Ayah 7:180اللہ تعالیٰ کے سب نام ہی اچھے ہیں جو کتاب و سنت میں بیان ہوئے ہیں :
204: گزشتہ آیات میں اہل جہنم کا ذکر تھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ جس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عقل و ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے دیکھنے ، سننے اور سمجھنے سوچنے میں صرف نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوگیا کہ وہ خداداد عقل وبصیرت کو ضائع کر کے ذکر اللہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح و فلاح سے غافل ہوگئے اور جانوروں سے زیادہ گمراہی اور بےوقوفی میں مبتلا ہوگئے ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کی اس گمراہی کا علاج بتایا گیا ہے کہ اس بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ سے دعا اور اللہ کے ذکر کی کثرت سے ہی ممکن ہے ۔ اس لئے کہ وہ سب اچھی تعریفوں کے قابل ہے ۔ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفتوں کا جو تصور ہم میں پیدا کرنا چاہا ہے وہ سر تا سر حسن و خوبی کا تصور ہے ۔ چناچہ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفتوں کو حسنیٰ قرار دیتا ہے یعنی خوبی و جمال کی صفتیں ۔ رہی یہ بات کہ وہ صفتیں کیا کیا ہیں ؟ قرآن کریم نے اکژ جگہ یہ بیان کی ہیں جن کو لوگوں نے شمار کر کے 99 نکالیں ہیں اور ان میں سے ایک ایک کے معانی پر غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن کریم کا تصور کس درجہ بلند اور کامل ہے ۔ صرف ان صفات کے معنی پر تدبر کر کے ہم کائنات ہستی کے بیشمار اسرار و حقائق کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ یہاں جو کچھ ہے انہی صفات کا ظہور ہے ۔ رہی یہ بات کہ الحاد فی الاسماء کیا ہے ؟ لغت میں الحاد کے معنی سیدھی راہ سے منہ موڑنا ہے اس لیے الحاد یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے نام دئے جائیں جو اس کے مرتبے سے فروتر ہوں اور اس کے ادب کے منافی ہوں مثلا اللہ تعالیٰ ( کریم) ہے اس نسبت سے اس کو سخی کہ دینا ۔ اللہ تعالیٰ نور ہے اس نسبت سے اس کو ابیض کہنا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ (شافی ) ہے اس نسبت سے اس کو طیب کہنا اور دوسری صورت الحاد یہ ہے کہ جو نام قرآن و سنت سے ثابت ہیں ان میں کسی نام کو نامناسب سمجھ کر چھوڑ دینا اور اس نام سے اللہ کو پکارنے سے منع کرنا جیسے کفار نے رحمٰن کے نام سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا پسند نہیں کیا ۔ تیسری صورت الحاد کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لئے استعمال کرنا ۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لئے استعمال کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں تو جن کا استعمال غرل اللہ کے لئے قرآن و سنت سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بولے جاسکتے ہیں جیسے رحیم ، رشید ، علی ، کریم اور عزیز وغیرہ لیکن جن ناموں کو غیر اللہ کے لئے بولا جانا ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد میں داخل اور ناجائز و حرام ہے مثلا رحمٰن ، سبحان ، رزاق ، خالق ، غفار اور قدوس وغیرہ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا مناسب نہیں ۔ ہاں بےخیالی سے کسی عبد الرحمٰن نام کے آدمی کو رحمٰن ہی کے نام سے بلایا حالانکہ اس طرح بلانا صحیح نہیں۔ اگر فی الواقع اس کو رحمٰن سمجھتے ہوئے پکارا تو یہ کفر ہوگا لیکن بےخیالی یا بےاحتیاطی سے بلایا تو بھی یہ اچھا نہ کیا اگرچہ اس کو کفر نہ کہیں گے ۔ اسی طرح عبد الخالق ، عبد الرزاق ، عبد الرحمان ، عبد الغفار کو خالق ، رزاق ، رحمان اور غفار کہنا بھی صحیح نہیں ۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں جو شخص ان کو محفوظ کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا اور یہ ننانوے نام ترمذی (رح) اور حاکم نے تفصیل کے ساتھ بتائے ہیں اور ہم انشاء اللہ ان کی تفصیل سورة الحشر میں بیان کریں گے ۔
Ayah 7:181انسانوں میں ایسے انسان بھی یقیناً موجود د ہیں جو سچائی کی راہ دکھاتے ہیں :
205: مطلب یہ ہے کہ سارے انسان ایک ہی طرح کے نہیں بلکہ جہاں عقل و فکر سے کام نہ لینے والے موجود ہیں وہاں عقل و فکر سے کام لینے والے بھی موجود ہیں ۔ سارے ہی اندھے اور بہرے نہیں ۔ جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں وہ یقیناً حق کو پہچانتے ہیں ۔ اگر مشرک اس دنیا میں موجود ہیں تو یقیناً موحد بھی موجود ہیں اور اگر بےراہ روئوں کی کمی نہیں تو بہر حال سیدھی راہ چلنے والے بھی موجود ہیں اگرچہ وہ کم ہی ہوں ۔ اگر ایسے لوگ موجود ہیں جو حق و ناحق میں فرق نہیں کرتے تو یقیناً فرق کرنے والے بھی موجود ہیں جن کو حق اور ناحق صاف صاف نظر آتا ہے اور وہ خود بھی شناخت رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی شناخت کراتے ہیں ۔ پھر ظاہر ہے کہ جہاں سچائی موجود ہے وہاں انصاف بھی یقیناً موجود ہوگا ۔
Ayah 7:182آیات الٰہی کے جھٹلانے والوں کو درجہ بدرجہ بلند کرنے کا مفہوم :
206: یہ سنت اللہ کا بیان ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان کو بیخبر ی میں تباہی کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ فرمایا ان کو بیخبر ی میں تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے ، صحت ، مال ، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں جن سے دھوکہ کھا کر وہ سمجھیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ بالکل صحیح اور درست ہے اور ہمارے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے اس طرح وہ حق کی دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتے چلے جاتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو نعمتیں بھی ہمیں مل رہی ہیں وہ انعام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت یہ ان کی ہلاکت کا سامان ہے ۔
Ayah 7:183قانون امہال ہی اصل میں تدبیر الٰہی ہے جس کو لوگ نہیں سمجھتے :
207: قرآن کریم میں بار بار یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انتظار کرو عنقریب حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا ۔ یہ کیوں فرمایا گیا ؟ اسلئے قانون الٰہی اس طرح ہے کہ ہر باطل عمل فوراََ نابود نہیں ہوتا اور ہر عمل حق فورا فتح مند نہیں ہوتا ۔ ایسا کیوں ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا مقتضا یہی ہے کہ ایسا نہ ہو جس رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ مادیات میں تدریج و امہال کا قانون نافذہو اس کی رحمت کا مقتضا یہ ہوا کہ معنویات میں بھی تدریج و امہال کا قانون کام کرے اور عالم مادیات ہو یا معنویات کائنات ہستی کے ہر گوشہ میں قانون فطرت ایک ہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ دنیا میں کوئی انسانی جماعت اپنی بد عملیوں کے ساتھ مہلت حیات پا سکتی۔ وہ کہتا ہے جس طرح مادیات میں ہر حالت بتدریج نشو ونما پاتی ہے اور ہر نتیجہ کے ظہور کے لئے ایک خاص مقدار ، ایک خاص مدت اور ایک خاص وقت مقرر کردیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح اعمال کے نتائج کے لئے بھی مقدار و اوقات کے احکام مقرر ہیں اور ضروری ہے کہ ہر نتیجہ ایک خاص مدت کے بعد اور ایک خاص مقدار کی نشو و نما کے بعد ظہوار میں آئے پھر اس چیز کو قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے کید سے تعبیر کیا ہے اور کیدی متین کے معنی ہیں ایک نہایت سلجھی ہوئی تدبیر ۔
Ayah 7:184پیغمبر اسلام کوئی دیوانہ نہیں وہ تو لوگوں کو خبردار کرنے والا ہے :
208: (صاحب) سے مراد اس جگہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی قدر ہے ۔ آپ ﷺ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے اور انہی میں رہے ۔ بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوئے ۔ نبوت سے پہلی زندگی کو بھی سب جانتے تھے اور نبوت سے بعد کی زندگی کو بھی ۔ پھر کفار نے اسلام کو قبول کرنے میں توقف کیوں کیا ؟ کیا تمہارے خیال میں اس کو کوئی جنون ہے ؟ کیا جنونی لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جیسا کہ وہ ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تم سے کوئی غرض رکھتا اور اپنی کسی ذاتی منفعت کے لئے یہ ساری دوڑ دھوپ کررہا ہوتا تو اس سے تمہارے بھاگنے کی کم از کم ایک معقول وجہ ہوتی مگر تم خود جانتے ہو کہ وہ اپنی اس دعوت میں بالکل بےغرض ہے اور محض تمہاری بھلائی کے لئے اپنی جان کھپا رہا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ تم ٹھنڈے دل سے اس کی بات سننے تک کے لئے تیار نہیں ؟ اس سوال میں ایک لطیف تعریض بھی ہے کہ ساری دنیا کے بناوٹی پیشوا اور مذہبی آستانوں کے مجاوروں کی طرح عرب بھی مشرکین کے پیشوا اور پنڈت اور پروہت کھلا کھلا مذہبی کاروبار کر رہے تھے۔ اس لئے یہ سوال ان کے سامنے رکھ دیا گیا کہ ایک طرف یہ مذہب کے تاجر ہیں جو اعلانیہ تم سے نذریں نیازیں اور مذہبی اجرتیں وصول کر رہے ہیں ، دوسری طرف ایک شخص کامل بےغرضی کے ساتھ بلکہ اپنے تجارتی کاروبار کو برباد کر کے تمہیں نہایت معقول دلائل سے دین کا سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے اب یہ صریح بےعقلی نہیں تو اور کیا ہے کہ تم اسی سے بھاگتے اور ان کی طرف دوڑتے ہو اور پھر صرف یہی نہیں کہ تم اس سے بھاگتے ہو بلکہ یہ بھی سمجھتے ہو کہ یہ دیوانہ ہے ۔ ذرا سوچ کر جواب دو دیوانگی اس چیز کا نام ہے ؟ ہاں ! یقیناً تم غور کرو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ اس کو دیوانگی نہیں ہے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کھلم کھلا ڈرانے والا ہے کہ اے لوگو ! عذاب الٰہی سے بچ جائو اور اپنے ہاتھوں اپنا نقصان مت کرو۔
Ayah 7:185یہ لوگ نہ فکر سے کام لیتے ہیں نہ مشاہدہ و نظر سے :
209: زیر نظر آیت میں واضح فرما دیا کہ یہ لوگ نہ فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ مشاہدہ نظر سے ۔ اگر فکر سے کام لیتے تو پیغمبر اسلام کی زندگی جو انہی میں پیدا ہوئے ہیں انہی میں سے ہیں سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اگر نظر سے کام لیں تو آسمان و زمین کا ایک ایک ذرہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے مقررہ قوانین خلقت کی شہادت دے رہا ہے ۔ مصنوعات قدرت میں ذرا بھی عقل و فہم کے ساتھ غور کیا جائے تو ایک موٹی سمجھ والے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی شان قدرت کی معرفت اور نظارہ ہونے لگتا ہے اور ذرا گہری نظر کرنے والے کے لئے تو عالم کا ذرہ ذرہ قادر مطلق اور حکیم مطلق کی حمد وثناء کا تسبیح خوان نظر آنے لگتا ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ایک فطری تقاضا بن جاتا ہے اور اپنی مدت عمر میں غور و فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ جب انسان یہ سمجھ لے کہ موت کا وقت معلوم نہیں کب آجائے تو ضروری کاموں کے پورا کرنے میں غفلت سے باز آجاتا ہے اور مستعدی سے کام کرنے لگتا ہے ۔ موت سے غفلت ہی انسان کو تمام خرافات اور جرائم میں مبتلا رکیت ہے اور موت کا استحضار ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بہت سے جرائم سے بچنے پر آمادہ کردیتا ہے ۔ فرمایا کہ یہ لوگ نظر اٹھا کر آسمان و زمین کی بادشاہی اور جو کچھ اللہ نے پیدا کیا نہیں دیکھتے ؟ نیز یہ بات بھی کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا مقررہ وقت قریب آگیا ہو ؟ اگر سوچنے اور سمجھنے کی یہ ساری باتیں انہیں ہوشیار نہیں کرسکتیں تو پھر اس کے بعد اور کون سی بات ہو سکتی ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے ؟ تاکہ اس کا مزید انتظار کرلیا جائے مطلب یہ ہے کہ اب ان کے ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔
Ayah 7:186قانون الٰہی کے مطابق گمراہ ہونے والوں کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں :
210: اللہ کا یہ قانون نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی ہدایت دے اور کسی دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ لوگوں کے دل بدل دے ۔ یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہت دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دئیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا تو اب کون ہے جو اس کو راہ راست پر لاسکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لئے وہ اسباب فراہم کر دئیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور اضافہ ہوتا چلا جائے اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور قبول حق سے اعراض پر رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ کا فرض منصبی صرف یہی تھا کہ حق بات کو صاف صاف موثر انداز میں پہنچا دیں وہ آپ ﷺ پورا کرچکے اور آپ ﷺ کی ذمہ داری ختم ہوچکی۔ اب کسی کا ماننا یا نہ ماننا اس کی مرضی ہے اس کے متعلق آپ سے پوچھا نہیں جائے گا اس لئے آپ ﷺ زیادہ غمگین نہ ہوں اور اس کے متعلق قانون الٰہی یہ ہے کہ جو خود گمراہی کو پسند کرے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک نہیں لیا جاتا بلکہ اس کو اس میں دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی گمراہی میں بھٹکتا پھرے ۔ اس کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیت 88 میں کردی گئی ہے ۔ وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 7:187لوگ قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ حالانکہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے :
211ـ : مرسی ، رسا کے معنی ہیں ۔ مضبوط ہوجانا ، گڑ جانا اور اس سے رواسی پہاڑوں کو کہا گیا ہے اور قدور رسیت ( السباء 34:13 ) ایک جگہ پر رکھی گئی دیگیں اور ایک جگہ قرآن کریم میں وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ0032 ( النازعات 79:32) ایک جگہ گاڑے گئے پہاڑ اور بجلی جلو سے ہے جس کے معنی ظاہر کردینے کے ہیں ۔ ساعۃ عربی میں تھوڑے سے زمانہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کی کوئی تحدید لغت میں نہیں کی گئی ۔ ہاں اہل نجوم رات دن کے چوبیسیویں حصہ کو ساعۃ کہتے ہیں اس لئے گھنٹہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسلامی اصطلاح میں قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقعہ ہوگی ؟ آپ ﷺ ان کو جواب دے دیں کہ اس کا وقت تو اللہ ہی جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں جاتا ۔ نہ پہلے سے کسی کو معلوم ہے اور نہ ہی عین وقت پر کسی کو معلوم ہوگا ۔ ہاں ! جب وقت مقررہ آجائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرما دے گا ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ روز قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور قرآن کریم نے انتہائی کوشش کی ہے کہ اپنے ماننے والوں کے دلوں میں یہ یقین راسخ کر دے کہ اس زندگی کے بعد انہیں ایک روز بارگاہ رب العزت میں پیش ہونا ہے جب کہ ان کے اعمال کا محاسبہ ہوگا اور ہر ایک سے اس کے اعمال کے مطابق سلوک کیا جائے گا جو وہ اس دنیوی زندگی میں بجا لاتا رہا ہے لیکن جس طرح موت کا وقت لوگوں سے مخفی رکھنے میں حکمتیں ہیں اسی طرح قیامت کے دن کو بھی ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ اس کو انتہائی طور پر پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے یہاں بھی اور اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر قیامت کے وقوع کے علم کو علم الٰہی کی طرف تفویض کیا ہے انما علمھا عند ربی انما علمھا عند اللہ یعنی قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے ۔ کچھ لوگوں یعنی مفسرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا علم کچھ خاص خاص لوگوں کو عطا کیا گیا ہے اور خصوصاََ نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق سر توڑ کوشش کی ہے کہ آپ ﷺ کو علم دیا گیا ہے لیکن ایسی بحثوں کا کوئی جواز کتاب و سنت کی روشنی میں موجود نہیں ۔
ارشاد فرمایا گیا کہ رد وہ بڑا بھاری حادثہ ہے جو آسمان و زمین میں واقع ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ وہ اجرام سماویہ کا کوئی عظیم حادثہ ہوگا جس سے اس سارے نظام کو تہس نہس کردیا جائے گا ۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اجرام سماویہ اور اس ہماری زمین کا آپس میں کوئی گہرا تعلق موجود ہے اور اس طرح اجرام سماویہ کا آپس میں بھی ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے ان میں سے کسی ایک کی تباہی سب کی تباہی کا سبب بنے گی اور دوسری بات یہ معلوم ہوگئی کہ وہ اچانک آئے گی یعنی اس کے آنے کا کسی کو علم نہیں ہوگا اور اس چیز کا نام حادثہ ہے جیسے چلتی گاڑیاں آپس میں ٹکرا جائیں تو تباہی ہی تباہی ہوتی ہے اور ایک گاڑی ان اجرام سماویہ کے مقابلہ میں کیا شے ہے ؟ اب جب کہ یہ معلوم ہوگیا کہ کتنے سیارے ہیں جو ہماری اس زمین سے بڑے ہیں تو گویا یہ علم اس کی تصدیق کرتا چلا جارہا ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قیامت کے نشانات میں سے جو نشانیاں اور علامات بیان کی جاتی ہیں ان میں اکثر یعنی زیادہ تر بےاصل ہیں کیونکہ اگر ایک واقعہ سے پہلے اس کی ظاہر علامتیں یکے بعد دیگرے ظہور میں آنے والی ہوں اور ان کی خبر بھی دے دی گئی ہو تو اس واقعہ کا ہونا ناگہانی نہیں ہوگا حالانکہ قرآن کریم قطعی طور پر کہتا ہے کہ لوگ یکسر بیخبر ہوں گے اور قیامت اچانک نمو دار ہوجائے گی۔
جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دفعتاً اور اچانک آنے کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوں گے ، ایک شخص نے گاہک کو دکھانے کے لئے کپڑے کا تھان کھولا ہوا ہوگا وہ ابھی معاملہ طے نہ کر پائیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ کرلے چلے گا اور ابھی اس کا استعمال کرنے نہ پائے گا کہ قیامت آجائے گی ، کوئی شخص اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے فارغ نہ ہو پائے گا کہ قیامت آجائے گی ، کوئی شخص کھانے کا لقمہ ہاتھ میں اٹھائے ہوگا ابھی منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی ۔
ہاں ! قرب قیامت کے متعلق بعض بیانات جو قرآن کریم اور صحیح احادیث میں بیان ہوئے ہیں وہ اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے بڑھاپے کو موت کی علامت کہا جاتا ہے ان سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ اس کی پوری تفصیل انشاء العزیز کی دوسرے مقام پر ہوگی۔
اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ آپ ﷺ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے آپ ﷺ تحقیق کرچکے ہیں :
212: اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ تم سے اس طرح پو چھ رہے ہیں کہ گویا تم اس کی کاوش میں لگے ہوئے ہو۔ پہلا سوال تو ان کا اس بات کے متعلق تھا کہ جب ایسا اہم واقعہ ہونے والا ہے تو ہمیں اس کا پورا پورا صحیح تاریخ اور وقت کے ساتھ علم ہونا چاہے جس کا جواب دے دیا گیا کہ یہ سوال بےعقلی اور بےوقوفی سے پیدا ہوا ہے ۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے تعین کی کسی کو خبر نہ کی جائے تاکہ ہر عمل کرنے والا ہر وقت عذاب آخرت سے ڈر کر نیک عمل کے اختیار کرنے اور برے اعمال سے باز رہنے میں پوری توجہ دے اور اس دوسرے سوال کا منشاء ان لوگوں کا یہ سمجھنا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو ضرور قیا مت کی صحیح تاریخ اور وقت معلوم ہے اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے تحقیق کر کے اس کا علم ضرور حاصل کرلیا ہے مگر آپ ﷺ کسی وجہ سے بتاتے نہیں اس لئے اپنی قرابت و رشتہ داری کا واسطہ دے کر آپ ﷺ سے سوال کیا ہے کہ ہمیں قیامت کا پورا پتہ بتلا دیں اور اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم کہو حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے صرف اللہ ہی یہ بات جانتا ہے لیکن اکثر آدمی ایسے ہیں جو اس حقیقت سے انجان ہیں ْ یعنی حقیقت یہی ہے کہ قیامت کی صحیح تاریخ اور وقت معلوم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا نہ فرشتہ اور نہ کوئی نبی و رسول مگر اکثر لوگ اس بات سے بیخبر ہیں اور اپنی جہالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ قیامت کا علم نبوت و رسالت کے لئے لازمی ہے اور پھر اس کا نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب نبی اعظم و آخر کو اس کا پورا علم نہیں تو یہ علامت اس بات کی ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ نبی نہیں لیکن قرآن کریم نے ان کے اس نظریہ کی تر دید کردی۔ مختصر یہ کہ ایسے سوال کرنے والے بڑے بیوقوف اور بیخبر ہیں نہ اک کو مسئلہ کی حقیقت معلوم ہے نہ اس کی حکمت اور نہ سوال کرنے کا طریقہ ۔
Ayah 7:188پیغمبر اسلام سے اس بات کا اعلان کرایا گیا کہ میں اپنے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں :
213: یہ گمراہی بھی عالم گیر ہے کہ جب کوئی انسان روحانی عظمت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو لوگ چاہتے ہیں کہ اسے انسانیت و بندگی کی سطح سے بلند کر کے دیکھیں لیکن قرآن کریم نے پیغمبر اسلام کی حیثیت ایسے صاف اور قطعی لفظوں میں واضح فرما دی کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس گمراہی کا ازالہ ہوگیا ۔ صرف یہی ایک بات ان کی صداقت کے اثبات کے لئے کفایت کرتی ہے جو دنیا اپنے پیشوائوں کو خدا اور خدا کا بیٹا بنانے کی خواہش مند تھی ۔ اسلام کے پیغمبر نے اس سے اتنا بھی نہ چاہا کہ وہ اس کو اپنے نفع و نقصان کا مالک تصور کرے بلکہ خود اللہ نے اس کے منہ سے اس بات کا اعلان کروا دیا کہ اے پیغمبر اسلام ! تم کہو میرا حال تو یہ ہے میں خود اپنی جان کا نفع و نقصان بھی اپنے قبضے میں نہیں رکھتا وہی ہو کر رہتا ہے جو اللہ چاہتا ہے ۔ یعنی مجھے اس بات کا بھی اختیار نہیں کہ میں اپنے آپ کو جس نفع سے چاہوں بہرہ ور کرلوں اس جس نقصان سے چاہوں اپنے آپ کو بچا لوں ۔ حقیقی نافع و ضار صرف اللہ ہی کی ذات ہے دوسروں کی طرح میرے معاملات میں بھی اصل کار فرما اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت ہے میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ خدائی کا تو مجھ سے ان چیزوں کا مطالبہ نہ کرو جن کا تعلق اللہ کے ارادے اور اختیار میں ہے ۔ جب میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسروں کے نفع و نقصان کا مالک کیونکر ہو سکتا ہوں۔
مجھے علم غیب ہوتا تو میں اپنے لئے بہت نفع حاصل کرلیتا :
214: پر فرمایا کہ صرف یہ نہیں کہ میں اپنے نفع و ضرر کا مالک نہیں بلکہ مجھے تو غیب کا علم بھی نہیں اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو ضرور ایسا کرتا کہ بہت سی منفعت حاصل کرلیتا اور کوئی گزند مجھے نہ پہنچتا ۔ اگر مجھے علم غیب ہوتا تو میں ہر نفع کی چیز کو ضرور حاصل کرلیا کرتا اور کوئی نفع میں ہاتھ سے جانے نہ دیتا اور میں ہر نقصان کی چیز سے ہمیشہ محفوظ ہی رہتا اور کسی قسم کا نقصان مجھے نہ پہنچتا ۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں میرے ساتھ نہیں ہیں ۔ کتنے کام ایسے ہیں کہ خود نبی کریم ﷺ نے ان کو حاصل کرنا چاہا مگر حاصل نہ کرسکے اور بہت سی تکلیفیں اور مضرتیں ایسی ہیں جن سے نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان سے بچنے کا ارادہ کیا مگر وہ مضرت و تکلیف پہنچ گئی ۔ اس طرح زیر نظر آیت کے حصہ نے واضح کردیا کہ انبیاء کرام نہ قادر مطلق ہوتے ہیں نہ عالم غیب بلکہ ان کو علم و اختیار کا اتنا ہی حصہ حاصل ہوتا ہے جتنا اللہ ان کو دینا چاہتا ہے اور جو کچھ کسی کی طرف سے دیا جائے وہ غیب نہیں ہوتا ۔ لوگ اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں جس میں نصرانی اور عیسائی مبتلا ہوگئے کہ اپنے رسول کو خدائی صفات کا مالک سمجھ بیٹھے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے اور بد قسمتی سے آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو سارے نبیوں ، ولیوں ، پیروں ، فقیروں اور مرشدوں کو اور خصوصا نبی رحمت ﷺ کے متعلق یہ جانتے ہیں کہ ان کو علم عطا کیا گیا اور اس طرح وہ علم غیب جانتے تھے حالانکہ یہ بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ جو چیز کوئی دوسرا دے دے اس کو غیب کے نام سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
میں کیا ہوں ؟ ماننے والوں کے لئے خبر دینے والا اور بشارت دینے والا ہوں :
215: یعنی نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنی بابت جو زیادہ سے زیادہ بات سنائی وہ یہ تھی کہ میں تم کو انکار بد عملی کے نتائج سے خبر دار کردینے والا اور ایمان و نیک عمل کی برکتوں کی بشارت دینے والا ایک بندہ ہوں ۔ مجھے کیا معلوم کہ قیامت کب آئے گی ؟ غور کرو کہ کیا ایسے انسان کی زبان سے سچائی کے سوا کوئی اور بات بھی نکل سکتی ہے ؟ فرمایا کہ لوگو ! اچھی طرح سن لو کہ میرا فرض منصبی تو صرف اور صرف یہ ہے کہ میں بدکاروں کو عذاب سے ڈرائوں اور نیک لوگوں کو ثواب عظیم کی خوشخبری سنائوں اور میرے اختیار میں یہ نہیں کہ جس کے دل میں چاہوں ایمان اتار دوں یہ بات تو لوگوں کے اپنے ارادے اور اللہ کی مشیت ہی سے وابستہ ہے ۔ اس پوری آیت کا مفہوم قبل ازیں سورة الانعام میں مفصل گزر چکا ہے۔
Ayah 7:189سارے انسانوں کو ایک جنس واحد بنانے کا اعلان الٰہی :
216: نفس واحدۃ ای من جنس واحدۃ یعنی ایک جنس سے پیدا کیا ۔ منھا زوجھا اس سے یعنی اس کی جنس ہی سے اس کا جوڑا بھی لیسکن الیھا تاکہ وہ اس سے راحت و سکون حاصل کرے ۔ تغشٰھا غشی ڈھانک لینا ، پردہ ڈالنا ۔ کنایہ ہے وظیفہ زوجیت سے ۔ انسانی زندگی کا یہ فطری ملاپ بھی تو حدو الٰہی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ آیت کے معنی بالکل صاف ہیں لیکن اس ( نفس واحدۃ ) کے لفظ نے اکثر مفسرین کو اس طرف مائل کردیا ہے کہ اس جگہ بھی آدم و حوا علیہھما السلام مراد ہیں حالانکہ اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے بلکہ یہ بیان ہے اس اضطراب اور تڑپ کا جو خالق کائنات نے مرد کے اندر عورت کی رکھ دی اور عورت کے اندر مرد کی ۔ پھر چونکہ دونوں ایک ہی جنس کی دو مختلف اصناف تھیں اس لئے اپنی فطری ساخت اور فطری تڑپ کے باعث اللہ کے حکم سے باہم دگر جان و تن بن گئے۔
تا کسی نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
باہم دگر جان و تن بن جانے کا نتیجہ کیا ہوا ؟
217: فرمایا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت نے ایک ہلکا سا بوجھ قانون قدرت کے مطابق اٹھا لیا اور اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی اور اپنے سارے کام کاج اسی طرح کرتی پھری جیسے پہلے کرتی تھی اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ آہستہ آہستہ بوجھل اور بھاری ہونی شروع ہوگئی تو اس وقت وہ ایک جنس کی دونوں اصناف یعنی میاں بیوی اللہ سے دعائیں کرنے لگے کہ اے اللہ ! ایک خوبصورت بچہ ہم کو عطا فرما دے جو چنگا بھلا ، تندرست بھی ہو اور ذی صلاحیت بھی صالحا ـ صالح چونکہ فساد کی ضد ہے اس لئے صالح بلحاظ افعال بھی ہو سکتا ہے اور بلحاظ جسم بھی اس جگہ دونوں ہی مراد لئے جاسکتے ہیں ۔ یعنی صورت کا بھی اچھا ہو اور سیرت کا بھی ستھرا ہو ۔ اس آیت میں انسانی پیدائش کے اصول کی وضاحت بھی فرما دی کہ انسان کی پیدائش کا اصول اللہ نے کیا بنایا اور یہ کہ اس میں کیا حکمت اور کیا راز پوشیدہ ہے اور یہ بھی کہ جو ولد ہوتا ہے اس کے لئے دو اصناف کا ہونا لازمی اور ضروری ہے جس میں ایک صنف اس (ولد) کی ـ ( والدہ) یعنی ماں ہوگی اور دوسری صنف اسی (ولد) کا (والد) یعنی باپ کہلائے گا اور پھر یہ تینوں مل کر ایک ہی جنس کہلائیں گے اور ان تینوں میں کسی ایک کا ہونا دوسرے دو کے لزوم پر شہادت ہے یعنی اگر کوئی (ولد) ہے تو یقیناً اس کا کوئی بھی ہوگا اور (والدہ) بھی اور اگر کوئی (والد) ہے تو یقیناً اس کا کوئی ولد ہے اور اسی طرح ولد کی (والدہ) بھی اور اگر کوئی (والدہ) ہے تو یقیناً اس کا کوئی ولد بھی ہوگا اور اس ولد کا (والد) بھی ۔
1 ۔ کوئی (والدہ) بغیر ولد اور (والد) کے نہیں ہو سکتی (والد) یعنی ولد کا باپ
2 ۔ کوئی (والد) بغیر ولد اور (والدہ) کے نہیں ہو سکتا (والدہ) یعنی ولد کی ماں
3 ۔ کوئی (والد) بغیر (والد) اور والدہ کے ممکن نہیں کہ ایک ولد کا والد ہوگا اور دوسری ولد کی والدہ لہٰذا اللہ بلا شبہ خالق ہے ولد والدہ اور والد کا بھی اور اس مخلوق کا بھی جو نہ ( ولد) ہے ، نہ (والد ہ) ۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت مزید فرما دی جہاں ارشاد فرمایا کہ اگر (والد ) اللہ کو بھی مانا جائے تو ضروری ہے کہ کوئی اس کا (ولد ) ہو اور اس طرح ضروری ہے کوئی اس (ولد ) کی (والدہ ) بھی ہو جو اللہ کی بیوی ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے عیسیٰ ٰ (علیہ السلام) کا (ولد ) قرار دیا حالانکہ اللہ (ولد ) سے پاک ہے ان سے اللہ نے یہ مطالبہ کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا (ولد ) قرار دینے والو اللہ کی بیوی بھی بتائو اور اگر اللہ کی ـ بیوی نہیں تو عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا (ولد ) کیسے ہوگیا ۔ (الانعام 6 : 101)
زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا کہ ایک ہی جنس کی دو اصناف یعنی میاں بیوی کے باہم دگر جان و تن بن جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ایک کو (والد ) دوسری کو (والدہ ) اور ان کے نتیجے کو (ولد ) بنا دیا ۔
Ayah 7:190اللہ کے عطا کردہ فرزند میں دوسروں کو شریک کرنے لگے :
218: جب اللہ نے ان دونوں یعنی ہونے والے (ولد ) کے بننے والے (والد ) اور (والدہ ) کی دعائیں سن لیں اور ایک خوبصورت بچہ یعنی (ولد ) عطا کردیا تو اب شکر گزاری کی بجائے شرک میں مبتلا ہوگئے اور یہ (ولد ) ہی ان کے شرک میں مبتلا ہونے کا باعث بن گیا ۔ جس کی مختلف صورتیں ہیں کبھی تو عقیدہ فاسد ہوگیا اور یوں سمجھ بیٹھے کی یہ بیٹا فلاں ولی یا بزرگ نے دیا ہے کبھی یہ ہوا کہ عملا اس بچہ کو کسی زندہ یا مردہ بزرگ کی طرف منسوب کرنے لگے اور ان کے نام کی نذر و نیاز تقسیم کرنے لگے یا بچہ کو ان کے سامنے لے جا کر پیش کردیا اور ان کے نام کے ( سلام ) بھرنے لگے اور کبھی بچہ کا نام رکھنے مین مشرکانہ نام پسند کیا جیسے عبد اللہ کی بجائے عبد العزیٰ ، عبد الشمس اور اللہ دتہ کی بجائے پیراں دتہ اور گوراں دتہ اور اللہ بخش کی بجائے پیر بخش وغیرہ نام رکھنے لگے ۔ اس طرح کے شرک کی ان گنت صورتیں آج بھی قوم مسلم کے افراد میں پائی جاتی ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ ایک عام انسانی کمزوری ہے کہ وہ اصل کی ضرورت اور احتیاج کے وقت تو اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن جب وہ احتیاج اور ضرورت اس کی پوری ہوجاتی ہے تو اس کو دوسرے اسباب و وسائل کو کرشمہ قرار دینے لگتا ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا تجربہ ہر شخص خود اپنے اندر کرسکتا ہے ۔ اس طرح انسان کی عام حالت اس جگہ بیان ہوئی ہے ۔ ان آیات میں آدم و حوا (علیہ السلام) کا ذکر کر کے ان کو شرک میں مبتلا ہونے کی جو روایات تفاسیر میں جگہ پاگئی ہیں وہ سب کی سب درجہ اعتبار سے ساقط ہیں ان پر اعتماد کرنا کسی حال میں درست نہیں ۔ فرمایا اوپر مذکورہ شرک کی صورتوں میں سے جس صورت کو بھی اختیار کیا اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے ۔
Ayah 7:191یہ لوگ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو خود مخلوق ہیں اور وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے :
219: ایشرکون ؟ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کن ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ـ مالا یخلق شیئا ایسوں کو جو کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔ وھم یخلقون وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں ۔ بات کتنی واضح فرما دی کہ جو خود مخلوق ہیں وہ دوسروں کو کیا پیدا کرسکتے ہیں ؟ ذرا غور کرو کہ کیا مسیح (علیہ السلام) بھی مخلوق تھے یا نہیں ؟ یقیناً مخلوق تھے ۔ عیسائیوں نے آپ کو خالق بنا دیا لیکن مسلمانوں نے بڑی سادگی سے ان کے خالق ہونے کو تسلیم کرلیا اور اس بات کو بھی بیان کرتے رہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ۔ جب کسی نے ان کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی تو فورا بول اٹھے کہ وہ تو باذن اللہ خالق تھے ۔ اس جگہ صرف آپ کو توجہ دلانا مقصود ہے ورنہ اس بحث کو ہم جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 49 میں حاشیہ 115 کے تحت تفصیل سے بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرما لیں اور جلد ہذا سورة المائدہ آیت 110 میں بیان کیا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 7:192ان میں نہ کسی کی مدد کی طاقت ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذات کی مدد کرسکتے ہیں :
220: مطلب یہ ہے کہ پیدا کرنا تو ایک بہت بڑا کام ہے وہ تو کسی کی مدد بھی نہیں کرسکتے اور کسی کا مشکل کشا ہونا بھی اس کے مقابلہ میں بڑی بات ہے کہ انسان اپنی مدد کرے یہ اپنی ہی ہر حاجت پوری کرسکے فرمایا ان میں تو اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی بجائے اپنی ہی مدد کرسکیں وہ تو اپنی مدد کے لئے بھی اللہ کے محتاج ہیں تو پھر جو ان کی احتیاج کو پورا کرتا ہے وہ سارے انسانوں کی احتیاجوں کو بھی پورا کرنے والا ہے ۔ پھر افسوس ہے کہ اصل حاجت روا اور مشکل کشا کو چھوڑ کر ایسی بےبس ہستیوں کو معبود کے درجہ پر رکھا جائے ۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم نے جا بجا یہ حقیقت واضح کی ہے کہ روحانی اعتقاد کے ساتھ ایک بالاتر ہستی کو پکارنا بزرگی و نیاز کا ایسا فعل ہے جو صرف اللہ کے لئے ہونا چاہئے اگر کسی دوسری ہستی کے لئے کیا گیا تو یہ شرک ہوگا ۔ یہی مقام ہے جہاں پیروان مذہب نے ٹھوکر کھائی ہے کہ وہ توحید ربوبیت میں ہی اکثر کھوئے گئے کہ وہ خالق و رب اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی ماننے لگے جیسے سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) کو لنکک اگر کچھ اس گمراہی سے بچ نکلے تو وہ توحید الوہیت میں گمراہ ہوگئے یعنی اپنی دعائوں ، منتوں اور مرادوں کے لئے بہت سے آستانے بنانے لگے جسے قرآن کریم ( الٰہ) بنا لینے سے تعبیر کرتا ہے ۔ اس لئے کہ ( ا لہٰ ) کے کام انہوں نے ان کے سپرد کر دئے اور کھلے کھلے شرک کے مرتکب ہونے لگے اور آج بھی ہر جگہ ایسے لوگوں کی کثرت پائی جاتی ہے ۔
Ayah 7:193تم ان کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے :
221: زیر نظر آیت کے دو مفہوم سمجھ میں آتے ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں ۔ 1 ۔ اگر تم ان مشرکوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ کبھی تمہاری پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ۔ باوجود اس کے کہ وہ بات کو سمجھیں گے اور جو سمجھ سوچ کر فیصلہ کے ساتھ کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو ایسوں کو تم بلائو یعنی ہدایت کی طرف دعوت دو یا نہ دو دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی رہے گا کیونکہ یہ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے ۔ جب ان کو ہر سنی ان سنی کر دینی ہے اور نہ ماننے کی انہوں نے قسم کھالی ہے تو ان پر کسی دلیل کا کوئی اثر ممکن نہیں ہو سکتا ۔ 2 ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین کے معبودان باطل کا حال یہ ہے کہ سیدھی راہ دکھانا اور اپنے پرستاروں کی رہنمائی کرنا تو درکنار وہ بیچارے تو کسی راہنما کی پیروی کرنے کے بھی قابل نہیں حتیٰ کہ کسی پکارنے والے کی پکار کا جواب تک نہیں دے سکتے ۔ اس لئے کہ ان مجسموں کا اور ان کا جن کیلئے یہ مجسمے بنائے گئے ہیں آپس میں کوئی تعلق نہیں یہ سب ان پکارنے والوں کے وہمی مفروضے ہیں اور وہم پرست ایسے مفروضے ہر دور میں تراشتے رہے ہیں اور اب بھی تراش رہے ہیں ۔
Ayah 7:194جن کو تم پکارتے ہو وہ کیا ہیں ؟ تمہاری طرح کے بندے ہیں :
222: (دعا یدعوا ) کے دو معنی کئے جاتے ہیں ایک پکارنا اور دوسرے عبادت کرنا ۔ اس لئے : اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ کے معنی کچھ لوگوں نے کئے ہیں کہ جنہیں تم پکارتے ہو اور کچھ لوگوں نے معنی کئے ہیں کہ جنہیں تم پوجتے ہو پھر اس پر جو لے دے ہوتی ہے وہ جوتیوں دال بٹنے کے مترادف ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کفر اور شرک کی فتویٰ بازی ہے ۔ بلاشبہ ( بلا سبیہ دعا یدعوا) کے دونوں معنی صحیح ہیں لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ ہر دعا عبادت نہیں اس لئے جہاں جی چاہا دعا کو عبادت بنا لیا اور جہاں نہ چاہا نہ بنایا اگر یہ صحیح ہے تو پھر جس کا جی چاہے کہتا رہے حالانکہ یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتی۔
Ayah 7:195بت پرستی کی ظاہری اور باطنی دونوں پہلوئوں سے تردید فرما دی گئی :
223: بت پرستی کیا ہے ؟ بت پرستی ، مظاہر پرستی اور قبر پرستی کا کوئی فرق ؟ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ یاد رہے کہ مشرکانہ مذاہب میں تین چیزیں الگ الگ پائی جاتی ہیں ایک تو وہ اصنام ، تصا ویر یا علامات خواہ وہ قبریں ہوں یا کچھ اور جو مرجع پر ستش ہوتی ہیں ۔ دوسرے وہ اشخاص یا ارواح یا معانی در حقیقت معبود قرار دئیے جاتے ہیں جن کی نمائندگی پہلی چیزیں کرتی ہیں یعنی اصنام ، تصاویر اور علامات وغیرہ۔ تیسرے وہ اعتقادات جو ان مشرکانہ عبادات و اعمال کی تہ میں کار فرما ہوتے ہیں ۔ اسلام نے ان تینوں چیزوں کی جابجا تردید کی ہے اور قرآن کریم میں اس کی پوری پوری وضاحت موجود ہے ۔ کسی جگہ ان میں سے ایک پر تنقید کی گئی ہے اور کسی جگہ دو پر اور کسی جگہ تینوں پر ۔ اس جگہ اس کی تنقید کا رخ تینوں چیزوں کی طرف ہے یعنی وہ بت ، تصاویر یا علامات بھی مراد ہیں اور وہ اشخاص یا ارواح بھی اور ان کے مشرکانہ عقائد پر بھی تنقید کی گئی ہے تاکہ مکمل طور پر شرک کی تردید کی جائے اور اس لئے بھی کہ یہ تینوں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں ۔ یہ بات پہلے کئی مقامات پر تفہیم کرائی جا چکی ہے کہ فی نفسہٖ بت ، تصویر ، علامت یا قبر کی کوئی بھی پرستش نہیں کرتا اس لئے کہ پرستش ہمیشہ صاحب بت ، صاحب تصویر ، صاحب علامت یا صاحب قبر ہی کی ہوتی ہے ۔ بت ، تصویر علامت یا قبر تو صرف بطور نشان ہوتے ہیں اور پرستش کرنے والے کا عقیدہ بھی یقیناً یہ ہوتا ہے کہ صاحب بت ، صاحب تصویر ، صاحب علامت یا صاحب قبر کے اس فعل سے خوش ہو کر اس کی سفارش کرے گا جس کے صلہ میں اس کو عذاب سے بچالیا جائے گا یا اس کی ضرورت کی چیز اس کو پہنچا دے گا ۔ مختصر یہ کہ اس کی مشکل حل ہوجائے گی۔
اب اگر کوئی بت ایسا بنایا گیا ہو جس کے ہاتھ پائوں اور کان بھی دکھائے گئے ہوں یا تصویر ایسی ہو جس میں یہ سارے نشانات موجود ہوں یا وہ قبریں اور علامتیں ہوں جن کے ساتھ ظاہری طور پر یہ سارے اعضاء دکھائی نہ دیتے ہوں نظریہ کے لحاظ سے سب ہی مراد ہیں ۔ کیا ان کے پاس پائوں ہیں کہ وہ ان کے ساتھ چلتے ہوں ؟ کیا ان کے پاس ہاتھ ہیں کہ وہ ان کے ساتھ پکڑتے ہوں ؟ کیا ان کے پاس کان ہیں کہ وہ ان کے ساتھ سنتے ہوں ؟ مطلب یہ ہے کہ دیکھ لو جو کچھ تم نے بنایا ہے صرف اور صرف ایک ظاہر داری ہے اور سب کچھ دکھاوے کا ہے اور سراسر نمائش ہی نمائش ہے ۔ تم نے ان پر دودھ چڑھایا اور حلوے ان کے سامنے پیش کیے ۔ ذرا پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائو تم دیکھو گے کہ کتے اور بلے ان کو کھا رہے ہیں اور پی رہے ہیں اور مجال ہے کہ یہ کسی کو منع کریں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو روکنے کی ان میں ہمت ہی نہیں۔ پھر سوچو اور غور کرو کہ یہ تمہاری مدد کیا کریں گے تم نے ان کو کس طرح اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا ہے اور یہی تعلیم اور اس طرح کی مثالیں دے کر دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) نے بھی قوم کو سمجھایا ہے لیکن بدقسمتی سے سمجھنے والے کم ہی ہوتے ہیں ۔ چناچہ زبور میں اس طرح بیان ہوا کہ :
ان کے بت چاندی اور سونا ہیں ۔ یعنی آدمی کی دست کاری۔ ان کے منہ ہیں پر وہ بولتے نہیں ۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں ۔ ان کے کان ہیں پر وہ سنتے نہیں ۔ ناک ہیں پر وہ سونگھتے نہیں ۔ ان کے ہاتھ ہیں پر وہ چھوتے نہیں ۔ پائوں ہیں پر وہ چلتے نہیں اور ان کے گلے سے آواز نہیں نکلتی ۔ ان کے بنانے والے انہیں کی مانند ہوجائیں گے بلکہ وہ سب بھی جو ان پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ ( زبور 15:3 ، 8)
ان سے کہہ دیجئے کہ ان کو پکارلو اور جو کچھ کرسکتے ہو کرلو مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو :
224: مشرکین کے لئے یہ چیلنج ہے اور ان کی دھمکیوں کا جواب بھی کہ تم ان بےجان اور بےحس و حرکت بتوں ، تصویروں ، علامتوں اور قبروں سے مجھے ڈراتے ہو کہ ان کی مذمت و مخالفت کے نتیجہ میں ان کا غضب مجھ پر بھڑک اٹھے گا ۔ اگر تم کو یہ خیال ہے تو تم اپنے ان سب دیویوں ، دیوتائوں اور جن جن کے یہ مجسمے تم نے بنا رکھے ہیں اپنی مدد کے لئے بلا لو اور میرے خلاف جو بھی تد بیر اختیار کرنا چاہتے ہو وہ کر گزرو اور میری ذرا بھی رعایت مت کرو اور مجھے ایک دن یا اس سے بھی کم وقت کی مہلت نہ دو اور کان کھول کر سن لو کہ اس معاملہ میں تم بھی کمزور ہو اور تمہارے بنائے ہوئے سب حاجت روا اور مشکل کشا بھی اور پھر سن لو کہ جس کے سینے میں ایمان ہو وہ ان مورتیوں ، تصویروں ، علامتوں اور قبروں سے کبھی نہیں ڈرتا ۔ اس لئے کہ اللہ سے ڈرنے والا ان سب سے بےخوف و نڈر ہوجاتا ہے ۔
Ayah 7:196کار ساز حقیقی تو بس اللہ ہی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی :
225: اے پیغمبر اسلام ! ان سے بر ملا کہہ دیجئے کہ میرا کار ساز اور میری بگڑی بنانے والا تو بس اللہ ہی ہے ۔ وہ آج تک سارے نیکو کار اور صالحین کی کارسازی کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے اور یقیناً کرتا رہے گا تو پھر وہ اپنے نبی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی کارسازی کیوں نہیں کرے گا جو سارے نبیوں سے افضل و اعلیٰ ہیں اور وہی ہے جس نے نبی اعظم وآخر ﷺ پر کتاب نازل فرمائی ۔ جو دنیا اور آخرت میں نافع اور سارے علوم کی جامع اور لوگوں کے بنائے ہوئے ادیان کی ناسخ ہے اور ان معبودان باطل کی حیثیت اس خالق ومالک حقیقی کے سامنے کیا ہے ؟ یعنی کچھ بھی نہیں
Ayah 7:197اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تو مدد کی قدرت بھی نہیں رکھتے :
226: اس میں بھی آیت 192 کی طرح مشرکوں کی حماقت دکھائی گئی ہے کہ یہ عقل کے اندھے ایسوں کے آگے جھکتے ہیں جن کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے انہوں نے یا ان جیسے دوسرے انسانوں نے تراشا ہے یا قبروں اور تصویروں کی شکلوں میں بنایا ہے یا ایک گڑھے میں میت کو اپنے ہاتھوں رکھ کر اس پر سینکڑوں من مٹی ڈالی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو حاجت روا اور مشکل کشا بھی تسلیم کیا ہے ۔ واہ رے تمہاری عقل اور واہ رے تمہارا دین و مذہب اور واہ رے تمہارے پیر ومرشد جنہوں نے تمہیں یہ راہ بتائی ہے ۔ اچھا کان کھول کر سن لو کہ جن جن کو بھی تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ کس خوبصورتی کے ساتھ یہاں یہ بھی بتا دیا کہ عنقریب وہ وقت آئے گا کہ مشرک مغلوب ہوں گے تو یہ بت ان کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے اور نہ وہ جن کے یہ بت بنائے گئے ۔ پھر ان کی مدد کرنا تو ایک طرف رہا وہ اپنے آپ کو بھی تباہی سے نہ بچا سکیں گے اور اس طرح جو کچھ آپ ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور مشرک باوجود اپنی ساری طاقت کے آخر کار مغلوب ہوئے اور بتوں کو بھی بیت اللہ سے نکال کر اندھے کنوئوں میں پھنکوا دیا گیا ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 7:198اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ نہ سنیں وہ دیکھتے ہیں پر نہیں دیکھتے :
227: اس آیت میں خطاب مسلمانوں کو ہے کہ اگر تم ان کفار کو ہدایت کی طرف بلائو تو یہ بھی نہیں سنتے اور یہاں سننے سے مراد قبول کرنا ہے اور اس طرح یہ بھی فرمایا کہ نظر تو وہ تیری طرف کرتے ہیں مگر ایسی نظر کرنے کا کیا فائدہ جس میں سب کچھ دیکھا ان دیکھا کردیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (تراھم ) میں ضمیر انہی معبودان باطل کی طرف ہو اس لئے مشرک قوموں نے ایسے مجسمے گھڑ لئے تھے اور اپنی صناعی کے زور سے جانداروں کی سی مورتیں تراش لی تھیں جس سے ایسا نظر آئے کہ گویا وہ دیکھنے والے کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ پتھر ، لکڑی ، سونے یا مٹی کے بتوں نے دیکھنا کیا ہے ؟ ایک کھلونے سے زیادہ ان کی حقیقت تو کچھ بھی نہیں اور زیادہ سے زیادہ ایک بڑاوا ہی تو ہیں ،
Ayah 7:199نرمی سے کام لینے ، نیکی کا حکم دینے اور جاہلوں سے الگ رہنے کا حکم :
228: زیر نظر آیت قرآنی اخلاق فاضلہ کا ایک جامع ہدایت نامہ ہے اور اس میں تین امور کے متعلق ہدایت فرمائی گئی ہے ۔ 1 ۔ (خذ العفو ) جو قصور وار معذرت طلب کرتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آئے اس کمال فراخ دلی سے معاف کر دیجئیے اور بدلہ و انتقام لینے پر اصرار نہ کیجئیے ۔ (روح المعانی) 2 ۔ (وامر بالعرف ) کی اچھی اور مفید چیزوں کے کرنے کا آپ ﷺ لوگوں کو حکم دیجئیے۔ ( بیضاوی) 3 ۔ (وا عرض عن الجاھلین ) اور جاہل اور نہ سمجھ لوگ اگر آپ کو برا بھلا کہیں تو ان سے مت الجھئے (قرطبی) بلا شبہ ہر مومن و مسلم کو ان صفات حسنہ سے متصف ہونا چاہیے اور خصوصا اس طبقہ کو جن کے ذمہ اشاعت دین اور تبلیغ اسلام کا فریضہ ہے انہیں خصوصی طور پر ان خصائل حمیدہ سے اپنے آپ کو مزین کرنا چاہئیے ۔ غور کرو کہ پیچھے دشمنان اسلام کی کج روی ، ہٹ دھرمی اور بد اخلاقی کا ذکر کتنا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا لکن اس کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ اور سارے مسلمانوں کو اخلاق فاضلہ کی ہدایت دی گئی۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے عفو اور امر بالمعروف اور جاہلوں سے کنارہ کشی کے واقعات ، بتفصیل کتاب و سنت میں بیان کئے گیے ہیں ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا بیان بہت وسیع ہے اور احادیث میں بھی اس کو بڑی وسعت سے بیان کیا گیا ہے اس جگہ تبرکاً نبی کریم ﷺ کا ایک فرمان مختصراً بیان کیا جاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا :
امرنی ربی بتسع الاخلاص فی الر و العلانیۃ اوالعدل فی الرضاء والعقب والقصد فی الغناء و الفقر و ان اعفوا عمن ظلمنی واصل من قطعنی ا عطی من حرمتی و ان یکون نطقی ذکرا و صمتی فکرا و نظری عبرۃ ۔
( قرطبی)
مجھے میرے پروردگار نے نو باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں 1 ۔ ظاہر و باطن میں اخلاص کو اپنا شعور بنائوں ۔ 2 ۔ خوشنودگی اور ناراضگی میں عدل کروں ۔ 3.۔ خوشحالی اور تنگ دستی میں میانہ روی اختیار کروں ۔ 4 ۔ جو مجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دوں 5 ۔ جو قطع تعلقی کرے اس سے صلہ رحمی کروں ۔ 6 ۔ جو مجھے محروم رکھے اس کو دوں ۔ 7 ۔ میری زبان ذکر الٰہی سے ہمیشہ تر رہے ۔ 8 ۔ خاموشی کی حالت میں اس کی آیتوں میں غور و فکر کروں ۔ 9 ۔ اور میرے دیکھنے میں عبرت پذیری ہو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے نبی اعظم و آخر ﷺ سے سنت مصطفویہ اور طریقہ محمدیہ کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
1 ۔ معرفت میرا راس المال ہے ۔ 2 عقل میرے دین کی اصل ہے ۔ 3 ۔ محبت میری بنیاد ہے ۔ 4 ۔ شوق میرا مرکب ہے ۔ 5 ۔ ذکر الٰہی میرا مونس ہے ۔ 6 ۔ اعتماد میرا خزانہ ہے ۔ 7 ۔ حزن میرا رفیق ہے ۔ 8 ۔ علم میرا ہتھیار ہے ۔ 9 ۔ صبر میرا لباس ہے ۔ 10 ۔ رضا میری غنیمت ہے ۔ 11 ۔ عجز میرا فخر ہے ۔ 12 ۔ زہد میرا حرفہ ہے ۔ 13 ۔ یقین میری خوراک ہے ۔ 14 ۔ صدق میرا ساتھی ہے ۔ 15 ۔ طاعت میرا خلق ہے ۔ 16 ۔ اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ( کتاب الشفا قاضی عیاض)
مختصر یہ کہ زیر نظر آیت مکارم اخلاق کی جامع ہے ۔ بعض مفسرین نے اس کا خلاصہ یہ بیان کیا ہے کہ لوگ دو قسم کے ہیں ایک محسن یعنی اچھے کام کرنے والے دوسرے بد کار و ظالم اس آیت نے دونوں طبقوں کے ساتھ اخلاق کریمانہ برتنے کی یہ ہدایت دی ہے کہ نیک کام کرنے والوں سے ان کی ظاہری نیکی کو قبول کرلو ۔ زیادہ تفتیش و تجسس میں نہ پڑو اور نیکی کے اعلیٰ معیار کا ان سے مطالبہ نہ کرو بلکہ جتنا وہ آسانی سے کرسکیں اس کو کافی سمجھو اور بد کاری کے معاملہ میں یہ ہدایت دی کہ ان کو نیک کام سکھائو اور نیکی کا راستہ بتائو اگر وہ اس کو قبول نہ کریں اور اپنی گمراہی اور غلطی پر جمے رہیں اور جاہلانہ گفتگو سے پیش آئیں تو ان سے علیحدہ ہو جائو اور ان کی جاہلانہ گفتگو کا جواب نہ دو اس طرح سے یہ امید ہے کہ ان کو کسی وقت ہوش آئے اور اپنی غلطی سے باز آجائیں ۔
Ayah 7:200شیطان کی طرف سے کوئی و سوسہ اندازی ہو تو اللہ سے پناہ طلب کرو :
229: (ینزغن نزغ ) کے اصل معنی سوئی یا کسی نوکدار چیز کو چمڑہ میں داخل کرنے کے ہیں اور اسی نسبت سے کسی امر میں اس کو بگاڑنے کے لئے مداخلت کرنا کے بیان کئے جاتے ہیں جیسے قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان ہوا کہ نزغ ال شیطان بینی و بین اخوتی (یوسف 12ـ:100) یعنی شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈلوا دیا ۔ و اما ینز غنک من الشیطن اور اگر ایسا ہوا کہ شیطان کی طرف سے وسوسہ کی کوئی خلش محسوس ہو گویا یہ تدبیر بیان فرمائی ہے روش عفو پر قائم رہنے اور جاہلوں کی روش سے اعراض اور ان کے طعنوں کے صدمات سے اپنے دل کو محفوظ رکھنے کی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان شیاطین جن و انس کی ہرزہ سرائیوں اور خاکبازیوں سے دل کو کوئی صد مہ پہنچے تو اپنے رب کی پناہ ڈھونڈو کہ تمہارا رب سمیع وعلیم ہے ۔
یہ آیت در حقیقت پچھلی آیت کے مضمون کی تکمیل ہے کیونکہ اس میں جو ہدایت دی گئی کہ ظلم کرنے والوں اور جہالت سے پیش آنے والوں کی خطا سے در گزر کریں اور ان کی برائی کا جواب برائی سے نہ دیں ۔ یہ بات انسانی طبیعت کے لئے سب سے زیادہ بھاری اور شاق ہے خصوصاً ایسے مواقع میں شیطان اچھے بھلے انسان کو بھی غصہ دلا کر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ کرلیتا ہے اس لئے اس آیت میں یہ تلقین فرمائی گئی ہے کہ اگر ایسے صبر آزما موقع میں غصہ کے جذبات زیادہ مشتعل ہوتے نظر آئیں تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لو ۔ حدیث میں ہے کہ دو شخص نبی کریم ﷺ کے سامنے لڑ جھگڑ رہے تھے اور ایک شخص غصہ میں بےقابو ہو رہا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ لے تو اس کا یہ اشتعال جاتا رہے پھر فرمایا کہ وہ کلمہ کیا ہے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم اس نے یہ سن کر فورا یہ کلمہ پڑھ لیا تو فورا اس کا غصہ اور اشتعال کافور ہوگیا ۔ اس طرح غصہ میں آنے والے آدمی کو آپ ﷺ نے پانی پینے کا مشورہ بھی دیا اور غصہ کی حالت میں کھڑا ہونے والے کو بیٹھ جانے یا مجلس برخواست کردینے کا حکم بھی صادر فرمایا ۔
Ayah 7:201متقی لوگ شیطان کی وسوسہ اندازی سے فورا چونک اٹھتے ہیں :
230: خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آپ ﷺ کے واسطہ سے تمام انسانیت کے لئے یہ حکم ہے کہ جو لوگ جہالت کی بجائے تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں جب کبھی ان کو جاہلوں اور شیاطین کی شیطنت کو کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں جس سے فورا ان کا باطن روشن ہوجاتا ہے اور سارے خبیثوں کی خباثت کے باوجود ان کی راہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے پاتی اور اس طرح وہ شیطان کی وسوسہ اندازی سے فورا چونک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کو صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ ان کے لئے صحیح طریق کار کیا ہے ، انسان کی زندگی میں بعض اوقات نہایت ہی نازک موڑ آجاتے ہیں اور اس کے لئے زندگی کا سفر نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں زندگی کی گاڑی کسی وقت بھی الٹ جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لئے نہایت ہی احتیاط سے قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ذرا قدم پھسلا تو وہ کسی ایسی کھائی میں جا گرا اور زندگی کی گاڑی چکنا چور ہوگئی اور اگر خوش قسیتے سے وہ بچ بھی گئی تو وہاں سے نکلنا نہایت ہی مشکل ہوگیا۔ ایسے حالات میں اللہ کی یاد ہی انسان کے لئے وہ سہارا ہے جس کے بل بوتے پر وہ دوبارہ اٹھ کر چلنے کے قابل ہوجاتا ہے ورنہ بڑے بڑے پہلوان دل چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے یاد رکھئے کہ اس سے محفوظیت کے تین درجے ہیں جن میں سے درجہ اول یہ ہے کہ وسوسہ کا اثر ہی سرے سے نہ ہو اور درجہ ثانی یہ ہے کہ وسوسہ اثر دکھائے مگر معاََ تنبیہ بھی ہوجائے اور وسوسہ کے شر سے حفاظت رہے اور درجہ ادنیٰ یہ ہے کہ پھسلے مگر معاً سنبھل جائے ، ڈرے ، جھج کے اور باز آجائے تو اس طرح گویا اس کو توبہ نصیب ہوگئی اور اس طرح وہ ڈوبنے سے بچ نکلا۔