Ayah 7:139اے قوم بنی اسرائیل یہ لوگ تو باطل پرست ہیں جن پر تم ریجھ گئے ہو :
150: موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم بنی اسرائیل کے ان افراد کو سمجھایا جنہوں نے بت پرستوں کی ریت کو پسند کیا تھا فرمایا ان کا یہ شغل بت پرستی بجائے خود بھی باطل ہے اور انجام کار اس کے حق میں خدائے قادر و قدوس کی طرف سے تباہی و بربادی بھی لازم ہے۔ تم آخر کیوں ایسوں کی تقلدا کی طرف مائل ہو ؟ یہ لوگ تو خود بھی تباہ و برباد ہونے والے ہیں اور ان کا کیا کرایا عمل بھی اہل باطل کے ساتھ تشبیہ دنیوی عادات میں بھی مذموم ہے اور رسوم عبادت میں بھی متبر مہلک اور ٹوٹی پھوٹی چیز کو بھی متبر کہا جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کی کوئی قیمت اللہ کے ہاں نہیں اس لئے کہ وہ بالکل برباد و پامال کردیا جائے گا اس لئے کہ وہ سراسر باطل ہے۔
Ayah 7:140تم کو فضیلت بخشنے والا اللہ ہے اس کو چھوڑ کر اس کس کی تلاش کروں ؟ :
151: غور کرو کہ اپنی ہدایت و شریعت کے لئے تمہارا انتخاب کر کے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت بخشی تو کیا اب میں اس اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں تو اس سے بڑی ناشکری اور ناسپاسی اور کیا ہوگی اور تعجب ہے جس بات پر تم ریجھ گئے ہو اس کا کوئی سر پیر بھی ہو ؟ تف ہے تمہاری اس ذہنیت پر کہ تم نے ایسی بات کہہ دی جس کی کم از کم تم سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ پھر اپنے مسلک کی بڑی زور دار دلیل پیش فرمائی کہ میں اپنے خالق حقیقی کے سوا کسی غیر کی عبادت نہیں کرتا۔ فرمایا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور جو فضیلت اور شرف اس کو بخشا گیا ہے وہ کائنات کی کسی بڑی سے بڑی چیز کو بھی نہیں بخشا گیا تو پھر اس سے بڑھ کر اور نادانی کیا ہو سکتی کہ انسان اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے اللہ وحدہ لا شریک لہ کو چھوڑ کر کسی اور شے کو اپنا معبود بنا لے جو مرتبہ میں اس سے کہیں حقیر اور بہت ہی کمتر ہو حالانکہ وہی ہے جس نے تم کو اپنے وقت سارے انسانوں پر فضیلت بخشی تھی۔ مزید وضاحت درکار ہو تو جلد اول سورة بقرہ کی آیت 49 پر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 7:141بنی اسرائیل پر الٰہی انعامات کی بارش کا ذکر :
152: اللہ نے تم کو فرعون اور اس کے لوگوں سے نجات دی جب کہ وہ لوگ تم کو سخت عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کردیتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو ان کی عصمت سے کھیلنے کے لئے زند رکھتے تھے اور انہوں نے تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کر رکھا تھا ۔ تفصیل کے لے سورة بقرہ آیت 49 تا 52 ۔
Ayah 7:142موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلانے کا حکم :
153: اس واقعہ کی تفصیل سورة البقرہ آیت 51 میں گزر چکی ہے وہاں فرمایا تھا : وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ، ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس رات کا وعدہ کیا تھا اس جگہ بھی فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً 1ۚ اس کے رب کا وقت چالیس رات پر پورا ہوگیا فرمایا ہے۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ پہلے تیس رات کا وعدہ کیا تھا اور اس کے گزر جانے کے بعد پھر دس راتیں مزید بڑھا دیں بلکہ مطلب اس جگہ صرف ایک ماہ اور دس دن کو ظاہر کرنے کا ہے کیونکہ تیس رات کا پورا مہینہ بنتا ہے ہاں ! اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تو اس ماہ کی پہلی تاریخ کو موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر حاظر ہوئے اور وہ مہینہ تیس راتوں کا تھا اور دس راتیں اگلے مہینہ کی پوری کر کے واپس لوٹے گویا اس کی مزید تا کید کردی کہ چالیس راتیں کس طرح پوری کی گئیں ۔ چونکہ تورات میں ہے کہ موسیٰ تیس دن کا اعتکاف کرنے کے لئے پہاڑ پر گئے تاکہ خدا کی عبادت میں مصروف ہوں مگر وہاں چالیس دن لگ گئے اس طرح چالیس دن رات موسیٰ پہاڑ پر رہے اور نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔ ( سفر 9: 9)
اس بیان سے ہمارے مفسرین نے یہ بات کہہ دی کہ پہلے تیس دن رات کا وعدہ لیا تھا مگر دس دن مزید بڑھا دئیے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ اس میقات کی کیا ضرورت تھی ؟ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوئیں اور انہیں ایک خود مختارقوم کی حیثیت حاصل ہوئی تو حکم خداوندی کے تحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ سینا پر طلب کئے گئے تاکہ انہیں بنی اسرائیل کے لئے شریعت عطا فرمائی جائے۔ چناچہ یہ طلبی جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس سلسلہ کی پہلی طلبی تھی اور اس کے لئے چالیس دن کی معیاد اس لئے مقرر کی گئی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک پورا چلہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کریں اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اند پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا ۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو بنی صالح اور کوہ سینا کے درمیان وادی الشیخ کے نام سے موسوم ہے ۔ اس وادی کا وہ حصہ جہاں بنی اسرائیل نے پڑائو کیا تھا آج کل میدان الراحۃ کہلاتا ہے ۔ وادی کے ایک سرے پر وہ پہاڑی واقع ہے جہاں مقامی روایت کے بموجب حضرت صالح (علیہ السلام) ثمود کے علاقے سے ہجرت کر کے تشریف لے آئے تھے آج وہاں ان کی یاد گارہ میں ایک مسجد بنی ہوئی ہے دوسری طرف ایک اور پہاڑی جبل ہارون نامی ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی سے ناراض ہو کر بیٹھے تھے۔ تیسری طرف سینا کا بلند پہاڑ ہے جس کا بالائی حصہ اکثر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے اور جس کی بلندی 7359 فٹ ہے ۔ اس پہاڑ پر آج تک وہ کھوہ زیارت گاہ عام بنی ہوئی ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چلہ کیا تھا ۔ اس کے قریب مسلمانوں کی ایک مسجد اور عیسائیوں کے ایک گرجا موجود ہے اور پہاڑ کے دامن میں رومی قیصر جسٹنین کے زمانہ کی ایک خانقاہ آج تک موجود ہے ۔ ( تفہیم القران )
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو کہا تم میرے بعد میرے جانشین بن کے رہو اور دیکھو سب کام درستگی سے کرنا خرابی ڈالنے والوں کی راہ نہ چلنا ۔
حضرت ہارون (علیہ السلام) اگرچہ موسیٰ ٰ (علیہ السلام) سے عمر میں تین سال بڑے تھے لیکن منصب رسالت میں وہ آپ کے تابع تھے ۔ اس لئے آپ کے حکم کے پابند تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی وقتی غیبت کے دوران بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے ان کو مقرر کیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی کہ تم قوم کے اند کوئی خرابی ، کوئی بگاڑ اور کوئی بدعت و ضلالت پیدا نہ ہونے دینا اور اگر اس طرح کی کوئی چیز رونما ہوئی تو اس کی اصلاح کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کی روش اختیار نہ کرنا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح کی ہدایت سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ قوم بنی اسرائیل میں ایسے عناصر موجود تھے جو بگاڑ پیدا کرنا چاہتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) ان کی کارستانیوں سے یقیناً واقف تھے اس لئے آپ کو یہ اندیشہ بھی لا حق تھا کہ میری عدم موجودگی میں یہ لوگ کوئی نہ کوئی طوفان برپا کریں گے اور اس سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ قوم کے خیر خواہ کو قوم کا خیال ہر وقت رہتا ہے کہ وہ کہیں گمراہی کی طرف نہ لوٹ جائے ۔
Ayah 7:143اللہ تعالیٰ کے کلام کی حقیقت کہ وہ کیسے ہوتا ہے ؟ :
154: میقات کے معنی وقت مقرر کے ہیں۔ یہاں میقات سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنے خطاب و کلام سے مشرف کرنے کے لئے اور قوم کے لئے احکامات دینے کے لئے مقرر کیا تھا جس کی مدت چالیس دن رات تھی۔ کلام خدا کے متعلق جب تک نہ سنیں اور دیکھیں تو معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ مگر انسانوں کا کلام جو سننے میں آتا ہے وہ تو یہ ہے کہ زبان اور ہونٹ ہلتے ہیں اس ہوائے محیط کی مدد سے ایک آواز کان تک پہنچتی ہے اور اس زبان کا بولنے اور سمجھنے والا جس زبان میں یہ کلام کیا جائے ہر ایک لفظ کے بعد دوسرا لفظ بلکہ ہر لفظ کے پہلے حرف کے بعد دوسرا حرف نکلتا ہے اور ان حرفوں سے مل کر لفظ اور لفظوں سے مل کر جملہ ہوجاتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے جس سے کلام کیا جائے یا جو وہاں سننے والا ہو۔ پھر کیا خدا کا کلام بھی ایسا ہی ہوتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس طرح بولنے والا اور سننے والا کتنی چیزوں کا محتاج ہوتا ہے اس لئے اس طرح کا کلام کرنا اللہ تعالیٰ سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے اسلام نے جب اس مسئلہ کو اٹھایا تو صرف یہ کہا کہ تمام انبیائے کرام نے خدا کو متکلم کہا ہے ؟ اور اس کے کلام کو ثابت کیا ہے ۔ پس اس کا متکلم ہونا اور خدا کے لئے کلام کرنا تو ثابت ہے مگر انہوں نے یہ نہ بتایا کہ ایسا ہی کلام جیسا ہمارا تمہارا ہے یا کسی اور طرح کا لیکن انہوں نے اس پر ایک دوسری بحث شروع کردی کہ وہ قدیم ہے یا حادث اور یہ بحث اتنی لمبی ہے کہ یہ مقام اس کا متحمل نہیں۔ اس بحث کو نہایت خوبی کے ساتھ حضرت شیخ احمد سرہندی نے مکتوب 92 جلد سوم میں بیان کیا ہے۔
ہاں ! مختصر الفاظ میں اس کو اس طرح سے بیان کیا جاسکتا ہے ہم کسی پر خواہ وہ جبرئیل ہو جو حسب اعتقاد جمہور مسلمین اللہ اور انبیا کرام میں ایلچی کے واسطہ ہے اور خواہ وہ خود نبی جو مبعوث ہو جیسا کہ خاص ہمارا اعتقاد ہے خدا کے کلام کا نازل ہونا کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کے دل میں بجنسہ وہ الفاظ جن کو وہ بعد اس کے تلفظ کرے گا مع ان کے معنی کے جو مقصود ہیں پیدا کیا ہے یا القاء کیا ہے اور وہی لفظ بجنسہ نبی ﷺ نے تلفظ کئے ہیں پس گو اس نبی (علیہ السلام) کا ان لفظوں کو تلفظ کرنا حادث ہو مگر وہ الفاظ مع ان کے معنی کے یا وہ معنی مقید ہیں جن کا تلفط بجز انہی الفاظ کے نہیں ہو سکتا تھا ۔ قدیم اور کلام خدا ہیں اور یہی ہمارا اعتقاد قرآن کریم کی نسبت ہے کہ وہ بلند مع معانیہا قدیم و کلام خدا ہے اور خود خدا نے اپنا کلام پیغمبر خدا ﷺ میں بلا واسطہ پیدا کیا ہے اور اس ملکہ کو جو خاص نبی میں موجود تھا اور دوسرے انسانوں میں جو غیر نبی ہیں موجود نہیں ہے پیغام بر سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے ۔
؎ زجبریل ا میں قرآن بہ پیغام نمے خواہم ۔ ہمہ گفتار معشوق است قرآن ے کہ من دارم
اس مضمون کو بذریعہ کسی مثال کے سمجھانا بلا شبہ نہایت مشکل ہے مگر ہم ایک قریب ترین مثال سے اس کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک شخص کسی سبب سے بول نہیں سکتا مگر اب اپنی تحریر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جس کو ہم پڑھتے ہیں ۔ پس گو اس تحریر میں آواز نہیں ہے مگر جو لفظ مطابق اس تحریر کے ہماری زبان سے نکلتے ہیں وہ لفظ بلا شبہ اس کے ہیں جس نے اس کو لکھا ہے اور ہم صرف ان لفظوں کا تلفظ کرتے ہیں مگر در حقیقت وہ ہمارے لفظ نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ وہ لفظ بروقت ہمارے تلفظ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔
موسیٰ پکار اٹھا کہ اے پروردگار مجھے اپنے جمال دکھا کہ تیری طرف نگاہ کرسکوں۔ کلام سے مشرف ہونے کے بعد شوق ہوا کہ جس کا کلام سامعہ نواز ہوا ہے اس کا دیدار بھی باصرہ نواز ہو اور یہ فطرت انسانی کا بیان ہوا۔ موسیٰ اگرچہ نبی تھے لیکن بہر حال انسان تھے ۔ انہوں نے نہایت ادب سے یہ درخواست کی کہ اے پروردگار مجھے اپنا جمال دکھا کہ تیری طرف نگاہ کرسکوں۔ حکم ہوا کہ انسان ان ناسوتی آنکھوں سے خدا کو نہیں دیکھ سکتا صرف اس کی صفات کے مظاہر کو ہی دیکھ سکتا ہے ۔ ہاں ! اس پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ ٹکا رہا تو مجھے دیکھ سکے گا ۔ اصل درخواست کا جواب تو لن ترانی پر ختم ہوگیا تھا یعنی اس ناسوتی دنیا میں اپنی مادی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے ہو اتنا جواب کافی تھا اور اس جواب میں رویت باری کے امتناع کی شرعی دلیل ہے گویا بہ طور اصول یہ حققتھ بتا دی گئی کہ انسان اپنی ترکیب جسمانی کے اعتبار سے ضعیف البنیان ہے اس کے قوائے ظاہری اس عالم عنصری میں رویت باری کی تاب نہیں لاسکتے لیکن مزید شفقت و کرم سے ایک موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) کو عملی تجربہ اور اطمینان قلب کا اور دیا جا رہا ہے اور ارشاد ہو رہا ہے کہ اچھا دیکھو پہاڑ جو ظاہری و مادہ اعتبار سے انسان سے کہیں زیادہ طاقت رکھتا ہے اس پر ہم اپنی تجلی کی ایک جھلک ڈالتے ہیں اگر وہ اس کو برداشت کر گیا تو تمہارے لئے بھی برداشت کرنا ممکن ہوگا۔ پیغمبر (علیہ السلام) بھی آخر جسمانی قویٰ وہی رکھتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں ۔ انسان کی قوت بردشت محدود ہے ۔ اس کی نگاہیں روشنی کو دیکھتی ہیں لیکن یہ روشنی ایک حد خاص سے متجاوز ہوجائے تو آنکھیں خیرہ ہو کر رہ جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات بینائی ہی سلب ہوجاتی ہے ۔ اس کے کان آواز کو سنتے ہیں لیکن ان کے سننے کی تاب بھی ایک مقررہ حد تک ہی ہے ۔ نجلی کا کڑکا ہی ایک حد سے متجاوز ہوجائے تو سرے سے کان کے پردے ہی بیکار ہوجائیں یہ آفتاب اس کی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے مگر اس کی روشنی اور حرارت اس وقت تک اس کے لئے حیات بخش ہے جب تک وہ نہایت ہی طویل فاصلے سے نہ جانے کتنے فضائوں کے پرسوں کی اوٹ سے اور کتنی چھلنیوں سے گزار کر اپنی روشنی اور حرارت اس کو پہنچا رہا ہے اگر کسی دن ذرا کرہ ارض سے قریب آکر اس پر ایک نظر ڈال دے تو سارے جاندار جل بھن کر خاک اور راکھ ہوجائیں تو جب اس کائنات کی مخلوق کے مقابلہ میں انسان کی قوت برداشت اتنی ناتوں ہے تو وہ خدا کی ذات کی تاب کس طرح لاسکتی ہے ۔ اب یہ سوال باقی ہے کہ وہ تجلی کیا ہے ؟ وہ ایک روشنی ہے جس سے آنکھیں چندھیا جائیں اور دیکھنے والے کو باوجود دیکھنے کے کچھ نظر نہ آئے ، غالباََ اس تیز روشنی کے بعد ایک کڑک بھی ہوگی جس سے پہاڑ کا وہ مخصوص حصہ اس دھماکہ سے پھٹ گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش کر گر پڑے ۔ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 55 میں بیان کیا گیا ہے دراصل یہ سوال جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا آپ کی قوم کے سرداروں کا تھا ۔ انہی کی خاطر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوال اٹھایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ درخواست اس طرح کی تھی جس طرح کی مثال عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق مائدہ اتارنے کی تھی ۔ وہ بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مطالبہ تھا ۔ بہر حال اس کا معقول جواب موسیٰ (علیہ السلام) کو دے دیا گیا جو وہ اپنی قوم کے سرداروں کو دے سکتے تھے اور یقیناً آپ نے ان کو وہ جواب بھی دیا ہوگا کہ اللہ ان نظروں سے دیکھا نہیں جاسکتا بلاشبہ وہ رب العزت کی مخصوص تجلی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھائی گئی لیکن اس طرح کی تجلیاں رب کریم کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں ۔
موسیٰ (علیہ السلام) جب ہوش میں آیا تو بولا اے میرے اللہ ! تیرے لئے ہر طرح کی تقدیس ہے میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں میں ان میں پہلا شخص ہوں گا جو یقین رکھتے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ارشاد بھی بالکل فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اس لئے انسان کا ذاتی تجربہ ہی وہ شے ہے جس سے بڑھ کر یقین پیدا کرنے والی کوئی اور چیز نہیں ۔ یعنی جب آپ کے ہو ش بجا ہوئے تو فوراََ فرمایا اے اللہ ! تو اس سے پاک اور منزہ ہے کہ عالم ناسوت میں انسانی حاسہ بصر کی گرفت میں آسکے میں اپنی اس مشتاقانہ اور بےتابانہ درخواست پر معذرت کرتا ہوں کہ میری درخواست نا مناسب تھی ۔
اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ سب کچھ بنی اسرائیل کی ایک شدید عقلی بیماری کو دور کرنے کے لئے دکھایا جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور تورات میں بھی متعدد مواقع پر یہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کیا۔ وہ کہتے کہ خدا جب تم سے بات کرتا ہے تو ہم سے بھی روبرو ہو کر بات کرے اور ہم بھی اس کو دیکھیں۔ ان کی یہ محسوس پرستی کی بیماری کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح طور پر بتا اور دکھا دیا کہ اللہ آنکھوں سے دیکھنے اور ہاتھوں سے چھونے کی چیز نہیں ہے صرف عقل سے سمجھنے اور دل سے ماننے کی چیز ہے آنکھیں صرف اس کی صفات ہی دیکھ سکتی ہیں بلکہ اس کی بعض صفات بھی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہیں اور ہوش و ہو اس خطا ہوجاتے ہیں ۔ یہ جو کہا جاتا ہے مذہب اہل سنت میں روئیت باری اس دنیا میں عقلاََ بالکل جائز ہے صرف شرعاََ ممنوع ہے ہماری سمجھ سے بہر حال باہر ہے اور اس طرح جن جو گیوں اور صوفیوں نے مشاہدہ ذات الٰہی کو معرفت کا درجہ قرار دیا ہے انہوں نے حدود سے یقیناً بہت تجاوز کیا ہے اور اس کا حاصل خیرگی اور تحیر کے سوا کچھ نہیں یہ ایسا ہی ہے کہ مگس شہباز کے شکار کے لئے نکلے۔ تفسیر اس کی انشاء اللہ سورة نجم میں ہوگی۔
Ayah 7:144موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ رسول (علیہ السلام) بھی تھے اور کلیم بھی :
155: مطب یہ کہ میں نے اپنا پیغام ہدایت پہنچانے کے لئے آپ کے ہم عصروں میں سے آپ کو چن لیا ہے اور آپ کو بلا واسطہ کلام کرنے کی عزت سے ممتاز کیا ہے اور وہی عزت وشرف بخشا ہے جو اپنے دوسرے رسولوں کو بخشتا ہوں ۔ آپ کو جو نعمت دی جارہی ہے اس بصد شوق و مسرت قبول کرو اور اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور برابر میرے شکر گزار رہو یعنی اس نعمت کا صحیح صحیح حق ادا کرو خود بھی دل وجان سے اس کی قدر کرو اور دوسروں کو بھی یہ بتائو اور سکھائو اور اپنا فرض منصبی ادا کرو اور ان باتوں کے متعلق سوال نہ کرو جو آپ کی طاقت سے باہر ہیں اور کوئی انسان اس کا متحمل نہیں اس مضمون کو قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
وہ تو آسمان و زمین کا موجد ہے اس کو کائی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے یہ ہے اللہ تمہارا رب ، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے ۔ وہ ہرچیز کا خالق ہے لہٰذا تم اس کی بندگی کرو اور وہ ہرچیز کا کفیل ہے ۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت ہی باریک بین اور با خبر ہے ۔ (الانعام 6 : 101 تا 103)
Ayah 7:145وہ نسخہ ہدایت و رحمت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا جس کا نام تورات ہے :
156: وَ کَتَبْنَا اور لکھا ہم نے کے الفاظ سے ہمارے مفسرین نے بڑی لمبی چوڑی بحثیں بیان کی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان الواح کی عبارت کو اللہ تعالیٰ نے خود لکھا تھا حالانکہ قرآن کریم میں کَتَبْنَا کا لفظ جہاں بھی آیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی نسبت فعل کتابت مراد نہیں لی گئی بلکہ مقرر کرنے اور فرض کرنے کے معنی لئے گئے ہیں ۔ چناچہ کَتَبْنَا کے ہر جگہ علمائے اسلام نے یہی معنی قرار دئیے ہیں اور علیٰ اور لہ جو کتابت کے صلہ میں آتا ہے اس سے بھی کچھ تغیر معنی میں نہیں ہوتا بلکہ فی کے صلہ میں آنے سے بھی کچھ تغر واقع نہیں ہوتا چناچہ سورة الانبیاء کی آیت 105 مین یہ الفاظ آئے ہیں : وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اور زبور کا لکھنا یعنی فعل کتابت کسی نے بھی اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا اور اس کے معنی یہی کئے ہیں کہ : فرضنا فی الزبور ، اس طرح قران کریم کی کوئی آیت کسی طرح اشارہ نہیں کرتی کہ ان الواح کا کاتب اللہ تھا ۔ بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ اکثرو بیشتر قرآن کریم میں بندوں کے افعال کو واضح طور پر اپنی طرف نسبت کرتا ہے اس طرح بھی فعل کتابت الواح کا خدا نے اپنی طرف منسوب نہیں کیا پھر نہ معلوم مفسرین نے اس پر یہ بحث کیوں پیدا کی ۔ ہاں تورات کی عبارت اس طرح ہے کہ :
اور موسیٰ شہادت کی دونوں لوحیں لئے ہوئے الٹا پھرا اور پہاڑ سے نیچے اترا اور وہ لوحیں ادھر سے ادھر سے دونوں طرف سے لکھی ہوئی تھیں اور وہ لوحیں خدا کی ہی بنائی ہوئی تھیں اور جو لکھا ہوا تھا وہ بھی خدا کا ہی لکھا ہوا اور ان پر کندہ کیا ہوا تھا۔ ( خروج باب 33: 15 , 16)
اور ایک جگہ اس طرح تحریر ہے کہ دو اور موسیٰ نے لوگوں کے پاس جا کر خداوند کی سب باتیں اور احکام ان کو بتا دئیے اور سب لوگوں نے ہم آواز ہو کر جواب دیا کہ جتنی باتیں خدا نے فرمائیں ہیں ہم ان سب کو مانیں گے اور موسیٰ نے خداوند کی سب باتیں لکھ لیں ۔
( خروج 24: 3 , 4)
مختصر یہ کہ مطلب آیت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے جن جن حکموں کی ضرورت تھی وہ سب ان تختیوں کے احکام میں موجود تھے : تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ 1ۚ ، یعنی تمام باتیں الگ الگ کر کے بیان کردی تھیں ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا جہان کی ہر بات تشریح و تطویل کے ساتھ لکھ دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ قرآن کریم تفصیل کا لفظ اس مصطلح معنی میں نہیں بولتا جو فن بیان و معانی میں بعد کو ٹھرائے گئے اور جو اجمال کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے چونکہ یہ تختیاں وحی الٰہی سے کنندہ کی گئی تھیں اس لئے اللہ نے ان کی کتابت اپنی طرف منسوب کی اور کتب سماوی کے متعلق قرآن کریم کا یہ عام اسلوب بیان ہے ۔ تورات میں ہے کہ یہ دو تختیاں تھیں اور دونوں طرف کندہ تھیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔
پس اسے مضبوطی سے پکڑلے اور اپنی قوم کو بھی حکم دے کہ اس کے پسندیدہ حکموں پر کاربند ہوجائے۔ قوت اور مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ بڑی کوشش ، چستی ، ہوشیاری اور شوق سے اس پر عمل کرنے کا عزم کر کے اس کو ہاتھ میں لے لو اور اس کی ہدایت پر جمے رہو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ دوسری جاہل قوموں کی ریس میں ان جیسے طور طریق اختیار نہ کرے ۔ یہ کتاب اس لئے آپ کو عطا نہیں کی جا رہی کہ آپ خود اس پر عمل کر کے سمجھ لیں کہ آپ نے اس کا حق ادا کردیا بلکہ خود عمل پیرا ہونے کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کو بھی حکم دیں کہ وہ اس کے احکام جو سراپا خیر و برکت ہیں پر عمل کریں اور اس کے اوامرو نواہی کی پابندی کریں اور ان پر یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ اگر انہوں نے ہماری شریعت کے احکام سے سر تابی کی تو انہیں بھی وہ گھر دیکھنا پڑے گا جو سر کشوں اور نافرمانوں کا ٹھکانہ ہے یعنی جہنم کیونکہ وہی نافرمانوں کی جگہ ہے اور نافرمان تو اس میں داخل بھی ہوں گے لیکن فرمانبرداروں کو بھی وہ جگہ دکھائی جائے گے کہ اگر تم نافرمانی کرتے تو تمہیں اس جگہ بند کردیا جانا تھا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے نافرمانیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائی۔
Ayah 7:146قانون الٰہی یہ ہے کہ سر کشوں کو آیات الٰہی کبھی نظر نہیں آتیں :
157: فرمایا جو لوگ سر کشی کریں گے میں ان کی نگاہیں اپنی نشانیوں سے پھیر دوں گا یعنی جو کوئی جان بوجھ کر سر کشی کرے تو اللہ کا قانون یہی ہے کہ وہ دلیلوں اور روشنیوں سے متاثر ہونے کی استعداد کھو دیتا ہے ۔ یہ برسر موقع ایک جامع تنبیہ و تذکیر ہے کہ کون لوگ ان کی تعلیمات کی قدر کریں گے ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون ان سے منہ موڑ دیں گے اور اس کے نتیجہ میں آخرت کی محرومی سے دوچار ہوں گے ۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ بیان فرما دیا کہ جو لوگ غرور وتکبر کی روش اختیار کرتے ہیں اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مست رہتے ہیں اور انبیاء کی اطاعت کرنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں بطور سزا ایسے لوگوں کو کتاب الٰہی کے سمجھنے کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے اور وہ اس چشمہ حیات سے کبھی مستفید نہیں ہو سکتے اور بغیر الحق کہ کر یہ بتا دیا کہ ان کا یہ تکبر اور غرور بےوجہ ہے انہیں ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اتنا اونچا اور بڑا سمجھتے کہ اللہ کے رسولوں کی اطاعت سے انہیں عار محسوس ہوتی۔
وہ دنیا بھر کی نشانیاں بھی دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے :
158: فرمایا کہ غور کرو جو لوگ خدا کی زمین میں رہتے اور بستے ہوئے اپنے آپ کو خدا سے بےنیاز اور اس کے امر وحکم سے اپنے آپ کو بالاتر اور اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنا ذاتی حق سمجھیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ان ہدایات کی طرف مائل ہونے کی توفیق نہیں دے گا ایسے لوگوں کے اند خیر اور ہدایت کی رغبت مردہ ہوجاتی ہے اس وجہ سے اگر ان کو ہدایت کی راہ دکھائی جائے تو وہ اس سے بھاگتے ہیں تو ان بھاگنے والوں کے پیچھے ہدایت کو آخر کیوں لگا دیا جائے گا ؟ وا ضح کردیا کہ یہ حالت اس لئے پیش آئے گی کہ انہوں نے اللہ کی نشانیاں جھٹلائیں اور غافل رہے ۔ معلوم ہوا کہ جو کوئی غافل رہتا ہے اور نشانیاں جھٹلاتا ہے وہ کبھی سچائی نہیں پا سکتا اور یہی مطلب نگاہ پھرا دینے کا ہے ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کسی آدمی کو بےعقلی اور گمراہی پر مجبور کردیتا ہے یہ اس کا قانون نہیں بلکہ یہ ان کے دل کی آنکھ کے بےنور ہونے کی کیفیت بیان کی جارہی ہے کہ ہزار دلیلیں سنتے ہیں ، بیشمار نشانیاں دیکھتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے ۔
وہ ہر سیدھی راہ دیکھ کر منہ پھیر لیتے ہیں اور ہر ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں :
159: ان کی حالت بتائی جا رہی ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ فرمایا ، ان کا تعارف یہ ہے کہ اگر ان کو ہدایت کی راہ دکھائی جائے تو وہ اس سے بھاگتے ہیں ۔ نیکی اور ہدایت کا راستہ جو نور الٰہ سے جگمگا رہا ہے اس پر چلنے کے لئے انہیں کہا جائے تو ان کا دل ڈوب جاتا ہے اور تاریکیوں سے گھری ہوئی ضلالت کی راہ چلنے کیلئے بڑے ہی بےتاب نظر آتے ہیں ۔ کبھی دیہاتوں میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ آج بھی ایسے لوگوں کی کثرت وہاں موجود ہے اور اس وقت کے لحاظ سے یہ بنی اسرائیل کے ان لوگوں کا کردار اجاگر کیا جا رہا ہے جو صحرا نورد تھے اور خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت کے جن دیہاتیوں کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے وہ بھی بالکل ایسا ہی ہے جو اس جگہ بیان کیا جا رہا ہے اور آج بھی اکثریت انہی لوگوں کی ہے۔
حقیقت میں آیات الٰہی کو جھٹلانے کی یہ سزا ہے جو وہ پاتے ہیں :
160: فرمایا ان کی یہ حالت نتیجہ ہوتی ہے اس بات کا کہ وہ خدا کی نشانیوں سے بےپرواہ زندگی گزارتے ہیں اور واضح سے واضح بات بھی ان کے سامنے آئے تو وہ اس کو جھٹلا دیتے ہیں بزبان قال جھٹلائیں یا بزبان حال۔ اس طرح حقیقت کو پھر ایک بار واضح فرما دیا کہ آیات الٰہی کی جان بوجھ کر تکذیب اور ان کی طرف سے دانستہ غفلت اور بےپرواہی انسان کی ابدی شقاوت کا باعث بن جاتی ہے ۔ اس طرح گویا عام لوگوں کی حالت کے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو بھی تنبیہ کی جارہی ہے جن کا ذکر جاری ہے کہ کان کھول کر ہمارا اٹل قانون سن لو تم سے پہلے جو قومیں برباد کردی گئیں اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ انہوں نے غرور و نخوت کے نشہ مین مخمور ہو کر ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ ہماری آیات کی طرف بےالتفاتی کی تو ہم نے ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت ان سے اپنے قانون کے مطابق چھین لی اور اگر تم نے بھی انہی کی سی روش اختیار کی اور تورات کے مندرجہ بالا احکام بسر و چشم قبول نہ کئے تو تمہارا انجام بھی وہی ہوگا ۔ بنی اسرائیل کے علاوہ امت مسلمہ کو بھی اپنے اس قانون سے جس میں کوئی استثناء نہیں آگاہ کردیا تاکہ وہ بھی گوش ہوش سے ہمارے آخری رسول ﷺ کی باتیں سنیں اور چشم دل سے اس کے اسوہ حسنہ کا مشاہدہ کریں تاکہ وہ اس نعمت عظمیٰ سے کما حقہ ، فائدہ اٹھا سکیں ایسا نہ ہو کہ اپنے علم و دانش پر اترا کر میرے آخر نبی محمد ﷺ کی سنت کو نظر انداز کردیں ۔ اگر انہوں نے بھی ایسا کیا تو ان کو بھی وہی سزا دی جائے گی جو ان سے پہلے نافرمان قوموں کو دی گئی تھی۔ اس طرح غفلت سے نکالنے کے لئے قانون الٰہی نے سارے انسانوں کو ایک اصولی بات سمجھا دی کوئی سمجھے گا تو اس کا اپنا فائدہ ہے اور نہیں سمجھے گا تو یقیناً نقصان بھی اسی کا ہوگا ۔
Ayah 7:147وہ کون ہیں جن کا کیا کرایا سب اکارت گیا ؟ اور اپنے کرتوتوں کی سزا پائی :
161: پیچھے اس گمراہی کا ذکر کیا گیا تھا کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ ہدایت کی سیدھی راہ دیکھیں تو منہ پھیر جائیں اور کبھی اس پر نہ چلیں اور اگر گمراہی کی ٹیڑھی راہ دیکھیں تو فوراََ اس کو اختیار کرلیں اور ہم دیکھ رہے ، پڑھ رہے ہیں کہ روز اول سے لے آج تک ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملتا جو اس بات کو تسلیم کرے کہ میں سیدھی راہ چلنے کیلئے تیار نہیں بلکہ میرا کام الٹی اور ٹیڑھی راہ چلنا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ سیدھی راہ سے منہ پھیرنے والا اس راہ کو سیدھی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کو ٹیڑھی سمجھتا ہے اس لئے اس پر چلنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور سیدھی راہ چلنے والوں کو کہتا ہے کہ تم الٹی راہ پر چل رہے ہو ۔ سارے نبیوں (علیہ السلام) کے واقعات پڑھ جائو کسی ایک نبی (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہ نہیں کہا کہ جو نبی کہتا ہے وہ حق ہے اور بلا شبہ اس کی راہ سیدھی ہے لیکن ہم اس سیدھی راہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر نبی کو جھٹلایا گیا اور یہ کہا گیا کہ تو نہ تو اللہ کا رسول ہے اور نہ ہی تیری راہ سیدھی راہ ہے ۔ زیر نظر آیت میں دراصل یہ بتیا جا رہا ہے کہ جو سیدھی راہ ہے وہ ہر حال میں سیدھی ہے کوئی اس کو ٹیڑھی کہے یا سیدھی اور اس طرح ہر ٹیڑھی راہ ٹیڑھی ہے خواہ کوئی اس کو کوئی ہزار ہا بار سیدھی سمجھتا رہے لہٰذا اختلاف کا حل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی راہ ہمیشہ سیدھی راہ ہوتی ہے اور اس کے مخالف راہ یقیناً ٹیڑھی راہ ہوگی اس لئے یہ بات طے اور واضح ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور آخرت کے پیش آنے سے منکر ہوئے تو ان کے سارے کام اکارت گئے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں کئے گئے کام کبھی صحیح نہیں ہو سکتے تھے اور غلط اعمال کا نتیجہ کبھی صیحے نہیں ہو سکتا تھا لہٰذا ان کے غلط اعمال کا نتیجہ یقیناً غلط ہی نکلے گا جو ان کے حق میں مفید ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ اس لئے انہوں نے جو کچھ بدلہ پایا وہ اس کے سوا کیا تھا کہ وہ انہی کے کرتوتوں کا پھل تھا جو سزا کی صورت میں ان کو مل گیا ۔ بالفاظ دیگر اعمال کے نافع اور نتیجہ خیز ہونے کا سارا انحصار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے ۔ اطاعت سے منحرف ہوجانے کے بعد کوئی عمل خیر نہیں رہتا کہ آدمی اس پر کوئی اجر پانے کا مستحق ہو سکے۔
Ayah 7:148قوم بنی اسرائیل کی اکثریت بچھٹرے کی پوجا پر لگ گئی جس کا ڈھانچہ سامری نے بنایا تھا :
162: بنی اسرائیل مصر کی بت پرستی سے اس درجہ مالوف ہوچکے تھے کہ رہ رہ کر انہیں اس کا شوق ہوتا۔ جو نہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے ان سے الگ ہوئے انہوں نے گائے کے بچھڑے کی ایک مورتی بنا کر اس کی پوجا شروع کردی تورات میں ہے کہ یہ مورتی حضرت ہارون نے بنائی تھی ( خروج 32: 1 , 3) لیکن قرآن کریم نے اس کی تصریح کردی کہ یہ کارستانی بنی اسرائیل کے ایک سردار سامری نامی کی تھی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا دامن اس سے پاک ہے ( طہٰ 20 : 9) ہارون (علیہ السلام) تورات کے پیغمبر تھے اور پیغمبر ایسا فعل کیسا کرسکتا ہے ؟ عجائب پرستوں کا قاعدہ ہے کہ جہاں کوئی ذرا سی بات عجیب نظر آئی فوراََ معتقد ہوگئے اور سمجھ بوجھ کو خیر باد کہ دیا ۔ سامری مصر کے مندروں کے بھیدوں سے واقف تھا وہاں اسی ترکیب سے مورتیاں بنائی جاتی تھیں کہ جو نہی ہوا ان کے اندر جاتی طرح طرح کی آوازیں نکلنے لگتیں ۔ آج کل یہ صنعت باجوں اور کھلونوں میں استعمال کی جاتی ہے اس زمانے میں یہ معبودوں کا معجزہ تھا۔ چناچہ اس نے بچھڑے کی مورتی میں بھی یہی کاری گری رکھی اور بنی اسرائیل اتنی سی بات دیکھ کر معتقد ہوگئے ۔ تعجب ہے کہ ایک طرف تو اتنی سی بات دیکھ کر معتقد ہوگئے اور دوسری طرف موسیٰ (علیہ السلام) بڑی بڑی نشانیاں یکے بعد دیگرے لائے اور لاٹھی کے کیا کیا کمال ان کو دکھائے جن کو علمائے اسلام نے بھی بیان کیا اور تورات میں بھی اس لاٹھی سے بہت کام لے کر دکھایا گیا لیکن قوم پر اس کا ذرا اثر نہ ہوا اگر آپ اس پر غور کریں گے تو انشاء اللہ بہت راہنمائی آپ کی ہوگی اور ان سارے استعارات و محاوارت پر سے پردہ اٹھ جائے گا جو یہود و نصاریٰ کی ترجمانی کرتے ہوئے علمائے اسلام نے ڈال کر رکھا ہے اور ساری بات واضح ہوجائے گی ۔ ان عقل کے اندھوں نے اتنی موٹی سی بات بھی نہ سمجھی کہ ایک ہی طرح کی آواز کیوں نکلتی ہے ؟ اور وہ ہماری بات کا جواب کیوں نہیں دیتا ؟ ہندوستان کی طرح بابل اور مصر میں بھی بیل اور گائے کی عظمت کا تصور پیدا ہوگیا تھا اگر کا لڈیا کے تمدن کی قدامت تسلیم کرلی جائے تو وہیں سے یہ خیال دوسرے ملکوں میں پھیلا ہوگا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرک قوموں کی مت اس طرح ماری جاتی ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک عقل سے کام لینا اور خصوصاََ دین و مذہب کے معاملہ میں دین سے منحرف ہونے کے مترادف ہے اور آج بھی جو لوگ دین کو عقل سے سمجھنے کے بیری ہیں دراصل انہی لوگوں کا بقیہ ہیں اور تعداد بھی انہی کی زیادہ ہے اس لئے علماء کی اکثریت بھی انہی کی ترجمانی کرتی ہے ۔
بچھڑے کی پرستش کیوں ؟ اور کیسے ؟ اور اس کی دوسری تفصیلات اس سے پہلے جلد اول سورة البقرہ کی آیت 51 , 52 میں ہوچکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 7:149بنی اسرائیل کو ندامت ہوئی تو ہم نے ان کو معاف کردیا :
163: وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ ، یقال للنادم المتحیر : قد سقط فی یدہ اور جب وہ سخت پشیمان ہوئے ۔ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ راہ راست سے بھٹک گئے اور افسوس سے ہاتھ ملنے لگے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب تورات لے کر واپس آئے چونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اسی جگہ یعنی پہاڑ پر ہی بتا دیا تھا کہ آپ کی قوم راہ راست سے ہٹ چکی ہے واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کی آنکھیں کھولیں تو انہیں احساس ہوا کہ ان سے یہ بہت بڑی سخت حماقت ہوئی ہے تو پچھتائے اور افسوس کرنے لگے اور اعتراف کیا کہ اگر ہم پر ہمارا رب مہر بانی نہ کرتا تو ہم ہلاک ہوگئے ہوتے ۔ اس کی تفصیل بھی جلد اول سورة بقرہ کی آیت 52 میں کردی گئی ہے وہاں ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 7:150موسیٰ (علیہ السلام) کا ہارون (علیہ السلام) پر خشمناک ہونے کا بیان :
164: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہاڑ ہی پر اس حادثہ کی اطلاع مل چکی تھی بلکہ اس اطلاع کا دینے والا بھی خود اللہ تعالیٰ ہی تھا بہر حال جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے پلٹے تو نہایت غصہ اور افسوس کی حالت میں تھے۔ بلا شبہ ان کا غصہ مفسدین کی کامیاب شرارت پر تھا اور غم اور افسوس اپنی قوم کی نادانی اور جہالت پر لیکن یہ فطری بات ہے کہ غم و غصہ کا سب سے پہلے اظہار اس شخصیت پر ہونا لازمی تھا جس کے ذمہ قوم کا انتظام و انصرام تھا یعنی ہارون (علیہ السلام) پر کیونکہ وہی آپ کے جانشین اور خلیفہ تھے ان کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم نے میرے بعد میری بہت بری جانشینی کی کہ قوم کو اس برے راستے پر جانے دیا جس پر وہ چل نکلے تم اپنے پروردگا کے حکم کے انتظار میں ذرا بھی صبر نہ کرسکے تم نے نہایت جلد بازی سے اللہ کی عبادت کا ایک طریقہ ایجاد کرلیا حالانکہ یہ چیز تمہارے ایجاد کی نہ تھی بلکہ خود اللہ تعالیٰ کے بتانے کی تھی اور اسی غرض سے میں پہاڑ پر معتکف رہا تاکہ اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے تمہیں وہ طریقہ عبادت بتائوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا اور سمجھایا ہے۔ یاد رہے کہ بت پرستی ہو یا قبر پرستی یا کسی اور چیز کی پرستش دراصل یہ عقیدہ حلول کے تحت وجود میں آیا ہے ۔ مشرکین سمجھتے ہیں کہ خدا ان صورتوں اور مجسموں میں حلول کرجاتا ہے یا یہ کہ جن کے یہ بت بنائے گئے ہیں جن کی یہ قبریں تیار کی گئی ہیں ان میں اللہ موجود ہے اس لئے ان کی عبادت دراصل اللہ ہی کی عبادت ہے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے ٹھکانے ہیں جہاں اللہ موجو رہتا ہے اور ان کی اللہ سنتا ہے اور یہ ہماری درخواست اللہ کے سامنے پیش کرکے منظور کرا لیتے ہیں اس وقت بھی اور آج بھی مشرکوں کا یہی نظریہ ہے اور جن لوگوں کا یہ نظریہ ہے وہ پکے مشرک ہیں ۔ ہر دور میں شخصیتیں خواہ بدلتی رہیں ؟ ؟ ؟ پرستش ہمیشہ ان شخصیتوں کی ہی ہوتی ہے جن کے انہوں نے بت بنائے تھے اور یہی حال قبروں اور تھانوں کا ہے کہ کبھی کسی قبر کی پرستش نہیں ہوتی بلکہ صاحب قبر کی پرستش ہوتی ہے اور یہی بات شرک کہلاتی ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ تختیاں جن میں تورات کنندہ تھی یا تحریر تھی ایک طرف رکھ دیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس میں ہارون (علیہ السلام) کی غفلت اور فرض ناشناسی کا بھی دخل ہے۔ غصہ کی حالت میں سر کے بالوں سے ان کو پکڑ لیا اور اپنی طرف کھینچا یہ گویا اس فطری جذبہ کے اظہار کا بیان ہے جو شدید غضب میں انسان سے بےساختہ ہوتا ہے اور پھر جتنا غصہ زیادہ ہوتا ہے ایسی حرکت بھی اتنی ہی شدت سے ہوتی ہے اور یہی کچھ یہاں ہوا۔ ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کو اس حالت مین دیکھ کر اس طرح غصہ میں آگ بگولہ پا کر اور اپنے ساتھ ایک طرح کی زیادتی ہونے کے باوجود غصہ میں نہیں آئے اور یہی کردار اس جگہ تفہیم کرایا گیا ہے اگر کوئی سمجھنے والا ہو ۔ بڑی دھیمی آواز میں بولے کہ اے میری ماں جائے بھائی ! لوگوں نے مجھے بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے پس میرے ساتھ ایسا نہ کر کہ دشمن دیکھ کر ہنسیں۔ سبحان اللہ کیا ہی بات ہے جو ہارون (علیہ السلام) نے فرمائی۔ بڑے بھائی نے دیکھا کہ ہے تو چھوٹا لیکن حالت ایسی ہے کہ غصہ نے اوسان گویا خطا کر دئیے ہیں اس لئے اسنے جذبہ شفقت و محبت کو برانگیختہ کرنے کے لئے میری ماں جائے کے الفاظ زبان سے نکالے حالانکہ ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) دونوں سگے بھائی تھے یعنی وہ دونوں کا باپ ایک ہی تھا لیکن ماں کی طرف سے جذبہ محبت قدرت نے انسان کے اندر کچھ زیادہ ہی بھر دیا ہے اور اس جذبہ کو ابھارنا مقصود تھا تاکہ غصہ فرو ہو۔ فرمایا میری ماں جائے دراصل بات اس طرح ہے کہ میں نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی میں تن تنہا تھا اور تیری قوم کی اکثریت ایک طرف ہوگئی ۔ انہوں نے مجھے بےبس اور کمزور سمجھتے ہوئے میرے سمجھانے کی ذرا پروا نہ کی الٹا مجھے مار ڈالنے کے در پے ہوگئے ۔ آپ اگر میرے ساتھ اس طرح سختی کریں گے تو دشمن بھی بغلیں بجائیں گے اور کہیں گے کہ دیکھو دونوں بھائی جب کہ نبی و رسول ہیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔
شماتت کسی کی تکلیف سے مسرور اور خوش ہونے کو کہا جاتا ہے اور یہ چیز سخت معیوب ہے ۔ نبی اعظم ﷺ کا ارشاد ہے کہ : لا تظھر الشماتۃ باخیک فیعافیہ اللہ و یبتلیک اپنے بھائی یعنی انسان کی مصیبت پر مت خوش ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے دے اور تجھ کو اس میں مبتلا کر دے اور آپ ﷺ ہمیشہ یہ دعا فرماتے :
اللھم انی اعوذبک من سوء القضاء و درک الشقاء و شماتۃ الاعداء ( صحیح بخاری )
اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بری تقدیر سے ، بد بختی سے اور ایسی بات سے جس سے دشمن خوش ہوں ۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ یہ بھی ہے ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے قوم کے لوگوں کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی ہاں مجھے اس کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔ ( طہٰ 20: 4 ) یعنی ہارون (علیہ السلام) اس اندیشہ سے بی خوش ہوگئے کہ کہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے سے پہلے ہی یہاں خانہ جنگی نہ ہوجائے اور وہ بعد میں آکر شکایت کریں کہ تم اگر اس صورت حال سے عہدہ بر آنہ ہو سکے تو تم نے حالات کو اس حد تک کیوں بگڑنے دیا اور میرے آنے کا انتظار کیوں نہ کیا اور زیر نظر آیت میں ہارون (علیہ السلام) کا یہ فرمانا مجھے ظالموں کے ساتھ شمار نہ کر صاف بتا رہا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) کا دامن اس گمراہی سے بالکل پاک ہے اور تورات کا یہ بیان کہ سارا کھیل ہارون (علیہ السلام) نے ہی کھیلا تھا بالکل لغو اور جھوٹ ہے کیونکہ یہ یہودیوں کے شارحین نے اس میں داخل کیا ہے ۔ حاشاء للہ کہ یہ بیان اللہ تعالیٰ کا ہو۔ ان ظالموں نے اس طرح کی تحریف تورات میں کرکے اس کو اس قابل نہیں رہنے دیا کہ اس پر کسی قسم کا اعتماد کیا جاسکے ۔ ہاں ! تورات کا وہ حصہ جو قرآن کریم میں محفوظ ہوچکا ہے بلاشبہ منزل من اللہ ہے اور اس پر ایمان لانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ خود قرآن کریم پر بلکہ اسوقت وہ ہمارے ہاتھوں میں قرآن کریم کی حیثیت سے ہے ۔
اَلْقَى الْاَلْوَاحَ اور تختیوں کو موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طرف رکھ دیا یا ڈال دیا ۔ سے یہ سمجھنا کہ وہ ٹوٹ گئی تھیں بلاشبہ تورات میں ہے اور یوں ہوا کہ جب وہ لشکر گاہ کے پاس آیا اور بچھڑا اور ناچ راگ دیکھا تب
موسیٰ (علیہ السلام) کا غضب بھڑکا اور اس نے تختے اپنے ہاتھوں سے پھینک دئیے اور پہاڑ کے نیچے توڑ ڈالے۔ ( خروج 32: 19)
اور اس کے پیش نظر بعض علمائے اسلام نے بھی بےسروپا روایات اپنی تفاسیر میں درج کردیں جن کا کوئی سر پیر اسلام میں موجود نہیں ۔ امام ابن جریر طبری (رح) کا شمار اکابر و مشاہیراسلام میں تسلیم ہے لیکن غلطی کا ہوجانا انسانی فطرت سے ہے انہوں نے قتادہ (رح) کے حوالے سے اپنی تفسیر میں ایسی روایات درج کی ہیں جو قابل اعتماد نہیں اور دوسرے محققین اسلام نے ان کا بےاصل ہونا بھی بیان کردیا ہے ۔ جیسے علامہ ابن کثیر (رح) وغیرہ اور ہم نے اس خواہ مخواہ کی بحث کو بیان نہیں کیا صرف اشارہ پر اکتفا کیا ہے۔
Ayah 7:151موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو اپنے اور اپنے بھائی کے اللہ سے معافی کی درخواست کی :
165: ہارون (علیہ السلام) کے اس بیان سے جو آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دیا سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کا سارا غصہ جو ہارون (علیہ السلام) پر تھا فرو ہوگیا آپ نے ہارون (علیہ السلام) کا عذر قبول کرلیا کہ ہارون (علیہ السلام) نے اس فتنہ کو ہر ممکن روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رک نہ سکا اور یہ کہ کر ہارون (علیہ السلام) اس میں بےبس تھے موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنے غصہ کی حالت سے باہر آئے ذرا طبیعت سنبھلی تو اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ اے پروردگار ! میرا قصور معاف فرما دے اور میرے بھائی کو بھی ـ یعنی غصہ کی حالت میں جو میں نے اپنے بھائی پر سختی کی ہے وہ بھی معاف فرما دے اور میرے بھائی سے اگر کوئی ادائے فرض میں تقصیر ہوگئی تو وہ بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت کے سایے میں داخل کر تجھ سے بڑھ کر کون ہے جو رحم کرنے والا ہو ۔ معلوم ہوا کہ غصہ کا آجانا فطرت انسانی میں داخل ہے اور جو غصہ دیر سے آئے اور جلد رفع ہوجائے وہ ہرگز قابل مذمت نہیں ہاں ! جو غصہ بہت جلد آئے اور پھرجانے کا نام ہی نہ لے وہ یقیناً مذموم ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ یقیناً آیا لیکن فورا رفع ہوگیا اس لئے قابل مذمت نہ رہا تاہم آپ نے اللہ سے فورا مغفرت طلب کرلی اور اس میں ہمارے لئے بہت بڑی نصیحت ہے اگر ہم کوئی نصیحت سن لینے والے اور اس پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔
Ayah 7:152وہ لوگ جنہوں نے بچھڑا بنا یا اور اس اسکیم میں حصہ لیا وہ غضب الٰہی کے مستحق ٹھہرے :
166: وہ لوگ جنہوں نے گو سالہ سازی کی اور اس اسکیم میں حصہ لیا ان پر آخرت سے پہلے بھی اللہ کا غضب بھڑکا اور ان پر ذلت کی مار پڑی اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة طہٰ میں آئے گی اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوں گے ، اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر افترا کیا اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ وہ ایسے مفتریوں اور مفسدوں کو اسی طرح کی سزا دیتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوتے ہیں اور ان کی آخرت بھی برباد ہوتی ہے ۔ تفصیل اس کی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 54 کے تحت درج ہے ۔ وہاں سے ملاحظ کریں ۔
Ayah 7:153توبہ کر کے برائی سے باز آنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا :
167: جن لوگوں نے برائیوں کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے معلوم ہوا کہ گناہ کی اقسام بہت ہیں اور ان گناہوں میں بعض ایسے بھی ہیں جن کے سر زد ہونے سے ایمان ضائع ہوجاتا ہے ان میں سر فہرست شرک ہے چونکہ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جنہوں نے گو سالہ سازی کی یا جن لوگوں نے اس کی پرستش کی وہ شرک کے مرتکب ہوئے ۔ لہٰذا ان کا ایمان جاتا رہا اور ان کی توبہ تب ہی قبول ہوئی جب وہ دوبارہ ایمان لے آئے اور اس شرک سے باز آگئے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تو بہ قبول فرما لی اور ان کو معاف کردیا۔
Ayah 7:154موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا تو الواح پر کندہ ہدایات سے قوم کو آگاہ کیا :
168: فی نسختھا نسخہ اس تحریر کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کتاب وغرہ سے نقل کی جائے ۔ الٰہی کتابوں کا لوح محفوظ میں تحریر ہونا سب جانتے اور مانتے ہیں اور وہاں سے رسولوں کو عطا کی گئی تھیں اس لئے جو کچھ ان میں تحریر ہوا اس کو نسخہ کہنا شاید اسی وجہ سے ہو مطلب یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا اور قوم کے لوگوں نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دے دی تو اب مو سی ٰ (علیہ السلام) نے وہ ہدایت جو ان الواح میں تحریر یا کندہ تھیں ان کو قوم کے سامنے رکھا اور ان ہدایات کے مطابق ان کو زندگی گزارنے کی تلقین کی اور اس سے تورات کی اس غلط روایت کی تردید بھی فرما دی جس میں ان الواح کا ٹوٹ جانا یا موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کو توڑ دینا درج ہے ۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ جس بات کی تردید کرتا ہے اس کا انداز ایسا اختیار کرتا ہے کہ کسی کو محسوس بھی نہ ہو اور جو کہنا چاہئے اس کو صاف صاف کہہ بھی دے اور یہی اس کا معجزانہ کلام ہے جو اس کے سوا کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتا اور یہ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ یہ اس خالق کائنات کا کلام ہے جس نے ہرچیز کو تخلیق کیا بلا شبہ اگر خیر اس کی تخلیق ہے تو شر بھی اس کی تخلیق ہے ۔ اس لئے شر کو بیان کرتے وقت بھی کبھی برافروختہ نہیں ہوتا اور اس کو اس طرح بیان کردیتا ہے کہ سمجھنے والا خود سمجھے کہ وہ شر ہے اس کے قریب نہیں جانا ہے ۔ 1 ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا شرک عجل میں ملوث ہونا کیونکہ بائبل میں تحریر ہے کہ ہارون (علیہ السلام) ہی بچھڑا بنانے والے تھے ۔ 2 ۔ تختیوں کا توڑ دینا جیسا کہ بائبل میں موجود ہے ۔ 3 ۔ بچھڑے کو جلا کر اس خاکستر کو پانی میں ملا کر بنی اسرائیل کو پلانا۔ ان تینوں چیزوں کی تردید قرآن کریم نے کردی اور تردید کا انداز ایسا اختیار کیا کہ کوئی بحث نہیں چھیڑی بلکہ ان باتوں کو بالکل سا قط کردیا ۔ ہاں ! اس بچھڑے کو جلا کر راکھ کردینے کا ذکر فرمایا اس لئے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ سونے سے بنایا گیا تھا ان کی تردید ہوجائے اور وہ خود سمجھ لیں گے کہ اگر وہ سونے سے بنایا گیا ہوتا تو اس کو خاکستر نہیں بنایا جاسکتا تھا ۔ لیکن تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین نے بھی اس بات کو پہچاننے کی کوشش نہ کی اور اس کا سونے سے تیار ہونا بھی بیان کیا اور اس کا خاکستر ہونا بھی تحریر کیا اور جو بات سمجھائی گئی تھی اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کی ۔ شاید اس لئے کہ سمجھنے کے لئے عقل درکار تھی اور عقل سے وہ الرجک تھے ۔