7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

(لیکن پھر ایسا ہوا کہ) شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے ستر جو ان سے چھپے تھے ان پر کھول دے ، اس نے کہا تمہارے پروردگار نے اس درخت سے جو تمہیں روکا ہے تو صرف اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم فرشتے بن جاؤ یا دائمی زندگی تمہیں حاصل ہو جائے

شیطان کی وسوسہ اندازی کا بیان جو اس نے ہمارے ابوین کے دل میں انگیخت کی : 20: شیطان کے اس وسوسہ ڈالنے کا بیان تفاسیر میں مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) جنت کے دروازے پر آئے اور شیطان نے چپکے سے ان کو یہ بات کہہ دی اور بعض نے کہا کہ وہ سانپ کے منہ میں داخل ہو کر جنت میں گیا اور آدم (علیہ السلام) کو بہکایا اور اسی طرح کے اور بھی بہت سے بیان دئیے گئے ہیں اور یہ بھی نقل ہے کہ شیطان کو یہ قوت دی گئی تھی کہ وہ زمین پر رہنے ہوئے آدم وحوا (علیہما السلام) کے قلوب میں وسوسہ ڈال سکے اور پھر اس سے کتنے مسائل استنباط کئے گئے ہیں اور اسی طرح بات نکالتے ہوئے جنوں کا انسانی اجسام میں داخل ہونا اور ان کا انسانوں کو آسیب زدہ کرنا جیسی باتیں نکالی گئیں ہیں لیکن قرآن کریم کی تفہیم کے مطابق ان دور ازکار افسانوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی اس لئے کہ وہ وسوسہ ڈالنے والی قوت جس کو شیطان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ہر انسان کے اپنے جسم کے اندر موجود ہے اور اس بات کو نبی اعظم وآخر ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں اس طرح چلتا ہے جس طرح خون انسان کے جسم میں حرکت کرتا ہے یعنی وہی نافرمان قوت جس کو شیطان کے نام سے موسوم کیا گیا جو فطرت انسانی میں داخل ہے جیسے فرمانبرداری کی قوت کو فرشتہ سے تعبیر کیا گیا۔ ” سَوْاٰتِهِمَا “ سوءۃ کے معنی شرمگاہ کے کئے گئے ہیں اور اسی طرح اعمال قبیحہ اور اخلاق قبیحہ کے بھی۔ چناچہ قاموس میں ہے کہ ” السوءۃ الفرج والفاحشۃ والنخلۃ القبیحۃ “ اور اسی طرح فاحشہ کی نسبت بھی تحریر ہے کہ ” الفاحشۃ الزنا وما یشتد قبحۃ من الذنوب “ اس مقام پر سوءۃ کے معنی شرمگاہ کے لئے گئے ہیں شاید اس سبب سے کہ اس سے اگلی آیت میں پتوں سے اس کے چھپانے کا ذکر آیا ہے مگر ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ قصہ آدم (علیہ السلام) ایک استعارہ میں بیان ہوا ہے جو فی الواقعہ فطرت انسانی کا بیان ہے اور اس طرح پر کہ ہر ایک شخص کی سمجھ میں آجائے خواہ عالم ہو یا جاہل اس سبب سے یہاں بھی لفظ سوءۃ کا استعمال ہوا ہے کیونکہ شرمگاہ کے کھلنے کو ہر ایک شخص معیوب اور برا سمجھتا ہے اور شیطان کی یعنی قوائے بہمیہ کی پیروی سے جو افعال صادر ہوتے ہیں اس کی برائی کو ایک محسوس شے سے استعارتاً بیان کیا ہے اور اس طرح کا پیرایہ بیان عام انسانی بول چال میں بھی پایا جاتا ہے اور اس جگہ بتلایا ہے کہ انسان کس طرح اپنی برائیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ چھپ گئیں مگر درحقیقت وہ چھپتی نہیں پس ان قصوں اور کہانیوں کی طرف ملتفت نہ ہونا چاہئے جن کو مفسرین نے ان کے لغوی معنوں میں بیان کیا ہے۔ وسوسہ یہ ڈالا کہ تم کو پروردگار نے جس درخت سے منع کیا اسی میں تمہاری زندگی کا راز ہے : 21: اس نے جو وسوسہ اندازی کی وہ کیا تھی ؟ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا کہ اس نے اس طرح وسوسہ ڈالا کہ ” تمہارے پروردگار نے اس درخت سے جو تمہیں روکا ہے تو صرف اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم فرشتے بن جائو یا دائمی زندگی تمہیں مل جائے۔ “ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا فرشتہ بننا انسان بننے سے زیادہ افضل تھا ؟ اور اسی طرح یہ کہ کیا موت دینے کا آدم (علیہ السلام) کو بتایا گیا تھا ؟ یہ اور اسی طرح کے دوسرے سوال بےفائدہ اور بےضرورت ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ بیان ہے انسانی فطرت کا کہ انسان کی فطرت میں ” کیا “ اور ” کیوں “ رکھ دئیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ جس چیز سے اس کو روکا جائے اس کی ٹوہ میں لگ جاتا ہے اس لئے کہ مجھے کیوں روکا گیا اور پھر جب اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تو اس کو کر کے دیکھتا ہے تاکہ اس کو معلوم ہو کہ اسے اس سے کیوں منع کیا گیا۔ پھر یہ بھی انسان کی فطرت ہے کہ اسے کوئی بتانے والا ضرور ہونا چاہئے جو اسے بتائے کہ اس کو کرو اور اس کو نہ کرو اور اسی طرح وہ ٹھوکریں کھاتا ، گرتا اور سنبھلتا آگے بڑھتا چلا جائے گا اور اس کائنات کے اندر جو کچھ رکھا ہے اس کی ٹوہ لگاتے ہوئے کہاں کا کہاں پہنچ جائے گا اور یہ سارا راز ان قوائے بہمیہ اور قوائے ملکوتیہ کا اس کے اندر ودیعت کردینا ہے اگر یہ دونوں متضاد قوتیں اس کے اندر ودیعت نہ کی جائیں تو زمانہ میں یہ ترقی ممکن نہ تھی گویا قدرت کے رازوں کے افشاء کرنے اور بند پڑے ہوئے دفینوں کو کھولنے والا صرف اور صرف ایک انسان ہی تھا اس کے علاوہ کوئی مخلوق اس کی اہل نہ تھی۔ چونکہ اس کی فطرت میں پوچھنا اور بتانا اور ہرچیز کا کھوج لگانا موجود تھا اس لئے اس کی فطرت کو بیان کرنے کا یہ پیرایہ اختیار کیا گیا کہ جب آدم وحوا (علیہما السلام) کو بتایا گیا کہ تم کو اس درخت سے کیوں منع کیا گیا تو انہوں نے باوجود روکے جانے کے اس کو کھالیا تاکہ معلوم ہو کہ کہنے والے نے سچ کہا یا جھوٹ کہا ؟ ؟ ؟ ؟ اور یہ بھی کہ فطری تقاضوں کو پورا کرتے کرتے کبھی پھنس کر رہ جاتا ہے اور اس طرح اس کی راہنمائی کی گئی کہ جب وہ کہیں کسی مقام پر پھنس جائے تو کیا کرے ؟ یہی کہ اس مالک حقیقی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لے اور پھر اپنی منزل پر رواں دواں ہو۔ لیکن اگر وہ کسی مقام پر پھنس کر رہ گیا اور ہار ماننے کی بجائے اکڑنے لگا تو گویا وہ ذلیل و خوار ہوگیا اور ایسے گڑھے میں جا گرا جہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہوگیا۔
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اس نے قسمیں کھا کھا کر یقین دلایا کہ میں تم دونوں کو خیر خواہی سے نیک بات سمجھانے والا ہوں

فریبی کا کیا کام ہے ؟ یہی کہ وہ فریب دینے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتا ہے : 22: کیا آدم (علیہ السلام) نے وسوسہ ڈالنے والے کی وسوسہ اندازی کا یقین نہیں کیا تھا ؟ یہ بات پہلے عرض کی گئی ہے کہ کوئی وسوسہ یکبارگی عمل تک نہیں لے جاتا بلکہ وسوسہ ڈالنے والا خود اس وسوسہ میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کو میری بات پر یقین آیا یا ابھی نہیں آیا اس لئے جب تک وسوسہ اندازی کرنے والا یہ دیکھ نہ لے کہ جس کو وسوسہ ڈالا گیا اس نے اس کی وسوسہ اندازی کے مطابق عمل کرلیا اس کا اپنا شک رفع نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندر کی وسوسہ اندازی بھی ایک مدت تک جاری رہتی ہے تب جا کر انسان عمل پر آمادہ ہوتا ہے۔ اس فطرت کو اس آیت میں بیان کیا گیا کہ ” اس نے قسمیں کھا کھا یقین دلایا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں اور نیک بات سمجھانے والا ہوں۔ “ کس قدر فطرت انسانی کا سچا بیان ہے کہ ہر انسان یہ جاننے کے باوجود کہ بات بات پر قسمیں کھانے والا جھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی بات پھر مان جاتا ہے جو قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نے سچ کہا اگرچہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہو۔ آج بھی جھوٹ کا دور دورہ ہے اور ہر جھوٹا قسمیں کھا کھا کر کہتا ہے کہ سچ کہہ رہا ہوں اور لوگ ہیں کہ مانے چلے جا رہے ہیں۔ پوچھو کہ تم نے اس کی بات کو کیسے مان لیا ؟ تو جواب یہی ہوگا کہ اس نے قسم کھا کر کہا تھا اس لئے میں مان گیا گویا انسانی فطرت جو اس وقت تھی آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

غرضیکہ شیطان انہیں فریب میں لے آیا پھر جونہی ایسا ہوا کہ انہوں نے درخت کا پھل چکھا ان کے ستر ان پر کھل گئے اور باغ کے پتے اوپر تلے رکھ کر اپنے جسم پر چپکانے لگے اس وقت ان کے پروردگار نے پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہیں روک دیا تھا اور کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟

انجام کار آدم وحوا (علیہما السلام) جس چیز سے منع کئے گئے تھے اس کو کر بیٹھے : 23: ” فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ 1ۚ“ ان دونوں کو شیطان نے دھوکا میں مبتلا کرلیا یا وہ دونوں شیطان کے دھوکے میں آگئے۔ گویا شیطان نے ان دونوں کو اس مرتبہ رفعیہ سے نیچے گرا دیا ایسا کیونکر ہوا ؟ یعنی وہ چیز جس سے آدم (علیہ السلام) کو منع کیا گیا تھا اس کا صدور ہوگیا جس کو قرآن کریم نے ” ذَاقَا الشَّجَرَةَ “ سے تعبیر کیا ہے گویا یہ اس فطرت انسانی کا بیان ہے جب قوت ملکیہ قوت بہیمیہ سے شکست کھا جاتی ہے یعنی انسان کے اندر ودیعت کی گئی نافرمانی کی قوت فرمانبرداری کی قوت کو شکست دے جاتی ہے اس طرح انہوں نے جس درخت کا بھی پھل چکھا وہ وہی تھا جس سے ان کو روکا گیا تھا لیکن جبھی اس کام کو کر بیٹھے جس کے کرنے سے منع کیا گیا تھا تو اس کا نتیجہ کیا نکلا یہ کہ وہ لباس تقویٰ اور خلعت خداوندی جو روز اول پہنائے گئے تھے وہ اتر گئی اور اس سے اندرونی کمزوریاں ظاہر ہونے لگیں لیکن اپنی غلطی کا فوراً احساس ہوگیا اور مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد احساس ہوگیا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ اور مجھ سے یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی ؟ یہ انسانی خوبی ہے جس کو گر کر سنبھلنا کہا جاتا ہے اور یہ فطرت ہے کہ ہر گرنے والا اگرچہ وہ بےاختیار گر جائے شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اس طرح کی حالت کا یہ بیان ہے اور ” ان دونوں پر ان کے ستر کھل گئے۔ “ اس درخت کے پھل کو نہ چکھنے میں جو پوشیدہ راز تھا وہ کھل گیا اور اس طرح ان دونوں کو اپنی کمزوری صاف نظر آنے لگی اور وہ دونوں شرمندہ ہو کر رہ گئے لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ شرمندگی کو چھپانے کے لئے وہ باغ کے پتوں کو اپنے اوپر چپکانے لگے : 24: ” طَفِقَا “ ان دونوں نے شروع کیا ” یَخْصِفٰنِ “ خصف جوتا گانٹھنا ، چیپی لگانا۔ حدیث میں ہے کہ : انہ کان یخصف نعلہ ، نبی کریم ﷺ اپنا جوتا خود گانٹھ لیتے تھے۔ ” وَّرَقِ الْجَنَّةِ 1ؕ“ باغ کے پتے۔ وہ اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کی حالت میں اپنی اس شرمندگی کو چھپانے لگے جو ان پر اس وقت طاری ہوئی جب وہ ممنوعہ درخت کا پھل چکھ چکے تھے۔ یعنی جوں ہی انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں تو فوراً ان کو اپنے ستر کی فکر ہوئی اور وہ خلعت خداوندی میں روز اول ان کو پہنائی گئی تھی اتر گئی تو وہ ہاتھ آنے والی ہرچیز سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگے ان کے ہاتھ درخت کے پتوں پر پڑے تو انہی کو چپکانا شروع کردیا۔ یہ گویا فطرت انسانی کا وہ باب ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اور اس حالت کو کسی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے قرآن کریم کے بیان کا ماحصل یہ ہوا کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے اور اس طرح کسی غلطی کے سرزد ہوجانے کا احساس بھی فطری ہے اور جس کو اس طرح کا احساس نہیں ہوتا گویا اس کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے۔ اس سراسمیگی کی حالت میں مبتلا تھے کہ پروردگار کی طرف سے ان کو ندا آئی : 25: ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا تھا اور کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ “ اس خطاب نے آدم وحوا (علیہما السلام) کو اس حالت سے نکلنے کی گویا تنبیہہ کردی کہ اب ان کو کیا کرنا چاہئے اور یہ بھی کہ اگر ان کو یہ سب کچھ پہلے بتایا نہ گیا ہوتا تو آخر وہ اس طرح کی شرمندگی کیوں محسوس کرتے ؟ یہ انسان کی اسی حالت کا بیان ہے جب اس کے اندر ودیعت کی گئی فرمانبرداری کی قوت ایک بار شکست کھانے کے بعد دوبارہ سنبھلتی ہے کہ وہ تو بہت طاقتور تھی اس کو یہ شکست کیوں ہوئی۔ اس طرح اس القائے ربانی نے ان کے ڈگمگاتے قدموں کو سہارا دیا اور وہ فوراً اپنے قدموں پر کھڑے ہوگئے اور دونوں بیک وقت پکار اٹھے۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا پروردگار ! ہم نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیا اگر تو نے ہمارا قصور نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہمارے لیے بربادی کے سوا کچھ نہیں

توبہ کر کے آدم وحوا (علیہما السلام) نے ہاری ہوئی بازی دوبارہ جیت لی : 26: آدم و حوا (علیہما السلام) کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا اور انہوں نے اس حالت سے نکلنا چاہا تو اپنے گمراہ کرنے والے کو مطعون کرنے کی بجائے بالکل صاف لفظوں میں اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کردی کہ ” پروردگار ہم نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیا اور اگر تو نے ہمارا قصور نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہمارے لئے بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ “ تو بہ کیا ہے ؟ ہار مان لینا اور واپس پلٹ آنا۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے یہ معنی ہیں کہ جو کچھ اس سے ہوگیا وہ اس پر نادم ہو کر باز آگیا اور اللہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار بندہ کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگیا اور اس کی پھر سے نظر عنایت اس کی طرف مائل ہوگئی۔ یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق ہم نے پیچھے عرض کیا تھا کہ کبھی فرمانبرداری کی طاقت باوجود نافرمانی کی طاقت وقوت سے زیادہ ہونے کے بھی شکست کی جاتی ہے۔ آدم وحوا (علیہما السلام) نے سراپا ندامت بن کر توبہ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی التجا کو قبول کرتے کچھ دیر نہ لگائی اور اسی وقت ان کی توبہ قبول فرما لی۔ ام ابی حیان اندلسی (رح) نے اس جگہ خوب لکھا ہے کہ پانچ چیزیں تھیں جو آدم وحوا (علیہما السلام) کی معافی کا باعث ہوئیں۔ (1) ۔ اپنی غلطی کا بالکل صاف لفظوں میں اعتراف۔ (2) ۔ سچے دل سے ندامت کا اظہار۔ (3) ۔ بغیر کسی عذر کے اپنے آپ کو ملامت کرنا۔ (4) ۔ بغیر کسی واسطہ اور وسیلہ کے اپنے رب کی طرف رجوع۔ (5) ۔ اور رحمت الٰہی پر کامل بھروسہ کہ میری بھول سے اس کی رحمت بہت وسیع ہے اور اس طرح پانچ چیزیں شیطان کی تباہی و بربادی کا باعث ہوئیں۔ (1) ۔ مجرم ہونے کے باوجود اپنے جرم کو تسلیم نہ کرنا۔ (2) ۔ نادم وشرمندہ ہونے کی بجائے اکڑنا اور اترانا۔ (3) ۔ توبہ کرنے کی بجائے اپنے موقف پر ڈٹ جانا کہ جو میں نے کیا وہ بالکل صحیح ہے۔ (4) ۔ ارتکاب جرم پر اپنے آپ کو ملامت کرنے کی بجائے اس کے صدور کی نسبت دوسرے کی طرف کرنا۔ (5) ۔ اور رحمت الٰہی سے مطلق مایوس ہوجانا۔ سورة بقرہ میں صرف آدم (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور اس سورة میں آدم وحوا (علیہما السلام) دونوں کا لیکن اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں کیونکہ دونوں ایک جنس سے متعلق ہیں۔ ذکر ایک کا ہو تو دوسرا اس میں خود بخود موجود ہے اور جیسا کہ ہم نے اوپر باربار ذکر کیا ہے کہ دراصل یہ فطرت انسانی کا بیان ہے جس میں پوری انسانیت مخاطب ہے اور اس کی فطرت کو بیان کیا گیا ہے جو حالات اس وقت ہمارے آباء کو پیش آئے بالکل وہی آج بھی ہم اولاد آدم (علیہ السلام) کو آرہے ہیں اور رہتی دنیا تک اسی طرح پیش آتے رہیں گے اور ماحصل سارے کلام کا یہی ہے کہ فطرت کبھی بدلتی نہیں۔ انسان سے غلطی کا سرزد ہونا اتنا جرم نہیں جتنا غلطی کرنے کے بعد اس پر ڈٹ جانا جرم ہے۔ غلطی کا سرزد ہونا اور پھر اس کو تسلیم کرلینا اور مالک حقیقی سے معافی طلب کرنا انسانیت ہے اور غلطی کرنا اور پھر غلطی پر ڈٹ جانا اور آئیں بائیں شائیں کرنا فعل شیطانی ہے۔ قرآن کریم نے اس طرح فطرت انسانی کو بیان کر کے رہتی دنیا تک کے انسانوں کو مقیاس انسانیت دے دی تاکہ ہر انسان اپنا تجزیہ کر کے اپنی انسانیت کو چیک کر کے دیکھ سکے کہ وہ انسانیت کی حدود کے اندر ہے یا اس سے باہر نکل چکا ہے لیکن افسوس کہ اس فطرت انسانی کے قصہ کو صرف ایک انسان کا قصہ قرار دے کر علمائے اسلام کی اکثریت نے ان سارے فوائد پر پانی پھیر دیا جو فطرت انسانی کے لئے اس میں رکھے گئے تھے اور اب یہ قصہ لوگوں کو الف لیلیٰ کی کہانی کی طرح سنایا جاتا ہے والی اللہ المشتکی واللہ المستعان علی ما تصفون۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا یہاں سے نکل جاؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اب تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور یہ کہ ایک خاص وقت تک وہاں سروسامان زندگی سے فائدہ اٹھاؤ گے

ارشاد الٰہی کہ اب تم یہاں سے اتر جائو زمین میں ایک وقت تک تم کو رہنا ہوگا : 27: سورة البقرہ کی آیت 37 ، 38 میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اللہ تعالیٰ نے نیابت و خلافت ارضی کے لئے فرمائی تھی اس لئے آدم اور نسل آدم کو اس دارالعمل ہی میں رکھا جانا ضروری تھا اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ہی اس بات کا اعلان فرما دیا تھا جبکہ فرشتوں سے فرمایا کہ انی جاعلک فی الارض خلیفۃً ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں “ پیدائش کے بعد جو ان کو جنت میں رکھا گیا جو زمین ہی کا کوئی مخصوص حصہ تھا وہ محض انسانیت کی اس فطرت کو اجاگر کرنے کے لئے تھا جو ایک خاص طریقہ سے کردی گئی اور اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی حیثیت ٹھیک ٹھیک بیان کردی گئی ہے اور نوع انسان کی تاریخ کا وہ باب پیش کیا گیا ہے جس کے معلوم ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ انسان کو میسر نہیں تھا اس طرح انسانیت کی پوری فطرت کو چند سطروں میں بیان کردیا اور اب بتایا جا رہا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوگئی اور اس طرح وہ زمین کی خلافت کے قابل ہوگیا تو ان کو زمین پر اتر جانے کے حکم صادر فرما دیا اور اس طرح ان کو کسی جرم کی پاداش میں زمین پر نہیں اتارا گیا بلکہ فطرت انسانی کے بیان کے بعد ان کا اصل مقام ان کے سپرد کردیا گیا تاکہ وہ جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے تھے وہ پورا ہو سکے ” فرمایا یہاں سے نکل جائو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور یہ دشمنی تمہاری فطری ہے۔ اب تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک کے لئے ٹھکانہ ہے اب اس زمین کے سرو سامان سے فائدہ اٹھائو۔ “ اس لئے کہ تمہارے اندر اس کے سروسامان سے فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیتیں رکھ دی ہیں اور یہی متضاد صفتیں رکھنے والا انسان زمین کے سروسامان سے فوائد حاصل کرنے کا اہل ہے کیونکہ معلوم کرنے ، علم حاصل کرنے اور جدید سے جدید تر کی تلاش و جستجو اور کھوج اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور اس میں گرنے اور سنبھلنے کی صلاحیتیں موجود ہیں اور اس کائنات ارضی سے یہ فائدہ اٹھانے کے یقیناً قابل ہے اس لئے اس کی خلافت اس کے سپرد کردی گئی۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

اور فرمایا تم اس میں جیو گے اس میں مرو گے پھر اس سے (اس کے بعد) نکالے جاؤ گے

اس ارض الٰہی میں تمہارا جینا اور مرنا ہے اور وہیں سے تم کو نکالا جائے گا : 28: یعنی تمہارا وطن اصل یہی زمین ہے اور اسی کے لئے تم کو پیدا کیا گیا ہے ہاں ! اس کائنات کے بعد نیا نظام قائم ہوگا اور پھر تم کو اس زمین سے نکال لیا جائے گا اور جب تک یہ نظام قائم ہے اس وقت تک آدم وابلیس دو متحارب فریقوں ہی کی حیثیت سے رہو گے اور اس طرح دو مخالف طاقتوں کے اس مجموعہ کو جو زندگی دی گئی اور جو نظام ان کی ذریت کے لیے طے کیا گیا اس کے مطابق ان کی ہار جیت ہوتی رہے گی ” اس میں زندہ رہو گے اور اس میں مرو گے “ یہ ان مراحل کا بیان ہے جن سے اس دنیا میں آدم اور اولاد آدم کو گزرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان تمام مراحل سے گزر کر تم کو لوٹ کر یہاں آنا ہے اس وقت ہم تم کو بتائیں گے کہ تم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور اس میدان مقابلہ سے تم سروخرو ہو کر لوٹے ہو یا ناکام و نامراد ہو کر۔ آیت 11 سے آیت 25 تک کی آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہوا ہے اس کا بیشتر حصہ اس سے قبل سورة البقرہ کی آیت 30 تا 38 میں بیان ہوا اور ان آیات میں ہم نے اس قصہ کے سارے پہلوئوں پر کچھ نہ کچھ بیان کیا ہے ازیں بعد قرآن کریم میں جہاں جہاں اس سرگزشت کو بیان کیا گیا اس کو ایک جگہ جمع کر کے اس کا بامحاورہ ترجمہ اور مفہوم بھی بیان کیا ہے اس طرح یہ مضمون بیسیوں صفحات میں پھیلا ہوا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ اس ساری سرگزشت کا ماحصل ہمارے نزدیک فطرت انسانی کا بیان ہے اور اس طرح فطرت انسانی کی مختلف قوتوں کے الگ الگ نام رکھ کر ان کے سارے کاموں پر بحث کی گئی ہے تاکہ ہر ایک انسان خواہ عالم ہو یا جاہل اس سے برابر مسیدان ہو سکے اور اپنی پوری حقیقت کو سمجھ سکے جس طرح علم الابدان والے کسی ایک جسم کے ہر ایک اعضا اور اس کے عمل سے بحث کر کے اور ہر ایک عضو اور اس کے عمل کا الگ الگ نام رکھ کر پورے جسم سے بحث کرتے ہیں تاکہ معالج جسم کی پوری حقیقت سے آگاہ ہوجائے۔ اسی طرح اس سے بہت پہلے انسانی پیدا ئش کے ساتھ ہی اس کی ساری ماہیت وکیفیت سے بحث کر کے اس آسان پیرایہ میں سمجھادیا کہ اس الٰہی کارخانہ عالم صغیر کی کوئی بات بھی پوشدسہ نہ رہی لیکن افسوس کہ ہم نے اس حقیقت کو بھلا کر محض ایک چڑیا یا کوے کی کہانی کی طرح اس کو بیان کیا اور سمجھا۔ مختصر یہ کہ ان آیات کریمات میں اس قصہ سے جن اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے ان کا مختصر خلاصہ ایک بار پھر نظر ناظرین کیا جاتا ہے لیکن اس میں بھی فطری قوتوں کے جو نام معروف ہیں انہی ناموں سے ان کو یاد کیا گیا ہے تاکہ بات آسانی سے سمجھی جاسکے۔ 1۔ فطرت انسانی کے اندر شرم وحیاء کا جذبہ ودیعت کردیا گیا ہے اور اس کا اولین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ اکتسابی چیز ہے بلکہ یقیناً یہ فطری چیز ہے جو روز اول سے انسان کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے۔ 2۔ انسان کے سارے کمزور پہلوئوں کی ابتداء جسم کے ان مخصوص حصوں سے ہوتی ہے اسی لئے شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرت انسان کی سدئھی راہ سے ہٹانے کے لئے چلی وہ بھی یہی تھی کہ اس نے اس جذبہ شرم وحیاء پر ضرب لگائی اور جس پھل کا ذائقہ معلوم کرنے سے اس کو منع کیا گیا تھا اس ذائقے کے مناقب اس نے انسان کے سامنے بیان کرنے شروع کر دئیے اور ان میں ایسی چاشنی بھری کہ جب تک اس نے اس کو چکھ نہ لیا اس کو نہ چھوڑا۔ اس طرح اس نے جو پہلی ضرب لگائی وہ اسی فصیل پر تھی جو شرم وحیاء کی صورت میں اللہ نے انسانی فطرت میں رکھی تھی اور شیطانی نسل کی یہ روش آج تک نسل انسانی کے ساتھ جوں کی توں قائم ہے اور جوں جوں وقت گزرتا گیا وہ اس کو مزید خوشنما بنا کر پیش کرتا رہا اور اس کی ان چالوں میں اب مزید ہی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 3۔ انسان کی یہ فطرت مسخ ہونے کے باوجود آج تک کچھ نہ کچھ باقی ہے کہ وہ برائی کی کھلی دعوت کو کم ہی قبول کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ رواج میں آجائے اور عموماً اسے جال میں پھانسنے کے لئے ہر داعی شر کو خیر ہی کے بھیس میں آنا پڑتا ہے۔ دنیا کے شریر سے شریر لوگوں نے بھی مصلح کا لبادہ پہن کر ہی لوگوں کو راہ راست سے ہٹایا ہے۔ 4۔ انسان کے اندر حیات جاوداں حاصل کرنے کی ایک فطری پیاس موجود ہے اور شیطان اسے فریب دینے میں اس راہ سے بھی حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اس کے سامنے ایسی امیدیں رکھتا ہے کہ اس کو اپنی بدلتی ہوئی حالت یاد ہی نہیں رہتی۔ 5۔ لوگوں میں جو اس طرح مشہور ہے کہ شیطان پہلے حضرت حوا (علیہما السلام) کو دام فریب میں گرفتار کیا اور پھر اس کو آدم (علیہ السلام) کو پھانسنے کے لئے آلہ کار بنایا۔ قرآن کریم اس کی تردید کرتا ہے۔ غالباً یہ یہود ونصاری کا نظریہ ہے جو ہمارے ہاں کسی طریقہ سے گھس گیا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس نے دونوں کو فریب دیا اور وہ دونوں ہی اس کے دام فریب میں آگئے اور یہ گویا فطرت انسانی کا بیان ہے جس کو ان کا نام دیا گیا۔ 6۔ شجر ممنوعہ نے یہ تصور دیا کہ انسان کیلئے کچھ چیزیں حلال اور کچھ حرام کی گئیں اور اس کی فطرت میں یہ بات رکھ دی کہ وہ حلال اور حرام کا کھوج لگائے کہ حلال ہونے والی کیوں حلال اور حرام ہونے والی کیوں حرام ہیں ؟ شیطان اس راہ سے بھی انسان پر حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کو اس کھوج لگانے میں راہ سے بہکا دیتا ہے اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کر دکھاتا ہے اور اس معاملہ میں انسان کو وہ اکثر بھلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ہر کوشش جو اس نے ابو البشر کے خلاف استعمال کی آج تک استعمال کرتا آرہا ہے اور قیامت تک کرتا رہے گا۔ ذریت شیطان اس بھول میں ذریت آدم کو مبتلا کرتی رہے گی۔ 7۔ بھول چوک انسان کی فطرت میں داخل ہے اور شیطان بھی اس فطری کمزوری سے دوسری فطری کمزوریوں کی طرح فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جو انسان بھول جانے کے بعد اعتراف کرلے اس کے درجات پہلے سے بھی بلند ہوجاتے ہیں اور جو اعتراف نہ کرے وہ شیطان کا ساتھی بن کر رہ جاتا ہے اور اس طرح وہ انسان نظر آنے کے باوجود انسانیت سے عاری ہوجاتا ہے اور اگر وہ اس حرکت سے باز نہ آئے تو انجام کار دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ 8۔ جو شخص غرور وتکبر کرتا ہے شیطان اس کا یقیناً ممدو معاون ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اس سے اٹھالی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ شیطان کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے اور اس کا انجام وہی ہوگا جو خود شیطان کا ہوگا۔ 9۔ خالص شیطانی راہ یہ ہے کہ وہ بندگی سے منہ موڑے اور اللہ کے مقابلہ میں سرکشی کرے متنبہ کئے جانے کے باوجود پورے استکبار کے ساتھ اپنے باغیانہ طرز عمل پر نظر ثانی کے لئے تیار نہ ہو اور جو لوگ اطاعت کی راہ چل رہے ہوں ان کو بھی بےراہ کرنے کی پوری کوشش کرے۔ 10۔ جو راہ انسان کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ اول تو وہ شیطانی اغوا کی مزاحمت کرے اور اپنے اس ابدی دشمن کی چالوں کو ہر ممکن سمجھنے کی کوشش کرے اور ان چالوں سے بچنے کے لئے ہر وقت چوکنا رہے لیکن اگر کبھی پائوں میں لغزش آہی جائے تو اپنی غلطی کا احساس کرتے ہی ندامت و شرمساری کے ساتھ فوراً اپنے رب کریم کی طرف پلٹے اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے قصور کی معافی مانگ لے۔ 11۔ اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھے کہ وہ اس کے اس قصور کو معاف کر دے گا یہی وہ سبق ہے جو اس قصہ سے اللہ تعالیٰ انسانوں کو دینا چاہتا ہے اور یقیناً خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس قصہ سے یہ سبق حاصل کرلیں اور اگر وہ بھول جائیں تو فوراً تائب ہوں۔ اس میں دیر نہ لگائیں کہ اس راہ کی ہر دیر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو یہ اجمالی سبق یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارے لیے ایسا لباس مہیا کردیا ہے جو جسم کی ستر پوشی کرتا ہے اور ایسی چیزیں بھی جو زیب وزینت کا ذریعہ ہیں نیز تمہیں پرہیزگاری کی راہ دکھا دی کہ تمام لباسوں سے بہتر لباس ہے ، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ لوگ نصیحت پذیر ہوں

اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارا لباس نازل کردیا جو ستر پوشی کے ساتھ زیب وزینت بھی ہے : 29: آدم وحوا (علیہما السلام) کا ذکر جو کہ دراصل فطرت انسانی کا بیان تھا اس سے مضمون کو نسل انسانی کی طرف منتقل کردیا اور فرمایا کہ اے اولاد آدم ! ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس مہیا کردیا ہے جو جسم کی ستر پوشی کرتا ہے اور زیب وزینت کا کام بھی دیتا ہے۔ “ اس طرح اہل عرب کے سامنے خود ان کی اپنی زندگی کے اندر شیطانی اغوا کے ایک نمایاں ترین اثر کی نشان دہی فرما دی کہ بعض قبائل طواف کعبہ کے وقت اپنا لباس اتار دیتے۔ مرد اور عورتیں مادر زاد برہنہ ہو کر طواف بیت اللہ کرتے اور اس کو کمال تقویٰ خیال کرتے تھے۔ یہ تو قرآن کریم کے زمانہ نزول کی بات ہے لیکن یہ صرف عربوں ہی میں رواج نہیں تھا دنیا کی اکثر قومیں اپنی مذہبی رسوم و عبادات کی ادائیگی کے وقت شرم وحیاء کی چادر اتار پھینکنے کی عادی ہیں۔ ہر دوار اور بنارس میں اشنان کرنے والوں کے متعلق کچھ معلوم ہے کہ وہاں عریانی اور برہنگی کا کتنا شرمناک مظاہرہ کیا جاتا ہے ؟ آخر یہ سارے انسان اولاد آدم ہی تو ہیں۔ ان سب کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تم نے اپنے رب کی راہنمائی سے بےنیاز ہو کر اور اس کے رسولوں کی دعوت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کردیا ہے اور اس نے تمہیں انسانی فطرت کے راستے سے ہٹا کر اس بےحیائی میں مبتلا کردیا جس میں وہ تمہارے پہلے باپ اور ماں کو مبتلا کرنا چاہتا تھا اس پر غور کرو تو یہ حقیقت تم پر کھل جائے کہ رسولوں کی راہنمائی کے بغیر تم اپنی فطرت کے ابتدائی مطالبات تک کو نہ سمجھ سکتے ہو اور نہ پورا کرسکتے ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لباس انسان کے لئے ایک مصنوعی چیز نہیں ہے بلکہ انسانی فطرت کا ایک اہم مطالبہ ہے دوسرا یہ کہ اس فطری الہام کی رو سے انسان کے لئے لباس کی اخلاقی ضرورت مقدم ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھانکے اور اس کی طبعی ضرورت موخر ہے یینم یہ کہ اس کا لباس اس کے لئے جسم کی آرائش اور موسمی اثرات بد سے حفاظت کا ذریعہ ہو۔ لیکن آج کیا ہے ؟ کہ ثقات دفن کی کسی محفل میں گرمی پیدا ہی نہیں ہوتی جب تک شرم وحیاء کی ساری قدروں کو پائوں تلے نہ روند ڈالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں خطاب کسی خاص قوم یا قبیلہ کو نہیں بلکہ لباس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ساری اولاد آدم کو خطاب فرمایا جا رہا ہے اور رہی یہ بات کہ مرد و عورت کے لباس میں کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت میں عورت کہتے ہی ستر کو ہیں۔ گویا عورت کے لئے سر سے لے کر پائوں تک پوشش میں رہنا ضروری ہے اور محرمات کے لئے اس میں کچھ رعایت بھی ہے اور مرد کے لئے ناف سے گھٹنوں تک کا پردہ لازم قرار دیا گیا ہے اور معذوری و مجبوری الگ چیز ہے تفصیل انشاء اللہ العزیز سورة نور میں آئے گی۔ پرہیز گاری کی راہ بھی انسانی لباس میں شامل ہے بلکہ یہ ایک بہتر لباس ہے : 30: یہ لباس ایک تیسری قسم ہے جس کو پہلی دونوں قسموں سے بھی انسان کے فطری فائدہ کے لئے بہتر اور افضل قرار دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اولاد آدم (علیہ السلام) کے لئے ایک تیسرا لباس بھی اتارا ہے جس کو ” لباس تقویٰ “ کا نام دیا گیا ہے اور وہ دوسرے لباسوں سے زیادہ بہتر ہے۔ وہ انسان فطری کمزوریوں سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ظاہری لباس انسان کے قابل شرم اعضاء کے لئے پردہ ہے اور اس طرح سردی ، گرمی سے بچنے اور زیب وزینت حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس طرح ایک مصنوعی لباس بھی ہے جو انسان کی اخلاقی عیوب اور کمزوریوں کا پردہ ہے اور دائمی تکلیفوں اور مصیبتوں سے نجات کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس کو عمل صالح سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے وہ سب سے بہتر لباس قرار دیا گیا ہے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ ایک بدکار آدمی جو کسی عمل صالح کا پابند نہیں وہ کتنے ہی پردوں میں چھپے لیکن پھر وہ ننگے کا ننگا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انجام کار وہ رسوا اور ذلیل ہو کر رہتا ہے جس کے متعلق نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد گرامی اس طرح ہے کہ ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (a) کی جان ہے جو شخص کوئی بھی عمل لوگوں کی نظروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس عمل کی چادر اوڑھا کر اعلان کردیتا ہے یعنی نیک عمل ہوتا ہے تو نیکی کی چادر اور برا عمل ہو تو برائی کی چادر اور وہ سب لوگوں کے سامنے ہوتی ہے اور یہ بھی کہ انسان کا عمل کتنا ہی پوشیدہ ہو اس کے ثمرات وآثار اس کے چہرے اور بدن پر اللہ تعالیٰ ظاہر کردیتا ہے اور اس ارشاد کے بعد آپ نے زیر نظر آیت ” و لباس التقویٰ ذلک خیر “ تلاوت فرمائی (ابن جریر بروایت عثمان غنی ؓ لباس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں : 31: یہ نشانی انسان وحیوان کا ایک فطری فرق ہے گویا انسان کی فطرت میں لباس کا تقاضا موجود ہے اور حیوان کی فطرت میں نہیں ہاں ! انسان اپنی انسانیت کو مسخ کر کے حیوان کا حیوان ہی رہنا چاہے تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی فطری نشانی کو مسخ کرنے کا نتیجہ پالیا کہ وہ انسانیت سے نکل کر حیوانیت میں داخل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے جو انسانیت وحیوانیت میں ایک خاص فرق رکھا تھا اس کو اس جگہ نشانی قرار دیا گیا جو فی الواقع اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ ایک سچے مسلمان کے لئے ان تینوں قسم کے لباسوں میں ملبوس رہنا ضروریات دین میں سے ہے۔ آخر میں ایک بات مزید یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ نے نیا لباس پہننے کے وقت یہ دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی : ( الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِهِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِی حَیَاتِی) (ترمذی : جلد دوم : حدیث 1516) ” شکر اس ذات کا جس نے مجھے لباس دیا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کا پردہ کرتا ہوں اور زینت حاصل کرتا ہوں۔ “
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! دیکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح بہکا دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان کے لباس اتروا دیئے تھے کہ ان کے ستر انہیں دکھا دے وہ اور اس کا گروہ تمہیں اس طرح دیکھتا ہے کہ تم اسے نہیں دیکھتے ، ہم نے یہ بات ٹھہرا دی ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے رفیق و مددگار شیاطین ہوتے ہیں

اے اولاد آدم ! شیطان کے بہکاوے میں نہ آنا جیسا کہ تمہارے ماں باپ کو اس نے بہکا دیا : 32: زیر نظر آیت میں اس قصہ آدم کے بیان کرنے کا اصل مدعا واضح کردیا کہ اس قصہ کے بیان کرنے کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اے اولاد آدم ! تم اس کے مکرو فریب سے بچتے رہنا اس لئے کہ یہ تمہارا ازلی وابدی دشمن ہے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو بہکانے کی کوشش کی اس کی ذریت تم کو بھی ضرور بہکانے کی کوشش کرے گی اور ہر کام میں مکر شیطانی سے بچتے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو بھی کسی فتنہ میں مبتلا کر دے اور تم اس کے فتنہ سے نکل ہی نہ سکو۔ دیکھو آدم (علیہ السلام) سے ہم نے وعدہ کیا تھا کہ تم یہاں سے اپنے اس مقام کی طرف اتر جائو جہاں تم کو بطور آزمائش رکھا جانا ضروری ہے۔ ہم تمہاری اور تمہاری اولاد کی طرف ہدایت بھیجتے رہیں گے پھر جس شخص نے ہماری ہدایت کی پیروی کی اس پر کوئی خوف وحزن نہیں ہوگا۔ “ تم اولاد آدم ہو ہم نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور تم کو بار بار یہ بات باور کرائی کہ اپنے نفس کے اس شیطان سے ہوشیار رہنا اور تقویٰ اختیار کرنا اور یہ کہ جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کی۔ وہی اس کے فتنہ سے بچ سکے گا اور انہی باتوں کی یاد دہانی تم کو کرائی جا رہی ہے۔ شیطان کا گروہ تم کو اس طرح دیکھتا ہے کہ تم اس کو نہیں دیکھ سکتے : 33: یہ اس فطرت کا بیان ہے جو قوائے بہیمیہ میں رکھی گئی ہے جس کو ہم نے نافرمان قوتیں کہا ہے کہ ان کی جبلت میں بھلائی نام کی چیز موجود ہی نہیں لہٰذا اس کا دیکھنا کبھی بھلائی کا دیکھنا نہیں ہو سکتا اور نفس انسانی میں جہاں نافرمان قوت موجود ہے وہاں فرمانبردار قوت بھی ودیعت کی گئی ہے اس لئے یہ خیر وشر کا مجموعہ اور سراسر شر ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ فرمایا اس کے راستے اتنے ہیں کہ تم ان سارے راستوں پر نہ پہرہ بٹھا سکتے ہو اور نہ ہی اس کا ہر بھیس تم پہچان سکتے ہو اس کے لشکر میں جہاں جن ہیں وہاں انسان بھی ہیں۔ تم ان انسانوں کو دیکھ کر اپنا دوست بنائو گے ، ان کو ناصح سمجھو گے ان کو خیر سگال قرار دو گے ان کو مرشد ، لیڈر ، راہنما اور مذہبی پیشوا سمجھو گے اور وہ تمہارے دین و ایمان کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں گے۔ تم گمان کرو گے کہ وہ تمہارے لئے ترقی کی راہیں کھول رہے ہیں لیکن وہ تمہیں آگ کے گڑھے میں دھکیل رہے ہوں گے اور تم کو اس وقت پتہ چلے گا جب دھڑام سے اس میں گرا دئیے جائو گے۔ ان کو تمہارے باطن کی ساری رگیں اور تمہارے جسم کے سارے کمزور حصوں میں پوری طرح واقفیت ہے وہ تمہارے دماغ میں ایسا ٹیکہ لگائیں گے کہ تم حق و ناحق کی پہچان ہی نہ کر پائو گے۔ تمہارے اندر فرماں بردار قوتیں بھی موجود ہیں ان سے کام لے کر اس کے سارے پھندوں کو توڑ دو اور اس کو ایسا رام کرو کہ وہ تمہارا کہنا مان جائے لیکن یاد رکھو کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ غور کرو کہ اس نے تمہارے ماں باپ سے کیا کچھ کہا اور کس انداز سے ان کا لباس اتروا کر ان کو شرمسار کیا۔ پھر سوچو اگر وہ ان کو یہ کہتا کہ میاں یہ لباس اتار کر مجھے دے دو تو کیا وہ اتار دیتے ؟ یقیناً نہیں لہٰذا اس نے وہ راہ اختیار کی جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اس طرح لباس اتر سکتا ہے اور شرمندگی حاصل ہو سکتی ہے لیکن اس کی چال کا نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ فی الواقعہ لباس اتر گیا اور وہ دونوں شرمندہ ہو کر رہ گئے۔ اس کی اس چال کو اللہ نے اس طرح بیان فرمایا کہ ” وہ اور اس کا گروہ تمہیں اس طرح دیکھتا ہے کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ “ قال ذوالنون ان کان ھو یرک من حیث لا تراہ فاستعن بمن یراہ من حیث لا یراہ وھو اللہ القھار الستار۔ ذوالنون مصری (رح) کا کہنا بھی کیا خوب ہے کہ اگر تیرا دشمن ایسا ہے کہ وہ تجھے دیکھتا ہے اور تو اس کو نہیں دیکھ سکتا تو ایک ایسی ہستی کی پناہ میں آجا جو تیرے دشمن کو دیکھتا ہے لیکن تیرا دشمن اس کو نہیں دیکھ سکتا اور وہ اللہ قہارو ستار ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ ایمان نہ رکھنے والوں کا مددگار شیطان ہوتا ہے : 34: اِنَّا جَعَلْنَا ” ہم نے بنایا “ یعنی ہم نے ہر کام کے لئے ایک قانون بنا دیا ہے اور وہ کام اس قانون کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارا یہ قانون ہے کہ ہم نے انسان کو ایک حد تک نیکی وبدی کا اختیار دیا ہے اور جس حد تک اس کو اختیار دیا ہے وہ کسی حال میں اس سے چھینا نہیں جاسکتا۔ ہر انسان کو ہماری طرف سے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے وہ اللہ اور اس کے رسول کو اپنا دوست اور مددگار بنا لے اور چاہے شیطان اور اس کے ساتھیوں کو۔ پھر جس نے شیطان کی دوستی کو ترجیح دی تو ہم اس کو کیوں روکیں گے ؟ بلکہ ہم تو اس کو اسے دوست بنانے دیں گے کیونکہ ہمارا قانون کبھی بدلا نہیں کرتا۔ ہاں ! جس نے شیطان اور اس کے ساتھیوں کو دوست بنایا یقیناً ایمان نام کی شے اس میں موجود نہ رہی اس لئے کہ یہ بھی ہمارا قانون ہے کہ جس میں ایمان ہوتا ہے وہ اس کو یعنی شیطان کو کبھی دوست نہیں بناتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کسی دوست کو جب بھی شیطان نے دھوکا و فریب دینے کی کوشش کی تو ہمیشہ دو صورتوں میں سے ایک ضرور واقع ہوئی۔ ایک یہ کہ اس نے دھوکا و فریب نہ کھایا اور شیطان سر پیٹ کر رہ گیا۔ دوسری یہ کہ اگر دھوکا فریب کھا گیا تو فوراً سنبھل گیا اور اس نے شور مچایا کہ میرے مولا میں فریب کھا گیا ، مجھے معاف فرما دے تو میں نے اس کو معاف کردیا۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں ہوا کہ وہ فریب کھا گیا ؟ اس لئے کہ شیطان نے ایک کوشش کی اور اس کی کوشش کا صلہ اس کو ملنا ضروری تھا اس نے میرے بندے کو بہکایا تو بہکانے کی کوشش تو اس نے بہرحال کی اس کو اس کا صلہ یہ ملا کہ اس بہکنے والے نے توبہ کرلی اور اس کی توبہ شیطان کے لئے وہ سزا ہے کہ اس سے بڑی شیطان کے لئے اور کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔ جس کا سارا کیا کرایا اکارت ہوجائے اس کے لئے اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے ؟
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب بےحیائی کی باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ایسا ہی کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے تم کہہ دو اللہ کبھی بےحیائی کی باتوں کا حکم نہیں دے گا کیا تم اللہ کے نام پر ایسی بات کہنے کی جرأت کرتے ہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ؟

بری رسومات کا فلسفہ اور ان کے مہلک اثرات کا مختصر بیان : 35: ” فَاحِشَةً “ اس کھلی بےحیائی کو کہتے ہیں جو حددرجہ قبیح اور معیوب ہو جس کو اندھوں اور احمقوں کے سوا سب لوگ بےحیائی قرار دیں۔ اس سے مراد قوموں کے سارے عقائد باطلہ اور اعمال قبیحہ ہیں جو نزول قرآن کے وقت قریش مکہ اور دوسری قوموں میں پائے جاتے تھے اور اس کے بعد آج تک پائے گئے اور اس وقت موجود ہیں اور رہتی دنیا تک موجود رہیں گے یا نئے نئے پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس جگہ سرفہرست قریش کے بعض قبائل کی یہ رسم بد ہے جو ننگے طواف کرنے کی ان میں پائی جاتی تھی جس کی طرف پیچھے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے اس لئے کہ عرب جاہلیت کی بےحیائیوں میں سے یہ بھی ایسی ہی بےحیائی ہے جس کے متعلق وہ کہتے تھے کہ اس کے کرنے کا ہمیں اللہ نے حکم دیا ہے اور ہمارے بڑے اور بزرگ اسی طرح کرتے چلے آرہے ہیں اور اس طرح کی بیشمار مثالیں مندروں ، کلیسائوں ، درباروں اور مزاروں کے پروہتوں اور پجاریوں کی شیطنت سے وجود میں آئی ہیں جن کو مذہبی تقدس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ایسی بےشرمی اور بےحیائی کی بات اور وہ بھی بیت الحرم میں آئی ہیں جن کو مذہبی تقدس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ استغفر اللہ۔ اللہ کبھی بےحیائی کی باتوں کا حکم نہیں دیتا ، تم اللہ پر افتراء نہ کرو : 36: اے پیغمبر اسلام ! ” تم کہہ دو کہ اللہ کبھی بےحیائی کی باتوں کا حکم نہیں دیتا۔ “ کیونکہ ایسا حکم دینا اس کی شان ایزدی کے خلاف ہے تم اتنے بدکردرا اور بد اخلاق ہوچکے ہو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے ہو۔ کیا تم اللہ کے نام پر ایسی بات کہنے لگے ہو جس کے لئے تمہارے پاس کوئی علم نہیں۔ “ آخر ایسی بات کہنے کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ؟ یقیناً نہیں اور ظاہر ہے کہ بلا تحقیق کسی شخص کی طرف بھی کسی کام کو منسوب کرنا انتہائی دلیری اور ظلم ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کسی نقل کی ایسی غلط نسبت کرنا کتنا بڑا ظلم اور کتنا بڑا جرم ہوگا۔ زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف کسی ایسی بات کو جو خود اللہ نے قرآن کریم اور نبی ﷺ کی زبان اقدس سے نہ بیان کی ہو نسبت کرنا بہت بڑا جرم ہے اور خصوصاً جب اس کو ایک صاحب شعور انسان بھی پسند نہ کرے اور ایسی بات کے متعلق بےدھڑک کہہ دینا۔ یہ اللہ پر افتراء اور جھوٹ ہے بالکل صحیح اور درست ہوگا کیونکہ وہ سراسر اللہ تعالیٰ پر ایسا الزام ہوگا جس کی تردید ہر مسلمان پر لازم اور ضروری ہوگی۔ غور کرو کہ جب اللہ نے انسانوں کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ ذرا شعور میں آنے کے بعد مرتے دم تک کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کے سامنے عریاں ہو تو وہ اس انسان کو یہ حکم کس طرح دے سکتا ہے کہ وہ عین اس کے حرم میں سارے انسانوں کے مجمع کے سامنے ننگا ہوجائے حالانکہ اس مجمع میں مرد بھی ہوں اور عورتیں بھی یہ تو انسانی فطرت سلیم کے ساتھ کھلا ظلم ہے اور اللہ ایسے ظلم کا کبھی حکم نہیں دیتا۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

تم کہو میرے پروردگار نے جو کچھ حکم دیا ہے وہ تو یہ ہے کہ اعتدال کی راہ اختیار کرو ، اپنی تمام عبادتوں میں اللہ کی طرف توجہ درست رکھو اور دین کو اس کیلئے خالص کر کے اسے پکارو ، اس نے جس طرح تمہاری ہستی شروع کی اسی طرح لوٹائے جاؤ گے

اعلان فرما دیجئے کہ میرے رب کا تو ہر حکم اعتدال و انصاف کا ہے : 37: قسط کیا ہے ؟ قسط انصاف و اعتدال کا دوسرا نام ہے۔ اس جگہ قسط سے مراد وہ عمل ہے جو افراط وتفریط سے خالی ہو یعنی نہ تو اس میں کسی قسم کی کوتاہی ہو اور نہ ہی مقررہ حد سے تجاوز ہو اور شریعت اسلامی کے ایک ایک حکم کو اس کسوٹی پر رکھ کر دیکھتے جائو یقیناً ایک حکم بھی اس کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس لئے لفظ ” قسط “ ایک جامع حقیقت ہے جو تمام شریعت الٰہی کی روح ہے یعنی ہرچیز میں ٹھیک ٹھیک نقطہ عدل و اعتدال کا اہتمام۔ اس کا تعلق زندگی کے کسی ایک پہلو سے نہیں بلکہ ہر پہلو سے ہے۔ عقائد سے ، اعمال سے ، عبادات سے ، اخلاق سے ، معشتی سے ، معاشرت سے ، قانون سے ، سیاست سے غرض ہر شعبہ زندگی سے اور یہی وہ اصل الاصول ہے جس پر شریعت الٰہی مبنی ہے۔ دین الٰہی کا تمہاری ان بیہودہ رسموں سے کیا تعلق۔ اس نے جس دین کی تعلیم دی ہے اس کے بنیادی اصول عدل و انصاف اور اعتدال ہیں اس لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کو عدل وراستی کی بنیاد پر قائم کرے۔ اللہ کی طرف متوجہ رہو ، دین کو اس کے لئے خالص کرو اور اسی کو پکارو : 38: مطلب یہ ہے کہ عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو یعنی اللہ رب العزت کے سوا کیے کی بندگی نہ کرو اور نہ ہی اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک کرو۔ معبود حقیقی صرف اور صرف وہ ہے اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو ، تمہارا عجز ونیاز کا رخ ذرا نہ پھرنے پائے۔ رہنمائی ، تائید ونصرت اور نگہبانی و حفاظت کے لئے اللہ ہی سے دعا مانگو اور دعا مانگنے سے پہلے اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرلو ایسا نہ ہو کہ زندگی کا سارا نظام تو کفرو شرک اور معصیت اور بندگی غیر پر چلایا جا رہا ہو اور مدد اللہ سے مانگتے رہو کہ خدایا ! یہ بغاوت جو ہم تجھ سے کر رہے ہیں اس میں ہماری مدد فرما۔ غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ زیر نظر آیت میں دین حق کے تین بنیادی اصول واضح کر دئیے۔ عمل میں اعتدال ، عبادت میں توجہ اور خدا پرستی میں اخلاص اس لئے یہ آیت خدا پرستی میں اصل الاصول ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا فرمایا ” دین کو خدا کے لئے خالص کر کے اسے پکارو یعنی دین کی جتنی باتیں ہیں وہ صرف خدا ہی کے لئے مخصوص کردو “ جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا ہے اسی طرح تم لوٹائے بھی جائو گے : 39: ” كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ0029 “ اس بات پر یقین رکھو کہ جس طرح اس دنیا میں تم پیدا ہوئے اسی طرح دوسرے عالم میں بھی وہ تم کو لوٹا دے گا۔ “ گویا یہ ” قسط “ ہی کا تقاضا ہے کہ جب اس نے پیدا کیا ، پرورش کے وسائل واسباب فراہم کئے ، خیر وشر کا امتیاز بخشا تو وہ حساب و کتاب بھی کرے اور جزا وسزا بھی دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ ” قسط “ نہیں بلکہ ظلم وجور ہے اور یہ ذات الٰہ سے محال ہے۔ ” جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا ہے اسی طرح تم لوٹائے بھی جائو گے۔ “ اس پر مفسرین نے بہت بحث کی ہے اور بہت سے بزرگوں نے یہ لکھا ہے کہ حشر کے روز سارے مرد اور عورتیں ، بوڑھے ، جوان اور بچے سب ننگے اور غیر مختون اٹھیں گے کیونکہ وہ پیدائش کے وقت ایسے ہی پیدا ہوئے تھے۔ “ گویا اس آیت سے پہلی آیت میں جو طواف کرنے میں ننگے ہوئے ان کو جو کچھ کہا وہ اس آیت پر پہنچتے ہی گویا منسوخ ہو گاو۔ وہاں جس چیز کو ظلم وجور قرار دیا یہاں بڑی خوبصورتی سے اس کو تسلیم کرلیا۔ بیت اللہ میں جو فعل حرام تھا میدان حشر میں پہنچتے ہی وہ حلال ہوگیا اور اتنے ہی میں ہمارے علمائے کرام بھول گئے کہ دنیا میں پہلے پیدا ہونے والے بھی ننگے نہیں تھے ان کے جسموں پر یقیناً لباس تھا چاہے وہ کیا تھا اگرچہ ہم اس کی حقیقت نہیں سمجھتے لیکن اگر کسی بات کی سمجھ نہ آئے تو اس میں ہماری سمجھ کا قصور ہے۔ حقیقت تو اس سے نہیں بدلتی۔ اگر وہ ننگے ہوتے تو ان سے کونسا لباس اترتا جس کے اترنے کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے اور جس پر تم نے اتنی بڑی بحث کر کے بیسیوں صفحات سیاہ کئے ہیں اور اگر وہ اس وقت بھی ننگے نہیں تھے یہ بات آپ کو قبول ہے تو حشر کے میدان میں لوگوں کو ننگا کرنے اور ننگا دیکھنے کا نظریہ تم نے کہاں سے نکال لیا ہے ؟ جس بات کو تم نے دو منٹ پہلے پہاڑ سمجھا تھا وہ ٹھیک دو منٹ کے بعد رائے کیسے ہوگیا ؟ کیا بات تو نہیں کہ جب تمہارا جی چاہے ننگا کرلو لیکن دوسروں کو اس کی اجازت نہیں اس لئے کہ تم ننگا کرو گے تو بہر حال قرآن پڑھ کر کرو گے اور وہ بھی میدان حشر میں پھر۔ غور کرو کہ تم نے کیا نظریہ پیش کیا اور قرآن کریم کی آیت کا سیدھا مطلب چھوڑ کر الٹا مطلب کیسے نکال لیا ؟ تعجب ہے کہ پھر اس بات کو صحابہ کرام ؓ کے نام سے نبی اعظم وآخر ﷺ کے ذمہ لگادیا اور پھر اس تعجب پر تعجب یہ کہ رفع الیدین ، آمین اور فاتحہ خلف الامام کی احادیث صحیحہ پر بحث کرنے والوں نے اس طرح کی بےسروپا روایات کو صحیح حدیث کے طور پر بیان کیا۔ حالانکہ روایات میں اس کے اور بھی بہت سے مفہوم بیان کئے گئے تھے لیکن ان سب کو چھوڑ کر اس کا کیوں انتخاب کیا گیا ہے ؟ مثلاً یہ کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مومن پیدا کیا اور کسی کو کافر پیدا کیا اور خود قرآن کریم میں بھی یہ مضمون اس طرح بیان ہے کہ ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن اور اس قول کی تائید حدیث ابن مسعود ؓ سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ ” خدا کی قسم کوئی شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ نوشتہ تقدیر اس پر غالب آتا ہے اور وہ اہل نار کے عمل کرنے لگتا ہے اور اسی پر مر جاتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی شخص عمر بھر اہل دوزخ کے سے عمل کرتا ہے اور دوزخ سے ایک گز کی دوری رہ جاتی ہے کہ کتاب الٰہی اس پر غالب آجاتی ہے پھر وہ جنتیوں کے سے عمل کر کے مرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ مطلب صاف صاف ہے کہ علم الٰہی ہرچیز پر محیط ہے کیونکہ وہ غیر مبدل ہے اور انسانی علوم اس کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے کیونکہ وہ سب مبدل ہیں۔ انسان اول کے لباس کی کیا شکل و صورت تھی ؟ اور میدان حشر کے انسانوں کے لباس کی کیا شکل و صورت ہوگی ؟ یہ علم الٰہی کا مسئلہ ہے انسانی علم کا نہیں۔ انسانی علم کا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو لباس پہننا ضروری ہے اور کسی حال میں بھی سوسائٹی میں ننگا ہونا قابل ننگ عار ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ رہے یہ مائوں کے بطن سے پیدا ہونے والے بچے تو وہ یقیناً پہلی پیدائش نہیں اور اسی طرح یہ بھی کہ تم فوراً ان کو کپڑے پہنا دو اس لئے کہ یہ تمہارے ننگے ہونے کا نتیجہ ہیں اور اس پر کپڑا ڈالنا تمہارا فرض ہے۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک گروہ کو (کامیابی و کامرانی کی) راہ دکھائی ، دوسرے پر گمراہی ثابت ہوگئی ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا بایں ہمہ سمجھے کہ وہ راہ راست پر ہیں

ایک گروہ کو راہ دکھائی دوسرے پر گمراہی ثابت ہوگئی : 40: جب صحیح اور غلط ، حق اور ناحق کی وضاحت ہوگئی اور اصل حقیقت واضح ہوگئی تو بتوفیق الٰہی ایک گروہ اس حقیقت پر ایمان بھی لایا اور ایک گروہ پر گمراہی مسلط ہوگئی اور انہوں نے حقیقت کو سمجھ کر اس سے منہ پھیرلیا۔ گمراہ کون ہوئے ؟ وہی جنہوں نے شیطان کو اپنا رفیق بنا لیا : 41: جن لوگوں نے اپنی قوت اختیار وانتخاب سے غلط کام لیا وہ گمراہ ہوگئے اور ان لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا لیکن اس کے باوجود وہ بھی سمجھتے رہے کہ راہ راست پر وہی ہیں گمراہی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ اس لئے کہ شیطان کے دوستوں نے ان کو یہی باور کرایا اور اس بھول میں وہ ایسے مبتلا ہوئے کہ انہوں نے کسی دوسرے کی بات کو سننا گوارا ہی نہ کیا مختصر مطلب اس آیت کا یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے صحیح کام لیا اور اس کے عطا کردہ اختیار اور آزادی کو اس کے حکم کا پابند بنا دیا انہیں راہ ہدایت دکھا دی گئی اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی اور جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شریروں اور مفسدوں سے دوستی و محبت کا رشتہ جوڑ لیا ان کے مقدر میں گمراہی لکھ دی گئی اور وہ بدنصیب اس غلط فہمی میں پڑے رہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں عین صواب ہے اور یہ صرف نزول قرآن کے وقت کے باطل پرستوں ہی کا خیال نہ تھا بلکہ آج بھی راہ حق سے بھٹکے ہوئے افراد اور قومیں بڑی شدو مد اور وثوق سے اپنی گمراہی کو عین حق کہتی ہیں۔ ان پر گمراہی مسلط کرنے کی وجہ بیان کردی کہ انہوں نے خود شیطان کی رفاقت اختیار کی اور اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ چھوڑ دیا پھر خود کردہ راچہ علاج ؟ اپنے پائوں خود کلہاڑی مارنے والوں کو کون سمجھائے ؟
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! عبادت کے ہر موقع پر اپنے جسم کی زیب وزینت سے آراستہ رہا کرو نیز کھاؤ پیو مگر حد سے گزر نہ جاؤ ، اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں

عبادت الٰہی کے لئے زیب وزینت اختیار کرنا اولاد آدم (علیہ السلام) کے لئے ضروری ہے : 42: عربوں نے خاص مسجد یعنی مسجد الحرام میں لباس کو اتار کر طواف کرنے کو اللہ کا حکم اور اپنے بزرگوں کا طریقہ بتا یا تھا جس کی کوئی اصل ان کے پاس موجود نہیں تھی اس لئے کہ جب ان سے ان کے اس نظریہ کا ثبوت طلب کیا گیا تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا چور کو توال کو ڈانٹے والا کام کرنے لگے لیکن ان کو بھی اولاد آدم ہونے سے انکار نہ تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو اولاد آدم کے ساتھ ساتھ دین ابراہیمی (علیہ السلام) کو ماننے والے بھی ثابت کرتے تھے اس لئے ان کو اولاد آدم ! ہی کہہ کر بتایا جارہا ہے کہ اولاد آدم (علیہ السلام) کے لئے حکم الٰہی تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ کی عبادت میں لگیں تو لباس زیب تن کریں اور لباس بھی ایسا جو زینت وزیبائش کا کام بھی کرے صرف لنگوٹ اور جان گیا ہی پر اکتفا نہ کریں اور یہ بھی کہ صرف مسجد الحرام ہی میں لباس کا پہننا ضروری نہیں بلکہ ہر مسجد میں جانے والا نمازی زیب وزینت سے مصروف عبادت ہو۔ ہاں ! انسانی زینت ، بنائو سنگھار میں نہیں بلکہ سادگی میں ہے جس طرح لباس اتارنے سے شیطان خوش ہے اسی طرح بنائو سنگھار سے بھی۔ زیب وزینت کا لباس اور بنائو سنگھار اپنے اندر واضح فرق رکھتا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں بنائو سنگھار بھی اسی طرح کی عریانی ہے جس طرح لباس اتار دینا عریانی کہلاتا ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ لباس اتارنا اس وقت کی عریانی ہے جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اور بنائو سنگھار کی عریانی اس وقت آئی جب شیطان کے ساتھیوں نے سمجھا کہ لوگ ان کے کہنے پر اب لباس نہیں اتارتے اس لئے انہوں نے جدید فیشن کے ذریعہ بنائو سنگھار کی عریانی کی دعوت دے دی اور یہ مثل پہلے مشہور ہے کہ یاروں کے یاری کا پاس ہوتا ہے یاروں کے عیب نہیں دیکھے جاتے۔ اس کے ساتھیوں نے بھی یار کی یاری کا پاس کیا اور ملبوس رہتے ہوئے عریانی کا نیا طریقہ دریافت کرلیا۔ فرمایا جس طرح لباس تقویٰ اور دینداری کے خلاف نہیں۔ بالکل اس طرح کھانا پینا اور اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دینداری کے خلاف نہیں ہے۔ جیسا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ کفار کپڑے اتار کر طواف کرنے کو کمال تقویٰ خیال کرتے تھے اور اس طرح حج کے دنوں میں گھی اور گوشت کھانا بھی ترک کردیتے تھے ان کو اس سے روکا گیا کہ لباس زیب تن کرو۔ گھی اور گوشت استعمال کرو یہ مصنوعی تقویٰ اللہ کو پسند نہیں تو انہوں نے ایک نہ مانی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان صاف وسفید احرام کی چادریں زیب تن کر کے مصروف طواف ہیں اور گھی وگوشت بھی بلا تکلف استعمال کرتے ہیں تو یہ طریق کار انہیں اپنے زہد وتقویٰ کے معیار سے بہت فرو تر معلوم ہوا تو انہوں نے مسلمانوں کو دنیا پرستی اور لذت طلبی کا الزام لگایا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ہمت بندھائی اور اعلان فرمایا کہ زینت و آرائش کی جن چیزوں اور عمدہ اور لذیذ کھانوں کو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے حلال کیا ہے کسی کو کیا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے انہیں حرام ٹھہرائے۔ اسی طرح شیطان نے جب دیکھا کہ اس کی وہ پہلی چال ناکام ہو رہی ہے تو اس نے انسانوں کو اس لباس میں خوراک کے معاملہ میں اسراف سکھا دیا تاکہ اعتدال و انصاف قائم نہ ہوسکے۔ اس لئے قرآن کریم نے جس طرح عریانی سے منع فرمایا تھا ، مسلمانوں کو اسراف سے بھی روک دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے اس لئے وہ ” مقسطین “ یعنی عدل و اعتدال پر قائم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ” مسرفین “ یعنی عدل و اعتدال سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بےاعتدالی افراط کی نوعت کی بھی ہو سکتی ہے تفریط کی نوعیت کی بھی اور یہ دونوں ہی باتیں خدا کو ناپسند ہیں۔ نہ وہ پسند کرتا ہے کہ آدمی کھانے پینے پہننے ہی کو مقصود سمجھے اور رات دن اس کی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ ان چیزوں کو راہبوں اور جو گیوں کی طرح ترک کر دے۔ تبذیر وتفریط دونوں ہی شیطان کی نکالی ہوئی راہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال ہی کو پسند کرتا ہے اور شیطان اس سے ابیٰ ۔ رہا یہ سوال کہ ان چیزوں میں نقطہ عدل و اعتدال کیا ہے اور حد اسراف کیا ہے ؟ تو اس کا جواب انسان کی عقل سلیم اور فطرت عمیم پر چھوڑ دیا ہے۔