Ayah 5:105(1) امام ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، عدنی، ابن منیع اور حمیدی شعبی نے اپنی مسا نید میں، ابو داؤد، ترمذی (اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن ماجہ، ابو یعلی اور کچھ نے سنن میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان اور دار قطنی نے الافراد میں ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور ضیاء نے المختارہ میں قیس (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا اے لوگو تم یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم پڑھتے ہو۔ جبکہ تم اس کو اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں کرتے۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جب کسی گناہ کو دیکھیں اور اس کو تبدیل نہ کریں قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔
(2) امام ابن جریر نے قیس بن ابی حازم ؓ سے روایت کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی قبر پر آئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا اے لوگو ! تم کتاب المقدس میں سے اس آیت کو ضرور پڑھتے ہو اور تم اس کو رخصت شمار کرتے ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس سے زیادہ سخت کوئی آیت نہیں اتاری یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم اللہ کی قسم تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب پر عذاب نازل فرما دے گا۔
(3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے جریر بجلی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قوم میں سے ان کے درمیان ایک ایسا آدمی رہتا ہو جو گناہ کا عمل کرتا ہو جبکہ وہ لوگ اس سے طاقتور اور عزت والے ہوں۔ پھر وہ طاقت سے اس برائی کو ختم نہ کریں تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔
(4) امام ترمذی، (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ، ابن ماجہ، ابن جریر اور بغوی نے معجم میں، ابن منذر اور ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ، الحاکم (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو امیہ شعبانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا کہ میں ابو ثعلبہ خشنی (رح) کے پاس آیا میں نے ان سے کہا آپ اس آیت کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ کہا کون سی آیت ؟ میں نے کہا (یہ آیت) لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس کے بارے میں خبر رکھنے والے (یعنی رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا۔ آپ نے فرمایا بلکہ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔ یہاں تک کہ جب تو دیکھے گا کنجوسی کو جس کی اطاعت کی جاتی ہو اور اس خواہش نفس کو جس کی تابعداری کی جاتی ہو اور دنیا کو جس کو ترجیح دی جا رہی ہو اور ہر صاحب رائے اپنی رائے پر خوشی کا اظہار کر رہا ہو تو تجھ پر لازم ہے خاص طور پر اپنے نفس کی حفاظت کر اور اپنے عوام کے فیصلہ کو اپنے آپ سے دور کر دو ۔ بلاشبہ تمہارے پیچھے صبر کے دن ہیں۔ ان میں صبر کرنے والا انگارے کو پکڑنے والے کی طرح ہے۔ ان دنوں میں عمل کرنے والے کا اجر پچاس آدمیوں کے برابر ہوگا۔ وہ عمل کریں گے تمہارے عمل کی طرح۔
(5) امام احمد، ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو عامر اشعری ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ ان کے درمیان کوئی مسئلہ تھا تو وہ رسول اللہ کے پاس حاضر ہونے سے رک گیا بعد ازاں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کس چیز نے تجھ کو روک دیا تھا۔ عرض کیا یا رسول اللہ میں نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تم کہاں چلے گئے جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو اور کافروں میں سے جو گمراہ ہوئے ہیں وہ تم کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔
اپنے نفس کی اصلاح کی فکر
(6) امام عبد الرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی اور ابو الشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن مسعود ؓ سے اس آیت لفظ آیت علیکم انفسکم کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اے لوگو یہ اس کا زمانہ نہیں کیونکہ آج تو بات مقبول کی جاتی لیکن عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ تم نیکی کا حکم کرو گے اور تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا یا فرمایا تمہاری بات قبول نہیں کی جائے گی تو اس وقت تم پر اپنا بچاؤ لازم ہے جب تو ہدایت یافتہ ہوگا تو جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
(7) امام سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم انفسکم اس آیت کے بارے میں فرمایا تو حکم کرو نیکی کا اور روکو برائی سے جب تک اس کے مقابلہ میں ڈنڈا اور تلوار نہ ہو۔ جب اس طرح ہوجائے تو تم اپنا بچاؤ کرو۔
(8) امام عبد بن حمید، نعیم بن حماد نے فتن میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس تھے دو آدمیوں کے درمیان ایسا اختلاف واقع ہوگیا جو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے یہاں تک کہ ہر ایک اپنے ساتھی کی طرف کھڑا ہوگیا عبد اللہ کے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک آدمی نے کہا کیا میں کھڑا ہوجاؤں اور ان دونوں کو نیکی کا حکم کروں اور برائی سے روکوں ؟ اس کے پہلو میں دوسرے آدمی نے کہا اپنا بچاؤ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت علیکم انفسکم اس بات کو ابن مسعود ؓ نے سن لیا فرمایا ٹھہر جا۔ ابھی اس آیت کی تاویل کا زمانہ ظاہر نہیں ہوا بلاشبہ قرآن نازل ہوا جہاں نازل ہوا۔ اس میں سے ایسی آیتیں ہیں کہ ان کی تاویل ان کے نازل ہونے سے پہلے ہی ظاہر ہوچکی تھی اور اس میں سے ایسی (آیتیں) بھی ہیں کہ ان کی تاویل رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ظاہر ہوگئی اور اس میں سے بعض آیتیں ایسی ہیں کہ ان کی تاویل رسول اللہ ﷺ کے دو سال بعد واقع ہوئیں اور اس میں بعض آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ان کی تاویل آج کے بعد ظاہر ہوگی اور بعض اس میں سے ایسی آیتیں بھی ہیں کہ ان کی تاویل قیامت کے وقت ظاہر ہوگی یہ وہ آیات ہیں جن میں قیامت کا ذکر ہے۔ اور اس میں سے بعض آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ان کی تاویل حساب کے وقت ظاہر ہوگی یہ وہ آیات ہیں جن میں حساب اور جنت اور دوزخ کا ذکر ہے جب تک تمہارے دل ایک رہیں گے اور تمہاری خواہشات ایک ہوں گی تم فرقوں میں نہ بٹ جاؤ گے تو تم ایک دوسرے کی قوت کا ذائقہ نہ چکھوں گے۔ پس تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو جب تمہارے دل اور خواہشات مختلف ہوجائیں اور تم فرقوں میں بٹ جاؤتو بعض تمہارے بعض کا ذائقہ چکھے گا تو ہر آدمی کو اس کی جان کی حفاظت کرنی چاہئے تو اس وقت اس آیت کی تاویل ظاہر ہوگی۔
(9) امام ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت سے کہا گیا آپ ان دنوں میں بالکل ہی بیٹھ گئے نہ آپ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور نہ برائی سے روکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لفظ آیت علیکم انفسکم انہوں نے فرمایا یہ میرے لئے نہیں ہے اور نہ میرے ساتھیوں کے لئے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار چاہیے کہ حاضر ہونے والا غائب آدمی کو حق کا پیغام پہنچا دے ہم حاضر تھے اور تم غائب تھے لیکن یہ آیت ان مؤمنوں کے لئے ہے جو ہمارے بعد آئیں گے اگر وہ بات کریں گے کہ تو ان کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔
(10) امام عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب کے زمانہ خلافت میں مدینہ منورہ میں ایک ایسے حلقہ میں تھا جن سے نبی ﷺ کے صحابہ بھی تھے ان میں سے ایک بوڑھے آدمی نے یہ آیت پڑھی میرا خیال ہے کہ وہ ابی بن کعب ؓ تھے انہوں نے لفظ آیت علیکم انفسکم پڑھی اور فرمایا کہ اس کی تاویل آخری زمانہ میں ظاہر ہوگی۔
(11) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا میں حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں مدینہ منورہ کی طرف گیا۔ ایک قوم بیٹھی ہوئی تھی ان میں سے ایک نے پڑھا لفظ آیت علیکم انفسکم کہ اکثر لوگوں نے کہا اس آیت کی تاویل ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔
(12) امام ابن جریر نے جبیر بن نفیر (رح) سے روایت کیا کہ میں ایک حلقہ میں تھا جس میں نبی ﷺ کے اصحاب بھی تھے اور میں اپنی قوم میں سب سے چھوٹا تھا۔ انہوں نے آپس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تذکرہ کیا میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں لفظ آیت علیکم انفسکم تو ان سب لوگوں نے ایک ہی زبان کے ساتھ کہا تم قرآن مجید سے ایک آیت لیتے ہو تم نہیں پہچانتے ہو کہ اس کی تاویل کیا ہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ میں بات نہ ہی کرتا پھر وہ باتیں کرتے ہوئے متوجہ ہوئے جب ان کے اٹھنے کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا تو ابھی کم عمر ہے تو نے ایک ایسی آیت پیش کی جن کے بارے میں تو نہیں جانتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور ممکن ہے تو پالے اس زمانہ کو جب تو دیکھے بخل کی اطاعت کی جائے اور ایسی خواہش کو جس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے والا اپنی رائے کو اچھا سمجھ لے تو اس وقت اپنا بچاؤ کر جب تو ہدایت یافتہ ہوگا۔ تو جو گمراہ ہوگا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
(13) امام ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اس قول کے بارے میں بتایئے لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم فرمایا اے معاذ نیکی کا حکم کرتے رہو برائی سے روکتے رہو جب تم ایسا بخل دیکھو جس کی اطاعت کی جائے اور ایسا خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے والے کا اپنی رائے کو اچھا سمجھنا ہو تو اس وقت تم اپنے آپ کو بچاؤ تمہارے غیر کی گمراہی تم کو نقصان نہ دے گی۔ اور تمہارے بعد صبر کے دن ہیں ان دنوں میں دین کو مضبوطی سے پکڑنے والا انگارے کو پکڑنے والے کی طرح ہے۔ ان دنوں میں تمہارے جیسا عمل کرنے والا پچاس آدمیوں کے عمل کے برابراجر دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس آدمیوں کے برابر ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم میں سے پچاس آدمیوں کے برابر۔
(14) امام ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے پاس ذکر کی گئی۔ یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم نبی ﷺ نے فرمایا اس کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ اس کی تاویل نہیں آئے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نیچے اتر آئیں گے۔
(15) امام ابن مردویہ نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی قوم جب جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر ذلت کو مار دیتے ہیں۔ اور کوئی قوم برائی کو اپنے درمیان جڑ نہیں پکڑنے دیتی مگر اللہ تعالیٰ اس میں عذاب کو عام کر دے گا۔ اور تمہارے درمیان اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے عام عذاب کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ مگر یہ کہ تم اس آیت کی تاویل کرو اس میں امر بالمعروف کا نہیں عن المنکر کوئی ذکر نہیں۔
(16) امام ابن مردویہ نے ابوبکر محمد بن عمرو بن حزم سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ اور اس کے خطبہ میں یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو اس آیت پر بات مت کرو یعنی لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم اگر بدکار آدمی ایک قوم میں ہوگا (اگر) اس کو وہ لوگ نہیں روکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر عذاب کو عام کردیں گے۔
(17) امام عبد بن حمید اور ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت لفظ آیت علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم تلاوت کی اور فرمایا تعجب ہے کہ یہ آیت اپنے اندر کتنی وسعت رکھتی ہے، تعجب ہے کہ یہ آیت کتنی ثقاہت رکھتی ہے۔
(18) امام ابو الشیخ نے عثمان الشحام ابو سلمہ (رح) سے روایت کیا مجھ کو شیخ نے اہل بصرہ میں سے ایک شخص سے بیان کیا نہ اسے مجھ پر فضیلت اور عمر میں زیادتی حاصل تھی فرمایا مجھے یہ بات پہنچی داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا اے رب ! زمین میں کیسے تیرے لئے چلوں اور تیرے لئے اس میں اخلاص کے ساتھ کام کروں ؟ رب تعالیٰ نے فرمایا اے داؤد تو محبت کر جس سے میں محبت کرتا ہوں سرخ اور سفید میں ہے اور تیرے دونوں ہونٹ میری یاد سے تر وتازہ رہیں۔ اور غائب کے بستر سے دور رہ۔ داؤد نے عرض کیا اے میرے رب کس طرح وہ مجھ سے محبت کریں گے دنیا والوں میں سے جن میں کچھ برے ہیں رب تعالیٰ نے فرمایا اے داؤد ! اہل دنیا کے لئے ان کی دنیا کے لئے کام کرنا آخرت والوں سے آخرت کی وجہ سے محبت کرنا بلاشبہ تو اگر ایسا کرلے گا تو تجھ کو نقصان نہیں پہنچائے گا جو شخص گمراہ ہوگا اگر تو ہدایت یافتہ ہوگا۔
(19) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا اے ابو عبد الرحمن ! چھ آدمی تھے ان سب نے قرآن پڑھا۔ ہر ایک ان میں سے مجتہد ہے۔ اور اس بات میں وہ کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ ایک دوسرے پر شرک کی گواہی دیتے ہیں۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا شاید کہ تو خیال کرتا ہو کہ میں تجھ کو حکم دوں گا کہ تو ان کی طرف جا کر ان سے قتال کر (مگر) تو ان کو نصیحت کر اور ان کو منع کر اگر تیری نافرمانی کریں تو اپنے نفس کا لازم پکڑ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم آیت کے ختم تک۔
(20) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صفوان بن محزر ؓ سے روایت کیا کہ اصحاب الھواء میں سے ان کے پاس ایک آدمی آیا اس نے اپنے بعض معاملات کو ذکر کیا صفوان (رح) نے اس سے فرمایا کیا میں تجھ کو اللہ کے خاص امر کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جس کے ساتھ اس نے اپنے بندوں کو خاص کیا (پھر یہ آیت پڑھی) لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم
(21) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم کے بارے میں فرمایا میرے حکم کی اطاعت کرو اور میری وصیت کو یاد کرو۔
(22) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم کے بارے میں فرمایا جب کوئی بندہ میری اطاعت کرے گا ان کاموں میں جن کا میں نے حکم دیا ہے۔ حلال میں سے اور حرام میں سے تو اس کو نقصان نہیں دے گا وہ شخص جو گمراہ ہوگا اس کے بعد جب اس نے عمل کیا اس چیز کے ساتھ جس کا وہ حکم دیا گیا۔
(23) امام ابن جریر نے قارب کے طریق سے امام ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم کے بارے میں فرمایا یہ اس وقت تھا جب تک تلوار یا ڈنڈا نہ آیا۔
(24) امام ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت علیکم انفسکم (الایہ) کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا اس آیت کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ جب واعظ ڈر جائے اور جس کو نصیحت کی گئی وہ انکار کردے تو اپنے آپ کو لازم پکڑ اگر تو خود ہدایت یافتہ ہوگا تو کوئی تجھ کو نقصان نہیں دے گا۔
(25) امام ابن ابی حاتم نے عمر مولی غفرہ (رح) سے روایت کیا یہ آیت (اس وجہ سے) نازل ہوئی کیونکہ ایک آدمی مسلمان ہوتا تھا تو اس کا باپ کافر ہوتا تھا۔ ایک آدمی مسلمان ہوتا تھا تو اس کا بھائی کافر ہوتا تھا۔ جب ان کے دلوں میں ایمان کی حلاوت راسخ ہوجاتی تو وہ اپنے آباؤاجداد کو اور اپنے بھائیوں کو ایمان لانے کی دعوت دیتے تو جواب میں کافر کہتے ہم کو وہ دین کافی ہے جس پر ہم نے آباؤاجداد کو پایا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم
(26) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل یعنی اہل کتاب میں سے لفظ آیت اذا اھتدیتم (جب تم خود ہدایت یافتہ ہو)
(27) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم کے بارے میں فرمایا جب تم نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے روکو گے۔
(28) امام ابن جریر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم کے بارے میں فرمایا جب تم نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو تو تم کو وہ شخص ضرر نہیں دے گا جو گمراہ ہوا جب تم ہدایت یافتہ ہو۔
(29) امام ابن جریرنے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم پڑھی اور فرمایا لفظ آیت الحمد للہ بھا الحمد للہ علیھا گزشتہ زمانہ میں کوئی مؤمن نہیں ہوا ہے۔ اور آئندہ بھی کوئی مؤمن نہیں ہوگا۔ مگر اس کے پہلو میں منافق ہوگا جو مؤمن کے عمل کو ناپسند کرے گا۔
(30) امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے الشعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ کہا گیا یا رسول اللہ نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا کب چھوڑ دیا جائے ؟ آپ نے فرمایا جب تم میں وہی کمزوریاں ظاہر ہوں گی جو تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ظاہر ہوئی تھیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا ہیں۔ فرمایا جب تمہارے بہترین لوگوں میں سہل پسندی اور تمہارے بڑوں میں بدکاری اور تمہارے چھوٹوں میں حکومت اور فقہ لوٹ جائے گی اور دوسرے لفظوں میں تمہارے رذیل لوگوں میں علم منتقل ہوجائے گا۔
(31) امام بیہقی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تم ضرور نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو یا ممکن ہے اللہ تمہارے اوپر اپنی جانب سے عذاب بھیج دیں پھر تم دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے (واللہ تعالیٰ اعلم)
Ayahs 5:106–108(1) امام ترمذی اور اس کو ضعیف قرار دیا، ابن جریر، ابن ابی حاتم، نحاس نے اپنی ناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے معرفۃ میں ابو المنذر کے طریق سے اور وہ کلبی بادان مولیٰ ام ھانی سے روایت نقل کی اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے اور وہ تمیم داری ؓ سے اس آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس آیت سے سب لوگ بری ہیں سوائے میرے اور عدی بن براء کے یہ دونوں نصرانی تھے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے یہ شام کی طرف جاتے تھے یہ دونوں اپنی تجارت کے لئے شام آئے ان کے پاس بنو سلیم کا ایک غلام تجارت کا سامان لے کر آیا جسے بدیل بن ابی مریم کہتے تھے اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جس کے ذریعہ وہ بادشاہ سے ملاقات کا ارادہ رکھتا تھا یہ اس کا سب سے بڑا تجارتی سامان تھا وہ مریض ہوا اور اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کو وصیت کی اور ان کو حکم دیا کہ یہ ترکہ (یعنی سامان) اس کے گھر پہنچا دیں تمیم نے کہا جب وہ مرگیا تو ہم نے وہ پیالہ لے لیا اور اس کو ہزار درہم میں بیچ دیا پھر میں نے اور عدی نے (اس رقم کو) تقسیم کرلیا۔ جب ہم اس کے گھر پہنچے تو ہم نے ان کو وہ سامان دے دیا جو ہمارے پاس تھا گھر والوں نے پیالہ گم پایا اور انہوں نے ان سے پوچھا ہم نے کہا اس کے علاوہ اس نے کوئی چیز نہیں چھوڑی اور اس سامان کے علاوہ ہم کو کوئی سامان نہیں دیا۔ تمیم ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد میں مسلمان ہوگیا اور میں نے اس وجہ سے اپنے آپ کو گناہ گار سمجھا میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور ان کو سب واقعہ سنایا اور پانچ سو درہم بھی ان کو ادا کئے اور ان کو بتایا کہ اتنی رقم میرے اس ساتھی کے پاس بھی ہے اس کے ورثاء دوسرے آدمی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے آپ نے ان پر گواہ طلب فرمائے۔ مگر ان کے پاس گواہ نہیں تھے۔ پھر آپ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لے لیں جو ان کے دین میں عظیم ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم سے لے کر لفظ آیت ان ترد ایمان بعد ایمانھم تک تو عمرو بن عاص ؓ اور دوسرا آدمی کھڑا ہوا۔ اور انہوں نے قسم کھائی۔ تو پانچ سو درہم عدی بن براء سے لے لئے گئے۔
(2) امام بخاری نے تاریخ میں، ترمذی (اور آپ نے اس کی تحسین بھی کی ہے) ابن جریر، ابن منذر، نحاس، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو سہم میں سے ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن براء کے ساتھ نکلا۔ سھمی مرگیا یہ دونوں مدینہ منورہ آئے اس کے ترکہ کو لے کر گھر والوں نے چاندی کا ایک جام گم پایا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے اللہ کی قسم اٹھوائی کہ ہم نے اس کو نہ چھپایا اور نہ اس بارے میں ہم علم رکھتے ہیں۔ پھر وہ پیالہ مکہ میں پایا گیا اور کہا گیا کہ ہم نے اس کو تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ سہمی کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے انہوں نے قسم کھائی کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور بلاشبہ جام ان کا ہے۔ تو وہ جام لے لیا گیا۔ اور اس بارے میں یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم نازل ہوئی۔
آیت مداینہ کے نزول کا واقعہ
(3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ تمیم اور عدی بن براء دونوں آدمی نصرانی تھے اور جاہلیت کے زمانہ میں مکہ کی طرف تجارت کرتے تھے اور وہاں لمبا قیام کرتے تھے۔ جب نبی ﷺ نے ہجرت فرمائی تو وہ اپنا تجارت کا سامان مدینہ منورہ لے آئے۔ بدیل بن ابی ماریہ، عمرو بن عاص کا آزاد کردہ غلام تھا اور یہ بھی تاجر تھا تجارت کی غرض سے مدینہ منورہ آیا پھر سب تجارت کی غرض سے شام گئے راستے میں بدیل بیمار ہوگیا اس نے اپنے ہاتھ سے وصیت لکھی پھر اس کو اپنے سامان میں چھپا دیا اور ان دونوں کو وصیت کی جب وہ مرگیا تو انہوں نے اس کے سامان کو کھولا اس میں سے ایک چیز لے لی پھر باقی سامان کو بند کردیا جیسے تھا دونوں مدینہ منورہ میں سے اس کے ورثاء کے پاس آئے اور اس کا سامان اس کو دے دیا۔ ان کے گھر والوں نے سامان کو کھولا اس میں لکھا ہوا اس کا عہد اور جو سامان لے کر چلے تھے اس کو پایا انہوں نے سامان میں کچھ چیزیں کم دیکھیں اور دونوں سے اس بارے میں سوال کیا انہوں نے کہا یہی سامان ہم نے قبضہ میں لیا تھا اور یہی ہمیں دیا گیا تھا ورثاء نے کہا یہ اس کے ہاتھ کی تحریر ہے تو انہوں نے کہا ہم نے کوئی چیز نہیں چھپائی انہوں نے یہ مسئلہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت سے لے کر لفظ آیت انا اذا لمن الاثمین رسول اللہ ﷺ نے ورثاء کو حکم دیا کہ عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (اس بات کی قسم کھائیں) کہ ان کے علاوہ ہم نے اس کی کوئی چیز نہیں لی اور نہ ہم نے چھپائی، پھر کچھ دن ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر ان کے پاس چاندی کا ایک برتن ظاہر ہوگیا۔ جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا اس کے گھر والوں نے کہا یہ اس کے سامان میں سے ہے۔ (ان دونوں نے کہا) کہ ہم نے اس کو اس سے خرید لیا تھا۔ لیکن ہم قسم کھاتے وقت بھول گئے تھے۔ پھر ہم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ ہم اپنے آپ کو جھٹلائیں وہ لوگ (پھر) نبی ﷺ کے پاس یہ معاملہ لے گئے۔ تو دوسری آیت نازل ہوئی لفظ آیت فان عثر علی انھما استحقا اثما تو نبی اکرم ﷺ نے اہل میت میں سے دو آدمیوں کو حکم فرمایا کہ وہ اس بات پر قسم کھائیں کہ انہوں نے جو مال چھپایا اور غائب کیا ہے وہ اس مال کے مستحق ہیں۔ پھر (بعد ازاں) تمیم داری ؓ مسلمان ہوگئے اور نبی ﷺ سے بیعت کرلی۔ اور وہ کہتا تھا اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ میں نے برتن لیا تھا پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو سب زمین والوں پر غلبہ دیں گے۔ میرے لئے دو بستیاں بیت اللحم میں سے ہبہ کردیتا اور یہ وہ بستی ہے۔ جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ آپ نے اس کو ایک تحریر لکھ دی۔ جب حضرت عمر ؓ شام میں تشریف لائے تو تمیم ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط لے کر آیا۔ عمر ؓ نے فرمایا میں اس حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔ اور دونوں بستیاں اس کو دے دیں۔
(4) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت شھادۃ بینکم میں شہادۃ کو مرفوع بغیر تنوین کے اور بینکم کو مضاعف الیہ کے طور پر مجرد پڑھا ہے۔
(5) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے علی کے طریق سے ابو طلحہ سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنن ذوا عدل منکم کے بارے میں فرمایا یہ اس شخص کے لئے ہے جب وہ فوت ہوا اور اس کے پاس مسلمان ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم فرمایا کہ اپنی وصیت پر مسلمانوں میں سے دو انصاف والوں کو گواہ بنا لے۔ پھر فرمایا لفظ آیت او اخرن من غیر کم ان انتم ضربتم فی الارض یہ اس شخص کے لئے جو فوت ہو اور اس کے پاس مسلمانوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ غیر مسلمین میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنا لیں اگر ان کو گواہی میں شک ہو۔ تو ان دونوں سے اللہ کی ذات کے ساتھ نماز کے بعد قسم لی جائے کہ ہم نے اپنی گواہی کے عوض کوئی حقیر مال نہیں لیا اگر دوست کے لئے ورثاء کو معلوم ہوجائے کہ کافروں نے اپنی گواہی میں جھوٹ بولا ہے تو دو آدمی ورثاء میں سے کھڑے ہو کر اللہ کے نام کی قسم کھائیں کہ کافروں کی گواہی باطل ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فان عثر علی انھما استحقا اثما فرمایا اگر کافروں کے جھوٹ پر مطلع ہوجائیں تو دو ورثاء قسم کھائیں کہ وہ دونوں جھوٹے ہیں یہ زیادہ مناسب ہے کہ کافر اپنی گواہی کو ٹھیک طور پر ادا کریں۔ یا وہ اس بات سے ڈریں کہ کہیں بعد میں ان کی قسمیں رد نہ کردی جائیں۔ تو کافروں کی گواہی ترک نہ کردی جائے اور ورثاء کو گواہی کا حکم دے دیا جائے اور مسلمانوں کی گواہی پر قسمیں نہیں ہیں۔ بیشک قسمیں جب ہوں گی جب گواہی دینے والے کافر ہوں۔
(6) امام ابن جریرا ور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت اثنن ذوا عدل منکم میں منکم سے مسلمان مراد ہیں۔ اور لفظ آیت او اخرن من غیرکم سے غیر مسلم مراد ہے اور لفظ آیت فیقسمن باللہ یعنی وہ نماز کے بعد اللہ کی قسمیں کھائیں اور لفظ آیت فاخرن یقومن مقامھما سے میت کے اولیاء مراد ہیں کہ وہ دونوں قسمیں کھائیں۔ لفظ آیت باللہ لشھادتنا احق من شھادتھما یعنی دونوں اللہ کی قسمیں کھائیں کہ ہمارے ساتھی نے اس بات کی وصیت نہیں کی تھی بیشک وہ دونوں جھوٹے ہیں۔ اور فرمایا لفظ آیت ذلک ادنی ان یا تو بالشھادۃ علی وجھھا او یخافوا ان ترد ایمان بعد ایمانھم یعنی اولیاء میت قسم کھائیں کہ وہ اپنی قسموں کے ذریعہ اپنے مال کے زیادہ مستحق ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی میراث کا فیصلہ کردیا جائے گا اور کافروں کی گواہی کو باطل کردیا جائے گا۔ (گویا) وہ شہادت منسوخ ہے۔
دو عادل گواہ ہونا
(7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت لفظ آیت اثنن ذوا عدل منکم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کتاب میں جو بھی حکم ہے اس کی دلیل بھی موجود ہے۔ سوائے اس آیت کے اور اگر ہم تم کو خبر نہ کرتے اس بارے میں تو ہم زیادہ جاہل ہوتے اس شخص سے جس نے جمعہ کے دن غسل کو چھوڑ دیا۔ یہ اس بارے میں ہے جو آدمی مسافر بن کر نکلا اور اس کے پاس مال تھا اور وہ اپنی موت کو پالے اگر مسلمان میں سے دو آدمیوں کو پائے تو ان کو اپنا ترکہ دے دے۔ اور ان پر مسلمانوں میں دو انصاف والوں کو گواہ بنا لے۔ اگر وہ دو مسلمان نہ پائے تو اہل کتاب میں سے دو آدمی گواہ بنا لے اگر وہ ترکہ ادا کردیں تو یہی اس کا حق ہے اور اگر وہ انکار کر دے تو اس سے نماز کے بعد اللہ کی ذات کے ساتھ قسم لے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہی چیز مجھے ملی میں نے کوئی چیز غائب نہیں کی اگر اس نے قسم کھائی تو بری ہوگیا اگر اس کے بعد تحریر والے دو آدمی آئیں تو اس پر گواہی دیں۔ پھر یہ قوم کے لوگ اس پر دعوی کریں اور یہ بیان کریں کہ فلاں چیز ان کی ہے تو وارثوں کی قسمیں ان کو گواہی کے ساتھ رکھی جائیں گی۔ پھر وہ اس کا حق لے لیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ذوا عدل منکم او اخرن من غیرکم
(8) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا شھادۃ بینکم اذا حضر احدکم الموت سے مراد ہے کہ مؤمن کو موت آجائے اور اس کی موت پر دو مسلمان یا کافر حاضر ہوں ان دو کے علاوہ کوئی آدمی موجود نہ ہو۔ اگر میت کے ورثاء اس باپ پر راضی ہوجائیں جو کچھ غائب کیا ان دونوں نے اس کے ترکہ میں سے تو ٹھیک اور دونوں گواہ قسم اٹھائیں گے کہ وہ دونوں سچے ہیں پھر اگر وہ ان کی غلطی پر مطلع ہو اور یہاں کوئی گڑبڑ ہے تو ورثاء میں سے دو آدمی قسم اٹھائیں گے تو وہ اس مال کے مستحق ہوں گے۔ اور دونوں گواہوں کی قسموں کو باطل کردیں گے۔
(9) امام ابی ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ضیاء سے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت او اخرن من غیرکم کے بارے میں فرمایا کہ اہل کتاب میں مسلمانوں کے علاوہ۔
(10) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اثنن ذوا عدل منکم کے بارے میں فرمایا کہ منکم سے مراد تمہاری دینی بھائی لفظ آیت اواخرن من غیرکم یعنی اہل کتاب میں سے جب وہ فوت ہونے والا ایسی جگہ ہو جہاں اہل کتاب کے علاوہ کوئی آدمی نہ ہو جب سفر کی حالت میں ہو۔
(11) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور امام ابو الشیخ نے شریح ؓ سے روایت کیا کہ کسی یہودیوں یا کسی نصرانی کی گواہی جائز نہیں مگر وصیت میں اور وصیت میں بھی صرف اسی وقت جائز ہوگی۔
(12) امام عبد الرزاق، ابو عبیدہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ، الحاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) شعبی (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی کی وفات ہوگئی دقوفاء کے مقام پر اور اس نے مسلمانوں میں سے کسی کو نہ پایا تو اس کی وصیت پر گواہ بنے۔ پھر اس نے اہل کتاب میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنایا۔ وہ دونوں کوفہ میں ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس آئے۔ ان کو سب واقعہ بتایا۔ اس کا ترکہ اور وصیت پیش کی اشعری ؓ نے فرمایا یہ ایسا معاملہ ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ کے بعد آج تک ایسا واقعہ نہیں ہوا تو ان دونوں سے عصر کی نماز کے بعد قسم لی اللہ کی قسم ان دونوں نے نہ خیانت کی نہ جھوٹ بولا نہ کوئی چیز تبدیل کی نہ کوئی چیز چوری کی۔ نہ ہی کوئی چیز بدلی یہی آدمی کی وصیت اور اس کا ترکہ ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ نے دونوں کی شہادت کو نافذ کردیا۔
(13) امام ابن جریر نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت شھادۃ بینکم ساری آیت کے بارے میں فرمایا ایک آدمی وفات پا گیا اور اس کے پاس اہل اسلام میں سے کوئی بھی نہ تھا۔ اور یہ واقعہ اول اسلام کا ہے اور زمین عربی تھی لوگ کافر تھے مگر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مدینہ منورہ میں تھے۔ اور لوگ ایک دوسرے کے وصیت کے ساتھ وارث بنتے تھے پھر وصیت منسوخ کردی گئی۔ اور حصے مقرر کردیئے گئے اور مسلمانوں نے اس پر عمل کیا۔
(14) امام ابن جریر نے زبیر ؓ سے روایت کیا کہ طریقہ یہی چلا آرہا ہے کہ کسی کافر کی گواہی جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں یہ صرف مسلمانوں میں جائز ہے۔
(15) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔
(16) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت اواخرن من غیر کم یعنی دوسرے دو مسلمان ہوں مگر اس کے قبیلہ سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔
(17) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، نحاس، ابو الشیخ اور امام بیہقی نے سنن میں فرمایا کہ لفظ آیت اثنن ذوا عدل منکم میں منکم سے مراد ہے تمہارے قبیلہ کے ہوں لفظ آیت اواخرن من غیرکم یعنی تمہارے قبیلے کے نہ ہوں کیا تو نے نہیں دیکھا تو وہ فرماتے ہیں لفظ آیت تحبسونھما من بعد الصلوۃ یعنی ان کو نماز کے بعد روک لو تو وہ سب مسلمانوں میں سے ہوں گے۔
(18) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عقیل کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے ابن شہاب (رح) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا میں نے کہا مجھے بتائیے ان دو آدمیوں کے بارے میں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا وصیت کرنے والے آدمی کے اہل وہ عیال کے علاوہ میں سے کیا وہ دونوں مسلمانوں میں سے ہیں یا وہ دونوں اہل کتاب میں سے ہیں ؟ اور بتایئے کہ کیا وصیت کرنے والے آدمی کے خاندان میں سے یا وہ دونوں غیر مسلم ہوں گے ؟ ابن شہاب نے فرمایا ہم نے اس آیت کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز نہیں سنی۔ اور نہ آئمہ کرام سے کہ میں اس کو ذکر کروں اور ہم آپس میں کبھی کھبی اپنے علماء میں اس کا ذکر کرتے تھے اور وہ اس کے بارے میں معلوم سنت کا ذکر نہیں کرتے تھے اور امام عادل کی طرف سے کسی فیصلہ کا ذکر نہیں کرتے ہمارے نزدیک ان کی رائے سب سے زیادہ تعجب والی ہوتی تھی جو یہ کہتے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ جو وراثت کے مستحق ہوتے ہیں جس کے وہ وارث ہوتے ہیں اس کے پاس کچھ وارث حاضر ہوتے اور کچھ وارث غائب ہوتے جو اس کے پاس حاضر ہوتے اور جو غائب ہوتے انہیں وصیت کے بارے میں بتاتے اگر وہ غائب مان لیتے تو وصیت جائز ہوجاتی اور اگر شک کرتے کہ موجود لوگوں نے میت کے قول میں تبدیلی کردی ہے اور میت جس کے بارے میں وصیت کا ارادہ نہیں کیا۔ اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کا ذکر کیا ہے۔ تو جو لوگ اس میت کے پاس حاضر تھے ان میں دو نماز کے بعد گواہی دیں گے جب وہ اس پر قسم اٹھالیں گے تو اس کی شہادت جائز ہوجائے گی جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ ان دونوں نے قسم اٹھانے میں گناہ کا ارتکاب کیا ہے (جب یہ ثابت ہوجائے) تو وارثوں میں سے جو مدمقابل ہوں گے۔ وہ اٹھیں گے اور اس کی گواہی کا انکار کردیں گے۔ جنہوں نے پہلی دفعہ گواہی دی تھی اور ان سے قسم لی گئی تھی وہ دونوں یوں قسم اٹھائیں گے کہ ہماری گواہی تمہارے جھٹلانے کے لئے ہے جو تم نے گواہی دی ہے اس کو باطل کرنے کے لئے ہے۔ ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم ہیں۔
(19) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت تحبسونھما من بعد الصلوۃ میں الصلوۃ سے صلاۃ العصر مراد ہے۔
(20) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا نشتری بہ ثمنا یعنی ہم اس کے بدلے میں رشوت نہیں لیں گے اور لفظ آیت ولانکتم شھادۃ اللہ یعنی ہم اللہ کی گواہی کو نہیں چھپائیں گے اگرچہ اس کا صاحب دور ہے۔
(21) امام ابو عبید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ولا نکتم شھادۃ یعنی شہادت کے لفظ پر تنوین پڑھتے۔ اور لفظ ” اللہ “ کے ہمزہ کو قطعی اور منصرف پڑھتے اور اللہ کے نام کے آخر میں قسم کی وجہ سے جر پڑھتے۔
(22) امام عبد بن حمید نے ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت کیا کہ اگر وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ولانکتم شھادۃ وہ کہتے تھے کہ اس سے مراد قسم ہے۔
(23) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کی کہ لفظ آیت ولانکتم شھادۃ میں شھادۃ کا لفظ منصوب اور مضاف ہے اور اس پر تنوین نہیں۔
(24) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت فان عثر علی انھما استحقا اثما کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ پہلے گواہوں نے خیانت کی ہے کہ ان دونوں نے جھوٹ بولا ہے یا بات کو چھپایا ہے تو دو آدمی گواہی دیں جو ان دونوں سے زیادہ عمل والے ہوں اور ان کی گواہی کے خلاف گواہی دیں جو پہلے گواہی نے دی ہے تو ان کی گواہی کو جائز کردیا جائے گا۔ اور پہلوں کی گواہی کو باطل کردیا جائے گا۔
(25) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے کہ لفظ آیت من الذین استحق علیھم الاولین تاء کے فتح کے ساتھ۔
(26) امام ابن مردویہ والحاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اسے اس طرح پڑھا ہے لفظ آیت من الذین استحق علیھم الاولین
(27) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ نے یوں پڑھا لفظ آیت من الذین استحق علیھم الاولین عمر ؓ سے فرمایا تو نے جھوٹ بولا۔ ابی ؓ نے فرمایا تو زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔ ایک آدمی نے کہا تو امیر المؤمنین ؓ کو جھٹلاتا ہے۔ ابی ؓ نے فرمایا میں تیری نسبت سخت تعظیم کرنے والا ہوں امیر المؤمنین کے حق کی لیکن میں نے کتاب اللہ کی تصدیق میں ان کو جھٹلایا ہے۔ اور میں تصدیق نہیں کرسکتا امیرالمؤمنین کی کتاب اللہ کی تکذیب میں حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے۔
(28) امام ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت الاولین اور فرمایا لفظ آیت ھما الولیان یعنی یہ دونوں ولی ہیں۔
(29) امام ابو عبید، سعید بن منصور، عبد بن حید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت من الذین استحق علیھم الاولین اور وہ فرماتے تھے تو بتا اگر اولیاء چھوٹے ہوں تو ان کے قائم مقام کیسے ہوں گے۔
(30) امام عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الاولین کو مشدد پڑھتے تھے۔
(31) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من الذین استحق کو تاء کے رفع اور حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے تھے اور لفظ آیت علیھم الاولین تشدید کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(32) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الاولین سے مراد ہے میت (یعنی میت کے قریبی رشتہ دار)
(33) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ذلک ادنی ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ تصدیق کریں ان کی شہادت کی۔
لفظ آیت او یخافوا ان ترد ایمان بعد ایمانھم یعنی کہ وہ ڈریں گناہ سے۔
(34) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت او یخافوا ان ترد ایمان بعد ایمانھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کی قسم باطل کردی جائیں ان لوگوں کی قسم قبول کرلی جائیں۔
(35) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت واتقو اللہ واسمعوا کے بارے میں فرمایا یعنی فیصلہ دینے والوں کی بات کو سنیں۔
(36) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت واللہ لا یھدی القوم الفسقین کے بارے میں فرمایا یعنی جھوٹ بولنے والے جو لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں (واللہ تعالیٰ اعلم)
Ayah 5:109(1) امام فریابی، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم کے بارے میں فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا تو وہ گھبرا جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا۔ تم کو کیا جواب دیا گیا تھا پیغمبر کہیں گے ہم کو کوئی علم نہیں پھر ان کے دل ان پر لوٹا دئیے جائیں گے تو وہ جان لیں گے (اپنے جواب کو)
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا کے بارے میں فرمایا یہ اس وجہ سے کہ وہ ایک اس جگہ نازل ہوں گے۔ جہاں ان کی عقلیں کام کرنا چھوڑ دیں گی۔ جب اس نے پوچھا جائے گا تو وہ عرض کریں گے۔ ہم کو کوئی علم نہیں۔ پھر وہ دوسری جگہ نازل ہوں گے تو اپنی قوم پر گواہی دیں گے۔
(3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم کے بارے میں فرمایا وہ لوگ رب تبارک تعالیٰ کو عرض کریں گے کہ ہم کو کوئی علم نہیں مگر وہی علم ہے جس کے بارے میں تو زیادہ جاننے والا ہے۔
(4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم کے بارے میں فرمایا ایک جماعت کی عقلیں کام کرنا چھوڑ دیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی عقلیں ان کی طرف لوٹا دیں گے۔ پھر وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان سے سوال کریں گے (جسے فرمایا) لفظ آیت فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا کے بارے میں فرمایا کہ اس دن کے خوف کی وجہ سے (کہیں گے کہ ہم کو کوئی علم نہیں)
(6) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ مخلوق پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہر عقل والے کی عقل جاتی رہے گی فرمایا لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل
تفسیر کا علم بہت ہی اہم ہے
(7) امام خطیب نے تاریخ میں عطا بن ابی رباح ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میرے لئے کتاب اللہ میں سے کچھ آیتوں کی ضرور تفسیر کردیں یا میں کتاب اللہ کا انکار کر دوں گا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر آج کے دن میں اس کے لئے تیار ہوں کونسی آیات ہیں ؟ عرض کیا مجھ کو بتایئے اللہ عزوجل کے اس قول لفظ آیت یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا اور پھر دوسری آیت میں فرمایا لفظ آیت ونزعنا من کل امۃ شھیدا فقلنا ھاتوا برھانکم فعلموا ان الحق کس طرح انہوں نے جان لیا حالانکہ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ ہم کو کوئی علم نہیں۔ اور مجھ کو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں لفظ آیت ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون کے بارے میں بتائیے اور دوسری آیت میں فرمایا لفظ آیت لا تختصموا لدی سو وہ کس طرح جھگڑا کریں گے۔ حالانکہ فرمایا میرے پاس جھگڑا نہ کرو اور مجھ کو اللہ کے اس قول کے بارے میں بتائیے لفظ آیت الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون (یٰس 52) وہ کس طرح گواہی دیں گے حالانکہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دی گئی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اے ارزق تیری ماں تجھ کو روئے بلاشبہ قیامت کے لئے کئی احوال کئی ہولناکیاں گھبراہٹیں کئی زلزلے ہوں گے، جب آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، سورج اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی، اور مائیں بچوں کو بھول جائیں گی۔ حاملہ عورتیں گرا دیں گی جو ان کے پیٹوں میں ہوگا اور سمندر بھڑکیایں جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے والد اپنے بیٹے کی طرف اور بیٹا اپنے والد کی طرف متوجہ نہ ہوگا اور جنت کو لایا جائے گا جس میں موتیوں اور یاقوت کے قبے ظاہر ہوں گے۔ یہاں تک کہ اس کو عرش کے دائیں طرف کھڑا کردیا جائے گا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا جس کی لو ہے کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی۔ ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے۔ اس کی دو نیلی آنکھیں ہوں گی۔ گھسیٹے گی نچلے ہونٹ کو چالیس سال تک وہ اپنی دم کو یوں مارے گی جیسے نر اونٹ اپنی دم کو بار بار مارتا ہے اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو ہر کافر اور مؤمن اس کی لپیٹ میں آجائیں۔ پھر اس کو لایا جائے گا یہاں تک کہ عرش کے بائیں طرف کھڑا کردیا جائے گا۔ وہ اپنے رب سے سجدہ کی اجازت مانگے گی تو اس کو اجازت دے دی جائے گی۔ تو وہ حمد بیان کرے گی۔ ایسے حمد کے ساتھ کہ اس کی مثل کہ مخلوق نے نہیں سنی ہوگی۔ وہ کہے گی تیرے لئے ہی تعریف ہے اے میرے معبود جب آپ نے مجھ کو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا بنایا اور تو نے اپنی مخلوق میں کوئی چیز ایسی نہیں بنائی جس کے ساتھ تو میرے اہل ہے میرے بغیر انتقام کے۔ میں زیادہ جاننے والا ہوں اپنے اہل کو اس پرندہ سے جو زمین پر پڑے ہوئے دانے کو جانتا ہے۔ یہاں تک کہ جہنم ایک سو سال کی مسافت سے بھی جہنمی کو پہچان لیتی ہے اور وہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت اذا راتھم من مکان بعید یعنی جب وہ ان کو دور جگہ سے دیکھے گی وہ ایک لمبا سانس لے گی۔ تو کوئی مقرب فرشتہ یا کوئی نبی مرسل یا کوئی چنا ہوا صدیق اور شہید ایسا نہیں ہوگا مگر وہ اپنے گھٹنوں کے بل گرپڑے گا پھر وہ دوبارہ سانس لے گی تو آنسو کا کوئی قطرہ نہیں بچے گا۔ مگر وہ جلدی سے بہہ پڑے گا۔ اگر کسی آدمی کا عمل بہتر نبیوں جتنا ہوگا تو وہ بھی گمان کرے گا اور اس میں گرپڑے گا۔ پھر وہ تیسرا سانس لے گی تو دل اپنی جگہ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ اور جو کوے اور خرخرے کے درمیان آجائیں گے۔ اور آنکھوں کی سیاہی سفیدی پر غالب آجائے گی۔ ہر آدمی اس دن پکارے گا۔ اے میرے رب بچا مجھے بچا میں اس کے علاوہ آپ سے کوئی سوال نہیں کرتا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) عرش کے پائے سے چمٹ کر عرض کریں گے اے میرے رب مجھے بچا، مجھے بچا، تجھ سے کوئی اور سوال نہیں کرتا جبکہ تمہارے نبی فرمائیں گے۔ اے میرے رب میری امت کو بخش دے، میری امت کو بخش دے آپ ﷺ کو تمہارے سوا کوئی غم نہیں ہوگا اس موقع پر انبیاء اور مرسل کو بلایا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا لفظ آیت ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا عقلیں اڑ جائیں گی۔ اور دل دھل جائیں گے جب دل اپنی جگہ پر واپس آئیں گے تو اس وقت یہ منظر ہوگا۔ لفظ آیت ونزعنا من کل امۃ شھیدا فقلنا ھاتوا برھانکم فعلموا ان الحق للہ (القصص آیت 75) جہاں تک اللہ کا فرمان ہے لفظ آیت ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون اس وقت ظالم سے مظلوم مالک سے مملوک قوی سے ضعیف اور سینگ والے سے سینگ جانور کا حق لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ہر حق والے کو اس کا حق ادا کیا جائے گا۔ جب ہر حق والے کا حق ادا ہوجائے گا تو جنت والوں کو جنت کی طرف (جانے کا حکم ہوگا) اور دوزخ والوں کو دوزخ کی طرف وہ آپس میں جھگڑا کریں گے۔ اے ہمارے رب ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا لفظ آیت ربنا من قدم لنا ھذا فزدہ عذابا ضعفا فی النار (ص آیت 61) اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لفظ آیت لا تختصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید (ق آیت 28) یہ جھگڑا تو موقف میں تھا اور تمہارے درمیان موقف میں فیصلہ ہوچکا اب تم میرے پاس جھگڑا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم تو یہ قیامت کے دن ہوگا۔ جب کفار دیکھیں گے جو اللہ تعالیٰ توحید والوں کو عطا فرمائیں گے فضائل اور خیر میں سے تو کہیں گے آجاؤ ہم اللہ کے نام کی قسمیں اٹھائیں گے ہم مشرک نہ تھے۔ تو پھر ان کے ہاتھ بات کریں گے ان کے خلاف اس کے جو زبان نے کہا اور ان کے پاؤں ہاتھوں کی تصدیق کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اجازت دیں گے مونہوں کے لئے تو وہ کلام کریں گے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت وقالوا لجلودھم شھدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء (یعنی اپنے چہروں سے کہیں گے کہ تم نے گواہی کیوں دی۔ وہ کہیں گے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے بلوایا تھا جو ہر چیز کو بلواتے ہیں)
Ayah 5:110(1) امام ابن ابی حاتم، ابن عساکر اور ابن مردویہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو انبیاء کو اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر عیسیٰ کو بلایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے اور ان کو اپنے قرب سے نوازیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لفظ آیت یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک (الایہ) پھر فرمائیں گے لفظ آیت ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (الایہ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس بات کا انکار کریں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا۔ تو وہ کہیں گے ہاں عیسیٰ نے ہم کو ایسے ہی حکم کیا تھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بال لمبے ہوجائیں گے یہاں تک کہ ہر فرشتہ کو اپنے سر اور جسم کے بال کے ساتھ پکڑیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کو ایک ہزار سال تک اللہ کے سامنے گرائے رکھیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر حجت تمام ہوجائے گی۔ عیسائیوں کے لئے صلیب بند کی جائے گی۔ اور ان کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن عیاش کے طریق سے ابن وھب (رح) سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی یمن آیا میرے باپ نے کہا اس کے پاس جاؤ اور اس سے سنو۔ میں نے کہا کیا آپ مجھے نصرانی آدمی کے پاس بھیجتے ہیں انہوں نے کہا ہاں اس کے پاس جاؤ اور اس سے باتیں سنو۔ میں اس کے پاس آیا اس نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اٹھا لیا تو انہیں جبرئیل اور میکائیل کے سامنے کھڑا کیا۔ فرمایا لفظ آیت اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک میں نے تجھ پر احسان کیا میں نے تجھ پر نعمت کی، پھر میں نے تجھ کو تیری ماں کے پیٹ سے نکالا۔ میں نے تجھ پر احسان کیا پھر مزید احسان کیا۔ عنقریب تیرے بعد ایک امت ہوگی۔ جو اپنی طرف سے تیرے لئے نجات چاہیں گے۔ تیری ربوبیت کا دعویٰ کریں گے۔ اور وہ گواہی دیں گے کہ تو قدیم ہے۔ اور اس کو موت کیسے آسکتی ہے۔ میری عزت کی قسم میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں ضرور ان سے قیامت کے دن حساب کروں گا۔ اور میں ضرور ان کو کھڑا کروں گا مدمقابل اس جگہ میں یہاں تک کہ وہ اس کو ختم کردیں جو کچھ انہوں نے کہا ہوگا لیکن وہ اس کے اثر کو کبھی ختم نہیں کرسکیں گے۔ وہ پھر اسلام لے آیا اور احادیث میں ایسی باتیں ذکر کیں جو میں نے نہیں سنیں۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذکففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتھم بالبینت یعنی بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے جیسے مردوں کو زندہ کرنا مٹی سے پرندے کی شکل بنانا۔ پھر اس میں پھونک مارنا تو اس کا اللہ کے حکم سے پرندہ بن جانا اور بیماروں کو صحت یاب کردینا۔ غیب میں سے بہت سی خبریں دینا۔ ان چیزوں میں سے جو گھروں میں وہ لوگ ذخیرہ کرلیتے تھے۔ تورات کو ان کی طرف لوٹایا اس انجیل کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا ان سب چیزوں کے انکار کا ذکر فرمایا۔
Ayah 5:111(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذ اوحیت الی الحواریین سے مراد ہے کہ میں نے ان کے دلوں میں ڈال دیا۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذ اوحیت الی الحواریین سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں جو چیز ڈالی تھی وہ نبوت والی وحی نہیں تھی وحی دو قسم کی ہے۔ ایک وہ وحی ہوتی ہے جس کو فرشتے لے کر آتے ہیں اور ایک وہ وحی ہوتی ہے جو کسی بندے کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔