7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

ان لوگوں سے کہو اللہ کی زینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے برتنے کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی اچھی چیزیں کس نے حرام کی ہیں ؟ تم کہو وہ تو اس لیے ہیں کہ ایمان والوں کے کام آئیں ، دنیا کی زندگی میں بھی قیامت کے دن بھی خالص (ان کے لیے) اس طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں جو جاننے والے ہیں

اللہ کی نعمتوں پر پابندی اللہ ہی عائد کرسکتا ہے کسی دوسرے کو حق نہیں : 43: دنیا میں کتنے نن ، منک ، پروہت ، سادھو ، درویش اور ملنگ جنہوں نے رہبانیت اختیار کی ان سب کا رد کرتے ہوئے اس اصل عظیم کا اعلان فرمایا کہ دنیوی زندگی کی آرائشیں اور زینتیں خدا پرستی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کو عدل و اعتدال کے ساتھ کام میں لانا عین منشاء خداوندی ہے۔ چناچہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) کو جو تعلیم دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اپنی زیب وزینت سے آراستہ ہو کر اللہ کی عبادت کرو لیکن دنیا کے پیروان مذاہب کی عالمگیر گمراہی یہ رہی کہ وہ سمجھتے تھے کہ روحانی سعادت جبھی مل سکتی ہے کہ دنیا ترک کردی جائے اور خدا پرستی کا مقتضا یہ ہے کہ زینتوں اور آرائشوں سے کنارہ کش ہوجائیں۔ قرآن کریم کی ہدایت یہ ہے کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے تم سمجھتے ہو کہ زندگی کی زینتیں اس لئے ہیں کہ ترک کردی جائیں حالانکہ وہ اس لئے ہیں کہ کام میں لائی جاتیں۔ دنیا اور دنیا کی نعمتوں کو ٹھیک طور پر کام میں لانا مشیت الٰہی کو پورا کرنا ہے۔ اللہ نے زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے سب تمہارے ہی لئے ہے۔ کھائو ، پیو ، زینت و آرائش کی تمام نعمتیں کام میں لائو مگر حد سے نہ گذر جائو۔ دنیا نہیں دنیا کا بےاعتدالانہ استعمال روحانی سعادت کے خلاف سمجھتے تھے۔ انہیں قرآن کریم نے ” زِیْنَةَ اللّٰهِ “ یعنی اللہ کی زینتیں کہہ کر ذکر کیا ہے اس لئے یہ آیت قرآن کریم کا ایک انقلاب انگیز اعلان ہے جس نے انسانوں کی دینی ذہنیت کی بنیادیں الٹ دیں۔ وہ دنیا جو نجات وسعادت کی طلب میں دنیا ترک کر رہی تھی اب اس نجات وسعادت کو دنیا کی ترقی میں ڈھونڈنے اور تلاش کرنے لگی۔ اس جگہ ” زینت “ سے مقصود وہ ؟ ؟ ؟ آرائشیں اور لذتیں بشرطیکہ ان میں اعتدال بھی ہو کیونکہ ہر رحمت اعتدال سے تجاوز کر جائے تو زحمت بن جاتی ہے۔ ہاں ! دنیا کی زندگی میں ان کے حصول کا اصول عام ہے اور آخرت کی زندگی کے لئے ایمان شرط ہے لیکن یہ تفصیل انہی لوگوں کے لئے مفید ہے جو آیات الٰہی کا علم رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار کو رب العالمین یقین کرتے ہیں۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

ان لوگوں سے کہو میرے پروردگار نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے وہ تو یہ ہے کہ بےحیائی کی باتیں جو کھلے طور پر کی جائیں اور جو چھپا کر کی جائیں ، گناہ کی باتیں ، ناحق کی زیادتی ، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے نام سے ایسی بات کہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں

اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزیں درج ذیل ہیں جن کا اعلان پہلے بھی کیا جا چکا ہے : 44: اس آیت میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان کے ترک کرنے ہی سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ دوہری جہالت میں مبتلا ہیں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی عمدہ اور نفیس چیزوں کو اپنے اوپر بلا وجہ حرام کر کے ان نعمتوں سے محروم ہوگئے اور دوسری طرف جو چیزیں حقیقتاً حرام تھیں اور جن کے استعمال سے اللہ کا غضب اور آخرت کا عذاب پلے پڑنے والا ہے ان کا استعمال کر کے آخرت کا وبال خرید رہے ہیں اور اس طرح خسر الدنیا والاخرۃ کا مدار بن چکے ہیں۔ ان چیزوں میں سر فہرست ” فواحش “ ہیں وہ ظاہری ہوں یا باطنی اور ان کی تفصیل سورة الانعام کے حاشیہ 234 تا 239 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ” اثم “ کیا ہے ؟ اثم کی کتنی قسمیں ہیں ؟ اس کی تفصیل سورة النساء کی آیت 31 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور اسی طرح ” بغی “ کے معنی ہیں اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرنا خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے اور ظاہر ہے کہ دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنے کا کسی کو بھی حق نہیں پہنچتا۔ ” اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بھی حرام ہے “ جہاں تک اللہ کو ماننے کا تعلق ہے وہ تو عقل وفکر اور فطرت انسانی کا ایک بدیہی تقاضا ہے اور اس طرح کوئی مشرک بھی ایسا نہیں جو اللہ کو نہ مانتا ہو۔ رہی یہ بات کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے تو اس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے لیکن آج تک کسی مشرک قوم یا مشرک فرد نے وہ نہیں بتائی سوائے اس کے کہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس دلیل میں کتنا وزن ہے ؟ اور یہ بات ہر ذی عقل پر ظاہر ہے کہ خدا کی خدائی میں یوں ہی کسی کو جوڑ دینا سارے نظام عقل و فطرت اور پورے نظام عدل وقسط کو درہم برہم کردینا ہے اور اتنی بڑی بات بغیر اس کے مان لینے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ اللہ نے اس کو کوئی نقلی یا عقلی یا فطری دلیل اتاری ہو اور ظاہر ہے کہ ایسی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی۔ اور یہ بھی حرام ہے کہ ” اللہ کے نام سے ایسی بات کہی جائے جس کے لئے تمہارے پاس کوئی علم نہیں۔ “ یعنی اپنے جی سے جس کو چاہا حرام کہہ دیا اور جس کو چاہا حلال ٹھہرا دیا اس طرح اپنی خواہشوں کی پیروی میں نت نئی ایجادات کرنا اور من مانے طریقے پر شریعت بنانا اور پھر ان ساری چیزوں کو اللہ کے نام کی طرف منسوب کرنا کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ بدعات کے ایجاد کرنے والے کر رہے ہیں اور ان کو دین اسلام کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس طرح نبوت و رسالت کو ختم تسلیم کرنے کے باوجود مصنوعی نبوت کے کام کر کے دکھائے جا رہے ہیں جب کہ اس کا کوئی جواز اسلام میں موجود نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر کھلا افتراء اور بہتان ہے جس کا کسی عقل مند آدمی کو کوئی حق نہیں۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک ٹھہرایا ہوا وقت ہے جب کسی امت کا ٹھہرایا ہوا وقت آگیا تو پھر نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہو سکتی ہے نہ ایک گھڑی آگے

افراد کی طرح ہر قوم کے لئے بھی اجل مقرر ہے اگرچہ ان کے پیمانے الگ الگ ہیں : 45: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ افراد کی طرح جماعتوں کی موت وحیات کے لئے بھی مقررہ قوانین ہیں اور ان کے احکام اٹل ہیں جب ایک جماعت کا شر و فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے جو جماعتوں کی ہلاکت کے لئے ٹھہرا دی گئی ہے تو پھر ظہور نتائج میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی اور اس مقررہ مدت کے لئے ” اجل “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد اور اقوام کے معاملے میں اللہ نے ” اجل “ کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ افراد کے پیمانے تو سالوں ، مہینوں ، دنوں اور گھنٹوں منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں اور جب وہ پورے ہوجاتے ہیں تو فرد ختم ہوجاتا ہے لیکن قوموں اور امتوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ان کا حساب ان کے ایمانی واخلاقی زوال سے ہوتا ہے اور اخلاقی زوال فساد کی ایک خاص حد ہے جو کسی قوم کے پیمانہ کے بھر جانے کی نشانی ہے اور جس طرح افراد کی موت کا وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اسی طرح قوموں اور ملتوں کے فنا ہونے کے صحیح وقت کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے وہی جانتا ہے کہ کس قوم کا خاتمہ کس وقت ہے۔ البتہ آثار و نشانات سے اندازہ لگانا دوسری بات ہے اس لئے تقدیر امم کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ : آ میں تجھ کو بتائوں کہ تقدیر امم کیا ہے ۔ تیغ وسنان اوّل طائوس ورباب آخر
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! جب کبھی ایسا ہو کہ میرے پیغمبر تم ہی میں سے آئیں اور میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں تو جو کوئی برائیوں سے بچے گا اور اپنے آپ کو سنوار لے گا اس کے لیے کسی طرح کا اندشیہ نہ ہوگا نہ کسی طرح کی غم گینی

اولاد آدم سے اس وعدہ کا ذکر جس وعدہ کے مطابق انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری ہوا : 46: آدم اور اولاد آدم سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ ان کو شیطان اور اس کی ذریات کی فتنہ انگیزیوں سے بچانے کے لئے لیا تھا کہ اگر شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہنا ہے تو میرے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کرنا۔ آدم وابلیس کی جو سرگزشت اس سورت میں اوپر بیان ہوئی ہے اس پر غور کیجئے تو اس کے اندر اس انتظام کی عقلی و فطری ضرورت موجود ہے۔ اولاد آدم کو بتایا گیا ہے کہ تمہیں شیطان نے بالکل اپنے نرغے میں لے لیا ہے اس کے فتنوں سے امان کی شکل وہی ہے جو شروع میں بتا دی گئی تھی کہ جو رسولوں کی پیروی کریں گے وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہیں گے تو تم بھی اگر شیطان کے فتنوں سے امان چاہتے ہو تو اس رسول کی پیروی کرو جو خاتم المرسلین ہے اور تمہیں اللہ کی طرف آخری آیات سنانے کے لئے آیا کہ اس کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آئے گا جو اپنی نبوت کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ یہاں اس سے اشارہ روسائے عرب کی تنبیہہ اور مومنوں کی تذکیر ہے کہ انقلاب حال کا وقت آگیا ہے اور اب ضروری ہے کہ فیصلہ کن نتائج ظہور میں آئیں۔ وہ یہ کہ فلاح و کامیابی ان ہی لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو اپنے آپ کو سنوار لیں گے۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

لیکن جو لوگ میری آیتیں جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کریں گے تو وہ دوزخی ہوں گے ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے

سرکشوں کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کھڑا ہے : 47: فرمایا اولاد آدم کو ہدایت وحی کے وقتاً فوقتاً ظہور کی خبر دی گئی تھی۔ اس قانون کے مطابق اب نبی اعظم وآخر ﷺ کا ظہور ہوا ہے اور وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ آنے والے نتائج خود کردیں گے کیونکہ صورت حال نے دو فریق پیدا کر دئیے ہیں ایک داعی قرآن جو کہتا ہے میں اللہ کی طرف سے مامور ہوں ، دوسرا فریق منکروں کا ہے جو اسے جھٹلاتا ہے اور اس کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور تکبر کرتے ہوئے اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور ہمارا اعلان واضح ہے کہ جو منہ موڑیں گے اور ہدایت الٰہی قبول کرنے کی بجائے شیطانی راہ اختیار کریں گے وہ دوزخ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ اگر انہوں نے یہی انداز اختیار رکھا تو آخر وہ کون ہے جو ہم کو اپنے اختیار سے باز رکھنے والا ہو۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر بتلاؤ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو جھوٹ بولتے ہوئے اللہ پر بہتان لگائے اور اس سے بڑھ کر جو اللہ کی آیتیں جھٹلائے ؟ یہی لوگ ہیں کہ نوشتہ میں جو کچھ ان کے لیے ٹھہرا دیا گیا ، اس کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے لیکن بالآخر جب ہمارے فرستادہ پہنچیں گے کہ انہیں وفات دیں تو اس وقت وہ کہیں گے جن ہستیوں کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے اب وہ کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے وہ ہم سے کھوئی گئی ہیں اور اپنے اوپر خود گواہی دیں گے کہ وہ واقعی منکر تھے

ظالموں کی شناخت اور ان کا انجام جس کو وہ پہنچنے والے ہیں : 48: جو بات ظاہر اور سب کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو شخص بھی خدا پر بہتان باندھے اس سے بڑھ کر کوئی گنہگار نہیں اور جو سچے کو جھٹلائے اس کی بدبختی میں بھی کلام نہیں۔ اب نتائج فیصلہ کردیں گے کہ کون فریق مستحق عذاب ہے اور کون مستحق کامیابی وارجمندی۔ اس دنیا میں زندگی کے جو دن نوشتہ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں وہ تو بہرحال پورے کرنے ہیں وہ بھی یقیناً پورے کریں گے یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کو موت دیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے رہے ہو اب وہ کہاں ہیں ؟ اس سے زیادہ مشکل وقت کون سا ہوگا جہاں وہ تمہارے کام آئیں گے وقت ہے کہ ان کو بلا لو انجام کار وہ بول اٹھیں گے اور چیخیں مار مار کر کہیں گے کہ وہ ہم سے کھوئے گئے اور یہی ان کی تعبیر ہے اس طرح وہ اپنے اس اعتراف سے اپنے کفر کی شہادت خود اپنی زبان سے دے دیں گے اور کسی اور کی گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اس پر حکم الٰہی ہوگا انسانوں اور جنوں کی ان امتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں تم بھی آتش دوزخ میں داخل ہوجاؤ جب کبھی ایسا ہوگا کہ ایک امت دوزخ میں داخل ہو تو وہ اپنی طرح کی دوسری امت پر لعنت بھیجے گی پھر جب سب اکٹھی ہوجائیں گی تو پچھلی امت پہلی امت کی نسبت کہے گی اے ہمارے پروردگار ! یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تو انہیں آتش دوزخ کا دوگنا عذاب دیجیو ، اللہ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کے لیے دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں معلوم نہیں

اہل دوزخ کا آپس میں اینٹ کھڑکا جو اپنے وقت پر ہونے والا ہے : 49: اس آیت 38 سے اہل دوزخ کے حالات کا بیان شروع ہورہا ہے جس کا حال اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا اس کے بیان کردہ حالات پر ہمارا ایمان ہے اور اس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ جو کچھ کہا گیا وہ یقیناً حق ہے اور اپنے وقت پر سب کچھ اس طرح ہونا ہے جس طرح اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان فرمایا اور لسان نبوت نے جس طرح اس کی وضاحت فرمائی۔ اہل دوزخ کون ہوں گے ؟ وہی جو قانون الٰہی کے مطابق مجرم قرار پائیں گے۔ اس جگہ یہ بات ہم کو بتائی گئی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجرم قوموں کو حکم دیں گے کہ چلو دوزخ میں داخل ہو جائو۔ مجرمین کی حالت اس وقت ناگفتنی ہوگی دنیا میں تو ایک فاسق دوسرے فاسق کا سہارا بنا ہوا تھا اور وہ ایک دوسرے کو فاسق نہیں بلکہ پیرومرید ، آقا و غلام ، ووٹر اور لیڈر اور گرو وچیلا سمجھتے تھے اس لئے آپس میں اخلاص و محبت کے گہرے تعلقات قائم تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ دوستی کبھی ٹوٹنے والی نہیں لیکن جب جہنم کے لپکتے ہوئے شعلے اور دھکتے ہوئے انگارے نظر آئیں گے تو ساری دوستی کر کری ہوجائے گی۔ ایک دوسرے کی ہمدردی کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر برسنے لگیں گے ہر ایک اپنی ہلاکت اور گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا پیرو کار اپنے گمراہ پیشوائوں کو کہیں گے کہ تم پر اللہ کی مار ! تم نے اپنے ساتھ ہمارا بیڑا بھی غرق کردیا اور ان کے پیشوا کہیں گے کہ تم نے کیوں ہمارا اتباع کیا۔ کیا تم خود اندھے تھے ؟ غرض کہ مجرمین ایک دوسرے پر خوب الزام لگائیں گے ، خوب اینٹ کھڑکا ہوگا اور جوتیوں دال بٹے گی۔ ایک دو سرے کے لئے زیادہ عذاب اور دوگنا عذاب کی اپیلیں کریں گے اور ایک دوسرے کی مدد کی بجائے ایک دوسرے کے دشمن ہو کر رہ جائیں گے اور کمزور و طاقت کی تقسیم ختم ہوجائے گی۔ مقصود بیان یہاں تفہیم ہے تاکہ لوگ متنبہ ہوں اور باز آجائیں۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

(ان کی بات سن کر) پہلی امت پچھلی امت سے کہے گی دیکھو تمہیں (عذاب کی کمی میں) ہم پر کوئی بزرگی نہ ہوئی تم جیسی کچھ کمائی کرچکے ہو اس کے عذاب کا مزہ چکھ لو

ہر پہلی امت دوسری کو مطعون کرے گی لیکن اس طعنہ زنی کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا : 50: یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی جماعت کسی برائی میں مبتلا ہوتی ہے تو خود بھی گمراہ ہوتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی گمراہی کی مثال قائم کردیتی ہے۔ اسی لئے پچھلی امتیں اپنے سے پہلی امتوں پر لعنت بھیجیں گی کہ ان کی تقلید وپیروی میں ہم گمراہ ہوئیں اس لئے وہ پہلوں کو زیادہ عذاب کی متمنی ہوں گی حالانکہ اس طرح ہر پہلی جماعت دوسری کے لئے بری مثال قائم کرتی رہی اس لئے ان سب کو کہا جائے گا کہ تم سب کے لئے ہی دوگنا عذاب ہے اس لئے اس طعنہ زنی کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا کہ وہ جوتوں کے ساتھ پیاز بھی کھائیں گے۔ پیشوا اپنے پیروئوں کو کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے جرم کی نوعیت میں فرق نہیں کیونکہ اگر ہم تمہیں گمراہی کی طرف بلانے کے مجرم ہیں تو تم بھی اس کو قبول کرنے کے مجرم ہو تمہارے پاس بھی عقل تھی ، آسمانی کتاب تھی ، اس کو سمجھانے والے تھے ، حق کی طرف دعوت دینے والے تھے۔ انہیں چھوڑ کر جو تم ہمارے ساتھ ہو لئے اور سچی دعوت کو رد کر کے جھوٹی قبول کی ، راہ راست سے منہ موڑ کر غلط راستے پر تم چل نکلے تو کیا یہ تمہارا قصور نہیں تھا ؟ اس طرح کی طعنہ زنی نہ دنیا میں کسی کو کچھ فائدہ دیتی ہے اور نہ ہی آخرت میں کچھ فائدہ دے گی بلکہ طعنہ زنی ایک بےلذت بھیڑ ہے جو انسان بھڑتا رہتا ہے اور وہاں بھی بھڑا جائے گا۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی تو ان کے لیے آسمان کے دروازے کبھی کھلنے والے نہیں ، ان کا جنت میں داخل ہونا ایسا ہے جیسے سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزر جانا اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیتے ہیں

آیات الٰہی کے منکروں کے لئے آسمان کے دروازے کبھی کھلنے والے نہیں : 51: ” سماء جنت کے دروازے کھلنے والے نہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ ان کا خیر مقدم نہیں ہوگا بلکہ وہ نہایت ذلت وفضیحت کے ساتھ اپنا انجام بد دیکھنے کے لئے مجرموں اور بدمعاشوں کی طرح ہنکائے ہوئے لائے جائیں گے۔ اس لئے ان بدنصیبوں پر نہ آسمانی خیرات وبرکات کا نزول ہوگا اور نہ ان کے اعمال نیک بندوں کے اعمال کی طرح آسمان کی طرف اٹھائے جائیں گے اور جب یہ مریں گے اور فرشتے ان کی خبیث روحیں لے کر آسمان کی طرف جائیں گے تو رحمت و قبولیت کے دروازے ان کے لئے نہ کھولے جائیں گے اور ان کو واپس سجین کی پستیوں اور گہرائیوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور وہیں بند پڑے رہیں گے۔ جس طرح سوئی کے باریک سوراخ سے ایک اونٹ کا گزرنا محال ہے اسی طرح ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے۔ اس آیت سے آسمان کے دروازے اور سوئی کو اتنا بڑا کر کے اس کے ناکے سے اونٹ گزارنے کے ثبوت فراہم کرنا سراسر بےعقلی اور بیوقوفی ہے جو ذہنی عیاشی کرنے والے کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے اور اس طرح کے محاورات دوسری کتب آسمانی میں بھی پائے جاتے ہیں اور عام بول چال میں بھی۔ چناچہ انجیل میں ہے کہ : ” یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔ “ ( متی 19 : 23 ، 24)
Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے نیچے آگ کا بچھونا ہوگا اوپر آگ کی چادر ! ہم ظلم کرنے والوں کو ان کے ظلم کا ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا آگ ہی کا ہوگا : 52: آرام ان بدبختوں کے لئے کیسے ؟ ایک ناخن کی تکلیف انسان کو بےچین کر کے رکھ دیتی ہے اور یہ تو بےچینی میں ڈوبے پڑے ہوں گے جن کا اوڑھنا بچھونا ہی آگ کا ہوگا اور ان کے اندر باہر آگ کے بھانبڑ بھڑک رہے ہوں گے ان کو کسی پہلو بھی چین اور قرار نصیب نہیں ہوگا اور ان کے تکبر و غرور کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہوگی اور یہ بات ان کے لئے دکھ پر دکھ کا باعث ہوگی اور ظالموں کو اسی طرح کی جزا دی جاتی ہے۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کے کام بھی اچھے ہوئے اور ہم کسی جان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے تو بس ایسے ہی لوگ جنت والے ہیں ہمیشہ جنت میں رہنے والے

ایمان لانے والوں کے لئے ہمیشہ رہنے کی جنت تیار کی گئی ہے : 53: جب جہنم اور جہنم والوں کا ذکر کیا گیا تو اس کے مقابل جنت اور جنت والوں کا ذکر بھی ضروری تھا اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کا حال یہ ہے کہ وہ باغات میں ہر طرح سے خو ش وخرم ہوں گے اور ایک دوسرے سے راضی اور مطمئن سراپا شکرو سپاس ہوں گے حالانکہ دنیا میں بھی ان پر کوئی ایسا بوجھ نہیں رکھا گیا تھا جو ان کی برداشت سے زیادہ تھا بلکہ ہم تو کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ کبھی ڈالتے ہی نہیں بات صرف اتنی ہے کہ انہوں نے ہمارے احکام کے مطابق زندگی بسر کی اور ہمارے قانون کے مطابق وہ اس انعام کے مستحق قرار پائے اور جو وعدہ ہم نے ان سے کیا تھا وہ پورا کر دکھایا۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور دیکھو ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ کینہ و غبار تھا ہم نے نکال دیا ان کے تلے نہریں رواں ہیں انہوں نے کہا ساری ستائش اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی ، ہم کبھی اس کی راہ نہ پاتے اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرتا بلاشبہ ہمارے پروردگار کے پیغمبر سچائی کا پیغام لے کر آئے تھے اور دیکھو انہوں نے پکار سنی یہ ہے جنت جو تمہارے ورثہ میں آئی ، ان کاموں کی بدولت جو تم کرتے رہے ہو

ایمان والوں کے سینہ میں اگر کوئی ” ہیک “ ہوگی تو وہ ہم نکال دیں گے : 54: اہل ایمان جنت میں ایک دوسرے سے پرتپاک ملیں گے اور ایک دوسرے سے محبت ، پیار اور الفت کا اظہار کریں گے اور خوش آمدید کہیں گے۔ دنیا میں بعض غلط فہمیوں کے باعث بعض اوقات نیک اور پارسا لوگوں کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے متعلق کدورت وملال پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ ان کی یہ مخالفت اور باہمی رنجشیں نیک نیتی پر مبی ہوتی ہیں یا غلط فہمی پر اور اس طرح کی کمزوریاں خاصہ انسانیت ہیں جس طرح دنیا میں ان کا رہنا لازم ہے اس طرح آخرت میں ان کا نکل جانا ضروری ہے فرمایا اس طرح کی کوئی کدورت ان کے سینوں میں باقی نہیں رہنے دی جائے گی۔ قیامت کے روز جب انہیں جنت میں داخل ہونے کا اذن دیا جائے گا تو ان کے آئینہ قلب سے ان رنجشوں ، کدورتوں کا غبار بھی صاف کردیا جائے گا اور شیشے کی لکیریں ختم کر کے رکھ دی جائیں گی ان کے دلوں کو بیک وقت صاف کردیا جائے گا اور ذرا دھول اور میل بھی باقی نہیں رہے گی اور وہ دنیا کی اس طرح کی مخالفتوں کا کوئی اثر محسوس نہیں کریں گے وہ اس طرح شکر ادا کریں گے جیسے کوئی مسافر کسی طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد ادا کرتا ہے اور بار بار اپنی کامیابیوں اور درد بھری کہانیوں کو سنا کر خوش ہوتا ہے اس لئے کہ منزل مقصود پر بخیریت پہنچنے کی وجہ سے اس کو کوئی تکلیف یاد نہیں رہتی بلکہ سب تکلفیں کافور ہوجاتی ہیں اور اس طرح وہ اللہ کے فضل کے ترانے گاتا ہے کہ اس کے فضل و کرم ہی سے میں بچ بچا کر نکل آیا ورنہ بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے اور وہ انہی راستوں میں گم ہو کر رہ گئے۔ اس طرح وہ منزل مقصود پر پہنچ کر رب ذوالجلال والاکرام کی حمد وثنا بیان کریں گے اور اعتراف نعمت و احسان میں محو ہوجائیں گے اس وقت ان کو بارگاہ خداوندی سے آواز آئے گی کہ مبارک ہو ہم نے تمہارے نیک اعمال سے تم پر اپنا یہ احسان فرمایا ہے۔ بندے کی شان بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ جن انعامات اور احسانات سے اسے نوازا جائے اسے اپنے رب کا فضل و کرم یقین کرے اور رب کریم کی شان بندہ نوازی یہ ہے کہ اپنے بندوں کے اعمال جو سراپا نقص ہی نقص ہیں وہ اخلاص ونیاز کے کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں نہ فائز ہوں اللہ کی شان قدوسیت کے شایان شان نہیں ان کو وہ شرف قبول عطا فرما کر ان ابدی نعمتوں کا سبب بنا دے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے جو دو کرم کا کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کی طرف سے یہ اعلان کردیا گیا کہ ” یہ جنت ہے جس کے تم وارث بنا دئیے گئے ہو اس سبب سے کہ تم نیک عمل کماتے رہے۔ “ دوزخیوں کی نسبت فرمایا تھا کہ ان کی ہر جماعت دوسری جماعت پر لعنت بھیجے گی اور ہر امت کی آرزو ہوگی کہ دوسری کو زیادہ عذاب ملے اور یہ بیان عین ان کی فطرت کے مطابق ہے جو جہنمی معاشرہ کے باسیوں میں اس جگہ بھی نظر آرہا ہے کہ غریبوں کا خون چوسنے والوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ ہم کیا کر رہے ہیں بلکہ وہ نت نئی صورتیں سوچتے ہیں جن کے نتیجہ میں انسانیت دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا رہے اور کبھی ان سے باہر نہ نکل سکے لیکن اصحاب جنت کے دل نقض وعناد کی کدورتوں سے پاک ہوتے ہیں کیونکہ ایمان وعمل کی پاکیزگی کے ساتھ کینہ وعناد کی آلودگی جمع نہیں ہو سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصحاب دوزخ کے خصائل کا نمایاں وصف یہ ہے کہ راحت کی حالت میں ہوں یا عذاب میں ان کے دلوں میں بغض ونفرت کے سوا اور کوئی جذبہ جگہ نہیں پاتا برخلاف اس کے اصحاب جنت وہ ہیں جن کے دلوں سے کینہ و غبار یک قلم دور ہوجاتا ہے۔
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور جنت والوں نے دوزخیوں کو پکارا ہمارے پروردگار نے جو کچھ ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے اسے سچا پایا پھر کیا تم نے بھی وہ تمام باتیں ٹھیک پائیں جن کا تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھا ؟ دوزخی جواب میں بولے ہاں ! اس پر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو

اہل جنت اور اہل دوزخ کا معاملہ جس کی پہل اہل جنت کریں گے : 55: اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں اپنے اپنے مقام پر جب پہنچ جائیں گے تو اس بعد کے باوجود جو ان دونوں فریقوں میں ہوگا ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور ایک دوسرے سے گفتگو کرسکیں گے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے چناچہ قرآن کریم میں دو آدمیوں کا ایک دوسرے سے کھلی بات کرنے کا ذکر بھی موجود ہے۔ ارشاد ہے کہ : ” پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا کہ دنیا میں ایک میرا ہم نشین تھا جو مجھ سے کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟ کیا واقعی جب ہم مرچکے ہوں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا وسزا دی جائے گی ؟ اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں ؟ یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا اور اس سے خطاب کر کے کہے گا۔ خدا کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کردینے والا تھا اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟ موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی ؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ “ (الصفت 37 : 51 تا 59) زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے پروردگار نے جو کچھ ہم سے وعدہ کیا تھا ہم نے تو اس کو بالکل سچا پایا ہے کیا تم نے بھی وہ تمام باتیں ٹھیک پائیں جن کا تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھا ؟ دوزخی جواب دیں گے کہ ہاں ! اس پر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ “
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

ان پر جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے تھے اور چاہتے تھے ان کی راہ سیدھی نہ ہو (اس میں کجی ڈال دیں) اور آخرت کی زندگی سے بھی وہ منکر تھے

یہ ظالم کون ہوں گے ؟ وہی جو آخرت کی زندگی سے انکاری تھے : 56: وہ پکارنے والاکون ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان قوتوں ہی میں سے ایک قوت ہوگا جن کو ملائکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جن میں نافرمانی کا کوئی عنصر موجود نہیں اور جو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہ فوراً اس کو بجا لاتے ہیں اس کی منادی کیا ہوگی ؟ اس کی منادی یہ ہوگی کہ اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ان کا راستہ بھی سیدھا نہ رہے اور یہ کہ وہ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان کتنا فاصلہ ہوگا ؟ وہ ایک دوسرے کو کیسے دیکھ سکیں گے ؟ ایک دوسرے تک آواز کیسے پہنچے گی ؟ واسطہ سے یا بغیر کسی واسطہ کے ؟ یہ اور اس طرح کے سارے دوسرے سوال اس جگہ بیکار ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ سب باتیں اس عالم آخرت کے متعلق ہیں جو مشاہدہ میں آنے والا نہیں اور ان سب باتوں کا تعلق علم غیب سے ہے یعنی بغیر دیکھے اور بغیر سمجھے اس کو تیمے کرنا ہے اس دلیل کے ساتھ یہ نظام جو ہمارے مشاہدہ میں ہے اس کا چلانے والا جس ترتیب سے اس کو چلا رہا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ علاوہ ازیں کوئی نظام بنائے گا تو یقیناً اس کو بھی باقاعدہ اس کے اصولوں کے مطابق چلائے گا۔ ہم اس کا یہ نظام چلتا دیکھ کر اس پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارے لئے یہی یقین کافی ہے ہماری عقل اس بحث کی متحمل نہیں اور ہم ان ظالموں میں داخل ہونے کے لئے تیار نہیں جو آخرت کی زندگی کے منکر ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہم کو نہ مرنے کے لئے ایک بار زندہ ہونا ہے اور اس دنیا میں کئے گئے کاروبار کا جواب اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش کرنا ہے اس یقین کے ساتھ کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اپنے باغات آخرت میں اپنے خاص فضل و کرم سے اچھی جگہ عطا فرمائے گا۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دیکھو ان دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہے اور اعراف پر کچھ لوگ ہیں جو ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچان لیتے ہیں ، ان لوگوں نے جنت والوں کو پکارا تم پر سلامتی ہو وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اس کے آرزو مند ہیں

اعراف ایک جگہ کا نام ہے جہاں رزلٹ لیٹ ہونے والوں کو کچھ دیر کے لئے رکھا جائے گا : 57: ” وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ 1ۚ“ اور ان دونوں کے درمیان حجاب یعنی پردہ ہے۔ دوسری جگہ اس حجاب کو ” سور “ یعنی دیوار فرمایا گیا اور اس کی تفصیلی حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے اور جو ہمیں معلوم نہیں اس کو یقیناً معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اس زندگی میں ضرورت ہوتی تو کتاب اللہ نے اس کی وضاحت کردی ہوتی۔ فرمایا جنت دوزخ کے علاوہ ایک اور جگہ ہے جس کو اعراف کہا جاتا ہے وہاں یہ لوگ ہوں گے جن کا رزلٹ گویا لیٹ ہوچکا ہے وہ ابھی جنت یا دوزخ میں داخل نہیں ہوئے لیکن ان کی طلب جنت داخل ہونے کی ضرور ہے۔ ان کا رزلٹ کیوں لیٹ ہے ؟ اس کی حقیقت بھی اللہ ہی کو معلوم ہے۔ بلاشبہ مفسرین نے اس رزلٹ لیٹ ہونے کے متعلق بہت کچھ بیان کیا ہے لیکن ان ساری باتوں میں سے جس پر دل جمتا ہے وہ یہ کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی حسنات اور سیئات دونوں برابر ہوں گی اس لئے ان کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہوگا لکنق اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے اور اس کو معلوم کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں البتہ ” اعراف “ ” سور “ اور ” حجاب “ کے متعلق سورة الحدید میں انشاء اللہ العزیز کچھ بیان ہوگا۔ ان کے دونوں قسم کے اعمال برابر ہونے کا بیان روایات میں موجود ہے اگرچہ وہ روایات تفسیری ہیں۔ ” بیان کیا جاتا ہے کہ اعراف والوں کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی اس لئے جہنم سے تو نجات ہوگئی مگر جنت میں ابھی داخل نہیں ہوئے ان کو مقام اعراف پر روک لیا گیا یہاں تک کہ تمام اہل جنت اور اہل دوزخ کا حساب اور فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کا فیصلہ کیا جائے گا اور بالا خر ان کی مغفرت ہوجائے گی اور جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے “ (ابن جریر عن ابی حذیفہ ؓ ایک روایت میں اس طرح بیان کیا گیا کہ ” رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اہل عراف کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوگئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا۔ “ اس لئے ان کو اعراف میں ٹھہرایا گیا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں اس لئے کہ ان کے اعمال کے دونوں پلے برابر ہوگئے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں فرمایا کہ یہ اعراف والے ہر ایک کو اس کے چہرے سے پہچانتے ہوں گے اس لئے وہ سب سے پہلے اہل جنت کو خطاب کریں گے اور ان کو ” سلام علیکم “ یعنی السلام علیکم کہیں گے وہ ابھی جنت میں داخل تو نہیں ہوئے ہوں گے لیکن سلام دعا سے جنت میں داخل ہونے کی تمنا ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کی نگاہ دوزخیوں کی طرف پھری تو پکار اٹھے ، اے پروردگار ! ہمیں ظالم گروہ کے ساتھ شامل نہ کیجیو

ان کی نظر جب اہل دوزخ کی طرف پھرے گی تو وہ ان سے بات نہیں کریں گے : 58: جب اہل اعراف کی نظر اہل دوزخ پر پڑے گی اور ان کے عذاب ومصیبت کا مشاہدہ کریں گے تو اللہ سے پناہ مانگیں گے کہ اے اللہ ہمیں ان ظالموں کے ساتھ نہ کیجئے۔ پہلے انہوں نے جنت کی کامرانیوں کا مشاہدہ کیا تو مشاہدہ کرتے ہی ان سے ہم کلام ہوگئے اور سلام و دعا شروع کردی کیوں ؟ اس لئے کہ وہ کامیاب ہوگئے اور جب دنیا کی کامیابیاں حاصل کرنے والوں کو پوچھنے والے بہت ہوتے ہیں جن کی کامیابیاں بالکل عارضی ہوتی ہیں تو جو صحیح معنوں میں کامیاب ہوچکے ہیں ان سے ہم کلام ہونے اور علیک سلیک کرنے کو کس کا جی نہیں چاہے گا ؟ فطری چزعیں ہر جگہ ایک ہی جیسی ہوتی ہیں اس لئے جب ان کی نظر اہل جنت پر پڑی تو ان سے ہم کلام ہوئے اور ان کو خوش آمدید کہا لیکن جب ان کی نظریں اہل دوزخ کی طرف پھریں تو ان کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے فطری طور پر ان کو اپنا خیال آیا کیوں ؟ اس لئے کہ ابھی ان کا رزلٹ واضح نہیں ہوا اور خیال آتے ہی اللہ سے دعائیں مانگنے لگے کہ اللہ ! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ نہ کیجئو۔ فطری بات کا اندازہ اس سے لگا لو کہ ان ناکام ہونے والوں کو دیکھ کر ان کے ساتھ ہمدردی ان کو بھی نہیں آئی کہ ان بیچاروں کے ساتھ کیا ہوا کہ وہ دوزخ میں داخل کر دئیے گئے نہیں ہمدردی کی بجائے ان سے نفرت کرتے ہوئے ان کو ظالم کہہ کر پکارا کہ اے اللہ ! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ مت کیجئو۔ اگر ان کا نتیجہ نکل گیا تو پھر یہ کسی اور رنگ میں بولتے۔ ابھی ان کا ذکر بھی آئے گا جن کا رزلٹ نکل چکا اور وہ کامیاب قرار پا چکے تو بات مزید واضح ہوجائے گی۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اعراف والوں نے ان لوگوں کو پکارا جنہیں وہ ان کے قیافہ سے پہچان گئے تھے نہ تو تمہارے جتھے تمہارے کام آئے نہ تمہاری بڑائیاں (ہی تمہارے کام آئیں)

اصحاب الاعراف کا خطاب اہل دوزخ کے لیڈروں اور پیشوائوں سے : 59: اہل عراف کا یہ خطاب کن سے ہوگا ؟ ان کے الفاظ صاف صاف بتا رہے ہیں کہ وہ اہل دوزخ کے لیڈروں اور پیشوائوں سے مخاطب ہیں اس لئے کہ اپنی جمعیت پر ناز اور اپنے مال وجاہ پر غرہ انہی کو تھا اور یہ بھی کہ دوزخ میں یہ لوگ اپنی نمایاں شان سے ممتاز ہوں گے کیونکہ لیڈر لیڈر ہوتے ہیں خواہ وہاں ہوں یا یہاں یقیناً اہل اعراف پہچان جائیں گے اور جان پہچان اور شکل و صورت کی پہچان وہاں بھی اسی طرح ہوگی جیسا کہ یہاں پر ہے اور ایک دوسرے کو شناخت کرنا اس آیت سے واضح ہے وہ اہل دوزخ کو مخاطب ہو کر کیا کہیں گے ؟ فرمایا وہ کہیں گے کہ تمہاری لیڈر شپ اور تمہارا دبدبہ اس جگہ تو کچھ کام نہ آیا تمہارے جتھے ، تمہاری پارٹی ، تمہاری بزرگی اور بڑائی نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا اور یہی کچھ تم کو دنیا میں بھی کہا جاتا تھا کہ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی کام آئے گی۔ یہ دنیاوی سروسامان اور ہو ہوا تو اس روز کھوٹے سکوں سے بھی ناکارہ ثابت ہوگی اور اسی طرح یہ تمہارے سیاسی لیڈر اور مذہبی راہنما و پیشوا بھی تمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے لیکن اس وقت تو تم کو یقین نہ آتا تھا اب بتائو اب بھی یقین آیا ہے یا ابھی کوئی امید باقی ہے ؟
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت سے انہیں کچھ ملنے والا نہیں ؟ جنت میں داخل ہوجاؤ آج تمہارے لیے نہ تو کسی طرح کا اندیشہ ہے نہ کسی طرح کی غمگینی

کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں جن کے متعلق ناکام ہونے کی تم قسمیں کھاتے تھے : 60: یہی لوگ جو آج جنت میں عیش کر رہے ہیں اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو باوجود دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے مادی دولت و وجاہت سے دنیا میں تہی دست تھے اس لئے اہل کبر وضلال کی نظروں میں حقیر و ذلیل سمجھے جاتے تھے جیسے حضرات صحابہ ؓ میں بلال حبشی ؓ اور سلمان فارسی ؓ وغیرہما تھے۔ یہ بات کون کر رہا ہے اور کس سے کر رہا ہے ؟ یہ اہل اعراف کہہ رہے ہیں اہل دوزخ کو اور بات کر رہے ہیں اہل جنت کی کہ تم تو دنیا میں اہل ایمان کو ہر طرح سے حقیر و ذلیل سمجھتے تھے مگر یہاں تو دیکھو انہیں اس اعزاز واکرام کا مقام دیا گیا ہے اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جارہی ہے۔ اہل دوزخ کی شرمندگی اور شرمساری میں اضافہ کرنے کے لئے یہ بات ان سے کہیں گے کہ یہ غریب ومسکین کلمہ گو جن کو تم خاطر میں نہ لاتے تھے اور ازراہ نخوت کہا کرتے تھے کہ ان کو رحمت خداوندی سے کیا واسطہ اس کی رحمتیں ہمارے لئے ہی خاص ہیں آج ان کی طرف دیکھو اور بتائو کہ رحمتیں کس کے لئے خاص ہیں تمہارے لئے یا ان کے لئے ؟ اب گویا اس گفتگو سے اہل دوزخ بھی اہل جنت کو پہچان گئے اور اس طرح اہل اعراف نے ان دونوں کو آمنے سامنے کردیا۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخیوں نے جنت والوں کو پکارا تھوڑا سا پانی ہم پر بہا دو یا اس میں سے کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے ، جنت والوں نے جواب دیا اللہ نے یہ دونوں چیزیں منکروں پر روک دی ہیں

دوزخ والے اب جنت والوں سے مخاطب ہو کر کیا کہتے ہیں ؟ : 61: دوزخ والوں نے جب جنت والوں کو عیش و آرام میں دیکھ لیا تو ان کے سامنے دست سوال دراز کردیا اور سخت ضرورت کی چیز طلب کرلی ان کو کہنے لگے کہ اس پانی سے ہم پر بھی کچھ بہا دو یا اس میں سے کچھ دے دو تاکہ تلخی کام ودہن تو کچھ کم ہو تم کو یہ ٹھنڈا پانی جب اللہ نے دیا ہے تو اللہ کے دئیے ہوئے سے کچھ ہم کو بھی دے دو لیکن اہل جنت ان کو جواب دیں گے کہ یہ اللہ نے تم پر حرام کردیا ہے یعنی تم اس سے محروم کر دئیے گئے ہو اور ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز سے حتمی طور پر محروم کر دے تو نہ وہ چیز کسی طرح اس کو پہنچ سکتی ہے اور نہ ہی اس کو وہ کسی طرح پا سکتا ہے اور یہ بات اہل جنت کے جواب سے معلوم ہوتی ہے کہ انہیں سوال کے پورا کرنے میں تو کوئی عذر نہیں ہے ان کے پاس تو اس وقت ہر نعمت کی فراوانی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے اہل دوزخ کو محروم کردیا ہے تو وہ محروم ہی رہیں گے اور ان کی اس محرومی کو کوئی دوسرا اب دور نہیں کرسکتا۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا تھا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا جس طرح انہوں نے اس دن کا آنا بھلا دیا تھا آج وہ بھی بھلا دیئے جائیں گے نیز اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں سے جان بوجھ کر انکار کرتے تھے

دنیا کی زندگی پر ریجھ جانے والوں کو اس دن بھلا دیا جائے گا : 62: دنیا میں ان کو موقع دیا گیا تھا لیکن اس کو انہوں نے بھلا دیا اور اپنے دین کو دین نہیں بلکہ کھیل وتماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے انہیں ایسا دھوکے میں ڈالا کہ ان کو آخرت کبھی بھول کر بھی یاد نہ آئی۔ بھلا دینے کے یہاں کیا معنی ہیں ؟ امام رازی (رح) فرماتے ہیں ایک معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کو نجات نہیں دیں گے دوسرے یہ کہ ہم ان سے ایسا برتائو کریں گے جیسے ہم نے ان کو فراموش کردیا ہے۔ گویا انہوں نے ہمارے پیغام کو چھوڑا اور ہم نے ان کا دھیان چھوڑا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے جان بوجھ کر انکار کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اللہ نے ان پر دین کی حیثیت سے اتاریں ان کو انہوں نے ہنسی ومسخری میں اڑا دیا۔ دین کیوں آیا ؟ اس لئے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں صحیح نقطہ نظر متعین کرے تاکہ لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کی بجائے فلاح وسعادت کی راہ اختیار کریں لیکن جن لوگوں نے اس زندگی کو لہو ولعب سمجھ رکھا ہے وہ اپنی خواہشات کے پیچھے ایسے اندھے ہوجاتے ہیں کہ وہ خواہشات کے خلاف نہایت سنجیدہ حقیقت کو بھی مذاق تصور کرتے ہیں ” زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ “ یہ گویا ان کے لا ابالانہ طرز عمل کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ وہ کیوں زندگی کی نہایت سنجیدہ حقیقتوں سے اندھے بنے رہے فرمایا اس لئے کہ دنیا کہ زندگی نے ان کو دھوکے میں رکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ کھا رہے ہیں ، پی رہے ہیں ، عیش کر رہے ہیں ، دندنا رہے ہیں اور کوئی باز پرس ان سے نہیں ہو رہی اس سے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ بس دنیا ان کے لئے پیدا ہوئی ہے اور اس طرح وہ آخرت کی طرف سے ایسے غافل ہوئے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ رہی کہ ایک دن روز حساب آئے گا اور ہم اپنا حساب دینے کے لئے پیش ہوں گے اور یاد کرانے والوں کو انہوں نے دقیانوس اور بنیاد پرست قرار دے کر ان سے پیچھا چھڑا یا۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور دیکھو ہم نے تو ان لوگوں کے لیے ایک ایسی کتاب بھی نازل کردی جس میں علم کے ساتھ حق کی باتیں الگ الگ کر کے واضح کردی ہیں اور جو ایمان رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

ہم نے ان پر کتاب نازل کر کے حق کی تمام باتیں واضح کردی ہیں : 63: ” کتاب “ اس کتاب سے مراد قرآن کریم ہی ہے بجائے الکتب کے کتاب تنوین کے ساتھ لانا عظمت شان کے لئے ہے اور یہ کتاب بھی ایسی جس میں کسی خطاء وغلطی کا کوئی امکان نہیں اور جس کی حفاظت قیامت تک کے لئے کردی گئی ہے۔ اس کتاب نے جو اہل اعراف ، اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ پیش کیا ہے اس کا مقصد بھی قصہ گوئی اور دستان سرائی نہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ تم اس سے عبرت حاصل کرو اور وہ لغزشیں اور وہ قصور جن کی وجہ سے بڑے بڑے نامور لوگ آتش جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے ان سے اجتناب کرو تاکہ اس روز درد ناک انجام سے تمہیں دوچار نہ ہونا پڑے اور ان کی غلط کاریوں میں سے بڑی خطرناک غلط کاریاں یہ ہیں جن کا ذکر پچھلی آیت میں کیا گیا کہ احکام الٰہی کو لہو ولعب سمجھنا یعنی سنجیدگی سے ان کو قبول نہ کرنا بلکہ ان کا مذاق اور کھیل بنائے رکھنا جی چاہا تو مان لیا اور جی چاہا تو انکار کردیا۔ دنیا کی محبت میں ایسا غرق ہوجانا اور اس پر اتنا فریفتہ ہوجانا کہ حلال و حرام کی تمیز ہی نہ رہے اور روز قیامت کا انکار کرنا اور اس کو ایک افسانہ خیال کرنا جیسا کہ آج کل عوام و خواص سب سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کتاب جس میں یہ سارے احکامات و واقعات بیان کئے گئے ہیں ایک کامل علم ، پختہ ہدایت اور رحمت خداوندی ہے کن لوگوں کے لئے ؟ جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے احکام وہدایت کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ اس کا مطلب وقوع میں آجائے جس دن اس کا مطلب وقوع میں آئے گا اس دن وہ لوگ کہ اسے پہلے بھولے بیٹھے تھے بول اٹھیں گے بلاشبہ ہمارے پروردگار کے پیغمبر ہمارے پاس سچائی کا پیام لے کر آئے تھے ، کاش ! شفاعت کرنے والوں میں سے کوئی ہو جو آج ہماری شفاعت کرے یا کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا میں لوٹا دیئے جائیں اور جیسے کچھ کام کرتے رہے ہیں اس کے برخلاف کام انجام دیں ، بلاشبہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہی میں ڈالا اور دنیا میں جو کچھ افتراء بردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے کھوئی گئیں

یہ جس انتظار میں ہیں اس کا ہمیں علم ہے اور یقیناً یہ انتظار ان کے لئے مفید نہیں : 64: اب منکرین قرآن کی طرف سلسلہ بیان متوجہ ہوا ہے فرمایا آدم کی اولاد کو ہدایت وحی کے وقتاً فوقتاً ظہور کی جو خبر دی گئی تھی اس کے مطابق اس قرآن کریم کی ہدایت بھی نمودار ہوئی ہے اور اس نے علم وبصیرت کی راہ واضح کردی ہے پھر اگر منکرین سرکشی و فساد سے باز نہیں آتے تو انہیں کس بات کا انتظار ہے ؟ کیا اس بات کا کہ انکار و بد عملی کے جن نتائج کی خبر دی گئی ہے ان کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ؟ لیکن جس دن ان کا ظہور ہوگا اس دن اس کی مہلت ہی کب باقی رہے گی کہ کوئی ایمان لائے ؟ وہ تو اعمال انسانی کے آخری فیصلہ کا دن ہوگا۔ ان کا یہ انتظار لائق صد افسوس ہے کیونکہ اس دن تو دفتر عمل تہ کردیا جائے گا اور جواب دہی کے لئے انہیں عدالت خداوندی کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا۔ اس وقت اگر یہ لوگ ایمان کا اعلان کر بھی دیں گے تو بےسود ہوگا اس روز بصد حسرت وہزار ندامت کہیں گے کہ کاش ! آج ہمارا کوئی حمایت کرنے والا ہو یا ہمیں صرف ایک بار مہلت دی جائے کہ ہم دنیا میں لوٹ جائیں پھر ہم دکھا دیں گے کہ ہم کتنے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہیں اس وقت ان کی کوئی بات نہ سنی جائے گی۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا کتنا قیمتی وقت تھا جس کو انہوں نے نتیجہ کے انتظار میں ضائع کردیا اور ان کی عقل نے اتنی راہنمائی بھی نہ کی کہ نتیجہ عمل کے بعد ہوتا ہے عمل نتیجہ کے بعد نہیں ہوتا۔ یہ کتاب لوگوں کے لئے دنیا میں ہدایت ہے اور اس ہدایت کو اختیار کرنے کا ثمرہ آخرت میں رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو دنیا میں اس پر ایمان لائیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا اور پھر تخت پر متمکن ہوگیا رات کی اندھیری دن کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے اور دن کے پیچھے لپکی چلی آرہی ہے اور دیکھو سورج ، چاند ، ستارے سب اس کے حکم کے آگے سجدہ ریز ہیں اس کے لیے پیدا کرنا ہے اور اسی کے لیے حکم دینا سو کیا ہی بابرکت ذات ہے اللہ کی ، تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا

اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت کا بیان اور اس کے دلائل : 65: ” توحید الوہیت “ کیا ہے ؟ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی ہستی اس کی مستحق نہیں کہ معبود بنائی جائے۔ ” توحید ربوبیت “ کیا ہے ؟ یہ کہ کائنات کی پیدا کرنے والی اور پرورش کرنے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ توحید ربوبتت سے توحید الوہیت پر استدلال کرتا ہے یعنی جب خالق ورب اس کے سوا کوئی نہیں تو معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں بنانا چاہئے۔ زیر نظر آیت میں بھی ” توحید ربوبیت “ سے ” توحید الوہیت “ پر استدلال کیا گیا ہے اور توحید الوہیت کی تلقین اور اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ” خلق “ اور ” امر “ دونوں اللہ ہی کی ذات سے ہیں یعنی وہی کائنات ہستی کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کے حکم وقدرت سے اس کا انتظام بھی چل رہا ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ تدبیر وانتظام کی دوسری قوتیں بھی موجود ہوں جیسا کہ مشرکین کا خیال ہے۔ پچھلی آیات میں قیامت کے دن پیش آنے والے عبرت انگیز اور سبق آموز واقعات بیان کرنے کے بعد پھر توحید الٰہی کے روشن دلائل بیان کئے جاتے ہیں۔ عام طور پر صبح سے لے کر شام تک کے وقت کو یوم یعنی دن کہا جاتا ہے لیکن یہاں اس وقت کا ذکر ہو رہا ہے جب کہ ابھی نہ سورج تھا اور نہ ہی صبح وشام کا کوئی وجود تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آیت کریمہ میں یوم سے مراد مطلق وقت لیا جائے اور اس کی کوئی حد مقرر نہ کی جائے اس طرح لفظ یوم کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آیت زیر نظر میں یوم سے مراد وقت کی وہ مقدار ہے جو ہمارے ہزارہا سال کے برابر ہے۔ (ابن جریر ) جس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات ارضی وسماوی کی تخلیق چھ ہزار سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ مختلف مدارج حیات طے کرتی ہوئی معرض وجود میں آئی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو چشم زون میں اس ساری کائنات کو پیدا فرما دیتا لیکن اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی جو جلوہ گری اس تدریج وامہال میں ہے وہ اہل فکر ونظر سے پنہاں نہیں۔ اگر کوئی چیز دفعتا معرض وجود میں آجائے تو گمان ہو سکتا ہے کہ یہ محض اتفاقیہ امر تھا جو از خود ظہور پذیر ہوگیا لیکن اگر کوئی چیز مدارج طے کرتی ہوئی ضعف سے قوت ، خامی سے پختگی اور نقص کمال کی طرف تدریجا بڑھتی چلی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی علیم و حکیم ذات ہے جس کی توجہ اور تدبیر سے یہ سب کچھ نمودار ہورہا ہے اور قرآن کریم ہی میں اللہ تعالیٰ کا ایک دن پچاس ہزار سال کا بھی فرمایا گیا ہے اس مدت کے پیش نظر بھی اس ایک دن کا وقت مقرر کیا یا سمجھا جاسکتا ہے اور اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جاننے والا ہے جو کچھ اور جیسے کچھ اس نے کیا ہے اس میں وہ واحد و یکتا ہے اس میں اس کا کوئی شریک وہمسر نہیں۔ ” تخت پر متمکن ہوگیا۔ “ یعنی اس کی بادشاہت کائنات ہستی میں نافذ ہوگئی۔ اس سے کوئی ایک خاص تخت تصور کرنا اور پھر اللہ میاں کو اس پر بٹھا کر جشن منانا بچوں کی سی باتیں ہیں۔ مراد اس سے صرف اور صرف یہ ہے کہ وہی خالق ہے اور وہی مدبر بھی ہے۔ تمام عالم ہستی اس کے تخت جلال کے آگے جھکی ہوئی ہے اور اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ” رات کی اندھیری دن کی روشی کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان کے پیچھے لپکی آرہی ہے۔ “ احسان الٰہی ہے کہ اس نے دن جو کاروبار کی ہنگامہ آرائیوں اور تلاش معاش کے لئے اور جدو جہد کے لئے ہے اور رات جو سکون و آرام کے لئے ہے ان کا باہم یوں تسلسل قائم کردیا کہ یکے بعد دیگرے بلا توقف ان کا ورود ہوتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے بڑے تمام اجرام فلکیہ سورج ، چاند اور ستارے وغیرہ اس کے حکم کے پابند ہیں اور ” خلق “ و ” امر “ کا یکتا وہ مالک ومختار ہے یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو ” ذات الٰہ “ سے مختص ہیں اور کوئی دوسرا ان میں سے کوئی چیز اپنے لئے ثابت نہیں کرسکتا۔ تو جب ہرچیز اس کی پیدا کردہ ہے اور اس کے حکم کے سامنے بےچون وچرا سرافگندہ ہے تو کوئی عقل مند یہ کیونکر گوارا کرسکتا ہے کہ ان چیزوں میں سے کسی کو اپنا خدا اور معبود بنا لے خواہ وہ چیز کتنی ہی بڑی پر ہیبت اور عظیم الشان ہو۔ “ فتدبر
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اپنے پروردگار سے دعائیں مانگو آہ وزاری کرتے ہوئے بھی اور پوشیدگی میں بھی وہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں

رب کریم کے سامنے عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرتے رہنا ہی عقلمندی ہے : 66: گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے خاص خاص مظاہر اور اہم انعامات کا ذکر تھا اس آیت میں اس کا بیان ہے کہ جب قدرت مطلقہ کا مالک حقیقی اور تمام احسانات و انعامات کا کرنے والا صرف اور صرف رب العالمین ہے تو مصیبت اور حاجت کے وقت اسی کو پکارنا اور اسی سے دعا کرنا چاہئے۔ اس کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف متوجہ ہونا جہالت اور محرومی ہے۔ پھر دعا کے بعد آداب بھی ارشاد فرما دئیے گئے جن کی رعایت کرنے سے قبولیت دعا کی امید زیادہ ہوجاتی ہے۔ دعا کیا ہے ؟ انسان کا ایک فطری تقاضا ہے اور فطری تقاضے ہر وقت ایک جیسے نہیں ہوتے اور جب وقت آتا ہے تو فطرت خود اس کو طلب کرتی ہے اور یہ سوال اس وقت خود بخود حل ہوجاتا ہے اسلام اس سلسلہ میں یہ رہنمائی کرتا ہے کہ سارے انسانوں کی دعائیں سننے اور ان کو پورا کرنے کا اختیار صرف اور صرف اللہ ہی کو ہے غیر اللہ کو مطلق نہیں اور جو لوگ غیر اللہ سے طلب کرتے ہیں وہ گویا ایک غیر فطری عمل کرتے ہیں۔ دعا کا لفظ عربی زبان میں کسی کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور مطلق پکارنے کے معنی میں بھی اور اس جگہ دونوں معنی مراد ہیں ادعوا ربکم یعنی اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے اپنے رب کو پکارو اور یاد کرو اور یہ بھی کہ رب ہی کی عبادت کرو کیونکہ اللہ وہ ذات ہے جو کسی انسان کی ظاہری آنکھ سے دیکھا نہیں جاسکتا اور ایمانیات میں وہ ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح کسی غیر اللہ کے متعلق بھی یہ ایمان ہو کہ وہ اس وقت یہاں دکھائی نہیں دیتا لیکن ہر جگہ ہر وقت موجود ہے یا جس وقت میں پکارتا ہوں تو آموجود ہوتا ہے ” شرک “ ہے۔ ہاں ! سامنے کوئی موجود ہو اور اس کو بلایا جائے وہ اسی وقت مرئی طور پر انسان کا ہاتھ بٹائے اس کے ساتھ تعاون کرے اس لئے کہ اس نے تعاون کے لئے اس کو کہا ہے تو یہ دوسری بات ہے۔ یہ اس پکارنے میں نہیں آتا جس پکارنے یا دعا کرنے کا ذکر اس جگہ ہو رہا ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمیشہ شیطان پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس لئے اس سے چوکنا رہنا چاہئے۔ مذکورہ دو صورتوں میں پہلی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اپنی حاجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو اور دوسری صورت میں یہ کہ ذکر و عبادت صرف اسی کی کرو۔ یہ دونوں مفہوم احادیث سے بالکل واضح ہیں۔ ازیں بعد ارشاد فرمایا : ” تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً 1ۚ “ تضرع ضراعت سے ہے جس کے معنی عاجزی ، خوشامد ، لجاجت اور تملق کے اظہار کے ہیں پھر یہ اظہار حرکات و ادائوں سے بھی ہوتا ہے اور الفاظ وعبارات سے بھی اور اس کی سب سے زیادہ موثر وہ شکل ہے جب الفاظ وحرکات دونوں میں ہم آہنگی کے ساتھ نمایاں ہو اور اس کی بہترین شکل ” صلوٰۃ “ ہے اور ” خفیۃ “ کے معنی چپکے اور پوشیدہ کے ہیں یہ دعا کے آداب میں سے ہے جو تضرع کے اخلاص کا ضامن بھی ہے اس لئے کہ جو کام چپکے چپکے کیا جاتا ہے جبکہ وہ برا نہ ہو بلکہ نیک ہو تو وہ یقیناً ریا کے فتنہ سے محفوظ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے اس لئے اس کو سنانے اور اس سے فریاد کرنے کے لئے چیخنے اور چلانے کی ضرورت نہیں۔ اس جگہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ فی زماننا جس طرح اور جس انداز سے دعائیں مانگی جاتی ہیں جبکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ سے بھی ہوں تو وہ کیا ہیں ؟ جو الفاظ زبان سے ادا کئے جاتے ہیں ان کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہیں ” دعا “ تو انسان کو بھی اپنی ضرورت مانگنے کو کہتے ہیں۔ ضرورت کیا ہے ؟ ہر انسان اپنی طلب خود ہی جانتا ہے کہ اس کو کس چیز کی طلب ہے ؟ ہاں ! ہمیں تو یہ معلوم ہے کہ بچے ، جوان اور بوڑھے کی طلب ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ آج کل عام مساجد میں نماز کے بعد اماموں کا معمول ہوگیا ہے کہ کچھ عربی زبان کے دعائیہ کلمات انہیں یاد ہوتے ہیں اور وہ ختم نماز پر انہیں لوگوں کے سامنے پڑھ دیتے ہیں اکثر تو خود ان اماموں کو بھی ان کلمات کا مطلب و مفہوم معلوم نہیں ہوتا اور اگر ان کو معلوم ہو تو کم از کم جاہل مقتدی تو اس سے بالکل بیخبر ہوتے ہیں۔ وہ بےسمجھے سوچے امام کے پڑھے ہوئے کلمات کے پیچھے آمین آمین کہتے ہیں اس طرح کے جو کلمات پڑھے جاتے ہیں ان کو وہ دعائیں یا الفاظ پڑھنا تو کہہ سکتے ہیں لیکن دعا مانگنے کی جو حقیقت ہے وہ یہاں پائی ہی نہیں جاتی یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے ان بےجان کلمات ہی کو قبول فرما کر قبولیت دعا کے آثار پیدا کر دے مگر اپنی طرف سے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دعا پڑھی نہیں جاتی بلکہ مانگی جاتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ مانگنے کے ڈھنگ ہی سے مانگی جائے۔ اس طرح زیر نظر آیت میں پہلے لفظ میں روح دعا بتلا دی گئی کہ وہ عاجزی و انکساری اور اپنی ذلت و پستی کا اظہار کر کے اپنی ضرورت اللہ تعالیٰ سے طلب کرنا ہے۔ دوسرے لفظ میں ایک دوسری ہدایت یہ دی گئی کہ دعا کا خفیہ اور آہستہ مانگنا افضل اور قرین قبول ہے کیونکہ بآواز بلند دعا مانگنے میں اول تو تواضع اور انکساری مشکل ہے۔ دوسرے اس میں ریاء و شہرت کا بھی امکان ہے۔ تیسرے اس کی صورت عمل ایسی ہے کہ گویا یہ شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ سیعگ وعلیم ہے۔ ہمارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔ ہر بات وہ خفیہ ہو یا جہر اس کو سنتا ہے ہم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے کہ اتنا زور سے پکاریں اور چیخ چیخ کر کہیں کہ دل کی حاضری بھی مکمل نہ رہے بلکہ یہ دعا ایک شغل بن جائے اس لئے سب سے بہتر بات یہی ہے کہ اپنی دعائوں کو اپنے اور اپنے مالک حقیقی اور پروردگار عالمین کے درمیان ہی رہنے دیا جائے۔ مانگنے والا جانے یا دینے والا۔ کوئی دوسرا کھوج ہی لگاتا رہ جائے لیکن کسی کو معلوم نہ ہو کہ مانگنے والے نے کب مانگا اور دینے والے نے کیسے دے دیا۔ ایسے مانگنے اور ایسے دینے کی شان ایک نرالی ہے اور سارا مزا زندگی کا اسی میں ہے۔ اللہ والوں کی دعائیں اسی نہج کی ہوتی ہیں کہ ان کو مانگتے کوئی نہیں سنتا اور ان کو پاتے کوئی نہیں دیکھتا لیکن ان کا نظام حیات اس طرح چلتا ہے کہ بعض اوقات ان کو خود بھی یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ وقت کس طرح آیا اور کس خوبی سے نکل گیا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : (خَیْرُ الذِّكْرِ الْخَفِیُّ وَخَیْرُ الرِّزْقِ مَا یَكْفِی ) (مسند احمد : جلد اول : حدیث نمبر 1397 ) ” بہترین ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو انسان کے لئے کافی ہو۔ “ اور جہاں جہاں جہر ضروری تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے واضح فرما دیا۔ مثلاً اذان ، اقامت ، جہری نماز ، تکبیرات ، تکبیر انتقال ، تکبیرات تشریق اور حج میں تلبیہ وغیرہ اور ان پر غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے جہر کرنے میں کیا حکمت اور کیا راز ہے ؟ الْمُعْتَدِیْنَ ، اعتداء سے ہے اور اعتدا حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ حد سے تجاوز خواہ دعا میں ہو یا کسی دوسرے عمل میں۔ دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً ایسے امور کے لئے دعا کرے جو عقلاً اور شرعاً ممنوع ہوں۔ حرام چیزوں کے لئے دعا کرنا۔ آداب دعا کو نظر انداز کردینا۔ مسلمانوں کے حق میں بددعا کرنا۔ دعا میں قیدیں اور شرطیں لگانا وغیرہ اس طرح دعا میں بلا ضرورت آواز بلند کرنا وغیرہ۔