7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کے بعد ناخلفوں نے ان کی جگہ پائی اور کتاب الٰہی کے وارث ہوئے وہ اس دنیائے حقیر کی متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں اس کی تو ہمیں معافی مل ہی جائے گی اور اگر کوئی متاع انہیں اس طرح ہاتھ آجائے تو اسے بھی بلا تامل لے لیں ، کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام سے کوئی بات نہ کہیں مگر وہی جو سچ ہو ، اور کیا جو کچھ کتاب میں حکم دیا گیا ہے وہ پڑھ نہیں چکے ہیں ، جو متقی ہیں ان کے لیے تو آخرت کا گھر کہیں بہتر ہے کیا اتنی بات بھی تمہاری عقل میں نہیں آتی ؟

قوم بنی اسرائیل کے یکے بعد دیگرے آنے والے ناخلف ہی ہوتے چلے گئے : 192: خلف اور خلف خلف کے معنی پیچھے کے ہیں لیکن خلف اگر لام متحرک ہو تو معنی ہوں گے نیک اولاد ۔ کہ اولاد والد کے ہمیشہ پیچھے ہی ہوتی ہے اور خلف لام ساکن کے ساتھ ہو تو اس کے معنی کئے جاتے ہیں بری اولاد جس کو عام زبان میں ناخلف کے تلفظ سے بولا جاتا ہے اور عرض اس چیز کو کہتے ہیں جو جلدی فنا پذیر ہوتی ہے اس وجہ سے دنیا کے مال و متاع پر بھی عرض کا لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ اس کو بھی بقاء نہیں ہے اور ھذا الادنیٰ کا مطلب یہ دنیا جو قریب ہے ۔ یقولون قول اس جگہ اعتقاد کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی دین کو چھوڑ کر دنیا کو لیتے ہیں اور پھر امید رکھتے ہیں کہ ہم بخشے جائیں گے اور یہ ان کے اعتقاد کی حالت بیان کی گئی ہے ، اس آیت میں قوم بنی اسرائیل کی سیرت کا ایک اور داغدار پہلو نمایاں کیا جارہا ہے اور یہ دراصل اس قوم کے علماء کا حال ہے کہ وہ مال و دولت جمع کرنے میں اتنے حریص تھے کہ وہ رشوت لے کر اللہ تعالیٰ کے صریح اور واضح احکام میں ردوبدل کردیتے۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دکھانا ان کے بائیں ہا تھ کا کھیل تھا اور یہ مرض ان کا اب لا علاج ہوچکا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اس بیماری کو بیماری تصور نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کے لاڈلے اور پیارے ہیں ہمیں دوزخ میں وہ کیوں ڈالے گا اور یہ کہ ہم کو دوزخ کی آگ جلا ہی نہیں سکتی اور یہ بھی کہ ہم نبیوں اور ولیوں کی اولاد ہیں نیز تورات کے عالم بھی ۔ لہٰذا ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی خصوصی رعایتیں ہیں اس لئے ہم ہر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہو سکتی ہماری بخشش کا ہم سے پختہ وعدہ کردیا گیا ہے ہم اللہ کی پسندیدہ امت ہیں ۔ آتش دوزخ ہم پر حرام کردی گئی ہے ۔ جب کسی قوم کے ذمہ دار اور تعلیم یافتہ طبقہ کی اخلاقی پستی اور دنیا پرستی کا یہ حال ہو تو وہاں کے عوام کا کیا حال ہوگا ؟ اور یہی حال اب مسلمانوں کا ہوگیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم امت مرحومہ ہیں ۔ آتش دوزخ ہم پر حرام کردی گئی ہے ۔ اگر کچھ مواخذہ ہوگا بھی تو کسی پیر کی مریدی میں یا کسی وظیفہ کے ورد یا کسی خاص نماز نفل کی مداومت یا مجالس میلاد کا انعقاد اور ان عرسوں کی شرکت ہماری بخشش و نجات کے لئے کافی ہے ۔ خصوصاََ مشائخ عظام ، علمائے کرام ، سجادہ نشین ، پیر زادے اور صاحبزادے اس بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ فرمایا ان کے سامنے جب دنیا کا حال آتا ہے تو ان کے منہ میں پانی پھر آتا ہے اور جزاک اللہ کہتے ہوئے اس طرح ہڑپ کر جاتے ہیں جس طرح بگلہ بھگت ڈڈی کو ایک ہی بار لقمہ بنا لیتا ہے ۔ قرآن کریم نے نہایت واضح الفاظ میں علمائے یہود کا یہ مغالطہ دور کردیا کہ وہ یہ کہنے کی کیسے جرات کرتے ہیں حالانکہ ان سے تو اس بارے میں سخت ترین وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ ایسی کوئی بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کریں گے جو اس نے نہ فرمائی ہو ۔ اتنے پختہ وعدہ کے بعد انہیں کب یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس خود فریبی کا شکار ہوں ۔ یہ دنیا کی چند روزہ زندگی اور اس کا فنا پذیر ساز و سامان کیا وقعت رکھتا ہے کہ انسان اس پر جنت کی ابدی زندگی اور اس کے آرام و راحت کو قربان کر دے۔ علمائے یہود سے سوال کہ کیا جو کچھ کہا گیا وہ تم نے نہیں پڑھا ؟ : 193: ظاہر ہے جو عالم کہلاتے ہیں انہوں نے بھی اس کو نہیں پڑھا ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ ضرور پڑھا ہوگا لیکن کسی چیز کا پڑھ لینا کب مفید ہوتا ہے ؟ جب اس پڑھے ہوئے کے مطابق عمل بی کیا جائے ورنہ کسی چیز کو طوطے کی طرح رٹ لینے سے کیا فائدہ ؟ جب یہ معلوم ہی نہ ہو کہ جو کچھ میں پڑھ رہا ہوں اس کا مطلب کیا ہے اور اگر مطلب بھی سمجھ لیا اور پھر اس کے مطابق عمل نہ کیا تو اس سمجھنے کا کیا فائدہ ؟ درسوا ما فیہ کے الفاظ بیان فرما کر یہ بات بتا دی کہ انہوں نے پڑھا اور ایک دو بار ہی نہیں پڑھا بلکہ بار بار پڑھا کیونکہ درس کے اصل معنی گھسنے کے ہیں یعنی انہوں نے کتاب کو اتنی بار پڑھا کہ پڑھ پڑھ کر اس کے اوراق ہی گھسا دئیے لیکن ان کا حال ہمیشہ یہی رہا کہ ساری زلیخا پڑھ جانے کے بعد ان کو پتہ نہ چل سکا کہ زلیخا مرد ہے یا عورت ۔ ذرا غور کرو گے تو تم کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج ہماری قوم مسلم کے علماء کا بھی بالکل یہی حال ہے اور عوام بھی بالکل اس ڈگر پر جا رہے ہیں جس پر بنی اسرائیل کے عوام چلتے رہے ہیں ۔ فرمایا اچھا کرنا تو تم کو وہی ہے جو تمہاری مرضی لیکن ہمارا حکم تو کان کھول کر سن لو کہ آخرت ہی کا گھر ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو ڈرتے رہتے ہیں ۔ سو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ یہ پوچھا جا رہا ہے کہ قوم بنی اسرائیل سے بلکہ ان کے علماء سے انہوں نے جواب نہیں دیا لیکن ہمارا جواب تو حاضر ہے کہ دین کے معاملہ میں عقل سے کام لینا بالکل حرام ہے۔ ہاں ! علماء اسلام کے جس مکتبہ فکر سے چاہو پوچھ لو وہ یہی جواب دیں گے کہ دین میں عقل کو دخل نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پڑھنے کے باوجود کچھ نہیں سمجھتے کہ پڑھنا کام ہے زبان ، ہونٹوں اور دانتوں کا اور سمجھنا کام ہے عقل کا اور جب عقل سے کام لینا حرام ٹھہرا تو وہ خاک سمجھیں گے ؟ لیکن اب بیوقوفوں میں عقل ہے کہاں ؟
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں اور نماز میں سرگرم ہیں تو ہم کبھی سنوارنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

بنی اسرائیل کے بعض مصلحین کی حوصلہ افزائی : 194: سابقہ آیات میں عہد و میثاق کا ذکر تھا جو علمائے یہود سے تورات کے متعلق کیا گیا تھا کہ اس میں تغیر و تبدل نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بجز حق اور صحیح بات کے کوئی چیز منسوب نہ کریں گے اور پھر بیان فرما یا کہ ان علماء بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی اور اہل غرض سے رشوتیں لے کر تورات کے احکام بدلے اور ان کی غرض کے مطابق کر کے بتلائے اور پھر یہ آیت اس مضمون کا تکملہ ہے کہ علمائے بنی اسرائیل سب کے سب ایسے نہیں ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے تورات کے احکام کو مضبوطی سے تھاما اور ایمان کے ساتھ عمل کے بھی پابند ہوئے اور کتاب کو سمجھ سوچ کر پڑھا اور نماز کو پورے آداب کے ساتھ قائم کیا ۔ فرمایا ان لوگوں کا اجر اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ کتاب کو صرف اپنے پاس احتیاط اور تعظیم کے ساتھ رکھ لینے اور اس کو صبح اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر منہ سے چوم کر ماتھے پر لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ اصل جو کچھ مطلوب ہے وہ اس کے احکام کی پابندی ہے یہی وجہ ہے کہ اس جگہ یمسکون کا لفظ اختیار کیا گیا جس کے معنی مضبوطی کے ساتھ پوری طرح تھامنا تھا یعنی اس کے احکام کی تعمیل کرنا ہے جو اس کو سمجھنے کے سوا ممکن ہی نہیں ۔ احکام کا ذکر فرما کر صرف ایک حکم نماز پر اکتفا کرنے سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ کتاب اللہ کے احکام میں اولیت نماز کو ہی ہے اور نماز کی پابندی احکام الٰہی کی پابندی کی نشانی ہے گویا جو نماز کا پابند ہوگیا اس کے لئے دوسرے احکام کی پابندی آسان ہوگئی۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو بلند کیا ہوا تھا کہ گویا ایک سائبان ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ بس ان کے سروں پر آگرا اور انہیں حکم دیا تھا کہ یہ کتاب جو ہم نے دی ہے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس میں بتلایا گیا ہے اسے خوب طرح یاد رکھو اور یہ اس لیے کہ تم برائیوں سے بچو

بنی اسرائیل سے لئے گئے عہد کا ذکر جو پہاڑ کے نیچے لیا گیا تھا : 195: اس عہد سے ایک خاص عہد مراد ہے جو بنی اسرائیل سے اس وقت لیا گیا جب وہ ایک پہاڑ کے نیچے کھڑے تھے اور پہاڑ ایسا نظر آتا تھا گویا ان کے سروں پر کھڑا ہے اور پہاڑ کی کیفیت یہ بیان کی گئی کہ پہاڑ ایسے تھا جیسے زلزلہ ہل رہا ہو نتقنا ای زلزلنا دوسری صورت میں اس کی یہ بیان ہوئی کہ سائبان کی طرح سایہ کئے ہوئے تھا اور ایسا لگتا تھا گویا گرا کہ گرا اس طرح ان سے لئے گئے عہد کی پوری کیفیت بیان کردی جیسے کسی کو یاد کرانے کے لئے صرف وقت اور ارد گرد کے ماحول کا پورا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے کہ یہ کس عہد کی بات ہو رہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ہم نے بنی اسرائیل سے وہ عہد لیا تھا جب وہ پہاڑ کے نیچے کھڑے تھے اور پہاڑ ان کے سروں پر سایہ کئے ہوئے تھا اور سائبان کی طرح ہلتا ہوا نظر آرہا تھا اور ایسی حالت میں ان سے یہ عہد لیا گیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تم اس کے احکام کو مضبوطی کے ساتھ تھام رکھو اور ان فسادیوں اور ساحروں کی باتوں میں نہ آئو جو تمہیں دھوکا اور فریب دے کر ورغلا اور پھسلا لیتے ہیں تاکہ تم برے اعمال و اخلاق سے باز آجائو۔ یہ عہد یا کوئی دوسرا عہد بنی اسرائلی سے جبر واکراہ سے نہیں لیا گیا تھا اور نہ ہی جبر واکراہ کسی زمانہ میں جائز رکھا گیا ہے جو کیفیت اکثر مفسرین نے بیان کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عہد بنی اسرائیل سے ڈرا دھمکا کرلیا گیا تھا ۔ وہ بیان صحیح نہیں ہے اس کی پوری تفصیل سورة بقرہ کی آیت 63 میں بیان کردی گئی اس لئے عروہ الوثقیٰ جلد اول میں مذکورہ آیت کی تفسیر کا مطالعہ کریں اس آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور آئندہ آنے والی آیت میں اس عہد میثاق کا ذکر کردیا جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا جس کو ہم فطری عہد کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے جو ان کے ہیکل سے پیدا ہونے والی تھی عہد لیا تھا اور انہیں خود اس پر گواہ ٹھہرایا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا تھا ہاں ! تو ہی پروردگار ہے ، ہم نے اس کی گواہی دی اور یہ اس لیے کہا تھا کہ تم قیامت کے دن عذر کو بیٹھو کہ ہم اس سے بیخبر رہے

بنی آدم سے عہد فطرت لئے جانے کا بیان جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا : 196: زیر نظر آیت میں اس فطری عہد کا ذکر کیا گیا ہے جو عہد عہد الست عہد ازل عالم ارواح کا عہد اور روز میثاق کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور قرآن کریم کی زبان میں ایک دوسری جگہ اسے فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا 1ؕ سے تعبیر فرمایا ۔ یعنی وہ فطرت جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ۔ اس عہد کو احادیث میں عالم مثال کے طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ سب انسانوں کو اس کی تفہیم ہو سکے کہ عہد الست کیا ہے ؟ بلا شبہ قرآن کریم اور صحیح احادیث نبوی ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح انسانی کو ایک ہی بار پیدا فرمادیا اور اس سے مراد ارواح کی وہ پیدائش ہے جو علم الٰہی میں ہے اور اس کو عالم مثال سے تعبیر کیا جاتا ہے اور علم الٰہی میں ہرچیز موجود ہونے کے یقین کا نام اسلام ہے اس لئے جو شخص علم الٰہی میں اس کے موجود ہونے پر یقین نہ کرے وہ مسلم نہیں ہو سکتا ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف اور دلچسپ طریقے سے بےانتہا نصیحکلام میں انسان کی فطرت کو بتایا ہے وہ فرماتا ہے کہ آدم کی اولاد کو پیدا کیا اور خود ان کو ان پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا پروردگا نہیں ہوں ؟ سب نے کہا کہ کیوں نہیں ۔ یہ اشارہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی ایسی بنائی ہے کہ جب وہ خود اپنی فطرت پر غور کرے اور اس کو سوچے سمجھے تو وہی اس کی فطرت اللہ کے ہونے پر گواہی دیتا ہے اور اشھدھم علیٰ انفسھم ـ کے بالکل صاف صاف ہی معانی ہیں اور قالو بلیٰ اس فطرت کی تصدیق ہے اور یہ صاف اس بات کی ہدایت ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو اپنی فطرت کی رو سے مکلف ہے۔ عجائب پسند مفسرین نے کچھ ہی کہا ہو مگر محققین علمائے اسلام یہی کہتے آئے ہیں جس کو ہم نے بیان کیا چناچہ تفسیر کبیر میں ہے کہ : ـ تفسیر ھذہ الایۃ قول اصحاب النظر و ارباب المعقولات انہ تعالیٰ اخرج الذریۃ و ھم الاولاد من اصلاب ابائھم و ذلک الاخراج انھم کانو نطفۃ فاخرجھا اللہ تعالیٰ فی ارحام الامھات و جعلھا علقۃ ثم مضغۃ ثم جعلھم بشرا سویا و خلقا کاملا ثم اشھد ھم علیٰ انفسھم بما رکب فیھم من دلائل وحدانیتہ و عجائب خلقہ وغرائب صنعہ فبالاشھاد صاروا کانھم قالو بلیٰ و ان لم یکن ھناک قول باللسان کذالک نظائر منھا قولہ تعالیٰ فقال لھا و للارض ائتیا طوعا و کرھا قا لنا اتینا طائعین و منھا قولہ تعالیٰ انما امرنا لشئی اذا اردناہ ان نقول لہ کن فیکون و قولہ العرب : قال الجدار للولد لم تشقنی قال سل من یدقنی فان الذی ورای ما خلانی ورائی و قال الشاعر ع : امتلاء الحوص و قال قطنی فھذا النوع من المجاز والاستعارات مشھور فی الکلام فوجب الکلام علیہ۔ ( تفسیر کبیر ج 3 ص 324) جو لوگ صاحب نظر اور ارباب المعقولات ہیں ان کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نکالا ذریت کو ذریت اولاد ہے جو اپنے باپوں کی پیٹھ سے اس طرح نکلتی ہے کہ وہ نطفہ ہوتے ہیں پھر ان کو اللہ نے نکال کر ان کے مائوں کے پیٹ میں ڈال دیا پھر ان کو علقہ کیا پھر مضغہ پھر ان کو ٹھیک انسان بنایا اور پوری تخلیق فرما دی پھر خود ان کو ان پر گواہ کیا ان قوتوں سے جو اس نے ان میں ودیعت کیں اپنی وحدانیت کی دلیلوں کی اور اپنی عجائب خلقت کی اور اپنی نادر صنعت کی پس اس گواہ کرنے سے ان کی ایسی حالت ہوئی کہ گویا انہوں نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں گو کہ وہاں زبان سے یہ بات کہی نہ گئی اور اس حال کو قال سے تعبیر کرنے کی بہت سی مثالیں (قرآن کریم) میں ہیں انہیں مثالوں میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے جب اس نے آسمان و زمین کو کہا کہ آئو خوشی سے یا نا خوشی سے دونوں نے کہا کہ ہم آئے خوشی سے (حم السجدہ 41:11) اور یہ قول بھی اس کی مثال ہے کہ ہمارا حکم کسی چیز کے لئے جب کہ اس کے ہونے کا ہم ارادہ کرتے ہیں اس کو یہ کہنا ہے کہ ہو پھر وہ ہوجاتی ہے ۔ (النمل 16:40) اور اہل عرب کا قول ہے کہ دیوار میخ سے کہتی ہے کہ کیوں مجھ کو پھاڑتی ہے اور میخ جواب دیتی ہے پوچھ اس سے جو مجھے ٹھوکتا ہے اور بیشک وہ میرے پیچھے ہے اور مجھے نہیں چھوڑتا ۔ اسی طرح کسی شاعر کا قول ہے کہ حوض بھر گیا ہے اور حوض نے کہا کہ بس مجھ کو کافی ہے ۔ اور اس قسم کے مجازات اور استعارات کلام عرب میں مشہور ہیں پھر ضروری ہے کہ اس کلام کو بھی اس پر محمول کیا جائے ۔ اور ہم نے اس کو عہد فطرت جو کہا ہے تو وہ قرآن کریم نے خود ارشاد فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا 1ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا 1ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ 1ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ 1ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ0030 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ0031 مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا 1ؕ کُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ 0032 (الروم 30 : 30 ۔ 32) پس (اے مخاطب) ایک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو قائم ہو جائو اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی ۔ یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے ۔ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ( اس بات پر قائم ہو جائو ) اور ڈرو اس سے اور نماز قائم کرو اور ان مشرکوں میں سے نہ ہوجائو جنہوں نے اپنا دین الگ الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے ۔ یہ اسی عہد فطری کا ذکر ہے جس کا بیان جاری ہے فرمایا ( اے انسانوں ! ) قائم ہو جائو اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی۔ یعنی تمام انسان اس فطرت پر پیدا کئے گئے ہیں کہ ان کا کوئی خالق اور کوئی رب اور کوئی معبود اور مطاع حقیقی ایک اللہ کے سوا نہیں ہے اس فطرت پر تم کو قائم ہوجانا چاہئے اگر خودمختاری کا رویہ اختیار کرو گے تب بھی فطرت کے خلاف چلو گے اور اگر بندگی غیر کا طوق اپنے گلے میں ڈالو گے تب بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کرو گے اور یہ مضمون متعدد احادیث میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے واضح فرمایا ہے ۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاہُ یُهَوِّدَانِهِ أَوْ یُنَصِّرَانِهِ أَوْ یُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِیمَةُ بَهِیمَةً جَمْعَائَ ہَلْ تُحِسُّونَ فِیہَا مِنْ جَدْعَائَ ) (صحیح بخاری : 1296) یعنی ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا ڈالتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ میں اس کا بچہ پورے کا پورا صحیح وسالم بر آمد ہوتا ہے ، کوئی ..... بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا بعد میں مشرکین اپنے اوہام جاہلیت کی بناء پر اس کے کان کاٹتے ہیں ۔ اسی طرح مسند احمد اور نسائی میں ایک اور حدیث ہے کہ ایک جنگ میں مسلمانوں نے دشمنوں کے بچوں تک کو قتل کردیا جب نبی کریم ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا ما بال اقوام جاوزہم القتل الیوم حتیٰ قتل الذریۃ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ آج وہ حد سے گزر گئے اور بچوں تک کو قتل کر ڈالا ۔ ایک شخص نے عرض کیا کیا یہ مشرکین کے بچے نہ تھے ؟ فرمایا انما خیارم ابناء المشرکین تمہارے بہترین لوگ مشرکین ہی کی اولاد تو ہیں ۔ پھر فرمایا کل نسمۃ تولد علی الفطرۃ حتی یعرب عنہ لسانھا فا بواھا یھودانھا اور ینصرانھا ہر متنفس فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی زبان کھلنے پر آتی ہے تو ماں باپ سے یہودی یا نصرانی بنا لیتے ہیں ۔ ایک اور حدیث میں امام احمد (رح) نے عیاض بن حمار الجاشعی سے نقل کیا ہے کہ ایک روزنبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ کے دوران میں فرمایا : إِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِی أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِی فِی یَوْمِی ہَذَا کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِی حَلَالٌ وَإِنِّی خَلَقْتُ عِبَادِی حُنَفَاءَ کُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّیَاطِینُ فَأَضَلَّتْهُمْ عَنْ دِینِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَیْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ یُشْرِكُوا بِی مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ، میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا پھر شیاطین نے آکر انہیں ان کے دین سے گمراہ کیا اور جو کچھ میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا اسے حرام کیا اور انہیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی ۔ یعنی اللہ نے انسان کو اپنا بندہ بنایا ہے اور اپنی ہی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے یہ ساخت کس کے بدلے نہیں بدل سکتی ۔ نہ آدمی بندہ سے غیر بندہ بن سکتا ہے نہ کسی غیر خدا کو خدا بنا لینے سے وہ حقیقت میں اس کا خدا بن سکتا ہے ۔ انسان خواہ اپنے کتنے ہی معبود بنا بیٹھے لیکن یہ امر واقعہ اپنی جگہ اٹل ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے ۔ انسان اپنی حماقت اور جہالت کی بناء پر جس کو بھی چاہے خدا کی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے لے اور جسے بھی چاہے اپنی قسمت کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ بیٹھے مگر حقیقت نفس الامر یہی ہے کہ نہ الوہیت کی صفات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل ہیں نہ اس کے اختیارات اور نہ ہی کسی دوسرے کے پاس یہ طاقت ہے کہ انسان کی قسمت بنا سکے یا بگاڑ سکے اگر کوئی اس عہد کو بھولتا ہے تو یقیناً اس سے پوچھا جائے گا اور انجام کار وہ مجرم قرار پائے گا اور آگ کے سپرد کردیا جائے گا ۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا کہو اے اللہ ! شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم ان کی نسل میں بعد کو پیدا ہوئے پھر کیا تو ہمیں اس بات کے لیے ہلاک کرے گا جو جھوٹی راہ چلنے والوں نے کی تھی ؟

بنی آدم کو یہ عہد اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ وہ قیامت کو کوئی عذر نہ کرسکیں : 197: آیت 172 کے آخری ٹکڑے اور آیت 173 میں وہ غرض بیان فرما دی جس کے لئے وہ عہد فطری نسل آدم سے لیا گیا تھا اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے رب سے بغاوت اختیار کریں وہ اپنے اس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں انہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق امتوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گویا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس فطری عہد و میثاق کو اس بات پر دلیل قرار دیتا ہے کہ نوع انسانی میں سے ہر شخص انفرادی طور پر اللہ کے الہ واحد اور رب ہونے کی شہادت اپنے اندر دئیے ہوئے ہے اور اس بناء پر یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی شخص کامل بیخبر ی کے سبب سے یا ایک گمراہ ماحول میں پرورش پانے کے سبب سے اپنی گمراہی کی ذمہ داری سے بالکل بری ہو سکتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عہد فطری فی الواقع لیا گیا ہے تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور اور حافظہ میں محفوظ ہے ؟ کیا ہم سے کوئی شخص بھی یہ جانتا ہے کہ آغاز آفرنیش میں وہ اپنے خدا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس سے الست بربکم کا سوال ہوا تھا اور اس نے بلیٰ کہا تھا ؟ اگر نہیں تو پھر اس اقرار کو جس کی یاد ہمارے شعور و حافظہ سے محو ہوچکی ہے ہمارے خلاف حجت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس عہد فطری کا نقش انسان کے شعور اور حافظہ میں محفوظ رہنے دیا جاتا تو انسان کا دنیا کی موجودہ امتحان گاہ میں بھیجے جانا سرے سے فضول ہوجاتا کیونکہ اس کے بعد تو اس آزمائش و امتحان کے کوئی معنی ہی نہیں رہ جاتے ۔ بلا شبہ اس کا نقش شعور و حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا لیکن وہ تحت الشعور Conscious Mind Sub اور وجدان Intution میں یقیناً محفوظ ہے اور اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علم کا ہے ۔ تہذیب و تمدن اور اخلاقی معاملات کے تمام شعبوں میں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے وہ سب در حقیقت انسان کے اندر بالقوہ (Potentially) موجود تھا فرق یہ ہے قرآن کریم میں صرف اس بات کا ذکر کیا گیا جو رب کریم کے متعلق ہے کیونکہ یہ تعلق سارے انسانوں کا اپنے رب العزت سے ایک ہی طرح کا تھا ۔ مختصر یہ کہ انسان کے اندر اس بالقوہ وہ موجود ہونے والی شے کو خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کہا تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوہ تھا اسے بالفعل کردیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم ، کوئی تربیت ، کوئی ماحول تاثیر اور داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ ان چیزوں میں سے جو انسان کے اندر بالقوہ موجود ہیں کسی چیز کو قطعی محو کردیں ۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف (Pervert) کردیں لیکن وہ چیز تمام تحریفات و تمسیخات کے باوجود اندر ہی رہے گی ، ظہور میں آنے کے لئے زور لگاتی رہے گی اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لئے مستعد رہے گی ۔ یہ معاملہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہمارے تمام تحت الشعوری اور وجدانی علوم کے ساتھ عام ہے اور وہ سب ہمارے اندر بالقوہ موجود ہیں اور ان کے موجود ہونے کا یقینی ثبوت ان چیزوں سے ہمیں ملتا ہے جو بالفعل ہم سے ظاہر ہوتی ہیں ۔ مثلاََ چند مختلف پیشہ لوگوں کے پیشوں کو آپ جانتے ہیں لیکن آپ ان میں سے ایک پیشہ بھی نہیں جانتے تاہم سارے پیشہ وروں کے پیشے آپ میں بالقوہ موجود ہیں ۔ آپ ان میں سے جس کے لئے کوشش کریں گے وہ آپ کے تحت الشعور سے نکل کر شعور میں آئے گا اور آپ یقیناً اس کو کرنے لگیں گے گویا اب وہ آپ میں بالفعل موجود ہوگیا۔ معلوم ہوگیا کہ ان سب کے ظہور میں آنے کے لئے خارجی تذکیر یعنی یاد دہانی ، تعلیم ، تربیت اور تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے اور جو کچھ ہم سے ظاہر ہوتا ہے وہ گویا در حقیقت خارجی اپیل کا وہ جواب ہے جو ہمارے اندر کی بالقوہ موجودات کی طرف سے ملتا ہے ۔ ان سب کو اندر کی غلط خواہشات اور باہر کی غلط تاثیرات دبا کر پردہ ڈال کر منحرف اور مسخ کرکے کالعدم کرسکتی ہیں مگر بالکل معدوم نہیں کرسکتیں اور اس لئے اندرونی احساس اور بیرونی سعی دونوں سے اصلاح اور تبدیلی (Conversion) ممکن ہوتی ہے ۔ ٹھیک ٹھیک یہی کیفیت اس وجدانی علم کی بھی ہے جو ہمیں کائنات میں اپنی حقیقی حیثیت اور خالق کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں حاصل ہے ۔ اس کے موجود ہونے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ انسانی زندگی کے ہر دور میں زمین کے ہر خطہ میں ، ہر بستی میں ، ہر پشت اور ہر نسل میں ابھرتا رہا ہے اور کبھی دنیا کی کوئی طاقت اسے محو کردینے میں کامیاب نہیں ہوئی اور اس کے مطابق حقیقت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب کبھی وہ ابھر کر بالفعل ہماری زندگی میں کارفرما ہوا ہے اس نے صالح اور مفید نتائج ہی پیدا کئے ہیں ۔ اس کے ابھرنے اور ظہور میں آنے اور عملی صورت اختیار کرنے کیلئے ایک خارجی اپیل کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے ۔ چناچہ انبیاعلیہم السلام اور کتب آسمانی اور ان کی پیروی کرنے والے داعین حق سب کے سب یہی خدمت انجام دیتے رہے ہیں ۔ اس لئے ان کو قرآن کریم میں مذکر (یاد دلانے والا) ذکر (یاد) تذکرہ (یاداشت) اور ان کے کام کو تذکیر (یاد دہانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء اور کتابیں اور داعیان حق انسان کے اندر کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ اس چیز کو ابھارتے ہیں اور تازہ کرتے ہیں جو ان کے اندر پہلے سے موجود تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ نفس انسانی کی طرف سے ہر زمانہ میں اس تذکیر کا جواب بصورت لبیک ملنا اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ اندر فی الواقع کوئی علم چھپا ہوا تھا جو اپنے پکارنے والے کی آواز پہچان کر جواب دینے کے لئے ابھر آیا ۔ چونکہ اسے جہالت اور جاہلیت اور خواہشات نفس اور تعصبات اور شیاطین جن و انس کی گمراہ کن تعلیمات و ترغیبات نے ہمیشہ اسے دبانے اور چھپانے اور منحرف اور مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں شرک ، دہریت ، زندقہ اور اخلاقی و عملی فساد رونما ہوتا رہا ہے لیکن ضلالت کی ان ساری طاقتوں کے متحدہ عمل کے باوجود اس علم کا پیدائشی نقش انسان کی لوح دل پر کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے اور اس لئے تذکیر و تجوید کی کوششیں اسے ابھارنے میں کامیاب ہوتی رہی ہیں۔ ہاں ! دنیا کی موجودہ زندگی میں جو لوگ حق اور حقیقت کے انکار پر مصر ہیں وہ اپنی حجت بازیوں سے اس پیدائشی نقش کے وجود کا انکار کرسکتے ہیں یا کم از کم اسے مشتبہ ضرور کرسکتے ہیں لیکن جس وقت یوم الحساب برپا ہوگا اس روز ان کا خالق ان کے شعور و حافظہ میں اس فطری عہد کے اس اجتماع کی یقیناً یاد تازہ کردے گا جب کہ انہوں نے اس کو اپنا واحد معبود اور واحد رب تسلیم کیا تھا ۔ پھر وہ اس بات کا ثبوت بھی ان کے اپنے نفس ہی سے فراہم کر دے گا۔ اس لئے کہ اس فطری عہد کا نقش ان کے نفس میں برابر موجود رہا اور یہ بھی وہ ان کی اپنی زندگی ہی کے ریکارڈ سے علیٰ روس الاشہاد دکھا دے گا کہ انہوں نے کس کس طرح اس نقش کو دبایا ، کب کب اور کن کن مواقع پر ان کے قلب سے تصدیق کی آوازیں اٹھیں ، اپنی اور اپنے گردوپیش کی گمراہیوں پر ان کے وجدان نے کہاں کہاں اس کس کس وقت صدائے انکار بلند کی ۔ داعیان حق کی دعوت کا جواب دینے کے لئے ان کے اندر کا چھپا ہوا علم کتنی کتنی مرتبہ اور کس کس جگہ ابھرنے پر آمادہ ہوا اور پھر وہ اپنے تعصبات اور اپنی خواہشات نفس کی بناء پر کیسے کیسے حیلوں اور بہانوں سے اس کو فریب دیتے اور اس کو خاموش کردیتے رہے۔ وہ وقت جب کہ یہ سارے راز فاش ہوں گے حجت بازیوں کا نہ ہوگا بلکہ صاف صاف اقرار جرم کا ہوگا اس لئے قرآن کریم کہتا ہے کہ اس وقت مجرمین یہ نہیں کہیں گے کہ ہم جاہل تھے یا غافل تھے بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہم کافر تھے یعنی ہم نے جان بوجھ کر حق کا انکار کیا جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 130 میں ارشاد فرمایا کہ و شھدوا علیٰ انفسھم کافرین۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور دیکھو اس طرح ہم سچائی کی نشانیاں الگ الگ کر کے واضح کردیتے ہیں تاکہ لوگ لوٹ آئیں

لوگوں کی تفہیم کے لئے ہم سچائی کی نشانیاں الگ الگ کر کے بیان کر رہے ہیں : 198: پچھلی آیت میں مشرکوں کی تفہیم کے لئے بہت وضاحت سے بیان دیا تھا اب بتایا جا رہا ہے کہ ہم اس طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کج روی سے باز آجائیں مطلب یہ ہے کہ آیات الٰہی میں ذرا بھی غور کریں تو وہ اس فطری عہد کی طرف لوٹ آئیں جو سب انسانوں سے ایک ہی طرح لیا گیا ہے یعنی اللہ عزوجل کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں اس کی اطاعت کو لازم سمجھیں ۔ چونکہ انسان کے اندر حق اور باطل کی قوتیں موجود ہیں پھر جب حق دبانے کے لئے باطل کوشش کرتا ہے جو اس کا گویا فطری حق ہے تو اس کو خارج سے ایسی مدد مل جاتی ہے جو شیطانی طاقتیں اس کو بہم پہنچاتی ہیں تو وہ کامیاب ہو کر حق کی قوت کو اکثر دبائے رکھتی ہے وہ شیطانی طاقتیں کہاں ہیں اس کا جواب آنے والی آیت پیش کر رہی ہے ۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو اس آدمی کا حال پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں لیکن پھر اس نے وہ جامہ اتار دیا پس شیطان ان کے پیچھے لگا نتیجہ یہ نکلا کہ گمراہوں میں سے ہو گیا

اس آدمی کی مثال جس نے اس عہد فطرت کو جان بوجھ کر دبا دیا : 199: یہ شخص کون تھا جس کا ذکر اس آیت سے شروع کیا جا رہا ہے بعض کا خیال ہے کہ عرب جاہلیت کا ایک حکیم شاعر امیہ بن عبداللہ بن الصلت ثقفی تھا ۔ یہ غیر معمولی ذکاوت و استعداد کا آدمی تھا اور اہل کتاب کی صحبت میں رہ کر وہ خدا پرستی اور دینداری کے خیالات سے آشنا ہوگیا تھا لیکن بعض نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا نام لیا جس کا نام بلعام بن باعور بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں اپنی نظیر دوسرے انسانوں میں نہیں رکھتا تھا ۔ ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اس کی علمی مجلسوں میں حاضر ہوتے تھے اور اس کے خطبات کو قلم بند کرتے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) سے حسد کرنے کے باعث اپنے علم و فضل کے باوجود راہ حق سے منحرف ہوگیا۔ لیکن سعید بن المسیب نے ابو عامر بن صفی کا نام لیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں زہد و ریاضت کی زندگی بسر کرتا تھا اور اون کے بنے ہوئے کپڑے پہنتا تھا اس کو خیال تھا کہ نبوت کے لئے مجھے انتخاب کیا جائے گا لیکن جب خلعت نبوت نبی اعظم و آخر ﷺ کو عطا کی گئی تو اس نے کفر اختیار کرلیا اور اس طرح سے بعض مفسرین نے کچھ اور لوگوں کے نام بھی لئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک بات کے پیچھے لگنا اور تحقیق کرکے یہ بتانا کہ وہ فلاں شخص ہی تھا کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی ۔ اس لئے کہ جس بات کو اللہ نے ظاہر نہیں کیا اور اللہ کے رسول نے نہیں بتایا اس کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت ضائع کرنا چہ معنی دارد ؟ پھر اس کی ضرورت بھی نہیں کہ شخص کا نام ضرور معلوم کیا جائے۔ ہاں ! بعض لوگوں نے یہ بتایا کہ یہ کسی شخص واحد کا ذکر نہیں بلکہ یہ پوری قوم بنی اسرائیل کی داستان ہے جو ایک شخص کی صورت میں عبرت حاصل کرنے کے تمثیلی رنگ میں بیان کی گئی ہے اس لئے کہ جو کچھ اس کی صفات میں بیان کیا گیا ہے وہ قوم بنی اسرائیل پر مجموعی طور پر فٹ ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی رائے میں وہ خود فرعون ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم عمر بادشاہ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اللہ کا پیغام سنایا تھا جیسا کہ تفسیر کبیر میں بیان کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ شخص خواہ کوئی تھا ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانیت کے بلند مرتبے پر ترقی عطا فرمائی تھی لیکن وہ دنیا کے فائدوں ، لذتوں اور آرائشوں کی طرف جھک پڑا۔ خواہشات نفس کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس نے ان کے آگے سپر ڈال دی اور ان تمام حدود کو وہ توڑ گیا جن کی نگہداشت کا تقاضا خود اس کا علم کر رہا تھا پھر جب وہ محض اپنی اخلاقی کمزوری کی بناء پر جانتے بوجھتے حق سے منہ موڑ کر بھاگا تو شیطان جو قریب ہی انسان کی گھات میں بیٹھا ہوتا ہے اس کے پیچھے لگ گیا اور برابر اس کو ایک پستی سے دوسری پستی کی طرف لے جاتا رہا یہاں تک کہ وہ اس زمرے میں پہنچ گیا جو ہر لحاظ سے اپنی متاع عقل و ہوش گم کر بیٹھتا ہے ۔ اس کی حالت کو بیان کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ : فَانْسَلَخَ مِنْهَا ، سلخ سانپ کے کینچلی اتارنے کو کہتے ہیں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ : انسلخت الحیۃ من جلدھا ، مقصد اس سے یہ ہے کہ جس طرح سانپ اپنی پرانی اور پہلی کینچلی اتارتا ہے اسی طرح اس شخص نے آیات اور ہدایات کو اتار کر پھینک دیا اور اس کی جگہ گمراہی و ضلالت کا لباس اوڑھ لیا ۔ یعنی وہ ہدایت کی طرف سے نکل کر گمراہی کی طرف پھر گیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ : انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ (التوبہ 9 : 50) جب وہ گمراہی میں ڈوب گیا تو ۔ محاورہ ہے کہ مرے کو مارے شاہ مدار جب وہ خود لالچ میں پھنس گیا اور دنیا کی طرف جھک گیا تو اس کی ایسی حالت ہوگئی کہ گویا شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور اس سے اس کے دل میں وسوسہ اندازی شروع ہوگئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فی الواقع گمراہ ہوگیا اور اس ہدایت سے مکمل طور پر نکل گیا ۔ بنی اسرائیل جیسی قوم جس کا ہر کام الٹا تھا اس میں سے اگر یہ شخص چن لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ قوم کا ایک بد ترین انسان تھا لیکن قوم مسلم کے خصوصاََ اس ملک عزیز پاکستان کے جتنے مذہبی اور سیاسی لیڈر ہیں ان کی اکثریت کے اوصاف بالکل اس شخص سے میل کھاتے نظر آتے ہیں ۔ اس بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اس وقت سارے گمراہوں سے بڑھ کر گمراہ تھا تو آج ان سب کی حالت اس طرح ہو رہی ہے ۔ جب وہ قانون الٰہی کی زد میں آگیا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی : اخلد الی الارض وہ زمین کی طرف مائل ہوگیا ایسا کہ بس اس کا ہو کر رہ گیا ۔ دراصل یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں پسند کی ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اپنی آیات اور انعامات سے نوازتا ہی اگر وہ ان کی قدر کرتے ہیں تو وہ ان کے ذریعہ سے ان کو دین اور دنیا دونوں کی سرفرازی عطا فرماتا ہے اور اس سے ان کی عقل کو رفعت اور ان کی روح کو معراج حاصل ہوتی ہے لیکن جو لوگ ان آیات اور انعامات پانے کے بعد بھی اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور کتے کی طرح زمین سونگھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی خواہشوں ہی کے حوالے کردیتا ہے اس جگہ اس شخص کی حالت بھی اس کتے کی طرح بیان کی گئی جس نے آیات الٰہی پر غور نہ کیا کیونکہ کتے کی فطرت میں حرص و طمع کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جب دیکھو گلی سڑی چیزوں اور غلیظ ہڈیوں کی تلاش میں منہ لٹکائے کو چہ بکوچہ پھر رہا ہے اور اس طرح چلتے چلتے سونگھنا اور ٹانگ اٹھا کر موتنا اس کی عادت راسخ ہے اس شخص نے بھی دولت حصول کے لئے کتے کی طرح ہرچیز کو شروع کردیا اور جو شخص بھی ایسی حالت بنا لے یہ مثال اس پر صادق آتی ہے فرمایا کتا ایک ایسا جانور ہے جس پر بوجھ لادو یا نہ لادو اس کا ہانپنا بند نہیں ہوتا اور اس شخص کی حالت بھی ایسی ہوگئی کہ وہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں ایسا بےبس ہوگیا کہ اس نے آیات الٰہی اور انعامات الٰہی کی کوئی پرواہ نہ کی ۔ آج قوم مسلم کے ہر ایک آدمی کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور خصوصاََ ان لوگوں کو جو اللہ کے دین کے وارث قرار پا گئے ہیں اور وہ خود بھی اپنے آپ کو دین الٰہی کا وارث سمجھتے ہیں نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجودگی میں قوم یہود کے کسی ایک آدمی یا پوری قوم کی یہ حالت دراصل قریش کو سنائی گئی اور مقصود یہ تھا کہ قریش بھی اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کریں جو نعمت اللہ نے ان کو انعام کردی اور نعمت خود محمد رسول اللہ کی ذات اقدس ہے کہ آپ ﷺ آیات الٰہی کی تبلیغ و تلاوت تم پر کرتے ہیں جو سب سے بڑی نعمت خدا وندی ہے اور تم لوگ اس کی قدر کرو اور ان کی باتوں کو سنو ، ان پر ایمان لائو اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کرو اس آدمی کی مانند ہو جائو جس کا قصہ یہاں بیان کیا گیا ۔ تم اس قصہ کو سن کر عبرت حاصل کرو اور اس قصہ میں غور و فکر کرتے رہو۔ ان دو آیات میں بیان کئے گئے قصہ میں اہل فکر کے لئے بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ۔ ان میں سے چند ایک کو یہاں بیان کیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ 1 ۔ کسی شخص کو اپنے علم و فضل اور زہد و عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ حالات بگڑتے اور بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی جیسے اس شخص کا حال ہوا اس سے عبرت حاصل کرنا عقل مندی کی نشانی ہے ۔ 2 ۔ ایسے مواقع اور ان کے مقدمات سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا ضروری ہے جہاں اس کو اپنے دین کی خرابی کا اندیشہ ہو خصوصاََ مال اور اہل و عیال کی محبت میں اس انجام بد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ 3 ۔ مفسد اور گمراہ لوگوں کے ساتھ تعلق اور ان کا ہدیہ یا دعوت قبول کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ اس سے بھی خرابی کا اندیشہ ہے ۔ ہاں ! ان کو تبلیغ کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ 4 ۔ بےحیائی اور حرام کاری پوری قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہیں اس لئے ہر اس کام سے بچنا ضروری ہے جو بےحیائی کی طرف مائل کرے۔ 5 ۔ آیات الٰہی کی تضحیق نہ خود کرے اور نہ ہوتی دیکھ کر برداشت کرے بلکہ حتی المقدور اس خرابی کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کے ذریعے اس کا مرتبہ بلند کرتے (اور دلائل حق کا جو علم ہم نے اس کو دیا تھا وہ اس پر قائم رہتا) مگر وہ پستی کی طرف جھکا اور ہوائے نفس کی پیروی کی تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی ، مشقت میں ڈالو جب بھی ہانپے اور زبان لٹکائے ، چھوڑ دو جب بھی ایسا ہی کرے ، ایسی ہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں تو یہ حکایتیں لوگوں کو سناؤ تاکہ ان میں غور و فکر کریں

جب وہ قانون الٰہی کی زد میں آگیا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی : اخلد الی الارض وہ زمین کی طرف مائل ہوگیا ایسا کہ بس اس کا ہو کر رہ گیا ۔ دراصل یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں پسند کی ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اپنی آیات اور انعامات سے نوازتا ہی اگر وہ ان کی قدر کرتے ہیں تو وہ ان کے ذریعہ سے ان کو دین اور دنیا دونوں کی سرفرازی عطا فرماتا ہے اور اس سے ان کی عقل کو رفعت اور ان کی روح کو معراج حاصل ہوتی ہے لیکن جو لوگ ان آیات اور انعامات پانے کے بعد بھی اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور کتے کی طرح زمین سونگھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی خواہشوں ہی کے حوالے کردیتا ہے اس جگہ اس شخص کی حالت بھی اس کتے کی طرح بیان کی گئی جس نے آیات الٰہی پر غور نہ کیا کیونکہ کتے کی فطرت میں حرص و طمع کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جب دیکھو گلی سڑی چیزوں اور غلیظ ہڈیوں کی تلاش میں منہ لٹکائے کو چہ بکوچہ پھر رہا ہے اور اس طرح چلتے چلتے سونگھنا اور ٹانگ اٹھا کر موتنا اس کی عادت راسخ ہے اس شخص نے بھی دولت حصول کے لئے کتے کی طرح ہرچیز کو شروع کردیا اور جو شخص بھی ایسی حالت بنا لے یہ مثال اس پر صادق آتی ہے فرمایا کتا ایک ایسا جانور ہے جس پر بوجھ لادو یا نہ لادو اس کا ہانپنا بند نہیں ہوتا اور اس شخص کی حالت بھی ایسی ہوگئی کہ وہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں ایسا بےبس ہوگیا کہ اس نے آیات الٰہی اور انعامات الٰہی کی کوئی پرواہ نہ کی ۔ آج قوم مسلم کے ہر ایک آدمی کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور خصوصاََ ان لوگوں کو جو اللہ کے دین کے وارث قرار پا گئے ہیں اور وہ خود بھی اپنے آپ کو دین الٰہی کا وارث سمجھتے ہیں نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجودگی میں قوم یہود کے کسی ایک آدمی یا پوری قوم کی یہ حالت دراصل قریش کو سنائی گئی اور مقصود یہ تھا کہ قریش بھی اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کریں جو نعمت اللہ نے ان کو انعام کردی اور نعمت خود محمد رسول اللہ کی ذات اقدس ہے کہ آپ ﷺ آیات الٰہی کی تبلیغ و تلاوت تم پر کرتے ہیں جو سب سے بڑی نعمت خدا وندی ہے اور تم لوگ اس کی قدر کرو اور ان کی باتوں کو سنو ، ان پر ایمان لائو اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کرو اس آدمی کی مانند ہو جائو جس کا قصہ یہاں بیان کیا گیا ۔ تم اس قصہ کو سن کر عبرت حاصل کرو اور اس قصہ میں غور و فکر کرتے رہو۔ ان دو آیات میں بیان کئے گئے قصہ میں اہل فکر کے لئے بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ۔ ان میں سے چند ایک کو یہاں بیان کیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ 1 ۔ کسی شخص کو اپنے علم و فضل اور زہد و عبادت پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ حالات بگڑتے اور بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی جیسے اس شخص کا حال ہوا اس سے عبرت حاصل کرنا عقل مندی کی نشانی ہے ۔ 2 ۔ ایسے مواقع اور ان کے مقدمات سے بھی آدمی کو پرہیز کرنا ضروری ہے جہاں اس کو اپنے دین کی خرابی کا اندیشہ ہو خصوصاََ مال اور اہل و عیال کی محبت میں اس انجام بد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ 3 ۔ مفسد اور گمراہ لوگوں کے ساتھ تعلق اور ان کا ہدیہ یا دعوت قبول کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ اس سے بھی خرابی کا اندیشہ ہے ۔ ہاں ! ان کو تبلیغ کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ 4 ۔ بےحیائی اور حرام کاری پوری قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہیں اس لئے ہر اس کام سے بچنا ضروری ہے جو بےحیائی کی طرف مائل کرے۔ 5 ۔ آیات الٰہی کی تضحیق نہ خود کرے اور نہ ہوتی دیکھ کر برداشت کرے بلکہ حتی المقدور اس خرابی کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

کیا ہی بری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور اپنے ہاتھوں خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے

آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں : 201: آیات الٰہی کو جھٹلانے والوں کا ہمیشہ برا حال ہوا اور ہمیشہ برا حال ہوگا ان کے لئے نہ دنیا میں امن و آرام ہے اور نہ آنے والی زندگی میں ہوگا ۔ اس لئے اگر تم نے بھی یہ راہ اختیار کی تو تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو پچھلی قوموں کا ہوا۔ یاد رکھو کہ جو لوگ یہ راہ اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی آیات کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنا ہی بگاڑتے ہیں اور وہ ان آیات کی ناقدری کر کے خود اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتے ہیں ۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس پر اللہ راہ کھول دے وہی راہ پر ہے اور جس پر راہ گم کر دے تو ایسے ہی لوگ ہیں جو گھاٹے (ٹوٹے) میں پڑے

ہدایت وہی حاصل کرسکتا ہے جس کو اللہ ہدایت دے گمراہ خائب و خاسر ہوتے ہیں : 202: ہدایت کون پاتے ہیں ؟ ہدایت وہی پاتے ہیں جن کو اللہ ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور اللہ کی توفیق انہی کو حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کے طالب ہوں اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کریں جو لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے دل و دماغ پر خواہشات کی پٹی باندھ کر زندگی گزارتے ہیں اللہ انہیں گمراہی کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور حقیقت میں نامراد اور بد قسمت لوگ وہی ہیں۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور کتنے ہی جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے ، ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے ، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ، کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوب گئے ہیں

کون لوگ ہیں جو درزخ کا ایندھن بننے کے قابل ہیں ؟ 203: وہ کون لوگ ہیں جو ہدایت سے محروم رہتے ہیں اور انجام کار دوزخ کا ایندھن بن کر رہ جاتے ہیں ؟ فرمایا یہ لوگ وہ ہیں جن کو اللہ نے دل تو دئیے ہیں لیکن وہ ان سے سمجھنے کے کام نہیں لیتے۔ اللہ نے ان کو کان تو دئیے ہیں لیکن وہ ان سے سننے کا کام نہیں لیتے اس لئے اپنی کارستانیوں کے باعث وہ آخر کار جہنم کا ایندھن بن کر رہ جائیں گے۔ اس جگہ ان لوگوں کی سمجھ بوجھ ، بینائی اور سماعت سب چیزوں کی گویا نفی کی گئی ہے ۔ حالانکہ حقیقت جو دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ پاگل و دیوانے ہوتے ہیں کہ کچھ نہ سمجھیں اور نہ ہی نابینا ہوتے ہیں کہ کچھ نہ دیکھیں اور نہ بہرے ہوتے ہیں کہ کچھ نہ سنیں بلکہ مشاہدہ یہ ہے کہ دنیا کے کاموں میں یہ اکثر لوگوں سے زیادہ چالاک اور ہوشیار نظر آتے ہیں دولت کی ریل پیل ان کے ہاں ہے ۔ بڑے بڑے کاروبار یہ لوگ کر رہے ہیں اور قوم کے رہنما اور لیڈر بھی یہی لوگ ہیں۔ فرمایا یہ بات تمہاری تسلیم کہ وہ چالاک و ہوشیار نظر آتے ہیں اور یہ بات بھی درست کہ دولت کی ریل و پیل ان کے ہاں ہے پھر یہ بات بھی صحیح کہ قوم کے رہنما اور لیڈر بھی وہی لوگ ہیں لیکن ان میں سے کونسی بات ہے جس کا تعلق صرف اس دنیا سے نہیں جس میں وہ عارضی طور پر بھیجے گئے ہیں ۔ وہ لوگ جو عارضی اور بےثبات زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھ بیٹھے ہیں اور صرف اسی زندگی کے ہو کر رہ گئے ہیں اور آخرت کی زندگی سے بالکل غافل ہیں ان کی آنکھیں دیکھتی ہیں تو صرف اس ظاہر زندگی کے لئے ، ان کے کان سنتے ہیں تو صرف وہی باتیں جو اس زندگی کے متعلق ہوں ، ان کے دل سوچتے ہیں تو وہ صرف اس دنیاوی زندگی ہی کے متعلق سوچتے ہیں تو پھر ان میں اور دوسرے جانوروں میں آخر فرق کیا ہے ؟ اس زندگی کے متعلق کہ جس میں کھانا پینا اور نسل چھوڑنا ہے تو یہ کام تو اپنی اپنی جگہ دوسرے حیوانات بھی کر رہے ہیں کا و انسانوں کی آنکھیں انسانوں کے کان اور انسانوں کے دل بھی صرف اور صرف ان ہی ضرورتوں کے لئے تھے جن ضرورتوں کے لئے جانوروں اور عام بلوں اور کتوں کے ہیں ؟ یہی بات دوسری جگہ خود قرآن کریم نے اس طرح فرمائی کہ ـ جو لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں اور آخرت سے وہ غافل ہیں کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور نہیں کیا ؟ ( الروم 30: 7 , 8) مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے لئے آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد بکثرت موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی غفلت برت رہے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ گئے ہیں اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بیخبر ہیں ورنہ قانون الٰہی سے ان کو خبر دار کرنے میں تو کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے ۔ ان کی پیدائش کا اصل مقصد اللہ کی بندگی تھا ۔ انہوں نے اس کو بالکل بھلا دیا اور یہ غیر اللہ کے بندے ہو کر رہ گئے اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تو یہ کہ وہ خود اپنی ہی اغراض کے بندے بن گئے اور اس طرح انہوں نے زندگی کا اصل مقصد تو بالکل بھلا دیا کیونکہ زندگی تو وہی زندگی ہے جو آخرت کی زندگی ہے جس کے بعد موت کا کوئی تصور نہیں اور دنیا کی زندگی وہی زندگی ہے جس کے بعد موت لازم ہے اگر موت نہ رہے تو دنیا کی زندگی کا سارا لطف بیکار ہوجائے۔ اب آیت کے پہلے حصہ پر نظر دوڑائو ۔ ارشاد فرمایا : وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اور کتنے جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے تو یہ کلام بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح ارشاد فرمایا کہ : فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا 1ؕ ( القصص 28 : 8) فرعون کے گھر والوں نے اس کو موسیٰ (علیہ السلام) کو ( دریا سے ) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لئے سبب رنج بنے ۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کا مقصد نہیں تھا بلکہ ان کے فعل کا انجام تھا وہ اس بچے کو اٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں سے آخر کار انہیں تباہ ہونا تھا ۔ بالکل اسی طرح یہاں اس آیت میں بھی ان کا انجام بیان ہوا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے کے لئے پیدا ہوئے ہیں ۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے کہ ؎ وللموت تغذوالوالدات سخالھا ۔ کما لخراب الدھر تبنی المساکن حالانکہ وہ مائیں بچے اس لئے تو نہیں جنتیں کہ وہ لقمہ اجل بنیں اور محلات اور حویلیاں اس لئے تو تعمیر نہیں کی جاتیں کہ وہ ویران ہوجائیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے ؟ ایسا ہی کہ جو پیدا ہوتا ہے اسے موت کا پیالہ پینا ہی پڑتا ہے اور جو عمارت کھڑی کی جاتی ہے وہ ایک نہ ایک دن پیوند خاک ہو کر رہتی ہے۔ اور بعد مین ان کے اس ہولناک انجام یعنی جہنم میں داخل ہونے کی وجہ بیان کی جارہی ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن کیون بنیں گے ؟ اس لئے کہ انہوں نے دعوت حق کو سمجھنے ، پیغام ہدایت کو سننے اور اس کے روشن شواہد کو دیکھنے کی جو صلاحیتیں انہیں عطا فرمائی گئیں تھیں انہوں نے انہیں بیکار بنا کر چھوڑ دیا اور بےعقل چوپایوں کی طرح ہو کر رہ گئے ۔ جس طرح ان ڈنگروں کی ساری قوتیں اور اعضاء کھانے پینے اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے لئے وقف ہیں ۔ اسی طرح ان انسان نما حیوانوں کا مقصد وصید یہی ہے کہ اچھا کھائیں اور دوسری لذتوں سے لطف اندوز ہوں۔ زندگی کا اصل مقصد پیش نظر نہیں اس لئے کہ زندگی تو دراصل وہی زندگی ہے جو آخرت کی ہے یہ لوگ تو اکثر حالات میں حیوانوں سے بھی بد تر ہیں کیونکہ وہ یعنی حیوان تو بےعقل و بےسمجھ ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے مالک کی خدمت گزاری سے منہ نہیں پھیرتے اور اس کے بلانے سے بھاگے چلے آتے ہیں مگر انہیں تو یاد تک بھی نہیں کہ ہمارا بھی کوئی خالق ومالک ہے اس لحاظ سے تو یہ حیوانوں سے بھی بدرجہا بد تر ہیں ۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ007 اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 008 (یونس 10 : 7 ۔ 8 ) حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ان کا آخر ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔ ان برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ کرتے رہے ۔ ـ غور و فکر کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا اس لئے کہ یہ حقیقت ہے اور ہزارہا سال کے انسانی رویے کا تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جو لوگ اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ذمہ دار اور جواب دہ نہیں سمجھتے جو اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے کہ انہیں آخر کار خدا کو اپنے پورے کارنامہ حیات کا حساب دینا ہے جو اس مفروضے پر کام کرتے ہیں کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے جن کے نزدیک کامیا بی و ناکامی کا معیار صرف یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی نے کس قدر خوشحالی ، آسائش ، شہرت اور طاقت حاصل کی اور جو اپنے انہی مادہ پرستانہ تخیلات کی بناء پر آیات الٰہی کو ناقابل توجہ سمجھتے ہیں ان کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جاتی ہے ۔ وہ دنیا میں شتر بےمہار ہو کر رہتے ہیں نہایت برے اخلاق و اوصاف کا اکتساب کرتے ہیں خدا کی زمین کو ظلم وعناد اور فسق و فجور سے بھر دیتے ہیں اور اس بنا پر جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں وہ کیوں پیدا ہوئے تھے ؟ ان کو پیدا کرنے والے رب کریم نے کیوں پیدا کیا تھا ؟ انہوں نے کیا کچھ کیا ؟ اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد دوسری جگہ واضح ہے جیسے سورة الذاریات کے حوالہ سے پیچھے درج ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تو ان کو پیدا کیا کہ وہ ہماری عبادت کریں مگر نتیجہ یہ رہا کہ وہ گویا جہنم ہی کے لئے پیدا ہوئے تھے کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے دل ، کان اور آنکھ سے وہ کام نہیں لیا جو لینا چاہیے تھا لہٰذا انہوں نے ایسے کام کیے جن کا نتیجہ جہنم ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ لوگ برے عمل اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نے انہیں پہلے سے ہی جہنم کے لئے پیدا کیا ہے یا وہ جہنم کے واسطے اس لئے پیدا ہوئے کہ وہ برے کام کرتے ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اس بات پر شاہد ہے کہ کوئی شخص اس لئے برے عمل نہیں کرتا کہ اللہ نے اس کو کوئی الگ قسم کے قوٰی سے پیدا کیا ہے ۔ یہاں بھی یہ بات فرمائی کہ ان کو بھی وہی دل دئیے ہیں جو دوسروں کو مگر دوسرے ان سے سمجھ کا کام لیتے ہیں وہ نہیں لیتے ۔ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ان کو دل دئیے مگر فقاہت سے خالی ، اگر ایسا ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا اس لئے فرمایا کہ دل بھی ان کے پاس ہیں اور فقاہت کی قوت بھی ان میں ہے مگر وہ خود اس قوت فقاہت سے کام نہیں لیتے ایسے ہی ان کو دوسروں کی آنکھیں اور کان دئیے مگر وہ خود ان سے دیکھنے اور سننے کا کام نہیں لیتے یعنی ہر سنی ان سنی اور دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں یہ نہیں کہ ان میں سننے اور دیکھنے کی طاقت و قوت نہیں ۔ شرف انسانیت کیا تھا ؟ یہی کہ انسان سن کر دیکھ کر سمجھ کر ان نتائج پر پہنچتا جن پر دوسرے حیوان نہیں پہنچ سکتے اس شرف کو انہوں نے خود ضائع کردیا اس لئے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے ۔ پھر انجام کار ان کو غافل فرمایا کیوں ؟ اس لئے کہ یہ قصور ان کا اپنا ہے کہ وہ اصل مقصد زندگی سے یا شرف انسانیت سے بیخبر ہیں حالانکہ وہ چاہتے تو خبر دار ہو سکتے ۔ یہ گویا پچھلی مثال کا تکملہ ہوگیا جس کی مثال کتے کے ساتھ دی گئی تھی اس کی مزید تشریح فرما دی اس مثال میں ایک شخص کو مخاطب کیا اور اس جگہ ایک قوم یا ایک گروہ کو مخاطب کردیا اور حقیقت دونوں میں ایک ہی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ اس جگہ یہ بات واضح فرما دی کہ معرفت حقیقت کی دو ہی راہیں ہیں فکر ونظر فکر یہ کہ اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام لیں اور اپنے اندر سوچیں نظر یہ کہ کارخانہ ہستی کے عجائب و حقائق کا مشاہدہ کریں اور اس سے بصیرت حاصل کریں جو شخص ان دونوں باتوں سے محروم ہے وہ اندھا بہرا ہے اور گمراہی سے لوٹنے والا نہیں اور انجام اس کا جہنم ہے ۔