7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

وُہ ان سے کنارہ کش ہوگیا اس نے کہا بھائیو ! میں نے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے تھے اور تمہاری بہتری چاہی تھی اب کفر کرنے والوں پر میں کیسے افسوس کروں ؟

عذاب کے آثار دیکھتے ہی شعیب (علیہ السلام) وہاں سے منہ پھیر کر نکل گئے : 104: یہ قوم سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا آخری خطاب ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انہوں نے عذاب آنے سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب قوم نے بستی سے نکل جانے یا نکال دئیے جانے کی دھمکی سنائی تھی۔ یہی وہ اللہ کا بندہ یعنی شعیب (علیہ السلام) ان کو آخری فقرہ کہہ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے ہجرت کر گیا۔ اس لئے کہ رسولوں کے متعلق سنت الٰہی یہی ہے کہ عذاب آنے سے پہلے اللہ کے حکم سے وہ علاقہ عذاب سے ہجرت کر جاتے ہیں اور قوم کو وقت متعین بتا کے جاتے ہیں کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آنے میں اتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔ شعیب (علیہ السلام) بھی یقیناً ہجرت کر گئے اگرچہ قرآن کریم نے اس مقام کا ذکر نہیں فرمایا تا ہم تاریخ کی شہادت موجود ہے کہ شعیب (علیہ السلام) ہجرت کر کے بیت اللہ یعنی مکہ مکرمہ چلے آئے اور وہاں سے نکلتے وقت بڑے افسوس بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا کہ بھائیو ! میں نے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دئیے تھے اور تمہاری بہتری چاہی تھی۔ “ لیکن تم نے ایک نہ مانی اور ” اب میں کفر کرنے والوں پر کیسے افسوس کروں ؟ “ اور اس وقت میرے افسوس کرنے کا آخر فائدہ ؟ اس لئے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو یقیناً ہوگیا۔ اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترتیب بیان میں اس بات کو عذاب کے ذکر کے بعد بلکہ نزول عذاب کے بعد کیوں کردیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ترتیب میں یہ تقدیم و تاخیر تقاضائے بلاغت سے ہوتی ہے۔ ارتکاب جرم اور اس کے نتیجہ کے فوری ظہور کو نمایاں کرنے کے لئے یہاں عذاب کے ساتھ ہی نتیجہ کو بیان کردیا جن اعمال کے نتیجہ میں ان کو یہ عذاب دیا گیا۔ یقینی طور پر ہونے والی چیز کو اس طرح بیان کردیا گویا جیسے وہ ہوگئی اور یہ اسلوب بیان قرآن کریم میں عام ہے اس طرح کا بیان قبل ازیں الاعراف کی آیت 79 میں گزر چکا ہے یہاں بھی ہے اور آئندہ سورة ہود میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت کے سلسلہ میں بھی آئے گا۔ ان سارے مقامات کو پیش نظر رکھنے سے آپ بھی یقیناً اس نتیجہ پر ہی پہنچیں گے جو ہم نے اس جگہ ذکر کردیا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مطلب آنے والی قوموں کو سبق سکھانا ہے تاکہ ان کی سمجھ میں اصل بات ذرا آسانی سے آجائے اور وہ اس سے سبق حاصل کرسکیں۔ بشرطیکہ کوئی سبق سیکھنے والا بھی ہو۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو ہمیشہ ایسا کیا کہ اس کے باشندوں کو سختیوں اور نقصانوں میں مبتلا کردیا تاکہ سرکشی سے باز آئیں اور عاجزی و نیازمندی کریں

عذاب نازل کرنے کے متعلق سنت اللہ کی مزید تشریح قرآن کریم کی زبان سے : 105: اب یہ سنت اللہ بیان کی جا رہی ہے جس سے ایک طرف تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کسی قوم پر جس میں اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے عذاب بھیجنے کے معاملے میں وہ کیا طریقہ اختیار فرماتا ہے اور دوسرے اس تاریخی حقیقت اور شہادت کو سامنے لانا ہے کہ جس قوم نے بھی ایمان لانے کی شرط نشانی عذاب کو ٹھہرایا اس کو ایمان کی سعادت حاصل نہیں ہوئی بلکہ بالاخر عذاب ہی کے ذریعہ سے اس کی جڑ کاٹ دی گئی فرمایا کہ تم سے پہلے اور یہ خطاب نبی اعظم آخر ﷺ سے ہے ہم نے بہت سی قوموں کے پاس اپنے رسول بھیجے تو ان کو مختلف قسم کے مالی و جسمانی مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور وہ سوچیں کہ اگر انہوں نے نبی کی بات نہ مانی تو بالاخر اللہ کی فیصلہ کن پکڑ آجائے گی اور وہ تباہ کر دئیے جائیں گے لیکن دیکھ لو تاریخ شاہد ہے کہ بجائے اس کے کہ ان الٰہی تنبیہات سے ان کے دل کچھ نرم پڑتے وہ اور سخت ہوگئے اور جن بد اعمالیوں میں وہ مبتلا تھے شیطان نے ان کو ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دیا کہ وہ ان سے باز آنے کی بجائے ان میں کچھ اور دلیر ہوگئے۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ ” باساء “ اور ” ضراء “ ایک دوسرے کے بالمقابل بیان کئے گئے ہیں۔ اس لئے پہلے سے مالی آفتیں مراد ہیں۔ مثلاً قحط ، گرانی اور کساد بازاری وغیرہ اور دوسرے سے جسمانی آفتیں مراد ہیں مثلاً بیماریاں اور وبائیں لیکن جب ” ضراء “ کا لفظ ” سراء “ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو یہ دونوں الفا ظ ہر قسم کی بد حالی اور خوش حالی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں۔ اس جگہ اس بیان کا مقصود یہ ہے کہ معلوم ہوجائے کہ ان تمام انبیاء کے زمانوں میں بھی یہ سنت اللہ ظاہر ہوئی جن کی سرگزشتیں اوپر بیان ہوئیں وہ سنت کیا ہے ؟ یہی کہ جب نبی توبہ و استغفار اور جزاء و سزاء کی منادی شروع کرتا تھا تو اس کی محرکات و مویدات اس کائنات میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے تھے۔ ایک طرف پیغمبر لوگوں کو غفلت و خدا فراموشی کے انجام فساد فی الارض کے نتائج اور دنیا اور آخر میں اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ لوگوں کو سیلاب ، قحط ، وبا اور طوفان کی آزمائشوں میں بھی مبتلا کردیتا تھا تاکہ لوگ آنکھوں سے بھی اگر ان کے پاس دیدہ بینا موجود ہو تو دیکھیں کہ اس طرح اللہ جب چاہتا تھا اور جہاں سے چاہتا تھا پکڑ لیتا تھا لیکن نبی (علیہ السلام) کی زبان سے وہ اس وقت کا اعلان کروا دیتا تھا اور اسی طرح کی گرفت اب بھی جب وہ چاہے آسکتی ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت ان کا حتمی وقت نہیں بتایا جاسکتا اور اس کے لئے جو اصول بنایا گیا اس کا اعلان اللہ نے سورة الم السجدہ میں بھی کردیا۔ فرمایا کہ ہم نبی آخر ﷺ کی امت کو چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کر کے دکھاتے رہتے ہیں کہ ان پر کوئی بڑا عذاب بھی بھیجا جاسکتا ہے لیکن یہ چھوٹے چھوٹے عذاب دے کر تم کو سمجھایا ہے کہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے کہ باز آجائو اور بد اعمالیاں چھوڑ دو ورنہ قیامت کے ایک بہت بڑے عذاب میں مبتلا کر کے رکھ دئیے جائو گے اور وہ وقت کسی کو بتایا نہیں گیا۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے مصیبت راحت سے بدل دی پھر جب وہ خوب بڑھ گئے اور کہنے لگے ہمارے بزرگوں پر سختی کے دن بھی گزرے ، راحت کے بھی ، تو اچانک ہمارے عذاب کی پکڑ میں آگئے اور وہ بالکل بیخبر تھے

ہم مصیبت کو راحت سے بدلتے ہیں اس لئے کہ ان کو دوبارہ مصیبت میں مبتلا کردیا جائے : 106: اس آیت میں یہ بات تفہیم کرائی گئی کہ بعض تکلیفیں انسان کو خواب غفلت سے چونکا دینے کے لئے پہلی قوموں پر آتی رہی ہیں لیکن اس طرح کا چونکا دینا دنیا میں بھی جب ان کے لئے موثر ثابت نہ ہوا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھول دئیے ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ خوب عیش کرلیں اور اپنی آخرت کو اپنے ہاتھوں اگر بنانا چاہتے ہیں تو بنائیں اور اگر برباد کرنا چاہتے ہیں تو برباد کرلیں۔ ان کو اولاد ، مال ، عزت ، وقار اور ہر قسم کی آسائشیں مہیا کردی جاتی تھیں تاکہ وہ اپنے محسن حقیقی کو پہچان کر اس کی نافرمانی سے باز آجائیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرلیں لیکن اگر وہ مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹنے کے بعد بھی بیدار نہ ہوں اور نعمت و احسان کی فراوانی کے باوجود بھی ان کے دلوں میں اپنے مہربان اور کریم و رحیم پروردگار کے لئے شکر گزاری کا جذبہ پیدا نہیں ہوا تو پھر ان کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور وہ جسم کے ایسے کرم خوردہ عضو کی طرح ہوجائیں جس کو کاٹ دینا باقی جسم کی عافیت کے لئے از بس ضروری ہے تو ان کو بالکل کاٹ دیا جاتا اور ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو آزمائش کے لئے میدان عمل میں لے آیا جاتا اس طرح کر کے سارے انبیاء کرام کی امتوں کا حال رہا جس کا ماحصل اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ : (1) اکثر و بیشتر نبی اس قوم میں پیدا ہوئے جس کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے یا کم از کم ایک مدت تک اس قوم میں رکھا گیا تاکہ قوم کے لوگ اس کے اخلاق و اعمال سے اچھی طرح واقف ہوجائیں اور قوم نبی (علیہ السلام) کی زبان کو اور نبی (علیہ السلام) قوم کی زبان کو اچھی طرح جانتا ہو۔ ایسا نہیں ہوا کہ باہر سے کوئی اجنبی لا کر کسی قوم کا نبی (علیہ السلام) بنا دیا گیا ہو جو لوگ اس کے اخلاق اعمال کو نہ جانتے ہوں اور نہ ہی اس کی زبان سمجھتے ہوں۔ (2) اکثر و بیشتر نبی (علیہ السلام) بادشاہ یا امیر نہ تھے اور نہ ہی کسی طرح کا دنیوی سامان رکھتے تھے اور جو بادشاہ اور امیر تھے انہوں نے بھی قوم پر اس طرح بادشاہی نہیں کی جس طرح دنیا کے دوسرے بادشاہ اور امیر کرتے تھے یا کرتے ہیں اور سب کو ظہور اس طرح ہوا کہ تن تنہا اعلان حق کے لئے کھڑے ہوگئے اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی معیت و نصرت پر اعتماد کیا۔ (3) سب کا پیغام ایک ہی تھا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کے سوا کسی دوسرے کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا مت سمجھو ، معبود حقیقی سب کا وہ ایک ہی ہے۔ (4) سب کے ساتھ قوموں نے ایک ہی سلوک کیا اور رئوسا قوم نے مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جو کچھ ساتھ دیا تو وہ بےنوائوں اور غریبوں اور محتاجوں ہی نے دیا۔ (5) مخالفت بھی سب کی ایک ہی طرح کی ہوئی کہ اعلان نبوت و رسالت کی ہنسی اڑائی گئی۔ ان کی باتوں کو حماقت سے تعبیر کیا گیا۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اذیت پہنچانے کے تمام وسائل کام میں لائے گئے اور ان کی دعوت کی اشاعت روکنے کے لئے اپنی ساری قوتیں خرچ کردی گئیں ۔ (6) ہر نبی (علیہ السلام) و رسول (علیہ السلام) نے یہ بات کہی کہ اگر میری دعوت تم قبول نہیں کرتے تو کم از کم میری موجودگی برداشت کرو اور مجھے وہ کام کرنے دو جس کی ذمہ داری اللہ نے مجھ پر ڈالی ہے اور فہصلا نتائج پر چھوڑ دو لیکن منکرین کبھی اس بات پر تیار نہ ہوئے۔ (7) ہمیشہ یہی ہوا کہ داعی حق اور ان کے ساتھی وعظ و نصیحت کے ذریعے اسی طرح تبلیغ کرتے جو دل و دماغ کو اپیل کرے لیکن منکرین جبرو تشدد سے ان کی راہ روکنی چاہتے۔ پیغمبروں (علیہ السلام) کی پکار یہ ہوتی کہ روشن دلیلوں پر غور کرو اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کئے کہ اولاد ، مال ، عزت و وقار اور ہر طرح کی خوشحالی اس نے تم کو دی لیکن منکرین کا جواب یہی رہا کہ ہم کو جو کچھ ملا اس میں ہماری کوشش صحیح کا ہاتھ ہے اور اس بات کی تصدیق ہے کہ راہ ہماری ہی درست ہے۔ ان لوگوں کو اپنی بستی اور سر زمین سے باہر نکال دینے کی کوشش کی۔ (8) جب بھی کسی قوم کے لوگوں کو مصائب و تکالیف میں مبتلا کیا گیا تو بجائے اس کے کہ وہ ان سے عبرت حاصل کرتے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے وہ یہ کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دیتے کہ یہ ژالہ باری جس نے ہماری فصلوں کو تباہ و برباد کیا ، یہ قحط جس نے زمین کی روئیدگی کی ساری قوت چھین لی ہے ، یہ زلزلہ جس کے ہوش ربا جھٹکوں نے ہماری بارونق اور آباد بستیوں کو زیر و زبر اور فلک بوس عمارتوں کو پیوند زمین کردیا ہے ، یہ جنگ جس کی ہلاکت خیزیوں نے قیامت برپا کردی ہے یہ ہماری کسی اخلاقی کمزوری یا کاروباری بد دیانتی اور غریبوں پر ظلم وتعدی کی سزا نہیں بلکہ ایسے ہی ہوتا آرہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ نبیوں (علیہ السلام) اور رسولوں (علیہ السلام) نے اپنی ” بیوقوفی “ سے ان کو ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے ہاں ! یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان کی نحوست کا اثر ہو کیونکہ ان ہی کی آمد سے ایسے حالات پیدا ہوئے۔ (9) پھر دیکھو ! ان تمام دعوتوں کا نتیجہ بھی صرف اور صرف ایک ہی رہا کہ وہ تمام جماعتیں جنہوں نے دعوت حق کا مقابلہ کیا تھا ہلاک و نابود ہوگئیں اور دنیا کی کوئی طاقت بھی انہیں قانون الٰہی کی پکڑ سے نہ بچا سکی اور ان کو اس طرح اچانک اچک لیا گیا جیسے چیل مرغی کے بچے کو ایک ہی جست میں اچک لے جاتی ہے اور اس کی چیخ و پکار کو کوئی نہیں سن پاتا اور پھر یہ سب کچھ سنت اللہ کے مطابق ہوتا آیا ہے ، ہو رہا ہے اور رہتی دنیا تک ہوتا رہے گا۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور برائیوں سے بچتے تو ہم آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے ضرور ان پر کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا پس اس کمائی کی وجہ سے جو انہوں نے حاصل کی تھی ہم نے انہیں پکڑ لیا

کاش کہ یہ لوگ ایمان لاتے اور انعامات الٰہی دنیا و آخر میں حاصل کرتے : 107: یہ گزشتہ قوموں پر اظہار افسوس ہو رہا ہے کہ کاش ! یہ لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کرتا کہ مہلت پر مہلت دینے کے بعد پھر ان کو عذاب کی نذر کردیتا۔ اگر وہ اچھے کام کرتے اور بروں سے باز آجاتے تو ان کے لئے آسمان و زمین دونوں طرف سے اپنی بےپایاں برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ اس سے دو حقیقتیں واضح ہوگئیں ایک یہ کہ کسی قوم کی ڈھیل کے طور پر اسباب و مال کی جو فراوانی حاصل ہوتی ہے وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت نہیں ہوتی بلکہ اس کی نوعیت مریض کے مرض الموت میں پہنچ کر مرض کے چھوڑ دینے کی سی ہوتی ہے کہ لوگ آرام محسوس کرتے ہیں لیکن مریض کے لئے ایک آخری ہچکی کی کسر باقی رہ جاتی ہے جو مریض کا خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے یا جس طرح شمع بجھنے سے پہلے ایک مرتبہ بھڑکتی ہے پھر بجھ جاتی ہے اسی طرح یہ قوم بھی آخری بار بھڑک کر بجھ جاتی ہے اور اس کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجاتی ہیں۔ اس جگہ قارئین ” عروہ “ ذرا رک جائیں اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر ذرا اپنا محاسبہ کریں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد کون سی ایسی مصیبت ہے جس سے ہم دوچار نہیں ہوئے۔ سیلابوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پاکستان کے زیادہ تر خشک رہنے والے دریا اپنی قہر آلود موجوں سے ہمارے ہزارہا گائوں کو بہا لے جاتے ہیں۔ سینکڑوں بڑے بڑے شہروں کی بنیادیں لرز اٹھتی ہیں اور جان و مال کے نقصانات کا اندازہ اربوں روپیہ سے زیاد ہوتا ہے۔ ایک عذاب الٰہی ہم پر ایسا ٹوٹا کہ ملک عزیز کے دو ٹکڑے ہوگئے اور آدھا ملک ہم ہاتھ سے دے کر ایسے خوش و خرم نظر آتے ہیں کہ گویا وہ ہمارے جسم کا حصہ ہی نہ تھا حالانکہ وہ ایک ایسا عذاب الٰہی تھا جس سے بڑا کوئی اور عذاب دنیوی لحاظ سے نہیں ہو سکتا۔ لیکن کیا ہم نے اس سے کچھ عبرت حاصل کی ؟ کسی اپنی اخلاقی کمزوری سے تائب ہوئے ؟ کسی قومی غداری سے دست کش ہوئے جن لوگوں کے ہاتھ میں اس ملک عزیز کی باگ ڈور ہے وہ جب چاہتے ہیں ایک عام استعمال کی چیز کو عنقا کر کردیتے ہیں اور اس طرح مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کی قی میں آسمان پر پہنچا دیتے ہیں اور چند ہی روز کے بعد اس چیز کو بازار میں لا کر بیسیوں گنا زائد منافع حاصل کرتے ہیں اور 4 روپے پر بکنے والی چیز کو یک دم 14 پر پہنچانے کے لئے 18 روپے تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر مزید چند روز کے بعد اس چیز کو 14 تک لا کر پورے ملک میں شور بربابپا کردیتے ہیں کہ فلاں چیز 4 روپے فی کلو سستی ہوگئی حالانکہ حقیقت میں وہ دس روپے فی کلو مہنگی ہوئی ہے اور برابر یہ صورت حال جاری رکھی گئی ہے۔ ان حالات کے باوجود ہمارے حکمران کیا کہتے ہیں ؟ کہ ملک میں ہم بڑی تیزی کے ساتھ خوشحالی لا رہے ہیں اور ہمارے ملک میں اب ہرچیز کی فراوانی ہے۔ ہاں ! اس سال چونکہ مون سون ہوائیں بڑے زور و شور سے اٹھیں اور پہاڑوں سے آکر ٹکرائیں اور متواتر کئی دنوں تک موسلا دھار بارشیں برستی رہیں جس کی وجہ سے یہ طغیانی آئی اور فلاں فلاں گائوں اور شہر غرق ہوگئے۔ پھر جب ان کی ہمدردی کا جوش اٹھتا ہے تو پھر ان سیلاب زدگان کی امداد کے لئے رقص و سرود کی محفلیں ترتیب دی جاتی ہیں جہاں ننگے ناچ اور فحش گانے ہوتے ہیں اور ان ذلیل حرکات سے جو رقم اکٹھی ہوتی ہے وہ بھی اکثر و بیشتر امدادی پروگرام کے منتظمین کی جیب سے یوں چمٹ کر رہ جاتی ہے کہ پھر کبھی باہر نکلنے کا نام نہیں لیتی۔ آج کی مادہ پرستانہ ذہنیت جس نگاہ سے ان حادثات کو دیکھتی ہے اور پھر اس کے لئے جو علاج تجویز کرتی ہے ان تباہ ہونے والی قوموں کا بھی یہی حال تھا اس کو قرآن کریم نے معجزانہ انداز میں بیان کیا ہے اور بیان مقصد یہ نہیں کہ ہم گزشتہ اقوام کی کج فہمیوں پر طنزیہ قہق ہے لگائیں یا باہمی طور پر اظہار افسوس کریں۔ بلکہ مقصد وحدے یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور ان مہلت کی گھڑیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اس دردناک انجام سے بچائیں جس سے سابقہ قوموں کو ان کی سر کشیوں کے باعث ہلاک کردیا گیا اور اگر یہی حالت رہی تو ہم بھی اس دنیا سے من حیث القوم نیست و نابودہو کر جائیں گے۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ۔
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا شہروں میں بسنے والوں کو اس بات سے امان مل گئی ہے کہ ہمارا عذاب راتوں رات نازل ہو اور وہ پڑے سوتے ہوں ؟

اس بستی والے اللہ کے عذا سے کیوں نڈر ہوگئے کیا ان پر عذاب نہیں آسکتا 108: والمراد بالقریٰ مکۃ وما حولھا (قرطبی) گزشتہ قوموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے قریش ، بتائو پہلے لوگ اللہ کے عذاب کے مقابلہ میں اپنے بچائو کے لئے کوئی بند باندھ سکے ؟ ان میں ایسے بھی تھے ہمارا عذاب ان پر رات کی تاریکیوں میں دبے پائوں آیا جب کہ وہ سو رہے تھے لیکن اس طرح نہیں کہ پہلے ان کو اس عذاب کی اطلاع نہ دی گئی۔ نہیں وقت کے نبی (علیہ السلام) ورسول (علیہ السلام) نے ان کو خوب اچھی طرح جھنجھوڑ کر کہا لیکن ان کے کان پر جوں بھی نہ رینگی اور وہ بےمستیوں کی حالت میں غفلت کی ایسی نیند سوئے کہ دوبارہ نہ اٹھ سکے۔ پھر تم اے اہل مکہ کیوں اس غفلت میں پڑے ہو اور نہیں سوچتے ہو کہ ہم نے اگر رسول عربی محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی تو ہمارا بھی بالکل وہی حال ہوگا جو پہلوں کا ہوچکا۔ تمہارا یہ حق نہیں تھا کہ تم اللہ کے عذاب سے پخنت اور بےخوف ہوتے کیونکہ اس سے پخنت اور بےخوف صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی شامت آئی ہوگی اور جو لوگ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہوں وہ بگوش ہوش بات کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

یا انہیں اس بات سے امان مل گئی ہے کہ دِن دہاڑے عذاب نازل ہوجائے اور وہ کھیل کود میں مصروف ہوں ؟

جس قوم کے لئے جو وقت مقرر ہوتا ہے وہ عذاب میں مبتلا ہوجاتی ہے خواہ دن ہو یا رات : 109: اور پھر یہی نہیں کہ سب پر عذاب رات ہی کے وقت آدھمکا نہیں ایسی قومیں تھیں جن پر دن دہاڑے ڈنکے کی چوٹ پر عذاب آیا جبکہ وہ اپنی دلچسپیوں اور سرگرمیوں میں مصروف تھے لیکن نہ رات والے اپنے آپ کو بچا سکے اور نہ دن والے ، اللہ کی تدبیر بےآمان ہے کس کی طاقت ہے کہ وہ اپنے کو یا کسی دوسرے کو اس سے بچا سکے۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا انہیں اللہ کی مخفی تدبیروں سے امان مل گئی ہے ؟ تو یاد رکھو اللہ کی مخفی تدبیروں سے بےخوف نہیں ہو سکتے مگر وہی جو تباہ ہونے والے ہیں

تدبیر الٰہی سے پخنت ہونے والوں کا انجام ہمیشہ برا رہا : 110: ” مکر “ عربی زبان میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اللہ کی خفیہ تدبیر یہ ہے کہ جو کسی کے لئے کنواں کھودے وہ اس کو یعنی کنواں کھودنے والے کو اس میں گرا دیتا ہے اور اس طرح گراتا ہے کہ اس کو پتہ نہیں چلتا کہ دھڑام کی آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر خفیہ تدبیر الٰہی کیا ہوئی ؟ یہ کہ وہ وہاں سے پکڑ لیتا ہے جہاں سے کسی کو پکڑے جانے کا سان گمان بھی نہیں ہوتا اوپر آیت 95 کے حاشیہ 106 میں تنبیہہ کے بعد ڈھیل کی جو سنت الٰہی بیان ہوئی وہ اس خفیہ تدبیر الٰہی کی ایک مثال ہے کہ جب کسی قوم نے راحت و آرام اور عیش و نشاط کی زندگی میں اللہ کو بھلا دیا تو ان لوگوں کو کسی عذاب کا جھنجھوڑا دیا تاکہ وہ سنبھل جائیں لیکن اگر وہ نہ سمجھ پائے تو پھر اللہ نے ان پر ان انعامات کی بارش کردی یہاں تک کہ وہ ایک طرح کے بدمست ہوگئے اور پھر ان کو ایسا پکرا کہ وہ عذاب الٰہی سے موت کے بعد بھی چھوٹ نہ پائے اور انہوں نے مرنے کے بعد بھی چین نہ پایا۔ خلاصہ اس کلام کا یہ ہوا کہ یہ لوگ جو دنیا کی عیش و راحت میں مست ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھتے ہیں ان کو اس بات سے بےفکر نہ ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر رات کے وقت یا دن کے وقت کسی بھی حالت میں آسکتا ہے جیسا کہ پچھلی قوموں کے واقعات عذاب کا ذکر پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔ عقلمند کا کام یہ ہے کہ وہ دوسروں کے حالات سے عبرت حاصل کرے اور جو کام دوسروں کے لئے ہلاکت و بربادی کا سبب بن چکے ہیں ان کے قریب جانے سے بچے اور کسی کو گرتے دیکھ کر خود گرنے سے بچ جائے۔ لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کوئی قوم اس طرح سبق سیکھ جائے اور عذاب الٰہی سے وہ بچ نکلے ورنہ اکثر تو یہی ہوا کہ ہر ایک گمراہ قوم نے دوسری قوم کو گمراہ سمجھا اور گمراہ کہا اور اپنی گمراہی نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنی گمراہی کو کسی نے تسلیم کیا۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

پھر جو لوگ ملک کے وارث ہوتے ہیں کیا وہ یہ بات نہیں پاتے کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی گناہوں کی وجہ سے مصیبتوں میں مبتلا کردیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کوئی بات سنیں ہی نہیں ؟

کسی کا سنی بات کو ان سنی کردینا قہر الٰہی کی مہر کی تمہید ہے : 111: مطلب یہ ہے کہ منکرین و مکذبین سابق کا انجام دیکھ کر بھی کیا یہ حقیقت ابھی کفار و معاصرین پر منکشف نہیں ہوئی ہے ؟ اللہ نے جس ترازو اور جس باٹ سے ان کو تولا اسی باٹ اور اسی ترازو سے آخر ان کو کیوں نہیں تو لے گا ؟ آخر وہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح ہم نے ان کو ان کے جرموں کی پاداش میں ہلاک کردیا اسی طرح جب چاہیں ان کو بھی ہلاک کردیں اور جس طرح ان کا جانشین ہم نے ان کو بنایا اب ان کا جانشین دوسروں کو بنا دیں تو پھر کیا یہ لوگ ہم کو اس سے باز رکھ لیں گے ؟ ” اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں “ یعنی جب یہ لوگ واقعات ماضیہ سے بھی کوئی عبرت اور ہدایت حاصل نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غضب الٰہی سے ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ کچھ نہیں سنتے۔ حدیث میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کوئی انسان پہلے پہل گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک نقطہ سیاہی کا لگ جاتا ہے ، دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا نطقہ اور تیسرا گناہ کرتا ہے تو تیسرا نقطہ لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اگر وہ برابر گناہوں میں بڑھتا ہی گیا اور توبہ نہ کی تو سیاہی کے نقطے اس کے سارے قلب کو گھیر لیتے ہیں اور انسان کے دل میں جو اللہ تعالیٰ نے فطری مادہ بھلے برے کی پہچان اور برائی سے بچنے کا رکھا ہے وہ فنا یا مغلوب ہوجاتا ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ اچھی چیز کو برا اور بری کو اچھا ، مفید کو مضر اور مضر کو مفید خیال کرنے لگتا ہے اس حالت کو قرآن کریم نے ” ران “ یعنی قلب کے زنگ سے تعبیر کیا ہے۔ اس جگہ ایک بات مزید قابل نظر ہے وہ یہ ہے کہ دل پر مہر لگ جانے کا نتیجہ تو عقل و فہم کا معدوم ہوجانا ہے ، کانوں کی سماعت پر تو اس کا کوئی اثر عادتاً نہیں ہوتا تو موقع اس بات کا تھا کہ اس جگہ ” وہ نہیں سمجھتے “ کہا جاتا مگر قرآن کریم میں اس جگہ ” نہیں سنتے “ ارشاد فرمایا گیا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ سننے سے مراد اس جگہ ماننا اور اطاعت کرنا ہے جو نتیجہ ہے سننے کا۔ مطلب یہ ہے کہ دلوں پر مہر لگ جانے کے سبب وہ کسی حق بات کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور یہ بھی کہ انسان کا قلب ہی اس کے تمام جوارح کا مرکز ہے جب قلب کے افعال میں خلل آتا ہے تو سارے اعضاء کے افعال مختل ہوجاتے ہیں جب دل میں کسی بات کی بھلائی یا برائی سما جاتی ہے تو پھر یہ چیز ہی نظر آتی ہے یعنی اس کی آنکھوں سے بھی وہی کچھ نظر آتا ہے اور کانوں سے بھی وہی سنائی دیتا ہے : چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش در نظر
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ ہیں آبادیاں جن کے حالات ہم تمہیں سناتے ہیں ان سب میں ان کے پیغمبر روشن دلیلوں کے ساتھ آئے مگر ان کے بسنے والے ایسے نہ تھے کہ جو بات پہلے جھٹلا چکے تھے اسے مان لیں سو دیکھو اس طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو انکار کرتے ہیں

کفار کے کمال قساوت قلب اور شدت عناد کا بیان : 112: ان بستیوں سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں۔ منکرو سرکش جماعتوں کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں وہ سب کے سب اس نوعیت کے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدرتی حوادث کا ظہور تھا مثلاً زلزلہ ، طوفان ، سیلاب اور آتش فشاں پھر انہیں مقرر عذاب کیوں کہا گیا ؟ اس لئے کہ گو ان کا ظہور قدرت کے عادی اور جاری صورتوں میں ہی ہوا تھا لیکن اس لئے ہوا تھا کہ انکار و سرکشی کے نتائج لوگوں کے سامنے آجائیں اور پیغمبروں نے ان کے ظہور کی پہلے سے خبر دے دی تھی۔ ضروری نہیں کہ ہر زلزلہ کسی گروہ کے لئے عذاب ہو لنکا ہر وہ زلزلہ عذاب تھا جس کی کسی پیغمبر نے اتمام حجت کے بعد خبر دی تھی اور جسے مشیت ایزدی نے اس معاملہ سے وابستہ کردیا تھا۔ اللہ نے فطرت کے تمام مظاہر کے لئے ایک خاص بھیس مقرر کردیا ہے۔ وہ جب کبھی آئے گا تو اسی بھیس میں آئے گا اس کا بھیس بدل نہیں سکتا۔ لیکن اس کے ظہور کے مقاصد ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے اور حقیقت حال انسانی علم کی دسترس سے باہر ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ اتنے ضدی اور ہٹ دھرم تھے کہ جب ایک مرتبہ ان کی زبانوں سے نکل گیا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر اس پر جم گئے ، کوئی وعظ ، کوئی نصیحت ، کوئی دلیل اور کوئی نشان قدرت ان کو قبول کرنے پر آمادہ نہ کرسکا اور یہ سنت اللہ ہے کہ جو قوم جان بوجھ کر کفرو شرک میں مبتلا رہنا چاہتی ہے اور حق کو حق سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرتی ہے تو اس کے غوروفکر کی توفیق بیکار کردی جاتی ہے اور اس اختیاری کفر کے بعد اس پر ہدایت الٰہی کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں کیونکہ کوئی چشم بینا رکھتے ہوئے اس کی روشنی سے کام نہ لے تو وہ اگر گڑھے میں گرتا ہے تو بصد شوق گرے اس کی منت و سماجت نہیں کی جائے گی کہ ازراہ نوازش ہمارے حال پر رحم فرماتے ہوئے گڑھے میں نہ گرئیے کیوں ؟ اس لئے کہ ضدی مزید ضد میں پکا ہوگا۔ لہٰذا یہ گرتا ہے اور گرنا ہی چاہتا ہے تو اس کو گرنے دو اور گر جانے کے بعد اس کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا جیسا کہ پہلوں کو نہیں دیا گیا اور پھر ایسے لوگوں کے بعد دوسروں کی باری آجائے گی۔ ان کی اسی ضد ان کے دلوں کی مہر سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ لفظ قرآن کریم میں عام ہے اور ہماری روز مرہ بول چال میں بھی اسی طرح مستعمل ہے۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثروں کو ہم نے ایسا پایا کہ اپنے عہد پر قائم نہ تھے اور اکثروں کو ایسا ہی پایا کہ یک قلم نافرمان ہو گئے

عہد شکنی ان کی فطرت ثانیہ ہے وعدہ کر کے توڑنا ان کا معمول ہے : 113: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کی اس حالت پر زیادہ غمگین نہ ہوں ان نافرمانوں کی سرشت اور ذہنیت ہمیشہ یہی رہی ہے سو آپ ﷺ ان پر زیادہ غم نہ کریں۔ رہی یہ بات کہ اس جگہ عہد سے کون سا عہد مراد ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد ” عہد الست “ ہے جو ازل میں تمام انسانوں سے لیا گیا جس کے جواب میں ان سب نے ” بلی “ کہا تھا لیکن دنیا میں آکر اکثر لوگ اس کو بھول گئے اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو چھوڑ کر مخلوق پرستی کی لعنت میں گرفتار ہوگئے اس لئے یہاں فرمایا گیا کہ ” ہم نے ان میں سے اکثروں کو ایسا پایا کہ وہ اپنے عہد پر قائم نہ تھے۔ “ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رجی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد ایمان ہے یعنی عہد ایمان اطاعت ہے اور اس طرح کی جتنی تعبیرات کی گئی ہیں سب صحیح اور درست ہیں کیونکہ جب کوئی شخص یا قوم ایک فطری چیز سے انکار کر دے تو اس فطرت کے عہد کی جس طرح تعبیر کی جائے گی درست اور صحیح ہی ہوگی۔ اللہ نے ایک چیز انسان کی فطرت میں ودیعت فرما دی اور پھر اس فطرت سے کام نہ لیتے ہوئے انسانیت کی بجائے حیوانیت کو اختیار کرے تو ظاہر ہے کہ اس نے اس انسانیت کے عہد سے انکار ہی کیا ہے اور روز مرہ زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کے اس عہد انسانیت کے منکر انکار ہی پر جان دیتے ہیں اور یہی کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل سورة الانعام کی آیت 109 ، 110 میں بیان کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ناانصافی کی تو دیکھو مفسدوں کا کیسا انجام ہوا ؟

بنی اسرائیل کے دینی و سیاسی عروج وزوال کی تاریخ کا حال : 114: اس سورة الاعراف میں جتنے قصے اور واقعات انبیاء کرام کے مذکور ہوئے ان میں یہ چھٹا قصہ ہے اور اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس لئے کہ اس آیت 103 سے آیت 171 تک برابر یہ قصہ بیان ہوتا چلا گیا ہے۔ تاریخی نقطہ نظر سے یہ ان سرگزشتوں کا تکملہ اور تتمہ ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ پہلی پانچ سر گزشتیں حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ختم ہوئی تھیں۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت شعیب (علیہ السلام) کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اور یہ معلوم ہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک طرف تو فرعون اور اس کی قوم پر اللہ کی حجت قائم ہوئی اور ان کی تکذیب کے نتیجے میں فرعون اور اس کی قوم کا وہی انجام ہوا جو قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم لوط (علیہ السلام) ، قوم ہود (علیہ السلام) ، قوم صالح (علیہ السلام) اور قوم شعیب (علیہ السلام) کا ہوچکا تھا۔ دوسری طرف بنی اسرائیل ایک قوم کی حیثیت سے نمایاں ہوئے اور پھر بتدریج اللہ تعالیٰ نے ان کو مذہبی پیشوائی کا منصب بھی بخشا اور سیاسی دبدبہ اور اقتدار بھی عطا فرمایا لیکن انہوں نے اس منصب اور اقتدار کی قدر نہیں کی بلکہ آہستہ آہستہ ان برائیوں سے بھی زیادہ سنگین برائیوں میں مبتلا ہوئے جن میں پچھلی قومیں مبتلا ہوئیں ان آیات میں اس سرگزشت کو شرو ع کیا جا رہا ہے فرمایا ” ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ ان نشانیوں سے کیا مراد ہے ؟ ان سے مراد توحید ، قیامت اور رسالت کے وہ فطری اور عقلی دلائل مراد ہیں جو قرآن کریم کے صفحات میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ معجزات بھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کی قوم کو دکھائے۔ حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت اصلاً عقل و فطرت کی بنیاد پر مبنی ہوتی تھی اور حسی معجزات نبوت کے لوازم میں سے نہیں ہیں البتہ اس کے عوارض میں سے ضرور ہیں اور ان کی نوعیت بیان تمثیلی ہوتی ہے جن میں بہت بڑا مضمون کم سے کم الفاظ میں بند کردیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح دریا کو زے میں بند ہونے سے ایک چیز کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ یہاں ان الفاظ کا استعمال کا کیا مطلب ہے۔ بہرحال ان الفاظ کا مطلب اتنا وسیع ہے کہ اس کو کھولنے لگیں تو کھلتا ہی چلا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں بنی اسرائیل کی پوری سرگزشت کا خلاصہ یہاں بیان فرما دیا اور آگے اس مضمون کی تشریح کی جائے گی۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا پورا واقعہ جو قرآن کریم میں بیان ہوا سورة البقرہ میں بیان کردیا ہے اور قرآن کریم کی ساری آیات کو اس جگہ جمع کردیا ہے اس جگہ ان آیات کے متعلق ہی کچھ بیان کیا جائے گا تفصیل کے لئے سورة البقرہ کی مذکورہ آیات کے حاشیوں کو دیکھ لیا جائے جو جلد اول میں مل جائیں گے۔ ” مِنْۢ بَعْدِهِمْ “ یعنی اوپر اقوام عرب کی جو سر گزشتیں بیان ہوئی ہیں اب ان کی تکمیل یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم فرعون اور بنی اسرائیل کی سرگزشت سے کی جا رہی ہے ” فَظَلَمُوْا بِهَا 1ۚ “ یعنی ان لوگوں نے ہماری آیات پر ظلم کیا اور آیات الٰہی پر ظلم کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے آیات الٰہی کی قدر نہ پہچانی اور شکر کی بجائے ناشکری اور قدر کی بجائے ناقدری کی اور اقرار کی بجائے انکار کیا اور ایمان کی بجائے کفر اختیار کیا کیونکہ ظلم کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کو اس کے محل اور موقع کے خلاف استعمال کرنا اور پھر فرمایا کہ ” دیکھو مفسدوں کا کیسا انجام ہوا ؟ “ مطلب یہ ہے کہ ان کے حالات اور انجام بد پر غور کرو اور عبرت حاصل کرو۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے فرعون ! میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں اپنی نبوت کا اعلان کردیا : 115: زیر نظر آیت میں صرف موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور دوسرے مقامات پر فرعون سے پہلی ملاقات کے وقت ہارون (علیہ السلام) کا بھی ساتھ ہونا بیان ہوا ہے۔ غرض دونوں بھائی اور اللہ کے سچے پیغمبر اور رسول فرعون کے دربان میں پہنچ گئے اور بغیر خوف وخطر اللہ کا پیغام اس طرح پہنچایا کہ گفتگو شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنے آنے کی وجہ بیان فرمائی کہ اے فرعون ! ہم دونوں کو اللہ نے اپنا رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے ہم تجھ سے دو اہم باتیں چاہتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ پر سچا یقین لا اور کسی کو اس کا ساجھی اور سہیم نہ بنا دوسرے یہ کہ ظلم سے باز آ اور بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے نجات دے ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کہہ رہے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ بات آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ بڑھ کر وہ کافر تعداد میں پھیل گئے تا ہم مقامی باشندے ان کو نظر غیر ہی سے دیکھتے رہے اور خصوصاً حکومت کے کاموں میں ان کی دسترس ان کو ایک آنکھ نہ بھائی اور کچھ ہی مدت کے بعد مصر کے مقامی باشندوں نے ان کو دبا لیا اور ایسا دبایا کہ ان کے سپرد رذیل و ذلیل کام لگا دئیے اور طرح طرح کی سکیمیں لڑا کر ان کمزوروں کو مزید کمزور کردیا اور ملک میں ایسے قانون رائج کئے جن کی وجہ سے وہ غریب سے غریب تر اور غریب ترین ہی ہوتے چلے گئے تا آنکہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلانے کے لئے چن لیا۔
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرا فرض منصبی ہے کہ اللہ کے نام سے کوئی بات نہ کہوں مگر یہ کہ سچ ہو ، میں تیرے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں لایا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ رخصت کر دے

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں یہ رب العالمین کا پیغام ہے : 116: موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ میرے حال اور منصب رسالت کا تقاضا یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات بجز سچ کے منسوب نہ کروں یعنی صرف وہی بات کہوں جو اللہ نے مجھ سے فرمائی کیونکہ انبیاء کرام کو جو پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے جاتے ہیں وہ ان کے پاس الٰہی امانت ہوتے ہیں ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا خبانت ہے اور کوئی نبی (علیہ السلام) خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا اور اسی طرح میں بھی اپنی طرف سے بات کہہ کر خیانت کا مرتکب نہیں ہوا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص خدا کا رسول اور سفیر ہو وہی سب سے زیادہ اہل اس بات کا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صحیح صحیح ترجمانی کرے کہ اس کا علم ظن و قیاس پر نہیں بلکہ براہ راست اللہ کی وحی اور خطاب پر مبنی ہوتا ہے اور وہ اپنے منصب کی ذمہ داری کے لحاظ سے اس بات کا نہایت حریص ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے کوئی کلمہ حق کے خلاف نہ نکلے اس لئے کہ جس پرسش کا خوف اسے ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو نہیں ہوتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ” میں تمہارے پاس روشن دلیلیں بھی لایا ہوں “ یعنی ایسے کھلے دلائل جو تمہاری سمجھ میں بھی آجائیں۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) دو اہم مطالبات لے کر فرعون کے پاس آئے تھے اور دونوں ہی کے لئے روشن دلائل بھی آپ کو دئیے گئے تھے جن میں سے ایک قسم کے دلائل کو ” عصا “ اور دوسری قسم کے دلائل کو ” ید بیضا “ کے ناموں سے موسوم کیا گیا اور یہی وہ دونوں قسم کے معجزات ہیں جو بطور دلیل موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام فرعونیوں کے سامنے پیش کئے اور ان سے فرمایا کہ ” بنی اسرائیل کو میرے ساتھ رخصت کرو۔ “ اس جگہ دو سوال ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو کیوں لے جانا چاہتے تھے ؟ اور دوسرا یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے ؟ ان دونوں سوالوں کا تعلق علم تاریخ سے ہے اس لئے قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں باہر سے آکر مصر میں آبا ہوئے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کے عزیز مصر ہوجانے سے گویا وہ حکمراں بن گئے تھے لیکن یوسف (علیہ السلام) کا دور گزر جانے کے بعد وہ رفتہ رفتہ اپنی شان و شوکت کو ضائع کر بیٹھے اور مصر کے اصل باشندوں نے ان کو ایسا دبایا کہ گویا وہ انسانوں کی فہرست ہی سے نکال دئیے گئے۔ ان کی تعداد کو کم کرنے کے لئے ان کے بچوں کو ملک کے قانون کے مطابق مروایا جاتا رہا اور ان کی بچیوں کو زندہ رکھ کر قانون کے مطابق باندیاں بنایا جانے لگا۔ اس لئے اس ملک کے اندر رہ کر قوم بنی اسرائیل کا پنپنا نہایت مشکل تھا اور اس ملک سے ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ بائبل کی کتاب خروج میں اس کی تفصیل آج بھی موجود ہے اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو یہاں سے ہجرت کا حکم دیں اور فرعون سے اس کی اجازت کی اس لئے ضرورت تھی کہ اگر حکومت وقت کی اجازت نہ ہوتی تو پوری قوم کا ہجرت کر جانا مشکل تھا کہ اس سے حکومت کے ساتھ تصادم کا خطرہ موجود تھا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہجرت کی اجازت طلب کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو کہاں لے جانا چاہتے تھے ؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ وہیں لے جانا چاہتے تھے جہاں ہجرت کے بعد انجام کار لے گئے یعنی سینا کے وسیع و عریض علاقہ میں تاکہ ملک مصر کے ظالمانہ ماحول سے الگ لے جا کر بنی اسرائیل کو منظم کریں اور اس مردہ قوم میں زندگی کی روح پھونکیں ” یدبیضا “ کی قوت سے اس مردہ قوم کو زندہ کردیں اور ” عصا “ کی طاقت سے اس قوم کا سارا ڈر اور خوف نکال دیں جو لوگوں کا انہوں نے اپنے دلوں میں جما لیا ہے ، صرف اور صرف ایک اللہ کا ڈر ان کے دلوں میں باقی رہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے بیسیوں سال لگائے اور بالآخر اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس مدت میں انہوں نے اپنے گوناں گوں دلائل و معجزات سے ایک طرف تو فرعون اور مصریوں پر اللہ کی حجت تمام کردی اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو آزمائش کی مختلف بھٹیوں سے گزار کر اس قابل کیا کہ وہ از سر نو شریعت الٰہی کی امانت کے حامل بن سکیں اس طرح رسولوں کی معروف سنت کے مطابق ان کے لئے وہ وقت آگیا کہ وہ یہاں سے ہجرت کر گئے اور اس ہجرت سے ان کے اور ان کے با ایمان ساتھیوں کے لئے نجات و فلاح کی راہ کھلی اور ان کے دشمن عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔
Ayah 7:106

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو واقعی کوئی نشانی لے کر آیا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو پیش کر

فرعون کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب : 117: فرعون نے جب یہ سنا تو کہنے لگا کہ موسیٰ ! آج تو پیغمبر بن کر میرے سامنے بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے وہ دن بھول گیا جب تو نے میرے ہی گھر یعنی بادشاہ وقت کے ہاں پرورش پائی اور بچپن کی زندگی گزاری اور کیا تو یہ بھول گیا کہ تو نے ایک مصری کو قتل کیا اور یہاں سے بھاگ گیا۔ اس کی تفصیل سورة شعراء میں کی گئی۔ فرعون کے لئے یہ بات نہایت عجیب تھی کہ ایک شخص وہ بھی بنی اسرائیل سے رسول ہو کر آئے اور اس شخص کے سامنے جو خود کو سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج کا اوتار اور لوگوں کا ” رب اعلیٰ “ بنائے بیٹھا تھا اس کے سامنے توحید الٰہی کا درس دے۔ اسی وجہ سے اس نے سنتے ہی کہا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے رسول ہو کر آئے ہو تو اپنے رسول ہونے کی کوئی نشانی پیش کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعوت کا اتنا فائدہ ہوا کہ فرعون نے بات سننا یا بات کرنا گوارا کرلیا اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو دعوت الٰہی کے مزید پیش کرنے کا موقع مل گیا۔
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو اچانک ایک نمایاں اژدھا ان کے سامنے تھا

موسیٰ (علیہ السلام) نے توحید الٰہی کا نشان یعنی ” عصا “ کا معجزہ دکھایا : 118: فرعون خود سورج دیوتا یعنی رع یا راع کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق بتاتا تھا اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتائوں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی اور ان سارے دیوتائوں اور دیویوں سے بڑا تو وہ خود تھا اور اس کی قوم بھی اس کو اسی منصب پر سمجھتی تھی اس لئے اس کو ” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ0024 “ کہ اے اہل مصر تمہارا رب اعلیٰ میں ہوں کا موقع ملا تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ” رب العالمین “ کے الفاظ سن کر پہلے تو تعجب کا اظہار کیا اور آخر کار ان کے رسول رب العالمین ہونے کی نشانی طلب کرلی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ” عصا “ کا نشان جو اللہ نے ان کو نبوت عطا کرتے وقت دے دیا تھا فرعون کو دکھایا اس لئے کہ مشرکوں کی سمجھ میں بجائے عقلی دلائل اور شہادت ضمیر و وجدان کے مادی معجزات ہی زیادہ آسانی سے آتے ہیں اور وہ فرمائشیں ہمیشہ مادی معجزہ ہی کی سب سے بڑھ کر کرتے آئے ہیں۔
Ayah 7:108

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک ایسے ہوا کہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکیلا تھا

قوم بنی اسرائیل پر ظلم و زیادتی کے دلائل ” ید بیضا “ کی صورت میں دکھائے : 119: ” اپنا ہاتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے باہر نکالا تو وہ اچانک دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکیلا تھا۔ “ اس سے یہ بات واضح فرما دی کہ ہاتھ میں جو چمک ظاہر ہوئی وہ محض فریب نظر کی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ غوروفکر سے دیکھنے والوں کو اس کی تابانی بالکل اصلی اور حقیقی معلوم ہوتی تھی اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ” نظر “ کا لفظ اصلاً عربی میں غورو فکر ہی سے دیکھنے کے لئے آتا ہے اور یہ کسی بیماری کے باعث بھی نہیں تھا کیونکہ ہاتھ کی اصل صورت اور ہیئت بالکل وہی تھی جو اصل ہاتھ کی ہوتی ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی اور یہی اس کا کمال ہے جس کے لئے ” یدبیضا “ کا لفظ استعمال ہوا اور تحریری دلائل کو ہاتھ ہی سے لکھا جاتا ہے اور ” بیاض “ کا لفظ تحریر پر بھی بولا جاتا ہے اور اس چیز پر بھی جس میں تحریر کیا گیا ہو۔
Ayah 7:109

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے سردار آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے بلاشبہ یہ بڑا ما ہر جادوگر ہے

فرعون کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا : 120: اصل مسئلہ جو زیر بحث تھا وہ کیا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر جو جورو ظلم روا رکھا گیا تھا اس کا جواز کیا ہے ؟ ملک کے قانون میں بنی اسرائیل اور پھر غیر بنی اسرائیل میں جو فرق رکھا گیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟ ایک ملک کے رہنے والوں کے لئے ایک ہی قانون کیوں نہیں بنایا گیا ؟ بادشاہ وقت نے وقتاً و فوقتاً بنی اسرائیل کے بچوں کو کیوں ذبح کرانے کا حکم نافذ کیا ہے ؟ جساہ کہ بائبل میں ہے کہ : ” تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا دیکھو ! اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہوگئے ہیں سو آئو ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں تاکہ جب وہ اور زیادہ ہوجائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ اس لئے انہوں نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کئے جو ان سے سخت کام لے لے کر ان کو ستائیں سو انہوں نے فرعون کے لئے ذخیرہ کے شہر ” پتوم “ اور ” عسیس “ بنائے پر انہوں نے جتنا ان کو ستایا وہ اتنا ہی زیادہ بڑھے اور پھیلتے گئے۔ اس لئے وہ لوگ بنی اسرائیل کی طرف سے فکر مند ہوگئے اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے ان سے کام کرایا اور انہوں نے ان سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا بنوا کر اور کھیت میں ہر قسم کی خدمت لے لے کر ان کی زندگی تلخ کی۔ ان کی سب خدمتیں جو وہ ان سے کرواتے تھے تشدد کی تھیں۔ تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائیوں سے جن میں سے ایک کا نام سفرہ اور دوسری کا فوعہ تھا باتیں کیں اور کہا کہ جب عبرانی عورتوں کے تم بچہ جنائو اور ان کو پتھر کی بیٹھکوں پر بیٹھی دیکھو تو اگر بیٹا ہو تو مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو جیتی رہے۔ “ (خروج باب اول : 8 تا 17) ایسے سوالوں کا جواب جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے اٹھائے کیا جواب ہو سکتا تھا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ باتیں فرعون کے لئے ایک تازیانہ سے کم حیثیت نہ رکھتی تھیں جس حکومت کے سامنے کوئی آدمی زبان کھولنے کے لئے تیار نہ تھا اس کے سامنے اتنی کھری باتیں کیا رنگ لاسکتی تھیں ؟ جب یہ ” عصا “ اور ” ید بیضا “ فرعون کے حواریوں اور سرداروں نے دیکھا تو انہوں نے فرعون سے ایک خصوصی میٹنگ کی اور اپنی طے شدہ بات فرعون کی خدمت میں اس طرح پیش کی کہ یہ شخص کچھ ایسا ویسا جادوگر نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور اس کے پیش نظر صرف وہی نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ بنی اسرائیل کو منظم کر کے یہ چاہتا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کر دے اور اس کے دلائل اتنے وزنی ہیں کہ ان کا نتیجہ اس طرح نکل سکتا ہے کیونکہ اس کے دلائل بہرحال اتنا وزن رکھتے ہیں کہ ایک سامع ان کو معقول بات سمجھ سکتا ہے۔
Ayah 7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں ملک سے نکال باہر کرے اب بتلاؤ تمہاری صلاح اس بارے میں کیا ہے

فرعون کے درباریوں نے اپنا مشورہ دینے کے بعد فرعون کی رائے معلوم کرنا چاہی : 121: فرعون کے درباریوں اور سرداروں نے اپنا انٹرویو جو موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں سے ان کو حاصل ہوا فرعون کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اس کی رائے بھی طلب کی کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ اگر اس سانپ کا سر فوراً نہ کچل دیا گیا تو یقیناً یہ تجھ کو بھی ڈسے گا اور تیری کابینہ کو بھی اور اس کے دور رس نتائج نکلیں گے اور اس طرح لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا فوری نوٹس لے اور اس کو قرار واقعی سزا دلوائے۔ ان لوگوں نے اپنی رائے ان الفاظ میں پیش کی اور مطالبہ کیا کہ بادشاہ وقت کا حکم اس کے متعلق کیا ہے۔
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے کہا موسیٰ اور اس کے بھائی کو ڈھیل دے کر روک لے اور نقیب روانہ کر دے

فرعون کے سرداروں نے اپنے مشورہ کو مزید بڑھایا اور فیصلہ کن بات بتا دی : 122: فرعون کے سرداروں نے فرعون سے جس سوال کا جواب چاہا تھا اس کا انتظار بھی مناسب نہ سمجھا اور مزید اپنا مشورہ عرض کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو فی الحال اس طرح چھوڑ دو اور بات کو مزید آگے نہ بڑھائو اور آپ کے قلمرو میں بڑے بڑے ماہر جادو گر اپنی بات کو بڑی وضاحت سے پیش کرنے والے موجود ہیں آپ اپنے خاص آدمی بھیج کر اپنی مملکت کے چند جادوگروں کو جمع کرلیں جو مجمع عام میں موسیٰ کو دندان شکن جواب دیں اور موسیٰ کا سارا کھیل دھرے کا دھرا رہ جائے اگر آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کا سر دلائل کے ساتھ نہ توڑا تو وہ ملک و ملت کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔ یہی ایک تدبیر ہے جس سے ہم اپنی حکومت اور اپنی قوم کی سروری کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ اس ملک پر اصل مصریوں کا زیادہ حق ہے عبرانی ایک مدت کے بعد آئے اور آگ کے بہانے گھر کے مالک بن کر بیٹھ گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پرستانہ انقلاب ہوا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کے لئے پوری کوشش کی تھی اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کیا جاتا اور انہیں ادنیٰ درجے کی خدمات کے لئے مخصوص کرلیا جاتا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ رفتہ رفتہ ان کی عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیں اور ان سے اسرائیل کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو جس شخصیت نے ان کی ان ساری مکاریوں کی نشاندہی کی اس کو وہ جادو گر نہ کہتے تو اور کیا کہتے ؟ مختصر یہ کہ فرعون نے اپنے درباریوں اور سرداروں کی بات کو تسلیم کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی باتوں کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دیا اور اپنے نقیب بھیج کر موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کی تیاریاں زور وشور سے شروع کردیں تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دندان شکن جواب دے کر اس کی تحریک کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام شہروں سے جادوگر اکٹھا کر کے تیرے حضور لے آئیں

ساحرین ملک و قوم کو پیغامات پہنچائے گئے تاکہ مقررہ دن پر جمع ہوجائیں : 123: سحر کیا ہے ؟ نرا دھوکا اور فریب ہے اور ایک وہمی چیز ہے تو پھر ساحر کیا ہوا ؟ دھوکا باز اور فریبی جو اپنی قوت وہمہ سے کام لے کر دوسروں کی قوت وہمہ کو متاثر کر دے اور ایک نہ ہونے والی چیز پر اس کے ہونے کا یقین دلا دے اس طرح کے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں جو اپنی دھوکا دہی سے دوسروں کو دھوکا و فریب میں مبتلا کردیتے ہیں ناقدروں اور ناشناسوں نے ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں پر ساحر ہونے کا شبہ کیا اور ان کو برملا ساحر کہا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں خصوصاً فرعونی آپ کو جادو گر ہی کے نام سے پکارا کرتے تھے اور اسی طرح کے سارے لوگوں کو جو دوسروں کی قوت وہمہ کو متاثر کر کے اپنے کرتب دکھایا کرتے تھے۔ ساحر ہی کہا تھا اس فن کے ماہروں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا تھا چناچہ وہ مقررہ وقت اور مقررہ تاریخ پر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اور اس طرح ان کی ایک خاصی تعداد بادشاہ وقت کے بلاوے پر اپنی اپنی خدمت پیش کرنے کے لئے شاہی مہمان خانہ میں جمع ہوگئی اور وہ یہ بات جانتے تھے کہ ان کو کیوں مدعو کیا گیا۔
Ayah 7:113

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ جادوگر فرعون کے حضور آئے ، انہوں نے کہا اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آئے تو ہمیں اس خدمت کے صلے میں انعام ملنا چاہیے

ساحروں نے بادشاہ کے حضور جمع ہو کر سب سے پہلے اپنے انعام کامیابی کی جستجو کی : 124: ساحروں کو معلوم تھا کہ ان کو کیوں طلب کیا گیا اور یہ کہ جس مقصد کے لئے طلب کیا گیا ہے وہ بہت بڑا اور اہم ہے۔ وہ فرعون کی بادشاہت کے متزلزل تخت کو سہارا دینے کے لئے بلائے گئے تھے اس لئے انہوں نے فرعون سے پہلے ہی منوا لینا چاہا کہ اگر انہوں نے موسیٰ کو شکست دے دی تو انہیں شاہانہ انعامات سے نوازا جائے گا۔ اس مطالبہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ انہیں اپنی کامیابی کا کامل یقین تھا تب ہی وہ انعامات کا وعدہ لے رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو قوم کے پھنے خاں ، علم تاریخ کے ماہر اور دوسروں کی قوت و ہمہ پر قابو پاجانے والے سمجھتے تھے۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ضرور ملے گا اور تم سب میرے مقربین کی صف میں داخل ہوجاؤ گے

فرعون نے ان کے ” دوپٹہ “ ہونے کا یقین ان کو دلوایا : 125: فرعون جو نبوت کی پہلی ہی عتاب آلود نگاہ سے لرزہ براندام تھا یہ تسلی آمیز الفاظ سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کہنے لگا کہ میں تمہارے سر کا دوپٹہ ہوں اس سے زیادہ اور آپ کو کیا چاہئے ؟ ظاہر ہے کہ جو بادشاہ سلامت کا مقرب ہو اس کے لئے اس سے زیادہ بڑا اعزاز وانعام اور کیا ہو سکتا ہے ؟ وزیر بلاشبہ وزیر ہوتا ہے لیکن اگر کوئی بادشاہ کا میرز ہوجائے تو کوئی وزارت اس سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ گویا فرعون نے اپنے مقرب بنا لینے کا وعدہ ان سے کیا تھا جو ان کے لئے انعامات کی مقدار مقرر کرنے سے ہزار بار بہتر تھا بشرطیکہ میدان کی جیت اس کے حصے میں آتی لیکن مشیت ایزدی نے اس کا ہارنا طے کردیا تھا۔ اس طرح فریقین مدت مقرر گزرنے کے بعد طے شدہ وقت کے مطابق میدان مناظرہ میں داخل ہوگئے اور مناظرہ کی ابتداء اس طرح ہوئی۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

(مقابلہ شروع ہوا تو فرعون کے جادوگروں نے) کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو تم پہلے پھینکو یا ہم ہی کو پھینکنا ہے

ساحروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ ہماری باری ہے یا آپ کی ؟ 126: ساحر چونکہ اس وقت تک اپنی ہی طرح ایک ماہر فن خیال کرتے تھے اس لئے وہ بولے کہ اے موسیٰ ! مقابلہ ہمارے تمہارے فن کا تو ہو ہی رہا ہے اب بتائو کہ اس مقابلہ کو شروع کون کرے گا ؟ پہلی اننگ کس کی ہوگی ؟ آپ کی یا ہماری ؟ غور کرو کہ ایک طرف ساحران مصر کا جم غفیر تھا جس کی پشت پناہی وقت کی ایک ظالم حکومت کر رہی تھی اور دوسری طرف موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) ایک مظلوم اور غلام قوم کے نمائندے تھے جن کے پاس ظاہری سازو سامان سے کوئی چیز نہ تھی لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑی دلیری سے ان کو جواب دیا خاموش منہ نہیں دیکھتے رہے۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی پھینکو ! پھر جب جادوگروں نے پھینکا تو ایسا کیا کہ لوگوں کی نگاہیں جادو سے مار دیں اور ان میں دہشت پھیلا دی اور بہت برا جادو بنا لائے

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اپنا کرتب دکھانے کا حکم دیا تو انہوں نے لوگوں کو دنگ کردیا : 127: موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اپنے دلائل پیش کرنے کا ارشاد فرمایا کہ تم اپنا جتنا زور دکھانا چاہتے ہو دکھا لو میں بعد میں اپنی صداقت کا معجزہ پیش کروں گا۔ آپ کی اس اجازت کا مقصد یہ تھا کہ برسر اقتدار گروہ کی ترجمانی جو سراسر باطل ہی باطل ہے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے تو اس پر بھر پور وار کر کے اس کی بےسروسامانی اور دلائل کے بودا پن کو عیاں کردیا جائے تاکہ اس کے بعد کسی کو شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور حق اپنی تمام تابانیوں کے ساتھ جلوہ نما ہوجائے۔ ساحر بلاشبہ اپنے فن کے ماہر تھے انہوں نے اپنے دلائل کو ایسا مدلل بنایا کہ لوگوں کی آنکھیں دیکھتی کی دیکھتی رہ گئیں اور وہ لوگوں کے خیال پر ایسا چھائے کہ وہ باطل کا باطل ہونا پہچان ہی نہ سکے لیکن کسی چیز کا خیال پر چھا جانا اس کے حق کی دلیل نہیں ہو سکتی بناوٹی پھول کتنا ہی خوبصورت دکھائی کیوں نہ دے اور آنکھیں دھوکا ہی کیوں نہ کھا جائیں لیکن اس سے وہ اصل پھول کب بن سکتا ہے ؟ وہ تو آنکھیں بند بھی ہو تو شامہ خود اس کا فیصلہ کر دے گی کہ یہ سراسر بناوٹی ہے۔ ذرا شامہ کے قریب کر کے تو دیکھو قرآن کریم کہتا ہے کہ اس سے لوگوں کے خایل پر انہوں نے ؟ ؟ ؟ تھوڑے سے وقت کے لئے مسحور کردیا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ انہوں نے بھی اپنی طرف سے اپنے فن کا پورا پورا مظاہرہ کیا تھا جو حق کو چھپانے والے اور حق پر باطل کا پردہ ڈال دینے والے کرتے آئے ہیں ، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اور شعبدہ بازی میں ظاہری آنکھیں ہر حال میں دھوکا کھا ہی جاتی ہیں اور جب تک بصارت کے ساتھ بصیرت کو نہ ملا یا جائے اس وقت تک بات ہرگز نہیں کھلتی۔