7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور اس غرض سے کہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے وقت میں حاضر ہوں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے پھر جب لرزا دینے والی ہولناکی نے انہیں آلیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی پروردگار اگر تو چاہتا تو ان سب کو اب سے پہلے ہلاک کر ڈالتا اور میری زندگی بھی ختم کردیتا پھر کیا ایک ایسی بات کے لیے جو ہم میں سے چند بیوقوف آدمی کر بیٹھے ہیں تو ہم سب کو ہلاک کر دے گا ؟ یہ اس کے سوا کیا ہے کہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے تو جسے چاہے اس میں بھٹکا دے جسے چاہے راہ دکھا دے ، اے اللہ ! تو ہمارا والی ہے ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تجھ سے بہتر بخشنے والا کوئی نہیں

موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم بنی اسرائیل سے ستر آدمی انتخاب میں چن کر کو ئہ طور پر لے جانے کا واقعہ : 169: موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات لا کر اپنی قوم بنی اسرائیل کو دی تو انہوں نے اپنی کج روی سے حیلہ جوئی کی اور ایک بات جو مدت سے کہتے آرہے تھے اس کا مطالبہ تیز کردیا ۔ جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا جا چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لئے آپ کو چن لیا اور یہ واقعات وہاں پیش آئے وہ جب قوم کے سامنے رکھے تو قوم کے لوگوں نے مطالبہ شروع کیا تھا کہ وہ نظارہ جو آپ نے دیکھا ہے ہم کو بھی دکھائو ۔ اس کا اثر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے طور پر جا کر اللہ سے درخواست کی تھی تاکہ وہ خود مشاہدہ کر کے قوم کے لوگوں کو مشاہدہ کرائیں لیکن جب وہ خود ہی مشاہدہ نہ کر پائے اور آپ کو پختہ یقین آگیا کہ اللہ کی ذات کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ بلاشبہ آپ کو یقین تھا لیکن ان لوگوں کو اگر موسیٰ (علیہ السلام) کے بتانے سے یقین آجاتا تو آئندہ وہ کبھی مطالبہ نہ کرتے موسیٰ (علیہ السلام) کو ئہ طور سے جب تورات کی الواح لے کر واپس آئے قوم کے بدلے ہوئے حالات دیکھے تو قلق ہوا لیکن جب حالات کنٹرول ہوگئے اور ان پیغامات کی تبلیغ کی اشاعت شروع کی تو بنی اسرائیل کا وہی پرانا مطالبہ ایک بار پھر زور پکر گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اصل صورت حال سے آگاہ کیا لیکن وہ ان باتوں کو کب تسلیم کرنے والے تھے انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب کرکے کوہ طور پر لیجانے چاہے خواہ اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر یا اپنے اجتہاد سے کہ جیسے میں نے مشاہدہ کی اپیل کی تھی اور ایک منظر دیکھ کر کان پکڑ گیا تھا شاید یہ بھی اسی طرح کان پکڑ جائیں اور ان کا مطالبہ ختم ہو ۔ قوم کو کہا ہوگا کہ اپنے نمائندے خود تجویز کرلو تاکہ وہ منظر دیکھ کر تم سب کو بتا دیں ۔ مختصر یہ کہ یہ ستر آدمی قوم سے منتخب فرما کر اس میدان اور اس جگہ لے گئے جہاں خود جمال الٰہی کے دیکھنے کی اپیل کی تھی تاکہ جو کچھ ان کو پیش آیا تھا وہ ان کو بھی پیش آئے اور وہ قوم کے سامنے اس کی گواہی دے سکیں ۔ تورات کے مطابق ان لوگوں کو وہاں گئے ہوئے تین دن گزرے تھے کہ صبح ہوتے ہی بادل گرجنے لگے اور بجلی چمکنے لگی اور پہاڑ پر کالی گھٹا چھا گئی اور ایسی اٹھی جیسے قرنا کی آواز ہو اور وہ آواز اتنی بلند ہوئی کہ سب لوگ جو پہاڑ کے نیچے اپنے اپنے ڈیروں میں تھے وہ بھی کانپ گئے اور کو ئہ سینا اوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔ قرآن کریم نے فرمایا پھر جب لرزا دینے والی ہولناکی نے انہیں آلیا ۔ اخذتھم الرجفۃ تو وہ اس وحشت ناک منظر دیکھنے کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو کر گر گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ مر گئے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے رب العزت کی بارگاہ میں اس طرح عرضی پیش کی کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان سب کو پہلے ہی ہلاک کر ڈالتا اور خود مجھے بھی۔ کیا تو ایسی بات کے لئے جو ہم میں سے چند بیوقوفوں نے کی ہم سب کو ہلاک کر دے گا ؟ گویا ان کو بےحس و حرکت دیکھ کر فی الواقعہ موسیٰ (علیہ السلام) سمجھے کہ وہ مر گئے پھر فطری خیال پیدا ہوا کہ وہ مر گئے تو قوم کے لوگ یقیناً مطعون کریں گے اور کہیں گے موسیٰ (علیہ السلام) ! ان سب لوگوں کو کہیں مار آیا اور اس طرح ایک فتنہ کھڑا ہوجائے گا اور بےساختہ پکار اٹھے کہ اے اللہ ! یہ تو تیری ایک آزمائش ہے اور تیری آزمائش سے عہدہ بر آتو وہی ہوتے ہیں جن کو تو توفیق عطا فرمائے ۔ تو ہی جن کو بخشتا ہے وہ تیرے امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور ہدایت پاتے ہیں اور جن کو تو اپنی توفیق سے محروم کردیتا ہے وہ گمراہ ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سنت اللہ کا حوالہ دیا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے پسند فرمائی ہے اور جس کا ذکر قرآن کریم کے صفحات میں بار بار کیا گیا ہے ۔ اے اللہ تو ہمارا والی ہے ۔ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تجھ سے بہتر رحم کرنے والا کوئی اور نہیں ۔ مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اللہ نے منظور فرمائی اور وہ سب کے سب ہوش میں آگئے اور اٹھ کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ زندگی عطا فرمائی جو کفر میں پڑے ہو وں کو بعض اوقات عطا کردیتا ہے اور وہ کفر کی موت سے نکل کر اسلام کی زندگی میں داخل ہوجاتے ہیں یہاں نہیں لیکن ان کی اس زندگی کا ذکر سورة بقرہ کی آیت 56 میں کیا گیا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے یہ دعائیہ کلمات بھی اس جگہ ذکر کرنے کے قابل ہیں جو آپ اپنے خاص اوقات میں طلب فرمایا کرتے تھے یہ الفاظ کتنے دلکش اور حقیت افروز ہیں ۔ فرماتے ہیں یا حی یا قیوم برحمتک استغیث لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین و اصلح لی شانی کلہ اے زندئہ جاوید ! اے ہرچیز کے زندہ رکھنے والے ! میں تیری رحمت سے فریاد کرتا ہوں کہ آنکھ جھپکنے کی قدر بھی مجھے اپنی توفیق سے محروم کر کے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے تمام حالات کی خود ہی اصلاح فرما۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور اس دنیا کی زندگی میں بھی ہمارے لیے اچھائی لکھ دے اور آخرت کی زندگی میں بھی ہمارے لیے اچھائی کر ہم تیری طرف لوٹ آئیں ، اللہ نے فرمایا میرے عذاب کا حال یہ ہے کہ جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں اور رحمت کا حال یہ ہے کہ ہرچیز پر چھائی ہوئی ہے ، پس میں ان لوگوں کے لیے جلد ہی لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور جو میری نشانیوں پر ایمان لائیں گے

موسیٰ (علیہ السلام) کے دعائیہ کلمات اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا ضابطہ : 170: اب اصل عظیم کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کائنات ہستی میں اصل اور عام حقیقت رحمت ہے اور تعذیب و عقوبت صرف خاص خاص حالتوں کے لئے ہے اور اگر بغور دیکھا جائے تو وہ بھی حقیقت میں رحمت ہی ہے جیسے آپریشن سے تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن آپریشن کیوں کیا جاتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کیلئے ہی ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو چھوٹے چھو ٹے عذابوں اور عقوبتوں میں مبتلا کر کے اس بڑے عذاب اور عقوبت سے بچنے کی فکر کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے۔ پس اصل قانون رحمت ہوا جس کے احاطہ سے کوئی گوشہ بھی باہر نہیں ہے ۔ بلا شبہ یہ مقام معارف قرآن کی مہمات سے ہے اور ان تمام گمراہیوں کا ازالہ کردیتا ہے جو خدا کی صفات و افعال کے بارے میں پھیل گئی تھی۔ جس حالت کو انسان کے لئے عذاب قرار دیا اسے خاص حالتوں سے مخصوص بتایا مگر رحمت کو کہا کہ عام ہے کو صن کہ رحمت اس کی قدیم اور ازلی صفت ہے اور عذاب بھی اس لئے عذاب ہے کہ ہماری ٹھہرائی ہوئی اضافتوں اور نسبتوں کے لحاظ سے ایسا ہی ہونا تھا ورنہ فی الحقیقت اس نے جو کچھ بھی کیا ہے رحمت ہی رحمت ہے ۔ تفصیل کے لئے سورة الانعام کی آیت 12 کی تفسیر دیکھیں وضاحت وہاں مل جائے گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! ہم تو تیرے آگے جھک گئے ہیں اس لئے ہمارے حق میں رحمت کو لازم و مقرر کر دے کہ ہم تیرے لئے جھک گئے ہیں ۔ جواب آتا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں اسے لوگوں کے لئے تو لازم و ضروری کر دوں گا جو میرا خوف رکھتے ہیں یعنی میری رحمت توبہ طور کلیہ اور اصول کے ہر ایک لئے عام ہے تو اس کا تحقق ان لوگوں کے حق کیسے نہ ہوگا یعنی ضرور ہوگا جو عقائد و اعمال میں صفات ایمان اور تقویٰ سے آراستہ ہیں اور مجرم قوموں کو عذاب دینا بھی اللہ کی رحمت ہے ۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة الرحمٰن میں آئے گی اور یہ بات قابل فہم ہے کہ مجرموں پر یہ عذاب منافی رحمت نہیں اور چونکہ اس جگہ بات اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ہو رہی تھی اللہ نے اس ذکر کے ساتھ اپنی رحمت کا ذکر فرمادیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت للعالمین بنا کر مبعوث کئے گئے ہیں ۔ فداہ ابی و امی یا رسول اللہ ﷺ ۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

جو { اَلرُّسُوْل } (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں گے کہ وہ نبی امی ہے اور اس کے ظہور کی خبر اپنے یہاں توراۃ و انجیل میں لکھی پائیں گے وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا ، برائی سے روکے گا ، پسندیدہ چیزیں حلال کرے گا ، گندی چیزیں حرام ٹھہرائے گا ، اس بوجھ سے نجات دلائے گا جس کے تلے دبے ہوں گے ان پھندوں سے نکالے گا جن میں گرفتار ہوں گے تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کے مخالفوں کے لیے روک ہوئے (اور راہ حق میں) اس کی مدد کی اور اس روشنی کے پیچھے ہو لیے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے سو وہی ہیں جو کامیابی پانے والے ہیں

نبی اعظم و آخر ﷺ کا امی ہونے کا مطلب کیا ؟ 171: قرآن کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا بکثرت ذکر آیا ہے کہیں آپ کے منصب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ کہیں آپ کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا۔ کہیں آپ ﷺ کی عبادات کا تذکرہ کیا ۔ کہیں آپ ﷺ کو رحمت للعالمین قرار دیا ۔ کہیں گھریلو معاملات کی طرف اشارات کئے ۔ کہیں آپ ﷺ کے جنگی معرکوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ کہیں آپ ﷺ کے القابات کا ذکر فرمایا اس طرح آپ ﷺ کو (النبی الامی ) کے لقب سے نوازا گیا جیسا کہ زیر نظر آیت میں فرمایا ۔ رہی یہ بات کہ آپ ﷺ کو امی کیوں کہا گیا ؟ تو اس کے چار جواب ممکن ہیں اور چاروں ہی آپ ﷺ کے حق میں درست ہیں ۔ 1 ۔ امی ۔ ماں والا اس لئے کہ آپ بےباپ پیدا ہوئے تھے ۔ 2 ۔ امی ۔ ام القرٰی کی طرف نسبت کرکے کہ آپ ﷺ فی الواقع ام القٰری یعنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے تھے۔ 3 ۔ امی ۔ امیین میں پیدا ہونے کا باعث کہ آپ ﷺ کی قوم کا لقب ہی ان پڑھ قوم تھا ۔ 4 ۔ امی ۔ ناخواندہ ہونے کے باعث کہ آپ نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا ۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ان چار جوابوں میں سے پہلے جواب بہت کم ذکر کیا گیا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ دوسرے جواب کا تذکرہ بھی کم ہی لوگوں نے کیا ہے لیکن پہلے سے زیادہ تیسرے جواب کو چونکہ قرآن کریم میں بھی وضاحت سے بیان کیا ہے جیسے فرمایا ــ: هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ (الجمعہ 62 : 2 ) وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا۔ اس لئے قوم میں سے ایک رسول ہونے کے باعث آپ ﷺ کو امی کہا گیا ۔ لہٰذا یہ وجہ بھی آپ کو امی کہنے کی کچھ لوگوں نے ذکر کی ہے لیکن چوتھا جواب کہ آپ چونکہ ناخواندہ تھے اس لئے آپ ﷺ کو امی کہا گیا اس پر لوگوں نے اتنا لکھا ہے کہ اگر اس کو جمع کیا جائے تو ایک بہت بڑی ضخیم کتاب بن سکتی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ہمارے نزدیک پہلے تین جواب بیک وقت صحیح اور درست ہیں اگرچہ اولیت پہلے ہی جواب کو حاصل ہے ۔ لیکن چوتھا جواب جس پر بہت کچھ لکھا گیا اس میں کچھ کلام ہے ۔ وہ کلام کیا ہے ؟ کلام یہ کہ بلا شبہ یہ بات تو صحیح ہے کہ آپ ﷺ نے کسی انسان سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا نہ بچپنے میں ، نہ بلوغت کے بعد جوانی تک نبوت ملنے سے پہلے اور نہ ہی نبوت ملنے کے بعد ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت کے ساتھ ہی آپ ﷺ کو پڑھنا اور لکھنا سکھا دیا تھا اس لئے آپ ﷺ ضرورت کے مطابق پڑھتے بھی تھے اور لکھتے بھی ۔ چناچہ قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : وَ مَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ 0048 ( العنکبوت 29 : 48) اے پیغمبر اسلام ! آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے اس لئے ہمارے وہ بزرگ جو نبوت ملنے کے بعد بھی آپ کے کچھ نہ پڑھ سکنے اور کچھ نہ لکھ سکنے کے قائل ہیں ہم ان کے ساتھ متفق نہیں ۔ محولہ بالا آیت سے بھی یہی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی انسان سے نہ پڑھنا سیکھا تھا اور نہ لکھنا اس لئے نبوت سے پہلے من قبلہ آپ نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے ۔ آپ ﷺ کے اہل وطن اور رشتہ و برادری کے لوگ جن کے درمیان روز پیدائش سے سن کہولت کو پہنچنے تک آپ ﷺ کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی اس بات سے خوب واقف تھے کہ آپ نے عمر بھر نہ کبھی کوئی کتاب پڑھی اور نہ کبھی قلم ہاتھ میں لیا ۔ اس امر واقعہ کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ کتب آسمانی کی تعلیمات سے انبیاء سابقین کے حالات ، مذاہب و ادیان کے عقائد ، قدیم قوموں کی تاریخ اور تمدن و اخلاق و معیشت کے اہم مسائل پر جس وسیع اور گہرے علم کا اظہار اس امی کی زبان سے ہو رہا ہے یہ اس کو وحی الٰہی کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا اگر اس کو نوشت و خواند کا علم ہوتا اور لوگوں نے کبھی اسے کتابیں پڑھتے اور مطالعہ و تحقیق کرتے دیکھا ہوتا تو باطل پرستوں کے لئے شک کرنے کی کچھ بنیاد بھی ہو سکتی تھی کہ یہ علم وحی الٰہی نہیں بلکہ اخد واکتساب سے حاصل کیا گیا ہے لیکن اس کی امیت نے تو ایسے کسی شک کیلئے برائے نام بھی کوئی بنیاد باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ لیکن جب پیغام نبوت ملا تو اس کی پہلی شرط ہی یہ تھی اقرا پڑھ اور آپ ﷺ نے فرمایا ما ان بقاری میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔ ناموس نبوت نے تین بار یہ حکم دوہرایا اور اس کے ساتھ ہی ہر تین بار آپ کو بھینچا جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کی زبان مبارک پر پیغام رسالت جاری ہوگیا اور آپ ﷺ نے پڑھنا شروع کردیا اور اس طرح سورة العلق کی پہلی پانچ آیتوں کو آپ ﷺ نے پڑھ لیا اور پھر یہ پڑھنا اس طرح جاری ہوا کہ صرف پڑھنا ہی پڑھنا نہ رہا بلکہ اس امی قوم کو پڑھانا شروع کردیا اور قرآن کریم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا : یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ 1ۗ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ002 (الجمعۃ 62 : 2) جو انہیں اسکی آیات سناتا ہے ، ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ اللہ کی قدرت و حکمت کا رشمہ ہے کہ اس نے ایک ناخواندہ کو پل بھر میں خواندہ بنا دیا اور یہی وہ اندہ وجاوید معجزہ ہے جس کا دوسرا نام نبوت و رسالت رکھا گیا ۔ گویا نبوت و رسالت کیا ہے ؟ وہ ایک معجزہ ہی تو ہے پھر اس نبی امی کے اس معجزہ کا نتیجہ کیا ہوا ؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کحا مل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرسکتی ہے کوئی دوسرا انسان جو نبی نہ ہوتا خواہ کتنی ہی کوشش کرلیتا یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کرسکتا تھا ۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہو سکتا تھا کہ اب ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کو دے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر وہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہوجائے۔ محولہ بالا آیت کو اس قرآن کریم میں چار بار دہرایا گیا جیسا کہ سورة البقرہ 2: 129 ، سورة البقرہ 2: 151 ، آل عمران 3:164 اور سورة الحج 62: 2 آیت میں اور اس طرح لوگوں کو بتایا کہ ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ تمہاری آنکھوں کے سامنے جو کام کر رہے ہیں وہ صریحا ایک رسول کا کام ہے ۔ وہ اللہ کی آیات سنا رہے ہیں جس کی زبان ، مضامین ، انداز بیان ہرچیز اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ فی الواقع وہ اللہ ہی کی آیات ہیں ۔ وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہے ہیں ان کے اخلاق اور عادات اور معاملات کو طرح طرح کی گندگیوں سے پاک کر رہے ہیں اور ان کو اعلیٰ درجے کے اخلاقی فضائل سے آراستہ کر رہے ہیں اور یہ وہی کام ہے جو اس سے پہلے تمام نبی و رسول کرتے رہے ہیں پھر یہ کس ہٹ دھرمی کی بات ہے کہ جس کا رسول بر حق ہونا اس کے کارناموں سے اعلانیہ ثابت ہو رہا ہے اس کو ماننے سے تم نے صرف اس لئے انکار کردیا کہ اللہ نے تمہاری قوم کی بجائے اس قوم میں سے اٹھایا جسے امی کہتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ یہود و نصاریٰ نے عربوں کو امیون کہا جس کی وجہ ان میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی تھی اور پھر وہ اس نام سے معروف ہوگئے اور قوم میں محمد رسول اللہ ﷺ بےباپ پیدا ہوئے اور پھر آپ ﷺ نے کسی سے پڑھنا اور لکھنا بھی نہ سیکھا ۔ اس لئے وہ تینوں باتیں آپ ﷺ میں اکھٹی ہوگئیں جس کے باعث آپ ﷺ امی ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ ﷺ کو اس لقب سے اس آیت میں یاد کیا اور یہی وہ لقب تھا جو پہلے انبیاء کرام بھی اس آخری نبی اور رسول کا بتاتے رہے تھے چونکہ آپ ﷺ نے کسی سے پڑھنا اور لکھنا بھی نہ سیکھا تھا اس لئے نبوت عطا ہونے تک آپ کچھ پڑھ نہیں سکتے تھے لیکن نبوت ملنے پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا کچھ پڑھا اور سکھا دیا جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کرام کو بھی نہیں سکھایا اور پڑھایا تھا ۔ تفصیل اس کی انشاء اللہ العزیز سورة اقراء میں آئے گی۔ آپ ﷺ کے ظہور کی خبر تورات اور انجیل میں موجود تھی اور ہے : 172: تورات و انجیل میں تحریف ہونے کے باوجود نبی اعظم و آخر ﷺ کے ظہور کی اطلاع آج بھی موجود ہے اگرچہ ان کا ذکر پیچھے بھی ایک سے زیادہ مقامات پر گزر چکا ہے لیکن یاد دہانی کے لئے کچھ حوالہ جات یہاں بھی ذکر کر دئے جاتے ہیں ۔ چناچہ مذکور ہے کہ : 1 ۔ خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تم اس کی سننا ۔۔۔۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔ میں ان کیلئے ان ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا ۔ (استثناء 18: 15 تا 11) 2 ۔ اور اس نے کہا : خدا وند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا ۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت تھی۔ وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے ۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت تھی۔ (استثناء 33:2 ) 3 ۔ دیکھو میرا خادم جسے میں سنبھالتا ہوں ۔ میرا بر گزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے ۔ میں نے اپنی روح اس پر ڈالی وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا ۔۔۔۔۔۔ وہ راستی سے عدالت کریگا ۔ وہ ماند نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا۔ ( یسعیاہ 42:1 ، 4) 4 ۔ یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا ۔ وہی کونے کے سارے کا پتھر ہوگیا ۔ یہ خدا وند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے ؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ ـ ( متی 21 :42 ، 44) 5 ۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے ۔ (یوحنا 14:17) 6 ۔ اس کے بعد میں تم سے باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ (یوحنا 14:31) 7 ۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جائوں گا تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جائوں تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ۔ (یوحنا 16:7) 8 ۔ لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپیں طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ (یوحنا 16:13) یہ حوالہ جات تبرکاََ درج کر دئیے ہیں ۔ اس طرح کے بہت سے بیانات تورات و انجیل میں موجود ہیں اور ان کی تشریح بھی ان کے اپنے علمائے کی ہے جس سے مزید وضاحت ہوجاتی ہے ۔ انشاء اللہ کسی مناسب مقام پر مزید عرض کیا جائے گا کہ اس طرح کے بیانات سے نبی امی یعنی اعظم و آخر ﷺ ہی مراد لئے گئے ہیں اور نبی امی کے سوا اور کوئی ان کا مصداق نہیں ہو سکتا اور یہ بات خود علماء یہود و نصاریٰ نے بیان کی ہے ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ انہیں نیکی کا حکم دے گا : 173: قرآن کریم کے اوراق اچھے کاموں کے کرنے کے احکام سے بھرے ہوئے ہیں ان کو شمار کرنا چاہیں تو اس کیلئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں ۔ اس جگہ چند احکامات کا تبرکاََ ذکر کیا جاتا ہے : 1 ۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تمہارے سجدوں کے قابل صرف اسی کی ذات ہے۔ 2 ۔ اپنی حاجات و مشکلات میں صرف اس کو پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ لوگو ! تمارے دکھ درد دور کرنے والا اور تمہیں تمہاری مشکلات سے نکالنے والا صرف وہی اللہ ہے اس لئے تم جو کچھ طلب کرو صرف اسی سے کرو۔ 3 ۔ آپ ﷺ نے اللہ اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر کامل یقین رکھنے کا حکم دیا ۔ 4 ۔ آپ ﷺ نے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور اپنے دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنے کی تلقین فرمائی اور یہ بتایا کہ اصل نیکی وہ ہے جو برائی کے بدلہ میں کی جائے ۔ یعنی برائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی کی جائے تو یہ نیکی ہے ۔ 5 ۔ آپ ﷺ نے معاشرہ کے غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور بیوائوں پر اپنے مال خرچ کرنے کا حکم اور ان کی اچھی دیکھ بھال کا حکم دیا ۔ 6 ۔ آپ ﷺ نے سچ بولنے ، ناپ تول کو پورا کرنے ، لینے اور دینے کے باٹ اور پیمانے ایک رکھنے کا حکم دیا ۔ 7 ۔ آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور اولاد کو صحیح اسلامی زندگی کی راہ پر چلانے کا حکم دیا ۔ 8 ۔ آپ ﷺ نے ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا وہ اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر ہوں وہ اپنے مذہب مسلک سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مذہب و مسلک کے خلاف ہوں۔ 9 ۔ آپ ﷺ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ انسانوں کے حقوق کا خاص خیال رکھو اس لئے کہ ان حقوق کی کوتاہیوں کو اللہ بھی معاف نہیں فرمائے گا ۔ 10 ۔ آپ ﷺ نے ان جانوروں کی اچھی طرح دیکھ بھال کا حکم دیا جن کو انسان اپنی ضرورت کے لئے اپنی ذمہ داری میں لے لیتا ہے خواہ وہ جانور حلال ہوں یا حرام۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے انہیں برائی سے منع فرمایا : 174: قرآن کریم اور احادیث نبوی میں ہر اس کام سے آپ ﷺ نے منع فرمایا جو برائی کا کام ہو ۔ اگر ان کو شمار کرنا چاہیں تو اس کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہیں اس جگہ چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے ـ: 1 ۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ، حاجت روا اور مشکل کشا بنانے سے منع فرمایا ۔ ( الذاریات : 51) 2 ۔ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے کی ممانعت فرمائی۔ ( یونس 10 : 106) 3 ۔ برائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے منع فرمایا ۔ (المائدہ 5 : 3) 4 ۔ حق کو چھپانے اور حق و باطل کو ملانے سے منع فرمایا ۔ (البقرہ 25: 44) 5 ۔ گروہ بندیوں میں تقسیم ہونے سے منع فرمایا گیا اور شرک کی قسم قرار دیا گیا ۔ (آل عمران 3: 105) 6 ۔ ہر برائی سے بچنے کی تلقین فرمائی خواہ وہ پوشیدہ ہو یا ظاہر ۔ (الانعام 6:151) 7 ۔ یتیموں کے مال کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا اور ماپ تول میں کمی کرنے سے بھی منع کیا ۔ (الانعام 6:152) 8 ۔ ظالموں کا ساتھ دینے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ۔ ( ھود 11: 113) 9 ۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو دنیا کے مال کی خاطر بیچنے سے منع فرمایا۔ (النحل 16: 95) 10 ۔ ان لوگوں کی طرف آنکھیں بلند کرنے سے منع فرمایا جن کو اللہ نے دنیا کا مال و متاع دیا لیکن وہ اللہ کی یاد کو بھول گئے ۔ (طہ 2: 129) نبی کریم ﷺ نے پسندیدہ چیزیں حلال اور گندی چیزیں حرام کردیں : 175: نبی رحمت ﷺ نے پسندیدہ چیزوں کا استعمال جائز ٹھہرایا ہے ناپسندیدہ چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے ۔ قرآن کریم نے اس معنی میں طیبات اور خبائث کا لفط اختیار کیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیزیں اچھی ہیں انہیں جائز کہا ہے اور جو بری یعنی ضر ہیں ان کو ناجائز کہا ہے یعنی ان سے روک دیا ہے ۔ اس کی تفصیل جلد اول سورة البقرہ کی آیت 173 ، 275 میں اور جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 93 میں اور جلد ہذا سارہ المائدہ کی آیت 5 اور آیت 72 میں اور سورة الانعام کی آیت 119 , 143 , 144 , 150 , 151 میں اور سورة الاعراف آیت 32 ، 33 میں گزر چکی ہے ۔ وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔ نبی کریم ﷺ نے ان بوجھوں سے نجات دلائی جن کے نیچے لوگ دبے ہوئے تھے : 176: جو بوجھ اہل کتاب کے سروں پر پڑا ہوا تھا اور جن پھندوں میں وہ گرفتار ہوگئے تھے ان سے ان کو نجات دلائی۔ یہ بوجھ کیا تھا اور یہ پھندے کونسے تھے جن سے قرآن کریم نے رہائی دلائی ؟ قرآن کریم نے دوسرے مقامات میں واضح کردیا ہے ۔ مذہبی احکام کی بےجا سختیاں ، مذہبی زندگی کی ناقابل عمل پابندیاں ، ناقابل فہم عقیدوں کا بوجھ ، وہم پرستیوں کا انبار ، عالموں اور فقہیوں کی تقلید کی بیڑیاں ، پیشوائوں کی تقلید کی زنجیریں۔ یہ سب بوجھل رکاوٹیں تھیں جنہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے دل و دماغ مقید کر دئیے تھے پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت نے ان سب سے نجات دلائی ۔ اس نے سچائی کی ایسی سہل و آسان راہ دکھائی جس میں عقل کے لئے کوئی بوجھ نہیں اور عمل کے لئے کوئی سختی نہیں ۔ لیکن افسوس کہ جن پھندوں اور بوجھوں سے اللہ کے رسول ﷺ نے اور قرآن کریم کی تعلیمات نے لوگوں کو نجات دلائی تھی مسلمانوں نے وہی پھندے اپنے گلوں میں ڈال لئے اور وہی بوجھ دوبارہ اپنے سروں پر اٹھا لئے اور آج اس کا جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔ خیال رہے کہ لفظ اصر ـ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے بوجھ کے معنوں میں اور عہد کے معنوں میں اس جگہ یہ دونوں معنوں پر محیط ہے یعی اعمال شدیدہ کا بوجھ اور اخترائی شریعت کے پھندوں کا بوجھ جیسے کپڑے پر پیشاب وغیرہ کا قطرہ لگ جائے تو اتنا کپڑا کاٹ دو ۔ ایام حیض میں عورت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور اس کے ہاتھ کی چیز کھانا حرام قرار دیا ہوا تھا اور مال غنیمت کو نذر آتش کر دو اس طرح کی بیشمار پابندیاں جن کا ذکر آج بھی تورات میں کیا گیا ہے ۔ ٓآپ ﷺ ان کے سارے طوق ان کے گلے سے اتروادیں : 177: اغلال جمع ہے غل کی اور غل کے معنی زنجیر کے ہیں اور اس کو طوق سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور ان سے مراد بھی شریعت موسوی کے وہ سخت احکام ہیں جو نبی نے نہیں بلکہ نبی کے بعد شارحین نے اپنے پاس سے گھڑ لئے تھے مثلاََ یہ کہ یوم سبت کو ہر دنیاوی کام کی مخالفت تھی۔ اگر کوئی کسی کو قتل کردیتا تو دیت کی گنجائش نہ تھی بلکہ قاتل کو بطور قصاص قتل کردینا ضروری تھا ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے آکر ساری باتوں کی اصلاح فرمائی۔ جیسے کپڑا یا بدن ناپاک ہونے کی صورت میں اس کو دھو لینا کافی قرار دیا ۔ حائضہ عورت سے صرف ازدواجی تعلق کو ممنوع فرمایا اور باقی سارے کام جائز رکھے اور قصاص کے ساتھ قتل کی دیت کو مقرر کردیا تاکہ زندگی میسر آئے ۔ وغیرہ وغیرہ فلاح انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی روشنی سے مستفید ہوں : 178: اس طرح گویا دنیا کے سارے انسانوں اور خصوصاََ اہل کتاب کو دعوت ایمان دے دی کہ جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق سابق پیش گوئیوں کے امین ہیں اور جن کو ان کی بعثت سے یہ سعادت نصیب ہونے والی ہے کہ غیر فطری بندھنوں اور پابندیوں سے آزاد ہوجائیں گے سب سے پہلے انہی کا حق ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں ۔ اس طرح اختصار اور جامعیت کے ساتھ بتا دیا کہ فلاح وسعادت سے صرف وہی سر فراز ہوگا جو میرے آخری نبی و رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لائے گا اور اس کی تعظیم و تکریم میں کوتاہی نہیں کرے گا ۔ اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کی تائید کے لئے ہر قربانی دینے پر مستعد ہوگا اور اس کے لائے ہوئے نور اور اس کی پھیلائی ہوئی روشنی میں چلنے کی کوشش کرے گا اور اس کے ارشادات پر عمل کرنے کے لئے دل و جان سے آمادہ ہوگا ۔ گویا یہ آیت اسی رحمت للعالمین ﷺ کی آسمانی تفسیر ہے جس میں لازم قرار دیا گیا ہے کہ ایمان کے بعد آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم لازم و ضروری ہے بلکہ قرآن کریم کی نصرت و اتباع کا حق تب ہی ادا ہو سکتا ہے جب دل میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا ادب و احترام ہو کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

تم کہو اے افراد نسل انسانی ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں ، وہ اللہ کہ آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہت اس کے لیے ہے کوئی معبود نہیں مگر اس کی ذات ! وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے پس اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر وہ جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اس کی پیروی کرو تاکہ راہ تم پر کھل جائے

نبی اعظم و آخر ﷺ پوری انسانیت کے رسول ہیں : 179: یہ گویا دعوت عامہ کا اعلان ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کسی خاص قوم اور ملک و ملت کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسان کے لئے ہے اور اس سے پہلے جتنے رسولوں کا ذکر ہوا وہ خاص خاص علاقوں اور مخصوص قوموں کے ایک مقرہ وقت تک مرشد و رہنما اور رہبر تھے لیکن اب جس پیر و مرشد اولین اور آخرین اور جس رہبر اعظم اور رسول معظم ﷺ کا ذکر ہو رہا ہے اس کی شان رہبری نہ کسی قوم سے مخصوص ہے اور نہ ہی کسی زمانہ سے محدود ہے جس طرح اس کے بھیجنے والے کی حکومت و سروری عالمگیر ہے اسی طرح اس کے اس رسول کی رسالت بھی جہاں گیر ہے ۔ ہر خاص و عام ، ہر فقیر و امیر ، ہر عربی و عجمی اور رومی و حبشی کے لئے وہ مرشد بن کر آیا ہے ۔ 1 ۔ یہ دعوت یکساں طور پر ساری نوع انسانی کے لئے ہے 2 ۔ یہ ایک اللہ کے سامنے سب کے سروں کو جھکا ہوا دیکھنا چاہتی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ 3 ۔ ایمان باللہ و کلماتہ اس کا شعار ہے یعنی اللہ پر اور اس کے تمام کلمات پر وحی پر ایمان اور جب تک انسان باقی ہے اس کیلئے محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام بھی باقی ہے ۔ اب اس دنیا میں کوئی نیا پرانا رسول نہیں آئے گا یہ کہ آپ ﷺ پر نبوت و رسالت ختم کردی گئی ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے : 180: فرمایا جس اللہ نے مجھے تم سب انسانوں کی طرف بھیجا ہے وہ اللہ کہ آسمان و زمین کی ساری بادشاہت اس کیلئے ہے یعنی جب تمام کائنات ہستی میں ایک ہی اللہ کی فرمانروائی ہے تو ضروری ہوا کہ اس کا پیغام ہدایت بھی ایک ہی ہو اور وہ سب کے لئے ہو ۔ وہی اللہ جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے ایسا نہیں کہ بقاء وحیات کا دیوتا وشنو جی ہوں اور موت و اہلاک کے دیوتا شیو جی ۔ وہ اکیلا ہی سب کا معبود ہے یہ نہیں کہ معبود اعظم تو وہ ہو اور چھوٹے بڑے دیوی دیوتا اس کے ماتحت ہزاروں اور بھی ہوں ۔ نہیں بلکہ کسی دوسرے کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تو صرف وہی ایک اور اکیلا ہے اور اس کی ربوبیت اور الوہیت ہمہ گیر ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت و رسالت بھی ہمہ گیر ہے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی ہدایت الٰہی : 181: جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا ہے عربی میں امی ایسے آدمی کو کہتے ہیں جو اپنی پیدائشی حالت پر ہو ، لکھنے پڑھنے اور علم و فن کی باتوں سے آشنا ہی نہ ہوا ہو عرب کے باشندوں کو بھی اس لقب سے ملقب کیا گیا کیونکہ ان کی اکثریت پڑھی لکھی نہیں تھی۔ پیغمبر اسلام کو الامی فرمایا کیونکہ ظاہری تعلیم و تربیت کا ان پر سایہ بھی نہیں پڑا تھا جو کچھ تھا وہ سر چشمہ وحی کا فیضان تھا اور اس وصف کا اس لئے دوبارہ ذکر کیا گیا کہ آپ ﷺ کی بشارت ظہور کیلئے پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کا یہ وصف بتایا گیا تھا اس لئے آپ ﷺ کا یہ وہ وصف تھا جس سے پہلی کتابوں کے حامل یعنی یہود و نصاریٰ بھی اچھی طرح واقف تھے اس لئے ان کو اس کی پہچان کروائی گئی جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا ۔ فرمایا اب جب تک انسان اس دنیا میں قائم ہے اس وقت تک اسی رسول و نبی الامی کی پیروی ضروری ہے اور ہدایت نام کی چیز اس کی پیروی اور اتباع کے سوا کسی دوسری جگہ سے میسر نہیں ہو سکتی اس لئے آپ ﷺ ہی کو خیر الانام قرار دیا گیا ؎ چھڑا کے بت کی پرستش سکھائی تھی وحدت میرے خیال کی ترویج عام ہو جائے سیاسیات سے مذہب ملا دیا تو نے کہ دین و دنیا کا سب انتظام ہوجائے رفاہ عام ہی تیرا تھا جب کہ نصب العین لقب نہ کیوں تیرا خیر الانام ہوجائے وفا جہاں میں وہ عالی مقام ہوتا ہے عطا جسے مئے عرفان ہو جائے (لالہ دھرم پال گپتا مدیر روزنامہ تیج دہلی) پیچھے بنی اسرائیل کا ذکر چلتا آرہا تھا آیت 156 میں موسیٰ (علیہ السلام) کے دعائیہ کلمات کا ذکر تھا اور ان ہدایات کو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے طلب کی تھیں نافذ کرنے کے لئے چونکہ نبی اعظم وآخر ﷺ تشریف لائے اس لئے آیت 157 , 158 میں آپ ﷺ کا ضمناََ اور استشہادََ ذکر فرما دیا اور اب دوبارہ بیان موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی قوم کی طرف پھر رہا ہے جو پیچھے بیان ہوتا چلا آرہا ہے۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک گروہ ایسا ہے جو لوگوں کو سچائی کی راہ چلاتا ہے اور سچائی ہی کے ساتھ انصاف بھی کرتا ہے

موسیٰ (علیہ السلام) کے سچے ساتھیوں کی مدح سرائی اور حوصلہ افزائی : 182: قرآن کریم ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام ہے جس نے ہر سچی بات کو بلا جھجک برملا بیان کردیا ۔ غور کرو کہ جہاں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں اور بد اعمالیوں پر شدت کے ساتھ سرزنش کی ہے ۔ وہاں ان کے اندر کے گروہ قلیل کی تحسین بھی فرمائی ہے جو حق و عدل پر قائم ہے ۔ بلا شبہ بنی اسرائیل کی بڑی اکثریت کا طرز عمل حوصلہ شکن تھا ۔ ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جانا ، اناڑی بچوں کی طرح اپنی بات خواہ وہ کتنی ہی نامعقول ہو منوانے پر بضد ہونا ۔ معمولی سے معمولی شبہ پر راہ حق سے رو گردان ہوجانا ان کا معمول تھا تاہم ان میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو سچے مومن تھے اور تورات کے احکام کی بجا آوری میں تن دہی سے کوشاں تھے۔ مفسرین نے اس میں بہت کچھ بیان کیا ہے یہ کونسا گروہ ہے جس کی قرآن کریم میں تحسین کی گئی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس گروہ کو کسی خاص زمانہ کے ساتھ خاص کرنا آیات زیر نظر کے مفہوم کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ آیت کو اپنے عموم پر رہنے دیا جائے تو یہی حق ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں بھی ایک فرمانبردار جماعت تھی جب قوم کی اکثریت بچھڑے کی پرستش کر رہی تھی تو وہ توحید پر ثابت قدم رہے اور آپ کے انتقال کے بعد ایک جماعت صدق دل سے احکام الٰہی پر عمل پیرا رہی اور نبی اعظم و آ خر ﷺ کے عہد میں بھی ایک گروہ موجود تھا جو تورات پر کاربند تھا جب اس گروہ نے نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی تو آپ کی شناخت کرکے اس گروہ کے لوگ آپ ﷺ پر ایمان لے آئے ۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور (پھر وہ واقعہ یاد کرو جب) ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ خاندانوں کے بارہ گروہوں میں تقسیم کردیا اور جب لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پینے کیلئے پانی مانگا تو ہم نے وحی کی کہ اپنی لاٹھی (جبل حوریب کی) ایک خاص چٹان پر مارو چناچہ اس طرح بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنی اپنی جگہ پانی کی معلوم کرلی اور ہم نے بنی اسرائیل پر ابر کا سایہ کردیا تھا اور { من } اور { سلویٰ } اتارا تھا ہم نے کہا تھا کہ یہ پسندیدہ غذا کھائیے جو ہم نے عطا کی ہے ، انہوں نے ہمارا تو کچھ نہیں بگاڑا خود اپنے ہاتھوں اپنا ہی نقصان کرتے رہے

بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں میں منقسم ہونے اور ان کے مطالبات کا ذکر ــ: 183: بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد در اولاد کو کہا جاتا ہے ۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے وہ سب کے سب اپنے خاندان کے مورث اعلیٰ ٹھہرے اور ان کی اولاد اسی طرح مستقل بارہ خاندانوں میں منقسم ہوگئی اور ان کی یہ تقسیم بد ستور قائم رہی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں بھی یہ سارے گروہ موجود تھے اور آپ نے ہر گروہ کا ایک سردار منتخب کیا ہوا تھا اس طرح گویا یہ ایک امت ہونے کے باوجود بارہ جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے اور خاندانی رقابت میں ان میں موجود تھی۔ ان کا تفصیلی ذکر جلد اول سورة البقرہ کی آیت 57 تا 60 میں گزر چکا ہے ۔ وہاں سے ملاحظہ فرما لیں کہ ان کے کیا کیا مطالبات تھے اور وہ کیسے پورے ہوگئے اور انہوں نے کیا کچھ کہا ؟ مصر کی زندگی میں وہ کیا کرتے رہے اور ہجرت کے بعد انہوں نے کیا کیا کیا ؟ میدان تیہ میں ان کو جو کچھ پیش آیا اور موسیٰ (علیہ السلام) ان کو جو ہدایات دیتے رہے ؟ سب کا ذکر گزر چکا ۔
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور جب بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اس شہر میں جا کر آباد ہوجاؤ اور جس جگہ سے چاہو اپنی غذا حاصل کرو اور تمہاری زبانوں پر { حطۃ } کا کلمہ جاری ہو اور اس کے دروازے میں داخل ہو تو جھکے ہوئے ہو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک کرداروں کو زیادہ اجر دیں گے

بنی اسرائیل کو ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم اور ان کی نافرمانی کا بیان : 184: اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ قرآن کریم میں اور کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ۔ مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے ۔ کسی نے بیت المقدس لکھا ہے اور کسی نے سطیم یا شطیم بتایا ہے ۔ بہر حال وہ کوئی بستی ہو ان میں داخل ہونے والوں کو وہ یقیناً معلوم تھی لیکن ان کو جس طریقہ سے اس بستی میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا انہوں نے اس کے صریحاََ خلاف کیا اور جو ہدایت ان کو دی گئی اس کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور جو نظم و ضبط ان کو بتایا گیا تھا اس کے خلاف کیا اس واقع کا ذکر بھی سورة البقرہ کی آیت 58 میں گزر چکا ہے ۔ اس کی تفصیل کے لئے جلد اول تفسیر سورة ابقرہ 2 کی آیت 58 تا 60 ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

لیکن پھر جو لوگ ان سے ظلم و شرارت کی راہ چلنے والے تھے انہوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی بات بدل کر ایک دوسری ہی بات بنا ڈالی پس ہم نے آسمان سے ان پر عذاب بھیجا اس ظلم کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے

بنی اسرائیل نے جب صریحاً حکم عدولی کی تو ان کو ایک آسمانی عذاب نے آلیا : 185: بنی اسرائیل کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ تم اس بستی میں جابر و ظالم اور دنیوی فاتحوں کی طرح اکڑتے ہوئے اس بستی میں داخل نہ ہونا بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا جیسا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ کو فتح کرتے وقت داخل ہوئے تھے اور یہ بات ہم نے استدلالاََ بتائی ہے اور اور حطۃ کہتے ہوئے یعنی اللہ سے اپنی خطائوں کی معافی مانگتے ہوئے یا یہ کہ لوٹ کھسوٹ اور قتل عام کی بجائے بستی کے باشندوں سے در گزر کرتے ہوئے بلکہ عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے لیکن انہوں نے وہی کیا جو کچھ کرنے کے وہ عادی تھے ۔ بائبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بد کاریاں کیں جن کے نتیجے میں اللہ نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کردیے گئے۔ (گنتی 25:1 , 8) یہ بہت بڑی گمراہی ہے کہ انسان کو جب حق کی بدولت کامرانی و کامیابی حاصل ہوجائے تو خدا کا شکر وسپاس اور عبودیت و نیاز کی جگہ مخالفین حق کی طرح غفلت و سرکشی میں مبتلا ہوجائے افسوس کہ بنی اسرائیل کی داستان کا وہ حصہ جو فرعون سے نجات پا کر قلزم یعنی بحر احمر عبور کرنے کے بعد سے شروع ہوتا وہ اسی گمراہی سے معمور تھا اور آج ہم نے جب سے یہ ملک پاکستان حاصل کیا ہم بھی ہو بہو انہی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں ان کا انجام تو سن چکے اب دیکھئے ہمارا انجام کیا ہوتا ہے ۔ آدھا ملک ہاتھ سے نکل چکا لیکن ہمارے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اسلام ! بنی اسرائیل سے اس شہر کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے واقعہ تھا اور جہاں سبت کے دن لوگ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حد سے باہر ہوجاتے تھے ، سبت کے دن ان کی مطلوبہ مچھلیاں پانی پر تیرتی ہوئی ان کے پاس آجاتیں مگر جس دن سبت نہ مناتے نہ آتیں ، اس طرح ہم انہیں آزمائش میں ڈالتے تھے بسبب اس نافرمانی کے جو وہ کیا کرتے تھے

قوم بنی اسرائیل کے ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے ہفتہ کے متعلق غلو کیا : 186: دین کے متعلق ایک بہت بڑی گمراہی یہ ہے کہ انسان صداقت و سچائی کے ساتھ اس پر عمل پیرا نہ ہو اور خواہش نفس کو امام بنا کر احکام الٰہی میں مرض کے مطابق حیلہ سازیاں تراشے اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ من مانی بھی ہوگئی اور دین کا اتباع بھی ہوگیا۔ برائی کو برائی سمجھ کر اس میں مبتلا ہونا اس درجہ شنیع نہیں جتنا کہ برائی کو بھلائی کا رنگ دے کر اور منہیات میں حیلہ سازی کر کے اس کا جواز پیدا کرنا مذموم و مکروہ ہے ۔ حق تعالیٰ کی طرف سے اکثر و بیشتر قوموں پر عذاب اسی قابل نفرت عمل کی وجہ سے ہوتا رہا ہے ۔ یہود نے بھی سبت کے متعلق یہی طریقہ اختیار کیا تھا اور عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے تھے ۔ سبت کے دن بنی اسرائیل کو شکار کی ممانعت تھی اور پورا دن عبادت کے لئے مخصوص تھا انہوں نے کچھ عرصہ تو اس پر صبر کیا لیکن زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے اور حیلہ یہ اختیار کیا کہ سبت سے پہلے رات میں دریا کے کنارے گڑھے کھود کر پانی کا بہائو اس طرف کردیتے اور صبح ہوتے مچھلیاں خود بخود ان گڑھوں میں آجاتیں اور بنی اسرائیل شام کو ان کو قبضہ میں کرلیتے اور جب اللہ کے نیک بندے اس حیلہ پر اعتراض کرتے تو بڑے فخر سے کہتے کہ ہم نے سبت کا احترام کو کب شکست کیا ہے جو تم معترض ہوتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے جب ان کو آلیا تب ان کو معلوم ہوا کہ دین میں حیلہ سازی کس قدر خوفناک ہے اور اس جرم کی سزا کیا ہے ۔ اس کے متعلق بھی یہ واضح طور پر معلوم نہیں کہ وہ بستی کون سی تھی ؟ امام زہری (رح) نے اس کا نام طبریہ بتایا ہے اور قتادہ (رح) کے نزدیک ان کا نام مقناہ ہے اور ابن عباس ؓ ، عکرم اور سدی سے مروی ہے کہ یہ بستی ایلہ تھی جو اس وقت عقبہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ شہر بحر قلزم کے اس ابنائے کے سرے پر واقع ہے جو دور تک خشکی میں چلی گئی ہے جسے آج کل خلیج عقبہ کہتے ہیں ۔ شرعا شرع کی جمع ہے جس مے معنی اظہار و تبیین کے بھی ہیں ۔ اس لئے اس کے معنی ظاھرۃ علی وجہ الماء یعنی پانی کے اوپر نظر آتی تھیں۔ سبت کے دن مچھلیوں کا پانی کے اوپر آجانا اور دوسرے دنوں میں اس طرح دکھائی نہ دینا یہودیوں کے لئے موجب ابتلاء ہوا اس لئے کہ سبت کے دن اس کو شکار کی ممانعت تھی اور مچھلیوں کے اوپر آنے کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ اس دن ان کا شکار نہ کیا جاتا تھا گویا جانداروں کی عادت میں یہ چیز داخل ہے اگر ان کو کچھ کہا نہ جائے تو وہ بھی مانوس ہوجاتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ وقت کو پہچانتے ہیں اس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت میں گزر چکی ہے ۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب اس شہر کے باشندوں میں سے ایک گروہ نے کہا تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کر دے گا یا نہایت سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا ؟ انہوں نے کہا اس لیے کرتے ہیں تاکہ تمہارے پروردگار کے حضور معذرت کرسکیں اور اس لیے بھی کہ شاید لوگ باز آجائیں

بنی اسرائیل کی اس بستی کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے : 187: اس آیت نے یہ سبق دیا کہ کوئی حق کو قبول کرے یا نہ کرے حق کے داعی کا فرض ہے کہ موعظت حق سے باز نہ رہے چناچہ سبت کی بےحرمتی پر ان ہی میں سے بعض اہل حق نے ان کو سمجھایاتو بعض نے یہ بھی کہا کہ یہ ماننے والے نہیں ان کو سمجھانا بیکار ہے مگر پختہ کار داعین حق نے جواب دیا کہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے ہم معذرت تو کرسکیں گے کہ ہم حق کی تبلیغ برابر کرتے رہے اور ہم کو غیب کا کیا علم ؟ کیا عجب ہے کہ یہ لوگ پرہیز گار بن جائیں ؟ اس طرح یہ لوگ مستقل تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک حیلہ جو ، جو ہفتہ کے روز شکار کی ممانعت کے باعث شکار نہ کھیلنے کے باوجود ایک حیلہ سے شکار کھیلنے لگے دوسرے وہ لوگ جو ان کی حرکت پر بالکل خاموش رہے کہ جو کریں گے وہ بھریں گے ہمیں اس سے کیا غرض ۔ گویا آج کل ہماری زبان میں جن لوگوں کو پاپولر کہا جاتا ہے یہ اس وقت کے پاپولر لوگ اور دین کے معاملہ میں مصلحت اندیش تھے اور تیسرے وہ لوگ خود بھی ایسے شکار سے پرہیز کرتے اور اس طرح کی بد اعتدالیاں کرنے والوں کو منع بھی کرتے کہ اس طرح کی شرارتوں سے باز آجائو اور وہ پاپولر لوگ ان ہی لوگوں کو منع کرتے تھے کہ تم خواہ مخواہ ان کو روک کر ایک تنازع کھڑا کرتے ہو بس تم خود جب شکار نہیں کرتے اتنا ہی تمہارے لئے کافی ہے جس سے معلوم ہوتا کہ روکنے والوں سے شکار کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس لئے کہ یہ پاپولر مصلحت اندیش ہمیشہ بھاری پلڑے کے حامی ہوتے ہیں کیونکہ ان کے فوائد ان سے وابستہ ہوتے ہیں جو تعداد میں زیادہ ہوں اور یہ لوگ ہمیشہ اس رخ پر چلتے ہیں جدھر کی ہوا ہو کہ اس میں آسانی محسوس کرتے ہیں ۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں نے وہ تمام نصیحتیں بھلا دیں جو انہیں کی گئی تھیں تو ہمارا مواخذہ نمودار ہوگیا ، ہم نے ان لوگوں کو تو بچالیا جو برائی سے روکتے تھے مگر شرارت کرنے والوں کو ایسے عذاب میں ڈالا کہ محرومی و نامرادی میں مبتلا کرنے والا عذاب تھا ، بسبب ان نافرمانیوں کے جو وہ کیا کرتے تھے

بنی اسرائیل کی اس آبادی پر عذاب مسلط ہوا تو وہی بچ سکے جو روکنے والے تھے : 188: اس معاملہ میں سنت الٰہی یہی ہے کہ جب کوئی قوم یا جماعت بد کرداری اور سر کشی میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ ان کو فوراََ ہی گرفت میں نہیں لے لیا جاتا بلکہ ان کو بتدریج مہلت ملتی رہتی ہے کہ اب باز آجائے ، اب سمجھ جائے اور اصلاح حال کرلے لکنف جب وہ قوم باجماعت آمادہ اصلاح نہیں ہوتی اور ان کی سر کشی و بد عملی ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت کا سخت پنجہ ان کو پکڑ لیتا ہے اور وہ بےیارو مدگار فنا کے گھاٹ اتار دئے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت یہاں کام کرتی رہی اور جب وہ تنبیہات جو انہیں کی گئی تھیں بالکل بھلا بیٹھے اور کسی طرح سوچنے سمجھنے پر راضی نہ ہوئے تو اللہ نے ان کی اس نافرمانی و عہد شکنی کی پاداش میں ان پر ایک سخت عذاب بھیجا جس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو لوگ ان کو ان کی برائی سے روکنے والے تھے اور اس برائی کے مرتکب اور ان کے حمایتی یعنی پاپولر لوگ دونوں ہی گروہ دھر لئے گئے اور عذاب کی پکڑ سے ان لوگوں کو بچالیا گیا جو خود برائی سے بچنے والے اور دوسروں کو روکنے والے تھے۔ ب عذاب بئیس بئیس باس سے بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی شدت کے ہیں اور بئوس بھی جس کے معنی فقر و فاقہ اور انتہائے محرومی کے ہیں ۔ ہم نے دوسرے معنوں کو ترجیح دی ہے کیونکہ آنے والی آیت میں خاسئین کا لفط آیا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کی نوعیت ایسی تھی کہ ذلیل و خوار کرنے والا تھا۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

پھر جب یہ اس بات میں حد سے زیادہ سرکش ہوگئے جس سے انہیں روکا گیا تھا تو ہم نے کہا ” بندر ہوجاؤ “ ذلت و خواری سے ٹھکرائے ہوئے

اللہ تعالیٰ کی لعنت بد ترین عذاب ہے جس میں وہ مبتلا ہوئے : 189: کسی قوم یا جماعت پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لئے کہ لعنت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قوم بظاہر زندہ رہتی ہے لیکن اس کی زندگی صرف ذلت و خواری کی ایک داستان عبرت ہوتی ہے اس بستی پر بھی اللہ کی ایسی لعنت برسی کہ وہ دیکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ عبرت بن گئی یعنی ان کو بندر ذلیل بنا دیا گیا۔ رہی یہ بات بندر ہوجانے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا ان کی صورتیں بندروں کی سی ہوگئی تھیں یا دل ؟ آئمہ تفسیر میں بلا شبہ اس بات میں اختلاف ہے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ مسخت قلوبھم ان کے دل مسخ ہوگئے تھے ( ابن کثیر و ابن جریر ) اس کی مکمل تفسیر جلد اول سورة بقرہ کی آیت 65 اور جلد ہذا کی سورة المائدہ 60 میں کی جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور جب تیرے پروردگار نے اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو انہیں ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کریں گے ، حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار سزا دینے میں دیر کرنے والا نہیں اور ساتھ ہی بخشنے والا رحمت والا بھی ہے

اس ابدی لعنت کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ : 190: تاذن کے معنی اعلم کے ہیں یعنی یہ علم دے دیا یا خبر دے دی یعنی اس فیصلہ قطعی سے لوگوں کو آگاہ کردیا ہے ۔ یہ لوگ کون تھے جن کے متعلق یہ فیصلہ قطعی کا اعلان کیا گیا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے یوم سبت کے متعلق احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا تھا اور بعض کا خیال ہے کہ ان سے مراد پوری یہودی امت ہے اور بعض نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت کے یہود کو مراد لیا ہے ۔ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے پوری قوم یہود ہی مراد ہے اس لئے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی ان بد عہدیوں کی وجہ سے نبیوں کے ذریعہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے ان کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر ایسے لوگوں کو قیامت تک مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت سخت عذابوں میں مبتلا کیا کریں گے اس طرح کی تنبیہ خود موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کو بار بار کی تھی جیسے فرمایا اگر تم میرے سننے والے نہ بنو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو ....... اور مجھ سے عہد شکنی کرو تو میں بھی تم سے ایسا ہی کروں گا .............. اور میرا چہرہ تمہارے بر خلاف ہوگا اور تم دشمنوں کے سامنے قتل کئے جائو گے جو تمہارے ساتھ کینہ رکھتے ہیں تم پر حکومت کریں گے۔ ( احبار 26: 14 , 17) تیرے بیٹے اور عزیز بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی اور تیری آنکھیں دیکھیں گی اور سارے دن ان کی راہ تکتے تکتے تھک جائیں گے اور تیرے ہاتھ میں کچھ زور نہ ہوگا ۔ (استثناء 28ـ:32) اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی عملی تصدیق بخت نصر اور ٹیٹس سے لے کر ہٹلر تک کی تاریخ پڑھ کر دیکھ لو آپ کو یہ بات روز روشن کی طرح دکھائی دے گی لیکن درمیان میں کچھ وقفہ ملنا اس بات کی نشانی نہیں کہ وہ بات صحیح نہ رہی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لئے ہر وقفہ کسی تازہ مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور آج کل جو کچھ ہو رہا ہے یقیناً یہ بھی کسی نئے طوفان کا دعوت نامہ ہے جب یہودیوں کا ہاتھ عیسائیت پر پڑے گا تو اس کا سارا راز کھل جائے گا اور یقیناً جتنی مہلت ہوگی اتنا طوفان بڑا ہوگا اور یہ بھی اللہ کی بخشش و رحمت کا ہی نتیجہ ہوگا ۔ اے اللہ ! اس قوم کو بھی اس گہری نیند سے جگا دے کہ تیرے ہاتھ میں ہر ایک قوم کی پاشینی ہے ۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں الگ الگ گروہ کر کے زمین میں متفرق کردیا کچھ ان میں نیک تھے کچھ اس کے خلاف اور ہم نے انہیں اچھی اور بری دونوں طرح کی حالتوں میں ڈال کر آزمایا تاکہ وہ باز آجائیں

قوم کا انتشار بھی قوم کو لے ڈوبنے والی چیز ہے جو عذاب سے کم نہیں : 191: اس آیت میں بھی ایک قانون الٰہی کا اعلان کیا جارہا ہے کہ جو قوم اللہ کی نافرمان ہوجائے ان پر جو عذاب مسلط کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک عذاب ان کو گروہ بندی کی لعنت مین مبتلا کر دینا بھی ہے اور یہی عذاب بنی اسرائیل پر سب سے پہلے مسلط کیا گیا فرمایا ہم نے انہیں الگ الگ گروہ کر کے زمین میں متفرق کردیا ۔ یعنی بنی اسرائیل کی قومی وحدت باقی نہ رہی وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں منتشر ہوگئے یہ تباہی کی ابتدا تھی تاہم ابھی نیک جماعتیں بالکل معدوم نہ ہو چکیں تھیں لیکن اس دور کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئیں وہ عمل و حقیقت سے یکسر محروم ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی سنت کے مطابق اچھے اور برے ہر طرح کے حالات سے آزمایا تاکہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں لیکن ان کی خواہشیں ان پر اس طرح غالب آگئی تھیں کہ ان کے آگے ان کی قوت ارادی بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی اور بد قسمتی سے آج یہی حالت خود مسلمانوں پر فٹ آتی دکھائی دیتی ہے ۔