Ayah 7:202شیطانوں کے بھائی بند گمراہی کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں :
231: فرمایا کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نہ بدی سے بچنا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں جن کو شیطان کی لاگ لگی ہوئی ہے ۔ ان کے نفس میں برے خیالات ، برے ارادے ، برے مقاصد پکتے رہتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے نفرت کی بجائے محبت کرنے لگتے ہیں اور وہ ان گندی چیزوں سے ذرا اکتاہٹ اپنے اندر محسوس نہیں کرتے ۔ ان کو کھانے کے لئے کوئی چٹ پٹی اور مزے دار چیز درکار ہوتی ہے اور حلال و حرام سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ ان کو نفسانی خواہشات پورا کرنے کی غرض ہے ۔ جائز و ناجائز کی بحث ان کے ہاں کوئی شے نہیں ۔ بلا شبہ ان کے ڈھانچے انسانوں کے ہی ہیں لیکن انسانیت نام کی کوئی چیز ان میں موجود نہیں ۔ نیکی سے انکو کسی قسم کا لگائو نہیں اور برائی ان کو بہت مرغوب ہے ، ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ شیطانوں کے بھائیوں سے ایسا ہونا ہی ضروری ہے اگر وہ ایسا نہ کریں تو آخر شیطان کے بھائی کیوں کہلوائیں ۔
Ayah 7:203نبی اعظم و آخر ﷺ پر کفار کا ایک نیا طعن :
232: نت نئے مطالبات کرنے والوں نے نبوت کو سمجھنے کی بجائے ایک مذاق بنا رکھا تھا ۔ ظاہر ہے کہ یہ مذاق کرنے والے مسلمان تو ہو نہیں سکتے تھے کفار ہی کا یہ شیوہ تھا کہ وہ آپ ﷺ سے شرارتا کوئی نہ کوئی فرمائش کرتے رہتے کہ آپ ﷺ یہ معجزہ دکھا دیں اور ہماری اس بات کا جواب دے دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ پھر جب تک ان کا وہ مطالبہ پورا نہ کرتے تو وہ کہتے کہ آپ ﷺ کو کیسے نبی مان لیں جب آپ ﷺ اپنی نبوت کی کوئی دلیل نہیں رکھتے۔
زیر نظر آیت میں ایک لفظ لو لا اجتبیتھا آیا ہے اجتبیٰ کے معنی چن لینے یا انتخاب کرلینے کے ہوتے ہیں لیکن اس جگہ اپنی طرف سے گھڑ لینے کے معنوں میں بیان ہوا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ کفار فضول مطالبات اور لا یعنی فرمائشیں کیا کرتے تھے اور جب ان کی توقع کے مطابق ان کو جواب نہ ملتا تو کہنے لگتے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ بنا کر پیش کیوں نہیں کرسکتے ؟ ایسا کیوں کہتے ؟ اس لئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام آنے پر یقین نہ تھا بلکہ ان کے خیال میں یہی بات تھی کہ نبی ﷺ اپنی طرف سے سب کچھ گھڑ کر بیان کرتا ہے اور اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے ۔ اس لئے انہوں نے یہ فضول بات کہی تھی کہ تو نے خود اسے کیوں نہ بنا لیا یا گھڑ لیا ۔ ان کو جواب دیا گیا کہ حقیقت حال تو یہ ہے کہ جو کچھ میرے پروردگار کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کرتا ہوں ۔ اپنے پاس سے کچھ نہیں گھڑتا جیسا کہ تمہارا خیال ہے ۔
قرآن کریم ہی تمہارے لئے سرمایہ دلائل ہے اگر تم سمجھنا چاہو :
233: رہی یہ بات کی میری طرف کیا چیز وحی کی جارہی ہے ؟ فرمایا وہ قرآن کریم ہی تو ہے کیا تم اس کو میری گھڑی ہوئی چیز سمجھتے ہو حالانکہ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھوں اور دلوں کے پردے اٹھا دینے والی آیتیں ہیں جو تمہارے لئے سراسر ہدایت و رحمت ہیں ۔ ہدایت اپنے آغاز کے لحاظ سے رحمت اپنے انجام کے لحاظ سے ۔ لیکن یہ ان ہی لوگوں کے لئے نافع ہو سکتی ہیں جو ان پر ایمان لائیں اور ان کے احکام کے مطابق کام کریں ۔ اس طرح ایک لطیف اشارہ ان کی گمراہی کی طرف کردیا کہ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں اس میں تو کوئی نقص نہیں ہے اصل خرابی تو تمہارے دلوں کے اندر ہے کہ تم حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی کر رہے ہو اور اس کو قبول نہیں کرنا چاہتے ۔ مطلب یہ ہے کہ جو نشانات تم طلب کرتے ہو ان سارے نشانات سے بڑھ کر نشان تو خود قرآن کریم ہے ۔ جب تم اس کی طرف توجہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو آخر وہ کونسی بات ہوگی جس کی طرف تم توجہ کرو گے ؟ آگے آنے والی آیت میں اس بات کی تشریح فرمادی کہ قرآن کریم سارے نشانات میں سے بڑا نشان کس طرح ہے ۔
Ayah 7:204قرآن کریم پڑھا جائے تو جی لگا کر سنو اور اس پر غور کرو کہ اس نے کیا فرمایا :
234: زیر نظر آیت میں یہ بتا دیا کہ ہدایت و بصیرت سے مستفید ہونے کا طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ جب قرآن کریم پڑ ھا اور سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموشی سے اس پر کان لگائو تاکہ تم سمجھ سکو کہ قرآن کریم میں تمہارے لئے کیا کیا احکامات دئیے گئے ہیں۔ اگر تم ایسا کرو گے یعنی قرآن کریم کی طرف دھیان دو گے تو یقیناً رحمت الٰہی تمہاری طرف متوجہ ہوگی اور اس پر ایمان لانے کے لئے تمہارے دل کھلیں گے ۔ یہ بات ان کو اس لئے کہی گئی کہ کفار مکہ نے جو منصوبے نبی اعظم وآخر ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو ناکام بنانے کے لئے تیار کئے تھے ان میں سے ایک منصوبہ ان کا یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ خود سنو اور نہ دوسروں کو سننے دو اس لئے کہ انہیں خوب معلوم ہوچکا تھا کہ قرآن کریم اپنے اندر کس بلا کی تاثیر رکھتا ہے اور اس کو سنانے والا کس پائے کا انسان ہے اور اس شخصیت کے ساتھ اس کا طرز ادا کس درجہ موثر ہے وہ سمجھتے تھے کہ ایسے عالی مرتبہ شخص کی زبان سے اس دل کش انداز میں اس بےنظیر کلام کو جو سنے گا وہ آخر کار متاثر ہو کر رہے گا ۔ اس لئے انہوں نے یہ پروگرام بنایا کہ نہ خود سنو نہ کسی کو سننے دو اور محمد ﷺ جب بھی اسے سنانا شروع کریں تو شور مچائو ، تالیاں پیٹو ، آوازے کسو اور اعتراضات کی بوچھاڑ کر دو اور اتنی آواز بلند کرو کہ اس کی آواز ان کے مقابلہ میں دب جائے اور ان کی میٹنگ کا یہ فیصلہ اس وقت بد ستور جاری وساری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ حکم سنایا گیا کہ قرآن کریم توجہ کے ساتھ سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ چناچہ کفار مکہ کی اس سازش کا ذکر قرآن کریم نے اس طرح کیا ہے ۔ فرمایا :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 0026 (حم السجدہ 41 : 26) اور منکرین حق نے کہا کہ اس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو یعنی شور شرابا مچائو شاید کہ اس طرح تم غالب آجائو ۔ اس کے جواب مین اب سے اس طرح کہا گیا کہ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگایا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
اب ذرا غور کرو کہ بات کیا تھی اور علماء حضرات نے اس کو کیا بنا دیا کہ اس وقت اس سے صرف یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ سورة فاتحہ مقتدی کو نہ پڑھنی چاہیئے کہ اس آیت کا شان نزول یہی ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو خبر دار کیا جائے کہ اگر تم نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے مقتدی ہونے کی صورت میں سورة فاتحہ اپنے دل میں پڑھ لی تو تمہاری نماز بھی نہیں ہوگی اور تمہارے منہ میں آگ بھی بھری جائے گی۔ حالانکہ جس رسول ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوا اس نے صاف صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوگی پھر ہر شخص یہ بات جانتا اور سمجھتا ہے کہ ہر انسان کے لئے سننے کی جگہ کان اور پڑھنے کی جگہ زبان ہے اور کم از کم ہر نمازی یہ بھی جانتا ہے کہ فاتحہ پڑھنے والے بھی کبھی جہر یعنی بلند آواز سے نہیں پڑھتے اور دل میں پڑھنے سے کبھی شور نہیں ہوتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فاتحہ پڑھنے والے امام کو حکم دیا ہے کہ اس سورت کو سات وقفوں میں پڑھا جائے اور امام کے ہر وقفہ میں مقتدی اپنے دل میں وہ آیت پڑھ لیں ۔ اتنی باتیں بیان کرنے اور اس طرح ایک ایک بات سمجھانے کے باوجود علماء حضرات ہیں کہ انہوں نے ایک شور مچا رکھا ہے اور اس پر مناظرے پر مناظرہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ تم نے فرقہ بندی کی اپچ میں کتاب الٰہی اور حکم خداوندی میں تحریف کیوں شروع کردی اور بات سے بات نکالتے ہوئے اس کو کیا سے کیا کردیا ۔
Ayah 7:205یاد الٰہی میں مصروف رہنے کا طریقہ قرآن کریم کی زبان میں :
235: اپنے رب کو دل میں یاد کرتا رہ پھر اس کو دل میں یاد کرنے کے لئے تین باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ (تضرعا و خیفۃ ) دوسرا (دون الجھر من القول ) اور تیسرا (بالغدو وا لاصال ) 1 ۔ تضرع و عاجزی اختیار کرنا ۔ 2 ۔ دون کے معنی لغت میں نو طرح کے بیان کئے گئے ہیں ۔ 1 ۔ قل 2.۔ قیل بفتح فسکون۔ 3 ۔ جھرۃ او قبل بکسر القاف و فتح البائ 4 ۔ وراء 5 ۔ الاختصاص و قطع الشرکۃ 6 ۔ امام 7 ۔ غیر او سوی 8 الدنی 9 ۔ التجاوز من حد الی حد اور اس جگہ پہلے معنی مراد لئے گئے ہیں ۔ یعنی قول سے ذکر ہو تو زیادہ بلند آواز سے نہ ہو جس کو (چلانے ) سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی مزید وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اس طرح فرما دی گئی کہ اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ان دونوں کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کرو۔ اور ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ مکہ میں جب نبی کریم ﷺ یا دوسرے صحابہ ؓ نماز پڑھتے وقت بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے تو کفار شور مچاتے تھے اور بسا اوقات گالیوں کی بوچھاڑ بھی کردیتے ۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ نہ تو اتنا زیادہ زور سے پڑھو کہ کفار سن کر ہجوم کریں اور نہ اس قدر آہستہ پڑھو کہ تمہارے اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں اور پھر یہ حکم بھی انہی حالات کے لئے تھا اور اب بھی انہی حالات کے لئے ہے لیکن زور زور سے اور چلا چلا کر پڑھنے کی ممانعت اس سے نکل آئی اور اس کا طریقہ یہ مقرر فرمایا گیا کہ وہ دون الجھر من القول قول سے یعنی بول کر جب ذکر ہو تو تھوڑی سی بلند آواز ہو تو زیادہ بلند آواز سے نہ ہو ۔ ؟ ؟ ؟
3 ۔ تیسری یہ کہ اللہ کی یاد ہر وقت دل میں موجود رہنی چاہیے کہ انسان اپنی زندگی کی صبحیں اور شا میں یاد الٰہی میں بسر کرے ۔ ذکر تب اپنا پورا اثر دکھاتا ہے جب اس میں ساری مذکورہ شرائط پوری ہوں اور وہ صبح وشام یعنی پورے اوقات کو گھیرے ہوئے ہو اور ایسا نہ ہو کہ تم غافلوں میں ہو جائو ۔ یہ اس کی مزید تاکید ہے یعنی اللہ کی یاد سے کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چائیے ۔ جس طرح جسم کی زندگی کے لئے سانس کی آمدورفت ضروری ہے اسی طرح روح کی زندگی کے لئے ذکر الٰہی ضروری ہے ۔ شیطان ہر وقت گھات میں رہتا ہے اور کسی وقت بھی اس کام سے غافل نہیں ہوتا اس لئے آدمی کو اس سے پناہ حاصل کرنے کے لئے بھی کسی وقت غفلت نہیں کرنی چائیے تاکہ اس کا دائو نہ لگ جائے اور وہ اچانک حملہ آور ہو کر کوئی تباہی نہ پھیلا دے ،
Ayah 7:206مقربین اللہ کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے بلکہ وہ سر بسجود رہتے ہیں :
236: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں یعنی مقرب اور پرہیز گار بندے ہیں ( اللہ کے پاس ہونے) کا مطلب معزز و مکرم ہونا ہے وہ اللہ کی عبادت سے کبھی تکبر نہیں کرتے بلکہ وہ تو عبادت کی وجہ سے بڑے بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہنا ان کا شیوہ ہے اور ان کی زبانیں اپنے رب قدیر کی حمد وثناء اور تسبیح وتحمید میں زمزمہ سنج ہیں اور ان کے دل اللہ کی یاد میں محو ہیں اور ان کی پیشانیاں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں ۔ وہ اپنے خالق ومالک کی عبادت وطاعت میں صبح و شام کوشاں ہیں اور ہر دم اس کے ذکر اور اس کی محبت میں مشغول رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اس مقام پر حکم ہے کہ جو شخص اس آیت کو پڑھے یا سنے وہ سجدہ ریز ہوجائے تاکہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں داخل ہونے کی علامت کو ادا کر کے ان میں شامل ہوجائے ۔ وہ اپنے عمل سے فورا یہ ثابت کر دے کہ وہ اللہ کی بندگی کرنے والوں میں شامل ہے ۔ منہ موڑنے والوں میں مطلق نہیں ۔ قرآن کریم میں ایسے پندرہ مقامات ہیں جہاں آیت سجدہ آتی ہے اور ہر جگہ سجدہ کرنا مشروع ہے اگرچہ ان مقامات میں ایک مقام یعنی سورة الحج کے دوسرے سجدے میں اختلاف ہے ۔ زیادہ تر مشہور یہی ہے کہ قرآن کریم میں 14 سجدے ہیں حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کل پندرہ سجدے ہیں اگرچہ ان میں ایک اختلافی ہے ۔ اس سجدے کے لئے عام طور پر ان ساری شرطوں کو ضروری قرار دیا جاتا ہے جو نماز کے لئے ضروری ہیں یعنی باوضو ہونا ، قبلہ رخ ہونا ، کپڑوں کا پاک ہونا اور زمین کا پاک ہونا اور سجدہ میں اپنا سر یعنی ماتھا اور ناک کا سجدہ کی جگہ پر ٹکانا وغیرہ لیکن احادیث میں یہ شرائط موجود نہیں اور جب خارج از نماز سجدہ تلاوت ادا کرے تو ان شرطوں کا پورا ہونا ضروری نہیں بلکہ جس طرح منہ ہوجائے یا با وضو نہ ہو تو بھی سجدہ ریز ہو سکتا ہے اور اس کی مثالیں متعدد احادیث میں ملتی ہیں ۔ مختصر یہ کہ سجدہ میں گر جانا کفایت کرتا ہے ۔ اس لئے جمہور کے خلاف اگر کوئی شخص اس طرح سجدہ کرے گا تو اس کو برا بھلا کہنا مناسب نہیں ہے ۔ فی نفسہٖ سجدہ کے فضائل بہت ہیں مختصر یہ کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے بکثرت سجدہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اور سجدہ کی کثرت سے درجات کی بلندی اور گناہوں کا ساقط ہونا فرمایا ہے ۔ ( صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب ابن آدم سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے کہ ہائے ابن آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور اس کے لئے جنت لازم ہوگئی۔ ـ ( رواہ مسلم )
الحمد للہ کہ اس سورت الاعراف کو سجدہ کی آیت پر ختم کیا گیا ۔
الحمد للہ اس سورت کی تفسیر 27 نومبر 1995 ء کو قبل از نماز عشاء ختم ہوئی ۔
عبدالکریم اثری
نظر ثانی : مئی 2015 ء