7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک کی درستگی کے بعد اس میں خرابی نہ پھیلاؤ ڈرتے ہوئے اور امیدیں رکھتے ہوئے اس کے حضور دعائیں کرو یقینا اللہ کی رحمت ان کے نزدیک ہے جو نیک کردار ہیں

ملک میں خرابی پھیلانے کی مخالفت اور اللہ کی رحمت طلب کرتے رہنے کی ہدایت : 67: ” ملک کی درستگی کے بعد اس میں خرابی نہ پھیلائو۔ “ یہاں دو متضاد لفظ متقابل آئے ہیں یعنی ” فساد “ اور ” اصلاح “ اصلاح کے معنی درستی اور فساد کے معنی خرابی کے ہیں۔ درستی اور خرابی سے کون واقف نہیں۔ اصلاح کی بھی دو قسمیں ہیں اور فساد کی بھی یعنی ظاہری اور باطنی۔ زمین کی ظاہری اصلاح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایسا جنم بنایا ہے کہ نہ پانی کی طرح نرم ہے جس پر نہ قرار نہ ہو سکے اور نہ پتھر اور لوہے کی طرح سخت ہے جس کو کھودا نہ جاسکے اس کو ایک درمیانی حالت پر رکھا گیا ہے تاکہ انسان اس کو نرم کر کے اس میں کھیتی اور درخت اور پھل پھول اگا سکے اور اس کو اپنی ضرورت کے مطابق آسانی سے کھود سکے اور اپنے مکانات کی بنیادیں مستحکم کرسکے پھر اس زمین کے اندر اور باہر ایسے سامان پیدا فرمادئیے جن سے زمین کی آبادی ہو ، اس میں سبزی اور درخت اور پھل پھول اگ سکیں۔ باہر سے ہوا ، روشنی اور گرمی سردی پیدا کی اور پھر بادلوں کے ذریعہ اس پر پانی برسایا جس سے درخت پیدا ہو سکیں۔ مختلف ستاروں اور سیاروں کی سرد وگرم کرنیں ان پر ڈالی گئیں جن سے پھولوں پھلوں میں رنگ اور رس بھر گئے۔ انسان کو فہم و عقل عطا کی گئی جس کے ذریعہ اس نے زمین سے نکلنے والے خام مواد لکڑی ، لوہا ، تانبا ، پیتل ، ایلومونیم ، گندھک اور اسی طرح کی ان گنت معدنیات کو جوڑ توڑ لگا کر مصنوعات کی ایک نئی دنیا بنا ڈالی۔ یہ سب زمین کی اصلاح ظاہری ہے جو اللہ رب العالمین نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کی فرمائی ہے اور اصلاح باطنی و روحانی کا دارومدار انسانوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ انسان کو پیدا فرما کر اس کی فطرت میں ایک مادہ اور جذبہ اللہ کی اطاعت اور یاد کا بھر دیا اور انسان کے گردو پیش کے ہر ذرے ذرے میں اپنی قدرت کاملہ اور صنعت عجیبہ کے ایسے مظاہر رکھے کہ ان کو دیکھ کر معمولی فہم و ادراک رکھنے والا بھی بول اٹھے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی یہ کرشمہ سازی ہے اور پھر اصلاح فی الارض کے لئے رسول اور کتابیں نازل کیں تاکہ مخلوق کا رشتہ خالق کے ساتھ قائم رہے اور اس طرح زمین میں فساد کی بجائے اصلاح ہو سکے۔ جس طرح اصلاح کی دو قسمیں ہیں اسی طرح فساد کی بھی دو قسمیں ہیں یعنی ظاہری اور باطنی اور زیر نظر آیت سے ان دونوں طرح کے فساد کی ممانعت فرما دی گئی۔ اگرچہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کا اصل وظیفہ اور فرض منصبی اصلاح باطنی اور یہ بھی کہ فساد ظاہری ہو یا باطنی اس سے روکنا اور منع کرنا ہے لیکن اس دنیا میں ظاہر و باطن کی اصلاح و فساد میں ایک ایسا ربط ہے کہ ایک کا فساد دوسرے کے فساد کا موجب بن جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے جس طرح باطنی فساد کے دروازے بند کئے ہیں اسی طرح ظاہری فساد کا موجب بن جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے توڑنا پھوڑنا ، باغات کو اکھاڑ دینا ، کھیتوں کو اجاڑ دینا ، کارخانوں کو برباد کردینا ، تجارت و صنعت میں دھوکہ بازی ، فریب اور مکاری کرنا ، حکومت وقت کے خلاف بلاوجہ سازشیں کرنا اور اس طرح کی ہر تخریبی کاروائی جس سے ملک کی معاشی اور اقتصادی خوشحالی متاثر ہو یا اس کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچے اور اس طرح عقائد حقہ میں کجی ، احکام شرعی میں اپنی اغراض کے لئے تحریف ، غیر اسلامی عادات واطوار کو اپنانا ، اسلامی تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر غیر اسلامی تہذیب اور ملحدانہ تمدن کو اختایر کرنا ان سب کی ممانعت فرما دی گئی۔ زیر نظر آیت میں لا تفسدوا کے ساتھ بعد اصلاحھا کے الفاظ ارشاد فرما کر اس فعل کی شناخت کو مزید واضح کردیا یعنی ملک میں فساد پیدا کرنا بجائے خود سب سے بڑا جرم ہے لیکن یہ جرم سنگین سے سنگین تر ہوجاتا ہے جب یہ اصلاح کے بعد واقع ہو اس لئے کہ یہ بگڑی ہوئی چیز کو بگاڑنا نہیں بلکہ بنی ہوئی چیز کو بگاڑنا ہے۔ ہمارے بہت سے اجتماعی مصلحین کو یہ اصول سمجھنے میں سخت غلطی لگی جس کے سبب سے وہ افراط وتفریط میں مبتلا ہوگئے جو لوگ خود تعصب میں مبتلا رہے انہوں نے ہمیشہ ہر غالب قوم کے غلبہ کو اس کی چیرہ دستی پر محمول کیا وہ اپنے تعصب کے سبب سے نہ تو اس اخلاقی برتری کو دیکھ سکے جو غالب قوم کے اندر موجود تھی اور نہ اس اخلاقی ضعف پر ان کی نظر پڑی جو ان کے اپنے اندر پایا جاتا تھا۔ اس طرح جو لوگ مرعوب ذہن کے تھے انہوں نے ہر غالب کے غلبہ کو اس کے برحق ہونے کی دلیل سمجھا اور اس کے ہاتھوں جو فساد و باطل بھی دنیا میں برپا ہوا اس کو نظام حق سمجھ کر اس کے گن گانے لگے اور اس افراط وتفریط کا اثر قومی تاریخ پر یہ پڑا کہ وہ بالکل غلط طریقہ پر مرتب ہوگئی جس سے صحیح نتائج نکالنا اور ان سے اجتماعی اصلاح میں فائدہ اٹھا ناممکن ہوگیا اور اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة محمد میں آئے گی۔ لیکن اس جگہ ایک اور طریقہ سے بھی نظر ڈال لو اور دیکھو کہ یہ سارا جہان اور اس کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز سب مالک الملک والملکوت کی بنائی ہوئی اور اسی کے تابع فرمان ہے۔ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان رہتا ہے تو یہ سب چیزیں انسان کی صحیح صحیح خدمت گار ہوتی ہیں اور جب انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگے تو دنیا کی ساری چیزیں ؟ ؟ ؟ انسان کے استعمال میں رہتی ہیں پانی اس کے حلق میں اترے تو پیاس بجھانے سے انکار نہیں کرتا ، کھانا اس کی بھوک رفع کرنے سے نہیں رکتا ، لباس اور مکان اس کی سردی گرمی کی آسائشوں کو مہیا کرنے سے انکار نہیں کرتے لیکن عواقب اور نتائج کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز اپنا کام پورا نہیں کر رہی کیونکہ اصل مقصد ان تمام چیزوں اور ان کے استعمال کا یہ ہے کہ انسان کو آرام و راحت میسر آئے اس کی پریشانی اور تکلیف دور ہو اور بمانریوں سے صحت یاب ہو۔ لیکن ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ آج کل سامان راحت اور سامان شفاء کی زائد از قیاس فراوانی کے باوجود انسانوں کی اکثریت پریشانیوں اور بیماریوں کا شکار ہے۔ نئے نئے امراض ، نئی نئی مصیبتیں بارش کی طرح برس رہی ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا انسان اپنی جگہ مطمئن اور آسودہ نہیں بلکہ جوں جوں یہ سامان بڑھتے جاتے ہیں اسی انداز سے مصائب و آفات اور امراض اور پریشانیاں بڑھتی جاتی ہیں گویا : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی آج کا انسان اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کی ہرچیز سے استفادہ کر رہا ہے اور وہ برق و بھاپ اور دوسری رنگینیوں سے اس قدر مسحور ہوچکا ہے کہ وہ ان ساری چیزوں کو پیدا کرنے والے اور ان کے اندر ان تاثیرات کے رکھنے والے کو بالکل بھول گیا ہے اور کبھی اس کو بھول کر بھی یاد نہیں آیا کہ یہ چند چیزوں کو جوڑ کر جو میں نے ایک چیز تیار کی ہے اس میں میرا کتنا کمال ہے اور ان چیزوں کے پیدا کرنے والے کا کتنا حصہ اور کتنا کمال ہے اور پھر یہ جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اور جو جو مصنوعات میں نے ایجاد کیں ان کا اصل مقصد تو راحت و آرام پہنچانا تھا لیکن جو کچھ ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ جو راحت و آرام حاصل تھا وہ بھی اڑ گیا اور اس طرح میں فیل و ناکام ہوگیا اس کی وجہ کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وجہ بجز اس معنوی اور باطنی سبب کے نہیں ہے کہ ہم نے اپنے رب ومالک کی نافرمانی اختیار کی تو اس کی مخلوق نے اس معنوی طور پر ہم سے نافرمانی شروع کردی۔ چوں از و گشتی ہمہ چیز از تو گشت اس مضمون کو مولانا روم (رح) نے اس سے بہت پہلے اس طرح قلم بند کیا تھا : خاک وباد وآب و آتش بندہ اند ۔ بامن وترمردہ باحق زندہ اند یعنی اس دنیا کی یہ سب چیزیں اگرچہ بظاہر بےجان و بےشعور نظر آتی ہیں لیکن حقیقت میں اتنا ادراک ان میں بھی موجود ہے کہ وہ مالک کے تابع فرمان کام کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ جب غور سے دیکھا جائے تو ہر گناہ اور اللہ تعالیٰ سے غفلت اور اس کی ہر نافرمانی دنیا میں نہ صرف باطنی فساد پیدا کرتی ہے بلکہ ظاہری فساد بھی اس کا لازمی ثمرہ ہے اور اس بات پر قرآن کریم اور ارشادات رسول اللہ ﷺ واضح ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ دعا کے دو آداب اس آیت سے پہلی آیت میں بتلائے گئے تھے۔ ایک یہ کہ دعا عاجزی اور تضرع کے ساتھ کی جائے اور دوسرے یہ کہ دعا آہستہ اور خفیہ کی جائے اور ان دونوں صفتوں کا تعلق انسان کے ظاہری جسد سے ہے کیونکہ تضرع کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی ظاہری ہیئت بوقت دعا عاجزانہ اور فقیرانہ بنائے متکبرانہ یا بےنیازانہ نہ بنائے اور خفیہ ہونے کا تعلق بھی منہ اور زبان سے ہے۔ زیر نظر آیت میں دعا کے لئے دو آداب باطنی اور بتلائے گئے جن کا تعلق انسان کے دل سے ہے وہ یہ کہ دعا کرنے والے کے دل میں اس کا خطرہ بھی ہونا چاہئے کہ شاید میری دعا قبول ہو یا نہ ہو اور ان دونوں حالتوں کے درمیان رہنے کی ہدایت فرمائی گئی اور وہ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا : ” یقیناً اللہ کی رحمت ان سے نزدیک ہے جو نیک کردار ہیں۔ “ یعنی دعا کی عدم قبولیت کا کوئی خطرہ ہو سکتا ہے تو وہ اپنی بد اعمالی اور گناہوں کی نحوست سے ہو سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہونے کے لئے محسن یعنی نیک عمل ہونا بھی ضروری ہے اور ہر اعتدال نیکی ہے اور تجاوز برائی ہے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور یہ اس کی کارفرمائی ہے کہ باران رحمت سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے کہ خوشخبری پہنچا دیں پھر جب وہ بوجھل بادل لے اڑتی ہیں تو انہیں کسی مردہ زمین کی بستی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے پھر ان سے پانی برساتا ہے اور زمین سے ہر طرح کے پھل پیدا کردیتا ہے اس طرح ہم مردوں کو زندہ کردیتے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

امید وبیم دونوں میں اللہ کی ذات ہی کو مرجع بنانے کی تمثیل بارش سے : 68: رحمت سے مرا اس جگہ بارش ہے اور قرآن کریم میں بارش کے لئے یہ لفظ اکثر مقامات پر استعمال ہوا ہے اور یہ تمثیل ہے اس بات کی کہ خوف وطمع دونوں ہی حالتوں میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ رحمت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ بارش پر تمام دنیا کی زندگی کا انحصار ہے لیکن ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایک قطرہ اس کا اس زمین پر ٹپکا دے۔ یہ اللہ ہے جو پہلے ہمارے علاقے کے مطابق مون سون لانے والی ہوائیں چلاتا ہے جو بھاری بادلوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بےآب وگیاہ علاقوں کی طرف ہانک دیتا ہے اور وہ اللہ کے حکم کے مطابق وہاں پانی برسا دیتی ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے ؟ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگتی ہے۔ ہر قسم کے پھل اور ہر قسم کی فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ ” لبلد میت “ بلد کے معنی شہر اور میت کے معنی مردہ۔ مراد اس سے یہ ہے کہ جو پانی نہ ہونے کے باعث ویران زمین ہوچکی تھی اس کو آن کی آن میں ہم نے زندہ کردیا اور اس جگہ بجائے عام زمین کے خصوصیت کے ساتھ شہر اور بستی کا ذکر کرنا اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اصل مقصد برق و باران اور ان سے زمین کی سیرابی کا انسان کی ضروریات مہیا کرنا ہے۔ جس کا مسکن شہر یا بستی ہی ہو سکتا ہے۔ ورنہ جنگل کی سرسبزی خود کوئی مقصد نہیں ہے۔ آیت زیر نظر اس کے اس مضمون سے چند اہم چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔ (1) ۔ یہ کہ بارش بادلوں سے برستی ہے جیسا کہ روزمرہ زندگی میں مشاہدہ ہوتا ہے اور جن آیات میں آسمان سے بارش برسنا مذکور ہے وہاں بھی لفظ ” سماء “ سے بادل ہی مراد ہے اور اونچائی کے باعث اس کو ” سماء “ کہا گیا ہے اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ کسی وقت ان زمینی بخارات کی بجائے آسمان سے بادل پیدا ہونا شروع ہوجائیں اور اس وقت براہ راست آسمان کا لفظ بارش کے لئے درست ثابت ہوجائے۔ (2) ۔ یہ کہ بادلوں کا کسی خاص سمت اور خاص زمین کی طرف جانا یہ براہ راست حکم خداوندی ہے وہ جب چاہے اور جس قدر چاہے اپنے قانون کے مطابق ان کو بارش برسانے کا حکم دے دے کیونکہ بادل براہ راست فرمان الٰہی کی تعمیل کرتے ہیں جس طرح دنیا کی ہرچیز اس کے حکم کی تعمیل کر رہی ہے اس نے کسی انسان کے اختیار میں یہ حکم نہیں دیا ہاں ! اس کے لئے جو قانون بنایا ہے وہ بھی اس نے کسی کے مشورہ سے نہیں بنایا۔ اس کا مشاہدہ ہر وقت اور ہر جگہ اس طرح ہوتا رہتا ہے کہ بسا اوقات کسی شہر یا بستی یا علاقہ پر بھاری بادل چھایا رہتا ہے اور وہاں بارش کی ضرورت بھی نظر آتی ہے لیکن وہ بادل یہاں ایک قطرہ پانی کا نہیں برساتا بلکہ یہ کو ٹہ جس شہر یا بستی کا مقرر ہوتا ہے وہیں جا کر برستا ہے۔ کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ اس بادل سے جہاں چاہے پانی حاصل کرلے۔ موسمیات کے جتنے محکمے بنائے گئے ان کے سب کے سب اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ سے کسی چیز کا اندازہ کرنا یا اندازہ لگانا اس کی پختہ عادت پر دال ہے نہ کہ اندازہ کرنے والے کے کسی کمال پر۔ اب اس سے استشہاد فرمایا جا رہا ہے کہ : ” اس طرح ہم مردوں کو زندہ کردیں گے تاکہ تم غور وفکر کرو۔ “ مطلب کیا ہوا ؟ یہ کہ جس طرح ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں سے درخت اور پھل پھول نکالے اسی طرح بروز قیامت ہم مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے کھڑا کریں گے اور یہ مثالیں ہم نے اس لئے بیان کی ہیں تاکہ تم سوچو اور غوروفکر کرو۔ یعنی جس طرح تم ایک بات کو روزانہ آنکھوں سے دیکھتے ہو اور اس کا ہونا اور اس کا سبب تم کو مشاہدہ سے معلوم ہوچکا ہے بالکل اسی طرح ایک چیز جو کل کو ہونے والی ہے اور آج تم کو وہ نظر نہیں آتی اس لئے کہ اس کے اسباب اتنے خفیہ اور اتنے لطیف ہیں کہ اس وقت نظر نہیں آتے اس کو بغیر دیکھے تسلیم کرنا بھی تمہارے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح مشاہدہ میں آنے والی بات۔ اس لئے کہ اس کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے۔ ” تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ “ یعنی یہ تکوینی داستان تم کو اس لئے سنائی گئی ہے تاکہ تم اس مشاہدہ فطرت سے توحید الٰہی اور مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال کرسکو اور تمہارے لئے ایک ہونے والی بات کا یقین پیدا ہوجائے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور دیکھو اچھی زمین اپنے پروردگار کے حکم سے اچھی پیداوار ہی نکالتی ہے لیکن جو زمین نکمی ہے اس سے کچھ پیدا نہیں ہوتا مگر یہ کہ نکمی چیز پیدا ہو اس طرح ہم نشانیاں ان لوگوں کے لیے دہراتے ہیں جو شکر کرنے والے ہیں

اچھی چیز کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے تو یقیناً بری چیز کا نتیجہ بھی برا ہی ہوگا : 69: ” طیب “ اور ” خبیث “ کے الفاظ جس طرح معنوی و اخلاقی اعتبار سے خبیث و طیب کے لئے آتے ہیں اسی طرح مادی اعتبار سے خبیث و طیب کے لئے بھی آتے ہیں۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ ” بلد الطیب “ سے مراد ذرخیز اور ذی صلاحیت زمین اور ” والذی خبث “ سے بنجر اور شور زمین ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگرچہ باران رحمت کا فیض ہر شہر ، ہر زمین پر یکساں ہوتا ہے لیکن نتائج اور ثمرات کے اعتبار سے زمین کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک عمدہ اور اچھی زمین جس میں نشو ونما کی صلاحیت ہے اس میں تو ہر طرح کے پھل پھول نکلتے ہیں اور فوائد حاصل ہوتے ہیں دوسری وہ سخت یا کھاری زمین جس میں روئیدگی کی صلاحیت نہیں اس میں اول تو کچھ پیدا ہی نہیں ہوتا پھر اگر کچھ ہوا بھی تو وہ بہت کم مقدار میں ہوتا ہے اور جتنا پیدا ہوتا ہے وہ بھی بیکار اور خراب ہوتا ہے یعنی خار وخس کی طرح۔ اسی طرح قرآن کریم کی صورت میں جو رحمت آسمان سے برسی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ استعداد وصلاحیت کے اعتبار سے پہنچے گا۔ جن کی فطری صلاحیتیں زندہ ہیں تو وہ باغ و چمن کی طرح لہلہا اٹھیں گے لیکن جنہوں نے اپنی صلاحیتیں ضائع کردی ہیں ان سے عناد وعداوت کے خار و خس کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہ رکھو۔ یہی حقیقت ایک حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی تمثیل یہ ہے کہ ” کسی خطہ زمین پر بارش ہو تو جو ٹکڑا زرخیز ہوتا ہے وہ پانی کو قبول کرلیتا ہے تو اللہ اس سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے لوگ اس سے پیتے ہیں ، کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور اپنی فصلیں بوتے ہیں۔ اسی طرح کوئی ٹکڑا ہوتا ہے جو محض چٹیل ہوتا ہے نہ پانی کو روکتا ہے نہ سبزا اگاتا ہے۔ یہ تمثیل ان لوگوں کی ہے جو دین کی سمجھ حاصل کریں اور ان کو نفع پہنچے اس چیز سے جو اللہ نے مجھے دے رکھی ہے بس وہ سیکھیں اور سکھائیں اور ان لوگوں کو جو اس کی طرف توجہ نہ کریں اور اس ہدایت کو قبول نہ کریں جس کو لے کر میں آیا ہوں۔ “ (بخاری ومسلم ) دیکھو کہ ایک ہی بارش کی تمثیل سے کتنے حقائق آشکارا ہوگئے تو حید کی دلیل بھی سامنے آگئی ، امکان معاد اور وقوع قیامت کی نظیر بھی مل گئی اور ہدایت وضلالت کے باب میں جو سنت اللہ مقرر ہے وہ بھی نمایاں ہوگئی گویا سورة کے آغاز سے یہاں تک جو مسائل زیر بحث آئے تھے اصولاً وہ سب ہی بےنقاب ہوگئے۔ یہ کائنات پروردگار نے بنائی ہی ایسی ہے کہ اگر انسان دیدہ بینا رکھتا ہے تو پتا پتا ، بوٹا بوٹا ان حقائق کی شہادت دے رہا ہے جن کی دعوت قرآن کریم دے رہا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان کہاں ہیں ؟ ایک بار آیت کے مضمون پر پھر غور کرو فرمایا جس طرح بارش برسنے سے اچھی زمین رشک جناں بن جاتی ہے اور ردی اور شور زمین میں تھور اور سیم کا اضافہ ہوجاتا ہے اور زمین کے اس ٹکڑے پر جہاں گند کا ڈھیر پڑا ہوتا ہے اس کو منتفعن کردیتی ہے اس طرح نبوت کے فیض تربیت سے اچھی استعداد والے فائدہ اٹھا کر صدیقیت اور فاروقیت کے مناصب رفعیہ پر فائز ہوجاتے ہیں اور بد طینت اور خبث فطرت اس ابر کرم کی برکت سے نہ صرف یہ کہ محروم ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی شرپسندی خبث باطن جو مصلحت اور فریب کے نقابوں میں مستور ہوتا ہے بےنقاب ہوجاتا ہے اور ان کی اخلاقی پستی اور گندی ذہنیت اپنے گند کی وجہ سے ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ اس بات کو شیخ سعدی (رح) نے اس طرح بیان کیا ہے : باراں کہ لطافت طبعش خلافت نیست ۔ ارباغ لالہ ردید ودر شورہ بوم وخس ” بِاِذْنِ رَبِّهٖ 1ۚ“ کا ٹکڑا بڑھا کر یاد دلا دیا کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے آپ ہی آپ اس مشین کی طرح نہیں ہوتا رہتا بلکہ کوئی اس نظام فطرت کا ناظم منظم بھی ہے اور جو کچھ ہوتا ہے سب اس کی مشیت تکوینی سے ہوتا ہے۔ فرمایا : ” یہ نشانیاں ہم ان لوگوں کے لئے دہراتے ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔ “ قرآن کریم میں ” تَصْرِیْفِ “ کا لفظ ہوائوں اور آیات کے لئے استعمال ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہوائوں کی گردش سے اس کائنات میں قدرت و حکمت اور رحمت ونقمت کے گوناں گوں پہلو ظہور میں آتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اس قرآن کریم کے ذریعے سے اپنی نشانیاں گوناں گوں پہلوئوں سے نمایاں کرتا ہے تاکہ لوگ ان کو سمجھیں ، پہچانیں اور ان کی قدر کریں۔ اس کے بعد انذار کا وہ مضمون ہو اوپر سے چلا آرہا ہے تاریخی دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور عرب کی پچھلی قوموں میں سے ایک ایک کو لے کر دکھایا ہے کہ کس طرح اللہ نے ان کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا لیکن انہوں نے اقتدار حاصل کر کے ناشکری کی روش اختیار کی۔ آگے جن قوموں کی سرگزشتیں آرہی ہیں اہل عرب ان سے واقف تھے لیکن یہ واقفیت دھندلی اور مبہم روایات کی شکل میں تھی۔ قرآن کریم نے یہ ابہام کا پردہ اٹھا کر تاریخ کو از سر نو زندہ کیا اور ان کو دعوت دی کہ کان کھول کر ان سرگزشتوں کو سنیں اور عبرت حاصل کریں۔ یہ صرف دوسروں ہی کی حکایت نہیں ہے بلکہ یہ خود ان کی اپنی حکایت بھی ہے اور اس جگہ نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت سے سلسلہ کلام شروع ہو رہا ہے۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

یہ واقعہ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی بندگی کرو ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہیں پیش نہ آجائے

نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرنے کا حکم : 70: سیدنا نوح (علیہ السلام) جو لامک کے بیٹے تھے قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں۔ زمانہ کی تعیین دشوار ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کا زمانہ 3800 ق م تا 2850 ق م سمجھا جاتا ہے۔ توریب کی کتاب پیدائش میں ان کا مفصل ذکر باب 5 سے باب 9 تک آتا ہے۔ البتہ اس میں آپ کے مناقب کے ساتھ ساتھ مثالب بھی موجود ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ملک عراق میں آباد تھے اور دنیا کی ہر جاہلی قوم کی طرح گو وہ خود اپنے آپ کو مہذب قرار دیں شرک میں مبتلا تھے بلکہ مشرک ہونے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت تھے۔ قرآن کریم نے صرف ان انبیاء کرام (علیہ السلام) ہی کا ذکر کیا ہے جن سے نزول قرآن کریم کے وقت لوگ واقف تھے اور ان کی داستانیں ان کے ہاں مشہور ومعروف تھیں۔ ان کے تذکروں کا اصل مطلب یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ رب کریم جس طرح انسان کی حیات ظاہری کی بقا اور اس کی توانائیوں کی نشو ونما کے لئے ضرورت کے وقت بارش نازل فرماتا ہے اور اس سے ہرچیز اپنی استعداد کے مطابق استفادہ کرتی ہے اسی طرح انسان کی روحانی زندگی کے لئے بھی رسالت کا ابر رحمت بارہا امڈ کر آیا اور اس سے ہدایت ربانی کی بارشیں برسیں اور نیک فطرت لوگ اس سے مستفید ہوئے اور بد فطرت لوگ انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت اور عداوت پر اتر آئے اور طرح طرح کی حجت بازیوں کے باعث اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم کردیا۔ چونکہ تمام فساد فی الارض کی جڑ شرک ہے اس لئے کسی قوم کے شرک میں مبتلا ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ نظریات و عقائد اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اعمال واخلاق ہرچیز میں فطرت کی صراط مستقیم سے منحرف ہوگئی اور اب زمین میں اس کا بڑھنا نہیں بلکہ شر و فساد کا بڑھنا ہے اور جب تک یہ قوم باقی رہے گی اس کے ہاتھوں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں فساد ہی کو فروغ ہوگا۔ اس لئے اللہ کے ہر رسول (علیہ السلام) نے اپنی دعوت اس اصل نقطہ سے شروع کی ہے اور یہی اصل وجہ ہے کہ کسی نبی کی دعوت بھی ایسی نہیں جو اس نقطہ سے نہ شروع ہوتی ہو۔ ” میں ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ہی دن کا عذاب تمہیں پیش نہ آجائے۔ “ یہ وہ انذار ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم شرک سے تائب ہو کر خالص اللہ کی عبادت و اطاعت کی راہ پر نہ آگئے تو بس سمجھ لو کہ تم پر ایک ہولناک دن کا عذاب نازل ہوا ہی چاہتا ہے۔ ہولناک دن سے اس جگہ وہ دنیوی عذاب کا ہولناک دن مراد ہے یا قیامت کے دن کا یا دونوں ہی مراد ہیں کیونکہ ہر رسول (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ان دونوں ہی عذابوں سے ڈرنے کی ہدایت کی ہے اور زیادہ تر قرینہ عذاب دنیا ہی کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ اس کو ہولناک دن اس لئے فرمایا کہ رسول کی تکذیب کے نتیجے کے طور پر جو عذاب آتا تھا وہ تذکیر و تنبیہہ کی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ عذاب اس قوم کو جڑ سے کاٹ دیا کرتا تھا۔ جس کے بعد قومی حیثیت سے اس کا نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتا تھا۔ اس لئے اس دن کو یوم عظیم کہا گیا۔
Ayahs 7:60–61

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس پر اس کی قوم کے سربر آوردہ لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تو صریح گمراہی میں پڑگیا ہے

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا بھائیو ! یہ بات نہیں ہے کہ میں گمراہی میں پڑگیا ہوں میں تو اس کی طرف سے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے فرستادہ ہوں

قوم کے سربر آوردہ لوگوں کا نوح (علیہ السلام) کو جواب : 71: نوح (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت الٰہی سنائی ہی تھی کہ قوم کے سر بر آوردہ لوگ فوراً بول پڑے کہ نوح (علیہ السلام) ! تم نے باپ دادا کے دین کی تحقیر شروع کردی ہے جس کا انجام تمہارے حق میں کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ان کا تم نے انکار کیا ہے اس لئے باغی تم ہو لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم ہمیں عذاب کی دھمکیاں سنانے لگے ہو اور تم کو اپنی اور ہماری حالت کا بھی ذرا خیال نہیں آیا کہ ہماری بات کو ہر آدمی سننے والا ہے اور تمہاری اس دعوت پر کوئی بھی کان نہیں دھر سکتا اس لئے کہ یہ بات تو پورے معاشرہ کے لوگوں کے خلاف ہے اور تم اس پوزیشن میں بھی نہیں ہو کہ تمہاری بات سننے کے لئے کوئی تیار ہو۔ یہ بات اس سے قبل کئی دفعہ عرض کی جا چکی ہے کہ ہر صححز ، سچی اور اصلاحی تحریک کی مخالفت میں سب سے پیش پیش قوم کے امراء اور اہل وجاہت ہی ہوتے رہے ہیں یہی تاریخ کا تجزیہ ہے۔ اسی کو قرآن کریم نے ہر تحریک میں واضح فرمایا ہے اور اس کو نمایاں جگہ پر رکھا ہے تاکہ ہر قوم کے لوگوں کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ اس وقت جو کچھ ہم کر رہے ہیں ہم سے پہلے بہت قوموں کے سردار کرچکے ہیں اور پھر ہمارا بھی انجام وہی ہوگا جو ہم سے پہلوں کا ہوچکا لیکن بہت ہی کم لوگ ہوئے جنہوں نے اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی اور ہر قوم کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو پہلی کے ساتھ ہوچکا تھا۔
Ayah 7:62

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

میں اپنے پروردگار کا پیغام تمہیں پہنچاتا ہوں اور پند و نصیحت کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے اس بات کا علم رکھتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں

نوح (علیہ السلام) نے قوم کو کہا کہ میں ضلالت میں مبتلا نہیں ، میں تو اللہ کا رسول ہوں : 72: نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے تو تم کو اللہ رب العالمین کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے اپنی طرف سے تمہارے ساتھ نہایت حد تک خیر خواہی کی کہ تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کے باوجود تم کو اللہ کا پیغام سنایا لیکن تم نے مجھے اور میرے پیغام کو جھٹلانے کی قسم کھا رکھی ہے اور میری دل آزاری اور ناقدری ، دشمنی اور بیزاری کے لئے تم پوری قوم متحد ہوچکے ہو لیکن تمہارا یہ اتحاد تمہارے حق میں کبھی مفید ثابت نہیں ہوگا اور انجام کار تم ضرور عذاب الٰہی میں پکڑے جانے والے ہو اور مجھے تمہارا غم کھائے جا رہا ہے کہ تم اللہ کی اس سخت پکڑ میں نہ آجائو جس کا وہ بار بار میری زبان سے اعلان کرا چکا ہے اور یہ کہ تم کو ایک لمبی مدت تک وقت دیا گیا تھا لیکن تم نے اس سے ذرا بھی فائدہ حاصل نہ کیا اور میرے جھٹلانے کے لئے نت نئے منصوبے تم بناتے رہے لیکن میں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے اس لئے کہ تمہارے پاس علم الٰہی میں سے کچھ بھی نہیں اور باپ دادا کا نام تم کو کوئی سہارا نہیں دے سکے گا۔ تم ظاہری پھوں پھاں اور چمک دمک کے ساتھ اگر اپنے ان قومی روگوں سے واقف ہوتے جن میں تم من حیث القوم سارے کی ساری قوم مبتلا ہو تو تم کو اندازہ ہوتا کہ میں تم سے کتنی سچی بات کہہ رہا ہوں جس کو تم سارے جھوٹوں سے بڑا جھوٹ قرار دے رہے ہو۔ تم یہ عام سی بات بھی نہیں سمجھ رہے کہ میں اللہ کا رسول (علیہ السلام) ہوں اور اللہ کا رسول (علیہ السلام) کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا اور میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر اچنبھا ہو رہا ہے کہ تمہارے پروردگار کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تمہیں پہنچی جو تم ہی میں سے ہے ؟ اور اس لیے پہنچی تاکہ خبردار کر دے اور تم برائیوں سے بچو اور رحمت الٰہی کے سزاوار رہو

کیا تم کو ایک انسان پر وحی الٰہی کے تعجب نے متعجب کردیا ہے : 73: مشرک قوموں کی الٹی سمجھ میں اوتار ، پیر اور مرشد کو سب کچھ عطا ہونے کا عقیدہ تو آجاتا ہے لیکن خالق کائنات کے الٰہ ہونے کا مسئلہ وہ نہیں سمجھ سکتیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ جو بات انہوں نے اپنے باپ دادا سے سنی ہوتی ہے اس کے لئے کسی دلیل کی کبھی ان کو ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہی ان کے لئے سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ ان کو اللہ کا رسول (علیہ السلام) جب ایک انسان اور ان کی اپنی نسل سے تعلق رکھنے والا نظر آتا ہے تو وہ اپنی انسانیت سے باہر نہیں جاسکتے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ جب ہم بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی ضرورت کے ایک قدم بھی چلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو یہ ہمارے جیسا انسان ہو کر بغیر کسی لالچ کے یہ پیغام کیسے سنا سکتا ہے اور پھر یہی خیال ان کی بڑی گمراہی کا باعث بنتا ہے وہ رسول (علیہ السلام) کو ایک انسان دیکھ کر اس کی رسالت سے صاف انکار کردیتے ہیں اور طرح طرح کے اوہام ان کا پیچھا کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہاتھ ہے جو اس سے یہ کرا رہا ہے اور کوئی نہ کوئی دائو ضرور اس میں موجود ہے ہماری ہی جنس اور ہماری ہی قوم سے تعلق رکھنے والا ایک انسان رسول کیسے بنا دیا گیا جب کہ اس کے لئے ہم پر کوئی فضیلت مال اولاد بھی اس کو حاصل نہیں ؟ چونکہ وہ ایک غریب انسان ہے ، وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مجھ کو اقتدار مل جائے اس لئے اس نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے یہ تحریک اٹھائی ہے۔ ایسا کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے رسالت کی حقیقت کو نہ سمجھا اور کبھی سمجھنے کی کوشش بھی نہ کی۔ اس اسلوب بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ اگر تم سوچتے ، غرور انانیت کو راہ نہ دیتے تو یہ چیز تمہارا لئے تعجب اور استکبار کے بجائے ممنونیت اور شکر گزاری کا باعث ہوتی کہ اللہ نے تمہارے ہی اندر سے ایک شخص کو تمہیں نجات کی راہ دکھانے کے لئے اٹھایا۔ میں تمہارے لئے کوئی اجنبی شخص نہیں۔ میرا ماضی و حاضر اور میرا اخلاق و کردار سب تمہارے سامنے ہے۔ میری زبان تمہاری زبان اور میرا دل تمہاری اپنی فطرت کا ترجمان ہے۔ مجھے اللہ نے تم ہی میں سے انتخاب کیا ہے کہ تم کو اس دن کے عذاب سے ڈرائوں جس دن ہر انسان کے کسب کو اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا کہ یہ سب تمہارا کیا کرایا ہے اور پھر وہ ایسا دن ہوگا جب کسی کو کوئی مہلت نہیں دی جائے گی اس لئے کہ تم کو تمہارے کئے پر فوراً نہیں پکڑا جا رہا تاکہ تم جو کچھ کرنا چاہتا ہو بےدھڑک کرلو اور کل کو تمہیں کسی طرح کا کوئی عذر باقی نہ رہے اور اگر تم فرشتوں کے منتظر رہے تو فرشتے تو بہرحال آئیں گے لیکن اس کے بعد تمہیں کوئی مہلت اور ڈھیل نہیں دی جائے گی اس لئے کہ یہ قانون خداوندی کے بالکل خلاف ہے اور اللہ اپنے قانون کے خلاف کبھی نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ یہ مہلت کی گھڑیاں تمہارے لئے جب ہی مفید ہو سکتی ہیں کہ ان گھڑیوں میں تم اپنی روش بدل لو ، تم اللہ کی رحمت کو تلاش کرو تو یقیناً اس کو رحم کرنے والا پائو گے لیکن اس نے اس کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو پھر کسی کے لئے کوئی مہلت نہیں ہوگی۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

بایں ہمہ لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس ہم نے اسے اور ان سب کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں انہیں غرق کردیا ، حقیقت یہ ہے کہ وہ یک قلم اندھے ہوگئے تھے

قوم نے نوح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور نہ ماننے والوں کا جو انجام طے تھا وہ ہوگیا : 74: انجام کار وہ بات ہو کے رہی جس سے نوح (علیہ السلام) نے قوم کو متنبہ کیا تھا۔ جب قوم نے ایک بار تکذیب کردی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل جدو جہد کے بعد بھی اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوئی تو ان لوگوں کے سوا جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو دل وجان سے قبول کیا اور اس کی کشتی میں سوار ہوگئے باقی سب کے سب کو اللہ نے غرق کر کے رکھ دیا۔ یہ کشتی اللہ کے حکم سے تیار کی گئی اور وحی الٰہی نے ہدایات کے مطابق کشتی تیار کروائی اور نوح (علیہ السلام) کو اس کشتی کے بنانے کا حکم دیا گیا۔ جب بنوا رہے تھے تو لوگ ان پر پھبتیاں کستے تھے کہ یہ شخص عقل کھو بھاق ہے کہ ایسا کام شرو ع کردیا جس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی لیکن نوح (علیہ السلام) اللہ کی ہدایت کے مطابق کام کرتے کراتے رہے تا آنکہ وہ بیڑا مکمل ہوگیا اور اللہ نے آسمان و زمین پر حکم نازل فرمایا کہ بس اب پانی پانی کردیا جائے تو ایسا طوفان امڈا کہ وقت معین پر پانی پانی کر کے رکھ دیا گیا۔ یہ دجلہ وفرات کا درمیانی حصہ اس طوفان سے دو چار ہوگیا جسے طوفان نوح (علیہ السلام) کے نام سے آج بھی بچہ بچہ واقف ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اس علاقے میں سوائے ان معدودے چند آدمیوں کے ایک انسان بھی نہ بچ سکا جس کی پیش گوئی نوح (علیہ السلام) کی زبان سے کرائی گئی تھی۔ نوح (علیہ السلام) کی دعوت ایک عرصہ بعید تک جاری رہی لیکن قوم نے سوائے چند معدودے چند آدمیوں کے ایک نہ مانی حتیٰ کہ نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا اور بیوی بھی طوفان نوح (علیہ السلام) کی نذر ہوگئے۔ قرآن کریم کے بیان کے مطابق نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کو کشتی پر سوار ہونے کی دعوت دی جس کو بیٹے نے تسلیم نہ کیا اور انجام کار نوح (علیہ السلام) کی آنکھوں کے سامنے آپ کا لخت جگر ڈوب کر رہ گیا۔ آپ (علیہ السلام) کی داستان بہت سبق آموز اور دردناک ہے لیکن اس جگہ بالکل اختصار سے بیان کی گئی ہے اس کی تفصیل انشاء اللہ کسی دوسرے مقام پر ہوگی۔ نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ تین منزل اونچی تھی اور اس کی پیمائش کے متعلق تورات کا بیان اس طرح ہے کہ ” اس کی لمبائی تین سو ہاتھ اور اس کی چوڑائی پچاس ہاتھ اور اس کی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی۔ “ (پیدائش 6 : 15 ) اور تورات ہی کے بیان کے مطابق یہ جہاز 150 دن یعنی پانچ مہینے برابر پانی پر چلتا رہا۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور ہم نے قوم عاد کی طرف اس کے بھائی بندوں میں سے ہود (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا اے قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم نہیں ڈرتے ؟

ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت اور آپ (علیہ السلام) کی قوم کا مختصر ذکر : 75: ” عرب کی قدیم اقوام میں سے ہیں ان کا تعلق سامی نسل سے ہے اور ان کا مسکین جنوبی عرب میں احقاف کا علاقہ تھا۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کے پیشروئوں نے جنوبی عرب کی طرف ہجرت کی اور وہاں رفتہ رفتہ بڑی قوت شوکت حاصل کرلی۔ عرب کے لٹریچر میں یہ اپنی قدامت کے لئے بھی ضرب المثل تھے اور اپنے دبدبہ اور رعب کے لئے بھی اس قوم میں حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق حسب نسب کے لحاظ سے اس قوم سے تھا اور جس طرح ہر نبی (علیہ السلام) اپنی قوم ہی کا ایک فرد تھا اس طرح یہ بھی اپنی قوم ہی کے ایک فرد تھے۔ ہود (علیہ السلام) نے بھی نوح (علیہ السلام) کی طرح اپنی قوم کو پہلا سبق توحید ہی کا سنایا اور فرمایا کہ ” اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم نہیں ڈرتے ؟ “
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

اس پر قوم کے سربر آوردہ لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا تھا کہا ہمیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم حماقت میں پڑگئے ہو اور ہمارا خیال یہ ہے کہ تم جھوٹ بولنے والوں میں سے ہو

قوم عاد نے اپنے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کو یہ جواب سنایا : 76: قوم عاد میں چند ہی لوگ تھے جو ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے باقی سب کے سب لوگوں نے سرکشی کی اور ان پر حضرت ہود (علیہ السلام) کی نصائح سخت شاق گزرتی تھیں اور وہ یہ نہیں برداشت کرسکتے تھے کہ ان کے عقائد و اعمال غرض ان کے کسی ارادہ میں بھی کوئی شخص حائل ہو اور ان کے لئے ناصح ومشفق بنے۔ اس لئے اب انہوں نے یہ روش اختیار کی کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا اور ان کو برملا بیوقوف کہا اور ان کی معصومانہ حقایتوں اور صداقتوں کی تمام یقینی دلائل وبراہین کو جھٹلانا شرو ع کردیا اور حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ” ہمیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم حماقت میں پڑگئے ہو اور یہ بھی کہ تم جھوٹ بولنے والوں سے ہوگئے ہو۔ “ یعنی ہم تمہارے ڈھونگ میں آنے والے نہیں کہ تجھ کو اللہ کا رسول مان لیں اور اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑ کر یہ یقین کرلیں کہ وہ خدائے اکبر کے سامنے ہمارے سفارشی نہیں ہوں گے۔ گویا کہ ان کی قوم نے بھی ہر قوم کے ” روشن خیالوں “ یعنی چوہدریوں اور وڈیروں کی طرح وہی جواب دیا جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نوح (علیہ السلام) کو دے چکی تھی۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سارے انبیاء کرام کی تعلیم بھی ایک جیسی تھی اور سارے نبیوں کی قوموں نے ایک ہی جیسا جواب بھی دیا اور جس طرح سارے نبیوں کو بیوقوف کہا گیا اسی طرح ان کو بھی ان کی قوم نے یہی خطاب دیا۔
Ayah 7:67

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

ہود (علیہ السلام) نے کہا بھائیو ! میں احمق نہیں ہوں میں تو اس کی طرف سے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے فرستادہ ہوں

ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو میں تو اللہ کا رسول (علیہ السلام) ہوں : 77: حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں نہ بیوقوف ہوں اور نہ پاگل بلکہ میں تو اللہ کا رسول (علیہ السلام) ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کسی بیوقوف کو منتخب نہیں کرتا کہ اس کا نقصان کے نفع سے بڑھ جائے اور ہدایت کی جگہ گمراہی آجائے۔ وہ اس عظیم الشان خدمت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو چنتا ہے جو ہر طرح اس کا اہل ہو اور اس خدمت حق کو بخوبی انجام دے سکے جیسا کہ اس نے خود قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ” اللہ خوب جاننے والا ہے کہ اپنے منصب رسالت کو کس جگہ رکھے۔ “ لیکن قوم کی سرکشی اور مخالفت بڑھتی ہی رہی اور ان پر آفتاب سے زیادہ روشن دلائل ونصائح کا مطلق کوئی اثر نہ ہوا اور وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی تکذیب وتذلیل کے اور زیادہ درپے ہوگئے اور ان کو مجنون اور خبطی کہہ کر اور زیادہ مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے کہ اے ہود ! تیری باتوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں اور تیری باتوں کو مان کر ہم اپنے باپ دادا کی باتوں کی تکذیب نہیں کرسکے اور تیری تبلیغ رسالت کی تبلیغ نہیں ہو سکتی کہ تو ایک ہمارے ہی جیسا انسان ہے اور انسان رسول نہیں ہوتا۔
Ayah 7:68

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

اس کا پیام تمہیں پہنچاتا ہوں اور یقین کرو کہ تمہیں دیانتداری کے ساتھ نصیحت کرنے والا ہوں

اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے تمہارے پاس آیا ہوں اور وہی پہنچا رہا ہوں : 78: ہود (علیہ السلام) نے قوم کو بالکل وہی جواب دیا جو اس سے قبل نوح (علیہ السلام) دے چکے تھے۔ یاد رکھو کہ میں تمہارا دشمن نہیں بلکہ دوست ہوں۔ تم سے زر وسیم اور حکومت کا طالب نہیں ہوں بلکہ تمہاری فلاح ونجاح چاہتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کے بارہ میں خائن بھی نہیں بلکہ امین ہوں۔ وہی کہتا ہوں جو مجھ کو کہا جاتا ہے اور جو کچھ کہتا ہوں قوم کی سعادت اور حسن حال ومال کے لئے کہتا ہوں بلکہ دائمی وسرمدی نجات کے لئے کہتا ہوں۔ اے قوم عاد ! اگر تمہارا یہی رویہ رہا اور حق سے اعراض و روگردانی کی روش میں تم نے کوئی تبدیلی نہ کی اور میرے پندو نصائح کو گوش ہوش سے نہ سنا تو تمہاری ہلاکت یقینی ہے جس طرح تم سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) ہلاک ہوچکی اور جس طرح تم کو اس کا خلیفہ بنایا ، تمہارا بھی کسی دوسری قوم کو خلیفہ بنا دیا جائے گا۔ وہ ہرچیز کا براہ راست خود مالک ہے اور وہ خود ہی حافظ ونگہبان ہے اور تمام کائنات کا نظام اس اکیلے کے کنٹرول میں ہے۔ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں تم کو خواب غفلت سے اٹھنے کی نصیحت کروں اور میں پوری دیانتداری کے ساتھ تم کو نصیحت کر رہا ہوں۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تمہیں اس بات پر اچنبھا ہو رہا ہے کہ ایک ایسے آدمی کے ذریعہ تمہارے پروردگار کی نصیحت تم تک پہنچی جو خود تم ہی میں سے ہے ؟ اللہ کا یہ احسان یاد کرو کہ قوم نوح کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تمہاری نسل کو زیادہ وسعت و توانائی بخشی پس چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کی یاد سے غافل نہ ہو تاکہ ہر طرح کامیاب ہو

ایک آدمی کا رسول (علیہ السلام) بن کر آنا تمہارے لئے اچنبھا کی بات کیوں ہے ؟ 79: تم کو اپنی ہی قوم کے ایک انسان پر اللہ کا پیغام نازل ہونے سے اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ تو قدیم سے اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ انسانوں کی ہدایت وسعادت کے لئے ان ہی میں سے ایک شخص کو چن لیتا ہے اور اپنا رسول بنا کر اس سے خطاب کرتا ہے اور اپنی مرضیات نا مرضیات سے اس کی معرفت اپنے بندوں کو مطلع کرتا رہتا ہے اور فطرت کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ جب تک اس نظام کو جاری ساری رکھا جانا علم الٰہی میں موجود ہے اس وقت تک ہادی و رہنما براہ راست اللہ سے منتخب ہو کر آتے رہیں اور جب تک خاتم الانبیاء (علیہ السلام) کی آمد کی نہ ہوئی بدستور یہ سلسلہ جاری رہا۔ رسول (علیہ السلام) کا تعلق اس کی قوم سے کیوں ضروری قرار دیا گیا ؟ اس لئے کہ قوم کی رشد وہدایت کے لئے ایسے شخص کا ہی انتخاب ضروری ہے جو بول چال میں ان ہی کی طرح ہو۔ ان کے اخلاق و عادات کا واقف و دانا ہو۔ ان کے خصوصی امتیازات سے آشنا اور ان ہی کے ساتھ زندگی گزارتا ہو کہ اس سے قوم مانوس ہو سکتی ہے اور وہی ان کا صحیح ہادی و مشفق بن سکتا ہے اور وہی ان کی زبان کے مطابق بول سکتا ہے۔ اے قوم عاد ! اللہ نے تم پر کتنا بڑا احسان کیا کہ قوم نوح (علیہ السلام) کا تم کو خلیفہ بنا دیا : 80: قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد اے قوم عاد (علیہ السلام) ! اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنا دیا تم اس کے اس احسان کو کیوں فراموش کر رہے ہو ؟ لیکن قوم کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور انہوں نے ہود (علیہ السلام) کو حقیر سمجھ کر جھٹلا دیا۔ عاد کو خلافت دئیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو بعینہ اس علاقے میں اقتدار حاصل ہوا۔ نہیں ان دونوں قوموں کا علاقہ بالکل ایک دوسرے سے الگ الگ ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اس خلافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح قوم نوح (علیہ السلام) کو اقتدار و تمکن حاصل ہوا اسی طرح ان کے بعد تم کو حاصل ہوا۔ اس یاد دہانی میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا احسان بھی ان کو یاد دلایا اور ان کو تنبیہہ بھی فرمائی ہے۔ احسان تو واضح ہے کہ جو تمکن و اقتدار قوم نوح (علیہ السلام) کو حاصل تھا وہ ان کو حاصل ہوا اور تنبیہہ یہ ہے کہ جب تم قوم نوح (علیہ السلام) کے اقتدار کے وارث ٹھہرائے گئے ہو تو ان کی سرگزشت اور ان کے انجام کو یاد رکھو اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جس انجام سے وہ دوچار ہوئے تم اس انجام سے بچ جائو۔ اس لئے قانون خداوندی سب کے لئے یکساں ہے۔ جن کاموں کی پاداش میں ان پر عذاب نازل ہوا جب وہی کام تم کر رہے ہو تو لازم ہے کہ تم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہو اور وہ یقیناً نازل ہوگا یا تم کو اپنی روش بدلنا ہوگی۔ قوم نوح (علیہ السلام) سے بڑھ کر تم لوگوں پر اللہ نے مزید احسان یہ کیا کہ ” تمہاری نسل کو زیادہ وسعت و توانائی بخشی “ یعنی تم کو اللہ نے جسمانی اور عقلی دونوں اعتبار سے تفوق و برتری عطا فرمائی۔ عرب کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد صحت جسمانی کے اعتبار سے بھی نمایاں تھی اور اپنے عقلی کارناموں کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی دھاک تھی اور ظاہر ہے کہ جسمانی اور عقلی صحت بھی اللہ تعالیٰ کے بڑے انعامات میں سے ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں آج سے بہت پہلے کئی بار ترقیوں کے دور آئے اور گزر گئے یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی قوم کو اتنا وقت اور ایسا وقت دے دیتا ہے اور وہ قوم یہ سمجھ لیتی ہے کہ ہم چوما دیگر نیست اور وہ وقت وہی ہوتا ہے جب اس کی ہلات قریب ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ سنت اللہ جاری ہے جس کے تحت قوموں کی تاریخ بنتی آئی ہے اور بن رہی ہے۔ آج فی زماننا جو قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ ہم ساری دنیا کو اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں یقیناً اس کی ہلاکت کا وقت بھی قریب آچکا ہے اس لئے کہ وہ وہی کچھ سمجھ رہے ہیں جو پچھلی ہلاک ہونے والی قوموں نے سمجھا اور وہی کچھ کر رہے ہیں جو گزشتہ ہلاک ہونے والی قوموں نے کیا۔ ہم اس وقت کی نشاندہی نہیں کرسکتے کہ وہ کس سن اور کس تاریخ کو آئے گا لیکن حالات کا تقاضا قریب کی نشاندہی کرتا ہے۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہم صرف ایک ہی اللہ کے پجاری ہوجائیں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو وہ بات لا دکھاؤ جس کا ہمیں خوف دلا رہے ہو ؟

قوم نے صاف جواب سنا دیا کہ ہود (علیہ السلام) تمہاری اس بات کو نہیں مانا جاسکتا : 81: عاد قوم نے جب یہ سنا تو وہ عجیب حیرت میں پڑگئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایک خدا کی پرستش کے کیا معنی ؟ وہ غم وغصہ میں آگئے کہ کس طرح ہم باپ دادا کی ریت ” اصنام پرستی “ کو چھوڑ دیں ؟ یہ تو ہماری اور ہمارے باپ دادا کی سخت توہین ہے۔ ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا کہ ان کو کافر اور مشرک کیوں کہا جاتا ہے جب کہ وہ ان بزرگوں کو جن کے بت بنائے گئے ہیں صرف خدا کے سامنے اپنا شفیع مانتے ہیں ؟ کیا ہود (علیہ السلام) ان بزرگوں کی شفاعت کو نہیں مانتا ؟ تو کافر وہ ہوا یا ہم ؟ ان کے نزدیک ہود (علیہ السلام) کی بات مان لینے میں ان کے معبودوں اور بزرگوں کی توہین و تحقیر تھی جن کو وہ خدائے ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ اور شفیع مانتے تھے اور اس کے لئے ان تصویروں اور مجسموں کو پوجتے تھے کہ وہ خوش ہو کر ہماری سفارش کریں گے اور ہمیں عذاب الٰہی سے نجات دلائیں گے۔ انجام کار وہ ایک شعلہ کی طرح بھڑک اٹھے اور حضرت ہود (علیہ السلام) سے بگڑ کر کہنے لگے کہ تو نے ہم کو اپنے خدا کے عذاب کی دھمکی دی ہے اور ہم کو اس سے یہ کہہ کر ڈرایا ہے کہ ” میں تمہارے اوپر بڑے دن کے عذاب آنے سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم اس کے مستحق نہ ٹھہر جائو۔ “ تو اے ہود (علیہ السلام) ! اب ہم سے تیری روز روز کی نصیحتیں نہیں سنی جاتیں ، ہم ایسے ناصح و مشفق سے باز آئے اگر تو واقعی اپنے قول میں سچا ہے تو وہ عذاب جلد لے آ کہ ہمارا تیرا قصہ پاک ہوجائے۔ ” پس لائو ہمارے پاس اس شے کو جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو واقعی سچوں میں سے ہے۔ “
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود (علیہ السلام) نے کہا یقین کرو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب واقع ہوگیا ہے ، کیا ہے جس کی بنا پر تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ؟ محض چند نام جو تم نے اور تمہارے بزرگوں نے اپنے جی سے گھڑ لیے ہیں اور جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری ، اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

ہود (علیہ السلام) نے قوم کو آخری وارننگ دے دی کہ باز آجائو ورنہ عذاب الٰہی آیا کہ آیا : 82: ہود (علیہ السلام) نے قوم کو بالکل صاف صاف جواب سنا دیا کہ اگر میری مخلصانہ اور صادقانہ نصائح کا یہی جواب ہے جو تم نے دے دیا ہے تو سو بسم اللہ ، تم کو عذاب کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو وہ بھی کچھ دور نہیں ” بلاشبہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تم پر عذاب و غضب آپہنچا۔ “ تم کو شرم نہیں آتی کہ تم چند خود ساختہ شخصیتوں کے بتوں کو ان کے نام سے پکارتے ہو اور تم اور تمہارے آباء و اجداد ان کو خدا کی دی ہوئی دلیل کے بغیر من گھڑت طریقہ پر ان کو اپنا شفیع اور سفارشی مانتے ہو اور میرے روشن دلائل سے انحراف اور سرکشی کر کے عذاب کے طالب ہوتے ہو۔ اگر ایسا ہی عذاب کا شوق ہے تو اب تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ وقت قریب آپہنچا ہے۔ ” کیا ہے جس کی بناء پر تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ؟ محض چند نام جو تم نے اور تمہارے بزرگوں نے اپنے جی سے گھڑ لئے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ کے کوئی سند نہیں اتاری ، اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔ “
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں ان کی بیخ و بنیاد تک اکھاڑ دی ، حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی ایمان لانے والے نہ تھے

اب کیا ہوا ؟ جس کو ہونا تھا اس کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوگئے : 83: الحاصل قوم ہود (علیہ السلام) یعنی عاد کی انتہائی شرارت اور بغاوت اور اپنے پیغمبر کی تعلیم سے بےپناہ بغض وعناد کی پاداش عمل اور قانون جزاء کا وقت آپہنچا اور غیرت حق حرکت میں آئی اور عذاب الٰہی نے سب سے پہلے خشک سالی کی شکل اختیار کی۔ عاد (علیہ السلام) سخت گھبرائے ، پریشان ہوئے اور عاجز و درماندہ نظر آنے لگے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو جوش ہمدردی نے اکسایا اور مایوسی کے بعد پھر ایک مرتبہ ان کو سمجھایا کہ راہ حق اختیار کرلو ، میری نصائح پر ایمان لے آئو کہ یہی نجات کی راہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ پچھتائو گے۔ لیکن بدبخت اور بد نصیب قوم پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ بغض وعناد اور دوبالا ہوگیا۔ تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا۔ آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیزو تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو اور ان کی آبادی کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا تنو مند اور قوی ہیکل انسان جو اپنی جسمانی قوتوں کے گھمنڈ میں سرمست سر کش تھے اس طرح بےحس و حرکت پڑے نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تناور درخت بےجان ہو کر گر جاتا ہے۔ غرض ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے عبرت بنیں اور دنیا و آخرت کی لعنت کا عذاب ان پر مسلط کردیا گیا کہ وہ اس کے مستحق تھے اور حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے مخلص پیروان دعوت اسلام کو اللہ کی رحمت و نعمت میں باقی رکھ لیا گیا اور وہ سرکش قوم کی سر کشی و بغاوت سے مامون ہوگئے۔ یہ ہے عاد اولیٰ کی وہ داستان عبرت جو اپنے اندر چشم عبرت بین کے لئے بیشمار پند ونصائح رکھتی ہے اور اللہ رب العالمین کے احکام کی تعمیل میں تقویٰ و طہارت کی زندگی کی جانب دعوت دیتی ہے۔ شرارت و سرکشی اور اللہ کے احکام سے بغاوت کے انجام بد سے آگاہ کرتی اور وقتی خوش عیشی پر گھمنڈ کر کے نتیجہ کی بدبختی پر مذاق اڑانے سے ڈراتی اور باز رکھتی ہے اگر کوئی باز رہنے والا بھی ہو۔ اس جگہ ہود (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کیا گیا اور سورة ہود (علیہ السلام) میں انشاء اللہ آپ کو تفصیل ملے گی اور پورا قصہ بیان کیا جائے گا۔