7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی بندوں میں سے صالح (علیہ السلام) کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں دیکھو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل تمہارے سامنے آ چکی ہے یہ اللہ کے نام پر چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں جہاں چاہے چرے ، اسے کسی طرح کا نقصان نہ پہنچاؤ کہ عذاب جانکاہ تمہیں آپکڑے گا

صالح (علیہ السلام) کی بعثت اور قوم ثمود کو تبلیغ دین کا تذکرہ : 84: ثمود کون ہیں ؟ علماء انساب نے اس میں اختلاف کیا ہے ، ثمود وعاد ایک دادا کی اولاد ہیں خواہ باپ بیٹا ہونے کی حیثیت سے خواہ بھائی بھائی ہونے کی حیثیت سے۔ اگر باپ بیٹا کی حیثیت ہے تو یقیناً ثمود عاد کا بیٹا ہوگا۔ زیادہ تر خیال یہی کیا جاتا ہے کہ جو لوگ صالح (علیہ السلام) کے ساتھ عاد اولیٰ کی ہلاکت کے وقت بچ گئے تھے وہی بعد میں اس قوم کے وارث بنائے گئے اور ان ہی لوگوں کو ثمود کہا گیا۔ ثمود کہاں آباد تھے ؟ ظاہر ہے کہ ہود (علیہ السلام) جہاں اور جس علاقہ کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے وہ مسکن ثمود کا ہوگا۔ اس لئے یہی خیال کیا جاتا ہے بلکہ یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں۔ حجاز اور شام کے درمیان وادی قری تک جو میدان ہے یہ سب ان کا مقام سکونت تھا اور یہ علاقہ آج کل ” فج الناقہ “ کے نام سے مشہور ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بھی بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ وہ ایک مکان میں داخل ہوئے جو ” شاہی حویلی “ کہی جاتی ہے اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان مع حوض کے پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ قوم عاد کی طرح قوم ثمود بھی دولت مند ، قویٰ اور بہادر قوم تھی جو سنگ تراش اور فن تعمیر میں ماہر تھی۔ یہ لوگ کھلی زمین پر بڑے بڑے محلات بنانے کے علاوہ پہاڑوں کو کھود کھود کر ان میں طرح طرح کی عمارتیں بناتے تھے ان کی تعمیری یادگاریں اب تک باقی ہیں اور ان پر ارضی اور ثمودی خط میں کتبے بھی منقوش ہیں۔ دنیا کی دولت و ثروت کا نتیجہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اللہ اور آخرت سے غافل ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتے ہیں قوم ثمود کا بھی یہی حال ہوا۔ ان سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) کے عذاب کے واقعات کا تذکرہ ابھی تک دنیا میں موجود تھا اور پھر ان کے باپ یا بھائی عاد کی ہلاکت کے واقعات تو تازہ ہی تھے مگر دولت و قوت کے نشہ کا خاصہ ہی یہ ہے کہ ابھی ایک شخص کی بنیاد منہدم ہوتی ہے تو دوسرا اس کی خاک کے ڈھیر پر اپنی تعمیر کھڑی کرلیتا ہے اور پہلے کے واقعات کو بھول جاتا ہے۔ قوم عاد کی تباہی اور ہلاکت کے بعد قوم ثمود ان کے مکانات اور زمینوں کی وارث بنی اور انہی مقامات پر اپنے عشرت کدے تیار کرنا شروع کر دئیے جن میں ان کے بھائی ہلاک ہوچکے تھے اور 6 ٹھیک وہی عمل و فعل شروع کر دئیے جو قوم عاد کرتی رہی تھی کہ اللہ اور آخرت سے غافل ہو کر شرک و بت پرستی میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول (علیہ السلام) بنا کر بھیجا۔ صالح (علیہ السلام) بھی نسب و وطن کے اعتبار سے قوم ثمود (علیہ السلام) ہی کے ایک فرد تھے کیونکہ وہ بھی سام ہی کی اولاد میں سے تھے۔ انبیاء سابقین کی طرح صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور خالق ومالک سمجھو اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار اللہ کے عذاب سے ڈرایا کہ یہ نہ سمجھو کہ آج جس عیش و عشرت اور آرام و سکون میں مگن ہو ، جن باغوں اور چشموں میں عیش کر رہے ہو ، جن کھیتوں اور فصلوں کی بہاریں لوٹ رہے ہو ، جن تعمیرات اور ترقیوں میں گم ہو یہی دلیل ونہار ہمیشہ رہیں گے۔ خدا کی پکڑ سے بچو اور میری بات مانو اور اپنے بےلگام اور بد انجام لیڈروں اور راہنمائوں کی پیروی میں جو اللہ کی زمین میں فساد بپا کر رہے ہیں اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں نہ جھونکو لیکن قوم نے ان نصائح کا یہ جواب دیا کہ تم تو ہمیں ایک سحر زدہ اور خبطی آدمی معلوم ہوتے ہو ہم تمہاری یہ لن ترانیاں کس طرح مان لیں جبکہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ ہم تو تمہاری بات اس وقت باور کریں گے جب تم اس عذاب کی کوئی نشانی لائو جس کے تم ہمیں ڈراوے سنا رہے ہو۔ ان کے اس مطالبہ کے جواب میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ایک اونٹنی نامزد کردی کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جس پر میں تبلیغ کا کام کرتا ہوں اور تمہاری بستیوں میں آتا جاتا ہوں۔ یہ تمہارے لئے عذاب الٰہی کی ایک نشانی ہے اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچائی تو بس سمجھ لو کہ تم پر عذاب آدھمکے گا۔ اس کو عذاب کے بند کی دیوار سمجھو اگر تم نے اس دیوار کو توڑا تو تم کو قہر الٰہی کے عذاب سے کوئی چیز بچا نہیں سکے گی۔ پالتو جانوروں کو بزرگوں ، ولیوں ، نبیوں اور ان کے بنائے ہوئے مجسموں کے نام پر چھوڑ دینے کا طریقہ بہت پرانا ہے۔ بابل اور ہندوستان میں اس کا سراغ ہزاروں برس پیش تر تک سے ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود کے لوگ بھی اپنے بزرگوں ، ولیوں اور مذہبی پیشوائوں کے ناموں پر جانور چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اللہ کے حکم سے ایک اونٹنی اللہ کے نام پر چھوڑ دی اور اس پر تبلیغ کا کام کرنے لگے کیونکہ تبلیغ بھی اللہ ہی کے دین کی تھی گویا یہ اونٹنی اللہ کے نام پر چھوڑ دی اور اللہ کے دین کے کام کے سوا اس سے کوئی دوسرا کام لینا چھوڑ دیا اور اس معاملہ میں قوم کے لئے اتباع حق کی آزمائش ہوگی۔ اگر وہ اونٹنی کو ضرر نہ پہنچاتے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ ان کے دل ہدایت کے سامنے جھک گئے ہیں مگر ان کے اندر خدا پرستی کے خلاف ایسی ضد اور شرارت پیدا ہوگئی تھی کہ وہ اتنی سی بات بھی نہ مان سکے اور اونٹنی کو زخمی کر کے ہلاک کر ڈالا۔ اس اونٹنی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے مقصود اللہ کے لئے اس کی تخصیص کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ یہ خدا کی نذر اور اس کے نام اور اس کے کام کے لئے نامزد ہے یہ تخصیص اور نامزدگی اس نوعیت کی تھی جس طرح کی تخصیص و نامزدگی ہمارے ہاں ہدی اور قلادہ کے جانوروں کی ہوتی ہے جس طرح اسلام میں ہدی اور قلادہ پر حملہ کرنا ایک عظیم جرم ہے اس طرح حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس اونٹنی کی بابت قوم کو اطلاع دی کہ کوئی شخص تم میں سے اس سے تعرض نہ کرے ، یہ امان کی دیوار ہے اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچایا تو میں جس عذاب سے تم کو آگاہ کر رہا ہوں وہ تم پر ٹوٹ پڑے گا کیونکہ سنت اللہ کے تحت کسی قوم کی جراءت وجسارت کا یہی وہ مرحلہ ہے جس میں رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور قوم پر عذاب آتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ بات کہیں نہیں بتائی گئی کہ یہ اونٹنی اپنی خلقت کی اعجو بگی کے پہلو سے کوئی نشانی تھی بلکہ جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ وہ گزند پہنچائے جانے کے انجام اور نیجہہ کے اعتبار سے نشانی تھی جہاں تک ہمیں علم ہے اس اونٹنی کا کسی پہاڑ یا پہاڑی سے پیدا ہونا کسی صحیح حدیث میں بھی نہیں ہے۔ ہاں ! تفسیری روایات میں ضرور اس طرح کی کہانیاں موجود ہیں جن کی کوئی اصل موجود نہیں اس لئے ان تفسیری روایات کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشبہ ” آیت “ کے معنی نشانی کے ہیں اور یقیناً یہ اونٹنی قوم کے مطالبہ عذاب کے جواب میں ایک نشانی عذاب کی حیثیت سے نامزد کی گئی تھی چناچہ قرآن کریم میں اس کی تصریح ہے کہ جب ثمود کے ایک لیڈر نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو اس کے تیسرے دن عذاب الٰہی آدھمکا اور سورة الشعراء میں اس کی تفصیل ہوگی۔ انشاء اللہ
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو کہ) اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد اس کا جانشین بنایا اور اس سرزمین پر اس طرح بسا دیا کہ میدانوں سے محل بنانے کا کام لیتے ہو اور پہاڑوں کو بھی تراش کر اپنا گھر بنا لیتے ہو ، پس اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور ملک میں سرکشی کرتے ہوئے خرابی نہ پھیلاؤ

صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو انعامات الٰہی کی یاد دہانی کرائی : 85: حضرت صالح (علیہ السلام) نے وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے قوم کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور انعامات کو فراموش نہ کرو جن سے اس نے تم کو نوازا ہے قوم عاد کی ہلاکت کے بعد غلبہ و اقتدار تمہیں بخشا ہے اور تم کو فن تعمیر میں وہ مہارت عنایت کی کہ میدانی علاقوں میں تم شاندار محلات تعمیر کرتے ہو اور پہاڑی علاقوں میں سنگین چٹانوں کو چیر پھاڑ کر مکان بناتے ہو ان کی عمارات کے آثار آج بھی موجود ہیں جو ایک وسیع رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں جو فن تعمیر میں ان کی مہارت کی گواہی دے رہے ہیں اس سے یہ معلوم ہوا کہ دنیاوی علوم میں مہارت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جب کوئی قوم راہ راست سے بھٹک جاتی ہے تو کوئی علمی اور مادی ترقی اسے اس کے دردناک انجام سے نہیں بچا سکتی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو ترقیاں اس وقت دنیا میں ہو رہی ہیں اس طرح کی ترقیاں پہلے بھی ہوچکی ہیں اگرچہ ہر دور کی ترقیاں مختلف ہوں لیکن اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سے پہلے بھی ترقی کے دور اس دنیا نے دیکھے ہیں۔ قوم عاد اور قوم ثمود کا دور تعمیرات کی ترقی کا دور تھا اور خصوصاً پہاڑوں کو کھود کر محلات تیار کرنا اس دور کی سب سے بڑی فنی ترقی تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کے ان تمام تعمیری ولولوں پر عین ان کے دور عروج میں ماتم کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عالی شان اور آسمان بوس عمارتیں بنانا قوم کے عروج کی نشانی نہیں بلکہ تمدن کے فساد اور قوم کے زوال کی نشانی ہے اس لئے کہ ییت فلک بوس عمارتیں بالاخر اس کے عروج و کمال کے مقبرے اور مدفن بنتی ہیں اور ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ زاغ و روغن ان میں اپنے آشیانے بناتے ہیں۔ اس وقت اس اپنے علاقے پاک و ہند میں مغلیہ دور حکومت کے قلعہ جات اور عمارتیں مختلف مقامات پر بینا آنکھ رکھنے والوں کو درس عبرت دے رہے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو یاد دلایا کہ لوگو ! خدا کی شانوں اور اس کی عظیم قدرتوں کو یاد کرو اور اللہ کی زمین میں مفسد بن کر سر نہ اٹھائو۔
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

قوم کے جن سربر آوردہ لوگوں کو گھمنڈ تھا انہوں نے مومنوں سے کہا اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں وہ کمزور و حقیر سمجھتے تھے کیا تم نے سچ مچ معلوم کرلیا ہے کہ صالح (علیہ السلام) اللہ کا بھیجا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! بیشک جس پیام حق کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے ہم اس پر پورا یقین رکھتے ہیں

صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں اور لیڈروں نے کیا جواب دیا ؟ 86: قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) کو مخاطب کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی اور ان کمزور لوگوں کو مخاطب کیا جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے جیسا کہ سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوتوں کو قبول کرنے والے غریب لوگ ہی تھے اس لئے کہ وہ استکبار کے حجاب سے پاک تھے اور استکبار ہی وہ چیز ہے جو قبول حق میں سب سے زیادہ بڑا مانع ہے جیسا کہ ابلیس کی سرگزشت میں آپ اس کی وضاحت پڑھ چکے ہیں۔ ” مستضعف “ کے معنی ہیں زبردست ، دبائے ہوئے ، بےاثر اور مظلوم لوگ اور ہر نبی (علیہ السلام) کے زمانے میں یہی لوگ اہل ایمان کہلائے کیونکہ ان ہی لوگوں نے سب سے پہلے انبیاء اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ اہل ایمان سے متکبرین کا یہ سوال دراصل انکار ہی کی نوعیت کا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگ صالح (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول سمجھ بیٹھے ہو تو بڑے ہی کم عقل اور بدھو ہو لیکن اہل ایمان کا جواب بھی بہت پر حکمت اور اپنی مثال آپ ہے۔ چناچہ انہوں نے جواباً کہا کہ ” ہم تو اس پیغام پر ایمان رکھتے ہیں جو وہ دے کر بھیجے گئے ہیں۔ “ اس طرح انہوں نے صاف کہہ بھی دیا اس لئے کہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی رسالت ہی کا اقرار نہیں کیا بلکہ ان کی اصل دعوت کی صحت اور صداقت پر ایمان کامل کا اظہار کردیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ متکبرین کو اصل چڑ حضرت صالح (علیہ السلام) سے نہیں بلکہ ان کی دعوت اور ان کے پیغام ہی سے تھی چناچہ ان غریب اہل ایمان نے کچھ لگی لپٹی کے بغیر ان کے اندر چھپے ہوئے اس خناس ہی پر ضرب لگا دی اور یہ گویا اینٹ کے جواب میں پتھر تھا جس نے یہ بات ثابت ؟ ؟ ؟ دبنے والے نہیں اور کوئی شخص ان کو بےادب و گستاخ بھی نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے جو جواب دیا وہ بالکل صاف اور سیدھا ہے اور انہوں نے متکبرین کو جو جواب سنایا ہے وہ یقیناً کھرا اور صاف سنایا ہے وہ پہلے کی طرح دے ہی نہیں رہے اس لئے کہ ایمان کی دولت نہ دبتی ہے اور نہ ہی دبائی جاسکتی ہے۔
Ayah 7:76

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

اس پر گھمنڈ کرنے والوں نے کہا تمہیں جس بات کا یقین ہے ہم اس سے انکار کر رہے ہیں

قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو کیا جواب دیا ؟ 87:ـ ” بلاشبہ ہم تو اس شے کا جس پر تمہارا ایمان ہے انکار کرتے ہیں۔ “ اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کی مغرور و سرکش قوم نے ان کی پیغمبرانہ دعوت و نصیحت کو یوں تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ان کو متکبرانہ انداز میں یہ بات سنا دی کہ جس بات کا تمہیں یقین ہے ہم اس سے انکار کرتے ہیں۔ اس طرح قوم کی اکثریت کا یہ کفر جس میں قوم کے مخصوص لوگ و ڈیرے ، رہنما اور لیڈر بھی شامل تھے کوئی وقتی کفر نہیں تھا بلکہ جب تک صالح (علیہ السلام) ان کے اندر موجود رہے ان کا کفر بھی بدستور قائم رہا۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن منکرین نے ماننے سے اتنی ہی سختی سے کام لیا اور ذرا ڈھیلے نہ پڑے بلکہ ان کا بغض وعناد ترقی پاتا رہا اور ان کی مخالفت بڑھتی رہی اور وہ کسی طرح بھی توحید الٰہی کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اگرچہ ایک مختصر اور کمزور جماعت نے ایمان قبول کیا اور وہ مسلمان ہوئی لیکن اکثریت نے ہمیشہ ان کی دعوت سے انکار ہی کیا۔ اس سے یہ بات بھی خود بخود واضح ہوگئی کہ اکثریت ہمیشہ غلط کاروں ہی کو حاصل رہی اور ایمان لانے والے ہمیشہ معدودے چند آدمی ہی رہے اور چند آدمیوں نے باوجود قلت کے کثرت پر غلبہ حاصل کیا اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی موجودگی میں چونکہ یہ غلبہ تحدی کے بعد حاصل ہوتا رہا اس لئے اس کو معجزہ کہا گیا اور معجزانہ طور پر ہی ان معدودے چند آدمیوں کو غلبہ حاصل بھی ہوا کہ وقت کے رسول نے اللہ کے حکم سے اس غلبہ کا اعلان کردیا کہ اتنے عرصہ تک جو ہفتہ عشرہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا اگر تم لوگ اپنی بد اعتدالیوں سے باز نہ آئے تو اس طرح کا عذاب تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس تحدی کے بعد وہ اتنے دنوں کے اندر ٹھکانے لگا دئیے جاتے رہے۔ قوم ثمود کے لئے وہ نشانی جو مقرر کی وہ ، وہ اونٹنی تھی جس کے متعلق قدرت الٰہی کی طرف سے اس کا ایک نشان ہونا سورج کی طرح عیاں ہے کہ اس کے بعد ان کو مزید مہلت نہ دی جانے والی تھی اور نہ دی گئی۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

انہوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی انہوں نے کہا اے صالح ! اگر تم واقعی پیغمبروں میں سے ہو تو اب وہ بات ہم پر لا دکھاؤ جس کا تم نے ہمیں خوف دلایا تھا

صالح (علیہ السلام) کی قوم نے وہ کام کر دکھایا جس سے وہ روکے گئے تھے : 88: قرآن کریم نے اس اونٹنی کو ” ناقۃ اللہ “ کہا ہے ، یوں تو ہرچیز اور ہر مخلوق اللہ ہی کی ملکیت ہے مگر ثمود نے جو نشان طلب کیا تھا چونکہ وہ ان کے طلب کرنے کے بعد مقرر کی گئی تھی اس لئے اس کو ” ناقۃ اللہ “ کا لقب دیا گیا اور اس کو ” لکم ایۃ “ کہہ کر یہ بھی بتادیا کہ یہ نشانی اپنے اندر خاص اہمیت رکھتی ہے لیکن بد قسمت قوم ثمود نے زیادہ دیر تک اس کو برداشت نہ کیا اور ایک روز سازش کر کے قدار بن سالف کو اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس کے قتل میں پہل کرے اور باقی ساری قوم اس کی اعانت کرے۔ اسی طرح انہوں نے اس ناقہ کو ہلاک کردیا اور صالح (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوا تو آبدیدہ ہو کر فرمانے لگے۔ بد بخت قوم ! آخر تجھ سے صبر نہ ہوسکا ، اب اللہ کے عذاب کا انتظار کرو تین روز کے بعد وہ نہ ٹلنے والا عذاب آئے گا اور تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تہس نہس کردیا جائے گا۔ عذاب کی یہ خبر سن کر بجائے اس کے کہ ان کے دل کانپ جاتے اور اس آخری موقع سے فائدہ حاصل کرتے۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس لرزا دینے والی ہولناکی نے انہیں آلیا اور جب ان پر صبح ہوئی تو گھروں میں اوندھے منہ پڑے تھے

عذاب الٰہی کے نشانات شروع ہوگئے اور تین دن کے اندر وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے : 89: اب ان کے عذاب کی مدت تین دن مقرر کردی گئی تو مفسرین کے بیان کے مطابق ثمود پر عذاب آنے کی علامات اگلی صبح ہی شروع ہوگئیں یعنی پہلے روز ان کے چہرے اس طرح زرد پڑگئے جیسا کہ خوف کی ابتدائی حالت میں ہوجایا کرتا ہے اور دوسرے روز سب کے چہرے سرخ ہوگئے گویا خوف و دہشت کا یہ دوسرا درجہ تھا اور تیسرے روز ان سب کے چہرے سیاہ تھے اور تاریکی چھائی ہوئی تھی یہ خوف و دہشت کا وہ تیسرا مقام ہے جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے تین دن کی ان علامات عذاب نے اگرچہ ان کے چہروں کو واقعی زرد و سرخ اور تاریک بنا دیا تھا لیکن اس سے ہی یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے دلوں کو صالح (علیہ السلام) کے سچے ہونے کا یقین تھا اور صرف حسد و بغض سے انکار کئے ہوئے تھے۔ اب جب کہ خدا کے حکم کے خلاف ” جرم “ کرچکے اور اس کی پاداش میں صالح (علیہ السلام) سے عذاب کی ہولناک خبر سنی تو ان پر خوف و دہشت کے وہ فطری رنگ اور نقوش نمایاں ہونے لگے جو موت کے یقین کے وقت خوف و دہشت سے مجرموں کے اندر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان متعین تین دن کے بعد وہ وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اس حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفرین مقام کو کسی مقام پر ” صاعقہ “ (کڑک دار بجلی ) اور کسی جگہ ” رجف “ (زلزلہ ڈال دینی والی چیز ) اور کسی جگہ ” طاغیہ “ (دہشت ناک ) اور کسی جگہ ” صیحہ “ (سخت چیخ ) سے تعبیر کیا ہے اس لئے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کی ہولناکیاں کیسی گوناں گوں تھیں۔ تم ایک ایسی کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی ، کڑکتی اور گرجتی ہو اور اس طرح کوند رہی ہو کہ کبھی مشرق میں ہے تو کبھی مغرب میں اور جب ان تمام صفات کے ساتھ چمکتی ، کڑکتی ، گرجتی ، لرزتی لرزاتی ہوئی کسی مقام پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اور اس کے نواح کا کیا حال ہوگا ؟ یہ ایک معمولی اندازہ ہے اس عذاب کا جو ثمود پر نازل ہوا اور ان پر ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے سرکشوں کی سرکشی اور مغروروں کے غرور کا انجام ظاہر کرنے کے لئے آنے والی نسلوں کے سامنے بطور عبرت پیش کیا گیا۔ ایک طرف ثمود پر یہ عذاب نازل ہوا اور دوسری جانب صالح (علیہ السلام) اور ان کے پیرو مسلمانوں کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور ان کو اس عذاب سے بالکل محفوظ رکھا کہ ان کو علاقہ بدر ہونے کا حکم صادر فرما دیا گیا اور اس طرح جو کچھ ہونا قانون الٰہی میں طے تھا وہ کر کے دکھا دیا گیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) حزن و ملال کے ساتھ ہلاک شدگان کو فطرت کے تقاضا کے مطابق مخاطب کرتے ہوئے کچھ فرمانے لگے۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح (علیہ السلام) ان سے کنارہ کش ہوگیا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! میں نے اپنے پروردگار کا پیام تمہیں پہنچایا اور نصیحت کی مگر تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہو

صالح (علیہ السلام) نے ان مرے ہوئے لوگوں پر افسوس کا اظہار کیا : 90: ” اے میری قوم کے لوگو ! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام نہیں پہنچایا اور نصیحت کی مگر تم لوگ نصیحت کرنے والوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔ “ ہلاک شدگان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب اس طرح کا خطاب تھا جس طرح بدر میں مشرکین مکہ کے سرداروں کی ہلاکت کے بعد مردہ نعشوں کے گڑھے پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ ( یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ وَیَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَیَسُرُّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمْ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ) (بخاری ج 2 باب المغازی ، جلد دوم : حدیث نمبر 1207 ) ” اے فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کیا تم کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پسند آئی ؟ بلاشبہ ہم نے وہ سب کچھ پالیا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا پس کیا تم نے بھی وہ پایا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ؟ “ یاد رہے کہ یہ طریق خطاب حزن وملال کے اظہار کے لئے ہوتا ہے مثلاً تم نے کسی شخص کو متنبہ کیا کہ اس باغ میں نہ جانا کہ اس میں سانپ بڑی کثرت سے ہیں اور ڈسے جانے کا بہت خطرہ ہے مگر وہ شخص باغ میں گیا اور ڈسا بھی گیا جب یہ تنبیہہ کرنے والا اس کی نعش پر پہنچتا ہے تو بےساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ افسوس کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ باغ میں نہ جانا ورنہ ڈسا جائے گا اور آخر وہی ہوا جو میں نے کہا تھا اور بعض اوقات اس قسم کے خطاب کے اصل مخاطب وہ زندہ انسان ہوتے ہیں جو ان مردہ نعشوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ ان کو عبرت حاصل ہو اور وہ اس قسم کی سرکشی کی جرات نہ کرسکیں۔ اس آیت پر صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت ختم ہو کر سیدنا لوط (علیہ السلام) کی سرگزشت شروع ہو رہی ہے۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور اپنی قوم کو سدومیت سے باز آنے کی ہدایت : 91: حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام ہارون تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا بچپن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا اور ان کی پرورش ابراہیم (علیہ السلام) کی ہی آغوش تربیت کی رہین منت تھی۔ اس لئے وہ اور حضرت سارہ ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کے پہلے مسلم اور ” السابقون والاولون “ میں داخل تھے۔ اردن کی وہ جانب جہاں آج بحرمیت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں۔ اس کے قریب بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ پہلے یہ تمام حصہ جو آب سمندر نظر آتا ہے خشک زمین تھی اور اس پر شہر آباد تھے سدوم اور عامورہ کی بستیاں اسی مقام پر آباد تھیں۔ یہ مقام شروع سمندر میں نہیں بلکہ جب قوم لوط پر عذاب آیا اور اس کی سر زمین کو تہس نہس کیا گیا اور سخت زلزلے اور بھونچال آئے تب یہ زمنم تقریباً چار سو میٹر سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی ابھر آیا اس لئے اس کا نام بحرمیت اور بحر لوط ہے (بستانی ج 9 ص 7 53) ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد لوط (علیہ السلام) کو سدوم کی بستی میں آباد کیا اور اپنے وقت مقرر پر اللہ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرما دیا۔ اہل سدوم اس قدر ظلم ، فحش ، بےحیائی ، بد اخلاقی اور فسق وفجور میں مبتلا تھے کہ اس زمانہ کی قوموں میں ان کی جانب اس قسم کے واقعات عام طور پر منسوب کئے جاتے ہیں جو بےحیائی کے ساتھ غیر فطری بھی تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ان کی بےحیائیوں اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی اور حسن خطابت ، لطافت اور نرمی کے ساتھ جو طریقے ممکن ہو سکتے تھے سب اختیار کئے اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اپنی مخصوص بیماریوں اور بےحیائیوں سے باز آجائیں لیکن ان بد بختوں پر مطلق اثر نہ ہوا بلکہ جو اثر ہوا وہ بالکل الٹا تھا۔ ان میں غیر فطری برائیوں میں سر فہرست بیان کی جانے والی برائی یہ تھی کہ مردوں کے پاس شہوت کے ساتھ آتے تھے اور یہی فعل ” سدومیت “ سے معروف ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو لوط (علیہ السلام) کی طرف نسبت دے کر ” لوطی “ یا ” لواطت “ کہنا پسند کیا جو کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور لوط (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرنا پسند کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی انسان نے نہیں کیا ؟

لوط (علیہ السلام) کی بعثت اور اپنی قوم کو سدومیت سے باز آنے کی ہدایت : 91: حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام ہارون تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا بچپن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا اور ان کی پرورش ابراہیم (علیہ السلام) کی ہی آغوش تربیت کی رہین منت تھی۔ اس لئے وہ اور حضرت سارہ ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کے پہلے مسلم اور ” السابقون والاولون “ میں داخل تھے۔ اردن کی وہ جانب جہاں آج بحرمیت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں۔ اس کے قریب بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ پہلے یہ تمام حصہ جو آب سمندر نظر آتا ہے خشک زمین تھی اور اس پر شہر آباد تھے سدوم اور عامورہ کی بستیاں اسی مقام پر آباد تھیں۔ یہ مقام شروع سمندر میں نہیں بلکہ جب قوم لوط پر عذاب آیا اور اس کی سر زمین کو تہس نہس کیا گیا اور سخت زلزلے اور بھونچال آئے تب یہ زمنم تقریباً چار سو میٹر سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی ابھر آیا اس لئے اس کا نام بحرمیت اور بحر لوط ہے (بستانی ج 9 ص 7 53) ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد لوط (علیہ السلام) کو سدوم کی بستی میں آباد کیا اور اپنے وقت مقرر پر اللہ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرما دیا۔ اہل سدوم اس قدر ظلم ، فحش ، بےحیائی ، بد اخلاقی اور فسق وفجور میں مبتلا تھے کہ اس زمانہ کی قوموں میں ان کی جانب اس قسم کے واقعات عام طور پر منسوب کئے جاتے ہیں جو بےحیائی کے ساتھ غیر فطری بھی تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ان کی بےحیائیوں اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی اور حسن خطابت ، لطافت اور نرمی کے ساتھ جو طریقے ممکن ہو سکتے تھے سب اختیار کئے اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اپنی مخصوص بیماریوں اور بےحیائیوں سے باز آجائیں لیکن ان بد بختوں پر مطلق اثر نہ ہوا بلکہ جو اثر ہوا وہ بالکل الٹا تھا۔ ان میں غیر فطری برائیوں میں سر فہرست بیان کی جانے والی برائی یہ تھی کہ مردوں کے پاس شہوت کے ساتھ آتے تھے اور یہی فعل ” سدومیت “ سے معروف ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو لوط (علیہ السلام) کی طرف نسبت دے کر ” لوطی “ یا ” لواطت “ کہنا پسند کیا جو کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر نفسانی خواہش سے مردوں پر مائل ہوتے ہو یقینا تم ایک ایسی قوم ہوگئے ہو جو بالکل چھوٹ ہے

لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اس کی معروف بد اخلاقی سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی : 92: جس فعل شنیع سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو منع کیا قرآن کریم نے اس کو ” الْفَاحِشَةَ “ سے بیان کیا ہے اور ” الْفَاحِشَةَ “ کھلی ہوئی بدکاری اور بےحیائی کو کہتے ہیں اور استفہام یہاں اظہار نفرت وکراہت کے مفہوم میں ہے۔ اس فاحشہ کا یہاں نام نہیں لیا گیا جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بےحیائی وقت کی سوسائٹی میں اس درجہ عام تھی کہ نام لئے بغیر ہی ہر شخص سمجھتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ اور گندی باتوں کے لئے اشارات ہی سے کام لیا جاتا ہے کیونکہ اصل میں بات کا سمجھانا ضروری ہوتا ہے جو اشارہ میں سمجھا دینے سے سمجھ آجائے اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ لوط (علیہ السلام) نے قوم کو در حقیقت دو مختلف پہلوئوں سے اس برائی پر اظہار نفرت فرمایا ہے۔ پہلے تو فرمایا کہ ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس کا بےحیائی ہونا ہر عقل سلیم پر واضح ہے پھر فرمایا کہ یہ حرکت شنیع تو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلے کوئی شامت زدہ سوسائٹی ایسی نہیں گزری جس نے اس غلاظت کو تمہاری طرح اوڑھنا بچھونا بنایا ہو۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جن رسولوں کی دعوت کا ذکر ہوا ہے ان میں سے ہر ایک کی دعوت کا آغاز توحید سے ہوا لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت سے آغاز کرنے کی بجائے سب سے پہلے قوم کی اس بےحیائی کو موضوع بحث بنایا۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے اندر شرک کی برائی موجود نہیں تھی ؟ اگر موجود تھی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کیوں اس کو نظر انداز فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ برائی اور برائی میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک برائی وہ ہوتی ہے جو خواہ کتنی ہی سنگین ہو لیکن وہ انسانی عوارض میں سے ہوتی ہے اور انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے یا پائی جاسکتی ہے دوسری برائی وہ ہے جس کا گھنائونا پن اس قدر واضح ہے کہ کسی انسان کے اندر عادت کی حیثیت سے اور کسی سوسائٹی کے اندر فیشن کی حیثیت سے اس کا پایا جانا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اس انسان یا اس سوسائٹی کی فطرت بالکل مسخ ہوگئی ہے۔ جہاں اس طرح کے لوگوں سے سابقہ ہو وہاں اصل قابل توجہ چیز وہی برائی ہوتی ہے۔ دوسری باتیں خواہ کتنی ہی اہمیت رکھنے والی ہوں سب ثانوی درجے میں آجاتی ہیں۔ آپ ایک شخص کے پاس اصلاح کی غرض سے جائیں اور دیکھیں کہ وہ کھڑا ہوا غلیظ کھا رہا ہے تو آپ اس کو ایمان و اسلام کی تلقین کریں گے ؟ یا سب سے پہلے اس کی یہ عبرت انگیز حالت آپ کو متوجہ کرے گی ؟ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اس بات یا اس صورتحال سے سابقہ پڑا۔ ان کی قوم کے اندر کفر وشرک کی برائی بھی موجود تھی دوسری تمام برائیاں جو شرک و کفر کے لوازم میں سے ہیں موجود تھیں لیکن جس کی فطرت اتنی اوندھی ہوگئی ہو کہ مرد مردوں کو شہوت رانی کا عمل بنائے ہوئے ہوں ان کو تو سب سے پہلے اس غلاظت کی دلدل سے نکالنے کی ضرورت تھی۔ ان سے کوئی دوسری بات کرنے کا مرحلہ تو بہرحال اس کے بعد ہی آسکتا تھا۔ ان حالات میں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ان کی بےحیائوں اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی اور حسن خطابت ، لطافت اور نرمی کے ساتھ جو ممکن طریقے سمجھانے کے ہو سکتے تھے ان کو سمجھایا اور موعظت و نصیحت کی لیکن ان بد بختوں پر اس کا ذرا اثر نہ ہوا اور ان الٹی سمجھ کے لوگوں نے جو جواب دیا وہ بھی الٹا ہی تھا۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) کی قوم کے پاس اگر اس کا کچھ جواب تھا تو یہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے اس آدمی کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو یہ ایسے لوگ ہیں جو بڑے پاک صاف بننا چاہتے ہیں

لوط (علیہ السلام) کو قوم کی طرف سے جواب سنایا گیا وہ بھی انوکھا ہی تھا ؟ 93: بلاشبہ لوط (علیہ السلام) کی قوم آپ کے حسب ونسب کے لحاظ سے نہیں تھی بلکہ دعوت الٰہی کی نسبت تھی اور حقیقت میں وہ ہجرت کر کے یہاں تشریف لائے تھے اور علاقائی قرب کے لحاظ سے ایک ہی زبان بولتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں اور اس فعل شنیع کے روکنے کے باعث وہ مشتعل ہوگئے اور کہنے لگے ” بلاشبہ یہ پاک لوگ ہیں “ قوم لوط کا یہ مذاقیہ فقرہ تھا گویا حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے خاندان پر وہ اس طرح طنز کر رہے تھے اور ان کا ٹھٹھا اڑا رہے تھے کہ بڑے پاکباز ہیں تو ان کا ہماری بستی میں کیا کام یا ناصح مشفق کی مربیانہ نصیحت میں غیظ وغضب میں آکر کہتے تھے کہ اگر ہم ناپاک اور بےحیا ہیں اور وہ بڑے پاکباز ہیں تو ان کا ہماری بستی سے کیا واسطہ ؟ اور ان کا ہمارا کیا جوڑ ؟ ان کو یہاں سے نکال دو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے پھر ایک مرتبہ ان کو نصیحت کی اور فرمایا کہ تم کو اتنا بھی احساس نہیں رہا کہ یہ سمجھ سکو کہ مردوں کے ساتھ بےحیائی کا تعلق ، لوٹ مار اور اس طرح کی اور بد اخلاقیاں تم یہ سب کچھ کرتے ہو اور بھری محفلوں اور مجلسوں میں کرتے ہو اور پھر شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا ہم کو طعن وتشنیع کرتے اور بستی چھوڑ دینے کی دھمکی سناتے ہو۔ قوم نے اس نصیحت کو سنا تو وہ مزید سیخ پا ہوگئی اور کہنے لگی اے لوط ! بس یہ نصیحتیں اور عبرتیں ختم کرو اور اگر ہمارے ان اعمال سے تیرا خدا ناراض ہے تو وہ عذاب لا کر دکھا جس کا ذکر کر کے بار بار ہم کو ڈراتا ہے اور اگر واقعی تو اپنے قول میں سچا ہے تو اب ہمارا تیرا فیصلہ ہوجانا ہی ضروری ہے۔ اس بات کا تذکرہ سورة العنکبوت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

پس لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے گھر والوں کو تو ہم نے بچالیا مگر اس کی بیوی نہ بچی کہ وہ بھی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

انجام کار لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کو چھوڑ کر باقیوں کو ہلاک کردیا گیا : 94: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً کچھ لوگ تھے جو لوط (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے کیونکہ پیچھے ” اناس “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی دراصل گروہ کے ہوتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ وہ ان کے اہل کیسے ہوگئے جب کہ آیت میں ذکر ” اہل “ کا ہے تو اس کے متعلق بڑی تفصیل سے ہم لکھ چکے ہیں کہ نبی کے اصل اہل سے اس پر ایمان والے ہی مراد ہوتے ہیں اس جگہ اہل کا ذکر کر کے یہ بات واضح کردی کہ لوط (علیہ السلام) کے اپنے اہل سب ہی سچے مسلمان تھے اس لئے ان کو عذاب الٰہی سے بچایا گیا ہاں ! ان کی اہلیہ آپ کے اہل ہونے کے باوجود غرق کردی گئی اور وہ عذاب کی گرفت میں پھنس گئی جس کی اصل وجہ اس کے دل میں سچے ایمان کا فقدان ہی تھا اور یہ بھی کہ وہ حسب ونسب کے لحاظ سے اس بستی والوں کے ساتھ تھی اور قوم کی عصبیت اکثر حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی رہی ہے اور بن رہی ہے اس زنجیر کو توڑنے میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کے اندر خدا کی لگن اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ ہر مخالف جذبہ پر غالب آجاتی ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے لئے فرمایا کہ نجات کی راہ صرف ان لوگوں کے لئے کھلتی ہے جو خود اس کے طالب ہوں اور دوسری چاہتوں کو جو اس میں روک بنیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں اگر یہ عشق حق اور اس کے لئے قربانی کا جذبہ کسی میں نہ ہو تو ایک پیغمبر کی بیوی ، ایک پیغمبر کا بیٹا ، ایک پیغمبر کا باپ ہونا بھی ذرا آدمی کے لئے نافع نہیں ہوتا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے چچا کا انجام اس حقیقت کی ناقابل تردید شہادت ہے۔ تفصیل ان کی انشاء اللہ اپنے اپنے مقام پر آئے گی۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

(پھر ایسا ہوا کہ) ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا ، سو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا ؟

لوط (علیہ السلام) کی قوم کا وہ عذاب جس میں وہ اس کائنات ہستی سے مٹا دئیے گئے : 95: ” ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا “ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بادل نے بارش کے پانی کی بجائے پتھروں کی بار ش برسائی بلکہ اس سے بھی وہ باد طوفانی مراد ہے جس کو ہماری زبان میں تیز و تند ہوا کہتے ہیں جس سے پہاڑی علاقوں کے سنگریزے اڑ اڑ کر پڑتے ہیں اور ریت کے ٹیلوں کی طرح ٹیلے لگ جاتے ہیں۔ قوم لوط (علیہ السلام) پر اس طوفانی ہوا کا عذاب آیا تھا جو صحرائوں سے اٹھی تھی اور قافلوں کے قافلے اور بستیوں کی بستیاں اس کی لپیٹ میں آگئی تھیں اس طرح مسلسل چلنے والی اس تیز آندھی نے پوری قوم کی قوم کو اپنے نرغے میں اس طرح لیا کہ اس پورے علاقے کو پہلے تہس و نہس کیا اور ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور پھر زمین پر اتنا زبردست زلزلہ آیا کہ اس سے زمین شق ہو کر رہ گئی اور ان بستیوں کی جگہ کو اس طرح نیچے دبا دیا گیا کہ گویا یہاں کبھی وہ لوگ بسے ہی نہ تھے اور اس کو قرآن کریم نے ” عالیھا سافلھا “ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا۔ یہ عذاب ابتدائے شب سے شروع ہوا اس وقت اللہ کے حکم سے لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو سدوم سے نکال کرلے گئے تھے سوائے اپنی اہلیہ کے کہ وہ وہاں ہی رہ گئیں اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئیں اور آخر شب تک ان کا قصہ تمام کردیا گیا۔ ان آیات کا خلاصہ یہ نکلا کہ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے سنگریزے برسانے والی آندھی کا عذاب بھیجا جس نے ان کو اور ان کے مکانوں کو ڈھانک لیا اور اگر اس کے ساتھ تورات کا بیان بھی ملا دیا جائے تو اس پر اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ ان پر بجلی اور کڑک کا عذاب بھی آیا جیسا کہ اوپر ذکر کردیا گیا ہے۔ لوط (علیہ السلام) کے واقعہ کی تفصیلات بھی انشاء اللہ العزیز مناسب جگہ پر بیان کی جائیں گی اس جگہ مختصر الفاظ میں آیات کے تحت جو ذکر آیا وہ کردیا گیا اور اس کے آگے شعیب (علیہ السلام) کا تذکرہ بیان ہوا چاہتا ہے۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی بستی میں شعیب (علیہ السلام) بھیجا گیا کہ وُہ انہی کے بھائی بندوں میں سے تھا اس نے کہا بھائیو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں دیکھو تمہارے پروردگار کی طرف واضح دلیل تمہارے سامنے آ چکی پس چاہیے کہ ماپ تول پورا پورا کیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ملک کی درستگی کے بعد اس میں خرابی نہ ڈالو ، اسی میں تمہارے لیے بہتری ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو

شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر جو اہل مدین کو آپ (علیہ السلام) نے دی : 96: حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بعثت مدین یا مدیان میں ہوئی تھی اور مدین کسی مقام کا نام نہیں ہے بلکہ قبیلہ کا نام ہے اور بعد ازیں اسی قبیلہ کے نام پر بستی کا نام ” مدین “ مشہور ہوا۔ یہ قبیلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدین “ کی نسل سے تھا جو ان کی تیسری بیوی قطوار کے بطن سے پیدا ہوا تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ تیسرا خاندان بنو قطوراء کہلایا۔ ” مدین “ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پہلو ہی میں حجاز میں آباد ہوگیا تھا۔ یہی خاندان آگے چل کر ایک بہت بڑا قبیلہ ؟ ؟ ؟ ” قوم شعیب “ کہلایا۔ یہ قبیلہ کس مقام پر آباد تھا ؟ یہ حجاز میں شام کے متصل ایسی جگہ آباد تھا کہ جس کا عرض البلد افریقہ کے جنوبی صحرا کے عرض البلد کے مطابق پڑتا ہے اور بعض نے شام کے قریب معان کے حصہ زمین پر ان کا آباد ہونا بیان کیا ہے۔ قرآن کریم نے اس قبیلہ کی آبادی کے متعلق ہم کو دو باتوں سے متعارف کرا یا ہے ایک یہ کہ وہ ” امام مبین “ پر آباد تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ ” اصحاب ایکہ “ تھے۔ عربی زبان میں ” ایکہ “ ان سرسبز و شاداب جھاڑیوں کو کہتے ہیں جو ہرے بھرے درختوں کی کثرت کی وجہ سے ان جنگلوں اور بنوں میں اگی رہتی ہیں اور جھائو اور جھاڑیوں کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ ان دونوں باتوں کے جان لینے کے بعد مدین کی آبادی کا پتہ آسانی سے چل جاتا ہے وہ یہ کہ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے مغرب شمال میں ایسی جگہ آباد تھا جو شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ کہا جاسکتا ہے اور حجاز والوں کو شام ، فلسطین بلکہ مصر تک جانے میں اس کے کھنڈرات راہ میں پڑتے ہیں جو تبوک کے بالمقابل واقعہ تھا۔ (معجم البلدان ج 5 ص 418) شعیب (علیہ السلام) جب مبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پوری قوم کے لوگ اللہ کی نافرمانی اور معصیت کے ارتکاب میں مبتلا ہیں اور پوری قوم کی قوم ہی گرداب ہلاکت میں پڑی ہوئی ہے اور اپنی بد اعمالیوں میں اس قدر سر مست و سر شار ہے کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے معصیت اور گناہ ہے بلکہ وہ اپنے ان اعمال کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ان کی بہت سی بد اخلاقیوں اور نافرمانیوں سے قطع نظر جن قبیح امور نے خصوصیت کے ساتھ ان میں رواج پا لیا تھا وہ کچھ اس طرح کے تھے : (1) ۔ بت پرستی اور فنون مشرکانہ رسوم و عقائد۔ (2) ۔ خریدو فروخت میں پورا لینا اور کم دینا یعنی دوسروں کو ان کے حق سے کم دینا اور اپنے لئے حق سے زیادہ لینا بلکہ ممکن ہو سکے تو زیادہ۔ (3) ۔ تمام معاملات میں کھوٹ ملانا اور ڈاکہ زنی ، قوموں کے عام رواج کے مطابق دراصل ان کی رفاہیت ، خوش عیشی ، دولت و ثروت کی فراوانی ، زمین اور باغوں کی زرخیزی اور شادابی نے ان کو اس قدر مغرور بنا دیا تھا کہ وہ ان تمام امور کو اپنی ذاتی میراث اور اپنا خاندانی ہنر سمجھ بیٹھے تھے اور ایک ساعت کے لئے بھی ان کے دل میں یہ خطرہ نہ گزرتا تھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش ہے کہ شکر گزار ہوتے اور سر کشی سے باز رہتے غرض ان کی فارغ البالی نے ان میں طرح طرح کی بد اخلاقیاں اور قسم قسم کے عیب پیدا کردیتے تھے۔ اللہ کی توحید اور شرک سے بیزاری کا اعتقاد تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کی مشترک بنیاد اور اصل ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حصے میں بھی آئی تھی مگر قوم کی مخصوص بد اخلاقیوں پر توجہ دلانے اور ان کو راہ راست پر لانے کے لئے انہوں نے اس قانون کو بھی اہمیت دی کہ خرید وفروخت کے معاملہ میں یہ ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جو جس کا حق ہے وہ پورا پورا اس کو ملے کہ دنیوی معاملات میں یہی ایک ایسی بنیاد ہے جو متزلزل ہوجانے کے بعد ہر قسم کے ظلم ، فسق وفجور اور مہلک خرابیوں اور بد اخلاقیوں کا باعث بنتی ہے۔ مختصر یہ کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی بد اعمالیوں کو دیکھ کر سخت دکھ محسوس کیا اور رشد و ہدایت کی تعلیم دیتے ہوئے قوم کو انہی اصولوں کی طرف بلایا جو انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت و ارشاد کا خلاصہ ہیں۔ انہوں نے فرمایا ” اے قوم ! ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو اور خریدو فروخت میں ناپ تول کو پورا رکھو اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں کھوٹ نہ کرو اور یقین جانو کہ تمہارے لئے یہی کام بہترین ہیں جن کی تعلیم میں تم کو دے رہا ہوں۔ “
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور دیکھو ایسا نہ کرو کہ ہر راستے میں تم جا بیٹھو اور جو آدمی بھی ایمان لائے اسے دھمکیاں دے کر اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی ڈالنے کے درپے ہوجاؤ اللہ کا احسان یاد کرو کہ تم بہت تھوڑے تھے اس نے تمہاری تعداد زیادہ کردی اور پھر غور کرو جن لوگوں نے فساد کا شیوہ اختیار کیا تھا انہیں کیسا کچھ انجام پیش آچکا ہے ؟

شعیب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے مختلف احسانات کا ذکر بھی کیا : 97: شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کے احسانات کو یاد کرو کہ تم کو اس نے کس قدر انعامات دئیے ہیں کل تک ممکن ہے کہ تم کو ان بد اخلاقوں کی برائیوں کا حال معلوم نہ ہوا ہو مگر آج تمہارے پاس اللہ کی طرف سے حجت وبرہان آچکی ہے اب جہل و نادانی ، عفو و درگزر کے قابل نہیں ہے۔ حق کو قبول کرو اور باطل سے باز آئو کہ یہی کامرانی اور کامیابی کی راہ ہے اور اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد نہ کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صلاح و خیر کے تمام سامان مہیا کر دئیے اگر تم میں ایمان و یقین کی صداقت موجود ہے تو سمجھ لو کہ یہی فلاح و بہبود کی راہ ہے اور دیکھو ایسا نہ کرو کہ دعوت حق کی راہ کو روکنے اور لوگوں کو لوٹنے کے لئے ہر راہ پر جا بیٹھو اور جو آدمی بھی ایمان لائے اس کو خدا کی راہ اختیار کرنے پر دھمکیاں دینے لگو اور اس میں کج روی پیدا کرنے کے درپے ہوجائو۔ اے افراد قوم ! اس وقت کو یاد کرو اور اللہ کا احسان مانو کہ تم بہت تھوڑے تھے پھر اس نے تم کو امن و عافیت دے کر تمہاری تعداد کو بیش از بیش بڑھا دیا۔ اے میری قوم ! ذرا اس بات پر غور کرو کہ جن لوگوں نے اللہ کی زمین پر فساد پھیلانے کا شیوہ اختیار کیا تھا ان کا انجام کس قدر عبرت ناک ہوا اس طرح کی بہت سی نصیحتیں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم مدین کو کیں لیکن دنیا کی دوسری قوموں کی طرح انہوں نے بھی نفی میں ہی سر ہلایا۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ ان کو مکذب و منکر حق قوموں کا انجام جو تم سے قبل ہوچکی ہیں کس کس طرح تباہ و برباد ہو کر رہی ہیں اور ان کے علوم وفنون ، ان کی صنعتیں اور حرفتیں ، ان کی دولت اور تمول ، ان کی تہذیب و تمدن ، ان کی ترقیوں پر غور کرو کہ ان کی کوئی چیز بھی انہیں ہلاکت سے نہ بچا سکی۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر ایسا ہوا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر ایمان لے آیا ہے جس کی تبلیغ کے لیے میں بھیجا گیا ہوں اور دوسرا گروہ ہے جسے اس پر یقین نہیں تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

تم میں ایک جماعت ایمان لائی اور ایک نے انکار کردیا دونوں کا موازنہ کرلو : 98: مطلب یہ ہے کہ مفسدین کا یہ انجام تو قطعی اور یقینی ہے تمہیں جو مہلت مل رہی ہے اس سے یہ نہ سمجھو کہ میری بات جھوٹی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اللہ نے اب تک جو تمہیں مہلت دے رکھی ہے اس کا قانون امہال ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک گروہ جو میری بات پر ایمان لایا ہے اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم میں سے اور بھی جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ چھٹ کر علیحدہ ہوجائیں پس ان کی خاطر تمہیں یہ مہلت مل رہی ہے اس مہلت تک انتظار کرو اس کے بعد اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے گا اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ اس طرح شعیب (علیہ السلام) نے ایک سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ قوم کی غالب اکثریت رسول (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کردیتی ہے اور اس انکار پر اڑ جاتی ہے ایسی صورت میں یہ بات جلد واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ قوم ایمان کی صلاحیت سے بالکل خالی ہے پھر اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس پر عذاب جلد آجاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ قوم کے اندر سے ایک گروہ ایمان لاتا ہے دوسرا گروہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ صورت اس بات کا قرینہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر کچھ صلاحیت موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کو مزید ہلایا جائے تو اس کے اندر سے کچھ مزید مکھن نکلے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں پر حد درجہ تک مہربان اور قہر کرنے میں بہت ہی دھیما ہے اس وجہ سے وہ ایسی صورت میں قوم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ نبی اور صالحین اپنی پوری قوم کو ایک چھاج میں اچھی طرح پھٹک لیتے ہیں اس عمل کے پورے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ اس قوم کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ اس آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ قوم کو یہ مہلت ان صالحین کی برکت سے ملتی ہے جو اس کے اندر سے رسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ” فاصبروا “ اس جگہ انتظار کے معنی میں ہے اور ” خیر الحاکمین “ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہرحال اس کا فیصلہ بالکل حق وعدل پر مبنی ہوگا اور ٹھیک اسی وقت ہوگا جب کہ اس کو ہونا چاہئے اور جیسا کہ ہونا چاہئے۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اس پر قوم کے سرداروں نے جنہیں گھمنڈ تھا کہا کہ اے شعیب (علیہ السلام) یا تو تجھے اور ان سب کو جو ایمان لائے ہیں ہم اپنے شہر سے ضرور نکال باہر کریں گے یا تمہیں مجبور کردیں گے کہ ہمارے دین میں لوٹ آؤ ، شعیب (علیہ السلام) نے کہا اگر ہمارا دل تمہارے دین پر مطمئن نہ ہو تو کیا جبراً مان لیں ؟

سردار ان قوم کی طرف سے جواب جو شعیب (علیہ السلام) کو دیا گیا : 99: حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت حق کا سلسلہ برابر جاری رہا تو ان میں سے سر بر آودہ اشخاص نے کہ جن کو اپنی شوکت و طاقت پر غرور تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا ” اے شعیب ! دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہے گی یا ہم تجھ کو اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے اور تمہارا دیس نکالا کریں گے یا تم کو مجبور کریں گے کہ پھر تم لوگ ہمارے دین میں واپس آجائو۔ اتنی سخت بات سن کر بھی شعیب (علیہ السلام) نے بڑے دھیمے لہجے میں فرمایا کہ اگر ہم تمہارے دین کو غلط اور باطل سمجھتے ہوں تب بھی زبردستی مان لیں ، یہ تو بڑا ظلم ہے ؟ شعیب (علیہ السلام) کے اس ارشاد سے یہ بات صاف نمایاں ہے کہ انہوں نے وطن سے نکالے جانے کی دھمکی کو یک قلم نظر انداز کردیا لیکن ان کی دوسری دھمکی کا نوٹس لیا اور اس کا جواب بڑے واضح اور قطعی لفظوں میں دیا جس کی تفصیل آنے والی آیت میں کی جا رہی ہے۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم تمہارے دین میں لوٹ آئیں حالانکہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے جھوٹ بولتے ہوئے اللہ پر بہتان باندھا ، ہمارے لیے ممکن نہیں کہ اب قدم ہٹائیں ہاں ! اللہ کا جو ہمارا پروردگار ہے ایسا ہی چاہنا ہو ، کوئی چیز نہیں جس پر وہ اپنے علم سے چھایا ہوا نہ ہو ہمارا تمام تر بھروسہ اسی پر ہے ، اے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان سچائی کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

شعیب (علیہ السلام) نے سردارن قوم کا جواب سن کر فرمایا : 100: شعیب (علیہ السلام) نے سردارن قوم کا جواب سن کر فرمایا کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے اس دین سے نجات دے دی ہے تو پھر ہم اس کی طرف لوٹ جائیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے جھوٹ بول کر اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا اور یہ ناممکن ہے ، ہاں ! اللہ کی جو کہ ہمارا پروردگار ہے یہی مرضی ہو تو وہ جو چاہے گا کرے گا ہمارے رب کا علم تمام اشیاء پر چھایا ہوا ہے ، ہمارا تو صرف اسی پر بھروسہ ہے اس نے ہماری اس راہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے اور اس سے یہ امید ہے کہ وہ ہمیں ٹھکانے لگائے گا۔ پس ہماری اس سے یہ دعا ہے کہ اے پروردگار ! تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق اور سچائی کے ساتھ فیصلہ فرما دے تو ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے ایک مدت پہلے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمائی تھی جو سورة الانعام میں گزر چکی ہے ” کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو اور حال یہ ہے کہ اس نے مجھے ہدایت بخشی ہے اور میں ان چیزوں سے نہیں ڈرتا جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو مگر یہ کہ میرا رب ہی کوئی بات چاہے میرے رب کا علم ہرچیز کو محیط ہے۔ “ (الانعام 6 : 81)
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

قوم کے سرداروں نے جو شعیب (علیہ السلام) کے منکر تھے کہا اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کی تو یہی سمجھ لو تم برباد ہوئے

منکرین کا اعلان کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کی تو برباد ہوجائو گے : 101: سرداران قوم شعیب (علیہ السلام) نے جب شعیب (علیہ السلام) کا یہ عزم و استقلال دیکھا تو اب ان سے روئے سخن پھیر کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگے۔ خبردار ! اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کا کہنا مانا تو تم ہلاک و بربادہوجائو گے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس لئے بھیجا ہے کہ میں اپنے مقدور بھر تمہاری اصلاح کی سعی کروں اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی صداقت اور سچائی کے لئے اللہ کی طرف سے حجت ، دلیل اور نشانی بھی پیش کر رہا ہوں مگر افسوس کہ تم اس واضح حجت کو دیکھ کر بھی سرکشی و نافرمانی پر قائم ہو اور مخالفت کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو تم سے چھوٹا ہوا ہو۔ اگر تم اب بھی نہ مانو گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب تم کو ہلاک و برباد نہ کر ڈالے۔ اس کا فیصلہ اٹل ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ اس کو رد کر دے۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پس لرزا دینے والی ہولناکی نے انہیں آلیا اور جب ان پر صبح ہوئی تو گھروں میں اوندھے پڑے تھے

انجام کار وہ دن آپہنچا جو ایسی قوموں کا مقدر ہوتا رہا جو نافرمان تھیں : 102: آخر وہی ہوا جو قانون الٰہی کا ابدی اور سرمدی فیصلہ ہے یعنی حجت وبرہان کی روشنی آنے کے بعد بھی جب باطل ہی پر اصرار ہو اور اس کی صداقت کا مذاق اڑایا جائے اور اس کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالی جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب اس مجرمانہ زندگی کا خاتمہ کردیتا اور آنے والی قوموں کے لئے اس کو عبرت و موعظت بنا دیا کرتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس طرح شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور سرکشی کی پاداش میں قوم شعیب (علیہ السلام) کو دو قسم کے عذاب نے آگھیرا۔ ایک زلزلہ اور دوسرا آگ کی بارش کا عذاب یعنی وہ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے کہ یک بیک ایک ہولناک زلزلہ آیا اور ابھی یہ ہولناکی ختم نہ ہوئی تھی کہ آتش فشاں جو پھٹا تو اس نے اس پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ زیادہ روز نہ گزرے تھے کہ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کل کے سرکش اور مغرور آج گھٹنوں کے بل اوندھے جھلسے ہوئے پڑے ہیں۔ گویا ان کو اس عذاب نے سری اور پایوں کی طرح بھون کر رکھ دیا اور ایسا معلوم ہونے لگا گویا اس جگہ ان بستیوں میں کبھی کوئی بسا ہی نہیں تھا اور یہ ایک مدت سے ویران پڑی ہیں اور یہ عذاب اسی سے ملتا جلتا ہی عذاب تھا جو لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر آیا تھا کہ اس پورے علاقے کا نقشہ اس نے بدل کر رکھ دیا۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا گویا ان بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے ، جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا وہی برباد ہونے والے تھے

اس عذاب کا نتیجہ جو کچھ رہا وہ اس آیت میں بیان کردیا گیا : 103: زیر نظر آیت میں اس عذاب کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے دونوں فقروں میں ان دھمکیوں کی طرف تلمیح ہے جو قوم شعیب (علیہ السلام) کے سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دی تھیں۔ انہوں نے ایک دھمکی یہ دی تھی کہ ہم تم کو اپنی بستی سے نکال کر چھوڑیں گے ، بس اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود اس دیار سے اس طرح مٹے ” گویا کہ ان تلوں میں کبھی تیل ہی نہ تھا “ اور انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو دوسری دھمکی یہ دی تھی کہ اگر تم اس شخص کی پیروی سے دست کش نہ ہوئے تو بڑے خسارے میں پڑو گے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارے میں پڑے۔ ” کان لم یغنوا “ لفظ غنٰی کے ایک معنی کسی مقام پر خوش عیشی کے ساتھ بسر کرنے کے بھی آئے ہیں ، اس جگہ یہی معنی مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن مکانوں میں آرام و عیش کی زندگی گزارتے تھے اس عذاب کے بعد ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی یہاں آرام و عیش کا نام ہی نہ تھا اور پھر فرمایا ” جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہی لوگ خسارہ میں پڑے۔ “ یعنی دوسروں کو خسارے میں ڈالنے والوں کے ساتھ وہی کچھ ہوا جس کے متعلق مثل مشہور ہے کہ ” جنہوں نے کنواں کھودا وہی اس میں گر گئے۔ “ اس طرح وہ ” اپنا منہ اپنی چپیڑ “ کا مصداق ہوئے۔