گئی۔ (5) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا بنو اسرائیل چالیس سال تک ریت کے ریگستان میں حیران و سرگردان پھرتے رہے اور وہاں صبح کرتے جہاں انہوں نے شام کی ہوتی اور وہاں شام کرتے جہاں انہوں نے صبح کی ہوتی۔ (6) امام ابن جریر اور ابوالشیخ نے عظمۃ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کی ہے کہ جب بنو اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے اس مقدس زمین میں داخل ہوتا حرام کردیا تو زمین میں حیران و سرگردان پھرتے تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو شکایت کی اور کہنے لگے ہم کیا کھائیں ؟ فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے پاس لائیں گے ان چیزوں کو جو تم کھاؤ گے کہنے لگے کہاں سے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ عنقریب تم پر پکی پکائی روٹی نازل فرمائیں گے اور ان پر ترنجبین نازل ہوتا تھا اور وہ پتلی روٹی ہوتی تھی اور مکئی جیسے ہوتے پھر کہنے لگے ہم کیسے سالن پکائیں گے کیا ہم کو گوشت کا بدل ملے گا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اس کو لے آئیں گے۔ کہنے لگے کہاں سے ؟ فرمایا ان کے پاس ہوا بٹیروں کو لاتی اور وہ کبوتر کر طرح موٹا پرندہ ہے۔ کہنے لگے ہم کیا پہنیں گے ؟ فرمایا تم میں سے کسی کا کپڑا (چالیس) سال تک پرانا نہیں ہوگا۔ کہنے لگے ہم جوتا کیا پہنیں گے ؟ فرمایا تم میں سے کسی کا تسمہ بھی چالیس سال تک نہیں ٹوٹے گا۔ کہنے لگے چھوٹی اولاد جب پیدا ہوگی تو ہم ان کو کیا پہنائیں گے۔ فرمایا چھوٹا کپڑا اس کے ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔ کہنے لگے ہمارے لئے پانی کہاں سے آئے گا ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے پاس لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم فرمایا کہ پتھر کو لاٹھی سے ماریں۔ کہنے لگے ہم کیسے دیکھیں کیونکہ ہم کو اندھیرے نے ڈھانک لیا ہے۔ انہوں نے ایک اونٹنی کا ستون اپنے لشکر کے درمیان کھڑا کردیا جو سارے لشکر کو روشنی دیتا تھا کہنے لگے ہم سایہ کس سے حاصل کریں گے سورج ہم پر سخت ہے فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر بادلوں کا سایہ کرے گا۔ (7) امام ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ان پر تیہ کے میدان میں بادل سایہ کرتے تھے۔ پانچ یا چھ فرسخ تک جب صبح کو چلتے تھے تو شام کو (اس جگہ) لوٹ آتے تھے۔ اور جب بھی شام کو چلتے تھے تو اپنی جگہ پر لوٹ آتے تھے جہاں سے چلے تھے۔ اسی طرح چالیس سال ہوگئے۔ ان پر ترنجبین اور بٹیر نازل کئے گئے۔ ان کا کپڑا پرانا نہ ہوتا تھا اور طور پہاڑ کے پتھروں میں سے ایک پتھر تھا۔ جس کو اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے تھے۔ جب وہ کہیں بیٹھتے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی سے اس کو مارتے تھے تو اس میں بارہ چشمے پھوٹ پڑھتے تھے۔ (8) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ان کے کپڑے میدان تیہ میں نہ پرانے ہوتے تھے اور نہ پھٹتے تھے۔ (9) عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ بنو اسرائیل جب اپنے تیہ کے میدان میں تھے تو ان کے کپڑے اس طرح بڑھتے تھے جس طرح وہ جوان ہوتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر (10) امام عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ موسیٰ نے ان سے فرمایا لوٹا دو گدھوں کے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی۔ تو نے میرے بندوں کو گدھوں کا لشکر کہا اس لئے میں نے تم پر مقدس زمین حرام کردی ہے۔ فرمایا اے میرے رب میری قبر ارض مقدس سے اتنی دور بنا دے جتنی دور پتھر پھینکا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کو دیکھوالبتہ تم اس کو دیکھو گے اور مقدس زمین اس سے اتنی دور ہے جتنا پتھر پھینکا جاتا ہے۔ (11) امام عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے بارش کو طلب کیا تو ان کو پانی پلا دیا گیا پھر فرمایا اے گدھو پانی پی لو۔ تو اس سے (اللہ تعالیٰ نے) منع فرمایا اور فرمایا میرے بندوں کو اے گدھو کہہ کر نہ پکارو۔ (12) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ لفظ آیت قلاتاس سے کیا مراد ہے غم نہ کرو۔ (13) امام طستی نے سائل میں نافع بن ارزق (رح) سے روایت کیا ہے انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قوم لفظ آیت قلاتاس کے بارے میں بتائیے فرمایا اس کا معنی ہے غم نہ کرو۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا کیا تو نے امراء القیس کا قول نہیں سنا۔ وقوفابھا صحی علی مطیھم یقولون لا تھلک اسی و تجمل ترجمہ : وہاں ٹھہرنے کی حالت میں جبکہ میرے ساتھی اپنی سواریوں پر سوار تھے وہ کہتے تھے غم کو ہلاک نہ کرو اور صبر جمیل کر۔ (14) امام عبد الرزاق نے منصف میں اور حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انبیاء میں سے ایک نبی نے اہل شہر سے قتال کیا جب شہر کو فتح کرنے والے تھے تو سورج غروب ہونے لگا تو فرمایا اے سورج تو بھی مامور ہے (اللہ کی طرف سے) اور میں بھی مامور ہوں میں تجھے اپنا واسطہ دیتا ہوں کہ تو دن کے وقت یہی ٹھہر جا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو روک دیا یہاں تک کہ شہر فتح ہوگیا۔ جب وہ غنیمت کا مال پاتے تھے تو قربانی کی جگہ میں رکھ دیتے تو آگ آتی اور اس کو کھا جاتی جب انہوں نے غنیمت کا مال پایا تو اس کو قربانی کی جگہ میں رکھ دیا تو آگ اس کو کھانے کے لئے نہ آئی۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! ہم کو کیا ہوا کہ ہماری قربانی قبول نہیں ہوئی ؟ فرمایا کہ تمہارے اندر کوئی خیانت ہے۔ انہوں نے کہا ہم کس طرح جانیں گے کہ ہم میں سے کس نے خیانت کی ہے ؟ انہوں نے بارہ سرداروں کو بلایا اور فرمایا تم میں سے ہر قبیلہ کا سردار مجھ سے بیعت کرے ہر قبیلہ کے سرداروں نے بیعت کی۔ ان میں سے ایک آدمی کی ہتھیلی ان کو ہتھیلی سے چمٹ گئی لوگوں نے اس سے کہا تیرے پاس خیانت کا مال ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! میرے پاس خیانت کا مال ہے پوچھا وہ کیا ہے۔ اس نے کہا سونے کے بیل کا سر ہے جو مجھے اچھا لگا تو میں نے چرا لیا۔ پھر اس کو لے آیا اور اس کو غنیمت کا مال میں رکھا آگ آئی اور اس کو کھا گئی۔ کعب ؓ سے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا وہ یوشع بن نون تھے پھر پوچھا تم کو بیان کیا کہ وہ کونسی بستی تھی ؟ فرمایا وہ اریحا کا شہر تھا اور عبد الرزاق کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمت کا مال حلال نہیں تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری کو دیکھا تو ہمارے لئے حلال بنا دیا۔ اور لوگ گمان کرتے ہیں کہ سورج کسی کے لئے نہیں ٹھہرا اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور آپ ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنایئے جبکہ ان دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی، سو ان میں سے ایک کی نیاز قبول کرلی گئی اور دوسرے کی نیاز قبول نہ کی گئی اس نے کہا میں تجھے ضرور بالضرور قتل کروں گا دوسرے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ صرف تقوی والوں سے قبول فرماتا ہے۔

آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کی قربانی (1) امام ابن جریر نے ابن مسعود اور صحابہ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی جو بھی اولاد پیدا ہوتی تھی۔ لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوتی تھی۔ اس پیٹ کے لڑکے کی شادی دوسرے پیٹ کی لڑکی سے کرتے تھے۔ اور اس پیٹ کی لڑکی کی شادی دوسرے پیٹ کے لڑکے سے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دو لڑکے پیدا ہوئے جن کو قابیل اور ھابیل کہا جاتا تھا۔ قابیل کھیتی باڑی والا آدمی تھا اور ہابیل مویشیوں والا آدمی تھا۔ قابیل ان دونوں میں سے بڑا تھا اور اس کی بہن (جو اس کے ساتھ پیدا ہوئی تھی) وہ ہابیل کی بہن سے زیادہ خوبصورت تھی۔ ہابیل نے قابیل کی بہن سے نکاح کرنا چاہا تو اس نے انکار کردیا۔ اور وہ کہنے لگا یہ میری بہن ہے میرے ساتھ پیدا ہوئی اور یہ تیری بہن زیادہ اچھی اور میں حق دار ہوں کہ اس کے ساتھ نکاح کروں مگر اس کے والد (آدم علیہ السلام) نے ہابیل سے نکاح کرنے کا حکم دیا اس نے انکار کردیا۔ اور دونوں نے اللہ کی طرف قربانی پیش کی کون اس لڑکی کا زیادہ حق دار ہے۔ اور آدم (علیہ السلام) دونوں سے غائب ہوگئے مکہ کی طرف اور وہ اس لڑکی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آدم (علیہ السلام) نے آسمان سے فرمایا، میرے لڑکے کی حفاظت کروامانت کے ساتھ تو اس نے انکار کردیا، پھر زمین سے فرمایا تو اس نے بھی انکار کردیا۔ پھر پہاڑوں سے فرمایا تو انہوں نے بھی انکار کردیا تو قابیل سے فرمایا تو اس نے کہا ہاں میں تیار ہوں (اور اپنے والد سے کہا) کہ تو جائے گا اور واپس آئے گا اور تو اپنے اہل و عیال کو اس حال میں پائے گا جو تجھ کو خوش کر دے گا۔ جب آدم (علیہ السلام) چلے گئے تو ان دونوں نے قربانی پیش کی قابیل اس پر فخر کرتا تھا اور کہتا تھا میں تجھ سے اس کا زیادہ حقدار ہوں۔ میری بہن ہے اور میں تجھ سے بڑا ہوں۔ اور میں اپنے والد کا وحی ہوں۔ جب ہابیل نے ایک موٹے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے ایک سٹوں کا گھٹا پیش کیا اس میں ایک بڑا سٹہ دیکھا اس کو ہاتھ سے صاف کیا اور کھا گیا۔ آگ آئی ہابیل کی قربانی کھا گئی اور قابیل کی قربانی کو چھوڑ دیا۔ تو وہ غصہ ہوا اور کہنے لگا میں ضرور تجھ کو قتل کروں گا یہاں تک کہ تو میری بہن سے نکاح نہیں کرسکے گا۔ ہابیل نے کہا لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین انی ارید ان تبوا باثمی واثمک یعنی میرے قتل کا گناہ تیرے گناہ کے ساتھ مل جائے جو تیری گردن میں ہوگا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن عساکر سند جید کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو منع کیا گیا تھا کہ اپنی لڑکی کا نکاح اس کے جڑواں بھائی سے کریں بلکہ یہ حکم کیا گیا کہ وہ اس کے دوسری باری میں پیدا ہونے والے بھائیوں سے نکاح کریں اور (اماں حوا) کے ہر پیٹ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ اس دوران ایک لڑکی خوبصورت پیدا ہوئی اور دوسرے بدصورت پیدا ہوئی۔ بدصورت لڑکے کا بھائی نے کہا میں تیری بہن سے نکاح کروں گا۔ اور تو میری بہن سے نکاح کرے گا۔ اس نے کہا نہیں میں اپنی بہن کا زیادہ حقدار ہوں پھر دونوں نے قربانی پیش کی۔ بکریوں والا سفید دنبے لے آیا اور کھیتی والا غلہ کا ایک ڈھیر لے آیا دنبہ والے کی قربانی قبول کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں چالیس سال تک خزانہ کئے رکھا اور یہ وہ مینڈھا ہے جس کو ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح فرمایا تھا اور کھیتی والے کی قربانی قبول نہیں کی گئی اور آدم کی ساری اولاد اس کاشتکار کی اولاد ہیں۔ (3) امام اسحاق بن بشر نے المبتداء میں ابن عساکر نے تاریخ میں جویبر کے طریق سے اور مقاتل نے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کی آدم (علیہ السلام) کی چالیس اولاد پیدا ہوئی۔ بیس لڑکے اور بیس لڑکیاں ان میں سے ہابیل اور قابیل، صالح اور عبد الرحمن زندہ رہے جس کا نام عبد الحارث اور وود تھا جس کو شیث کہا جاتا تھا۔ اور اس کو ہبۃ اللہ کہا جاتا تھا۔ اور اس کے بھائیوں نے اس کو سردار بنایا تھا اور آپ کی اولاد میں سواع یغوث اور نسر پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ اس بچے کی بہن کی دوسرے بچے کی بہن سے شادی کر دے۔ قربانی قبول ہونے کی علامت (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کی یہ حالت تھی کہ وہاں کوئی مسکین نہ تھا کہ ان پر صدقہ کیا جاتا اور ان کی قربانی یہ تھی کہ جسے ایک آدمی پیش کرتا تھا۔ اس دوران کے آدم کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے اچانک ان دونوں نے کہا ہم دونوں قربانی پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک بکریاں چرانے والا تھا اور دوسرا کھیتی کرنے والا تھا۔ بکریوں والے نے اپنی بہترین موٹی تازی بکری پیش کی اور دوسرے نے اپنی بعض کھیتی پیش کی۔ آگ نازل ہوئی اور بکری کھا گئی اور کھیتی کو چھوڑ دیا۔ جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اس نے اپنے بھائی سے کہا تو لوگوں میں گھومے پھرے گا اور وہ جان لیں گے کہ تو نے قربانی پیش کی تھی وہ تجھ سے قبول کرلی گئی اور مجھ پر لوٹا دی گئی اللہ کی قسم لوگ میری طرف نہیں دیکھیں گے اور تیری طرف دیکھیں گے اس حال میں کہ تو مجھ سے بہتر ہوگا پھر اس نے کہا میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا اس کے بھائی نے اس سے کہا میرا کیا گناہ ہے لفظ آیت عربی میں کس سے مدد طلب کروں گا اور میں ضرور اپنے ہاتھ کو تجھ سے روکوں گا۔ (5) امام ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا آدم کے وہ بیٹے جنہوں نے قربانی پیش کی ان میں سے ایک کھیتی والا تھا دوسرا بکریوں والا تھا۔ ان دونوں کو حکم دیا گیا کہ قربانی پیش کرو۔ بکریوں والے نے اپنی ایک قیمتی اور موٹی تازی بکری پیش کی جو اس کے نزدیک بہت عمدہ تھی۔ اور کھیتی والے نے اپنی خراب کھیتی پیش کی تنگ دلی کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ نے بکری والے کی قربانی کو قبول فرمایا اور کھیتی والے کی قربانی کو قبول نہ فرمایا اور ان کا یہ قصہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا اور اللہ کی قسم کہ مقتول زیادہ طاقتور تھا لیکن اس کو گناہ سے بچنے نے روک دیا کہ وہ اپنے ہاتھ کو اپنے بھائی کی طرف بڑھائے۔ (6) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتل علیھم نبا ابنی ادم سے مراد ہے کہ ہابیل اور قابیل دونوں آدم کی صلب میں سے تھے۔ ہابیل نے اپنے ریوڑ میں سے عمدہ مینڈھا قربانی کے لئے پیش کیا اور قابیل نے اپنی کھیتی میں سے قربانی کے لئے پیش کیا اللہ تعالیٰ نے مینڈھے کی قربانی کو قبول کرلیا۔ اس کے بھائی نے کہا میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا پھر اس کو قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک ٹانگ کو اس کی پنڈلی سے اس کی ران تک چسپاں کردیا یہ قتل کے دن سے لے کر قیامت کے دن تک سلسلہ یونہی رہنے لگا۔ اس کا چہرہ یمن کی طرف کردیا وہ جہاں بھی جائے گا اور اس پر سردیوں میں ایک برف کا باڑہ اسے احاطہ میں لئے ہوگا۔ اور گرمیوں میں آگ کا ایک باڑہ احاطہ میں لئے ہوگا۔ اور اس کے ساتھ فرشتے ہوں گے جب بھی ایک فرشتہ جائے گا تو دوسرا آجائے گا۔ (7) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں نبی اسرائیل میں سے تھے اور آدم کی اولاد نہ تھی اور یہ قربانی کا سلسلہ بنی اسرائیل میں جاری ہوا تھا اور یہ پہلا آدمی تھا جو اس طریقے پر مرا۔ (8) امام ابن ابی حاتم نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا اگر مجھے یہ یقین ہوجائے کہ میری ایک نماز اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے وہ مجھے دنیا مافیھا سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین (9) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب التقوی میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا تقوی کے ساتھ عمل تھوڑا نہیں ہوتا اور وہ کیسے تھوڑا ہوگا جو قبول کرلیا جائے۔ (10) ابن ابی الدنیا سے عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کی طرف لکھا میں تجھ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں وہ ذات تقویٰ کے بغیر (کوئی عمل) قبول نہیں کرتی۔ تقویٰ کے بغیر رحم نہیں فرماتی تقویٰ کے بغیر بدلہ عطا نہیں فرماتی اس کے وعظ کرنے والے تو بہت ہیں لیکن اس پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ (11) ابن ابی دنیا نے یزید بن عیص (رح) سے روایت کیا میں نے موسیٰ ابن اعین سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تو حلال چیزوں سے بچیں کہیں ایسا نہ ہو کہ حرام میں پڑجائیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے متقین فرمایا ہے۔ (12) امام ابن ابی دنیا نے فضالہ بن عبید (رح) سے روایت کیا ہے اگر میں یہ جان لوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ایک رائی کے دانہ کے برابر (میرا عمل) قبول فرمایا ہے تو یہ مجھے دنیا ومافیھا سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین (13) امام ابن سعد اور ابن ابی الدنیا نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ عامر بن عبد قیس (رح) نے فرمایا کہ ایک آیت قرآن مجید مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے میں اس کو عطاء کروں جس کے بدلہ اللہ تعالیٰ مجھے متقین میں سے بنا دے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین (14) امام ابن ابی الدنیا نے ھمام بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ عامر بن عبد اللہ (رح) موت کے وقت روئے ان سے کہا گیا آپ کس لئے روتے ہیں ؟ فرمایا کتاب اللہ میں سے ایک آیت ہے۔ کہا گیا کونسی آیت ؟ فرمایا لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین (تلاوت فرمائی) (15) امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بندے سے کوئی عمل قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ اس سے راضی نہ ہوجائیں۔ (16) امام ابن ابی شیبہ نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ مطرف (رح) فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! مجھ سے آج کے دن کا روزہ قبول کرلے۔ اے اللہ ! میرے لئے نیکی لکھ دے پھر اس آیت کی تلاوت کرتے لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین (17) امام ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین کے بارے میں فرمایا وہ لوگ جو شرک سے بچتے ہیں۔ (18) امام ابن عساکر نے ہشام بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سائل ابن عمر ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا اس کو ایک دینار دیدو انہوں نے اس کو دے دیا۔ جب وہ سائل چلا گیا تو بیٹے نے کہا اے میرے باپ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف سے قبول فرمالیا ہے تو انہوں نے فرمایا اگر میں اس بات کو جان لوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ایک سجدہ کو یا ایک درھم صدقہ کو قبول فرما لیا ہے تو غائب چیز مجھے موت سے زیادہ محبوب نہ ہو کیا تو جانتا ہے کن لوگوں سے اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں تو یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت انما یتقبل اللہ من المتقین
Ayahs 5:28–29

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

یہ بات یقینی ہے کہ اگر تو نے میرے قتل کرنے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھایا ہو میں تجھے قتل کرنے کے لئے تیری طرف اپنا ہاتھ بڑھانے والا نہیں ہوں گا، بیشک میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

بلاشبہ میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ اپنے سر دھرلے پھر تو دوزخ والوں میں سے ہوجائے اور یہ ظالموں کی سزا ہے۔

(1) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لئن بسطت الی یدک کے بارے میں فرمایا ان کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ کوئی آدمی اگر کسی دوسرے آدمی کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتا اور اپنا دفاع نہ کرتا۔ (2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا گیا تھا کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی پر دست اندازی کرتا تو دوسرا اس کا دفاع نہ کرتا یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کردیتا یا اس کو چھوڑ دیتا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لئن بسطت (الآیتہ) (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت انی ارید ان تبوا باثمی واثمک میرے قتل کا گناہ بھی تیرے سر ہے۔ فرمایا کہ یعنی اور اس سے پہلے جو تو نے غلطیاں کی ہیں ان کا وبال بھی تیرے اوپر ہو۔ (4) امام طستی نے امام ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت انی ارید ان تبوا باثمی واثمک کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا تو لوٹے گا میرے گناہ کے ساتھ اور اپنے گناہ کے ساتھ جو تو بےعمل پھر تو جہنم کا مستحق بھی بنے گا۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ من کان کا رہ عیشہ فلیاتنا یلقی المنیۃ أویبوء عناء ترجمہ : جس کی زندگی مکروہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے وہ موت سے ملاقات کرے گا یا مشقت کو ٹھکانہ بنائے گا۔ (5) امام احمد، ابو داؤد، ترمذی اور اس کو حسن نے بھی کہا ہے اور حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کہا ہے) سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب فتنہ ہوگا بیٹھنے والا بہتر ہوگا کھڑے ہونے والے سے۔ اور کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے، پھر پوچھا آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے اور میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تاکہ مجھ کو قتل کر دے۔ آپ نے فرمایا آدم کے بیٹے کی طرح ہوجاؤ۔ اور یہ آیت پڑھی لفظ آیت انی ارید ان تبوا باثمی واثمک (6) امام احمد مسلم اور حاکم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھایا پھر فرمایا اے ابو ذر ! تم بتاؤ اگر لوگوں کو بھوک پہنچ جائے اور تو اپنے بستر سے مسجد کی طرف اٹھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر تو کیسے کرے گا ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر ! پاک دامن رہ۔ پھر فرمایا بتاؤ اگر لوگوں کو شدید موت پہنچ جائے جس سے بندہ کا گھر قبر ہو۔ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر صبر کرو، پھر فرمایا تم بتاؤ اگر لوگ بعض کو قتل کرنے لگیں یہاں تک کہ حجارۃ الزیت خون سے غرق ہوجائے تو پھر تو کیا کرے گا۔ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے پھر فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ کر دروازہ بند کرلے میں نے کہا اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے ؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت فات من انق منھم فکن فیھم میں نے کہا میں اپنا ہتھیار لے لو ؟ فرمایا تب بھی تو ان میں شریک ہوجائے گا ان کے اس کام میں جن میں وہ ہیں۔ لیکن اگر تو ڈرے اس بات سے کہ وہ تجھ تو خوف زدہ کریں گے تلوار کی چمک سے تو اپنے چہرہ پر اپنی چادر کے ایک کنارے کو ڈال لے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے اور تیرے گناہ کا مستحق ہوجائے۔ اور وہ دوزخ والوں میں سے ہوجائے گا۔ (7) امام بیہقی نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا توڑ دو اپنی تلواروں کو یعنی فتنہ میں۔ اور کاٹ دو اپنی کمان کی تانتوں کو اور گھروں کے اندر (بیٹھ جانے کو) لازم پکڑو اور اس میں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے خیر کی طرح ہوجاؤ۔ قتل سے کنارہ کشی اختیار کرنا (8) امام ابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا اگر تم ایک دوسرے سے لڑو تو میں ضرور انتظار کروں گا اپنے گھر کے آخری کمرے میں۔ اور میں ضرور اس سے چمٹ جاؤں گا۔ اگر مجھ پر بھی کوئی داخل ہوگیا تو میں ضرور کہوں گا لوٹ جا اپنے اور میرے گناہ کے ساتھ جس طرح آدم کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے نے کیا تھا۔ (9) امام ابن سعد اور ابن عساکر ابو نصرہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو سعید خدری ؓ حرہ کے دن نماز میں داخل ہوگئے ایک آدمی نماز میں داخل ہوگیا۔ ابو سعید کے پاس تلوار تھی انہوں نے تلوار کو رکھ دیا اور (اس سے) فرمایا لوٹ جا اپنے اور میرے گناہ کے ساتھ اور تو دوزخ والوں میں سے ہوجا۔ ابن سعد کے الفاظ یوں ہیں ابو سعید (رح) نے اس آیت کی تلاوت کی۔ لفظ آیت انی ارید ان تبوا باثمی واثمک فتکون من اصحب النار اس نے کہا کیا تو ابو سعید خدری ہے آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا میرے لئے استغفار کیجئے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔ (10) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کو اس آیت کے لئے بطور مثال ذکر کیا گیا۔ اس میں سے جو اچھا ہے اس کو اپنا لو۔ (11) امام عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! خبردار بلاشبہ آدم کے بیٹوں کو تمہارے لئے بطور مثال بیان فرما دیا۔ سو مشابہت اختیار کرو۔ ان میں سے جو اچھا ہے۔ اور نہ مشابہت اختیار کرو ان میں سے جو برا ہے۔ (12) امام ابن جریر نے معتمر بن سلیمان سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اکبر بن عبد اللہ سے کہا کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آدم کے بیٹوں کی مثال بیان فرمائی ہے۔ ان میں سے جو اچھا ہے اس کو اپنا لو اور ان میں سے جو برا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ انہوں نے فرمایا ہاں مجھ کو یہ بات پہنچی ہے۔ (13) امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ ابوبکر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار عنقریب فتنے ہوں گے۔ خبردار ایک فتنہ ہوگا اس میں بیٹھنے والا بہتر ہوگا کھڑے ہونے والے سے، اور کھڑے ہونے والا اس میں بہتر ہوگا چلنے والے سے اور چلنے والا اس میں بہتر ہوگا اس کو طرف دوڑنے والے سے، جب فتنہ نازل ہوجائے تو جس کا اونٹ ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے اونٹ سے چمٹ جائے اور جس کی زمین ہو تو وہ اپنی زمین سے مل جائے۔ کہا گیا یا رسول اللہ ! آپ بتائیے اگر اس کے لئے یہ بھی نہ ہو تو ؟ اس کو چاہئے کہ ایک پتھر لے لے۔ اور اس کے ساتھ اپنی تلوار کی دھار کو توڑ دے۔ پھر چاہئے کہ وہ نجات پا جائے اگر وہ نجات پانے کی طاقت رکھتا ہے (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! آپ بتائیے اگر مجھ کو مجبور کر کے دو صفوں میں سے ایک صف کی طرف لے جایا جائے۔ اور ایک آدمی مجھ پر تیر پھینکے یا وہ مجھ کو تلوار سے مارے اور مجھ کو قتل کر دے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اپنے اور تیرے گناہ کا مستحق بن گیا۔ اور وہ دوزخ والوں میں سے ہوگیا اس کو تین مرتبہ فرمایا۔ (14) امام حاکم نے (اور اس کو صحیح بھی کہا ہے) حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے کہا گیا ہم کو آپ کیا حکم فرماتے ہیں جب نمازیوں کو قتل کیا جائے ؟ فرمایا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھر کے دور حصے میں داخل ہو کر انتظار کر۔ اگر وہ تجھ پر داخل ہوجائے تو اس سے کہا لوٹ جا اپنے اور میرے گناہ کے ساتھ تو تو بھی آدم کے بیٹوں کی طرح ہوجائے گا۔ ّ (15) امام احمد اور حاکم نے خالد بن عرفطہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے خالد ! عنقریب میرے بعد بڑے بڑے حادثات فتنے اور اختلاف ہوں گے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو اللہ کا مقبول بندہ بن اور قاتل نہ بن تو ایسا کرلے۔ فتنوں سے پناہ مانگنی چاہیے (16) امام ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا فتنے برپا ہوں گے۔ اس میں نیند کرنے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۔ اور جاگنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس کے تمام قاتل آگ میں ہوں گے۔ عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بارے میں کیا حکم ہے اگر میں ایسے حالات پالوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجا۔ میں نے عرض کیا آپ بتائیے اگر وہ مجھ پر داخل ہوجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو کہہ دو لوٹ جا، میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ اور اللہ کا مقبول بندہ بن جا۔ (17) امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عساکر نے اوزاعی سے روایت کیا ہے کہ جو شخص ظلما قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر گناہ کو مٹا دیں گے۔ اور یہ بات قرآن میں سے (یعنی) لفظ آیت انی ارید ان تبوا باثمی واثمک (18) امام ابن منذر نے خباب بن ارت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنہ کا ذکر فرمایا (پھر فرمایا) بیٹھنے والا اس سے بہتر ہوگا کھڑے ہونے والے سے۔ اور کھڑا ہونے والا اس سے بہتر ہوگا چلنے والے سے اور چلنے والا بہتر سے اس سے دوڑنے والے سے اگر تو اس فتنے کا پائے تو اللہ کا مقبول بندہ بن اور اللہ کا قاتل بندہ نہ بن۔ (19) امام ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ اس کے پاس ایک آدمی اس کو قتل کرنے کے لئے آئے۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر کہے تو وہ ابن آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے کی طرح ہوجائے تو وہ جنت میں ہوگا۔ وہ جنت میں ہوگا اور جبکہ اس کا قاتل آگ میں ہوگا۔
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

سو اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا سو اس نے اسے قتل کردیا جس کی وجہ سے وہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت ہے لفظ آیت فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ کے بارے میں فرمایا کہ طوعت کا معنی ہے زینت یعنی اس کے دل نے یہ کام اس کے لئے مزین کردیا۔ (2) امام ابن جریر نے ابن مسعود اور صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے لفظ آیت فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ (اس کے نفس نے اس بات پر آمادہ کیا) کے اس کو قتل کر دے اس وجہ سے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں میں نکل گیا۔ ایک دن وہ اپنے بھائی کے پاس آیا جبکہ وہ اپنی بکریاں چرا رہا تھا اس حال میں کہ وہ سویا ہوا تھا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اس سے اس کا سر کچل ڈالا جس سے وہ مرگیا۔ اس نے اس کو کھلے میدان میں چھوڑ دیا اور وہ جانتا نہیں تھا کہ کس طرح اس کو دفن کرے۔ اللہ تعالیٰ نے دو کوؤں کو بھیجا جو آپس میں لڑنے لگے اور ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کردیا۔ پھر اس نے اس کے لئے ایک گڑھا کھودا (اس کو ڈال کر) اس پر مٹی ڈال دی جب اس نے کوے کو دیکھا تو کہنے لگا ہائے افسوس میں اس کوے جیسا ہونے سے بھی عاجز ہوں۔ (3) امام ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کی آدم کے جس بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ کس طرح اس کو قتل کرے۔ ابلیس ایک پرندے کی شکل میں بن کر آیا اس نے ایک اور پرندے کو پکڑا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ دیا پھر اس کے سر کو کچل دیا۔ (اس کو دیکھ کر) اس نے بھی قتل کرنا سیکھ لیا۔ مجاہد نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (4) امام ابن جریر نے خیثمہ سے روایت کی کہ جب آدم کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا تو زمین اس کے خون کو پی گئی اور پھر اس قاتل پر لعنت کی۔ اس کے بعد زمین نے کسی کا خون نہیں چوسا۔ (5) امام ابن عساکر نے علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دمشق میں ایک پہاڑ ہے جس کو قاسیون کہا جاتا ہے اس میں آدم کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ (6) امام ابن عساکر نے عمر بن خبیر الشعبانی (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں کعب الاحبار کے ساتھ ایک پہاڑ دیرالمران کے مقام پر تھا۔ ہم نے ایک پہاڑ میں گہرا پانی بہتا ہوا دیکھا۔ انہوں نے فرمایا آدم کے بیٹے نے یہاں اپنے بھائی کو قتل کیا تھا اور یہ اس کے خون کا اثر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں والوں کے لئے اس کو نشانی بنا دیا۔ (7) امام ابن عساکر نے ایک اور سند سے کعب ؓ سے روایت کی وہ خون جو قاسیون پہاڑ پر ہے وہ آدم کے بیٹے کا خون ہے۔ (8) امام ابن عساکر نے وھب (رح) سے روایت کیا ہے زمین نے آدم کے بیٹے کا خون پی لیا جو مقتول ہوا تھا اور آدم کے بیٹے نے زمین پر لعنت کی۔ اس وجہ سے ہابیل کے خون کے بعد زمین کوئی خون نہیں چوستی اور یہ سلسلہ قیامت کے دن تک یونہی جاری رہے گا۔ (9) نعیم بن حماد نے فتن میں عبد الرحمن بن فضالہ (رح) سے روایت کیا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل کو مسخ کردیا اور اس کا دل رنجیدہ کردیا وہ یونہی سرگردان پھرتا رہتا یہاں تک کہ مرگیا۔ (10) امام احمد البخاری و مسلم و ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی جان ظلما قتل ہوتی ہے تو اس کا وبال آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے قتل کرنے کا طریقہ رائج کیا تھا۔ ہر قتل کا گناہ قابیل کے سر پر (11) امام ابن منذر نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی جان ظلما قتل ہوتی ہے تو اس کا وبال آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ رائج کیا۔ (12) امام ابن جریر نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا لوگوں سے بہت سے زیادہ بدبخت آدمی آدم کا وہ بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا (اس کے بھائی کے قتل ہونے کے بعد) قیامت کے دن تک جو بھی زمین میں (ناحق) خون بہایا جائے گا تو اس کا وبال بھی اس سے پہلے قاتل کو پہنچے گا۔ اسی وجہ سے کہ یہ پہلا آدمی ہے جس نے قتل کا طریقہ رائج کیا۔ (13) امام طبرانی نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت تین ہیں۔ قوم ثمود کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا، آدم کا وہ بیٹا جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا جو بھی زمین پر (ناحق) خون بہتا ہے تو اس کا گناہ اس کو بھی ملتا ہے۔ کیونکہ یہ پہلا آدمی تھا جس نے قتل کا طریقہ رائج کیا۔ (14) امام ابن جریر اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمرو ؓ سے روایت کیا ہم آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کو قاتل پاتے ہیں جس نے پہلا قتل کیا تھا دوزخیوں میں صحیح طور پر تقسیم ہوتی ہے اس قاتل کو ان دوزخیوں کے عذاب کا آدھا دیا جاتا ہے۔ (15) ابن ابی الدنیا نے کتاب من عاش بعد الموت میں عبد اللہ بن دینار کے طریق سے ابو ایوب یمانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کیا جس کو عبداللہ کہا جاتا ہے کہ وہ اور اس کی قوم میں سے ایک جماعت سمندر کے سفر پر گئے ان دنوں سمندر میں بہت زیادہ اندھیرا تھا۔ پھر اس سے وہ اندھیرا صاف ہوگیا۔ اور یہ لوگ ایک بستی کے قریب تھے۔ عبداللہ نے کہا میں پانی کو تلاش کرتے ہوئے باہر نکلا۔ اچانک (میں نے دیکھا) کہ کچھ دروازے بند ہیں جن میں ہوا ٹکرا رہی ہے۔ میں تردد سے چلایا مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ میں اسی طرح کھڑا تھا۔ اچانک دو گھڑ سوار ظاہر ہوئے۔ ان دونوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔ میں نے ان کو بتایا جو سمندر میں ہم کو تکلیف پہنچی تھی۔ اور (یہ بھی بتایا) کہ میں پانی کی تلاش میں نکلا ہوں۔ دونوں نے کہا اس گلی میں چلے جاؤ آخر میں تو ایک تالاب پر پہنچ جائے گا جس میں پانی ہوا تو اس میں سے پانی لے لینا اور ہرگز خوف زدہ نہ ہونا اس چیز سے جو اس کے اندر ہے۔ میں نے ان بند گھروں کے بارے میں ان سے پوچھا جن سے ہوا ٹکرا رہی تھی۔ تو انہوں نے بتایا کہ یہ مردہ روحوں کے گھر ہیں۔ میں چلا اور تالاب تک پہنچ گیا۔ اچانک (دیکھا) ایک آدمی الٹا سر کے بل اس میں لٹکا ہوا ہے۔ وہ پانی کو لینے کا ارادہ کرتا ہے اپنے ہاتھ سے مگر اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب اس نے مجھ کو دیکھا تو مجھ کو زور سے آواز دی اور کہا اے عبد اللہ ! مجھ کو پانی پلا۔ میں نے پیالے کو بھرا تاکہ اس کو پانی پلاؤں تو میرا ہاتھ رک گیا۔ میں نے کہا مجھ کو بتا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں آدم کا بیٹا ہوں جس نے سب سے پہلے زمین میں خون بہایا۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا وہ زمین کو کرید رہا تھا تاکہ وہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے کہنے لگا افسوس میری حالت پر ! کیا میں اس سے عاجز ہوگیا کہ اس کوے کی طرح ہوجاؤں سو اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دوں پھر وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔

(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے عطیہ (رح) سے روایت کی کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو نادم ہوا۔ اس کو اٹھا کر چل دیا یہاں تک کہ لاش خراب ہونے لگی۔ اور اس نے اس پر پرندوں اور جنگلی جانوروں کو روکے رکھا جو اس انتظار میں تھے کہ یہ کب اس کو پھینکے گا کہ ہم اس کو کھا لیں قابیل نے یہ ناپسند کیا کہ آدم (علیہ السلام) آئیں اور یہ دیکھ کر غمگین ہوں تو اللہ تعالیٰ نے دو کوؤں کو بھیجا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ اور وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنی چونچ اور پانے پنجوں سے ایک گھڑا کھودا یہاں تک کہ اس کے لئے (جگہ بنانے پر) قادر ہوگیا پھر اس کو دھکیلا یہاں تک کہ اس کو گھڑے میں ڈال دیا۔ پھر اپنے پنجوں سے اس پر مٹی ڈال دی یہاں تک کہ اس کا چھپا دیا۔ جب اس نے کوے کو دیکھا جو کچھ اس نے کیا تھا تو کہنے لگا لفظ آیت قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاواری سوء ۃ اخی کوا کے ذریعہ دفن کا طریقہ سکھلایا (2) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے دو کوؤں کو بھیجا جو ایک دوسرے سے لڑے اور ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا پھر اس پر مٹی ڈالنی شروع کی یہاں تک کہ اس کو چھپا دیا تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے قابیل نے کہا لفظ آیت قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاواری سوء ۃ اخی (3) ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک کوا ایک مردہ کوے کے پاس آیا اس پر مٹی ڈال کی اس کو چھپا دیا یہ دیکھ کر اس نے کہا جس نے اپنے بھائی کا قتل کیا لفظ آیت قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاواری سوء ۃ اخی (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا قابیل اپنے بھائی کی لاش بوری میں ڈال کر ایک سال تک اٹھائے پھرتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دو کوؤں کو بھیجا تو اس نے ان کو گڑھا کھودتے ہوئے دیکھا تو (قابیل نے) کہا لفظ آیت قال یویلتی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراباس کے بعد اس نے اپنے بھائی کی لاش کو دفن کردیا۔ (5) امام ابن جریر اور ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے روایت کیا کہ جب آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کردیا۔ تو آدم (علیہ السلام) ایک سو سال تک اس پر غم کی وجہ سے نہ ہنسے جب سو سال پورے ہوگئے ان سے کہا گیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتے ہیں۔ ایک بچے کی بشارت دیتے ہیں۔ تو اس وقت وہ ہنس پڑے۔ (6) امام ابن جریر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا جب آدم کے بیٹے قتل ہوئے تو آدم (علیہ السلام) نے روتے ہوئے فرمایا تغیرت البلاد ومن علیھا فلون الارض مغبر قبیح ترجمہ : شہر اور اس کے باشندے بدل گئے تو زمین کا رنگ غبار آلود اور ناپسندیدہ (قبیح) ہو گیا تغیر کل ذی لون وطعم وقل بشاشۃ الوجہ الملیح ترجمہ : ہر رنگ دار اور ذائقہ والی چیز متغیر ہوگئی اور بارونق چہرہ کی خوشی کم ہو گئی آدم (علیہ السلام) کو جواب دیا گیا ابا ھابیل قد قتلا جمیعا وصار الحی بالمیت الذبیع ترجمہ : اے ابو ہابیل (یعنی آدم (علیہ السلام) یقیناً وہ دونوں قتل ہوگئے اور زندہ مردہ مذبوح کے بدلے میں مقتول ہوگیا۔ وجاء بشرہ قد کان منہ علی خوف فجاء بھا یصبح ترجمہ : وہ اپنی طرف سے شرخوف کی حالت میں لایا تو وہ اس کو چیختا ہوا لایا۔ (7) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو آدم (علیہ السلام) نے فرمایا تغیرت البلاد ومن علیھا فلون الارض مغبر قبیح ترجمہ : شہر اور اس کے باشندے بدل گئے تو زمین کا رنگ غبار آلود اور ناپسندیدہ (قبیح) ہو گیا تغیر کل ذی لون وطعم وقل بشاشۃ الوجہ الملیح ترجمہ : ہر رنگ دار اور ذائقہ والی چیز متغیر ہوگئی اور بارونق چہرہ کی خوشی کم ہو گئی قتل قابیل ھابیلا أخاہ فواحز تامضی الوجہ الملیح ترجمہ : قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا تو ہائے افسوس و دکھ خوبصورت چہرہ چلا گیا۔ ابلیس نے جواب دیا اس پر لعنت ہوئی تنح عن البلاد وساکیھا فبی فی الخلد ضاق بک الفسیح ترجمہ : شہر اور اس کے باشندوں سے الگ ہوجا تو میری وجہ سے جنت میں تیری کشادہ جگہ تنگ ہوگئی۔ وکنت بھا وزوجک فی رخاء وقبلک من أذی الدنیا مریح ترجمہ : تو اور تیری زوجہ وہاں خوشحال تھے اور تیرا دل دنیا کی تکلیف سے آرام میں تھا۔ ماانفکت مکا یدتی ومکری إلی أن فاتک الثمن الربیح ترجمہ : میری تدابیر اور میری فکر ختم ہوئے یہاں تک کہ میرا نفع دینے والا اثاثہ ختم نہ ہوجائے۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو بھی کوئی شخص کسی شخص کو بلا عوض جان کے یا بغیر کسی فسار کے قتل کر دے جو زمین میں ہو تو گویا قتل کرنے والے نے سب لوگوں کو قتل کردیا، اور جس نے کسی جان کو زندہ رکھا تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ کردیا اور یہ واقعی بات ہے کہ ان کے پاس ہمارے رسول کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے پھر اس کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔

(1) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت من اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا کہ اس آدم کے بیٹے کی وجہ سے جس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کردیا۔ (2) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا کہ لفظ آیت من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا یعنی ناحق قتل کرنے کا گناہ اتنا ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ پھر فرمایا لفظ آیت ومن احیاھا یعنی جس نے اس کو ہلاک ہونے سے بچا یا لفظ آیت فکانما قتل الناس جمیعا بچنے والے کے نزدیک اس نے گویا سب انسانوں کو بچا لیا۔ (3) امام ابن جریر نے ابن ابی حاتم سے اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکانما قتل الناس جمیعا جس نے ایک جان کو ہلاک کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کردیا۔ اور فرمایا لفظ آیت ومن احیاھا (اور) جو اس کے قتل کرنے سے سلامت رہا (گویا اس نے ہمارے لوگوں کو زندہ کردیا) (4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اس کا زندہ کرنا یہ ہے کہ وہ کسی جان کا قتل نہ کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا۔ (5) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جس نے کسی نبی کو یا عادل امام کو قتل کیا گویا اس نے سارے لوگوں کو قتل کیا۔ حضرت عثمان غنی ؓ کا فتنے سے بچنا (6) امام ابن سعد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا یوم الدار میں میں نے کہا میں آیا ہوں تاکہ میں آپ کی مدد کروں۔ انہوں نے فرمایا اے ابوہریرہ ! کیا تجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ سارے لوگوں کو قتل کر دے۔ میں نے کہا نہیں۔ پھر فرمایا اگر تو نے ایک آدمی کو قتل کیا گویا تو نے سب لوگوں کو قتل کیا پس چلا جا۔ (7) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکانما قتل الناس جمیعا یعنی یہ (آیت) اس طرح ہے جو سورة المائدہ میں ہے (اور وہ یہ ہے) لفظ آیت ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدالہ عذابا عظیما (النساء آیت 93) پھر فرمایا اگر وہ سب لوگوں کو قتل کرتا تو اس طرح کے عذاب پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (8) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا انہوں نے لفظ آیت من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا کے بارے میں فرمایا یعنی گناہ میں (یعنی اس میں اتنا گناہ ہے گویا اس نے سارے رنگوں کو قتل کیا) (پھر فرمایا) لفظ آیت ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا یعنی اجر میں (گویا اس کو سب لوگوں کے زندہ کرنے کا اجر ملے گا) (9) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا تو انہوں نے لفظ آیت ومن احیاھا کے بارے میں فرمایا یعنی جس نے اس کو بچایا غرق سے یا جلنے سے یا گرنے سے یا ہلاک ہونے سے (گویا اس نے سارے انسانوں کو بچایا) (10) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن احیاھا سے مراد ہے کہ جس شخص کا کوئی گہرا دوست قتل کردیا گیا پھر اس (قاتل کو) معاف کردیا۔ گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ کیا۔ (11) امام ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیات کے بارے میں پوچھا گیا کیا (یہ حکم) ہمارے لئے بھی ہے جیسا کہ بنی اسرائیل کے لئے تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔